Blog

  • قائم علی شاہ کی بیٹی کو ریٹائرمنٹ سے ایک روز قبل 3 برس کیلئے پروفیسر مقرر کرنیکی ہدایت

    قائم علی شاہ کی بیٹی کو ریٹائرمنٹ سے ایک روز قبل 3 برس کیلئے پروفیسر مقرر کرنیکی ہدایت

    کراچی(ویب ڈیسک ) سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی صاحبزادی اور جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ کو ریٹائر ہونے سے محض ایک روز قبل صوبائی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں 3 برس کے لیے پروفیسر مقرر کرنے کی ہدایت کردی گئی۔
    اس سلسلے میں سیکرٹری بورڈز و جامعات عباس بلوچ نے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے ۔ تاہم دلچسپ امر یہ ہے کہ جس پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی) کے نوٹیفکیشن کو اس تقرری کی بنیاد بنایا گیا ہے، اسی نوٹیفکیشن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ریٹائرڈ فیکلٹی کی کنٹریکٹ پر خدمات حاصل کرنے کی اجازت محض “enabling in nature” یعنی سہولت فراہم کرنے والی ہے، اسے کسی ادارے پر لازمی یا پابند کرنے والا حکم تصور نہیں کیا جائے گا اور متعلقہ ادارہ اپنی ضرورت، قواعد، ضوابط اور وسائل کے مطابق خود فیصلہ کرنے کا مجاز ہوگا۔
    نوٹیفکیشن میں 5 اگست کو ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس کے ایجنڈا آئٹم نمبر 16 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کابینہ نے ’’وسیع تر عوامی مفاد‘‘، خصوصی طبی خدمات کے تسلسل، اکیڈمک لیڈرشپ، پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن، تحقیق، جدت اور ادارہ جاتی معیار کو یقینی بنانے کے لیے وائس چانسلر کو ہدایت کی ہے کہ ڈاکٹر نگہت شاہ کو 3 سال کے لیے جے ایس ایم یو میں پروفیسر مقرر کرنے پر غور کیا جائے۔
    تاہم خط کے اگلے ہی حصے میں ’’غور کرنے‘‘ کی عبارت عملاً باقاعدہ ہدایت میں تبدیل ہوگئی ہے اور وائس چانسلر کو کہا گیا ہے کہ وہ پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ کی 3 سال کے لیے بطور پروفیسر تقرری کے لیے فوری ضروری کارروائی کریں۔
    مزید یہ کہ کابینہ کے فیصلے پر ’’بلا تاخیر، من و عن‘‘ عملدرآمد اور کارروائی کی رپورٹ ترجیحی بنیادوں پر محکمہ جامعات و بورڈز کو فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
    دوسری جانب اس تقرری کے لیے حوالہ بنائے گئے پی ایم اینڈ ڈی سی کے 19 مئی 2026 کا نوٹیفکیشن کا متن حکومتی ہدایت کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتا ہے۔
    پی ایم اینڈ ڈی سی نے سرکاری میڈیکل و ڈینٹل اداروں کو 65 سال کی عمر تک ریٹائرڈ فیکلٹی کی خدمات خالصتاً کنٹریکٹ بنیادوں پر حاصل کرنے کی اجازت دی تھی، مگر ساتھ ہی واضح کیا تھا کہ یہ فیصلہ کسی ادارے کے لیے لازمی نہیں ہوگا۔
    پی ایم اینڈ ڈی سی کی سرکاری ویب سائٹ بھی 19 مئی 2026 کو سرکاری میڈیکل و ڈینٹل اداروں سے متعلق اس پبلک نوٹس کے اجرا کی تصدیق کرتی ہے۔
    پی ایم اینڈ ڈی سی کے نوٹیفکیشن میں یہ بھی دوٹوک طور پر درج ہے کہ ریٹائرڈ فیکلٹی کی ایسی تقرری سے مستقل تقرری، سینیارٹی یا ملازمت میں مستقل انضمام کا کوئی حق حاصل نہیں ہوگا، جبکہ اس اقدام سے جونیئر فیکلٹی کی ترقی کے امکانات، کیریئر پروگریشن یا کیڈر اسٹرکچر بھی متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
    نوٹیفکیشن سے یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ جب پی ایم اینڈ ڈی سی نے فیصلہ کرنے کا اختیار متعلقہ یونیورسٹی پر چھوڑ رکھا ہے تو ایک مخصوص ریٹائرڈ فیکلٹی رکن کی تقرری کا معاملہ صوبائی کابینہ تک کیوں لے جایا گیا اور کابینہ کی جانب سے ایک مخصوص نام کے لیے فوری کارروائی اور عملدرآمد رپورٹ طلب کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ بالخصوص پی ایم اینڈ ڈی سی کا نوٹیفکیشن کسی مخصوص فرد کی تقرری کا حکم نہیں دیتا بلکہ تمام سرکاری میڈیکل و ڈینٹل اداروں کے لیے عمومی پالیسی کی حیثیت رکھتا ہے۔
    نگہت شاہ کی تقرری سے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر شازیہ نصیب، ڈاکٹر نسرین فاطمہ، ڈاکٹر صبا خان، ڈاکٹر ارم ماجد اور ڈاکٹر میمونہ رحمان کی سنیارٹی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • محسن نقوی نے ایرانی صدر کو وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا خصوصی پیغام پہنچایا،

    محسن نقوی نے ایرانی صدر کو وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا خصوصی پیغام پہنچایا،

    تہران (ویب ڈیسک )وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ذرائع کے مطابق محسن نقوی نے ایرانی صدر کو وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی پیغام پہنچایا۔ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی صدر کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کے بارے میں بھی بریف کیا۔خیال رہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے گزشتہ روز تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی تھی۔ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ مشترکہ تعاون کی راہ ہموار کرنے کیلئے تیار ہیں، دوطرفہ تعلقات بڑھانے سے باہمی مفادات یقینی، علاقائی سکیورٹی و استحکام مضبوط ہوگا۔مسعود پزشکیان کا کہنا تھا ، پاکستان کے ساتھ مضبوط تعلقات علاقائی سکیورٹی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • خطرات کا سامنا ہوا تو امریکی  انٹرنیٹ سے جڑا عالمی انفرا اسٹرکچر تباہ کردیا جائے گا،ایران

    خطرات کا سامنا ہوا تو امریکی انٹرنیٹ سے جڑا عالمی انفرا اسٹرکچر تباہ کردیا جائے گا،ایران

    تہران (ویب ڈیسک )ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگرایران کو پھر خطرات کا سامنا ہوا تو خطے میں تمام امریکی اور غیر امریکی توانائی سسٹمز اور انٹرنیٹ سے جڑا عالمی انفرا اسٹرکچر تباہ کردیا جائے گا۔ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے دعوی کیا ہے کہ رمضان میں ایران پر مسلط کردہ جنگ کے بعد اب ایک بھی امریکی بحری جہاز خلیج فارس میں موجود نہیں۔تاہم پاسداران انقلاب نے ایران کی ناکہ بندی کرنیوالے امریکی بحری جہازوں کے بارے میں تفصیلات نہیں دی۔اپنے بیان میں بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا کہ ایران پرمسلط جنگ کے وقت خلیج فارس میں امریکا کے 30 سے 40 جنگی جہاز تھے جبکہ ماضی میں ہوئی ایران عراق جنگ کے وقت امریکا 100 سےزائد جنگی جہاز خلیج فارس لایا تھا تاہم اس وقت خلیج فارس میں امریکا کا ایک بھی جہاز نہیں ہے۔جنرل محبی نے کہا کہ جنگ میں ایران کے ردعمل نے دشمن کو نقصان اٹھانا پڑا ہے۔پاسداران انقلاب کے ترجمان نے کہا کہ امریکا نے ایران کی ساؤتھ پارس گیس فیلڈ اور اسالویہ انرجی حب پر بمباری کی تھی جس کا جواب امریکا، اسرائیل اور اس کے اتحادیوں پر ایسے حملوں سے دیا گیا تھا کہ امریکا کیلئے یہ جنگ اسی قوت سے جاری رکھنا مشکل ہوگیا تھا۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے میں 3 پاکستانی جاں بحق، وزیر خارجہ کی شدید مذمت

    تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے میں 3 پاکستانی جاں بحق، وزیر خارجہ کی شدید مذمت

    اسلام آباد (ویب ڈیسک )نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے میں 3 پاکستانی جاں بحق اور ایک زخمی ہوا، ایسے حملے بے گناہ انسانی جانوں اور بحری سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا واقعے کی مزید تفصیلات جاننے کے لیے متعلقہ سعودی حکام اور یمن حکومت سے رابطے میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاض میں پاکستانی سفارت خانے کو میتوں کی وطن واپسی اور زخمی شہری کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ نے بھی اپنے بیان میں حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ باب المندب میں تجارتی جہاز پر حوثیوں کا حملہ افسوسناک ہے، حملے سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرات میں اضافہ ہوا ہے، حکومت پاکستان صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم بین الاقوامی پانیوں میں آزادانہ جہاز رانی کی حمایت کرتے ہیں، پاکستان سعودی قیادت میں بحری سلامتی کے حوالے سے قائم اتحاد کا حصہ ہے اور بین الاقوامی پانیوں میں محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانےکے لیے ذمہ داریاں ادا کرنے کو تیار ہے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • دنیا کو دکھا دیاکہ ایران ایک مضبوط اور ناقابلِ شکست طاقت ہے: عباس عراقچی

    دنیا کو دکھا دیاکہ ایران ایک مضبوط اور ناقابلِ شکست طاقت ہے: عباس عراقچی

    تہران(ویب ڈیسک)ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے خود کو ناقابلِ شکست طاقت ثابت کردیا ہے، دنیا کو دکھا دیاکہ ایران ایک مضبوط اور ناقابلِ شکست طاقت ہے۔
    عباس عراقچی نے کہا کہ مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور دیگرحکام بھی اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں، مختلف ممالک کے حکام نےکہا ایرانیوں نے معجزہ کردکھایا، پوری دنیا کو حیران کردیا، کسی کو توقع نہیں تھی کہ ایران اس طرح امریکا کے سامنے مزاحمت کرسکےگا، امریکا کو اسرائیل، مغربی دنیا اور بعض دیگر ممالک کی حمایت بھی حاصل تھی۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • شازیہ مری کی مبینہ جعلی ڈگری کا معاملہ،  ہائیکورٹ نے 13 سال بعد فیصلہ سنادیا

    شازیہ مری کی مبینہ جعلی ڈگری کا معاملہ، ہائیکورٹ نے 13 سال بعد فیصلہ سنادیا

    کراچی(ویب ڈیسک ) سندھ ہائی کورٹ نے پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری کے خلاف مبینہ جعلی ڈگری پر نااہلی کی درخواست کا فیصلہ 13 سال بعد سنا دیا۔عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دیکر مسترد کردی اور اپنے فیصلے میں کہا کہ آئین کے تحت رکن پارلیمنٹ کو نااہل قرار دینے کا اختیار ہائی کورٹ کو حاصل نہیں۔وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا شازیہ مری نے ہم نام طالبہ کی 2002 کی ڈگری اپنے لیے استعمال کی، جس پر عدالت نے کہا کہ اسی نوعیت کا اعتراض 2018 کے انتخابات میں الیکشن ٹربیونل کے سامنے بھی اٹھایا گیا تھا، الیکشن کمیشن نے 2022 میں ڈگری سے متعلق اعتراض مسترد کر دیا تھا۔عدالت نے قرار دیا کہ الیکشن ٹربیونل کے فیصلے پر سپریم کورٹ میں دائر اپیل 2023 میں واپس لینے پر خارج کی گئی۔شازیہ مری کے وکیل کا کہنا تھا ڈگری کا معاملہ الیکشن کمیشن کے سامنے شواہد کے ساتھ زیر بحث آچکا ہے، الیکشن کمیشن شازیہ مری کی ڈگری سے متعلق درخواست پہلے ہی مسترد کرچکا ہے۔سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ آئین کے تحت کسی شخص کو سچا اور امین قرار دینے کا اختیار عدالتی ٹربیونلز کے پاس نہیں، کسی شخص کو نااہل قرار دینے کے لیے محض آئینی درخواست کافی نہیں، سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں درخواست قابل سماعت نہیں۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • علی عبداللہی ایران کی مسلح افواج کے سربراہ مقرر، مزید 5 ٹاپ ملٹری لیڈرز بھی تعینات

    علی عبداللہی ایران کی مسلح افواج کے سربراہ مقرر، مزید 5 ٹاپ ملٹری لیڈرز بھی تعینات

    تہران (ویب ڈیسک )ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے 6 ٹاپ ملٹری کمانڈرز تعینات کردیے۔ایرانی میڈیا کے مطابق یہ تعیناتیاں جنرل اسٹاف ، پاسداران انقلاب اور بسیج میں کی گئی ہیں۔رپورٹس کے مطابق احمد وحیدی کو میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر پاسداران انقلاب کور کا کمانڈر انچیف مقرر کردیا گیا جب کہ مصطفیٰ ایزدی ان کے نائب ہوں گے۔رئیر ایڈمرل علی عظمایی آئی آر جی سی نیوی کمانڈر اور حسین طائب کو بسیج فورس کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔اسی طرح میجر جنرل علی عبداللہی کو مسلح افواج کا سربراہ مقرر کردیا گیا ہےجب کہ بریگيڈير جنرل کیومرث حیدری ان کے ہوں گے۔سپریم لیڈر آیت اللّٰہ مجتبیٰ خامنہ ای نے محمد باقر ذوالقدر کو اپنا سیاسی مشیر جب کہ ڈاکٹر محسن رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں اپنا نمائندہ مقرر کیا ہے۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • عمران خان کو جیل میں کتابیں فراہم کردی گئیں

    عمران خان کو جیل میں کتابیں فراہم کردی گئیں

    اڈیالہ (ویب ڈیسک )بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جیل میں کتابیں فراہم کردی گئیں۔ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کے مطابق 8 کتابیں اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے ہمیں موصول ہوئیں، بانی پی ٹی آئی کو یہ کتابیں فراہم کرنے کی ہداہت کی گئی تھی۔ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل نے بتایا کہ 8 کتابیں ہم نے جیل میں بانی پی ٹی آئی کو فراہم کردی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے 4 کتابیں یہ کہہ کر واپس کردیں کہ وہ پہلےہی یہ پڑھ چکے ہیں۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • سابق بھارتی کپتان سارو گنگولی اور انکی اہلیہ کو قتل کی دھمکیاں

    سابق بھارتی کپتان سارو گنگولی اور انکی اہلیہ کو قتل کی دھمکیاں

    ممبی (ویب ڈیسک )بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور بی سی سی آئی کے سابق صدر سارو گنگولی اور ان کی اہلیہ ڈونا گنگولی کو مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں ملی ہیں۔
    بھارتی میڈیا کے مطابق گنگولی خاندان اور ان کے پرسنل اسسٹنٹ کی جانب سے پولیس میں درج شکایت میں کہا گیا ہےکہ تازہ دھمکی آمیز خط پیر کو بنگال کرکٹ کے صدر کے دفتر میں کھولا گیا۔
    خط مکمل طور پر انگریزی میں تحریر تھا اور اس میں گنگولی اور ان کے خاندان کو ‘ختم’ یا ‘جان سے مارنے’ کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔
    خاندانی ذرائع کے مطابق گزشتہ 6 ماہ سے ایسے خطوط موصول ہورہے تھے جنہیں ابتدا میں حد سے زیادہ پرجوش مداحوں کی جانب سے بھیجے گئے خطوط سمجھ کر نظر انداز کردیا گیا تاہم حالیہ خط میں استعمال کی گئی جارحانہ زبان اور مسلسل دھمکیوں کے باعث خاندان نے معاملہ پولیس تک پہنچانے کا فیصلہ کیا۔سارو گنگولی فیملی کی جانب سے مقامی پولیس اسٹیشن میں باقاعدہ تحریری شکایت درج کروائی گئی ہے جب کہ ریاستی حکومت کے سکیورٹی ڈپارٹمنٹ کو بھی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے فوری اقدامات کی درخواست کی گئی ہے۔شکایت میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند ماہ سے نامعلوم افراد کی جانب سے گنگولی کے خلاف نازیبا اور قابل اعتراض ریمارکس پر مشتمل خطوط موصول ہورہے تھے تاہم انہیں ابتدا میں ذاتی ناراضی یا گنگولی کو ناپسند کرنے والے کسی شخص کی حرکت سمجھا گیا۔شکایت کے مطابق حالیہ دنوں سارو گنگولی اور ڈونا گنگولی کے نام دو خطوط موصول ہوئے جن میں ناصرف گنگولی کے خلاف نفرت انگیز تبصرے کیے گئے بلکہ گنگولی، ان کی اہلیہ اور ان کے ساتھ کام کرنے والے افراد کی جان و سلامتی کو بھی سنگین خطرات لاحق ہونے کی دھمکی دی گئی۔پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دھمکی آمیز خطوط کورئیر کے ذریعے گنگولی کی رہائش گاہ پر بھیجے گئے تھے۔پولیس حکام نے گنگولی کے پرسنل اسسٹنٹ کو یقین دہانی کروائی ہے کہ معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور سارو گنگولی اور ان کے خاندان کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • ڈیڈ لائنوں کی سیاست اور زمینی حقائق….تحریر:شیخ راشد عالم

    ڈیڈ لائنوں کی سیاست اور زمینی حقائق….تحریر:شیخ راشد عالم

    پاکستان کی سیاست میں ایک اصطلاح ایسی ہے جو گزشتہ چند برسوں میں غیر معمولی مقبول ہوئی ہے، اور وہ ہے “ڈیڈ لائن”۔ حکومتوں کے قیام کے فورا بعد ان کے خاتمے کی تاریخیں دینا، چند ماہ کے اندر بڑی سیاسی تبدیلیوں کی پیش گوئیاں کرنا، اور پھر ان تاریخوں کے گزر جانے کے بعد نئی ڈیڈ لائن جاری کر دینا، اب ہمارے سیاسی مباحثے کا مستقل حصہ بنتا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ رجحان صرف ایک حکومت یا ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں بلکہ تقریبا ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے۔
    8 فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد قائم ہونے والی اتحادی حکومت بھی اسی طرز کے سیاسی تجزیوں کا مرکز بنی۔ حکومت کے آغاز ہی سے مختلف سیاسی حلقوں، ٹی وی پروگراموں، یوٹیوب چینلز اور سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا جاتا رہاہے کہ موجودہ سیٹ اپ زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہ سکے گا۔ کبھی نوے دن، کبھی چھ ماہ اور کبھی کسی مخصوص سیاسی یا معاشی مرحلے کو حکومت کے مستقبل کا فیصلہ کن موڑ قرار دیا گیا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ہر نئی ڈیڈ لائن اپنی مدت پوری کرتی رہی اور اس کی جگہ ایک نئی پیش گوئی سامنے آتی رہی۔
    یہاں سوال کسی ایک پیش گوئی کے درست یا غلط ہونے کا نہیں بلکہ اس رجحان کا ہے کہ آخر حکومتوں کے بارے میں مسلسل ایسی تاریخیں کیوں دی جاتی ہیں جن کی بنیاد زیادہ تر قیاس آرائیوں پر ہوتی ہے؟ کیا یہ محض سیاسی تجزیہ ہے یا پھر سنسنی خیزی کے اس ماحول کا نتیجہ جس میں ہر نئی خبر کو غیر معمولی بنا کر پیش کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے؟
    پاکستان کی سیاسی تاریخ یقینا غیر معمولی واقعات سے بھری پڑی ہے۔ کئی حکومتیں اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکیں، سیاسی اتحاد اچانک ٹوٹ گئے اور ایسے فیصلے بھی ہوئے جنہوں نے ملکی سیاست کا رخ بدل دیا۔ یہی تاریخی پس منظر شاید آج بھی بہت سے تجزیہ کاروں کو ہر سیاسی بحران میں حکومت کے خاتمے کے آثار دکھاتا ہے۔ لیکن ہر دور کے حالات ایک جیسے نہیں ہوتے، اس لیے ماضی کے تجربات کو ہر موجودہ صورتحال پر منطبق کرنا درست نہیں۔
    گزشتہ دو برس کے دوران جب بھی کوئی اہم معاشی مرحلہ آیا، اس کے ساتھ حکومت کے خاتمے کی پیش گوئی بھی سامنے آ گئی۔ آئی ایم ایف کے جائزے کو فیصلہ کن قرار دیا گیا، پھر بجٹ کو آخری امتحان کہا گیا، اس کے بعد اتحادی جماعتوں کے اختلافات کو حکومت کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔ بعد ازاں بعض حلقوں نے نئے صوبوں کے قیام جیسے آئینی معاملے کو بھی سیاسی ڈیڈ لائن کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی۔ لیکن آئینی ماہرین مسلسل اس بات کی نشاندہی کرتے رہے کہ نئے صوبوں کا قیام ایک انتہائی پیچیدہ آئینی عمل ہے، جس کے لیے صرف سیاسی خواہش کافی نہیں بلکہ پارلیمنٹ اور متعلقہ صوبائی اسمبلیوں میں دو تہائی اکثریت بھی ضروری ہے۔ اس لیے ایسے دعووں کو زمینی حقائق کے تناظر میں دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔
    یہ بھی حقیقت ہے کہ اتحادی حکومتوں میں اختلافات کوئی نئی بات نہیں۔ دنیا کی بیشتر پارلیمانی جمہوریتوں میں اتحادی جماعتیں کئی معاملات پر ایک دوسرے سے اختلاف رکھتی ہیں، سخت بیانات بھی دیتی ہیں، لیکن اس کے باوجود حکومتیں چلتی رہتی ہیں۔ پاکستان میں بھی مختلف
    سیاسی جماعتوں کے درمیان تنا واور بیانات کو فوری طور پر حکومت کے خاتمے سے جوڑ دینا ہمیشہ درست تجزیہ ثابت نہیں ہوا۔
    سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید تیز کر دیا ہے۔ آج ایک مختصر ویڈیو، ایک غیر مصدقہ اطلاع یا کسی نامعلوم ذریعے سے منسوب دعوی چند گھنٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ الگورتھم بھی سنسنی خیز مواد کو زیادہ فروغ دیتے ہیں، اس لیے ایسی خبریں زیادہ توجہ حاصل کرتی ہیں جن میں کسی بڑی تبدیلی، خفیہ منصوبے یا فوری سیاسی ہلچل کا ذکر ہو۔ بعد میں اگر وہ اطلاعات درست ثابت نہ ہوں تو ان پر اتنی بحث نہیں ہوتی جتنی ان کے ابتدائی دعوے پر ہوئی تھی۔
    جمہوریت میں حکومت پر تنقید کرنا اپوزیشن، میڈیا اور عوام کا بنیادی حق ہے۔ حکومت کی معاشی کارکردگی، مہنگائی، روزگار، گورننس، امن و امان اور عوامی مسائل پر سخت سوالات بھی اٹھنے چاہییں۔ لیکن تنقید اور پیش گوئی میں فرق ہوتا ہے۔ تنقید حقائق اور شواہد کی بنیاد پر ہوتی ہے، جبکہ پیش گوئی مستقبل کے امکانات پر۔ جب امکانات کو یقینی نتائج کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو عوام میں غیر ضروری بے یقینی پیدا ہوتی ہے۔
    اسی لیے سیاسی تجزیہ نگاروں اور صحافیوں پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگر کوئی تجزیہ یا پیش گوئی بار بار غلط ثابت ہو تو اس کا جائزہ لینا بھی صحافتی دیانت کا حصہ ہونا چاہیے۔ معتبر صحافت صرف خبریں دینے کا نام نہیں بلکہ اپنی معلومات اور تجزیوں کا احتساب بھی کرتی ہے۔ یہی رویہ میڈیا پر عوام کے اعتماد کو مضبوط بناتا ہے۔
    یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ حکومتیں صرف سیاسی بیانات سے نہیں گرتیں۔ آئینی نظام میں حکومت کے مستقبل کا فیصلہ پارلیمانی اکثریت، آئینی طریقہ کار، عدالتی فیصلوں، عوامی مینڈیٹ اور سیاسی حالات کے مجموعی اثرات سے ہوتا ہے۔ کسی حکومت کے خلاف عوامی بے چینی، معاشی مشکلات یا اتحادی اختلافات یقینا اہم عوامل ہو سکتے ہیں، مگر ان کی بنیاد پر فوری نتیجہ اخذ کرنا ہمیشہ درست نہیں ہوتا۔
    دوسری طرف حکومتوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ صرف اس وجہ سے مطمئن نہیں ہو جانا چاہیے کہ پیش گوئیاں غلط ثابت ہو رہی ہیں۔ اصل کامیابی عوامی مسائل کے حل، معیشت کی بہتری، مہنگائی میں کمی، سرمایہ کاری کے فروغ، شفاف طرز حکمرانی اور ادارہ جاتی استحکام سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر عوام کی زندگی میں بہتری نہ آئے تو محض سیاسی استحکام بھی دیرپا اعتماد پیدا نہیں کر سکتا۔
    پاکستان کی سیاست اس وقت سنجیدہ مکالمے کی متقاضی ہے۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کی روزمرہ زندگی کیسے بہتر ہوگی، معاشی مشکلات کب کم ہوں گی، تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں میں کیا پیش رفت ہوگی۔ اگر قومی بحث کا بڑا حصہ صرف حکومتوں کے خاتمے کی نئی تاریخیں دینے میں صرف ہوتا رہے تو اصل قومی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
    اسی لیے ضروری ہے کہ سیاسی مباحثے میں سنسنی کے بجائے سنجیدگی کو فروغ دیا جائے۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن اختلاف کو حقائق، آئین اور زمینی شواہد کی بنیاد پر استوار ہونا چاہیے۔ پیش گوئیوں کی سیاست وقتی توجہ ضرور حاصل کر سکتی ہے، مگر قوموں کی تعمیر حقائق، ذمہ داری اور بالغ نظری سے ہوتی ہے۔
    آخرکار حکومتیں آئینی عمل سے بنتی اور اسی عمل کے تحت تبدیل ہوتی ہیں۔ اس لیے شاید اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے سیاسی مکالمے میں “ڈیڈ لائنوں” سے زیادہ “زمینی حقائق” کو اہمیت دی جائے۔ یہی رویہ نہ صرف جمہوری عمل کو مضبوط کرے گا بلکہ عوام کو بھی افواہوں
    اور قیاس آرائیوں کے بجائے حقیقت پر مبنی سیاسی شعور فراہم کرے گا۔