Blog

  • جیل میں سینڈوچ بھی مجھ تک نہیں پہنچے، نہ جانے کون کھا گیا؟ ڈکی بھائی

    جیل میں سینڈوچ بھی مجھ تک نہیں پہنچے، نہ جانے کون کھا گیا؟ ڈکی بھائی

    کراچی (کنزیومرواچ نیوز)پاکستان کے معروف یوٹیوبر ڈکی بھائی جوا ایپس کی تشہیر اور منی لانڈرنگ کے الزام میں تین ماہ جیل میں گزارنے کے بعد ان دنوں خبروں میں ہیں۔ان کی گرفتاری اس وقت ہوئی تھی جب وہ اپنی بیوی کے ہمراہ ایک بین الاقوامی ڈیجیٹل کری ایٹرز ایونٹ میں شرکت کے لیے ملائیشیا جا رہے تھے۔ان کی ضمانت اس وقت ممکن ہوئی جب دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے حکام کو بھاری رشوت ادا کی۔جیل سے رہائی کے بعد، ڈکی بھائی نے یوٹیوب پر ایک تفصیلی وی لاگ شیئر کیا جس میں انہوں نے اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کا ذکر کیا۔بعد ازاں ڈکی بھائی نے ایک انٹرویو میں جیل کے کھانے اور اپنی صحت کے بارے میں بات کی۔انہوں نے بتایا کہ جیل میں انہیں معدے کی تکلیف تھی اور ڈاکٹروں نے ہلکی مائع غذا لینے کا مشورہ دیا تھا۔
    اس دوران، انہوں نے اپنے بھائی سے سب وے سینڈوچز آرڈر کرنے کی درخواست کی تھی اور انہیں کہا تھا کہ روز سینڈوچ بھیج دیا کرو۔ تاہم، ایک دن جب سینڈوچز نہیں آئے تو انہوں نے تین دن تک انتظار کیا اور آخرکار پتہ چلا کہ جیل کا عملہ انہیں کھا رہا تھا۔
    دوسری جانب ڈکی بھائی کی اس کہانی پر سوشل میڈیا پر سخت تنقید ہو رہی ہے اور کچھ صارفین انہیں جھوٹا قرار دے رہے ہیں۔

  • شہید چوہدری اسلم کی بیوہ کا بھارتی پروپیگنڈا فلم کیخلاف بڑا اعلان

    شہید چوہدری اسلم کی بیوہ کا بھارتی پروپیگنڈا فلم کیخلاف بڑا اعلان

    کراچی (کنزیو مرواچ نیوز)سندھ پولیس کے شہید پولیس افسر چوہدری اسلم کی بیوہ نے بھارتی پروپیگنڈا فلم کیخلاف بڑا اعلان کردیا۔خصوصی گفتگو میں نورین اسلم کا کہنا تھا کہ لیاری پر بنائی گئی بھارتی فلم پاکستان کے خلاف سازش ہے۔انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں شکست کے بعد بھارت فلم کے ذریعے پاکستان مخالف مہم چلا رہا ہے جو ہمیشہ کی طرح ناکام ہوگی۔نورین اسلم کا کہنا تھا کہ بھارتی فلم چوہدری اسلم کی خدمات اور محبت کو لوگوں کے دلوں سے نہیں نکال سکتی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ فلم لیاری پر کیوں بنائی گئی، گینگ وار کے کارندے رحمان ڈکیت کو کیوں اجاگر کیا گیا؟ فلم پاکستان مخالف دہشتگردوں کی حمایت کے لیے بنائی گئی۔نورین اسلم نے کہا کہ فلم میں شہید چوہدری اسلم کے کردار کو منفی انداز میں پیش کیا گیا۔ عالمی قوانین کے مطابق فلم کے ڈائریکٹر اور رائٹر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کروں گی۔

  • فیض حمید شواہد کے ساتھ عمران خان کے خلاف گواہی دینگے، فیصل واوڈا

    فیض حمید شواہد کے ساتھ عمران خان کے خلاف گواہی دینگے، فیصل واوڈا

    اسلام آباد:(کنزیومر واچ نیوز)سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ فوجی عدالت سے 14 سال قید بامشقت سزا پانے والے سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید اب شواہد کے ساتھ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے خلاف گواہی دینے جا رہے ہیں اور یہ شکنجہ یہاں رکے گا نہیں یہ ابتدا ہے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں فیض حمید کی سزا کے حوالے سے میزبان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ ‘9 مئی سے ایک سال پہلے مجھے پارٹی سے نکال دیا گیا تھا اور میں اسی چیز سے روک رہا تھا کہ اس جگہ پر نہ جائیں کہ واپسی نہ ہو، یہ بڑا واضح ہے کہ ملک دشمنی، ریاست دشمنی، اداروں سے دشمنی، جمہوری دشمنی، پاکستان کے جھنڈے اور شہیدوں سے دشمنی پر 14 سال قید یا سزائے موت ہوتی ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘اسی پیرا میٹر میں آگے جاتے ہوئے فیض حمید اب عمران خان کے خلاف شواہد کے ساتھ گواہی دینے جا رہے ہیں کہ بطور وزیراعظم ان کو کیا احکامات ملتے رہے ہیں اور خاص طور پر 9 مئی، اور 9 مئی کے ذمرے میں بھی عمران خان اس شکنجے میں آتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور تقریباً آگئے ہیں’۔
    فیصل واوڈا نے کہا کہ ‘وہ شواہد جب آئیں گے اور پی ٹی آئی کے وہ رہنما جو سائیڈ ہوگئے لیکن اس وقت ملوث تھے، جو جیل میں ہیں ان کو بھی لایا جائے گا اور جنہوں نے اس وقت انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر ملک دشمنی کے لیے قلم کا استعمال کیا وہ بھی کٹہرے میں آئیں گے’۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘یہ شکنجہ یہاں رکے گا نہیں یہ ابتدا ہے’۔فیض حمید کی 9 مئی کیسز میں ملوث ہونے سے متعلق سوال پر سینیٹر نے کہا کہ ‘پی ٹی آئی کی طرف سے سب سے پہلا ٹیسٹ ٹرائل، جس سے منی دھرنا کہتے ہیں، وہاں کے کور کمانڈر فیض حمید تھے، اندر کی تنصیبات کی معلومات فیض حمید کی سہولت کاری تھی اور جب عمران خان اتر گئے تھے اور دھرنا جب شروع ہوا تھا، ارشد شریف کا قتل ہوا تھا تو باجوہ صاحب چیف تھے اور فیض حمید باوردی موجود تھے’۔فیصل واوڈا نے فیض حمید کی سزا سے متعلق کہا کہ ‘ایک باوردی سزا ہے اور ایک بغیر وردی کے سزا ہے، یہ بڑی واضح ہے، یہ سی ڈی ایف فیلڈ مارشل کو کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے نہ صرف اپنے سے 10 گنا بڑے دشمن سے جنگ جیتی ہے بلکہ اپنے ادارے سے ایک مثال بھی شروع کر دی ہے اور اب یہ شکنجہ وہاں جاتا ہوا نظر آرہا ہے جہاں سے میں روک رہا تھا’۔انہوں نے کہا کہ ‘جو 14 سال کی سزا ہوئی ہے اس میں کمی نہیں ہوگی لیکن جو ٹرائل آگے چل رہا ہے اس کے اندر وہ گواہی کے ساتھ شواہد بھی دیں گے، جب شواہد دیں گے تو وہ شواہد ایسے ہوں گے کہ قوم جب کسی سے دل سے پیار کرتی ہے تو شدت سے کرتی ہے اور نفرت بھی شدت سے کرتی ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اس شکنجے سے اللہ تعالیٰ تو نکال سکتا ہے لیکن قانونی، دنیاوی اور انسانی طور پر تو مجھے واپسی نظر نہیں آرہی ہے، میں واضح ہوں کہ اب اس میں حیل و حجت یا اینالیسز ممکن نہیں ہے اور یہ نوشتہ دیوار ہے’۔فیصل واڈا نے کہا کہ ‘فیض حمید کے تعلق کے اندر 2017 سے جو الزامات اور ڈراما چلتا آرہا ہے، کرپشن سے لے کر ریاست کو نقصان پہنچانا، فوج کو نقصان پہنچانا، عدلیہ، میڈیا، جمہوریت اور سیاست دان اور سب کو نقصان پہنچانا یہ بڑا وسیع معاملہ ہے اور ممکنہ طور پر اس کے اندر نمبر ٹو پوزیشن آئے گی وہ شواہد اور گواہی کے بعد سیدھے سب سے پہلا نمبر پی ٹی آئی اور عمران خان صاحب کا ہے’۔
    ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘میں کوئی وارننگ نہیں دے رہا ہوں، میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ ایسا ہی ہوگا جیسا کہ میں نے ہمیشہ کہا ہے’۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘عارضی، نااہل اور نالائق وزیراعلیٰ جس کو بتانا پڑتا ہے کہ میں سی ایم ہوں وہ ایسے کنارہ کشی کر چکا ہے، عمران خان کے لیے کوئی ری ٹویٹ نہیں کر رہا ہے، پی ٹی آئی خود اندر سے کہہ رہی ہے ہم نے مائنس ون تو کردیا اب ہمیں 10 20 سیکنڈ کی میرے قائد میرے لیڈر عمران خان نیازی والی تقریر ریکارڈ کرنے دی جائے، جس کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اب کہہ رہے ہیں مائنس ون مکمل طور پر مائنس ون’۔سینیٹر فیصل واڈا نے کہا کہ ‘اس میں کوئی حیل و حجت نہیں ہے، اب ایسی سیاست کسی نے بھی کی تو اس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، قانونی طور پر عبرت اور بربریت سے ڈیل کیا جائے گا’۔

  • لندن ہائیکورٹ کا بریگیڈیئر راشد  کے حق میں فیصلہ ، عادل راجا جھوٹا قرار

    لندن ہائیکورٹ کا بریگیڈیئر راشد کے حق میں فیصلہ ، عادل راجا جھوٹا قرار

    لندن (کنزیومرواچ نیوز)لندن ہائی کورٹ نے سابق بریگیڈیئر راشد نصیر کی جانب سے دائر کیے گئے ہتکِ عزت کے مقدمے میں یوٹیوبر اور سابق میجر عادل راجا کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے ان کے تمام الزامات کو جھوٹا، بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی قرار دے دیا ہے۔عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ عادل راجا نے جون 2022 میں جو الزامات عائد کیے تھے، ان کے حق میں کوئی قابلِ قبول ثبوت پیش نہیں کیا گیا اور یہ تمام دعوے محض بہتان اور شخصیت کشی پر مبنی تھے۔فیصلے کے مطابق لندن ہائی کورٹ نے عادل راجا کو ہدایت کی ہے کہ وہ بریگیڈئیر راشد نصیر کو 50ہزار پاؤنڈ یعنی ایک کڑور ستاسی لاکھ ہرجانے کی ادائیگی کریں جبکہ بھاری قانونی اخراجات بھی ادا کریں۔عدالت نے انہیں 2لاکھ 60 ہزار پاؤنڈ یعنی 9کروڑ 72 لاکھ روپے بطور عبوری اخراجات فوری طور پر ادا کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ عدالت کے مطابق تمام مالی واجبات 22 دسمبر 2025 تک ادا کرنا لازمی ہوں گے۔عدالت نے حکم دیا کہ عادل راجا اپنے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فیصلے کا خلاصہ 28 دن تک نمایاں طور پر آویزاں کرنے کے پابند ہوں گے۔ مزید یہ کہ عدالت نے مستقبل میں جھوٹے الزامات دہرانے سے روکنے کے لیے سخت injunction جاری کر دی ہے۔عدالتی حکم کے مطابق اگر انہوں نے فیصلے پر عمل نہ کیا تو ان پر توہینِ عدالت، جرمانہ اور ممکنہ جیل کی کارروائی ہو سکتی ہے۔عدالت نے کہا کہ پنجاب الیکشن، مبینہ ملاقاتوں اور ’’ریجیم چینج‘‘ سے متعلق تمام بیانیے بے بنیاد تھے اور حقائق سے کوئی تعلق نہیں رکھتے تھے۔فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ان الزامات نے بریگیڈیئر راشد نصیر کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، جو مکمل طور پر غلط ثابت ہوئی۔ عدالت نے متعدد ’’حساس الزامات‘‘ کو کلی طور پر ممنوع قرار دیتے ہوئے ان کے دوبارہ تذکرے کو بھی غیر قانونی قرار دیا۔فیصلے میں یہ بھی شامل ہے کہ عدالتی حکم کا لنک اور خلاصہ ہر پلیٹ فارم پر واضح اور نمایاں طور پر دکھایا جائے، تاکہ عوام تک درست معلومات پہنچ سکیں۔

  • فوج مخالف مہم بالکل برداشت نہیں کی جائےگی، پی ٹی آئی قیادت کو واضح پیغام

    فوج مخالف مہم بالکل برداشت نہیں کی جائےگی، پی ٹی آئی قیادت کو واضح پیغام

    اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز) پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت کو واضح الفاظ میں بتا دیا گیا ہے کہ عمران خان یا پارٹی کے سوشل میڈیا کی طرف سے پاک فوج اور اس کی اعلیٰ قیادت کیخلاف کسی بھی طرح کی توہین آمیز مہم یا تضحیک برداشت نہیں کی جائے گی۔ ایک پارٹی ذریعے نے بتایا کہ ہمیں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ معاملہ اب ’’بس بہت ہو چکا‘‘ کی حد تک پہنچ چکا ہے اور پی ٹی آئی کی قیادت اس پیغام کی سنگینی خوب سمجھتی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ فوجی قیادت پر تنقید کا سلسلہ گزشتہ تین برس سے جاری ہے لیکن اب ادارے یا اس کی اعلیٰ قیادت پر تنقید کی کوئی گنجائش نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس بار لہجے میں نمایاں حد تک سختی آئی ہے، عظمیٰ خانم کی جیل میں قید اپنے بھائی (بانی پی ٹی آئی) عمران خان سے ہوئی حالیہ ملاقات بھی کشیدگی کا سبب بنی ہے۔ جن لوگوں نے یہ ملاقات کرائی تھی اُن میں چند وفاقی وزراء اور ایک اہم پارلیمانی شخصیت شامل ہیں، ملاقات کے بعد عمران خان کی بہن کی جانب سے دیے گئے بیانات کی وجہ سے یہ لوگ بھی ہزیمت کا شکار ہوئے ہیں، یہ معاملہ پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمنٹ کے درمیان زیر بحث آیا اور بتایا جاتا ہے کہ کئی سینئر رہنماؤں نے اس صورتحال پر مایوسی کا اظہار کیا جسے وہ کھل کر بیان نہیں کرتے لیکن آپسی گفتگو میں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عمران خان کے اہلخانہ کو احتیاط سے کام لینا چاہئے اور ان کے سخت بیانات کو عوام میں دہرانے سے گریز کرنا چاہئے، خصوصاً اس وقت میں جب پارٹی سیاسی اسپیس اور مکالمے کی متلاشی ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ کچھ پارٹی رہنماؤں کو دوٹوک الفاظ میں بتا دیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کی مکمل نگرانی کون کرتا ہے اور کس طرح اس کا مواد تیار ہوتا ہے، کیسے طے ہوتا ہے اور پھر کس طرح اسے عمران خان کے اکاؤنٹس اور دیگر انداز سے پھیلایا جاتا ہے۔
    ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ آئندہ فوج اور اس کی اعلیٰ قیادت پر تنقید بالکل برداشت نہیں ہو گی اور یہ بات پارٹی کی قیادت کو بالکل واضح طور پر بتا دی گئی ہے، پی ٹی آئی کی پارلیمانی صفوں میں غالب رائے یہ ہے کہ سیاسی حل کا واحد راستہ بات چیت ہے اور کئی ارکان سمجھتے ہیں کہ پارٹی کے مستقبل کیلئے روابط اور بات چیت ضروری ہے۔ تاہم، وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ عمران خان کے بیانات اور پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کا بیانیہ کسی بھی پیش رفت کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ جس طرح 9؍ مئی کے بعد کوئی نرمی روا نہیں رکھی گئی تھی، اسی طرح اب فوج کیخلاف تنقید اور بیان بازی کے معاملے میں بھی نرمی بالکل نہیں برتی جائے گی۔ پی ٹی آئی کے ایک رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان جذبات میں کوئی بات کہہ بھی دیں تو ان کے آس پاس موجود لوگ، خصوصاً ان کی بہنیں، ان باتوں کو عوام میں دہرانے سے گریز کریں۔ اس سے پارٹی کو ہی نقصان ہوتا ہے اور ریلیف کی کوششیں کمزور پڑتی ہیں۔

  • مستقل احتجاج پر عمران کی جیل منتقلی کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے: رانا ثنااللہ

    مستقل احتجاج پر عمران کی جیل منتقلی کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے: رانا ثنااللہ

    اسلام آباد(کنزیومرواچ نیوز) وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا ہےکہ اڈیالہ کے باہر مستقل احتجاج کی صورت میں حکومت عمران خان کی جیل منتقلی کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔ نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے بطور جماعت اور عمران خان نے ادارےپر براہ راست تنقید کی، ادارے کے خلاف بات چیت کو لوگ پسند نہیں کریں گے، بھارت ہمارا دشمن ملک ہے لیکن عمران خان نے پراپیگنڈے میں اس کا ساتھ دیا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے گفتگو کا کوئی طریقہ کار نہیں اپنایا جاسکتا، ماضی میں پی ٹی آئی سے بات چیت کی کوشش کی گئی لیکن عمران خان کے اپنے بیانات کی وجہ سے ڈیڈ لاک کی صورتحال پیدا ہوئی۔رانا ثنااللہ کا کہنا تھاکہ پی ٹی آئی کو چاہے کہ اڈیالہ کے باہر امن و امان کی صورتحال کو خراب نہ کریں، اگر یہ مستقل معمول بنا لیں گے کہ ہر منگل اور جمعرات کو اڈیالا کےقریب احتجاج کریں گےتو اس صورت میں حکومت عمران خان کی کسی جیل منتقلی کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔وزیراعظم کے مشیر نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی بطور جماعت اور عمران خان 9 مئی اوراپنے بیانات سےلاتعلقی کااظہار کریں اور معذرت کریں، ایسی صورت میں شاید کوئی راستہ کھلے، اگر عمران خان اپنے بیانات پرقائم رہتے ہیں توڈیڈ لاک برقرار رہےگا۔ان کا کہنا تھا کہ بلاول کی سوچ ہمیشہ سیاسی اور جمہوری حوالے سے واضح رہی ہے، بلاول نے ہمیشہ افہام و تفہیم کی بات کی ہے، ہم چاہتے تھے کہ تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت ہونی چاہیے، ڈی جی آئی ایس پی آر خود کہہ چکےکہ سیاسی جماعتیں آپس میں بات کریں۔

  • پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر موصول ہوگئے

    پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر موصول ہوگئے

    اسلام آباد(کنزیومرواچ نیوز)عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف نے ) پاکستان کو ایک ارب 20 کروڑ ڈالر منتقل کر دیے ۔اسٹیٹ بینک اعلامیے کے مطابق پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کی قسط کی مد میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالرز موصول ہوگئے ہیں۔ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کو 20 کروڑ ڈالر موسمی تبدیلی سے نمنٹنے کے لیے جاری کیے گئے۔آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کی ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی کے تحت ایک ارب ڈالر اور ریزلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی کے تحت 200 ملین ڈالر کا قرض جاری کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔

  • سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا

    سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا

    راولپنڈی(کنزیومرواچ نیوز) سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنا دی گئی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے فیض حمید کو 14 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمیدکے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت فیلڈجنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع کیا گیا اور فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا یہ عمل 15 ماہ تک جاری رہا۔آئی ایس پی آر کے مطابق ملزم کے خلاف 4 الزامات پر کارروائی کی گئی، ان الزامات میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال اور متعلقہ افراد کو ناجائز نقصان پہنچانا شامل ہیں۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ طویل اور محنت طلب قانونی کارروائی کے بعد ملزم تمام الزامات میں قصور وار قرار پایا گیا ہے، عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کا اطلاق 11 دسمبر 2025 سے شروع ہوگا۔آئی ایس پی آرنے بتایا کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے تمام قانونی تقاضے پورے کیے اور ملزم کو دفاع کےلیے وکیلوں کی ٹیم منتخب کرنے سمیت تمام قانونی حقوق فراہم کیےگئے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ ملزم کی سیاسی عناصرکے ساتھ ملی بھگت، سیاسی افراتفری اور عدم استحکام کے معاملات الگ سے دیکھے جارہے ہیں۔واضح رہےکہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے پر تعینات رہے اور وہ کور کمانڈر پشاور بھی رہ چکے ہیں۔
    فیض حمید کا نام کب منظر عام پر آیا؟
    فیض حمید اور عمران خان کا رابطہ کیسے اور کس ذریعے سے تھا؟ اعزاز سید نے تفصیلات بتا دیںفیض آباد دھرنے سے متعلق فیض حمید کا نام منظر عام پر آیا جب ان کے حوالے سے حکومت اور کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے درمیان معاہدہ کرانےکی بات سامنے آئی۔27 نومبر2017 کو حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک لبیک کے درمیان معاہدےکے آخر میں ’بوساطت میجر جنرل فیض حمید‘ لکھا گیا تھا۔2018 کے انتخابات کے بعد پی ٹی آئی حکومت نے 2019 میں فیض حمید کو سربراہ آئی ایس آئی مقرر کیا اور وہ 2 سال سے زائد عرصے کے لیے اس عہدے پر رہے۔
    پی ٹی آئی حکومت نے 2019 میں فیض حمید کو سربراہ آئی ایس آئی مقرر کیا
    بعدازاں کالعدم تحریک لبیک سے معاہدے کے معاملے پر سپریم کورٹ نے فیصلے میں ایسے افسران کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا، فیض حمید پر سیاسی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے اپنےحلف کی پاسداری نہ کرنےکا الزام بھی لگا، اسی دور میں سیاسی انتقام،گرفتاریوں، وفاداریوں کی تبدیلی کے الزامات بھی سامنے آئے۔سابق وزیراعظم نواز شریف نےبھی تقریروں میں فیض حمید پر سنگین نوعیت کے الزامات عائدکیے، لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے دور میں سیاسی مداخلت کے بھی الزامات سامنے آئے۔
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی نے بھی فیض حمید پر مداخلت کے الزامات لگائے تھےکابل میں طالبان کی آمدکے 3 ہفتے بعد فیض حمید کی دورہ کابل میں کافی کپ کے ساتھ تصویرپر شدید تنقید ہوئی۔پی ٹی آئی دورِ حکومت میں فیض حمید پر پی ٹی آئی کے مخالفین کو جیلوں میں ڈالنےکے الزامات لگے، پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں قانون سازی کے لیے اسمبلی اجلاسوں میں اراکین کی حاضری پوری کرانےکابھی الزام لگا، ساتھ ہی ان پر بجٹ منظور کرانے میں بھی ملوث رہنےکا الزام لگا۔2017 اور 2018 میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی نے بھی فیض حمید پر مداخلت کے الزامات لگائے۔
    فیض حمید کو کب چارج شیٹ کیا گیا؟
    گزشتہ سال 10 دسمبر کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے تحت فیض حمیدکوباضابطہ طور پر چارج شیٹ کیا گیا تھا۔ ان چارجز میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، آفیشل سکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے ریاست کے تحفظ اور مفاد کو نقصان پہنچانا، اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال اور افراد کو ناجائز نقصان پہنچانا شامل تھا۔آئی ایس پی آر کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ فیض حمیدپرتشدد اور بدامنی کے متعدد واقعات میں 9 مئی سے جڑے واقعات بھی شامل تفتیش ہیں، ان متعدد پرتشدد واقعات میں مذموم سیاسی عناصر کی ایما اور ملی بھگت بھی شامل تفتیش ہے۔

  • بانی اور بہنوں کے متنازع بیان سے پی ٹی آئی کا اظہارِ لاتعلقی

    بانی اور بہنوں کے متنازع بیان سے پی ٹی آئی کا اظہارِ لاتعلقی

    لاہور(کنزیومرواچ نیوز)پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بہنوں کے حالیہ متنازع بیان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پارٹی لائن نہیں بلکہ اُن کا ذاتی مؤقف ہے۔اڈیالہ جیل کے باہر دھرنے کے مقام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پہلے منگل کو باقاعدہ ملاقات ہوتی تھی تو ایک دو گھنٹوں میں معاملات نمٹ جاتے تھے، مذاکرات کا مطلب منت نہیں، بانی پی ٹی بالکل واضح ہیں اور انہیں اپنی آسائش کیلیے کوئی سہولت نہیں چاہیے۔پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا حق ہے کہ بیٹے ان سے ملاقات کریں، بیٹیوں کو مقدمات کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملنے نہیں دیا جا رہا جس کی قانونی اور اخلاقی طور پر کوئی مثال نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ اب نظام نے طے کیا ہے کہ تماشہ کھڑا کرنا ہے، یہ روکنے بیریئر لگانے ہیں، ملاقاتیں روکنے کی ذمہ داری ریاست کے کچھ حلقوں پر ہے، جنہوں نے اپریل میں فیصلہ کیا کہ ملاقاتیں نہیں ہونے دیں گے۔سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق نہیں بلکہ منشا کے مطابق ملاقاتیوں کو آنے دیا جا رہا ہے، جسے وہ چاہیں گے وہی مل سکے گا، باقی سب کو روکا جا رہا ہے۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یکجہتی کیلئے لوگ آتے ہیں، بہنوں کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے، ہزاروں لاکھوں اکاؤنٹس ہمارے کنٹرول میں نہیں، ہمیں ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے۔سیکریٹری جنرل نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی بہنوں کی بات پارٹی لائن نہیں بلکہ ذاتی مؤقف ہے، ہم کوئی سینسر بورڈ نہیں، اس لیے خان صاحب جو کہتے ہیں وہی باہر پہنچاتے ہیں۔

  • ایک مائنس ہوا تو ایک بھی باقی نہیں رہے گا،  چیئرمین پی ٹی آئی

    ایک مائنس ہوا تو ایک بھی باقی نہیں رہے گا، چیئرمین پی ٹی آئی

    اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز)چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ اگر ایک مائنس ہوا تو اس کے بعد ایک بھی باقی نہیں رہے گا، حالات آپ کے کنٹرول میں نہیں آئیں گے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ کاروباری دنیا نہیں ہے کہ دو میں سے ایک مائنس کرو تو ایک رہ جائے گا، اگر ایک مائنس ہوا تو اس کے بعد ایک بھی باقی نہیں رہے گا، خان صاحب کی بہنوں پر واٹر کینن کا استعمال کیا گیا، انہوں نے کہا کہ خان صاحب سے ملاقاتوں کی اجازت نہیں ہے جو ملاقاتوں کے لیے آتا ہے اس پر واٹر کینن کا استعمال کیا جاتا ہے، اگر وہ دو گھنٹے تک اور بیٹھے رہتے تو ملک اور قوم کا کیا نقصان ہو جاتا۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آپ یہ بہانہ لگا رہے ہیں کہ خان کی ٹویٹ کی وجہ سے ملاقات نہیں ہو رہی، کیا بشریٰ بی بی کی فیملی پریس کانفرنسز کر رہی ہے ان کی ملاقاتیں کیوں نہیں کروا رہے؟۔انہوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کچھ نہیں ہوگا لیکن پھر ایسا ہوگا جو کسی کے کنٹرول میں نہیں ہوگا، ہم سسٹم کا حصہ اس لیے ہیں تاکہ ملک میں جمہوریت برقرار رہے، ہم اس وقت تین کروڑ عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز صوبائی اسمبلی میں ایک قرار داد منظور ہوئی ہے، آپ اس مرتبہ فیڈریشن کے یونٹس کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر رہے ہیں، آپ پی ٹی آئی پر کیا بین لگانے جا رہے ہیں؟، ابھی تک تو اپ نے سرٹیفیکیٹ ہی نہیں قبول کیا، اگر یہی حالات رہے تو مہینے میں بھی حالات آپ کے کنٹرول میں نہیں آئیں گے۔