اسلام آباد: (کنزیومرواچ نیوز) حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کشیدگی میں کمی کیلئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کچھ رہنماؤں اور سابق رہنماؤں کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے باوجود پارٹی کی تصادم کی راہ پر چلنے کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس میں رکاوٹ خود عمران خان بنے ہوئے ہیں جن کے سمجھوتہ نہ کرنے کے موقف کی وجہ سے مصالحت کے جانب بڑھنے میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی میں (جیل کے اندر اور باہر موجود) سینئر شخصیات خاموشی کے ساتھ سیاسی مذاکرات کیلئے کوششیں کر رہے ہیں، دلیل دے رہے ہیں کہ تصادم کی پالیسی نے صرف پارٹی کو تنہا کیا ہے اور اس کیلئے امکانات کو معدوم کیا ہے۔ تاہم، ان کی کوششوں کو کوئی کامیابی نہیں مل رہی کیونکہ عمران خان حکمران سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کے حوالے سے دوٹوک موقف رکھتے ہیں۔ کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں کی جانب سے کھل کر حکمران سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کرنے کے چند روز بعد ہی عمران خان نے اڈیالہ جیل سے سخت الفاظ پر مشتمل ایک پیغام جاری کرتے ہوئے اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔ 8 جولائی کے بیان میں عمران خان نے واضح طور پر کہا کہ ’’مذاکرات کا وقت ختم ہو چکا ہے‘‘ اور ساتھ ہی رواں سال اگست میں ملک بھر احتجاجی مہم کا اعلان کیا۔ عمران خان کے پیغام نے مؤثر انداز سے ان کی اپنی ہی پارٹی کے سینئر رہنماؤں (بشمول شاہ محمود قریشی اور دیگر) مصالحتی سوچ کو مسترد کردیا ہے۔ یہ لوگ حالات کو معمول پر لانے کیلئے منطقی سوچ اختیار کرنے پر زور دے رہے تھے۔ سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ جب تک عمران خان اپنے تصادم پر مبنی لب و لجہے (خصوصاً فوجی اسٹیبلشمنٹ کیخلاف) پر قائم رہیں گے اس وقت تک پی ٹی آئی کیلئے سیاسی میدان میں واپس آنے کے امکانات بہت کم ہیں۔ پی ٹی آئی کے اپنے لوگ بھی نجی محفلوں میں اعتراف کرتے ہیں کہ پارٹی کے بانی چیئرمین اور پارٹی کا سوشل میڈیا جب تک فوج کو ہدف بنانا بند نہیں کرے گا تب تک بامعنی مذاکرات شروع نہیں ہو سکتے۔ تاہم، اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پی ٹی آئی اپنا لہجہ نرم بھی کر لے تو فوجی اسٹیبلشمنٹ کا عمران خان پر عدم اعتماد بہت گہرا ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں فوج کی قیادت پر ان کی مسلسل تنقید نے نہ صرف موجودہ کمان بلکہ ادارے کی اعلیٰ قیادت کے بڑے حصے کو بھی ناراض کر دیا ہے۔ اگرچہ عمران خان پی ٹی آئی کی سب سے زیادہ مقبول اور مرکزی شخصیت ہیں، لیکن ذاتی حیثیت میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کی ساکھ خراب ہو چکی ہے۔یہی وجہ ہے کہ کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاسی بحالی کا انحصار بالآخر متبادل قیادت پر ہو سکتا ہے مثلاً شاہ محمود قریشی یا چوہدری پرویز الٰہی جیسے افراد، جو مقتدر حلقوں کیلئے قابلِ قبول ہو سکتے ہیں۔ تاہم، موجودہ حالات میں پی ٹی آئی کی سیاست عمران خان کے ہاتھوں یرغمال ہے، مذاکرات پر غور سے ان کے انکار کی وجہ سے سیاسی حالات نارمل کرنے کیلئے گنجائش بہت کم ہے، اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مصالحت کے معاملے میں تو اس سے بھی کم گنجائش ہے۔ عمران خان کے آگے چوائس بہت واضح ہے: تصادم اور تنہائی کی سیاست جاری رکھیں، یا ایک عملی تبدیلی کی اجازت دیں جو پی ٹی آئی کی سیاسی جگہ بحال کر سکے۔ اس وقت، فواد چوہدری اور عمران اسماعیل کی تازہ ترین کوششوں کے باوجود، تمام اشارے اول الذکر چوائس کی طرف نظر آ رہے ہیں۔
Blog
-

کراچی کی سڑکوں پر گاڑی چلانے پر چالان نہیں انعام ہونا چاہیے: نبیل ظفر
کراچی (کنزیومرواچ نیوز)پاکستان کے معروف اداکار نبیل ظفر نے دلچسپ انداز میں ای چالان سے متعلق سندھ حکومت پر طنز کیا ہے۔فوٹوز اینڈ ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر اداکار نے کراچی میں ای چالان کے نفاذ پر دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ کراچی کی سڑکوں پر گاڑی چلانے پر چالان نہیں انعام ہونا چاہیے، عوام کا مطالبہ۔واضح رہے کہ 27 اکتوبر سے کراچی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر فیس لیس ٹکٹنگ سسٹم (ای چالان) کے نظام کو نافذ کردیا گیا ہے جس کے تحت بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی 3 روز کے دوران 12 ہزار سے زائد ای چالان کیے گئے ہیں۔
-

’استغفراللہ ۔۔۔ مجھے کراچی بالکل پسند نہیں،صبا قمر
لاہور (کنزیومرواچ نیوز)پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی معروف اداکارہ صبا قمر کی اداکاری یوں تو سوشل میڈیا پر اکثر صارفین کے درمیان موضوع بحث رہتی ہے لیکن اس بار صبا قمر اپنی اداکاری یا ڈرامے کے باعث نہیں بلکہ اپنے ایک بیان کے حوالے سے ٹرینڈ کر رہی ہیں۔
صبا قمر کا موضوع بحث جملہ ہے ’استغفراللہ ۔۔۔ مجھے کراچی بالکل پسند نہیں۔‘
اداکارہ صبا قمر نے کراچی سے متعلق اپنی رائے کا اظہار ایک حالیہ پوڈ کاسٹ میں کیا جہاں اینکر نے ان سے کراچی منتقل ہونے سے متعلق سوال کیا اور صبا کے اس جواب پر بیشتر شائقین ناراض ہو گئے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر صبا قمر کے الفاظ ’استغفراللہ کراچی‘ پر خصوصاً پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے پیار کرنے والے اور اس سے تعلق رکھنے والوں نے نہ صرف صبا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ اُن سے معافی مانگنے کا بھی مطالبہ کیا۔
بہت سے صارفین نے اپنی ناراضگی کے اظہار میں انھیں یاد دلایا کہ ’کراچی وہی شہر ہے جہاں آپ نے کام کیا تو اب کیوں اپنے منہ سے اس کی برائی کر رہی ہیں۔‘
-

پولیس وردی میں ڈکیتیاں کرنیوالے 4 ڈاکو ہلاک، 3 افغان شہری نکلے
پشاور( کنزیومرواچ نیوز) میراکچھوڑی مہرگل کلے میں پولیس مقابلے کے دوران 4 ڈاکو ہلاک ہو گئے۔پولیس کے مطابق ڈاکوؤں کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پہنچی تو ملزمان نے فائرنگ کر دی، جوابی فائرنگ سے گینگ کےچاروں ڈاکو ہلاک ہوگئے۔ پولیس کا بتانا ہے کہ ہلاک ملزمان 2003 سے پولیس کی وردی میں وارداتیں کرتے تھے، ڈاکوؤں نے ڈاکٹر کےگھر سےکروڑوں روپے اور زیورات بھی لوٹے تھے۔ایس ایس پی آپریشنز پشاور مسعود احمد بنگش نے اس حوالے سے بتایا کہ ہلاک چاروں ڈاکووں کی شناخت ہوگئی ہے، 3 ڈاکوؤں کا تعلق افغانستان سے ہے۔مسعود احمد بنگش کا کہنا ہے کہ ہلاک ڈاکوپشاور، راولپنڈی، نوشہرہ اور دیگراضلاع کی پولیس کو انتہائی مطلوب تھے، ڈاکووں نےحالیہ دنوں میں دو بڑی وارداتیں کی تھیں، ڈاکوؤں سے کلاشنکوف، رائفل ، 2 پستول اور موٹر سائیکلیں برآمد ہوئیں۔
-

وزیراعظم آزاد کشمیر کیخلاف تحریک عدم اعتماد میں مسلسل تاخیر
مظفر آباد (کنزیومرواچ نیوز) وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد مسلسل تاخیر کا شکار ہے اور تحریک عدم اعتماد آج بھی پیش نہ ہونے کا امکان ہے۔ذائع کا بتانا ہے کہ پیپلز پارٹی تحریک عدم اعتماد پیش کرنے سے متعلق تاحال کوئی فیصلہ نہیں کر سکی ہے، فارورڈ بلاک سے پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے اراکین اسمبلی بھی پریشان ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فارورڈ بلاک کے چند اراکین نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کو جلد بازی کا فیصلہ قرار دیا، پیپلز پارٹی کے اراکین قیادت سے پوچھ رہے ہیں کہ حلقے میں کیسے جائیں۔ذرائع کے مطابق پی پی اراکین اسمبلی اپنی قیادت سے پوچھ رہے ہیں کہ کارکنوں کو کیا جواب دیں، ووٹر سوال کریں گے کیا فیصلہ کیا۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی نے کشمیر ہاؤس میں ڈیرے ڈال دیے ہیں۔ذرائع کا بتانا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری ہی تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے حوالے سے حتمی فیصلہ کریں گے تاہم آئندہ 3 سے 4 روز تک تحریک عدم اعتماد پیش کیے جانے کا امکان نہیں ہے۔خیال رہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے پر اتفاق کیا ہے تاہم مسلم لیگ ن نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ حکومت سازی میں پیپلز پارٹی کا ساتھ نہیں دے گی، اگر پیپلز پارٹی کے پاس مطلوبہ اراکین کی تعداد پوری ہے تو پیپلز پارٹی کا حق ہے وہ حکومت بنائے، ن لیگ نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد مسلسل تاخیر کا شکار ہے اور تحریک عدم اعتماد آج بھی پیش نہ ہونے کا امکان ہے۔ذائع کا بتانا ہے کہ پیپلز پارٹی تحریک عدم اعتماد پیش کرنے سے متعلق تاحال کوئی فیصلہ نہیں کر سکی ہے، فارورڈ بلاک سے پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے اراکین اسمبلی بھی پریشان ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فارورڈ بلاک کے چند اراکین نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کو جلد بازی کا فیصلہ قرار دیا، پیپلز پارٹی کے اراکین قیادت سے پوچھ رہے ہیں کہ حلقے میں کیسے جائیں۔ذرائع کے مطابق پی پی اراکین اسمبلی اپنی قیادت سے پوچھ رہے ہیں کہ کارکنوں کو کیا جواب دیں، ووٹر سوال کریں گے کیا فیصلہ کیا۔دوسری جانب پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی نے کشمیر ہاؤس میں ڈیرے ڈال دیے ہیں۔ذرائع کا بتانا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری ہی تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے حوالے سے حتمی فیصلہ کریں گے تاہم آئندہ 3 سے 4 روز تک تحریک عدم اعتماد پیش کیے جانے کا امکان نہیں ہے۔خیال رہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے پر اتفاق کیا ہے تاہم مسلم لیگ ن نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ حکومت سازی میں پیپلز پارٹی کا ساتھ نہیں دے گی، اگر پیپلز پارٹی کے پاس مطلوبہ اراکین کی تعداد پوری ہے تو پیپلز پارٹی کا حق ہے وہ حکومت بنائے، ن لیگ نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ -

سندھ میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بنوانے کی تاریخ میں مزید 2 ماہ کی توسیع
کراچی (کنزیومرواچ نیوز)سندھ میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کی تبدیلی میں مزید 2 ماہ کا اضافہ کر دیا گیا۔محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سندھ نے گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کی تبدیلی کی تاریخ میں توسیع کے حوالے سے باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔نئے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی جدید سکیورٹی فیچرڈ نمبر پلیٹس کی آخری تاریخ اب 31 دسمبر 2025 ہے۔واضح رہے کہ سندھ میں اجرک والی نمبر پلیٹس کی ڈیڈ لائن 31 اکتوبر کو ختم ہو چکی ہے۔دوسری جانب محکمہ ایکسائز کا بتانا ہے کہ سندھ بھر میں تقریباً 65 لاکھ موٹر سائیکلیں رجسٹرڈ ہیں، صرف کراچی میں یہ تعداد 33 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ بیشتر شہری موٹر سائیکلیں خرید تو لیتے ہیں لیکن انہیں اپنے نام رجسٹرڈ نہیں کرواتے، بلکہ اوپن لیٹر پر ہی استعمال کرتے ہیں جو قانوناً جرم ہے۔
-

اسرائیلی پابندیوں سے فلسطینیوں کو خوراک و پانی کی شدید کمی کا سامنا
غزہ (کنزیومرواچ نیوز)فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے انروا نے کہا ہے کہ اسرائیل کی سخت پابندیوں سے فلسطینیوں کو خوراک و پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ادارے نے صاف پانی تک محفوظ طریقے سے رسائی ہر شہری کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے غزہ میں تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار بے گھر فلسطینیوں کو پانی فراہم کیا ہے۔ادارے نے بتایا کہ غزہ میں ہزاروں خاندان اب بھی خوراک، پانی اور دیگر بنیادی ضرورتوں کی شدید کمی کا سامنا کر رہے ہیں کیونکہ اسرائیل نے انسانی امداد کی ترسیل پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔یاد رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ہوچکا ہے تاہم معاہدے کے باجود اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزیاں جاری ہیں۔اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کے مختلف علاقوں پر حملے کیے جارہے ہیں، اسی کے ساتھ ساتھ سرحدی گزرگاہوں کو بند کرکے امداد کی رسائی کی اجازت بھی نہیں دی جارہی۔
-

خیبر پختونخوا کی 13 رکنی کابینہ تشکیل، عمران خان کی ہدایات نظر انداز
پشاور:(کنزیومرواچ نیوز) خیبرپختونخوا کی 13 رکنی کابینہ کی تشکیل پر تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایات کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق عمران خان نے صوبائی کابینہ کے ارکان کی تعداد 5 سے 8 رکھنے کی ہدایت کی تھی اور کہا تھا کہ کابینہ سنگل ڈیجٹ سے زیادہ نہ ہو، تاہم کابینہ کی تعداد 13 رکھی گئی ہے کابینہ سے جمعہ کو گورنر کے پی نے حلف لیا۔پارٹی کے ایک ذمہ دار رہنما نے بتایا کہ عمران خان نے اسد قیصر کے بھائی عاقب اللہ خان، شہرام ترکئی کے بھائی فیصل ترکئی اور سابق صوبائی وزیر شکیل خان کو کابینہ میں شامل نہ کرنے کی واضح ہدایات جاری کی تھیں لیکن عمران خان کی ہدایات کو نظر انداز کیا گیا۔
خیبر پختونخوا کی نئی کابینہ نے حلف اٹھا لیا
بانی چیئرمین نے پارٹی کے بعض سینئر اراکین کو کابینہ میں شامل کرنے کی ہدایت کی تھی جنہیں ماضی میں نظر انداز کیا گیا تھا۔صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے کہا کہ عمران خان نے کوئی ہدایات جاری نہیں کی تھیں بلکہ انھوں نے پیغام بھجوایا تھا کہ کابینہ مختصر رکھی جائے اور سہیل آفریدی اپنی کابینہ کا خود انتخاب کریں۔انھوں نے کہا کہ کابینہ میں کسی بھی وقت ردوبدل ہو سکتا ہے، عمران خان جس کو چاہیں کابینہ می شامل کر سکتے ہیں اور اگر کسی کو نکالنا چاہیں تو کسی بھی وزیر کو فارغ کرسکتے ہیں۔مینا خان نے کہا کہ کابینہ میں سینئر اور تجربہ کار وزراء بھی شامل ہیں جبکہ نوجوانوں کو بھی موقع دیا گیا ہے۔ -

کسی بھی بیرونی جارحیت کا جواب سخت اور شدید ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر
ایبٹ آباد (کنزیومرواچ نیوز)ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج دفاع وطن کے لیے پرعزم ہے، کسی بھی بیرونی جارحیت کا جواب سخت اور شدید ہوگا۔ایبٹ آباد میں مختلف جامعات کے اساتذہ اور طلبا سے نشست کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے خصوصی گفتگو کی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ خصوصی نشست میں اساتذہ اور طلبا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے حالیہ پاک افغان کشیدگی، ملکی سیکیورٹی صورتحال اور معرکہ حق سمیت اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی اور فتنۃ الخوارج کے خلاف موثر اقدامات کیے ہیں۔اساتذہ اور طلبا کی جانب سے شہداء اور غازیان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔وائس چانسلر ہزارہ یونیورسٹی ڈاکٹر اکرام اللہ خان نے کہا کہ وطن سے محبت کا صحیح استعارہ پاک فوج ہے، پاک فوج ہمیشہ محاذِ اول پر ہوتی ہے اور ہم اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔اساتذہ کا کہنا تھا کہ ہمارے بچوں کے ذہنوں کو گمراہ کرنے کے لیے دشمن عناصر کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں، ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو درست اور مصدقہ معلومات فراہم کریں۔طلبا کا کہنا تھا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم اس ملک کے شہری ہیں جہاں افواجِ پاکستان جیسے ادارے نوجوانوں کو حوصلہ اور رہنمائی فراہم کرتے ہیں، آج ہمیں سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف پھیلائی جانے والی غلط افواہوں کے بارے میں درست معلومات حاصل ہوئیں۔طلبا نے مزید کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے جوابات نے ہمارے ذہنوں سے ملکی اور صوبائی حالات سمیت افواج پاکستان کے حوالے سے ابہام دور کیے۔
-

عمران خان کیخلاف 9 مئی کے 11 مقدمات کے ٹرائل کا نیا نوٹیفکیشن جاری
لاہور (کنزیومرواچ نیوز)پنجاب حکومت نے 9 مئی کے 11 مقدمات کے ٹرائل کا نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔وزارت داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق 9 مئی کے 11 مقدمات کا ٹرائل اب انسداد دہشت گردی عدالت میں ہوگا اور بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا جائے گا۔نوٹیفکیشن کے مطابق 9 مئی کے 11 مقدمات کی سماعت آئندہ اے ٹی سی عدالت میں ہو گی، ویڈیو لنک اور سکیورٹی انتظامات سے متعلق ہدایات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔یاد رہے کہ جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت 5 نومبر کو انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت میں ہوگی جس میں بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک کے ذریعے اڈیالہ جیل سے کمرہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔سماعت انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ کریں گے۔
