Blog

  • خیرپور میں اعلیٰ معیار کے لیتھیم کی دریافت، مقامی صنعت کے قیام کی راہ ہموار

    خیرپور میں اعلیٰ معیار کے لیتھیم کی دریافت، مقامی صنعت کے قیام کی راہ ہموار

    اسلام آباد:(ویب ڈیسک ) خیرپور میں اعلیٰ معیار کے لیتھیم کی دریافت ہونے سے مقامی لیتھیم صنعت کے قیام کی راہ ہموار ہوگئی۔
    پاکستان میں پہلی مقامی لیتھیم صنعت کے قیام کی جانب ایک اہم پیشرفت کے طور پر، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (پنس ٹیک) کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
    اس معاہدے کا مقصد سندھ کے ضلع خیرپور میں ایک کنویں سے اعلیٰ معیار کے لیتھیم کی دریافت کے بعد، جیوتھرمل نمکیاتی پانی سے تجارتی پیمانے پر لیتھیم نکالنے کی ٹیکنالوجی تیار کرنا ہے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • چپ مہنگی ہوگئی، پاکستان میں موبائل فون کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ

    چپ مہنگی ہوگئی، پاکستان میں موبائل فون کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ

    اسلام آباد(ویب ڈیسک )عالمی سیمی کنڈکٹر اور اسمارٹ فون چپ مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث پاکستان میں بھی موبائل فون کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ صنعتی ذرائع کے مطابق مصنوعی ذہانت (AI) کے لیے استعمال ہونے والے جدید ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی طلب، میموری چپس، ویفر مینوفیکچرنگ، پیکجنگ اور دیگر اہم الیکٹرانک پرزہ جات کی قیمتوں میں اضافے نے اسمارٹ فون چپس کی لاگت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔اس اضافے کے اثرات دنیا بھر کی موبائل صنعت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق دنیا کی بڑی موبائل چپ ساز کمپنی Qualcomm نے اپنے صارفین کو آگاہ کیا ہے کہ مختلف چپس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • شہباز حکومت کی الٹی گنتی گننے والے خود اپنی گھڑیاں ری سیٹ کرنے لگے

    شہباز حکومت کی الٹی گنتی گننے والے خود اپنی گھڑیاں ری سیٹ کرنے لگے

    اسلام آباد (ویب ڈیسک )8 فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں قائم ہونے والی اتحادی حکومت کے قیام کے بعد سے ہی وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کے اپنے آخری مہینوں میں داخل ہو نے کا سیاسی بیانیہ بار بار سامنے آتا رہا ہے۔
    باوجود اس کے کہ وہ کبھی حقیقت نہ بن سکا گزشتہ ڈھائی برسوں کے دوران ٹی وی ٹاک شوز، یوٹیوب چینلز اور سیاسی مبصرین مسلسل اتحادی حکومت کے قریب الوقوع خاتمے کی پیش گوئیاں کرتے رہے ہیں۔ پیش گوئیوں کی مدت کبھی 90 دن، کبھی چھ ماہ اور پھر دوبارہ کسی نئی مدت میں بدلتی رہی، لیکن نتیجہ ہمیشہ ایک ہی بتایا گیا: حکومت جانے والی ہے۔ جب بھی ایک مقررہ مدت خاموشی سے گزر جاتی، ایک نئی ڈیڈ لائن سامنے آ جاتی، جسے آئی ایم ایف کے جائزے، بجٹ، معاشی چیلنج، اتحادی جماعتوں کے مسائل، اپوزیشن کی تحریک یا ملک کے سیاسی طاقت کے ڈھانچے سے متعلق قیاس آرائیوں سے جوڑ دیا جاتا۔ تازہ ترین کاؤنٹ ڈاؤن ایک ٹی وی اینکر سے یوٹیوبر بننے والے شخص کی جانب سے سامنے آیا، جس نے حال ہی میں دعویٰ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ نے حکومت کو نئے صوبے بنانے کے لیے چھ ماہ کی مہلت دی ہے۔تاہم آئینی ماہرین نشاندہی کرتے ہیں کہ نئے صوبوں کا قیام پاکستان کے مشکل ترین آئینی اقدامات میں شمار ہوتا ہے۔ آئین کے مطابق صوبائی حدود میں کسی بھی تبدیلی کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت سے آئینی ترمیم کی منظوری اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت سے رضامندی ضروری ہے۔ موجودہ سیاسی عددی صورتحال اور بین الصوبائی اتفاق رائے کی عدم موجودگی میں ایسا اقدام سیاسی طور پر تقریباً ناممکن سمجھا جاتا ہے، اس لیے مبینہ چھ ماہ کی ڈیڈ لائن کو آئینی حقائق سے ہم آہنگ کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ یہ تازہ دعویٰ بھی ایک مانوس طرز عمل کی پیروی کرتا ہے۔ 2024 کے انتخابات کے فوراً بعد پیش گوئیوں کا مرکز یہ دلیل تھی کہ اتحادی حکومت کے پاس مہنگائی، آئی ایم ایف کی شرائط اور معاشی مشکلات کے طویل دباؤ کو برداشت کرنے کے لیے کافی سیاسی جواز موجود نہیں۔ لیکن جیسے جیسے حکومت ایک کے بعد ایک رکاوٹ عبور کرتی گئی، پرانی ڈیڈ لائنز خاموشی سے ختم ہوتی گئیں اور ان کی جگہ نئی تاریخیں آتی رہیں۔ جب آئی ایم ایف کے جائزے کامیابی سے مکمل ہوئے تو توجہ اگلے جائزے پر منتقل ہو گئی۔ جب بجٹ منظور ہو گیا تو اگلا سیاسی بحران فیصلہ کن موڑ قرار دیا گیا۔ جب اپوزیشن کے احتجاج سیاسی تبدیلی لانے میں ناکام رہے تو قیاس آرائیاں محض کسی نئی تاریخ پر منتقل ہو گئیں۔ یوں یہ چھ ماہ کی مہلت حقیقی کاؤنٹ ڈاؤن کے بجائے ایک ایسے سیاسی کیلنڈر میں تبدیل ہوتی گئی جو خود کو مسلسل ری سیٹ کرتا رہتا ہے۔ ان سیاست دانوں میں جو بار بار ایسی قیاس آرائیوں کو ہوا دیتے رہے، ایک سینیٹر بھی شامل ہیں جو حکومتی بینچوں پر بیٹھتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے مختلف مواقع پر بڑے سیاسی “زلزلوں” کی پیش گوئی کی، 90 دن کے اندر تبدیلیوں کے اشارے دیے اور کہا کہ اہم پیش رفت ہونے والی ہے۔ اگرچہ ان پیش گوئیوں نے وسیع بحث چھیڑی، لیکن متوقع سیاسی ہلچل پیدا ہوئے بغیر وہ تمام مدتیں گزر گئیں اور پھر نئی پیش گوئیاں سامنے آتی رہیں۔ حال ہی میں پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی وفاقی حکومت پر اپنی تنقید تیز کر دی ہے، خاص طور پر آزاد جموں و کشمیر کے جاری انتخابی مہم کے دوران اپنی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ن) کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے اتحادی حکومت کے خاتمے کی کوئی مخصوص تاریخ نہیں دی، تاہم ان کے بڑھتے ہوئے سخت لہجے نے کاؤنٹ ڈاؤن کے آغاز کا تاثر ضرور پیدا کیا ہے۔ تاہم سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اتحادی اختلافات اور انتخابی نعرے بازی لازماً وفاقی حکومت کے فوری خاتمے میں تبدیل نہیں ہوتے، خاص طور پر ایسی صورت میں جب دونوں فریق اتحاد توڑنے کے لیے فوری طور پر تیار دکھائی نہ دیں۔ ان قیاس آرائیوں کی ایک اور مستقل خصوصیت سیاسی متبادل کی تلاش رہی ہے۔ چند ماہ قبل ایک سینئر صحافی نے دعویٰ کیا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ وزیر اعظم شہباز شریف کی جگہ لینے کے لیے ایک نئے ونڈر بوائے کو تیار کر رہی ہے۔ اس دعوے نے ٹی وی اور سوشل میڈیا پر وسیع بحث چھیڑ دی اور مبصرین اس پر اسرار سیاسی شخصیت کی شناخت کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ کئی ماہ گزر چکے ہیں لیکن اب تک کوئی ونڈر بوائے سامنے نہیں آیا۔ایک اور سینئر صحافی اور اینکر پرسن نے بھی حکومت کی کارکردگی پر توجہ دیتے ہوئے پیش گوئی کی تھی کہ شہباز حکومت کو معیشت درست کرنے کے لیے چھ ماہ دیے گئے ہیں، ورنہ اسے گھر جانا پڑے گا۔ کچھ لوگوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر خزانہ کو برطرف کیا جا رہا ہے۔ تقریباً دس ماہ گزر چکے ہیں، لیکن نہ شہباز حکومت برطرف ہوئی اور نہ ہی وزیر خزانہ اپنے عہدے سے ہٹائے گئے۔ ڈیڈ لائنز آتی اور جاتی رہتی ہیں، لیکن پیش گوئی وہی رہتی ہے۔ جس حکومت کے بارے میں ابتدا میں کہا گیا تھا کہ اس کے پاس زندہ رہنے کے لیے صرف چند ماہ ہیں، وہ ایک کے بعد ایک پیش گوئی کو غلط ثابت کرتے ہوئے اب تک قائم ہے۔ اس رپورٹ میں جن ڈیڈ لائنز اور پیش گوئیوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ عوامی ریکارڈ کا حصہ ہیں، کیونکہ یہ گزشتہ ڈھائی برسوں کے دوران ٹی وی پروگراموں، یوٹیوب چینلز، انٹرویوز اور دیگر عوامی فورمز پر کی گئی تھیں۔زیادہ تر نام اس لیے شامل نہیں کیے گئے کہ مقصد افراد کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ پاکستان کے سیاسی مباحثے میں پائے جانے والے ایک مسلسل رجحان کو نمایاں کرنا ہے۔ یہ رپورٹ یہ بھی نہیں کہتی کہ شہباز شریف حکومت کو سیاسی، معاشی یا اتحادی نوعیت کے بحرانوں کا سامنا نہیں ہو سکتا۔ بلکہ یہ ایک سادہ سا سوال اٹھاتی ہے: جب پہلے سے دی گئی ڈیڈ لائنز پوری نہیں ہوتیں تو حکومت کے قریب الوقوع خاتمے کی پیش گوئیاں نئی نئی تاریخوں کے ساتھ بار بار کیوں واپس آ جاتی ہیں؟

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • آبنائے ہرمز پر عبوری معاہدے کا اعلان آج متوقع: امریکی نیوز ویب سائٹ

    آبنائے ہرمز پر عبوری معاہدے کا اعلان آج متوقع: امریکی نیوز ویب سائٹ

    واشنگٹن (ویب ڈیسک )امریکا، ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک عبوری معاہدے کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ‘ایگزیوس‘ کی رپورٹ کے مطابق دو علاقائی ذرائع اور ایک امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ امریکا کی جانب سے آج اس کا باضابطہ اعلان متوقع ہے۔کئی ہفتوں سے جاری مذاکرات کے بعد سامنے آنے والے اس معاہدے کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو بحال کرنا اور جوہری معاہدے پر دوبارہ بات چیت شروع کرنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ ممکنہ معاہدہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک پر زیادہ کنٹرول کے حوالے سے ایران کے بعض مطالبات پورے کر دے گا جو کہ جنگ سے پہلے اسے حاصل نہیں تھا۔ دو علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں عمان اور ایران کے درمیان 60 روزہ عارضی انتظام طے کیا گیا ہے جس میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔اس انتظام کے تحت، آبنائے ہرمز سے خلیج میں داخل ہونے والے تمام بحری جہازوں کی ٹریفک ایرانی حدود سے گزرنے والی شمالی لین سے گزرے گی جبکہ آبنائے ہرمز سے بحیرہ عرب کی جانب نکلنے والی ٹریفک ایران کی مشاورت سے عمانی حدود سے گزرنے والی جنوبی لین استعمال کرے گی، اس 60 روزہ مدت کے دوران کوئی ٹول یا فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ایگزیوس کے مطابق فریقین 30 دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کی درمیانی لین سے بحری بارودی سرنگیں صاف کرنے پر بھی کام کریں گے، درمیانی لین صاف ہونے کے بعد اسے عمان اور ایران کے درمیان مستقل انتظامات کے تحت آنے اور جانے والی ٹریفک کے لیے استعمال کیا جائے گا۔علاقائی ذرائع کے مطابق، عمان اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے علاوہ ثالثی کی کوششوں میں قطری، پاکستانی اور سعودی حکام بھی شامل تھے۔ ان مذاکرات میں وائٹ ہاؤس بھی فعال طور پر شریک رہا اور حالیہ دنوں میں ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے درمیان متعدد ٹیلی فونک رابطے بھی ہوئے ہیں۔دو علاقائی ذرائع نے بتایا کہ عباس عراقچی نے ہفتے کے آخر میں معاہدے پر اصولی طور پر اتفاق کر لیا تھا تاہم انہیں ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی منظوری درکار تھی۔ ایک امریکی عہدیدار اور علاقائی ذریعے کے مطابق ایرانی قیادت نے منگل کے روز معاہدے کی منظوری کا عمل مکمل کر لیا ہے۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • اسرائیلی حملوں سے تباہ حال غزہ میں ‘جمپ سٹی’ نے بچوں کی خوشیاں لوٹادیں

    اسرائیلی حملوں سے تباہ حال غزہ میں ‘جمپ سٹی’ نے بچوں کی خوشیاں لوٹادیں

    غزہ (ویب ڈیسک )غزہ شہر کے شمالی علاقے یاسین اسٹریٹ میں بچوں کے لیے قائم کیا گیا تفریحی مرکز “جمپ سٹی” جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد غزہ کے بچوں کے چہروں پر دوبارہ مسکراہٹیں بکھیرنے کی کوشش کر رہا ہے۔تفریحی مرکز میں بچوں کے لیے ٹرامپولین، ورچوئل ریئلٹی گیمز اور فیس پینٹنگ سمیت مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا ہے۔ جمپ سٹی کے مالک محمود خلیل شاہین نے بتایا کہ جنگ کے بعد ان کے اپنے بچوں سمیت دیگر بچوں کے لیے بھی کوئی تفریحی مقام موجود نہیں تھا، اسی ضرورت کو دیکھتے ہوئے انہوں نے محدود وسائل کے باوجود یہ منصوبہ شروع کیا۔خلیل شاہین کے مطابق غزہ کے علاقوں خان یونس، دیر البلح، المغازی اور النصیرات سمیت مختلف علاقوں سے بھی خاندان اپنے بچوں کو یہاں لاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس تفریحی مقام کی داخلہ فیس صرف 5 شیکل (تقریباً 1.64 امریکی ڈالر) رکھی گئی ہے تاہم جو بچے فیس ادا نہیں کرسکتے ان کا داخلہ مفت ہے۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • موجودہ سسٹم عوام کا اعتماد کھوچکا، ری سیٹ ناگزیر ہے: بیرسٹر گوہر

    موجودہ سسٹم عوام کا اعتماد کھوچکا، ری سیٹ ناگزیر ہے: بیرسٹر گوہر

    راولپنڈی(ویب ڈیسک ) چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر کا کہنا ہے کہ موجودہ سسٹم عوام کا اعتماد کھوچکا ہے اور اب ری سیٹ ناگزیر ہے۔ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اہم حکومتی اتحادی نے وزیراعظم کو دھاندلی زدہ قرار دیا، پیپلزپارٹی کو بھی دھاندلی زدہ سمجھتا ہوں تاہم حکومتی اتحادی کے بیان کے بعد وزیراعظم کو فوری اعتماد کا ووٹ لینا چاہیے تھا مگر وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لینےمیں ناکام رہے۔
    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نےخاموشی اختیارکی، اس سےظاہر ہوتاہے اعتماد ختم ہوچکا، پورا حکومتی ڈھانچہ عملی طور پر کولیپس کر چکا ہے، حکومت اخلاقی جواز کھو بیٹھی، آئینی، قانونی اور جمہوری اعتبار سے یہ حکومت اپنی حیثیت کھوچکی ہے۔
    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وزیراعظم نے اعتماد کھودیا، اب سسٹم کے خاتمے کا وقت آگیا ہے، موجودہ سسٹم عوام کا اعتماد کھو چکا، ری سیٹ ناگزیر ہے، ایسےحالات میں مزید حکومتیں بنانےکے بجائے عوام سےرجوع کیاجائے۔
    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ عدم اعتماد لانےکا آئینی طریقہ موجود ہے، اتحادیوں سےمشاورت کریں گے، قومی مفاد میں اتفاق رائے سے سیاسی بحران کا حل نکالاجائے۔
    بیرسٹر گوہر کا مزیدکہنا تھا کہ صوبوں کےعوامی مطالبات پر ایوان کو سنجیدگی سے پیش رفت کرنا ہوگی، سسٹم کو ری سیٹ کرنے پر دو رائے نہیں ہونی چاہئیں تاہم سوال یہ ہے سسٹم کو ڈیفالٹ موڈ پر کس نے پہنچایا۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • چہلم حضرت امام حسینؓ و رفقا  کی مناسبت سے جلوس نکالے جائیں گے

    چہلم حضرت امام حسینؓ و رفقا کی مناسبت سے جلوس نکالے جائیں گے

    کراچی (ویب ڈیسک )حضرت امام حسینؓ اور ان کے رفقا کے چہلم کی مناسبت سے آج ملک بھر میں جلوس نکالے جائیں گے۔کراچی میں چہلم حضرت امام حسینؓ کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوگا ، جلوس کی گزرگاہ کی طرف آنے والے راستے کنٹینر رکھ کر بند کر دیے گئے ہیں۔ ایم اے جناح روڈ ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔شاہراہِ قائدین سے آنے والی ٹریفک کو کشمیر روڈ اور پیپلز چورنگی کی جانب منتقل کیا جائے گا۔ حسن اسکوائر سے آنے والی ٹریفک شارع قائدین، سوسائٹی سگنل اور تین ہٹی کے راستے لسبیلہ چوک جا سکے گی۔ ناظم آباد سے آنے والی ٹریفک لسبیلہ، گارڈن اور نشتر روڈ کے ذریعے اپنی منزل کی جانب روانہ ہو سکے گی۔ شارع فیصل سے آنے والی ٹریفک کو سوسائٹی سگنل کے ذریعے کشمیر روڈ کی جانب موڑا جائے گا، جبکہ صدر سے ٹاور جانے والی ٹریفک کو پریڈی اسٹریٹ اور آئی آئی چندریگر روڈ کی طرف بھیجا جائے گا۔دوسری جانب اسلام آباد میں چہلم کا مرکزی جلوس امام بارگاہ اثناعشری جی 6میں ختم ہو گیا۔ پشاور میں چہلم کا جلوس امام بارگاہ حسینیہ ہال صدر سے برآمد ہوا جبکہ لاہور میں امام حسین کے چہلم کامرکزی جلوس صبح حویلی الف شاہ اندرون دہلی گیٹ سے برآمدہوگا اور کربلا گامے شاہ پہنچ کر ختم ہو گا ۔شہدائے کربلا کے چہلم پر کوئٹہ میں قائدآباد،گوالمنڈی اور بروری کےعلاقوں میں آج موبائل فون سروس معطل رہےگی۔حیدرآباد میں چہلم پر دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ حیدرآباد، مٹیاری، دادو، سجاول، ٹنڈو اللہ یار، ٹھٹھہ،جھرک میں ڈبل سواری پر پابندی عائد ہے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • نئے صوبوں سے متعلق کوئی بات ایجنڈے پر نہیں ہے : رانا ثنا

    نئے صوبوں سے متعلق کوئی بات ایجنڈے پر نہیں ہے : رانا ثنا

    اسلام آباد (ویب ڈسک )وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے آزاد کشمیر کے انتخابات کو صاف شفاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلم ن لیگ آزاد کشمیر میں اپنی حکومت بنائے گی۔
    جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا پنجاب میں ترقی پر آزاد کشمیر کے لوگوں نے ن لیگ کو ووٹ دیا، پیپلزپارٹی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی پروپیگنڈا کرتے ہوئے داخل ہوئی، امید ہے کہ آزاد کشمر انتخابات کے اگلے مرحلے میں 10 نشستوں میں 7 ہم جیت جائیں گے، آزاد کشمیر انتخابات کے تیسرے مرحلے کے بعد پیپلزپارٹی نتائج کو تسلیم کرلے گی۔
    انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کو اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ الیکشن فری اینڈ فیئر ہوئے ہیں، ن لیگ آزاد کشمیر میں اتحادی نہیں اپنی حکومت بنائے گی۔
    نئے صوبوں سے متعلق سوال پر رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا ن لیگ کا ایسا کوئی اجلاس نہیں ہوا جس میں نئے صوبوں سے متعلق واضح موقف اپنایا گیا ہو، نئے صوبوں سے متعلق کوئی بات ابھی ایجنڈے پر نہیں، پارلیمانی جمہوری نظام اور 1973 کے آئین میں کوئی کمی نہیں، یہی نظام گزشتہ 50، 60 سال سے پورے ملک کو سنبھالے ہوئے ہے، بہت سے مسائل آئے، مارشل لا اور آمریت بھی آئی آئین نے ملک اور وفاق کو جوڑے رکھا۔
    رانا ثنا اللہ کا مزید کہنا تھا اس نظام میں کمی نہیں، کمی ہم میں ہے جو ہم نے اس آئین پر عمل نہیں کیا، ہم اس نظام اور آئین پر سچائی کے ساتھ عمل کریں تو یہ ڈیلیور کرے گا، ہم آئین کی خلاف ورزی کریں نظام کو آسیب کی طرح جکڑے رکھیں تو یہ کام کیسے کرے گا، یہی سسٹم اور یہی آئین نصف صدی تک کامیاب رہا آئندہ بھی کامیاب ہوگا۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • محسن نقوی کا بیان نظر انداز کریں،  اتحاد وقت کی اشد ضرورت ہے: نواز شریف

    محسن نقوی کا بیان نظر انداز کریں، اتحاد وقت کی اشد ضرورت ہے: نواز شریف

    لاہور (ویب ڈیسک )پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے پارٹی کو محسن نقوی کا بیان نظرانداز کرنے کی ہدایت کردی۔دی نیوز کے ایڈیٹر انویسٹی گیشن انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق نواز شریف نے موجودہ حالات میں حکومت اور ریاستی اداروں میں اتحاد کو وقت کی اشد ضرورت قرار دیا۔نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں پر واضح کیا کہ ملک کو درپیش معاشی، سیاسی اور سکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر ایسی کسی بھی صورتحال سے بچنا چاہیے جس سے وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان اختلافات کا تاثر پیدا ہو۔ذرائع کے مطابق سسٹم تباہ ہونے والے محسن نقوی کے بیان پر ن لیگ کی سینیر قیادت نے اپنے تحفظات نوازشریف تک پہنچائے جس پر نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کی اور کہاکہ قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی برقرار رہے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • جب بیمار ہوتی ہوں تو سب سے پہلے پاکستانی آتے ہیں: راکھی ساونت

    جب بیمار ہوتی ہوں تو سب سے پہلے پاکستانی آتے ہیں: راکھی ساونت

    ممبی (ویب ڈیسک )بھارت کی معروف اداکاہ اور ڈیجیٹل انفلوئنسر راکھی ساونت پاکستانی مداحوں کا ذکر کرتے ہوئے جذباتی ہوگئیں۔حال ہی میں راکھی ساونت نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو دیا جس میں وہ پاکستانی مداحوں کے ساتھ اپنے تعلق اور ان کی جانب سے ملنے والی محبت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکیں۔پاکستانی مداحوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے راکھی ساونت نے کہا کہ ‘پاکستانی مجھے بہت زیادہ محبت دیتے ہیں، جب بھی میرے ساتھ کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو پاکستانی سب سے پہلے میری مدد کے لیے پہنچتے ہیں’۔انہوں نے بتایا کہ ‘دبئی میں رہتے ہوئے جب بعض اوقات مجھے بخار ہوتا ہے تو بھارت سے کوئی مدد کے لیے نہیں آتا لیکن پاکستانی مداح مجھے اسپتال لے جانے اور دیکھ بھال کرنے کے لیے پہنچ جاتے ہیں’۔راکھی کا کہنا تھا کہ ‘جن لوگوں کے والدین نہیں ہوتے وہ دوسروں کی مدد اور محبت کے سہارے زندگی گزارتے ہیں اور پاکستانی مداح بھی مشکل وقت میں میرا خیال رکھتے ہیں، میں جانتی ہوں کہ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کو دشمن سمجھتے ہیں تاہم جو حقیقت ہے وہ حقیقت ہے اور پاکستانی مجھے بہت محبت دیتے ہیں’۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے