Blog

  • عمران خان نے محاذ آرائی ترک نہ کی توجیل میں ہی رہیں گے: ذرائع

    عمران خان نے محاذ آرائی ترک نہ کی توجیل میں ہی رہیں گے: ذرائع

    اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز) اگر کوئی معجزہ نہ ہوا، یا کوئی ڈیل نہ ہوئی، یا عدالتوں سے غیر متوقع ریلیف نہ ملا تو عمران خان کے جلد رہا ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں، اور وہ 2026 کے دوران بلکہ ممکنہ طور پر اس کے بعد بھی جیل میں رہ سکتے ہیں۔پی ٹی آئی کے اندر سخت گیر عناصر اب بھی تصادم کی پالیسی پر قائم ہیں لیکن پارٹی کے تحمل مزاج رہنما عمران خان کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ اُن کی رائے ہے کہ جب تک یہ محاذ آرائی ختم نہیں ہوتی، عمران خان کی رہائی ممکن نہیں۔
    پارٹی کے کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی مشکلات جلد ختم ہوتی نظر نہیں آتیں کیونکہ ان کے اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کیخلاف زیر سماعت مقدمات اور سزاؤں کی نوعیت پیچیدہ ہے۔عمران خان اور ان کی اہلیہ کی القادر ٹرسٹ کیس میں سزا کیخلاف اپیلیں تاحال اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر نہیں ہوئیں۔ اس سے پہلے ان کی سزا کی معطلی کی درخواست کی سماعت ضروری ہے، لیکن اس حوالے سے بھی کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی۔ ہائی کورٹ کی جاری کردہ ’’فکسیشن پالیسی‘‘ کے مطابق، اپیلوں کی سماعت کیس دائر ہونے کی ترتیب میں کی جاتی ہے۔ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی (این جے پی ایم سی) کی ہدایت پر تشکیل دی گئی اس پالیسی میں پرانے اور سنگین مقدمات، خصوصاً سزائے موت اور عمر قید کے کیسز کو ترجیح دی جاتی ہے۔ القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور ان کی اہلیہ کو 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، اور ان کی اپیل 31 جنوری 2024 کو دائر کی گئی تھی، لیکن تاحال اس پر کوئی سماعت نہیں ہوئی۔ موجودہ عدالتی بیک لاگ اور ترجیحی پالیسی کو دیکھتے ہوئے، ذرائع کے مطابق، اس اپیل پر رواں سال سماعت کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں کیونکہ کئی پرانے مقدمات پہلے زیر سماعت ہیں۔ پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے ’’سخت گیر عناصر‘‘ جنہوں نے مذاکرات کی مخالفت کی، انہوں نے عمران خان کیلئے معاملات مزید مشکل بنا دیے ہیں۔ جب تک القادر ٹرسٹ کیس میں سزا برقرار ہے، عمران خان جیل سے باہر نہیں آ سکتے۔ ان کے قانونی مسائل میں اضافہ کرتے ہوئے، توشہ خانہ دوم کیس اب اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ اگر اس میں بھی سزا ہو گئی تو اپیلیں سماعت کیلئے مقرر ہونے سے قبل عمران خان اور ان کی اہلیہ کو مزید قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مزید برآں، 9 مئی سے متعلق کئی مقدمات تاحال زیر سماعت ہیں۔ پی ٹی آئی کے ماہرینِ قانون کو علم ہے کہ استغاثہ کے پاس اتنے قانونی حربے موجود ہیں کہ ان کیسوں کو طول دیا جا سکتا ہے، جس سے عمران خان کی رہائی میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے؛ پھر چاہے وہ کچھ کیسز میں ضمانت یا بریت ہی کیوں نہ حاصل کر لیں۔ حتیٰ کہ بہترین صورتحال میں بھی، اگر عمران خان تمام بڑے مقدمات میں ہائی کورٹ سے بری ہوئے بھی تو اس میں طویل عرصہ لگے گا۔ ذرائع کے مطابق، جب تک کوئی غیر معمولی عدالتی یا سیاسی پیش رفت نہیں ہوتی، عدالتی کارروائیوں کے موجودہ وقت کا اندازہ بتاتا ہے کہ عمران خان کی قید 2026ء تک، بلکہ اس سے بھی آگے تک جا سکتی ہے۔

  • نومبر 2024 میں عمران خان کی رہائی کیلئے اسٹیبلشمنٹ سے معاملات طے پا گئے تھے: شیر افضل

    نومبر 2024 میں عمران خان کی رہائی کیلئے اسٹیبلشمنٹ سے معاملات طے پا گئے تھے: شیر افضل

    کراچی (کنزیومرواچ نیوز)رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کے درمیان گزشتہ سال 25 نومبر میں معاملات طے پا گئے تھے جس کے تحت عمران خان کو رہا کیا جانا تھا۔ایک نجی ٹی وی شو میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات 3 نومبر کو شروع ہوئے تھے جس کے لیے چار رکنی کمیٹی بنی تھی جس میں علی امین گنڈاپور، بیرسٹر گوہر، محسن نقوی اور رانا ثناء اللہ شامل تھے، بعد میں ایک موقع پر میں بھی شامل ہو گیا۔شیرافضل مروت کے مطابق حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان کچھ باتوں پر اتفاق ہو گیا تھا جن میں عمران خان کی رہائی بھی شامل تھی۔انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر سیف کو اپنا طیارہ دیا تاکہ وہ مزید وضاحت کے لیے ملاقاتیں کر سکیں، اس کے بعد 25 نومبر کی رات بیرسٹر گوہر کو جیل بھیجا گیا جہاں پر عمران خان نے ویڈیو ریکارڈ کرانی تھی، اس معاہدے کے تحت عمران خان کو اگلی صبح رہا کیا جانا تھا۔رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ ریاست کے اس وقت تک کوئی عزائم نہیں تھے جب تک رینجرز کا واقعہ نہیں ہوا تھا، ریاست اور حکومت کی بڑی کوشش تھی کہ کوئی تصادم نہ ہو جائے اور اسی وجہ سے وہ ہر قسم کے کمپرومائز پر آئے ہوئے تھے، بیرسٹر گوہر نے عمران خان سے کہا کہ آپ یہ ویڈیو بنا کر دیں تاکہ جو لوگ خیبر پختونخوا سے آ رہے ہیں ہم انہیں یہ ویڈیو سنا دیں اور لوگ سنگجانی سے آگے نہ بڑھیں اور سنگجانی پر اس وقت تک ٹھہرنا ہے جب تک خان صاحب باہر نہ آ جائیں۔شیر افضل مروت کا کہنا تھا عمران خان نے بیرسٹر گوہر سے کہا اپنا موبائل دیدیں لیکن چونکہ جیل والے موبائل لے لیتے ہیں اس لیے انہوں نے کہا میرے پاس تو موبائل نہیں ہے، ساتھ ہی ایک جیل والا آگے بڑھا موبائل دینے کے لیے تو خان صاحب نے کہا نہیں اس پر مجھے شک ہے، یہ لوگ ٹیمپرنگ کر دیں گے۔انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا اس پر بھی بحث ہوئی کہ ویڈیو سلاخوں کے اس طرف بنا لیں، اس طرف بنا لیں، لیکن پھر یہ طے ہوا کہ بیرسٹر گوہر اگلی صبح آئیں گے اور اپنا موبائل لائیں گے لیکن رات کو ہی رینجرز والا وقوعہ ہو گیا، تو پھر بیرسٹر گوہر نے اگلی صبح جو آنا تھا وہ نہ آسکے، اگر رینجرز اہلکاروں والا وقوعہ نہ ہوتا تو ناصرف خان صاحب باہر ہوتے بلکہ بہت سے معاملات بھی حل ہو جاتے۔

  • خضدار میں مسلح افراد کا تعمیراتی کیمپ پر حملہ، 18 مزدور اغوا، گاڑیاں نذر آتش

    خضدار میں مسلح افراد کا تعمیراتی کیمپ پر حملہ، 18 مزدور اغوا، گاڑیاں نذر آتش

    کوئٹہ:(کنزیومرواچ نیوز)بلوچستان کے ضلع خضدار میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک تعمیراتی کمپنی کے کیمپ پر حملہ کر کے 18 مزدوروں کو اغوا کر لیا جبکہ متعدد گاڑیوں اور مشینری کو آگ لگا کر تباہ کردیا۔واقعہ صوبے میں ایک ہفتے کے اندر مزدوروں کے اغوا کا دوسرا بڑا سانحہ ہے، جس سے علاقے میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔حکام کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ جمعرات کی رات خضدار سے تقریباً 80 کلومیٹر دور نال کے علاقے کلیڑی میں پیش آیا۔ درجنوں مسلح افراد نے سب سے پہلے شاہراہ کو بلاک کر کے ٹریفک روک دی اور پھر ایک نجی تعمیراتی کمپنی کے کیمپ اور کرش پلانٹ پر دھاوا بول دیا۔ یہ کمپنی خضدار کو ضلع واشک کے علاقے بسیمہ سے جوڑنے والی اہم سڑک کی تعمیر پر کام کر رہی تھی جو صوبے کی ترقیاتی منصوبوں کا حصہ ہے۔علاقے کے لیویز انچارج علی اکبر نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں نے کرش پلانٹ پر حملہ کر کے وہاں موجود گاڑیوں اور مشینری کو آگ لگا دی جس سے کم از کم 8 گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا، جن میں بھاری مشینری اور ٹرانسپورٹ وہیکلز شامل ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ مسلح افراد کیمپ میں موجود مزدوروں کو زبردستی اپنے ساتھ لے کر فرار ہو گئے، اغوا ہونے والے زیادہ تر مزدوروں کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے، جو دور دراز علاقوں سے روزگار کی تلاش میں بلوچستان آئے تھے۔تعمیراتی کمپنی ڈی بلوج کے منیجر ذوالفقار احمد نے تصدیق کی کہ ابتدائی طور پر مسلح افراد نے 20 مزدوروں کو اغوا کیا تھا، تاہم بعد میں دو مزدوروں کو چھوڑ دیا گیا۔ باقی 18 مزدور اب بھی لاپتا ہیں اور ان کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ذوالفقار احمد کا کہنا تھا کہ یہ حملہ کمپنی کے کام کو شدید متاثر کرے گا اور ملازمین میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کی۔ لیویز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکار موقع پر پہنچے، علاقے کو گھیرے میں لے لیا، اور تحقیقات شروع کر دیں۔حکام نے بتایا کہ اغوا شدہ مزدوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا گیا ہے، جس میں مقامی قبائلی عمائدین کی مدد بھی لی جا رہی ہے۔ تاہم، اب تک مزدوروں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ابھی تک کسی بھی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ البتہ، اس علاقے میں بلوچ مسلح گروپ سرگرم ہیں، جو ماضی میں بھی تعمیراتی کمپنیوں، سڑکوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر حملے کرتے رہے ہیں۔یہ گروپ اکثر حکومت مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں اور غیر مقامی مزدوروں کو نشانہ بناتے ہیں، جنہیں وہ بیرونی مداخلت کا حصہ قرار دیتے ہیں۔یہ واقعہ بلوچستان میں سیکیورٹی کی ابتر صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ صرف ایک ہفتے کے اندر یہ مزدوروں کے اغوا کا دوسرا سنگین سانحہ ہے۔ چند روز قبل مستونگ کے علاقے دشت میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے تعمیراتی کام پر مصروف 9 مزدوروں کو اغوا کر لیا تھا، جن کا اب تک کوئی پتہ نہیں چل سکا جس کے بعد چند روز میں اغوا کیے گئے مزدوروں کی تعداد 27 ہوگئی ہے۔ان واقعات سے صوبے میں کام کرنے والے ہزاروں مزدوروں اور کمپنیوں میں تشویش پھیل گئی ہے، اور حکام پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ سیکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کیا جائے۔حکومت بلوچستان نے ان واقعات کی مذمت کی ہے اور وعدہ کیا ہے کہ مجرموں کو جلد گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ تاہم، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے حملے صوبے کی معاشی ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہیں اور انہیں روکنے کے لیے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ تحقیقات جاری ہیں اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

  • ملک  میں چینی کا بحران پھر سر اٹھانے لگا ،قیمتیں بڑھ گئیں

    ملک میں چینی کا بحران پھر سر اٹھانے لگا ،قیمتیں بڑھ گئیں

    پشاور (کنزیو مرواچ نیوز)چینی کی قیمتوں میں کمی لانے کے تمام تراقدامات بےسود ثابت ہوئے اور فزشتہ ایک ہفتے کے دوران چینی کی قیمت میں دس روپےتک فی کلو کا اضافہ ہوا جس کے بعد ملک میں چینی کی زیادہ سے زیادہ فی کلو قیمت 210 روپے تک پہنچ گئی۔ ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے کے دوران پشاور میں چینی کی فی کلو قیمت میں 10روپے تک کا اضافہ ہوا، پشاور کے شہری ملک میں سب سے مہنگی 210 روپے تک فی کلوچینی خریدنے پر مجبور ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے میں چینی کی اوسط فی کلو قیمت میں 3روپے77 پیسےکا اضافہ ہوا، اسلام آباد، راولپنڈی، ملتان، بنوں میں چینی کی زیادہ سے زیادہ فی کلو قیمت 200 روپے تک اورکراچی میں چینی کی فی کلو قیمت 195 روپے تک ہے۔ادارہ شماریات نے بتایاکہ ملک میں چینی کی اوسط فی کلو قیمت بڑھ کر 188 روپے 81 پیسے ہوگئی ہے اورگزشتہ ہفتے تک ملک میں چینی کی اوسط فی کلو قیمت 185روپے 4پیسے تھی جبکہ ایک سال قبل ملک میں چینی کی اوسط فی کلوقیمت134روپے 8 پیسے تھی۔

  • ہنگو میں دو دھماکے: چیک پوسٹ تباہ، 2 پولیس اہلکار شہید

    ہنگو میں دو دھماکے: چیک پوسٹ تباہ، 2 پولیس اہلکار شہید

    ہنگو(کنزیومرواچ نیوز) پولیس کی گاڑی کے قریب دھماکے سے ایس پی آپریشنز سمیت 3 اہلکار شہید ہو گئے۔پولیس حکام کے مطابق دہشت گردوں نے پہلے ہنگو کے علاقے غلمینا میں پولیس چیک پوسٹ کو بارودی مواد سے اڑایا تاہم اس میں کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔پولیس کے مطابق دھماکے کے بعد جب ایس پی آپریشنز اسد زبیر دیگر اہلکاروں کے ہمراہ جائے وقوعہ پر جا رہے تھے تو درابن کے مقام پر پولیس کی گاڑی کو بارودی مواد سے نشانہ بنایا گیا۔ڈی ایس پی خانزیب مہمند کے مطابق دھماکے میں ایس پی اسد زبیر اور دو پولیس اہلکار شہید ہو گئے جبکہ دو اہلکار زخمی بھی ہوئے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے میں شہید اور زخمی ہونے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال ہنگو منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ علاقے میں پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہنگو میں پولیس گاڑی کے قریب دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والےایس پی آپریشن اسد زبیر سمیت 3پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔محسن نقوی نے شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہید ایس پی اسد زبیر اور دونوں پولیس اہلکاروں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔

  • علیمہ خان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ضبط کرنے کا حکم

    علیمہ خان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ضبط کرنے کا حکم

    راولپنڈی(کنزیومرواچ نیوز) انسداد دہشتگردی عدالت نے عمران خان کی بہن علیمہ خان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ضبط کرنے کا حکم دے دیا۔ راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے کی سماعت کی۔علیمہ خان ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے باوجود عدالت میں پیش نہ ہوئیں جس پر عدالت نے ان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ضبط کرنے کا حکم جاری کیا۔ جج امجد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ علیمہ خان ہر جگہ موجود ہوتی ہیں لیکن عدالت میں پیش نہیں ہوتیں۔ واضح رہے کہ انسداد دہشتگردی عدالت راولپنڈی اس سے قبل علیمہ خان کے پیش نا ہونے پر 4 مرتبہ ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرچکی ہے۔ اس کے علاوہ عدالت علیمہ خان کے ضمانتی مچلکے بھی ضبط کرنے کے احکامات جاری کرچکی ہے۔

  • فکری ملکیت کے حقوق کی آگاہی….چیئرمین آئی پی او  کا خطاب

    فکری ملکیت کے حقوق کی آگاہی….چیئرمین آئی پی او کا خطاب

    اسلام آباد(کنزیومرواچ نیوز)چیئرمین آئی پی او پاکستان، فرخ عامل نے برانڈز ایوارڈز کی تقریب میں “فکری ملکیت کے حقوق کے بارے میں آگاہی، ان پر عمل درآمد اور ان کے فروغ” کی ضرورت پر خطاب کیا۔ یہ تقریب شیخ رشید عالم،سی ای او برانڈز فاؤنڈیشن کی جانب سے منعقد کی گئی۔چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے تقریب میں کلیدی خطاب کیا۔دیگر نمایاں شخصیات میں صدرِ پاکستان کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی، ریکٹر نسٹ میجر جنرل زاہد محمود، قومی ٹی وی کی معروف شخصیت ڈاکٹر شائستہ لودھی اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کے صدر افضل بٹ شامل تھے۔

  • برانڈ پاور اکانومی قومی ترقی کا نیا انجن ہے،چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی

    برانڈ پاور اکانومی قومی ترقی کا نیا انجن ہے،چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی

    اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز) چیئرمین سینیٹ آف پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ برانڈز کسی ملک کی معیشت اور عالمی شناخت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں، جو نہ صرف معاشی ترقی کے محرک ہیں بلکہ اقتصادی سفارت کاری کے لیے بھی نہایت مؤثر ذریعہ ہیں۔ وہ اسلام آباد میں منعقدہ سولہویں سالانہ برانڈز آف دی ایئر ایوارڈز کی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔اپنے کلیدی خطاب میں چیئرمین سینیٹ نے برانڈ پاور اکانومی کوقومی ترقی کا نیا انجن قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی برانڈز عالمی سطح پر اپنی پہچان قائم کر رہے ہیں اور پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیل، آئی ٹی، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں کامیابیوں کے ذریعے پاکستانی برانڈز ملک کی عالمی ساکھ کو مستحکم بنا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کامیاب برانڈ مستقل تحقیق، جدت، ڈیزائن اور مؤثر مارکیٹنگ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی نئی نسل تخلیقی صلاحیت، ٹیکنالوجی کا علم اور عزم رکھتی ہے یہی وہ عناصر ہیں جو ملک کو “برانڈ پاور اکانومی” کی طرف لے جا سکتے ہیں۔چیئرمین گیلانی نے کہا کہ پاکستانی برانڈز اپنی دیانت داری، معیار اور تخلیقی صلاحیت کی بنیاد پر عالمی منڈیوں میں نمایاں ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل معیشت کے تیز رفتار دور میں اب چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں کے نوجوان بھی ای کامرس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے عالمی منڈیوں سے جڑ گئے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا کام کاروبار میں مداخلت نہیں بلکہ ایسا سازگار ماحول پیدا کرنا ہے جہاں تجارت، سرمایہ کاری اور صنعت فروغ پا سکیں۔ ان کے مطابق: “ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ایسا جسمانی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر فراہم کریں جو نوجوانوں کے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکے۔”چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آج کی دنیا میں ترقی یافتہ معیشتوں کی بنیاد صرف زراعت، صنعت یا خدمات پر نہیں بلکہ ان کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ برانڈز پر ہے۔ ان کا کہنا تھا: “پروڈکٹ وہ ہے جو آپ فروخت کرتے ہیں، مگر برانڈ وہ ہے جس کی بنیاد پر صارف خریدنے کا فیصلہ کرتا ہے۔”انہوں نے زور دیا کہ پاکستانی برانڈز کو پائیدار کامیابی کے لیے قیمت سے زیادہ معیار اور اعتماد کو ترجیح دینی چاہیے۔ ان کے مطابق جب بھی کوئی پاکستانی برانڈ کھیلوں کے سامان، آئی ٹی سروسز یا فیشن کے شعبے میں عالمی سطح پر کامیابی حاصل کرتا ہے تو وہ پاکستان کا چہرہ بن جاتا ہے، جو ملک کی ساکھ بہتر بناتا اور اقتصادی سفارت کاری کو مضبوط کرتا ہے۔چیئرمین گیلانی نے برانڈز فاؤنڈیشن کی کاروباری ثقافت اور معیارِ برتری کے فروغ میں خدمات کو سراہا اور ایوارڈ جیتنے والی کمپنیوں اور کاروباری شخصیات کو مبارکباد دیتے ہوئے انہیں “ایک پُراعتماد، متحرک اور معاشی طور پر مضبوط پاکستان کے معمار” قرار دیا۔تقریب کے اختتام پر مختلف صنعتی و تجارتی شعبوں کی نمایاں کمپنیوں اور برانڈز کو ایوارڈز سے نوازا گیا۔ تقریب میں صنعت، تجارت، آئی ٹی، میڈیا اور کاروباری حلقوں کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026، پاک بھارت ٹاکرے کی مبینہ تاریخ سامنے آگئی

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026، پاک بھارت ٹاکرے کی مبینہ تاریخ سامنے آگئی

    کراچی (کنزیومر واچ نیوز)ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں پاک بھارت ٹاکرے کی مبینہ تاریخ سامنے آگئی۔ذرائع کے مطابق آئندہ سال ہونے والے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ 8 فروری کو کولمبو میں متوقع ہے۔آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 7 فروری سے 8 مارچ تک جاری رہے گا جس کی میزبانی بھارت اور سری لنکا مشترکہ طور پر کریں گے۔ورلڈ کپ کے مقابلے بھارت کے کم از کم پانچ اور سری لنکا کے دو شہروں میں منعقد ہوں گے۔ذرائع کے مطابق کہ فائنل میچ احمد آباد میں کھیلے جانے کا امکان ہے تاہم پاکستان کے فائنل میں رسائی کی صورت میں فائنل میچ کولمبو میں کھیلا جائے گا۔واضح رہے کہ ورلڈ کپ 2026 میں مجموعی طور پر 20 ٹیمیں شرکت کریں گی جن کی لائن اپ رواں ماہ ہی مکمل ہوئی ہے۔دونوں میزبان ممالک کے علاوہ 2024 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی ٹاپ سات ٹیموں آسٹریلیا، بنگلادیش، انگلینڈ، جنوبی افریقا، امریکا، افغانستان اور ویسٹ انڈیزنے براہ راست کوالیفائی کیا ہے۔
    پاکستان، نیوزی لینڈ اور آئرلینڈ نے اپنی رینکنگ کی بنیاد پر رسائی حاصل کی ہے۔اس کے علاوہ ریجنل کوالیفائرز کے ذریعے کینیڈا، نیدرلینڈز، اٹلی، نمیبیا، زمبابوے، نیپال، عمان اور متحدہ عرب امارات کی ٹیموں نے رسائی حاصل کی۔

  • سونے کی قیمت میں مسلسل کمی، فی تولہ سونا کتنے کا ہوگیا؟

    سونے کی قیمت میں مسلسل کمی، فی تولہ سونا کتنے کا ہوگیا؟

    کراچی: (کنزیومرواچ نیوز)سونے کی فی تولہ قیمت میں آج بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت 3500 روپے کم ہو کر 4 لاکھ33 ہزار 826 روپے ہوگئی ہے۔ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت 3001 روپے کم ہو کر 3 لاکھ71 ہزار966روپے ہوگئی ہے۔ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 35 ڈالر کم ہو کر 4115 ڈالر فی اونس ہے۔