کراچی: بینکوں اور ماہرین نے “اے ٹی ایم کیش ٹریپنگ” فراڈ سے شہریوں کو خبردار کیا ہے۔اے ٹی ایم کیش ٹریپنگ کے ذریعے اسکیمرز کیش سلاٹ کو روکتے ہیں،ایسا لگتا ہے کہ مشین نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ جعلساز گروہ رقم نکلنے والے حصے کو بلاک کر دیتے ہیں تاکہ شہریوں کی رقم باہر نہ نکل سکے۔اے ٹی ایم استعمال کرنے والے کے پیسے ان کے اندر پھنس کر رہ جاتے ہیں اور اے ٹی ایم استعمال کرنے والے شخص کے چلے جانے کے بعد اسکیمرز پیسے نکال لیتے ہیں۔ اے ٹی ایم کیش ٹریپنگ ایک طریقہ ہے جسے سائبر کرمنلز اے ٹی ایم پر استعمال کرتے ہیں۔سائبر کرمنلز مخصوص ڈیوائسز کے ذریعے صارفین کی نقد رقم کو پھنساتے اور بعد ازاں اسے ہتھیا لیتے ہیں۔ ملزمان اے ٹی ایم کے اندر ایک ڈیوائس داخل کرتے ہیں جو کیش ڈسپنسر کی طرف سے صارفین کو الاٹ کی گئی نقد رقم کو پھنساتی ہے۔اس طریقہ واردات میں استعمال ہونے والا آلہ عام طور پر “گلو ٹریپ” کہلاتا ہے جو اے ٹی ایم کیش سلاٹ کے اندر یا اس کے سامنے نصب کیا جاتا ہے۔پیسے پھنسانے کے لیے اصلی کیش ڈسپنسر کے سامنے ایک جعلی اے ٹی ایم کیش ڈسپنسر رکھا جاتا ہے۔ اے ٹی ایم کیش ٹریپنگ میں دو طرح کے کیش ٹریپس استعمال ہوتے ہیں جو ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو کہلاتے ہیں۔ٹائپ ون کیش ٹریپس صارفین کو نظر آتے ہیں لیکن صارفین ٹریپس اور اے ٹی ایم کے اصل ڈسپنسر کے درمیان فرق نہیں کر پاتے جبکہ ٹائپ ٹو چھپی ہوئی ڈیوائسز ہوتی ہیں جو اے ٹی ایم کے اندر چھپاکر رکھی جاتی ہیں اور صارف کو اس کا ادراک بھی نہیں ہوتا۔جرائم پیشہ افراد اکثر جعلی شٹر یا نقلی کیش ڈسپنسر بھی نصب کر دیتے ہیں تاکہ اصلی رقم پھنس جائے اور ملزمان آسانی سے رقم اپنے قبضے میں لے سکیں۔اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری احتیاط تدابیر استعمال کر کے اے ٹی ایم کیش ٹریپنگ فراڈ سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری کارڈ سلاٹ کو چیک کریں ،اگر کچھ غیر معمولی لگے تو استعمال نہ کریں۔ مشکوک چیزیں، جھوٹے یا ڈھیلے شٹر، اضافی حصے یا کوئی تار وغیرہ دیکھنے پر فوراً مشین استعمال نہ کریں۔پن درج کرتے وقت کی پیڈ کو ڈھانپیں اور اسے کبھی شئیر نہ کریں۔ رقم نہ نکلنے کی صورت میں اے ٹی ایم نہ چھوڑیں اور اسی وقت اپنے بینک سے رابطہ کریں اور اگر اے ٹی ایم مشین میں کچھ مشتبہ نظر آئے تو اسے استعمال نہ کریں اور رپورٹ کریں۔اس حوالے سے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے حکام کا کہنا ہے کہ بینکوں کو اپنی اے ٹی ایم مشینوں پر “اینٹی کیش ٹریپنگ” ڈیوائسز انسٹال کرنی چاہیں اور بینکوں کو مشینوں کو بروقت اپ گریڈ کرنا چاہیے۔حکام کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے ملزمان ٹیکنالوجی میں ماہر ہو رہے ہیں ویسے ویسے وارداتوں کے طریقے بھی پیچیدہ ہو رہے ہیں۔ اس لیے بینکوں کو چاہیے کہ اے ٹی ایم ڈیزائن اور سکیورٹی پروٹوکول میں مسلسل بہتری لائیں اور عوامی آگاہی مہمات تیز کریں تاکہ صارفین خود کو اس طرح کے فراڈ سے محفوظ رکھ سکیں۔
Blog
-

پاکستان نے پاسپورٹ سے اسرائیلی شق کے خاتمے کا بھارتی ا پروپیگنڈا مسترد کردیا
اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز) پاکستان کی وزارت خارجہ نے پاسپورٹ سے ’اسرائیل کیلئے ناقابل استعمال‘ کی شق کے خاتمے سے متعلق بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے کو مسترد کردیا۔بھارتی چینل نے گزشتہ دنوں دعویٰ کیا کہ پاکستانی پاسپورٹ سے’اسرائیل کے لیے ناقابل استعمال‘ کی شق ختم کردی گئی ہے۔ اس حوالے سے بھارت کے جھوٹے پروپیگنڈے کو بے نقاب کرتے ہوئے پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ میں ایسی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور پاسپورٹ میں’اسرائیل کے لیے ناقابل استعمال‘ کی شق بدستور برقرار ہے۔نئے پاسپورٹ میں اب والد کیساتھ والدہ کا نام بھی درج ہوگا، نئی بک لیٹس کی چھپائی شروع،اس حوالے سے ڈی جی پاسپورٹس کا کہنا تھا کہ قومی پاسپورٹ پراب بھی درج ہےکہ یہ ’اسرائیل کےعلاوہ تمام ممالک کے لیے قابل استعمال ہے۔’علاوہ ازیں وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا اسرائیل سے متعلق مؤقف بالکل واضح اور دو ٹوک ہے، پاکستان نےنہ کبھی اسرائیل کو تسلیم کیا نہ ہی کسی قسم کا فوجی تعاون زیرِ غور ہے۔
-

سرکار کے شدید دبائو پر بھی زرداری کے خلاف وعدہ معاف گواہ نہ بنا،…..آغا سراج درانی
کراچی (آغاخالد)
آغا سراج درانی بھی داغ مفارقت دے گئے
اناللہ واناالیہ راجعون
وہ سندھ کا ایک بھاری بھرکم نام تھے اور ان کے بڑوں نے قیام پاکستان میں قائد اعظم کی مدد کی تھی، گڑھی یاسین کے شاہی خانوادہ سے تعلق رکھنے والے آغا سراج سندھ کے چند کروڑ پتی خاندانوں میں سے تھے مگر سیاست میں آنے کے بعد مملکت کے طاقت ور اداروں نے ان کے ساتھ بھی ایک سے زائد بار وہی گھناؤنا سلوک کیا جس کا مقصد سیاستدانوں کی کردار کشی اور ان کی رسوائی ہوتا تھا کبھی ان کے گھر یا دفتر سے کروڑوں روپیہ برآمد کروایا جاتا کبھی گڑھی یاسین کے محل کے صحن سے خزانہ برآمد ہوتا مگر ان کے خلاف بنائے گئے بیسیوں مقدمات کے عدالتی چالان میں وہ خزانے کبھی ظاہر نہ کیے جا سکے تبھی کہتے ہیں “جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے”
آغا سراج درانی دوستوں کے دوست مشہور تھے جبکہ ان کی اصل وجہ شہرت صدر مملکت آصف زرداری سے ان کی بچپن کی دوستی تھی وہ ذولفقار مرزا کی طرح میٹرک سے زرداری کے کلاس فیلو بھی رہے اور بہت سے دوستوں کے بقول ان کی موت کی بڑی وجہ زرداری صاحب کا گزشتہ کئی برسوں سے ان کے ساتھ سرد رویہ بھی تھا جس کا انہیں صدمہ تھا اور وہ اپنے قریبی دوستوں سے ہلکے پھلکے انداز میں اس پر شکوہ بھی کرتے تھے کہا جاتا ہے کہ اسی رویہ کے سبب وہ گزشتہ 10 برس سے کابینہ سے باہر رہے جبکہ انہیں یہ بھی شبہ تھا کہ طاقت ور عہدوں سے محروم رکھنے کی خاطر ہی انہی پانچ سال سندھ اسمبلی کا اسپیکر رکھا گیا وہ بلا کے ذہین قابل شریف النفس اور پی پی کے وفادار رہنما تھے ان کے قریبی اعزہ کا کہنا ہے کہ وہ بچپن سے سیاست سے الرجک تھے اعلی تعلیم کے لیے امریکہ گئے تو پھر وہیں کے ہو رہے اور اپنے شوق کی تکمیل میں انہوں نے امریکہ میں ماڈلنگ بھی کی اور کچھ دیگر ڈراموں میں بھی چھوٹے موٹے رول کیے جس پر وہ گوریوں کے پسندیدہ اداکار مشہور ہوے وہ دراز قد کے ساتھ کسرتی جسم، پر کشش نقوش، گھنگریالے بال، بڑی آنکھیں، نکھری رنگت اور نوکیلی رعب دار موچھوں کے ساتھ مردانہ وجاہت کا شاندار شاہکار تھے اس لیے امریکہ کے گوروں میں تیزی سے مقبول ہورہے تھے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو 87/88 میں امریکہ گئیں تو انہوں نے اصرار کرکے انہیں واپس آنے اور سندھ کی سیاست میں کردار ادا کرنے پر آمادہ کرلیا کہا جاتا ہے کہ ایسا بھی محترمہ نے اپنے شوہر آصف زرداری کی سفارش پر کیا تھا وہ اکثر بڑے فخر سے بتاتے تھے کہ جس روز میری فلائٹ کراچی میں اتری اسی روز جنرل ضیا کا جہاز بہاول پور میں حادثہ کا شکار ہوا تھا ان کے والد آغا صدرالدین درانی سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہے جبکہ چچا آغا بدرالدین قیام پاکستان کے وقت سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر تھے اور پاکستان سے الحاق کی سائیں جی ایم سید کی قرار داد میں پیش پیش تھے ان کا خاندان 3 صدیاں قبل افغانستان سے برصغیر آیا اور پھر محلہ آوروں کے ساتھ واپس جانے کی بجائے سندھ میں ہی ٹھر گیا اور شکار پور اور جیکب آباد کے درمیان ایک چھوٹے سے مگر ترقی یافتہ قصبے گڑھی یاسین کو اپنا مسکن بنا لیا ایک قلعہ نما چہار دیواری بناکر پورا کنبہ اس میں رہائش پذیر ہوا یہ اصلی پٹھان اور لڑاکا قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے اس لیے اس مشکل علاقہ میں بھی جلد ہی ان کی دھاک بیٹھ گئی اور وہ علاقہ کے بڑے زمیندار گھرانہ کی حیثیت سے مشہور ہوگئے مشکل علاقہ اس لیے کہاکہ شکار پور سے جیکب آباد تک زیادہ تر جنگجو لڑاکا بلوچ قبائل آباد ہیں 20 ویں صدی تک سرداروں کی سطح پر ان میں رشتہ داریاں بن رہی ہوتی تھیں مگر عین اسی لمحے نچلی سطح پر خونریز جھگڑے چل رہے ہوتے تھے جس میں ہر ایک جھگڑے میں 8/10 بندوں کا مرجانا تو معمولی بات تھی ایسے علاقہ میں دھاک کے ساتھ رہنا بذات خود بڑا کارنامہ تھا پھر درانی قبیلہ جنگجو اور لڑاکا بھی مشہور ہوگئے اور غیر اعلانیہ (معاشی اور ذہنی) سلطنت بھی قائم کرلی ہوا یوں کہ پھر علاقہ کی بڑے زمینداری کے علاوہ ان کی نئی نسل اعلی تعلیم کی طرف راغب ہوگئی جبکہ اس علاقہ کے طاقت ور بلوچ قبائل کے صرف سرداروں کے سکا د حلکا بچے ہی تعلیم حاصل کرتے تھے اور قبیلہ جہالت میں ڈوبا رہتا تھا مگر درانی بحیثیت قبیلہ اعلی تعلیم حاصل کرکے حکومتوں میں اہم مناصب حاصل کرتے رہے جس سے یہ مہذب بھی ہوگئے اور علاقہ میں ان کا اثرو رسوخ بھی بڑھتا گیا اس درانی قبیلہ کی 21 ویں صدی کے فرزند آغا سراج درانی ہونہار ہونے کے ساتھ اثرو رسوخ اور صوبہ سندھ کی سیاست میں منفرد مقام حاصل کرگئے ان کی ملن سار فقیرانہ عادات نے انہیں شکار پور سے نکال کر پورے سندھ کی مقبول شخصیت بنادیا وہ جب بھی سندھ کابینہ میں وزیر بنتے ان کی کھلی کچہریاں عام اور مظلوم لوگوں کو اپنی طرف راغب کرتیں ان کے دفتر میں کبھی پروٹوکول نہیں دیکھا ہر شخص ہر وقت ان سے مل سکتا تھا پھر وہ غریبوں کے مسائل حل کرنے میں نہ صرف دل چسپی لیتے تھے بلکہ اپنی جیب سے بھی ضرورت مندوں کی مدد کرتے تھے جس سے ان کی شہرت اور عزت میں اضافہ ہوا اور وہ صوبہ کی مقبول ترین شخصیات کی صف اول میں آگئے یہی وجہ تھی کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بننے والی حکومت میں وہ سندھ کی وزارت اعلی کے لیے زرداری صاحب کے پسندیدہ امیدوار بن گئے تھے یہ بھی بڑا دل چسپ قصہ ہے چہ جائیکہ آصف زرداری پارٹی کی بظاہر کمان سنبھال چکے تھے مگر پارٹی کی سینیر قیادت انہیں قبول کرنے کو ذہنی طور پر تیار نہ تھی اور اندرون خانہ سنجیدہ چپقلش موجود تھی پھر بی بی کے سوئم میں دکھائے گئے جانشینی کے خط کی ایک جھلک پر بھی مخدوم امین فہیم اور خورشید شاہ جیسے سینیر رہنما بھی اعتبار کرنے کو تیار نہ تھے انہوں نے سوئم کے جذباتی ماحول میں اعتراض تو نہ کیا مگر ان کے چہرہ کے تاثرات اور بعد کے رویہ نے زرداری صاحب کو پریشان کردیا، جبکہ ان ہی سینیرز کو بی بی کی قربت کی وجہ سے معلوم تھا کہ محترمہ بے نظیر پرویز مشرف کے دور میں ملک بدری کے دوران اور وطن واپسی پر بھی ماضی کے تجربات کے باعث آصف زرداری کی پارٹی یا سیاست میں مداخلت کے خلاف تھیں اور اس مسلہ پر میاں بیوی کے تعلقات میں بی بی کی شہادت تک سرد مہری بھی پائی جاتی رہی جس کی وجہ سے آصف زرداری پارٹی کی کمان سنبھالنے کے باوجود اپنے آپ کو بہت کمزور محسوس کرہے تھے اور بعض سیاسی مبصرین کے بقول یہی وجہ تھی کہ ملکی طاقت ور اسٹبلشمنٹ کی ہمدردیاں سمیٹنے اور طاقت کے ایک بڑے مرکز کو اپنے ساتھ ملانے کو ذہین ترین آصف نے ترپ کا شاندار پتہ کھیلتے ہوے سوئم کے سوگ اور پاکستان مخالف غصہ سے بھرے جذباتی اجتماع میں بھی “پاکستان کھپے” کا نعرہ لگایا جو بعد میں ان کے بہت کام آیا، سینیر پارٹی قیادت جانتی ہے کہ سوئم کے فورن بعد آصف علی زرداری سکھر پہنچے اور انہوں نے سکھر ہائوس میں اسلام الدین شیخ کے ہاں دو روز قیام کرکے سید خورشید شاہ کو رام کیا اس کارنامے کا زیادہ سہرا اسلام الدین شیخ کو جاتا ہے جس کا ثمر پہلے وہ اور اب ان کے بیٹے سمیٹ رہے ہیں یہ معرکہ سر کرنے کے بعد زرداری صاحب نے مخدوم امین فہیم پر کام شروع کیا مگر وہ زرداری کی کمزوری سے کھیلتے ہوے وزارت عظمی سے کم پر بات کرنے کو تیار نہ تھے اور آصف انہیں نظر انداز یوں نہ کرسکتے تھے کہ ان کے ساتھ سندھ کے ارکان اسمبلی اور پارٹی کی اہم قیادت یک زبان تھی یہی وجہ تھی کہ بقول مخدوم جاوید ہاشمی کے نواز شریف کی قیادت میں محترمہ بے نظیر کی تعزیت کے لیے نوڈیرو لاڑکانہ جانے والے ن لیگ کے تین رکنی وفد سے زرداری صاحب نے درخواست کی کہ وہ مخدوم امین سے ان کی جان چھڑائیں بقول جاوید ہاشمی کے وہاں تعزیت کا سوگوار ماحول تھا ہی نہیں بلکہ اقتدار کی بندر بانٹ کے لیے توڑ جوڑ زوروں پر تھا، بعد ازاں انتخابات کے بعد ہی زرداری صاحب کی فرمائش پر خواجہ آصف نے اسلام آباد پہنچ کر یہ بیان داغ دیاکہ اگر پی پی نے مخدوم امین فہیم کو وزارت عظمی کے لیے نام زد کیا تو ن لیگ ان کی حمایت نہیں کرے گی یوں زرداری صاحب نے ترپ کا ایک پتہ اور کھیل کر وزارت عظمی کے سب سے مضبوط امیدوار کو متنازعہ کرکے مخدوم امین کو پارٹی میں بے اثر کردیا، ملکی سیاست کا انتہائی نفیس اور شریف النفس سیاستداں سب سے بڑی کرسی کی بازی ہارگیا اور باقی زندگی آصف زرداری کی ناراض گی کا نشانہ بنتے ہوے گزار کر اس دنیا سے کوچ کرگیا (انا للہ وانا الیہ راجعون) اس خطرے سے نپٹ کر زرداری صاحب نئی حکومت کی تشکیل کے لیے اسلام آباد پہنچے اور انہوں نے پارٹی کی اہم اور طاقت ور مشاورتی کمیٹی (سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی) کا اجلاس بلا لیا اب یہ نہیں معلوم کہ اجلاس کے دوران یا اس سے ہٹ کر انہوں نے آغا سراج درانی جو مشکل کی اس گھڑی میں مسلسل سائے کی طرح ان کے ساتھ تھے کو کہاکہ وہ تیاری کریں اگلے وزیر اعلی سندھ وہ ہوں گے کوئی شب کے 11 یا 12 بجے ہوں گے کہ مجھے آغا جاوید کا فون آیا کہ میں آغا سراج درانی کا پیغام لے کر آرہا ہوں آپ دفتر میں رکیں آغا جاوید (مرحوم) وہ جذباتی جیالا تھا جس نے محترمہ بے نظیر کی شہادت کے بعد ان پر تبرا کرنے والے اس وقت کے وزیر اعلی ارباب غلام رحیم کو سندھ اسمبلی کی گیلری میں جوتا مارا تھا جس پر وہ جیل بھی گیا اور پولیس تشدد کا نشانہ بھی اور پارٹی میں اسے ہیرو کا درجہ ملا وہ آغا سراج درانی کی برادری سے اور ان کا قابل اعتماد کارکن تھا اس نے آتے ہی پھولی ہوئی سانس کے ساتھ بتایا کہ زرداری صاحب نے آغا سراج کو سندھ کی وزارت اعلی کے لیے نامزد کردیا ہے اس کی خبر چلانی ہے مینے اس کی مخالفت کرتے ہوے آغا سراج سے جاوید کے نمبر سے ہی بات کی اور انہیں اس کے نقصان دہ مضمرات سے آگاہ کیا اور کہاکہ اس مرحلے پر خبر کی اشاعت نقصان دہ ہوگی سندھ میں طاقت ور سید لابی کے علاوہ سید قائم علی شاہ موجود تھے جو محترمہ بے نظیر کا بھی انتخاب رہے تھے پھر وہ حالیہ الیکشن میں پیر پاگارا کو ہرا کر بھاری اکثریت سے انتخاب جیتے تھے اس کے علاؤہ بھی کچھ دیگر خطرات میں محسوس کررہا تھا مگر آغا سراج خبر شائع کرنے پر بضد تھے وہ بہت پرجوش اور جذباتی ہورہے تھے مینے ان کے اصرار پر خبر شائع کردی جو روزنامہ آج کل میں صفحہ اول پر سنگل چھپی میں ان دنوں اس اخبار کا کراچی میں چیف رپورٹر تھا یہ اخبار نجم سیٹھی اور سلیمان تاثیر نے مل کر نکالا تھا یہ منفرد اسلوب اور خبروں کی ترسیل کے نئے انداز کی وجہ سے روز بروز مقبول ہورہا تھا دوسرے روز یہی خبر کئی چینلز میں نشر اور اخبارات میں چھپی جس پر سیاسی حلقوں میں عموما اور پی پی میں خصوصا ہلچل مچ گئی وزارت اعلی کے تین چار دیگر اُمیدواروں نے توڑ جوڑ شروع کردیا،
(بقیہ: اگلی قسط میں -

شدید دھند کے باعث موٹروے ایم ون پشاور سے رشکئی تک بند
پشاور (اسٹاف رپورٹر)شدید دھند اور حدِ نگاہ انتہائی کم ہونے کے باعث موٹروے ایم ون پشاور سے رشکئی تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی ہے۔ ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق موٹروے بند کرنے کا مقصد حادثات سے بچاؤ اور شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ترجمان نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ دھند کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کوشش کریں کہ اپنا سفر دن کی روشنی میں مکمل کر کے دھند کے آغاز سے پہلے منزل تک پہنچ جائیں۔انہوں نے ڈرائیورز کو ہدایت کی ہے کہ گاڑیوں میں فوگ لائٹس کا استعمال کریں، تیز رفتاری سے پرہیز کریں اور اگلی گاڑی سے معمول سے زیادہ فاصلہ رکھیں۔مزید معلومات کے لیے شہری موٹروے پولیس ہیلپ لائن 130 پر رابطہ کر سکتے ہیں یا موٹروے پولیس کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے تازہ ترین اپ ڈیٹس حاصل کر سکتے ہیں۔
-

ٹی ٹی پی کا نائب امیر قاری امجد عرف مفتی مزاحم خفیہ آپریشن میں ہلاک
پشاور(کنزیومرواچ نیوز)فتنہ الخوارج کی رہبری شوریٰ کے رکن اور نائب امیر قاری امجد عرف مفتی مزاحم ایک کامیاب خفیہ اطلاعات پر مبنی آپریشن (IBO) میں جہنم واصل ہو گیا۔ یہ کارروائی انسدادِ دہشت گردی کے سلسلے میں کی گئی ایک اہم کارروائی تھی، جسے پاکستانی خفیہ اداروں (مارخور) اور سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ طور پر انجام دیا۔قاری امجد، جو مفتی مزاحم کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، فت،نہ الخوارج کے ایک انتہائی مؤثر اور خطرناک رہنما سمجھا جاتا تھا۔ وہ تنظیم کی حکمتِ عملی، بھرتی اور حملوں کی منصوبہ بندی میں مرکزی کردار ادا کر رہا تھا۔امریکی حکومت نے قاری امجد کو 2022 کے آخر میں “عالمی سطح پر خصوصی طور پر نامزد دہشت گرد” (Specially Designated Global Terrorist) قرار دیا تھا۔ اس اقدام کے بعد وہ بین الاقوامی سطح پر بھی مطلوب دہشت گردوں میں شامل ہو گیا تھا۔سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، قاری امجد کی ہلاکت پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں ایک بڑی کامیابی ہے۔ اس سے نہ صرف ٹی ٹی پی کی قیادت کو دھچکا لگا ہے بلکہ تنظیم کے آپریشنل ڈھانچے میں بھی نمایاں کمزوری پیدا ہو گی۔
-

آسٹریلوی نوجوان کرکٹر پریکٹس سیشن کے دوران گردن پر گیند لگنے سے ہلاک
میلبرن(کنزیومرواچ نیوز) آسٹریلیا میں نوجوان کرکٹر پریکٹس سیشن کے دوران گردن پر گیند لگنے سے انتقال کرگیا۔ آسٹریلوی میڈیا کے مطابق 17 سالہ کرکٹر بین آسٹن میلبرن ایسٹ میں ہفتے کے آغاز میں انجری کا شکار ہوئے۔بین آسٹن کو گردن پر گیند لگی جس کے فوری بعد انہیں تشویشناک حالت میں اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کی۔کرکٹ وکٹوریہ نے بال تھروئنگ ڈیوائس کی گیند بین آسٹن کی گردن پر لگنے کی تصدیق کرتے ہوئےکہا کہ بین آسٹن نے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا لیکن اس کا سٹم گارڈ نہیں تھا ۔ہیڈ آف کرکٹ وکٹوریہ نک کمنز کا کہنا ہے کہ بین آسٹن کو اسی طرح گردن پر گیند لگی جیسے 11 برس قبل فلپ ہیوز کو لگی تھی ۔کرکٹ آسٹریلیا اور کلب انتظامیہ سمیت بین آسٹن کی فیملی نے بھی واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
-

پاکستان نے افغانستان سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کردی
استنبول(کنزیومرواچ نیوز) پاکستان نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر رضا مندی ظاہر کردی۔ذرائع کے مطابق افغانستان سے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہونے پر پاکستانی وفد نے آج واپس آنا تھا تاہم ترکیہ کے حکام نے پاکستانی وفد سے رکنے کی درخواست کی تھی جس پر پاکستانی وفد استنبول میں ہی موجود تھا۔ذرائع کا کہنا ہےکہ افغان حکام نے بھی مذاکرات کے حوالے سے سفارتی سطح پر رابطے کیے ہیں جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات دوبارہ بحال ہورہے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی وفد جو واپس روانہ ہونے والا تھا وہ اب استنبول میں مزید قیام کرے گا اور مذاکراتی عمل کو دوبارہ جاری رکھ کر امن کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق مذاکرات پاکستان کے اُسی مرکزی مطالبے پرہوں گے کہ افغانستان دہشتگردوں کے خلاف واضح،قابلِ تصدیق اور مؤثر کاروائی کرے۔ذرائع کا کہنا ہےکہ پاکستان نے ایک بار پھر زور دیا ہےکہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔ذرائع نے مزید بتایا کہ افغانستان سے مذاکرات کے دوران پاکستانی وفد میں وہی حکام شریک ہوں گے جو پہلے مذاکرات میں شامل رہے۔واضح رہےکہ اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اعلان کیا تھا کہ استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔
پاک افغان جنگ بندی
19 اکتوبر کو قطری وزارت خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان اور افغانستان فوری جنگ بندی پر راضی ہوگئے ہیں جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر میں توسیع بھی کی گئی۔ -

آئندہ سال اپریل میں چین کا دورہ کروں گا ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن (کنزیومرواچ نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر عائد ٹیرف کو 10 فیصد کم کرنے کا اعلان کردیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر سے ملاقات کے بعد ٹیرف میں 10 فیصد کمی کا اعلان کیا۔ٹرمپ نے کہا کہ چین پر عائد ٹیرف کو 57 سےکم ہو کر47 فیصد کردیا گیا ہے جو فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ چینی صدر کے ساتھ ملاقات بہت اچھی رہی، صدر شی سے ملاقات میں بہت سارے فیصلے کیے گئے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سویابین کی خریداری فوری طور پر شروع ہوجائےگی اور نایاب معدنیات کے معاملات میں مزید رکاوٹیں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال اپریل میں چین کا دورہ کروں گا اور میرے دورہ چین کے بعد چینی صدر امریکا آئیں گے.امریکی صدر نے کہا کہ ہم چینی صدر کے ساتھ یوکرین معاملے پر مل کر کام کرنے جارہے ہیں جبکہ تائیوان کے معاملے پر بات چیت نہیں ہوئی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دیگرممالک ایٹمی تجربےکررہےہیں تو امریکا کے لیے بھی مناسب ہےکہ یہ تجربے بحال کرے اور اس کے لیے نیوکلیئر ٹیسٹنگ سائٹس کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔
-

چین اور امریکا کو بدلہ لینے کےخطرناک چکر میں نہیں پڑنا چاہیے: چینی صدر
واشنگٹن (کنزیومرواچ نیوز)چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ چین اور امریکا کو بدلہ لینے کےخطرناک چکر میں نہیں پڑنا چاہیے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر سے ملاقات کے بعد گفتگو میں چینی صدر نے کہا کہ چین کی معیشت ایک سمندر کی طرح ہے، چین ہر قسم کے خطرات اورچیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے تاہم چین کبھی بھی کسی ملک کو چیلنج کرنے یا اس کی جگہ لینے کی کوشش نہیں کرتا اور اپنے کام کو بہتر کرنے پر توجہ دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت محاذ آرائی سے بہتر ہے، امریکاکے ساتھ تعلقات مجموعی طور پر مستحکم ہیں، چین اور امریکا دونوں کی ٹیموں کوبات چیت پر فالو اپ کرنا چاہیے جب کہ چین اور امریکا کے تعلقات کو وسعت دینے کے لیے تجارت اور معیشت کو بنیادی عنصر ہونا چاہیے۔چینی صدر نے مزید کہاکہ تجارتی تعلقات کو چین امریکا دوستی کی بنیاد ہونا چاہیے، دونوں ممالک کو تعاون کے طویل مدتی مفاد پر نظر رکھنی چاہیے اور بدلہ لینے کےخطرناک چکر میں نہیں پڑنا چاہیے۔صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ چین اور امریکا کی اقتصادی، تجارتی ٹیموں نے تفیصلی گفتگو کی اور مسائل کے حل پر اتفاق کیا، غیر قانونی امیگریشن روکنے پر دونوں ممالک کےدرمیان تعاون کے مثبت رجحانات ہیں جب کہ دونوں ممالک ٹیلی کام فراڈ، اے آئی، منی لانڈرنگ کا مقابلہ کرنےکےلیے بھی پُرعزم ہیں۔ دوسری جانب چینی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی اور چینی صدور نے توانائی، تجارت میں تعاون کو مضبوط بنانے اور بات چیت برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
-

استنبول ، پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام
استنبول (کنزیومرواچ نیوز) پاکستان اور افغان طالبان رجیم کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے۔ پاکستان نے دہشت گردوں اور ان کےسرپرستوں اور معاونین کےخلاف کارروائی کا اعلان کردیا۔ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں چار روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کسی نتیجہ پرنہ پہنچ سکے۔ وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ایکس پر پیغام میں کہا کہ افغان طالبان نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی کوئی ضمانت نہیں دی۔ افغان وفد الزام تراشی، ٹال مٹول اور حیلے بہانوں کا سہارا لیتا رہا۔مذاکرات کے دوران افغان طالبان نے پاکستان کے منطقی اور جائزمطالبات تسلیم کیے لیکن دہشت گردوں کےخلاف ایکشن کی کوئی یقین دہانی نہیں کروائی۔ افغان وفد بنیادی مدے سے انحراف کرتا رہا۔ الزام تراشی، ٹال مٹول اور حیلے بہانوں کا سہارا لیا۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان نے افغان طالبان سے سرحد پار دہشت گردی پر احتجاج کیا۔ دوحہ معاہدے پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا لیکن افغان طالبان اپنے عوام کو غیر ضروری جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ حکومت پاکستان دہشت گردی کےخلاف ہرممکن اقدام کرتی رہےگی ۔ دہشت گردوں، ان کے ٹھکانوں اور سرپرستوں اور معاونین کوختم کرنے کے لیے تمام وسائل استعمال کریں گے۔وزیراطلاعات نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان کےعوام کی سلامتی قومی ترجیح ہے، حکومت پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ممکن اقدام اٹھائے گی۔ دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں اورسہولت کاروں کو نیست و نابود کرنےکے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔
