پیرس(کنزیومرواچ نیوز) یورپی یونین نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگرچہ غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہو چکا لیکن ان کے خلاف پابندیوں کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کایا کالس نے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کیا۔انھوں نے کہا کہ اسرائیل پر پابندیوں کا امکان اب بھی برقرار ہے اور اس وقت تک رہے گا جب تک غزہ کے زمینی حقائق میں قطعی اور مستقل بہتری ثابت نہ ہو جائے۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ نے کہا کہ جنگ بندی نے صورتحال ضرور بدلی ہے تاہم اگر غزہ میں امداد کی فراہمی اور سنگین صورت حال میں بہتری نہ آئی تو اسرائیل پابندیاں لگ سکتی ہیں۔یورپی یونین نے اسرائیل پر واضح کیا کہ جنگ بندی کے حقیقی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے غزہ میں انسانی امداد میں اضافہ، فلسطینی ریونیو کی واپسی، صحافیوں کو رپورٹنگ کی اجازت، این جی اوز کی رجسٹریشن اور کام کی آزادی جیسے اقدامات کو یقینی بنانا ضروری ہے۔یاد رہے کہ جنگ بندی سے پہلے یورپی یونین نے اسرائیل کے چند وزراء کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے، تجارتی تعلقات میں کٹوتی اور مالی پابندیوں کی تجاویز پیش کی تھیں تاہم امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے باعث ان پر عمل فی الحال روک دیا۔
Blog
-

مالی دباؤ کے شکار سفاک باپ نے اپنی 2 بیٹیوں کے گلے کاٹ دیے
کراچی:(کنزیومرواچ نیوز)قرض اور مالی دباؤ کے شکار سفاک باپ نے اپنی 2 کمسن بیٹیوں کے گلے کاٹ دیے۔پولیس کے مطابق شہر قائد میں کوثر نیازی کالونی نارتھ ناظم آباد کے علاقے میں سفاک باپ نے اپنی 2 کمسن بیٹیوں کو گلے کاٹ کر قتل کردیا۔ جاں بحق بچیوں کی شناخت 10 سالہ زینب اور 11 سالہ عالیہ کے ناموں سے ہوئی۔پولیس نے ملزم اکبر ولد عبدالستار کو گرفتار کرلیا۔ ابتدائی تفتیش میں پتا چلا ہے کہ ملزم قرض دار اور مالی دباؤ کا شکار تھا۔ ملزم کے 6 بچے ہیں، جن میں ایک بیٹا اور 5 بیٹیاں شامل ہیں۔گرفتاری سے قبل واقعے کی اطلاع ملنے پر پڑوسیوں نے بھی ملزم پر بدترین تشدد کیا، تاہم پولیس نے پہنچ کر ملزم کو عوام کے چنگل سے چھڑایا۔ شہری واقعے کے بعد بری طرح طیش میں آکر ملزم اکبر کو مارتے رہے۔ اس موقع پر لوگوں کی بڑی تعداد جمع تھی جو ملزم کو تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔
-

آئندہ ہفتے ٹماٹر کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے؛محکمہ پرائس کنٹرول
اسلام آباد(کنزیومرواچ نیوز) محکمہ پرائس کنٹرول کا کہنا ہے کہ ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافہ سپلائی میں تعطل کے باعث ہوا۔ ترجمان محکمہ پرائس کنٹرول کا کہنا ہےکہ خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کے باعث ٹماٹر کی فصل متاثر ہوئی جس کے باعث عارضی قلت پیدا ہوئی۔ترجمان کے مطابق افغانستان اور ایران سے بھی ٹماٹر کی درآمد میں عارضی تعطل نے سپلائی پر وقتی دباؤ ڈالا اور ٹماٹرکی قیمتوں میں اضافہ موسمی تبدیلی، بارشوں، ٹرانسپورٹ مسائل کا نتیجہ ہے۔ترجمان محکمہ پرائس کنٹرول کا کہنا ہے کہ ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافہ وقتی ہے، آئندہ ہفتے سپلائی معمول پر آتے ہی قیمتوں میں کمی متوقع ہے جب کہ سندھ کی فصل نومبر اور پنجاب کی فصل اپریل ، مئی میں آنے سے ٹماٹر وافر دستیاب ہوگا۔
-

سابق کپتان مصباح الحق کو کرکٹ بورڈ میں اہم ذمہ داری ملنے کا امکان
اسلام آباد(کنزیومرواچ نیوز) پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے سابق کپتان مصباح الحق کو اہم ذمہ داری دیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق پی سی بی نےچند دن قبل ڈائریکٹرکرکٹ آپریشنز انٹرنیشنل کے لیے اشتہار دیا تھا اور اب بورڈ کی جانب سے مصباح الحق کی اس عہدے پر تقرری کا امکان ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ اشتہار میں اہلیت کیلئے پہلی مرتبہ سابق ٹیسٹ کرکٹر یا ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹرکی شرط رکھی گئی ہے۔ واضح رہے کہ پی سی بی نے ایشیا کپ میں پاک بھارت تنازع میں صورتحال سے صحیح طریقے سے نہ نمٹنے پر ڈائریکٹرکرکٹ آپریشنز انٹرنیشنل عثمان واہلہ کو معطل کیا تھا تاہم بعد میں انہیں بحال کردیا گیا تھا۔
-

ہتھیار ڈالنے والوں کو روزگار دیا جائیگا، کچے کے ڈاکوؤں کیلئے سرینڈر پالیسی جاری
حیدرآباد (کنزیومرواچ نیوز)حکومت سندھ نے کچے کے علاقوں کے ڈاکوؤں کیلئے سرینڈر پالیسی جاری کر دی۔محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پالیسی کا اطلاق سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن کے کچے کے علاقوں میں ہو گا، سرینڈر کرنے والوں کو قانون کے تحت کارروائی کا سامنا کرنا ہو گا۔محکمہ داخلہ سندھ کا کہنا ہے کہ سرینڈر پالیسی عام معافی کا اعلان نہیں، ہتھیار ڈالنے اور گرفتاری دینے والے ڈاکوؤں کو مقدمات کا سامنا کرنا ہو گا، بذریعہ میڈیا واضح کیا جائے گا کہ یہ پالیسی امن کے لیے ہے، معافی کے لیے نہیں۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہتھیار ڈالنے والے ڈاکوؤں سے اسلحہ اور بارود برآمد کیا جائے گا، سرینڈر کرنے والوں کے اہلخانہ کو قطعی طور پر ہراساں نہیں کیا جائے گا۔کچے میں بچوں اور خواتین کیلئے تعلیمی، صحت اور فلاحی سہولیات فراہم کی جائیں گی، بند اسکول اور ڈسپنسریاں مرحلہ وار بحال کی جائیں گی، اسلحہ ڈالنے والے ڈاکوؤں کو فنی تربیت اور روزگار فراہم کیے جائیں گے۔محکمہ داخلہ سندھ نے سرینڈر پالیسی پر عملدرآمد کیلئے مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم کر دیں، محکمہ داخلہ سندھ میں ریڈریسل سیل بھی قائم کر دیا گیا ہے۔صوبائی محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ سوشل اور اکنامک ڈیولپمنٹ کے منصوبے کچے کے علاقوں میں شروع کیے جائیں گے، ہر ماہ پالیسی کا جائزہ لے کر زمینی حقائق کے مطابق ترامیم ہوں گی، پولیس کے ساتھ ساتھ ضلعی اور ڈویژنل کمیٹیاں بھی نگرانی کریں گی۔
-

حکومت نے سونے کی درآمد و برآمد پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا
اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز)حکومت نے سونے کی درآمد و برآمد پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیامیڈیا رپورٹس کے مطابق سونے کی تجارت پر سے پابندی ہٹانے کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو سمری ارسال کی جائے گی۔ واضح رہے کہ رواں سال مئی میں سونے کی ایکسپورٹ اور امپورٹ پر پابندی عائد کی گئی تھی۔یہ پابندی سونے کی اسمگلنگ سے متعلق شکایات کے پیش نظر لگائی گئی تھی تاہم حالیہ مہینوں میں ایسی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی۔
-

اسپرل کے زیر اہتمام ایک روزہ سیمینار
سوسائٹی فار دی پروموشن آف ریڈنگ اینڈ امپروومنٹ آف لائبریریز (اسپرل)کے زیر اہتمام اور انجمن ترقی ِاردو پاکستان کے اشتراک سے ایک روزہ سیمینار وشہر قائد کراچی میں منعقد ہوا،جس کا موضوع، ”اردو ادبیات ولسانیات کے مطالعہ اور فروغ میں کتب خانوں کا کردار“ تھا۔
سیمینار کے مہمان خصوصی جناب ریٹائرڈ بریگیڈیئر کرار حسین عابدی تھے،جبکہ صدرات کے فرائض جناب واجد جواد (صدر، انجمن ترقی اردو)نے انجام دیے۔
شرکاء گفتگو میں علم و ادب کی نامور شخصیات شامل تھیں،جنہوں نے اپنی فکر انگیز اور بصیرت افروز گفتگو سے سامعین کو محظوظ کیا۔ مقررین میں جاوید صباء،سید عابد رضوی، ڈاکٹر یاسمین فاروقی، ڈاکٹر رفعت پروین صدیقی، محمود خان، پروفیسر شاداب احسانی اور بریگیڈیئر(ر) کرار حسین عابدی شامل تھے۔
سیمینار میں شہر قائد کے معروف اداروں کے لائبریرینز، اساتذہ، محققین اور علمی و ادبی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اسپرل کے صدر اکرام الحق نے ریاض (سعودی عرب) سے اپنا ویڈیو پیغام ارسال کیا،جس میں انہوں نے تمام مہمانوں اور شرکا ء کا شکریہ ادا کیا۔
پروگرام کے کا میاب انعقاد میں ندیم ظفر،صمیم کاردار، جواہر علیم، اکرام الحق اور ربیعہ علی فریدی نے کلیدی کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر آمنہ خاتون (لائبریری پروموشن بیورو) نے شرکاء کو بیورو کی مطبوعات بطورتحفہ پیش کیں۔
استقبالیہ کلمات صمیم کاردار نے پیش کیے، اختتامی کلمات جواہر علیم نے ادا کیے، جبکہ نظامت کے فرائض ربیعہ علی فریدی نے بخوبی انجام دے۔
پروگرام کا بنیادی مقصد موجود ہ دور میں اردو زبان کی اہمیت اور ادب کی بقاء میں کتب خانوں کے کردار کو اُجاگر کرنا تھا۔
شرکاء نے اسپرل کی اس کاوش کو سراہا اور آئندہ بھی ایسے علمی و ادبی پروگرام منعقد کرنے کی تجویز دی۔
ڈاکٹر یاسمین فاروقی نے کتاب کی اہمیت، کتب خانوں کی افادیت اور علم کے اس تحفے پر روشنی ڈالی جو بحیثیت مسلمان ہمیں عطا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتب خانے آج بھی فعال کردار ادا کررہے ہیں، جبکہ ترقی یافتہ ممالک اپنی قومی زبان پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ہمیں افسوس ہے کہ ہم اردو بولنے میں جھجک محسوس کرتے ہیں۔انہوں نے اردو کے زوال کے اسباب پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے علمی کتب خانے تباہ کئے گئے تاکہ انہیں علمی و ادبی لحاظ سے محروم کیا جا سکے۔کتب خانے صدیوں کے علمی ورثے کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہیں۔انہوں نے اسپر ل کے منتظمین کی کاوشوں کو سراہا اوران کی حوصلہ افزائی کی۔
محمود خان،جو شہر قائد کے ایک سرگرم سماجی کارکن، منتظم ساکنا ن شہر قائداور علم و ادب کے شیدائی ہیں، نے اسپرل کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے نوجوانوں میں تعلیم اور مطالعے کے فروغ پر زوردیا، اور اسپرل کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کی ترغیب دی۔
پروفیسر شاداب احسانی (سابق صدر، شعبہ اردو جامعہ کراچی) نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ اردو زبان کا وجود کس طرح عمل میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ جب اردو تعلیمی نصاب کی زبان تھی تو انگریزوں نے سیاسی مقاصد کے تحت اسے نصاب سے نکال دیااور ذہنی غلامی کو فروغ دیا۔ان کے مطابق جب تک ہم اپنا تعلیمی نظام قومی زبان میں نہیں لائیں گے، ترقی ممکن نہیں۔انہوں نے اردو سے دوری کوزوال کی بڑی وجہ قرار دیا۔
مشہور شاعر و صداکار جاوید صبا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کتب خانوں کو جدیدیت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ انہوں نے مطالعے کے ماحول کی اہمیت پر خوبصورت انداز میں روشنی ڈالی اورکہا کہ ٹیکنالوجی سہولت کے ساتھ ساتھ ذہنی صلاحیتوں کو بھی محدود کررہی ہے، مگر سیکھنے کا عمل کبھی رُکنا نہیں چاہے۔
ڈاکٹر رفعت پروین صدیقی(صدر، شعبہ لائبریری و انفارمیشن سائنس، جامعہ کراچی) نے اپنی گفتگو میں زبانوں کی ارتقاء، قومی زبان کی اہمیت، اور دیگر زبانوں کے باہمی تعلق پر سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ آج انسان سوچتا ایک زبان میں ہے، لکھتا دوسری زبان میں اور چھپتاکسی تیسری زبان میں ہے، جس سے مفہوم بگڑ جاتا ہے۔انہوں نے اسپرل کی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ اتنے اہم موضوع پر اتنے اعلی مقررین کو مدعو کرنا قابل تحسین عمل ہے۔
سید عابدرضوی(مشیر مالیات، انجمن ترقی اردو) نے کتب خانوں کی اہمیت اور زبان کے زوال پرمفصل گفتگو کی۔انہوں نے انجمن کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اگر کوئی نیا کتب خانہ قائم کرنا چاہے توانجمن ترقی اردو پاکستان بلامعاوضہ کتابوں کی فراہمی میں تعاون کرے گا۔
آخر میں مہمان خصوصی، کالم نگار،مصنف اور دفاعی تجزیہ نگار، بریگیڈیئر (ر) کرارحسین عابدی نے کہا کہ اردو کی افادیت کو دانستہ کم کیا جا رہا ہے تاکہ قوم علمی زوال کا شکار ہو، انہوں نے کہا، ”کتاب اور اردو زبان زندہ ہے، زندہ تھی اور زندہ رہے گی۔“انہوں نے اسپرل کی علمی وادبی کاوشوں کو سراہا اوراتنے خوبصورت پروگرام میں مدعو کیے جانے پر شکریہ ادا کیا۔
اس سیمینار کانتیجہ یہ نکلا کہ شرکائے محفل نے اردو زبان و ادب کے فروغ میں کتب خانوں کے کردار کو نہایت اہم قراردیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ دور میں لائبریریزصرف علم کے ذخیرے نہیں بلکہ فکری وثقافتی تربیت کے مراکز ہیں۔مقررین کی گفتگو سے یہ پیغام ابھراکہ اگر قوم کو علمی زوال سے بچانا ہے تو قومی زبان اورکتب بینی کی عادت کو فروغ دینا ضروری ہے۔ سیمینار نے اس امر کو اجاگر کیاکہ کتب خانے نہ صرف ماضی کے علمی ورثے کو محفوظ رکھتے ہیں بلکہ نئی نسل کو مطالعے، تحقیق اور زبان کی خدمت کے لیے بھی تیار کرتے ہیں۔ شرکاء نے اسپر ل کی اس علمی کاوش کو سراہتے ہوئے اس نوع کے پروگراموں کے تسلسل کی خواہش ظاہر کی۔
سیمینار کے اختتام پر مہمان خصوصی، صدر اورتمام مقررین کو ٹیم اسپرل کی جانب سے سند سپاس اور پھولو ں کے گلدستے پیش کئے گئے۔ پروگرام کا اختتام ایک پر تکلف چائے کے ساتھ ہوا۔ -

سوشل میڈیا پر شاہانہ زندگی کی نمائش، 20 سے زائد ٹیکس چوروں کی نشاندہی ہوگئی
اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لائف اسٹائل مانیٹرنگ سیل نے 20 سے زیادہ ایسے کیسز کا پتا لگایا ہے جو کروڑوں روپے کے اثاثوں، گاڑیوں اور کثرت سے بیرون ملک سفر کرنے اور سوشل میڈیا پر پرتعیش طرز زندگی کی نمائش کررہے ہیں لیکن اپنے جمع کرائے گئے انکم ٹیکس گوشواروں میں نہ ہونے کے برابر آمدنی یا اثاثے ظاہر کرتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، (ان کیسز میں) ایک ڈیجیٹل مواد بنانے والا اور ٹریول وِلاگر شامل ہے، اور ایف بی آر کو عوامی سطح پر دستیاب انسٹاگرام مواد کے ذریعے پتا چلا کہ یہ وِلاگر 2020 سے 2025 کے مالی سالوں کے دوران کثرت سے پرتعیش بین الاقوامی سفر میں مصروف رہا۔2020 میں، اس نے سیشلز (ایک استوائی جزیرے کی چھٹیوں کے لیے مشہور مقام) کا سفر کیا، لیکن 2021 میں کوئی بین الاقوامی سفر ریکارڈ نہیں کیا گیا (جس کی وجہ غالباً کووڈ19 کی پابندیاں تھیں۔)۔ 2022 میں، اس شخص نے متعدد سفر کیے تھے، جن میں متحدہ عرب امارات (دبئی)، فلپائن، اسپین، اور نیدرلینڈز شامل ہیں۔
مالی سال 2023 میں، اس شخص نے ترکیہ، برطانیہ، مالدیپ اور جارجیا کا سفر کیا۔ 2024 میں، اس شخص نے یورپ اور مشرق وسطیٰ کے وسیع دورے کیے، جن میں سعودی عرب (متعدد دورے، جو غالباً حج/عمرہ یا کسی تقریب کے لیے تھے)، کروشیا، اٹلی، پرتگال، ہنگری، فرانس، بیلجیئم (جہاں ٹومارو لینڈ میوزک فیسٹیول میں شرکت کی) اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں۔ 2025 کے اس حصے میں، اس شخص نے اپنے کثرت سے سفر کو جاری رکھا اور سویڈن، ڈنمارک، یونان، سعودی عرب، فرانس، آسٹریا، اور چیک ریپبلک کے دورے کیے۔
جب ایف بی آر نے اس کے جمع کرائے گئے گوشواروں کی جانچ پڑتال کی تو پایا کہ اس نے سیشلز کے پرتعیش تعطیلات پر خرچ کرنے کے ثبوت کے باوجود صرف 4 لاکھ 90 ہزار 800 روپے کی آمدنی، 3 لاکھ 90 ہزار روپے کے اخراجات، اور 10 لاکھ 90 ہزار 800 روپے کے خالص اثاثے ظاہر کیے تھے۔
مالی سال 2021 میں، 5 لاکھ 41 ہزار 880 روپے کی ظاہر کردہ آمدنی، 3 لاکھ 85 ہزار روپے کے ظاہر کردہ اخراجات اور سال کے اختتام پر 12 لاکھ 32 ہزار 680 روپے کے خالص اثاثے ظاہر کئے گئے تھے تاہم کووڈ کی پابندیوں کی وجہ سے سفر کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
2022 میں، ظاہر کردہ آمدنی 5 لاکھ 64 ہزار 40 روپے تھی اور ظاہر کردہ اخراجات 3 لاکھ 96 ہزار روپے تھے، جبکہ خالص اثاثے تقریباً 13 لاکھ 87 ہزار 720 روپے کے لگ بھگ تھے۔ 2023 میں، ظاہر کردہ آمدنی 7 لاکھ 84 ہزار 600 روپے تھی، لیکن اخراجات 4 لاکھ 80 ہزار روپے دکھائے گئے، اور سال کے اختتام تک خالص اثاثے 16 لاکھ 72 ہزار 320 روپے ظاہر کیے گئے۔
مالی سال 2024 کے جمع کرائے گئے گوشوارے میں ظاہر کردہ آمدنی 8 لاکھ 16 ہزار 800 روپے دکھائی گئی ہے، جبکہ اخراجات 5 لاکھ 4 ہزار روپے تک ہوئے، اور سال کے اختتام پر خالص اثاثے 19 لاکھ 29 ہزار 120 روپے رہے۔ یہ سب متعدد غیر ملکی دوروں کے ثبوت کے باوجود ہے۔ یہ صورتحال آمدنی کو بڑی حد تک چھپانے کی نشاندہی کرتی ہے۔
دوسری نمایاں مثال میں، ایف بی آر کے لائف اسٹائل مانیٹرنگ سیل نے 180.5 ملین روپے کے چھپائے گئے اثاثوں کا پتا لگایا ہے۔ یہ شخص جنوبی پنجاب کے ایک سیاسی خاندان سے تعلق رکھتا ہے، اور عوامی سطح پر دستیاب شواہد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی ملکیت اور استعمال میں چار قیمتی گاڑیاں پائی گئیں، لیکن انہیں نہ تو اس کے اپنے ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کیا گیا اور نہ ہی اس کے والد کے گوشواروں میں ان کا اعلان کیا گیا۔
ان اثاثوں میں لیکسس ایل ایکس 570 فلیگ شپ لگژری ایس یو وی ماڈل 2019 شامل ہے، جس کی تخمینہ شدہ مارکیٹ ویلیو 8 کروڑ روپے ہے۔ اس کے علاوہ ٹویوٹا فارچیونر لیجنڈر ایس یو وی جس کی قیمت 1کروڑ 50لاکھ روپے ہے، سوزوکی ہایابوسا (2021) اعلیٰ کارکردگی والی سُپر بائیک ہے جس کی قیمت 55 لاکھ روپے ہے، اور بی ایم ڈبلیو آئی 7 الیکٹرک لگژری سیڈان شامل ہے جس کی مارکیٹ قیمت 8 کروڑ روپے ہے۔
جب ایف بی آر نے جمع کرائے گئے ٹیکس گوشواروں کی جانچ پڑتال کی تو پتا چلا کہ ٹیکس دہندہ 12-01-23 کو رجسٹرڈ ہوا تھا۔ مالی سال 2023 کے گوشواروں میں، صرف دو موٹر سائیکلیں ظاہر کی گئیں، جن میں بی ایم ڈبلیو ایم 1000 آر آر جس کی قیمت 14.2 ملین روپے تھی، اور ایک بی ایم ڈبلیو آر 1250 جی ایس شامل تھی جس کی قیمت 9.8 ملین روپے تھی۔
کل ظاہر کردہ مالیت 31.28 ملین روپے بنتی ہے۔ مالی سال 2024 کے گوشواروں میں، صرف ایک ہی موٹر سائیکل یعنی وہی بی ایم ڈبلیو ایم 1000 آر آر ظاہر کی گئی تھی۔ جبکہ بی ایم ڈبلیو 1250 جی ایس اب فہرست میں شامل نہیں تھی۔ ایف بی آر کی تحقیقات نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ٹیکس دہندہ نے اپنی دولت صرف اس کے اصل نظر آنے والے اثاثوں کے ایک معمولی حصے کے برابر ہی ظاہر کی ہے۔
اس شخص نے چھپائی گئی گاڑیوں کی خریداری میں استعمال ہونے والے فنڈز کے ذرائع کو ظاہر نہیں کیا۔ یہ طرزعمل واضح طور پر ٹیکس چوری کی نشاندہی کرتا ہے۔ تیسری مثال میں، چھپائے گئے اثاثوں کی مالیت کا اندازہ 624 ملین روپے لگایا گیا ہے۔ ایف بی آر کو ایسے شواہد ملے ہیں کہ اس ٹیکس دہندہ کی ملکیت اور استعمال میں 19 گاڑیاں تھیں، جن میں اسپورٹس کاریں، پرتعیش ایس یو ویز ، آف روڈ ٹرکس، موٹر سائیکلیں، اور ایک اے ٹی وی شامل ہیں۔
ایف بی آر کے لائف اسٹائل مانیٹرنگ سیل نے پایا ہے کہ ٹیکس دہندہ کی ملکیت اور استعمال میں شیورلیٹ کورویٹ سی 8 (سٹرنگرے) ماڈل 2020 گاڑی تھی، جس کی مارکیٹ قیمت 80 ملین روپے بنتی ہے، یاماہا ریپٹر 700 آر اے ٹی وی، جو کہ اعلیٰ کارکردگی کی حامل، تمام زمینوں پر چلنے والی کواڈ بائیک(700 سی سی)ہے اور مارکیٹ قیمت 6.5 ملین روپے بنتی ہے، ہارلے ڈیوڈسن پین امریکہ پرتعیش ایڈونچر ٹورنگ موٹر سائیکل (1250 سی سی) جس کی قیمت 15 ملین روپے بنتی ہے۔
ہونڈا سی ڈی 200 روڈ ماسٹر موٹر سائیکل جس کی قیمت 5 لاکھ روپے بنتی ہے، شیورلیٹ سِلوراڈوجس کی قیمت 4 کروڑ روپے بنتی ہے، ٹویوٹا ہائی لکس ریوو کی دو یونٹس(2.4 لیٹر ڈیزل) ڈبل کیبن والی، جن کی مجموعی قیمت 40 ملین روپے بنتی ہے، ٹویوٹا ایف جے کروزر جس کی قیمت 15 ملین روپے بنتی ہے، فورڈ ایف-150 ریپٹر جس کی قیمت 70 ملین روپے بنتی ہے، ٹویوٹا لینڈ کروزر 70 سیریز جس کی قیمت 5 ملین روپے بنتی ہے، ٹویوٹا لینڈ کروزر 70 سیریز پک اپ جس کی قیمت 40 لاکھ روپے بنتی ہے۔ٹویوٹا 4 رنر (4X4 ایس یو وی) جس کی قیمت 60 ملین روپے بنتی ہے، ٹویوٹا لینڈ کروزر 300 سیریز جس کی قیمت 90 ملین روپے بنتی ہے، رینج روور جس کی قیمت 80 ملین روپے بنتی ہے، آڈی کیو 7 جس کی قیمت 30 ملین روپے بنتی ہے، ٹویوٹا ٹنڈرا جس کی قیمت 25ملین روپے بنتی ہے، ٹویوٹا ٹاکوما جس کی قیمت 15ملین روپے بنتی ہے، ٹویوٹا لینڈ کروزر 200 سیریز جس کی قیمت 40 ملین روپے بنتی ہے، ٹویوٹا لینڈ کروزر 100سیریز جس کی قیمت 25 ملین روپے بنتی ہے، اور مرسڈیز بینز (سیڈان) جس کی قیمت 9 ملین روپے ہے۔ایف بی آر نے پایا ہے کہ ان پرتعیش گاڑیوں میں سے کوئی بھی ٹیکس دہندہ کے اثاثوں کے گوشوارے میں ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ رابطہ کرنے پر ایف بی آر کے لائف اسٹائل مانیٹرنگ سیل کے انچارج نے بتایا کہ ٹیکس چوری کے ممکنہ مرتکب افراد کے خلاف تحقیقات جاری ہیں، لیکن انکم ٹیکس کے قوانین کے تحت وہ ان کی شناخت ظاہر نہیں کر سکتے۔


