Blog

  • بلوچستان: بارکھان میں مسلح افراد کی پولیس گاڑی پر فائرنگ، ڈی ایس پی شہید

    بلوچستان: بارکھان میں مسلح افراد کی پولیس گاڑی پر فائرنگ، ڈی ایس پی شہید

    کوئٹہ(ویب ڈیسک ) بلوچستان کے ضلع بارکھان میں مسلح افراد کی پولیس گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں ڈی ایس پی رکھنی مرید بگٹی شہید ہوگئے۔ایس پی بارکھان عبدالحق نے بتایا کہ ڈی ایس رکھنی مرید بگٹی علاقے میں گشت کر رہے تھےکہ بارکھان کے علاقے کھٹہ چوکی کے مقام پر مسلح افراد نے پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ایس پی بارکھان کے مطابق مسلح افراد کی فائرنگ سے ڈی ایس بارکھان مرید بگٹی شہید ہوگئے، اطلاع ملنے پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری ملزمان کی گرفتاری کیلئے موقع پر پہنچ گئی ہے اور سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • ٹرمپ کے پاکستانی قیادت کیساتھ بہترین تعلقات کے مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں، امریکی وفد

    ٹرمپ کے پاکستانی قیادت کیساتھ بہترین تعلقات کے مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں، امریکی وفد

    اسلام آباد(ویب ڈیسک )امریکی کانگریس کے وفد نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات میں علاقائی امن کی کوششوں میں پاکستان کے کلیدی کردار پر وزیراعظم کو سراہا۔وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی کانگریس کے وفد نے ملاقات کی، وفد میں میں ریان زنکے اور نمائندہ مائیکل بومگارٹنر شامل تھے۔ ملاقات میں امریکی وفد نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستانی قیادت کے ساتھ بہترین تعلقات کے مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔اس کے علاوہ امریکی وفد نے علاقائی امن کی کوششوں میں پاکستان کے کلیدی کردار پر وزیراعظم شہباز شریف کو سراہا۔ وزیراعظم نے امریکی وفد کے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ کی تقریب کے دوران کہا کہ امریکی کانگریس ارکان کا دورہ پاک امریکا مضبوط تعلقات کی جانب خوش آئند قدم ہے۔شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ڈونلڈ ٹرمپ کی پاک بھارت جنگ بندی کے لیے جرات مندانہ اور فیصلہ کن مداخلت کا ذکر بھی کیا۔ان کا مزید کہنا تھاکہ امریکا سے تعاون مزید مستحکم کرنے کے خواہاں ہیں، تجارت، زراعت، آئی ٹی اور توانائی میں تعاون بڑھائیں گے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • مسلح حملہ آور راولا کوٹ کی عمارتوں پر مورچہ بند ہیں: ترجمان آزاد کشمیر پولیس

    مسلح حملہ آور راولا کوٹ کی عمارتوں پر مورچہ بند ہیں: ترجمان آزاد کشمیر پولیس

    راولاکوٹ(ویب ڈیسک ) آزاد جموں و کشمیر پولیس کے ترجمان ایس ایس پی خاور علی شوکت کا کہنا ہے مسلح حملہ آور شہر کی مختلف کی عمارتوں پر مورچہ بند ہیں اور ان کے تانے بانے کہیں اور سے ملتے ہیں۔ترجمان آزاد کشمیر پولیس ایس ایس پی خاور علی شوکت کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا مسلح حملہ آور راولا کوٹ کی مختلف عمارتوں پر مورچہ بند ہو کر فورسز پر حملہ آور ہو رہے ہیں، شرپسند عناصر کو کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔خاور علی شوکت کا کہنا تھا شرپسندوں کے حملوں میں ایک رینجرز اہلکار شہید ہوا ہے، پولیس نے متعدد شرپسند عناصر کو گرفتار کیا ہے، گرفتار شرپسندوں سے جدید اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔آزادکشمیر میں احتجاج کرنیوالے ان مجاہدین کی طرح ہیں ایس ایس پی خاور علی شوکت کے مطابق شرپسندوں کے تانے بانے کسی اور جگہ سے ملتے ہیں، ملک دشمن عناصر سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں، سکیورٹی فورسز اور اداروں پر حملہ کسی صورت قبول نہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلح جتھوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں نے ہمیشہ تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، ریاستی اداروں کیخلاف حملہ کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، شرپسند عناصر آزادکشمیر کے امن کو متاثر کرنا چاہتے ہیں، آزادکشمیر کے امن کو کسی صورت تباہ نہیں ہونے دیں گے

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • سندھ کی تقسیم پیپلزپارٹی کو قبول نہیں: ترجمان سندھ حکومت

    سندھ کی تقسیم پیپلزپارٹی کو قبول نہیں: ترجمان سندھ حکومت

    کراچی (ویب ڈیسک )سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے کہا ہے کہ سندھ ہمارے لیے ریڈ لائن ہے، پیپلزپارٹی نےکبھی سندھ کو انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنےکی حمایت نہیں کی، نہ کبھی کرےگی۔سعدیہ جاوید نے کہا کہ ملک میں مہنگائی ہے، معاشی بحران ہے، انتظامی یونٹس کو چلانے کے لیے پیسے کہاں سے لائیں گے؟ ملک کے معاشی حالات اجازت نہیں دیتے کہ مزید انتظامی یونٹس بنیں۔
    سعدیہ جاوید نے کہا کہ انتظامی یونٹس کا معاملہ ایم کیوایم کا سیاسی اسٹنٹ ہے، مصطفیٰ کمال ڈھائی سال سے وزیر صحت ہیں، انہوں نے اپنے ووٹرز کے لیے کبھی آواز اٹھائی؟ خالد مقبول صدیقی نے کوئی یونیورسٹی بنائی؟ کوئی تعلیم کا منصوبہ دیا؟
    ترجمان سندھ حکومت کا کہنا تھا کہ کراچی سندھ کا دارالحکومت ہے، سندھ کی تقسیم پیپلزپارٹی کو قابل قبول نہیں۔
    ان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب کے لوگ پنجاب میں انتظامی یونٹس کی تقسیم چاہتے ہیں، سندھ کےلوگ نہیں چاہتے۔
    سعدیہ جاوید کا کہنا تھا کہ کراچی میں انفرا اسٹرکچر پر کام ہو رہا ہے، جتنا ہونا چاہیے اتنا نہیں ہورہا، یونیورسٹی روڈ پر شہریوں کو تکلیف اٹھانی پڑ رہی ہے، میں 40 سال سے ڈیفنس میں رہتی ہوں، میرےگھر پانی نہیں آتا۔
    ترجمان نے سندھ حکومت نے کہا کہ کراچی میں بہت سارے مسائل ہیں، ہم چیزیں ٹھیک کررہے ہیں، سارا ملبہ ہم پر نہیں ڈالا جاسکتا، آپ اس سال کے آخر میں دیکھیں گےکہ کراچی کے حالات میں بہتری آئی گی۔
    ریڈ لائن منصوبے کے حوالے سے سعدیہ جاوید نے کہا کہ ریڈ لائن منصوبے پر کام تیزی سے ہورہاہے، ریڈ لائن کے مکسڈ لین ٹریک کی ڈیڈلائن 31 جولائی ہے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • پاکستان میں رواں مون سون سیزن کے دوران غیر معمولی بارشوں کی پیشگوئی

    پاکستان میں رواں مون سون سیزن کے دوران غیر معمولی بارشوں کی پیشگوئی

    اسلام آباد (ویب ڈیسک )پاکستان میں رواں برس کے مون سون سیزن میں غیر معمولی بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) ہیڈکوارٹرز میں وفاقی وزرا کو دی گئی بریفنگ کے دوران بتایا گیا ہےکہ رواں برس مون سون سیزن کے دوران غیر معمولی بارشوں کا امکان ہے۔اس دوران وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہاکہ موسمیاتی تبدیلی سے فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ اور اربن فلڈنگ کے خطرات بڑھ رہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پرایمرجنسی رسپانس کمیٹی روز کی بنیاد پر میٹنگ کررہی ہے۔دوسری جانب وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے بتایا کہ بالائی خیبرپختونخوا اور شمالی علاقوں میں بارشیں زیادہ جب کہ میدانی علاقوں میں کم ہوں گی،دونوں کے لیے حکمت عملی بنائی جارہی ہے۔وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے ارلی وارننگ سسٹم کیلئے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کیا، ارلی وارننگ اور مؤثر آگاہی کی بدولت نقصانات میں کمی ممکن ہوئی۔اس کے علاوہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ تباہ کن سیلابوں کے معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہورہے ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آبادی کیلئے چیلنجز سے نمٹنےکیلئے مؤثر آگاہی ضروری ہے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • آزاد کشمیر انتخابات :ن لیگ 9 نشستوں کیساتھ بازی لے گئی، پیپلزپارٹی کا دوسرا نمبر

    آزاد کشمیر انتخابات :ن لیگ 9 نشستوں کیساتھ بازی لے گئی، پیپلزپارٹی کا دوسرا نمبر

    مظفرآباد(ویب ڈیسک )آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں مسلم لیگ (ن) نے اب تک کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج میں برتری حاصل کرلی ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کا دوسرا نمبر ہے۔آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے میر پور، کوٹلی اور بھمبر میں قائم 13 حلقوں پر پیر کو ووٹنگ ہوئی، 5 بجے ووٹنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹنگ کے لیے ایک گھنٹہ اضافی دیا گیا جس کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل ہوا۔ میرپورڈویژن کے 13 حلقوں کے مکمل غیرحتمی اور غیرسرکاری نتائج آگئے ہیں جس کے مطابق 9 حلقوں پر مسلم لیگ (ن) اور 4 حلقوں پر پیپلزپارٹی کامیاب ہوئی۔غیرحتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق حلقہ ایل اے 1 میرپور 1، حلقہ ایل اے 4 میرپور 4، حلقہ ایل اے 5 بھمبر 1، حلقہ ایل اے 6 بھمبر 2، حلقہ ایل اے 7 بھمبر 3، حلقہ ایل اے 9 کوٹلی 2، حلقہ ایل اے 11 کوٹلی 4، ،حلقہ ایل اے 12 کوٹلی 5، حلقہ ایل اے 13 کوٹلی 6 سے ن لیگ کامیاب ہوئی ہے۔حلقہ ایل اے 2 میرپور 2، ایل اے 3 میرپور 3، حلقہ ایل اے 8 کوٹلی 1 اور حلقہ ایل اے 10 کوٹلی 3 سے پیپلزپارٹی کامیاب ہوئی۔حلقہ ایل اے 1 میرپور 1کے تمام 139 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیرسرکاری نتیجے کے مطابق مسلم ليگ(ن) کے اظہر صادق 15427 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔ پیپلزپارٹی کے محمد افسر شاہد 9832 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔حلقہ ایل اے 2 میرپور 2 کے تمام 149 پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجہ آگیا اور یہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے قاسم مجید نے 12904 ووٹ لے کر میدان مارلیا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے عظیم بخش چوہدری 8182 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔حلقہ ایل اے 3 میرپور 3 کے تمام 161 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چوہدری یاسر سلطان 11676 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے چوہدری محمد سعید 9832 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔حلقہ ایل اے 4 میرپور 4 کے تمام 162 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج موصول ہو گئے ہیں جس کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے چوہدری رخسار احمد 20172 ووٹ لے کر جیت گئے ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چوہدری صہیب ارشد 13865 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔حلقہ ایل اے 5 بھمبر 1 کے تمام 176 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق ن لیگ کے وقار احمد نے تقریباً 700 ووٹوں کے فرق سے پیپلزپارٹی کے چوہدری پرویز اشرف کو شکست دی۔ مسلم لیگ ن کے وقار احمد نور 30259 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ پیپلزپارٹی کے چوہدری پرویز اشرف 29574 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔حلقہ ایل اے 6 بھمبر 2 کے تمام 195 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے چوہدری محمد رزاق 32732 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے علی شان چوہدری 26718 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر رہے۔
    حلقہ ایل اے 7 بھمبر 3 کے تمام 237 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج موصول ہو گئے ہیں جس کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے چوہدری طارق فاروق 35490 ووٹ لے کر جیت گئے جبکہ آزاد امیدوار چوہدری انوار الحق 25100 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔حلقہ ایل اے 8 کوٹلی 1کے تمام 155 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج موصول ہو گئے جس کے مطابق پیپلزپارٹی کے ظفر اقبال ملک 19535 ووٹ لےکر کامیاب ہوگئے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے ملک محمد نواز خان 11966 ووٹ لے کر دوسرے نمبر رہے۔حلقہ ایل اے 9 کوٹلی 2 کے تمام 178 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آگئے اور یہاں سے مسلم لیگ (ن) کے عمیر نعیم ووٹ 31080 لے کر جیت گئے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جاوید اقبال بڈھانوی 28509 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔حلقہ ایل اے 10 کوٹلی 3 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق تمام 169 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے چوہدری محمد یاسین 12431 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ ن لیگ کے فتح محمود الحسن 9245 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔حلقہ ایل اے 11 کوٹلی 4 کے تمام 206 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیرسرکاری نتیجے کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے محمد آصف 26190 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، پیپلزپارٹی کے چوہدری محمد اخلاق 21751 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔حلقہ ایل اے 12 کوٹلی 5 کے تمام 207 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیرسرکاری نتائج سامنےآگئے جس کے مطابق ن لیگ کے محمد ریاست خان 35168 ووٹ لےکر کامیاب ہوگئے جبکہ پیپلزپارٹی کے چوہدری محمد یاسین 30320 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔حلقہ ایل اے 13 کوٹلی 6 کے تمام 193 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیرسرکاری نتیجے کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے راجہ ایاز احمد خان 21 ہزار 856 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔استحکام پاکستان پارٹی کے نثار انصار ابدالی 15 ہزار 859 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • لیاری میں رینجرز اہلکار کا قاتل پولیس افسر کا بیٹا نکلا، ملزم گرفتار

    لیاری میں رینجرز اہلکار کا قاتل پولیس افسر کا بیٹا نکلا، ملزم گرفتار

    کراچی (ویب ڈیسک ) رینجرز اہلکار کے قتل میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔ ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق کراچی کے علاقے لیاری میں رینجرز اہلکار کے قتل میں ملوث ملزم ساحل کو گرفتار کرلیا گیا ہے، ملزم واقعہ کے بعد بلوچستان فرار ہوگیا تھا۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ ملزم پولیس افسر کا بیٹا ہے اور رینجرز اہلکار کے قتل کی وجہ ذاتی عناد نکلی، ملزم نے پوری منصوبہ بندی اور ریکی کے بعد رینجرز اہلکار کو قتل کیا۔واضح رہے کہ رینجرز اہلکارعبدالقیوم کو 18 جولائی کو لیاری میں فائرنگ کرکے شہید کیا گیا تھا۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • کراچی سے دبئی جانے والے مسافروں سے بڑی تعداد میں غیرملکی کرنسی برآمد

    کراچی سے دبئی جانے والے مسافروں سے بڑی تعداد میں غیرملکی کرنسی برآمد

    کراچی (ویب ڈیسک )کراچی سے دبئی جانے والے مسافروں سے بڑی تعداد میں غیرملکی کرنسی برآمد کر لی گئی۔کسٹمز حکام کے مطابق ایک ہی خاندان کے 6 افراد سے 55 ہزار امریکی ڈالر اور 9 لاکھ 50 ہزار روپے برآمد ہوئے۔کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ کرنسی ڈیکلیئریشن نہ کرنے پر کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت کارروائی کی گئی، ایک ہی خاندان کے 6 افراد سے اسٹیٹ بینک کی مقررہ حد سے زیادہ غیرملکی کرنسی برآمد ہوئی، کرنسی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • پاکستان، سعودی عرب اور بدلتا ہوا مشرقِ وسطی    تحریر :   شیخ راشدعالم

    پاکستان، سعودی عرب اور بدلتا ہوا مشرقِ وسطی تحریر : شیخ راشدعالم

    فیلڈ مارشل، وزیراعظم اور قومی یکجہتی کا سفارتی پیغام
    مشرقِ وسطی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر کھڑا ہے۔ سمندر میں تیل بردار جہازوں پر حملے، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، عالمی معیشت پر منڈلاتے خدشات اور طاقتوں کی نئی صف بندیاں صرف عرب ممالک کا مسئلہ نہیں رہیں بلکہ پاکستان جیسے ممالک بھی ان کے اثرات سے براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے رابطہ اور سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کے اظہار کا اعلان ایک معمول کی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا واضح پیغام ہے۔
    وزیراعظم نے گفتگو میں آئل ٹینکرز پر حملوں کی سخت مذمت کی اور کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ اس موقع پر فیلڈ مارشل کی جانب سے بھی یہی مقف دہرایا گیا کہ پاکستان کی مسلح افواج سعودی عرب کے دفاع اور سلامتی کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہیں۔
    یہ بیان اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق صرف دو ریاستوں کا تعلق نہیں بلکہ عقیدے، تاریخ، معیشت، دفاع اور عوامی جذبات کا رشتہ بھی ہے۔
    پاکستان کی لاکھوں افرادی قوت سعودی عرب میں خدمات انجام دے رہی ہے۔ ہر سال اربوں ڈالر کی ترسیلاتِ زر پاکستانی معیشت کو سہارا دیتی ہیں۔ مشکل معاشی حالات میں سعودی عرب نے متعدد بار پاکستان کی مالی معاونت کی، تیل کی سہولت فراہم کی اور زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کرنے میں کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب سعودی عرب کو کسی خطرے کا سامنا ہوتا ہے تو پاکستان کا ردعمل محض رسمی بیان تک محدود نہیں رہتا۔
    آئل ٹینکرز پر حملے دراصل عالمی تجارت کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہیں۔ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل انہی بحری راستوں سے گزرتا ہے۔ اگر ان راستوں میں بدامنی پیدا ہو تو خام تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، شپنگ انشورنس مہنگی ہوتی ہے، درآمدی اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے اور بالآخر اس کا بوجھ عام صارف تک پہنچتا ہے۔
    پاکستان پہلے ہی مہنگائی، توانائی کے بحران اور درآمدی بل کے دبا سے نبرد آزما ہے۔ ایسے میں خلیج میں کسی بھی قسم کی کشیدگی پاکستان کے لیے صرف سفارتی مسئلہ نہیں بلکہ معاشی چیلنج بھی بن جاتی ہے۔
    اسی تناظر میں وزیراعظم کا سعودی قیادت سے رابطہ ایک بروقت قدم ہے۔ اس سے یہ پیغام گیا کہ پاکستان خطے میں استحکام کا خواہاں ہے اور تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔
    پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک نمایاں خصوصیت توازن رہی ہے۔ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں تو دوسری جانب پاکستان ہمیشہ مسلم دنیا کے اتحاد اور علاقائی امن کی بات کرتا آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی کوشش ہوتی ہے کہ کشیدگی کم ہو اور
    تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل ہوں۔
    فیلڈ مارشل کی موجودگی اور عسکری قیادت کا واضح مقف اس سفارتی پیغام کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ تربیت، انٹیلی جنس تعاون، مشترکہ مشقیں اور سیکیورٹی روابط دونوں ممالک کے تعلقات کا اہم حصہ ہیں۔
    تاہم موجودہ حالات یہ بھی تقاضا کرتے ہیں کہ پاکستان صرف دفاعی تعاون تک محدود نہ رہے بلکہ معاشی سفارت کاری کو بھی مزید مضبوط بنائے۔ سعودی سرمایہ کاری، توانائی کے منصوبے، معدنی وسائل، آئی ٹی، زراعت اور انفراسٹرکچر میں تعاون دونوں ممالک کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
    ایک اور اہم پہلو امتِ مسلمہ کا اتحاد ہے۔ آج مسلم دنیا کئی بحرانوں سے گزر رہی ہے۔ غزہ کا مسئلہ ہو، شام کی صورتحال ہو، یمن کی جنگ ہو یا خلیج کی کشیدگی، ہر بحران مسلم ممالک کے درمیان بہتر رابطے اور مشترکہ حکمت عملی کا تقاضا کرتا ہے۔ پاکستان اس حوالے سے ہمیشہ مصالحت اور اتحاد کی آواز بلند کرتا آیا ہے۔
    یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ عالمی طاقتیں مشرقِ وسطی کو صرف سیاسی نہیں بلکہ معاشی اوراسڑیٹجک زاویے سے بھی دیکھتی ہیں۔ توانائی کے ذخائر، عالمی تجارتی راستے اور بحری گزرگاہیں اس خطے کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہیں۔ اسی لیے یہاں پیدا ہونے والی ہر کشیدگی پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کرتی ہے۔
    پاکستان کو اس نازک صورتحال میں انتہائی محتاط خارجہ پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔ کسی بھی فریق کے ساتھ تعلقات استوار رکھتے ہوئے قومی مفاد، علاقائی امن اور اقتصادی استحکام کو اولین ترجیح دینا وقت کی ضرورت ہے۔
    وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کے درمیان رابطہ اسی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اپنے قریبی اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہے، لیکن ساتھ ہی وہ امن، استحکام اور سفارت کاری کا حامی بھی ہے۔ آئل ٹینکرز پر حملوں کی مذمت بھی اسی اصولی مقف کا حصہ ہے کہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو نشانہ بنانا نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ہے۔
    آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان اپنے تاریخی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور علاقائی امن کے لیے فعال کردار ادا کرے۔ قومی اتحاد، مضبوط سفارت کاری اور متوازن خارجہ پالیسی ہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو بدلتے ہوئے عالمی حالات میں محفوظ اور مستحکم رکھ سکتا ہے۔
    مشرقِ وسطی کے بادل ابھی مکمل طور پر نہیں چھٹے۔ کشیدگی کے امکانات اب بھی موجود ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا واضح، ذمہ دار اور متوازن مقف نہ صرف اس کی سفارتی ساکھ کو مضبوط کرتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ قومی مفاد، علاقائی استحکام اور دیرینہ دوستوں کے ساتھ وفاداری پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ اگر یہی توازن برقرار رہا تو پاکستان نہ صرف اپنے مفادات کا بہتر تحفظ کر سکے گا بلکہ مسلم دنیا میں ایک ذمہ دار اور مثر کردار بھی ادا کرتا رہے گا۔

  • کراچی بمقابلہ لاہور: سیاسی نعرہ یا حکمرانی کی ناکامی؟ تحریر: نشید آفاقی

    کراچی بمقابلہ لاہور: سیاسی نعرہ یا حکمرانی کی ناکامی؟ تحریر: نشید آفاقی

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے آزاد کشمیر کے انتخابات کے تناظر میں ایک ایسا جملہ کہا جس نے سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ کراچی کے شہریوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “کشمیری، کشمیر کو کراچی نہیں بننے دیں گے، وہ کشمیر کو لاہور جیسا دیکھنا چاہتے ہیں۔”
    یہ محض ایک انتخابی نعرہ نہیں بلکہ ایک ایسا سیاسی بیان ہے جو پاکستان کے دو بڑے شہروں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کرتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کشمیر لاہور جیسا بنے گا یا کراچی جیسا، اصل سوال یہ ہے کہ کراچی کو اس حال تک آخر کس نے پہنچایا؟ اگر لاہور ترقی کی مثال ہے تو کراچی محرومی کی علامت کیوں بنا؟ کیا یہ عوام کی ناکامی ہے یا دہائیوں پر محیط حکمرانی کی غلط ترجیحات کا نتیجہ؟
    کراچی پاکستان کا معاشی دارالحکومت ہے۔ ملکی برآمدات، درآمدات، صنعت، بندرگاہیں، بینکاری، اسٹاک مارکیٹ اور قومی ٹیکس وصولیوں کا بڑا حصہ اسی شہر سے وابستہ ہے۔ یہی شہر ملک کے ہر کونے سے آنے والوں کو روزگار دیتا ہے، لیکن بدقسمتی سے یہی شہر آج پانی، سیوریج، ٹریفک، صفائی، ٹوٹی سڑکوں اور بنیادی شہری سہولتوں کے شدید بحران کا شکار ہے۔
    اگر آج کوئی سیاست دان کراچی کو ایک منفی مثال کے طور پر پیش کرتا ہے تو اسے پہلے یہ بھی بتانا ہوگا کہ اس شہر کی یہ حالت پیدا کس نے کی؟ کراچی نے تو ہمیشہ پاکستان کو دیا ہے، سوال یہ ہے کہ پاکستان نے کراچی کو کیا دیا؟
    دوسری جانب لاہور یقینا پاکستان کے ترقی یافتہ شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ جدید انفراسٹرکچر، میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، فلائی اوورز، انڈر پاسز، بہتر پارکس اور شہری منصوبہ بندی اس کی شناخت بن چکی ہے۔ یہ ترقی قابلِ تعریف ہے، لیکن ایک سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا یہی معیار کراچی، کوئٹہ، پشاور، حیدرآباد، ملتان اور دیگر شہروں کو بھی ملا؟ اگر نہیں، تو پھر یہ قومی ترقی نہیں بلکہ وسائل کی غیر مساوی تقسیم کا سوال ہے۔
    اصل مسئلہ لاہور کی ترقی نہیں بلکہ کراچی کی مسلسل نظراندازی ہے۔ لاہور کا ترقی کرنا پاکستان کے لیے خوش آئند ہے، مگر کراچی کی بدحالی کو سیاسی طنز کا استعارہ بنا دینا کسی بھی قومی رہنما کے شایانِ شان نہیں۔
    احسن اقبال اگر یہ کہتے کہ “ہم کشمیر کو لاہور جیسا ترقی یافتہ اور کراچی کو بھی اسی معیار کا شہر بنائیں گے” تو شاید یہ ایک قومی سوچ کی عکاسی ہوتی۔ مگر جب ایک پاکستانی شہر کو دوسرے کے مقابل ناکامی کی علامت بنا دیا جائے تو اس سے صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہوتی ہے، قومی یکجہتی نہیں۔
    کراچی کی موجودہ حالت کسی ایک جماعت یا ایک حکومت کی پیداوار نہیں۔ یہ کئی دہائیوں کی سیاسی کشمکش، اختیارات کی جنگ، ناقص بلدیاتی نظام، غیر منصوبہ بند شہری توسیع، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور مسلسل غفلت کا نتیجہ ہے۔ وفاق، صوبہ اور بلدیاتی ادارے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالتے رہے، مگر اس دوران سب سے زیادہ نقصان کراچی کے شہریوں نے اٹھایا۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ کراچی نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی معیشت کا سہارا دیا۔ دہشت گردی ہو، معاشی بحران ہو یا قدرتی آفات، کراچی نے ہمیشہ قومی معیشت کا پہیہ چلایا۔ مگر بدلے میں اسے اکثر سیاسی بیانات، وعدے اور محرومیاں ہی ملیں۔
    آزاد کشمیر کے عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے۔ انہیں مکمل حق حاصل ہے کہ وہ جس جماعت کو بہتر سمجھیں، اسے ووٹ دیں۔ لیکن انتخابی جلسوں میں ایسے تقابلی جملے جو ایک پاکستانی شہر کی تضحیک کا تاثر دیں، قومی سیاست کو مزید تقسیم کرتے ہیں۔
    کراچی اور لاہور ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ پاکستان کی ترقی کے دو اہم ستون ہیں۔ اگر لاہور مضبوط ہوگا تو پاکستان مضبوط ہوگا، اور اگر کراچی کمزور ہوگا تو اس کا اثر پوری قومی معیشت پر پڑے گا۔ اس لیے ایک شہر کی کامیابی کو دوسرے کی ناکامی سے جوڑنا دانشمندی نہیں۔
    افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں ترقی کا تصور بھی سیاسی رنگ اختیار کر چکا ہے۔ ایک جماعت لاہور کی مثال دیتی ہے، دوسری کسی اور شہر کی۔ مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ آخر پاکستان کے تمام شہروں کو یکساں ترقی کب ملے گی؟ کیا ترقی صرف ان شہروں کا حق ہے جہاں سیاسی مفاد زیادہ ہو؟
    ایک وفاقی وزیر کا منصب پورے پاکستان کی نمائندگی کرتا ہے، کسی ایک شہر کی نہیں۔ ایسے منصب پر بیٹھے افراد سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ تقسیم نہیں بلکہ اتحاد کی بات کریں، محرومیوں کو بڑھانے کے بجائے انہیں ختم کرنے کی حکمت عملی پیش کریں۔
    آج کراچی کو کسی سیاسی استعارے کی نہیں بلکہ ایک جامع قومی منصوبے کی ضرورت ہے۔ ایسا منصوبہ جو اس شہر کو پانی، ٹرانسپورٹ، صفائی، بلدیاتی نظام، صنعت، رہائش اور شہری سہولتوں کے بحران سے نکال سکے۔ کیونکہ کراچی کی بحالی صرف کراچی کی ضرورت نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی بقا کی ضرورت بھی ہے۔
    انتخابی نعرے چند دن زندہ رہتے ہیں، مگر شہروں کی تقدیر نسلوں تک اثر انداز ہوتی ہے۔ اس لیے سیاست دانوں کو الفاظ کے انتخاب میں احتیاط برتنی چاہیے۔ کروڑوں شہریوں کے شہر کو طنز کا نشانہ بنانا آسان ہے، مگر اسے دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن کرنا اصل قیادت کا امتحان ہے۔
    آخر میں سوال پھر وہی ہے جس کا جواب ہر حکومت کو دینا ہوگا۔
    لاہور کی ترقی پر پورا پاکستان خوش ہے، مگر کراچی کی بدحالی پر آخر کس کو جواب دینا ہے؟
    یہی وہ سوال ہے جو صرف آزاد کشمیر کے ووٹر نہیں، بلکہ پاکستان کے ہر شہری کے ذہن میں گونج رہا ہے۔