Blog

  • کتابی علوم کے ساتھ ہنر کا سیکھنا بھی ضروری ہے

    کتابی علوم کے ساتھ ہنر کا سیکھنا بھی ضروری ہے

    آج کے دور میں تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہیں رہی بلکہ عملی مہارتوں اور ہنر کا سیکھنا بھی کامیاب زندگی کے لیے لازمی بن چکا ہے۔ جہاں تعلیمی ڈگریاں ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں، وہیں ہنر اور عملی تجربہ نوجوانوں کو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

    کتابی علوم کی اہمیت
    تعلیمی ڈگریاں اور کتابی علم انسان کو علم کے مختلف شعبوں سے روشناس کراتے ہیں۔ یہ نہ صرف نظریاتی فہم میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ منطقی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، اور مختلف موضوعات پر گہری معلومات فراہم کرتے ہیں۔

    تاہم، صرف کتابی علم کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔ آج کی دنیا میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو اپنے علم کو عملی طور پر لاگو کرنے کی مہارت رکھتے ہیں۔

    ہنر کی اہمیت
    ہنر یا اسکلز کا سیکھنا آج کی دنیا میں اتنا ہی اہم ہے جتنا کتابی علم۔ یہ مہارتیں نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہیں بلکہ ایک شخص کو خود مختار اور کامیاب بناتی ہیں۔

    ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اسکلز:
    ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ویب ڈیزائننگ، اور کوڈنگ جیسے ہنر آج کی دنیا میں سب سے زیادہ طلب کیے جاتے ہیں۔
    فنی مہارتیں:
    کارپینٹری، ٹیلرنگ، اور مکینیکل اسکلز جیسے ہنر مقامی اور بین الاقوامی سطح پر روزگار کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔
    سافٹ اسکلز:
    کمیونیکیشن، ٹیم ورک، اور قیادت کی مہارتیں کسی بھی شعبے میں کامیابی کے لیے ضروری ہیں۔
    تعلیمی نظام میں ہنر کی شمولیت
    جدید تعلیمی نظام میں کتابی علوم کے ساتھ ہنر کی تربیت کو شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    پیشہ ورانہ تربیت:
    تعلیمی ادارے اپنے نصاب میں پروفیشنل کورسز کو شامل کریں تاکہ طلباء اپنے پسندیدہ شعبے میں مہارت حاصل کر سکیں۔
    انٹرنشپ اور عملی تربیت:
    اسکول اور یونیورسٹیز کو انٹرنشپ اور عملی تربیت کے مواقع فراہم کرنے چاہییں تاکہ طلباء کتابی علم کو عملی زندگی میں لاگو کرنے کے قابل ہوں۔
    ہنر کے مراکز کا قیام:
    حکومت اور نجی ادارے ہنر کے تربیتی مراکز قائم کر کے نوجوانوں کو تربیت فراہم کریں۔.

    ہنر سیکھنے کے فوائد
    روزگار کے مواقع:
    ہنر مند افراد کے لیے روزگار کے زیادہ مواقع موجود ہیں، چاہے وہ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتے ہوں۔
    خود انحصاری:
    ہنر مند افراد اپنی روزی خود کما سکتے ہیں اور دوسروں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کر سکتے ہیں۔
    مستقبل کی تیاری:
    ہنر سیکھنا نوجوانوں کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرتا ہے اور انہیں ترقی کے مواقع فراہم کرتا ہے۔

    نتیجہ
    کتابی علوم اور ہنر کا امتزاج ایک کامیاب اور متوازن زندگی کے لیے لازمی ہے۔ جہاں کتابی علم انسان کو نظریاتی بنیاد فراہم کرتا ہے، وہیں ہنر انسان کو عملی زندگی کے مسائل حل کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ والدین، اساتذہ، اور تعلیمی ادارے کتابی علوم کے ساتھ ہنر کی اہمیت کو بھی اجاگر کریں اور نوجوانوں کو دونوں شعبوں میں مہارت حاصل کرنے کی ترغیب دیں۔

    ایک روشن اور کامیاب مستقبل کے لیے کتابی علم کے ساتھ ہنر کو اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔

  • آج کے جدید دور میں بھی لاکھوں بچے بنیادی تعلیم سے محروم

    آج کے جدید دور میں بھی لاکھوں بچے بنیادی تعلیم سے محروم

    آج کا دور جدید ٹیکنالوجی، سائنسی ترقی، اور ڈیجیٹل انقلاب کا دور ہے، جہاں دنیا تیزی سے ترقی کی راہوں پر گامزن ہے۔ اس کے باوجود، افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ لاکھوں بچے بنیادی تعلیم جیسی بنیادی انسانی ضرورت سے محروم ہیں۔

    تعلیم کا بنیادی حق
    تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے، جیسا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اعلامیہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم، ترقی پذیر ممالک میں غربت، وسائل کی کمی، اور تعلیمی نظام میں خرابی کی وجہ سے بچوں کی بڑی تعداد اسکول جانے سے محروم رہتی ہے۔

    بچوں کی تعلیم میں رکاوٹیں
    غربت:
    بہت سے خاندان اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے بجائے ان سے محنت مزدوری کروانے پر مجبور ہیں تاکہ وہ گھر کے اخراجات پورے کر سکیں۔
    تعلیمی سہولیات کی کمی:
    دور دراز علاقوں میں اسکولوں کی عدم موجودگی یا ناقص تعلیمی نظام بچوں کو تعلیم کے مواقع سے محروم کر دیتا ہے۔
    صنفی تفاوت:
    خاص طور پر لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع کم ملتے ہیں، جس کی وجہ سماجی رکاوٹیں اور رسم و رواج ہیں۔
    حکومتی اور غیر سرکاری اقدامات
    بچوں کی تعلیم کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کئی حکومتیں اور غیر سرکاری تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ اسکولوں کی تعمیر، مفت تعلیمی منصوبے، اور عوامی شعور کی مہمات ان اقدامات کا حصہ ہیں۔ تاہم، ان اقدامات کی کامیابی اب بھی محدود ہے اور لاکھوں بچے آج بھی تعلیم سے محروم ہیں۔

    تعلیم سے محرومی کے اثرات
    تعلیم سے محروم بچے اپنی زندگی میں مواقع سے محروم رہ جاتے ہیں اور غربت کا دائرہ نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ مسئلہ سماجی و اقتصادی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے اور معاشرے میں عدم مساوات کو فروغ دیتا ہے۔

    آگے کا راستہ
    یہ وقت کی ضرورت ہے کہ حکومتیں، تعلیمی ادارے، اور عوام مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کریں۔ تعلیم کے فروغ کے لیے زیادہ وسائل مختص کیے جائیں، تعلیمی سہولیات کو بہتر بنایا جائے، اور صنفی برابری کو یقینی بنایا جائے۔

    تعلیم ہی وہ روشنی ہے جو نہ صرف بچوں کی زندگی بدل سکتی ہے بلکہ معاشرتی ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ ہمیں اس مقصد کے لیے اپنی کوششوں کو مزید تیز کرنا ہوگا تاکہ ہر بچے کو تعلیم کا حق مل سکے۔

  • ریاضی کی مشقوں کے لیے صحیح وقت کونسا ہے. سائنسدانوں کا نیا انکشاف

    ریاضی کی مشقوں کے لیے صحیح وقت کونسا ہے. سائنسدانوں کا نیا انکشاف

    ریاضی کو سمجھنے اور سیکھنے کے لیے مشقوں کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ریاضی کی مشقوں کے لیے دن کا کون سا وقت سب سے زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے؟ سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے، اور اس انکشاف نے تعلیمی ماہرین اور والدین کی توجہ حاصل کی ہے۔

    تحقیق کا پس منظر
    یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے نیوروسائنس ماہرین نے ایک تحقیق میں طالب علموں کے دماغی کارکردگی اور مختلف اوقات میں ان کی ریاضی کی مشق کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لیا۔ تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ دن کے کس حصے میں دماغ سب سے زیادہ ریاضی کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    نتائج کیا کہتے ہیں؟
    تحقیق سے معلوم ہوا کہ صبح کے وقت، خاص طور پر ناشتے کے بعد، دماغ ریاضی کے مسائل حل کرنے کے لیے زیادہ تیار ہوتا ہے۔ اس وقت دماغی توانائی عروج پر ہوتی ہے اور دماغ منطقی مسائل کو زیادہ مؤثر طریقے سے حل کر سکتا ہے۔

    دوسری طرف، تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ شام کے وقت دماغ زیادہ تخلیقی کاموں کے لیے بہتر کارکردگی دکھاتا ہے، جبکہ ریاضی جیسے منطقی اور تحلیلی کاموں میں کارکردگی کم ہو سکتی ہے۔

    ریاضی کی مشق کے لیے سائنسدانوں کی تجویز
    صبح کے وقت مشق کریں:
    تحقیق کے مطابق، صبح کے وقت، خاص طور پر 8 سے 11 بجے کے درمیان، ریاضی کی مشق سب سے زیادہ فائدہ مند ہو سکتی ہے۔
    دماغ کو آرام دیں:
    مشقوں کے دوران وقفے لینے سے دماغ کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ مسلسل دباؤ ڈالنے کے بجائے وقفوں کو شامل کریں۔
    خوراک کا خیال رکھیں:
    ناشتے میں متوازن غذا لینے سے دماغ کو وہ توانائی ملتی ہے جو ریاضی جیسے کاموں کے لیے ضروری ہے۔
    تعلیمی ماہرین کا مؤقف
    تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے تعلیمی نظام میں تبدیلیاں لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اگر اسکولوں میں ریاضی کی کلاسز صبح کے وقت رکھی جائیں، تو طلباء زیادہ مؤثر طریقے سے سیکھ سکتے ہیں۔

    والدین کے لیے اہم نکات
    والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے مطالعہ کے اوقات کو بہتر بنانے کے لیے اس تحقیق سے فائدہ اٹھائیں۔ ریاضی کی مشقوں کے لیے صبح کا وقت مختص کریں اور شام کے وقت انہیں تخلیقی سرگرمیوں میں مشغول کریں۔

    نتیجہ
    سائنسدانوں کا یہ انکشاف طلباء، والدین، اور اساتذہ کے لیے ایک اہم رہنمائی ہے۔ ریاضی جیسا اہم مضمون، جو بعض اوقات طلباء کے لیے چیلنجنگ بن جاتا ہے، صحیح وقت پر مشق کرنے سے زیادہ مؤثر اور آسان ہو سکتا ہے۔

    تعلیم میں بہتر کارکردگی کے لیے وقت کے اصولوں کو اپنانا ضروری ہے تاکہ طلباء کے لیے سیکھنے کے عمل کو بہتر اور کامیاب بنایا جا سکے۔

  • سوشل میڈیاصارفین کی تعدادسے متعلق اعدادوشمارجاری

    سوشل میڈیاصارفین کی تعدادسے متعلق اعدادوشمارجاری

    کراچی (کنزیومر واچ نیوز)کستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے سوشل میڈیا صارفین کی تعداد سے متعلق اعدادو شما ر جاری کر دیئے ہیں جوکہ جنوری 2024 تک فیس بک صارفین کی تعداد 6 کروڑ 4 لاکھ ریکارڈ کی گئی ۔پی ٹی اے کے مطابق فیس بک کے مرد صارفین کی تعداد 77 اور خواتین صارفین کی تعداد 24 فیصدہے،جنوری 2024تک ملک میں یوٹیوب صارفین کی تعداد 7 کروڑ 17 لاکھ ریکارڈکی گئی ، مرد یوٹیوب صارفین کی تعداد 72 فیصد خواتین صارفین کی تعداد 28 فیصد ہے، ملک میں جنوری 2024 ٹک ٹاک صارفین کی تعداد 5 کروڑ 44لاکھ ریکارڈکی گئی۔ پی ٹی اے کا کہناتھا کہ ٹک ٹاک استعمال کرنے والے مرد صارفین کی تعداد 78 فیصد،خواتین کی تعداد 22 فیصدہے، جنوری 2024 تک انسٹاگرام صارفین کی تعداد ایک کروڑ 73 لاکھ تک ریکارڈکی گئی۔ انسٹاگرام کے مرد صارفین کی تعداد 64 فیصد جبکہ 36 فیصد خواتین کی ہے۔

  • امریکا ،سب سے طویل پہاڑی سلسلہ کوہ را خزانے سے بھرا پڑا ہے

    امریکا ،سب سے طویل پہاڑی سلسلہ کوہ را خزانے سے بھرا پڑا ہے

    یہ تحریر ایک فرضی تحریر ہے جو کے سٹائلو تھیمز کی تیار کردہ ایک تھیم “اردو پیپر” کے لیے لکھی ہے۔ اس تحریر کا مقصد صرف ارو صرف اس تھیم میں مواد دکھانا ہے۔ یہ تھیم بہترین خصوصیات کی حامل ہے، اس تھیم کی مدد سے آپ ایک نیوز ویب سائٹ بنا سکتے ہیں۔ اس تھیم کو آپ اپنی ورڈپرس پاورڈ ویب سائٹ پر لگا سکتے ہیں۔

    یہ فرضی تحریر اس تھیم کے ساتھ ملنے والے ڈیمو ڈیٹا کے لئے ہے۔ اس ڈیمو ڈیٹا کو آپ اپنے تھیم سیٹنگز پینل سے اپنی ویب سائٹ پر حاصل کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کو ابتدائی مراحل کے لئے پہلے سے تخلیق شدہ ڈیٹا مل جائے اور آپ کو تھیم لگانے میں آسانی ہو اور آپ  اس کی کارکردگی دیکھ سکیں۔

    اس تھیم کو لگانے مٰیں اگر آپ کو کوئی دشواری پیش آئے تو آپ ہماری ویب سائٹ پر آ کر مدد طلب کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس تھیم کو لگانے کا مکمل طریقہ کار ویڈیو گائڈ میں بتایا گیا ہے جو کے آپ ہمارے یوٹیوب چینل پر ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

    اس تھیم کے اپڈیٹس بلکل مفت ہیں، آپ ہمارے فیس بک پیج، ٹویٹر پروفائیل اور ہمارے بلاگ کو ملاحظہ فرماتے رہیں تاکہ آپ اس کے اپڈیٹس سے آگاہ رہ سکیں۔

    اس ڈیمو ڈیٹا میں موجود تمام خبریں فرضی ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اس ڈیٹا کو صرف اور صرف تھیم کی کارکردگی دکھانے کے لئے لکھا گیا ہے۔ اور اس میں استعمال ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز انٹرنیٹ سے لی گئی ہیں جن ک جملہ حقوق ان ک اصل مالکان کے پاس محفوظ ہیں۔

  • 28 ہزار پاکستانیوں کی یورپی ممالک میں پناہ کے لیے درخواستیں

    28 ہزار پاکستانیوں کی یورپی ممالک میں پناہ کے لیے درخواستیں

    ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس اکتوبر 2023 سے اکتوبر 2024 کے درمیان تقریبا 28 ہزار پاکستانیوں نے یورپی یونین کے ممالک میں پناہ کے لیے درخواستیں دیں۔رپورٹ کے مطابق یورپ میں پناہ کی درخواست دینے والے پاکستانیوں کی تعداد میں ہر ماہ کمی واقع ہو رہی ہے۔ یہ گزشتہ سال اکتوبر میں 3400 درخواستوں کے ساتھ سب سے زیادہ تھا، لیکن رواں ماہ اکتوبر میں یہ درخواستیں 1,900 ہوگئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق یورپ میں پناہ کی درخواست دینے والے زیادہ تر پاکستانی اٹلی گئے۔ انہیں میں فرانس، یونان اور جرمنی بھی شامل تھے، لیکن اٹلی کو متعدد درخواستیں موصول ہوئیں۔

    ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق یورپی ممالک نے تقریبا 20 ہزار پاکستانیوں کی پناہ کی درخواستوں پر فیصلے کیے ہیں۔ تاہم، ان درخواست دہندگان میں سے صرف 12 فیصد کو پناہ گزین کا درجہ یا ذیلی تحفظ دیا گیا۔رپورٹ کے مطابق اس سال اکتوبر کے آخر تک پناہ کی درخواستوں سے متعلق تقریبا 34 ہزار فیصلے زیر التوا تھے۔

    رپورٹ میں پاکستان کی موجودہ سیکیورٹی صورت حال کا جائزہ پیش کیا گیا ہے وہیں ملکی حالت میں ملوث اسٹیک ہولڈرز اور عدلیہ کا کردار کے علاوہ ملک میں ایک مخصوص گروپ کے ساتھ رواں رکھے جانے والے سلوک کے بارے میں بتایا گیا۔رپورٹ میں پاکستان کی سیاست، سیکورٹی اور لوگوں کے مخصوص گروہوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے اس کا ایک جائزہ بھی پیش کیا گیا۔ اس میں افغانستان سے آنے والے پناہ گزینوں کی صورت حال کو بھی دیکھا گیا ہے جو پاکستان میں مقیم ہیں۔پاکستان انسانی اعضا کی تجارت سمیت اسمگلنگ کے ایک بڑے راستے پر واقع ہے، انسانوں کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے قوانین موجود ہونے کے باوجود ملک کی کمزور جمہوریت اور احتسابی نظام نہ ہونے کے باعث یہ قوانین موثر نہیں ہیں۔2023 تک پاکستان انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے معیارات پر مکمل طور پر پورا نہیں اترا، حالانکہ حکومت نے اس مقصد کے لیے نمایاں کوششیں کی ہیں۔تاہم، بدعنوانی اور اسمگلنگ کے جرائم میں ریاستی حکام کی ملی بھگت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کو متاثر کیا ہے۔

  • اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے میاں بیوی نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کردیا

    اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے میاں بیوی نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کردیا

    اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے میاں بیوی نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کردیا تفصیلات کے مطابق جھڈو شہر کی ایک ذہین بیٹی ڈاکٹر عائشہ ثانی بنت غلام محمد میمن اورکندھکوٹ سے تعلق رکھنے والے ان کے شوہر ڈاکٹر دلاور میمن نے میکسیکو یونیورسٹی سے نینو ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرکے وطن عزیز کا سبز ہلالی پرچم سربلند کردیا۔ گذشتہ دنوں میکسیکو یونیورسٹی کی جانب سے ایک پر وقار تقریب میں دونوں پاکستانی میاں بیوی کو پی ایچ ڈی کی ڈگری اور گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔

    میکسیکو یونیورسٹی سے ایک ساتھ پی ایچ ڈی ڈگری اور گولڈ میڈل حاصل کرنے کا منفرد اعزاز حاصل والے یہ پہلے پاکستانی میاں اور بیوی ہیں، واضح رہے کہ ڈاکٹر عائشہ ثانی عبدالعزیز میمن اور محمد عمر میمن (آکسفورڈ گرامر اسکول جھڈو) کی بھتیجی ہیں انھوں نے پرائمری تعلیم آکسفورڈ گرامر اسکول جھڈو سے حاصل کی ،میٹرک اور انٹرمیڈیٹ گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول قاسم آباد حیدرآباد سے جبکہ بی ایس کیمسٹری اور ایم ایس کیمسٹری کی تعلیم سندھ یونیورسٹی جامشورو سے حاصل کی ،جس کے بعد کیمسٹری کے شعبہ میں پی ایچ ڈی کرنے کے لئے ڈاکٹر عائشہ ثانی اور ان کے شوہر ڈاکٹر دلاور میمن کو میکسیکو یونیورسٹی کی جانب سے فلی فنڈڈ اسکالر شپ فراہم کی گئی جس کے بعد ڈاکٹر عائشہ ثانی اور ان کے شوہر ڈاکٹر دلاور میمن نے کیمسٹری کے شعبہ ( نینو ٹیکنالوجی) میں اعلیٰ اعزاز کے ساتھ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور اعلیٰ کارکردگی پر دونوں میاں بیوی نے میکسیکو یونیورسٹی سے بیک وقت گولڈ میڈلز بھی حاصل کئے جو پاکستان کے لئے ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔

  • اہم یورپی ملک کا عجیب و غریب چور گرفتار، طریقہ واردات نے پوری دنیا کو حیران کر دیا

    اہم یورپی ملک کا عجیب و غریب چور گرفتار، طریقہ واردات نے پوری دنیا کو حیران کر دیا

    ورپ کے اہم ملک فرانس میں ایک غیر معمولی اور عجیب و غریب چور کو گرفتار کیا گیا ہے، جس کا طریقہ واردات نہ صرف حیران کن بلکہ ناقابل یقین بھی ہے۔ یہ چور اپنی منفرد حکمت عملی کی وجہ سے کافی عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک معمہ بنا ہوا تھا، لیکن آخرکار پولیس نے اسے قابو کر لیا۔

    چور کی منفرد حکمت عملی
    رپورٹس کے مطابق، یہ چور رات کے وقت مختلف گھروں اور دکانوں میں داخل ہونے کے لیے انتہائی غیر روایتی طریقے اپناتا تھا۔ وہ عمارتوں کی چھتوں کے ذریعے داخل ہوتا اور چمگادڑ کی طرح لٹک کر قیمتی اشیاء چرا لیتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نے اپنے آپ کو ‘رات کا شکاری’ کا لقب دیا تھا۔

    چور نے کئی وارداتوں میں بغیر کسی نقصان کے قیمتی زیورات، نقدی، اور دیگر سامان چرایا۔ وہ انتہائی چالاکی کے ساتھ سیکیورٹی کیمروں اور الارم سسٹمز کو ناکام بنانے میں ماہر تھا۔

    پولیس کی تحقیقات اور گرفتاری
    فرانسیسی پولیس نے اس چور کو پکڑنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی اور خفیہ معلومات کا استعمال کیا۔ کئی ہفتوں کی محنت اور ایک مربوط منصوبے کے تحت چور کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک مشہور زیورات کی دکان میں واردات کی کوشش کر رہا تھا۔

    پولیس کے مطابق، چور نے کئی وارداتوں کا اعتراف کیا ہے اور اس نے انکشاف کیا کہ وہ اپنی حکمت عملی کو مزید بہتر کرنے کے لیے مسلسل نئی تراکیب پر کام کر رہا تھا۔

    پوری دنیا کی توجہ کا مرکز
    چور کے منفرد طریقہ واردات نے نہ صرف فرانس بلکہ پوری دنیا میں خبروں کی شہ سرخیوں میں جگہ بنا لی۔ سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس چور کو ‘حقیقی زندگی کا رابن ہڈ’ اور ‘چمگادڑ چور’ جیسے القابات دیے ہیں۔

    تاہم، قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے جرائم کی سنگینی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور اسے اپنے اعمال کی سزا ملنی چاہیے۔

    چور کے اعترافات
    گرفتاری کے بعد، چور نے میڈیا کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ وہ اپنے مخصوص طریقوں کے ذریعے شہرت حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اس نے کہا کہ وہ کسی کو نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا بلکہ صرف ایڈونچر کے لیے یہ سب کر رہا تھا۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کامیابی
    فرانسیسی پولیس نے اس چور کی گرفتاری کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ حکام نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ وہ دیگر ایسے مجرموں کے خلاف بھی سخت کارروائی کریں گے۔

  • سُوباروُ کو سب سے زیادہ پائیدار کار برانڈ کا اعزاز مل گیا

    سُوباروُ کو سب سے زیادہ پائیدار کار برانڈ کا اعزاز مل گیا

    ویب سائٹ کنزیومر رپورٹس نے گزشتہ ہفتے پائیداری کے اعتبار سے دنیا بھر کے کار برانڈز کی فہرست جاری کردی.

    کنزیومر رپورٹس کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2024 میں سوْباروْ نے سب سے زیادہ پائیدار کار برانڈز کی فہرست میں پہلا مقام حاصل کر کے ٹویوٹا اور لیکسس کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔کنزیومر پراڈکٹس کی رینکنگز اور رویوز جاری کرنے والی ویب سائٹ کنزیومر رپورٹس نے گزشتہ ہفتے پائیداری کے اعتبار سے دنیا بھر کے کار برینڈز کی فہرست جاری کی ہے۔ہر سال، کنزیومر رپورٹس اپنے اراکین سے پچھلے 12 مہینوں میں اپنی گاڑیوں میں پیش آنے والے مسائل کے بارے میں پوچھتی ہے۔ اس بار سال 2000 سے 2024 ماڈلز کے درمیان 3 لاکھ سے زائد گاڑیوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا جس میں کچھ 2025 کے ماڈلز بھی شامل کیے گئے۔سروے میں تمام کار برانڈز سے متعلق 20 مسائل کی فہرست ترتیب دی جاتی ہے جن میں ٹرانسمیشن، انجن کارکردگی، الیکٹرانکس، کار کے اندرونی حصے، بریکس، الیکٹرانک بیٹریاں، انجن وارنٹی سے لے کر کار میں ہونے والے بڑے نقصانات شامل ہیں۔

    اس سروے میں سبسکرائبرز اپنی خریدی ہوئی کاروں کے بارے میں رپورٹ کرتے ہیں۔ اراکین ایک سوالنامہ پْر کرتے ہیں، جس میں وہ اپنی گاڑیوں میں پیش آنے والے مسائل کی اطلاع دے سکتے ہیں۔کنزیومر رپورٹ کے مطابق سال 2024 کے سب سے پائیدار برانڈز میں سرفہرست سوبارو ہے، دوسرے نمبر پر لیکسس، تیسرے نمبر پر ٹویوٹا اور چوتھے نمبر پر ہونڈا ہے۔اس فہرست میں سب سے اوپر ایک جاپانی برانڈ کا آنا کوئی غیر معمولی بات نہیں سمجھی جاتی مگر سبارو نے پہلی مرتبہ ٹویوٹا یا اس کے زیلی لگژری برانڈ لیکسس کو پائیداری میں پیچھے چھوڑا ہے۔ سوبارو کا پائیداری میںا سکور 68/100 رہا۔سال 2024 کے لیے سوبارو اپنے ہم آہنگ آل وہیل ڈرائیو اور باکسر فور انجنوں کے لیے مشہور برانڈ رہا۔ کنزیومر رپورٹس کہتی ہیں کہ سوبارو کے دو ماڈلز فارسٹر اور امپریزا نے اوسط سے زیادہ ا سکور کیا، جب کہ اس کے باقی لائن اپ نے اوسط کے آس پاس ا سکور کیا۔

    سوبارو کی لائن اپ میں واحد کار جس نے اوسط سے کم اسکور کیا وہ آل الیکٹرک سولٹررا تھی جو کہ اتفاق سے ٹویوٹا کی ری بیجڈ گاڑی ہے۔لیکسس ٹویوٹا کا لگژری ذیلی برانڈ ہے جو 2024 کے لیے کنزیومر رپورٹس کی سب سے زیادہ قابل اعتماد برانڈز کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے۔ لیکسس کا پائیداری میںا سکور 65/100 رہا۔ لیکسس گاڑیاں طویل عرصے سے اپنی ناقابل یقین حد پائیداری اور پاور ٹرینز کے لیے مشہور ہیں۔ کنزیومر رپورٹس کا کہنا ہے کہ کمپنی کے سات ماڈلز میں سے چار نے اوسط سے زیادہ اسکور کیا، جبکہ باقی تین نے اوسط ا سکور کیا۔ٹویوٹا جو اپنی پائیداری کے لیے مشہور ہے اور 2024 کے لیے لیکسس کے بالکل پیچھے تیسرے نمبر پر ہے۔ ٹویوٹا کا پائیداری میںا سکور 62/100 رہا۔ دنیا کے کار صارفین اس برانڈ کو بہت بار پہلے نمبر پر دیکھتے آ رہے ہیں، لیکن ٹنڈرا اور آل الیکٹرک bZ4X جیسی گاڑیوں کے لیے اوسط سے کم قابل اعتبار درجہ بندی نے کمپنی کے مجموعی ا سکور کو نیچے لا کھڑا کیا ہے۔ ٹویوٹا نے اس سال کے شروع میں تقریباً 1 لاکھ ٹرکوں اور SUVs کو ناقص انجنوں کی وجہ سے واپس منگوایا، جس نے یقیناً اس درجہ بندی میں اہم کردار ادا کیا۔ پھر بھی، کنزیومر رپورٹس کہتی ہیں کہ ٹویوٹا کے پاس 11 ماڈل تھے جنہوں نے اوسط سے زیادہ اسکور کیا۔کنزیومر رپورٹس کے مطابق 2024 میں سب سے زیادہ پائیدار کار برانڈز کے لیے ہونڈا چوتھے نمبر پر رہا۔ ہونڈا کا پائیداری میں اسکور 59/100 رہا۔

    ٹویوٹا کی طرح، ہونڈا اپنی قابل اعتماد کاروں کے لیے جانا جاتا ہے، جو صرف باقاعدہ دیکھ بھال کے ساتھ لاکھوں میل تک چل سکتی ہیں۔ جاپانی کار ساز کمپنی کے پاس تین ماڈل تھے جنہوں نے سروے کے نتائج میں اوسط سے زیادہ اسکور کیا، جبکہ سات نے اوسط اسکور حاصل کیا۔ہونڈا کا لگژری سب برانڈ اکیورا سال 2024 کے لیے کنزیومر رپورٹس کی قابل اعتبار فہرست میں پانچویں نمبر پر ہے جس کے ایک ماڈل نے اوسط سے اوپر اسکور کیا۔ اکیورا کا پائیداری میںا سکور 55/100 رہا۔مزدا ایک اور جاپانی کار ساز کمپنی ہے جو پائیداری کی فہرست میں چھٹے نمبر پر ہے۔ مزدا کا پائیداری میںا سکور 55/100 رہا۔جرمن برانڈ آؤڈی اس فہرست میں ساتواں نمبر حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ آؤڈی کا پائیداری میں اسکور 54/100 رہا۔ جرمن لگژری کارساز سرفہرست 10 میں صرف دو یورپی برانڈز میں سے پہلی ہے۔

    یہ بات قابل غور ہے کہ اس فہرست کا حساب نئی کاروں کے بارے میں بتائے گئے مسائل کا استعمال کرتے ہوئے لگایا گیا ہے۔بی ایم ڈبلیو اس کنزیومر رپورٹس کی فہرست میں دوسری (اور آخری) یورپی کار ساز کمپنی ہے جو آٹھویں نمبر پر آئی ہے۔ بی ایم ڈبلیو کا پائیداری میں اسکور 53/100 رہا۔ بی ایم ڈبلیو آج فروخت ہونے والی کچھ بہترین کاریں بناتا ہے جن میں معروف ایم پاور گاڑیاں، سیڈانز اور ایس یو ویز شامل ہیں۔ اپنی رپورٹ میں مذکور بہت سے دوسرے ہائبرڈز کی طرح کنزیومر رپورٹس کا کہنا ہے کہ بی ایم ڈبلیو X5 ہائبرڈ نے اپنے صرف فیول ویرینٹ سے کم اسکور کیا۔کِیا وہ پہلا کورین برانڈ ہے جو سب سے زیادہ پائیدار کار برانڈز کی ٹاپ 10 فہرست میں شامل ہے، کِیا کا پائیداری میںا سکور 51/100 رہا۔کنزیومر رپورٹس کی فہرست میں پائیداری کے اعتبار سے ہیونڈائی دسویں نمبر پر ہے۔ ویسے تو یہ برانڈ سستی گاڑیوں کے لیے زیادہ نہیں جانا گیا مگر گزشتہ دہائی میں اس کی مقبولیت میں خاصہ اضافہ ہوا ہے۔ اس کی بڑی وجہ 10 سال اور ایک لاکھ میل کی وارنٹی اور بہترین ڈیزائن اور ڈرائیونگ کا تجربہ ہو سکتا ہے۔

    10 سال پہلے کم ہی صارفین نے سوچا ہو گا کہ مارکیٹ میں سب سے زیادہ مقبول پرفارمنس کاروں میں سے ایک الیکٹرک ہیونڈائی ہو گی۔ ہیونڈائی کا پائیداری میں اسکور 50/100 رہا۔واضح رہے یہ فہرست صرف پائیداری کی بنیاد پر کنزیومر رپورٹس کے سروے کے بعد ترتیب دی گئی ہے جبکہ دنیا کی بہترین گاڑیوں اور ان کے مالکان کے مطمئن ہونے کے اعتبار سے فہرست مختلف بھی ہو سکتی ہیں۔