Blog

  • رابی پیرزادہ نکاح کے بندھن میں بندھ گئیں، خوبصورت تصاویر وائرل

    رابی پیرزادہ نکاح کے بندھن میں بندھ گئیں، خوبصورت تصاویر وائرل

    کراچی (کنزیومرواچ نیوز)ماضی میں اداکاری اور گلوکاری سے وابستہ رہنے والی رابی پیرزادہ اب ایک معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر، مصورہ اور خطاط کے طور پر پہچانی جاتی ہیں۔ایک بڑے تنازع کے بعد ان کی زندگی میں آنے والی روحانی تبدیلی نے انہیں ایک نیا راستہ دکھایا اور انہوں نے اسلامی طرزِ زندگی کو اپنایا۔اس تبدیلی کے بعد رابی نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور اپنی زندگی کے ہر نئے مرحلے کو عوام کے ساتھ شیئر کرتی رہی ہیں۔اب رابی پیرزادہ اپنی زندگی کے ایک اور خوبصورت باب میں داخل ہو چکی ہیں۔ حال ہی میں وہ نکاح کے بندھن میں بندھ گئیں۔ان کی نکاح کی تقریب نہایت سادگی اور رازداری کے ساتھ منعقد کی گئی، جس کی جھلکیاں انہوں نے خود اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کیں۔اگرچہ ان کے شریکِ حیات نے کوئی تصویر شیئر نہیں کی تاہم رابی نے اپنے والدین، بھائی اور ماموں کے ساتھ چند یادگار لمحات مداحوں کے ساتھ بانٹے۔تقریب کے دوران رابی پیرزادہ نے کریم اور سرخ رنگ کے خوبصورت ملبوسات زیب تن کیے، جن میں وہ نہایت پُرسکون اور باوقار نظر آئیں۔ان تصاویر میں سادگی، خاندانی محبت اور روحانی سکون نمایاں تھا۔مداحوں کی جانب سے انہیں نئی زندگی کے آغاز پر خوب دعائیں اور نیک تمنائیں دی جا رہی ہیں۔بلاشبہ یہ رابی پیرزادہ کی زندگی کا ایک نیا اور مثبت مرحلہ ہے۔

  • سڈنی حملہ آور ساجد اکرم نے بھارتی پاسپورٹ پر فلپائن میں ’ملٹری ٹریننگ‘ لی

    سڈنی حملہ آور ساجد اکرم نے بھارتی پاسپورٹ پر فلپائن میں ’ملٹری ٹریننگ‘ لی

    سڈنی (کنزیومرواچ نیوز)آسٹریلیا کے مشہور ساحلی علاقے بونڈی بیچ پر فائرنگ کے واقعے میں ملوث ملزمان کے بارے میں نئی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔فلپائن کے امیگریشن حکام کے مطابق مبینہ حملہ آور ساجد اکرم اور اس کا بیٹا نوید اکرم نومبر کے مہینے میں تقریباً پورا وقت فلپائن میں مقیم رہے تھے جبکہ بی بی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ آوروں نے وہاں ’ملٹری ٹریننگ‘ حاصل کی۔فلپائن امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ساجد اکرم فلپائن میں ایک بھارتی شہری کے طور پر داخل ہوا جب کہ اس کا بیٹا نوید اکرم آسٹریلوی شہری ہے۔دونوں یکم نومبر کو سڈنی سے فلپائن پہنچے اور 28 نومبر کو واپس روانہ ہوئے۔ ان کے سفر کا مقصد تاحال تحقیقات کے مرحلے میں ہے۔آسٹریلوی پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی نوعیت دہشت گردی سے جڑی ہو سکتی ہے اور ابتدائی شواہد کے مطابق حملہ انتہا پسند نظریات سے متاثر ہو کر کیا گیا۔پولیس کے مطابق ملزمان نے بونڈی بیچ پر مذہبی تقریب کے دوران فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔حکام کے مطابق حملہ آوروں کی گاڑی سے دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد اور شدت پسند تنظیم سے منسوب جھنڈے بھی برآمد ہوئے ہیں۔ واقعے کے بعد کئی زخمیوں کو سڈنی کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا ہے کہ واقعہ انتہا پسند سوچ کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے اور اس حوالے سے سیکیورٹی ادارے مکمل تحقیقات کر رہے ہیں۔ واقعے کے بعد آسٹریلیا میں اسلحہ قوانین پر نظرثانی اور سیکیورٹی مزید سخت کرنے پر بھی غور شروع کر دیا گیا ہے۔

  • اشرف شاد کی کتاب ‘‘اللہ میاں کے گھر’’ کی پروقار تقریبِ رونمائی …..رپورٹ: تہمینہ راوء  آسڑیلیا

    اشرف شاد کی کتاب ‘‘اللہ میاں کے گھر’’ کی پروقار تقریبِ رونمائی …..رپورٹ: تہمینہ راوء آسڑیلیا

    ویسٹ ورڈ ، پیرا میٹا میں گزشتہ دنوں ادبی ذوق رکھنے والے قارئین، مصنفین، اساتذہ اور ادب دوست خواتین و حضرات کا ایک خوبصورت اجتماع منعقد ہوا، جس میں اشرف شاد کی نئی افسانوی تصنیف ‘‘اللہ میاں کے گھر’’ کی تقریبِ رونمائی بڑے وقار اور شان سے منعقد کی گئی۔ اس یادگار تقریب کا اہتمام اردو انٹر نیشنل آسٹریلیا نے کیا۔
    تقریب کی صدارت ممتاز ادیب خوشبیر سنگھ شاد نے کی جبکہ بطور مہمانِ خصوصی معروف علمی و سماجی شخصیت پروفیسر راحت منیر شریک ہوئے۔ دونوں معززین نے کتاب اور اس کے تخلیقی پس منظر پر بھرپور اور پْرمغز اظہارِ خیال کیا۔
    سڈنی کی نمایاں ادبی و علمی شخصیات نے کتاب پر گفتگو کرتے ہوئے اسے اردو افسانے کی روایت میں ایک خوبصورت اضافہ قرار دیا۔ خطاب کرنے والوں میں ڈاکٹر شبیر حیدر، ڈاکٹر عباس زیدی، ڈاکٹر باقر رضا، نوید علی خان، تہمینہ راؤ ،محمد علی بخاری، کمود میرانی ، ڈاکٹر یاسمین شاد، ہما مرزا (جنہوں نے نظامت کے فرائض بھی نہایت خوبصورتی سے انجام دیے)، ڈاکٹر عائشہ سعید، فرحت اقبال، ، نائلہ ہما اور مصنف کی صاحبزادی ثمن شاد، (جو خود بھی انگریزی ادب کی معروف اور مقبول ادیبہ ہیں) شامل تھے
    کئی مقررین نے کتاب کے منتخب اقتباسات بھی سنائے، جس سے محفل کا رنگ مزید نکھر گیا۔
    تقریب کا ایک نہایت دلنشیں پہلو وہ تھا جب معروف ادیبہ ثمن نے اسٹیج پر آ کر اپنے والد کے فن، شخصیت اور محبت بھری تربیت کا ذکر کیا۔
    انہوں نے کہا،میرے والد نے ہمیں کتابوں سے محبت کرنا سکھایا ان کی زندگی میں اصول، دیانت اور محبت ایک ساتھ چلتے ہیں۔میری اپنی ادبی شناخت کی بنیاد بھی انہی کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی کا نتیجہ ہے۔
    ان کے یہ جملے سامعین کے دلوں کو چھو گئے اور محفل پر ایک جذباتی کیفیت چھا گئی۔
    تقریب کے آخر میں سوال و جواب کا سیشن رکھا گیا جس میں حاضرین نے کتاب، اسلوب اور موضوعات سے متعلق دلچسپ سوالات کیے جن کے جواب مصنف نے نہایت شائستگی اور تفصیل سے دیے۔
    اس کے بعد مہمانانِ گرامی کی خدمت میں ریفریشمنٹ پیش کی گئی اور غیر رسمی مکالموں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

  • گیس سلنڈر… ریاستی بے حسی کا بارود خانہ…..شیخ راشد عالم

    گیس سلنڈر… ریاستی بے حسی کا بارود خانہ…..شیخ راشد عالم

    شہر کے گنجان محلّوں میں گیس سلنڈروں کی دکانیں کسی ٹائم بم کی طرح روزانہ کے حساب سے ٹک ٹک کرتی رہتی ہیں۔ دکھ اور غصے کی بات یہ ہے کہ یہاں ’’ایک‘‘ دھماکہ نہیں ہوتایہ دھماکے تو اب معمول بن چکے ہیں، اور ریاست، انتظامیہ اور متعلقہ ادارے اس خون آشام معمول کے سامنے ایسے خاموش کھڑے ہیں جیسے یہ سب کچھ ان کی ذمہ داری ہی نہ ہو۔ حیرت اس بات پر ہے کہ انسانی جانیں ضائع ہوتی رہیں، لوگ جلتے رہیں، گھر اْجڑتے رہیں مگر متعلقہ اداروں کو نہ کوئی شرم آتی ہے اور نہ ذمے داری کا احساس ہوتا ہے
    رہائشی علاقوں میں غیر معیاری سلنڈروں کی فروخت اور ریفِلنگ یوں جاری ہے جیسے یہ کوئی بے ضرر کاروبار ہو۔ گلی کے نکڑ پر موجود یہ دکانیں بغیر کسی لائسنس، بغیر کسی تربیت، بغیر کسی سیفٹی اصول کے گیس بیچتی ہیں، اور لوگ خوف اور لاچاری کی حالت میں انہیں خریدنے پر مجبور ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ انتظامیہ کی آنکھوں کے سامنے خطرناک مواد کی ہینڈلنگ ہو رہی ہے، مگر نہ کبھی چھاپے پڑتے ہیں، نہ مقدمات بنتے ہیں، نہ دکانیں سیل ہوتی ہیں۔ گویا انسانی جان کی قیمت ان کے نزدیک چند سو روپے سے بھی کم ہے۔
    سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ ان دکانوں میں استعمال ہونے والے سلنڈر نہ معیار کے پابند ہیں اور نہ ان پر پریشر ٹیسٹ کی کوئی مہر ہوتی ہے۔ یہ سلنڈر کئی سال پرانے، زنگ آلود، بار بار ریفِل شدہ اور اندر سے کھوکھلے ہوتے ہیں۔ ایسے سلنڈروں کی حالت کاکسی بھی کاریگر یا ماہر کو لمحوں میں اندازہ ہو جاتا ہے، مگر ان دکانداروں کا مقصد صرف اور صرف پیسہ بٹورنا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ سلنڈر کب پھٹے گا، کیسے پھٹے گا، کتنا نقصان کرے گامگر ان کے کاروبار پر فرق نہیں پڑتا۔ جو چیز سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے وہ عوام کی جان، ان کے گھر، ان بچوں کی زندگی جنہیں پتا بھی نہیں کہ یہ کاروبار کس قدر مہلک ہے۔
    دکانداروں کی تربیت نہ ہونے کا نقصان بھی بڑا ہے۔ سلنڈر بھرتے وقت جو احتیاطیں عالمی معیار کے مطابق لازمی سمجھی جاتی ہیں، یہاں ان کا نام و نشان تک نہیں۔ نہ آگ بجھانے کا سامان، نہ حفاظتی لباس، نہ مناسب فاصلہ، نہ وینٹی لیشن، نہ زمین سے اونچائی، نہ چنگاری سے بچاؤکچھ بھی نہیں۔ سلنڈر بھرنے کا عمل یوں کیا جاتا ہے جیسے کوئی پانی کی بالٹی بھر رہا ہو۔ اتنی مجرمانہ غفلت شاید ہی کسی اور شعبے میں نظر آئے۔
    اصل مجرم صرف دکاندار نہیں، اصل مجرم وہ ادارے ہیں جن کی ذمہ داری تھی کہ یہ دکانیں کبھی رہائشی علاقوں میں کھلنے ہی نہ پاتیں۔ اوگرا، سول ڈیفنس، ضلعی انتظامیہ اور میونسپل ادارے سب اپنی ناکامی کا جیتی جاگتی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انہیں عوام کی جان سے کوئی غرض ہی نہیں، یا شاید انہوں نے آنکھیں بند کر لینے میں ہی عافیت سمجھ رکھی ہے۔ چھاپہ صرف اس وقت لگتا ہے جب میڈیا شور مچا دے، بصورتِ دیگر یہ ادارے فائلوں کے نیچے دبے پڑے خوابِ غفلت کے مزے لیتے رہتے ہیں۔
    دھماکے اب معمول بن چکے ہیں۔ ہر چند روز بعد کسی نہ کسی محلے میں آگ بھڑکتی ہے، کسی کا گھر جل جاتا ہے، کسی معصوم کا جسم جھلس جاتا ہے۔ لوگوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی لمحوں میں راکھ بن جاتی ہے مگر نظام کے ماتھے پر شکن تک نہیں پڑتی۔ یہ معاشرتی بے حسی کی بدترین مثال ہے کہ عوام تباہ ہو رہے ہیں اور ریاست خاموش ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے ہمارے حکمرانوں کے نزدیک شہریوں کی زندگی محض ایک عدد ہو، جس کے کم ہونے یا بڑھنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
    مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ عوام بھی اپنی مجبوریوں کے سبب خطرہ مول لینے پر مجبور ہیں۔ وہ سستا سلنڈر دیکھ کر خرید لیتے ہیں، بغیر یہ دیکھے کہ وہ معیاری ہے بھی یا نہیں۔ غربت اور مہنگائی نے ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے کہ لوگ اپنی جان کی قیمت پر بھی چند سو روپے بچانے پر مجبور ہیں۔ لیکن اس مجبوری کا فائدہ دکاندار اور ناقص سلنڈر بنانے والے بے حس عناصر خوب اٹھاتے ہیں۔
    حکومت اگر واقعی چاہتی ہے کہ یہ سلسلہ ختم ہو تو سب سے پہلے رہائشی علاقوں میں سلنڈر کی دکانیں فوراً بند کی جائیں۔ ناقص سلنڈروں کی فروخت اور ریفِلنگ کو سنگین جرم قرار دیا جائے، سخت سزائیں تجویز کی جائیں، اور ہر دکاندار کے لیے لازمی قرار دیا جائے کہ وہ تربیت یافتہ ہو، لائسنس یافتہ ہو، اور اس کی دکان میں معیاری حفاظتی آلات موجود ہوں۔ اس کے علاوہ سلنڈر کے پریشر ٹیسٹ، معیاری سرٹیفکیٹ اور اس کی تاریخ کی باقاعدہ جانچ کا نظام بنایا جائے۔ جب تک قانون سخت نہیں ہوگا، اس پر عمل درآمد نہیں ہوگا، اور ذمہ داروں کو سزا نہیں ملے گی، تب تک یہ دھماکے ہوتے رہیں گے اور ہم ہر چند دن بعد ایک نئی تباہی کی خبر پڑھتے رہیں گے۔آخر میں پھر واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایک دکان، ایک محلے یا ایک حادثے کا نہیں ہے۔ یہ پورے نظام کی ناکامی ہے۔ اگر ریاست نے اب بھی ہوش نہ کیا تو آنے والے دنوں میں ہمارا ہر محلہ بارود خانہ سمجھا جائے گا۔ شہریوں کی جانیں اس بے حسی کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی، اور ہمارے ادارے فائلیں ڈھونڈتے رہیں گے کہ آخر دھماکہ کہاں ہوا تھا۔وقت ہے کہ حکومت لفظوں سے نہیں، عملی اقدامات سے ثابت کرے کہ عوام کی جان واقعی قیمتی ہے۔ ورنہ تاریخ ایک دن ضرور لکھے گی کہ یہاں دھماکے نہیں ہوتے تھے… یہاں دھماکے ’’ہوتے رہتے تھے‘‘ اور ریاست خاموش کھڑی تماشا دیکھتی تھی۔

  • کرسمس کا تاریخی منظر اور امریکہ میں اس کی تیاریاں ……حمیرا گل تشنہ

    کرسمس کا تاریخی منظر اور امریکہ میں اس کی تیاریاں ……حمیرا گل تشنہ

    کرسمس کا تہوار درحقیقت ایک تاریخی اور ثقافتی ارتقائکا نتیجہ ہے جس کی جڑیں قبل از مسیح دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ 25 دسمبر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے طور پر منایا جاتا ہے، لیکن تاریخی طور پر اس تاریخ کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ مؤرخین کے مطابق، یہ تاریخ قدیم رومی تہوار “ساتورنالیا” (17-23 دسمبر) اور “دیوس الیسو” (25 دسمبر) سے متاثر ہے، جو سردیوں کے انقلاب (Winter Solstice) کے موقع پر منائے جاتے تھے۔
    چوتھی صدی عیسوی میں، جب رومی سلطنت نے عیسائیت قبول کی، تو کلیسیا نے 25 دسمبر کو حضرت عیسیٰ کی پیدائش کے طور پر مقرر کیا تاکہ قدیم بت پرست تہواروں کو عیسائی رنگ دے کر مقبول بنایا جا سکے۔ اس طرح کرسمس نے عیسائی عقیدے اور مقامی ثقافتی روایات کا امتزاج بن گیا۔
    قرون وسطیٰ کے دوران کرسمس یورپ میں ایک اہم تہوار بن گیا، جس میں کلیسیائی تقریبات کے ساتھ ساتھ عوامی جشن، ناچ گانا اور ضیافت شامل تھی۔ کرسمس درخت کی روایت کا آغاز جدید دور میں جرمنی سے ہوا، جسے بعد میں ملکہ وکٹوریا کے دور میں برطانیہ نے مقبول بنایا۔
    امریکہ میں کرسمس کی تاریخ کچھ پیچیدہ رہی ہے۔ پلیماؤت کالونی کے پہلے گورنر ولیم بریڈفورڈ کے ریکارڈ کے مطابق، 1620 میں آنے والے پہلے تارکین وطن نے کرسمس منانے سے انکار کر دیا تھا، کیونکہ ان کے خیال میں اس میں غیر مذہبی عناصر شامل تھے۔ پروٹسٹنٹ اصلاحات کے اثرات کے تحت، ابتدائی امریکی نوآبادیات میں کرسمس کو اکثر بت پرستی سمجھا جاتا تھا۔
    انگریزی مصنف چارلس ڈکنز کے ناول “آ کرسمس کیرول” (1843) نے امریکہ میں کرسمس کے جدید تصور کی بنیاد رکھی۔ اس ناول نے کرسمس کو خاندانی محبت، ہمدردی اور سخاوت کے تہوار کے طور پر پیش کیا۔ اسی دور میں سانتا کلاز کا موجودہ روپ تھامس ناسٹ نامی کاریکٹر آرٹسٹ کے کاموں سے متعارف ہوا، جس نے امریکی میگزینز میں سانتا کی تصاویر بنائیں۔
    19ویں صدی کے آخر تک، کرسمس امریکہ میں قومی تہوار بن چکا تھا۔ 1870 میں صدر الیسیس ایس گرانٹ نے کرسمس کو وفاقی تعطیل قرار دیا۔
    امریکہ میں کرسمس کی تیاریوں کے کئی مراحل ہیں
    1) تھینکس گیونگ کے فوراً بعد ہی امریکہ میں کرسمس کی تیاریوں کا باقاعدہ آغاز ہو جاتا ہے۔ بلیک فرائیڈے (نومبر کے آخری جمعہ) سے خریداری کا سیزن شروع ہوتا ہے۔ اس دن دکانیں صبح 5 بجے یا اس سے بھی پہلے کھلتی ہیں اور خریدار رعایتیں حاصل کرنے کے لیے قطاروں میں لگ جاتے ہیں۔
    2) امریکی گھروں میں کرسمس کی سجاوٹ ایک اہم رسم ہے۔ کرسمس درخت سجانا سب سے اہم عنصر ہے۔ اصل یا مصنوعی درخت کو رنگین بلبوں، گیندوں، پاپ کارن کی مالاؤں، اور چمکتے ہوئے زیورات سے سجایا جاتا ہے۔ درخت کی چوٹی پر عام طور پر ایک فرشتہ یا ستارہ رکھا جاتا ہے، جو بیت اللحم میں ظاہر ہونے والے ستارے کی علامت ہے۔
    گھر کے باہر روشنیوں اور سجاوٹ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ بعض گھرانے ہزاروں روشنیاں لگاتے ہیں اور پیچیدہ ڈیزائن تیار کرتے ہیں۔ امریکہ کے بڑے شہروں میں روشنیوں کے میلے بھی منعقد ہوتے ہیں، جیسے نیویارک کے راکیفیلر سینٹر کا کرسمس درخت روشن کرنے کی تقریب۔
    3) کرسمس سے پہلے کا مہینہ خریداری کا سیزن ہوتا ہے۔ امریکی اپنے پیاروں کے لیے تحفے خریدنے میں خاصی رقم خرچ کرتے ہیں۔ آن لائن خریداری کے رجحان کے باوجود، مالز اور مارکیٹوں میں رش برقرار رہتا ہے۔ تحفوں کو خوبصورت کاغذ میں لپیٹ کر درخت کے نیچے رکھا جاتا ہے۔
    4)کرسمس کے کھانے میں خطے کے لحاظ سے تنوع ہوتا ہے۔ عمومی طور پر ٹرکی، ہیم، یا روسٹ بیف مرکزی پکوان ہوتا ہے۔ ساتھ میں میشڈ آلو، سبزیاں، کرینبیری ساس، اور روٹی پیش کی جاتی ہیں۔ مٹھائیوں میں پائی، ککیز، اور کیک شامل ہیں۔ ایگ نوگ (دودھ، انڈے اور رس بھری کا مشروب) روایتی کرسمس ڈرنک ہے۔
    5) کرسمس کی اصل روح مذہبی رسومات میں پنہاں ہے۔ گرجاؤں میں خصوصی عبادات ہوتی ہیں۔ کرسمس کیرول (مذہبی گیت) گائے جاتے ہیں۔ سانتا کلاز سے ملاقات بچوں کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ ایڈوینٹ کیلنڈر (دسمبر کے پہلے دن سے 25 تاریخ تک والا کیلنڈر) بچوں میں خاصا مقبول ہے، جس میں ہر روز ایک چھوٹا سا تحفہ یا مٹھائی کھولنے کو ملتی ہے۔
    6) کرسمس کا موسم رضاکارانہ کاموں کا بھی ہوتا ہے۔ امریکی غذائی بینکوں، پناہ گاہوں، اور خیراتی اداروں کی مدد کرتے ہیں۔ “اینجل ٹری” جیسی مہمات کے ذریعے ضرورت مند بچوں کے لیے تحفے خریدنے کی روایت عام ہے۔
    دوسری طرف دیکھا جائے تو امریکہ کے مختلف خطوں میں کرسمس کی روایات میں تنوع پایا جاتا ہے۔
    · نیو انگلینڈ میں برف باری کے ساتھ روایتی کرسمس
    · جنوبی ریاستوں میں گرم موسم میں گھروں کی سجاوٹ
    · ہوائی میں “میلی کلیمکا” (مقامی اور کرسمس روایات کا امتزاج)
    · لاس اینجلس میں سمندری کنارے کرسمس پارٹیاں
    آج کل ماحول دوست کرسمس کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ لوگ قابل تجدید سجاوٹی مواد استعمال کرتے ہیں۔ ورچوئل کارڈز نے کاغذی کارڈز کی جگہ لینی شروع کر دی ہے۔ سماجی میڈیا پر کرسمس کی تیاریوں کی تصاویر شیئر کرنا بھی جدید روایت بن گیا ہے۔
    کرسمس کی تاریخ دراصل ثقافتی ارتقاء￿ کی داستان ہے، جس نے بت پرستی، عیسائیت، اور جدید سرمایہ داری نظام کے مراحل طے کیے ہیں۔ امریکہ میں یہ تہوار ایک قومی ثقافتی Phenomenon بن گیا ہے جو مذہبی عقیدے سے آگے بڑھ کر سماجی یکجہتی، خاندانی اتحاد، اور معاشی سرگرمی کا ذریعہ بن چکا ہے۔ اس تہوار کی تیاریوں کے مراحل امریکی معاشرے کی رنگارنگی، تخلیقی صلاحیت، اور سماجی ہم آہنگی کی عکاسی کرتے ہیں۔
    تاریخی ارتقاء کے باوجود، کرسمس کی بنیادی روح محبت، ہمدردی، اور انسانی بھائی چارہ، آج بھی قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تہوار صدیوں سے انسانی دل پر حکمرانی کرتا آیا ہے اور مستقبل میں بھی کرتا رہے گا۔

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ ساز تیزی

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ ساز تیزی

    کراچی:(کنزیومرواچ نیوز)پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج ریکارڈ ساز تیزی جاری ہے، جہاں انڈیکس ایک لاکھ 71 ہزار پوائنٹس کی سطح کو چھو گیا۔کاروباری ہفتے کے پہلے ہی دن بازارِ حصص میں 997 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ مارکیٹ کا آغاز ہوا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 70 ہزار 862 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔بعد ازاں مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری رہا اور مجموعی طور پر 525 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار 389 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا، جس کے بعد مزید بڑھتے ہوئے 974 پوائنٹس کے اضافے سے ایک لاکھ 70 ہزار 839 پوائنٹس کی سطح کو چھو گیا، جو کہ بدستور بازار حصص کی بلند ترین شرح تھی۔اس کے بعد پی ایس ایکس میں کاروبار نے اچانک اُڑان بھری اور 1136 پوائنٹس کے ریکارڈ ساز اضافے کے ساتھ کے ایس ای 100 انڈیکس پہلی مرتبہ ایک لاکھ 71ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح بھی رقم کرگیا۔واضح رہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے لیے رواں سال غیر معمولی رہا ہے، جہاں بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا، جو خطے کی بیشتر منڈیوں سے کہیں بہتر کارکردگی ہے۔

  • پاک بحریہ کا فضا تک مار کرنے والے میزائل  کا تجربہ

    پاک بحریہ کا فضا تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ

    کراچی (کنزیومرواچ نیوز)معرکہ حق میں عبرت ناک شکست کے بعد بھارتی فوج عالمی منظرنامہ پر مذاق بن کر رہ گئی۔عالمی افق پر فیلڈ مارشل کی پذیرائی اور بڑھتی ہوئی مقبولیت اور پاکستان کی نمایاں سفارتی کامیابیوں سے بھارتی عسکری قیادت شدید تذبذب کا شکار ہے، معرکۂ حق میں ہزیمت چھپانے کے لیے اور اپنے آپ کو مقبولیت دلوانے کے لئے بھارتی عسکری قیادت میڈیا میں شعبدہ بازی اور غیر سنجیدہ طرز عمل میں مصروف ہے۔ بھارتی عسکری قیادت سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے ہندو مذہبی رسومات میں میڈیا پر پیش پیش نظر آتی ہے، دوسری طرف مختلف موقعوں پر اپنی اسٹریٹجک قابلیت دکھانے کے لئے آئے دن میڈیا پر عسکری تیاری کے الاپ گاتی نظر آتی ہے۔مقبولیت اور اپنی ذہنی سوچ کو بڑھاوا دینے کے لئے بھارتی آرمی اور فضائیہ چیف پاسنگ آؤٹ پریڈ میں بھی سستی شہرت کے حصول کیلئے تھیٹر لگانے سے باز نہ آئے، بھارتی آرمی چیف کا پاسنگ آؤٹ پریڈ گراؤنڈ میں نا معقول انداز میں پُش اَپس کا بھونڈا ڈرامہ دراصل ناقص تیاریوں اور ناکام حکمتِ عملی پر پردہ ڈالنے کی بھونڈی کوشش ہے۔ بھارتی آرمی چیف نے پاسنگ آؤٹ پریڈ پر ڈنڈ نکالنے لگ پڑے جس میں سے ایک بھی صحیح نہیں تھا، بھارتی فضائی قیادت بھی سستی شہرت کیلئے احمقانہ حرکات میں پیش پیش ہے۔فضائیہ کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں فضائی قیادت کا فلائی پاسٹ میں حصہ لینا اور پاسنگ آؤٹ کیڈٹس کو سلامی پیش کرنا ایسی احمقانہ مثال ہے جسکی توقع بھارتی فوجی قیادت سے ہی کی جاسکتی ہے۔بھارتی فضائی قیادت رقص و سرور کی محافل میں مصروفِ اپنی ویڈیوز میڈیا پر دینے لگ پڑے، میدان جنگ کے بجائے اسٹیج تھیٹر ، ناچ گانے اور تماشہ بازی ہی بھارتی فضائی چیف کی اہلیت اور صلاحیت ہو سکتی ہے۔کمزور بھارتی فوجی قیادتوں کا مضحکہ خیز سرکس شو عسکری وقار کے لیے شرمندگی اور بدنامی کا سبب بن گیا، بھارتی فوجی قیادتوں کی غیر سنجیدہ اور دکھاوے کی حرکات ، ادارے کی پیشہ ورانہ ساکھ پر سوالیہ نشان اٹھا رہے ہیں۔

  • شکست کے بعد بھارتی فوج عالمی منظرنامہ پر مذاق بن کر رہ گئی

    شکست کے بعد بھارتی فوج عالمی منظرنامہ پر مذاق بن کر رہ گئی

    کراچی (کنزیومر واچ نیوز)معرکہ حق میں عبرت ناک شکست کے بعد بھارتی فوج عالمی منظرنامہ پر مذاق بن کر رہ گئی۔عالمی افق پر فیلڈ مارشل کی پذیرائی اور بڑھتی ہوئی مقبولیت اور پاکستان کی نمایاں سفارتی کامیابیوں سے بھارتی عسکری قیادت شدید تذبذب کا شکار ہے، معرکۂ حق میں ہزیمت چھپانے کے لیے اور اپنے آپ کو مقبولیت دلوانے کے لئے بھارتی عسکری قیادت میڈیا میں شعبدہ بازی اور غیر سنجیدہ طرز عمل میں مصروف ہے۔ بھارتی عسکری قیادت سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے ہندو مذہبی رسومات میں میڈیا پر پیش پیش نظر آتی ہے، دوسری طرف مختلف موقعوں پر اپنی اسٹریٹجک قابلیت دکھانے کے لئے آئے دن میڈیا پر عسکری تیاری کے الاپ گاتی نظر آتی ہے۔مقبولیت اور اپنی ذہنی سوچ کو بڑھاوا دینے کے لئے بھارتی آرمی اور فضائیہ چیف پاسنگ آؤٹ پریڈ میں بھی سستی شہرت کے حصول کیلئے تھیٹر لگانے سے باز نہ آئے، بھارتی آرمی چیف کا پاسنگ آؤٹ پریڈ گراؤنڈ میں نا معقول انداز میں پُش اَپس کا بھونڈا ڈرامہ دراصل ناقص تیاریوں اور ناکام حکمتِ عملی پر پردہ ڈالنے کی بھونڈی کوشش ہے۔ بھارتی آرمی چیف نے پاسنگ آؤٹ پریڈ پر ڈنڈ نکالنے لگ پڑے جس میں سے ایک بھی صحیح نہیں تھا، بھارتی فضائی قیادت بھی سستی شہرت کیلئے احمقانہ حرکات میں پیش پیش ہے۔فضائیہ کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں فضائی قیادت کا فلائی پاسٹ میں حصہ لینا اور پاسنگ آؤٹ کیڈٹس کو سلامی پیش کرنا ایسی احمقانہ مثال ہے جسکی توقع بھارتی فوجی قیادت سے ہی کی جاسکتی ہے۔بھارتی فضائی قیادت رقص و سرور کی محافل میں مصروفِ اپنی ویڈیوز میڈیا پر دینے لگ پڑے، میدان جنگ کے بجائے اسٹیج تھیٹر ، ناچ گانے اور تماشہ بازی ہی بھارتی فضائی چیف کی اہلیت اور صلاحیت ہو سکتی ہے۔کمزور بھارتی فوجی قیادتوں کا مضحکہ خیز سرکس شو عسکری وقار کے لیے شرمندگی اور بدنامی کا سبب بن گیا، بھارتی فوجی قیادتوں کی غیر سنجیدہ اور دکھاوے کی حرکات ، ادارے کی پیشہ ورانہ ساکھ پر سوالیہ نشان اٹھا رہے ہیں۔

  • سڈنی دہشتگردی کے بعد پاکستان مخالف پروپیگنڈا بے نقاب

    سڈنی دہشتگردی کے بعد پاکستان مخالف پروپیگنڈا بے نقاب

    سڈنی(کنزیومرواچ نیوز)آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحل پر ہونے والے دہشتگردانہ واقعے کے بعد اسرائیلی اور بھارتی میڈیا نے منظم پروپیگنڈا کر کے واقعے کو پاکستان سے منسلک کرنے کی ناکام کوشش کی۔اسرائیلی اخبار “یروشلم پوسٹ” اور بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بغیر کسی شواہد کے حملہ آوروں کو پاکستانی قرار دیا، لیکن تحقیقات اور حقائق سے واضح ہوا کہ ساجد اکرم اور نوید اکرم کا پاکستانی ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔آسٹریلین حکام کے مطابق ساجد اکرم 1998 میں اسٹوڈنٹ ویزا پر آسٹریلیا پہنچا اور 2001 میں شادی کے بعد پارٹنر ویزا میں تبدیل ہوا۔ وہ پچھلے دس سال سے آسٹریلیا کے ایک گن کلب کے رکن تھے اور ان کے قبضے سے چھ لائسنس شدہ ہتھیار برآمد ہوئے۔ ساجد اکرم اور نوید اکرم کا تعلق افغانستان کے صوبے ننگرہار سے ہے، نہ کہ پاکستان سے۔اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کرنے والے اکاؤنٹس کے دعوے جھوٹ پر مبنی ثابت ہوئے۔ حقائق کے مطابق یہ حملہ افغان طالبان کے طریقہ کار سے مماثلت رکھتا ہے اور دہشتگردی ایک عالمی مسئلہ کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔

  • سڈنی حملہ دہشت گردی قرار، فائرنگ کرنے والے باپ بیٹا نکلے،

    سڈنی حملہ دہشت گردی قرار، فائرنگ کرنے والے باپ بیٹا نکلے،

    سڈنی (کنزیومرواچ نیوز)آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحل پر پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کو پولیس نے دہشت گردی قرار دے دیا ہے۔پولیس کے مطابق حملے میں ملوث افراد باپ بیٹا تھے، جن میں سے ایک حملہ آور ہلاک جبکہ دوسرا شدید زخمی حالت میں زیر علاج ہے۔نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ فائرنگ یہودی برادری کی ایک تقریب کے دوران کی گئی۔ ہلاک ہونے والے حملہ آور کی شناخت 50 سالہ ساجد اکرم اور زخمی حملہ آور کی شناخت 24 سالہ نوید اکرم کے طور پر ہوئی ہے۔پولیس کے مطابق ساجد اکرم گزشتہ 10 برس سے اسلحہ لائسنس کا حامل تھا اور ایک گن کلب کا باقاعدہ رکن بھی تھا۔ اس کے قبضے سے چھ ہتھیار برآمد کیے گئے ہیں، جن کے فائرنگ واقعے میں استعمال ہونے یا نہ ہونے کی تحقیقات جاری ہیں۔پولیس نے جائے وقوعہ کے قریب سے دو فعال دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیے، جنہیں محفوظ بنا دیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ مزید کسی حملہ آور کی تلاش ختم کر دی گئی ہے، تاہم واقعے کے محرکات اور پس منظر کی تحقیقات جاری ہیں۔ائرنگ کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور موقع پر ہلاک ہوگیا جبکہ دوسرے کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔واقعے کے بعد آسٹریلوی حکومت نے یومِ سوگ کا اعلان کیا ہے اور سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔