Blog

  • سوشل میڈیا کا مصنوعی سوگ     تحریر: فرحانہ اشرف فرحانہ

    سوشل میڈیا کا مصنوعی سوگ تحریر: فرحانہ اشرف فرحانہ

    دنیا سے یااپنے ملک و شہر سے چلے جانے کے بعد انسان معتبر اور اہم ہوجاتا ہے
    انسانی معاشرے کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ رہی ہے کہ وہ اپنے لوگوں کی قدر کرنا جانتا تھا۔ کسی کی خوشی میں شریک ہونا، کسی کے غم میں سہارا بننا، کسی کی کامیابی پر داد دینا اور کسی کی جدوجہد کو سراہنا ہماری سماجی اقدار کا حصہ تھا۔
    لیکن ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی اور سوشل میڈیا کے بے تحاشا استعمال نے ان اقدار کی صورت بدل دی ہے۔ آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں جذبات بھی ڈیجیٹل ہو چکے ہیں، رشتے بھی ورچوئل ہوتے جا رہے ہیں اور دکھ بھی اکثر مصنوعی محسوس ہونے لگے ہیں۔
    آج اگر کوئی شخص دنیا سے رخصت ہو جائے، کسی شہر کو چھوڑ دے، کسی ادارے سے الگ ہو جائے یا کسی دوسرے ملک منتقل ہو جائے تو اچانک وہی شخص سب کی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ اس کی تصاویر، ویڈیوز، یادیں اور خدمات کا تذکرہ ہر طرف ہونے لگتا ہے۔ سوشل میڈیا پر طویل تعزیتی پیغامات، جذباتی تحریریں اور تعریفوں کے انبار لگ جاتے ہیں۔ لیکن ایک سوال دل میں بار بار جنم لیتا ہے کہ کیا یہ سب کچھ اس شخص کے جیتے جی نہیں کیا جا سکتا تھا؟
    کتنی عجیب بات ہے کہ جس انسان کی پوسٹ پر کبھی ایک حوصلہ افزا جملہ لکھنے کی فرصت نہیں ہوتی، اس کی وفات کے بعد کئی صفحات پر مشتمل تعزیتی نوٹ لکھ دیے جاتے ہیں۔ جس کی کامیابی پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے، اس کے جانے کے بعد اسے عظیم، بے مثال اور ناقابلِ فراموش قرار دیا جاتا ہے۔ گویا ہم نے عزت، محبت اور اعتراف کو موت کے بعد تقسیم کرنے کی روایت بنا لی ہے۔
    یہ صرف سوشل میڈیا کا مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی رویوں کا آئینہ بھی ہے۔ ہم زندہ انسانوں کی خامیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں، لیکن جیسے ہی وہ اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے، اچانک اس کی تمام خوبیاں یاد آ جاتی ہیں۔ اختلافات ختم ہو جاتے ہیں، شکایتیں مٹ جاتی ہیں اور تعریفوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اگر یہی رویہ ہم اس کی زندگی میں اختیار کریں تو شاید کئی دل ٹوٹنے سے بچ جائیں، کئی لوگ مایوسی کا شکار نہ ہوں اور کئی زندگیاں امید سے بھر جائیں۔
    آج سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے کو آسان ضرور بنا دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ دکھاوے کو بھی فروغ دیا ہے۔ بعض لوگ تعزیتی پوسٹ صرف اس لیے کرتے ہیں کہ لوگ انہیں حساس، مخلص یا باخبر سمجھیں۔ بعض اوقات تو ایسے افراد بھی تعزیت کرتے نظر آتے ہیں جنہوں نے مرحوم سے برسوں رابطہ تک نہیں رکھا ہوتا۔ چند لمحوں کے لیے پروفائل تصویر سیاہ کر دینا، افسوس کے دو جملے لکھ دینا یا پرانی تصویر شیئر کر دینا آسان ہے، مگر کسی کی زندگی میں اس کے دکھ بانٹنا، اس کی مالی یا اخلاقی مدد کرنا اور اس کا حوصلہ بڑھانا کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔
    بدقسمتی سے یہی رویہ صرف عام لوگوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اہلِ علم، صحافیوں، ادیبوں، شاعروں، اساتذہ، فنکاروں اور سماجی کارکنوں کے ساتھ بھی روا رکھا جاتا ہے۔ جب تک وہ زندہ ہوتے ہیں، ان کی خدمات کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔
    ان کی محنت کو وہ مقام نہیں ملتا جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں، لیکن جیسے ہی وہ دنیا سے رخصت ہوتے ہیں، انہیں قومی اثاثہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ سیمینار منعقد ہوتے ہیں، تعزیتی ریفرنس ہوتے ہیں، خصوصی مضامین لکھے جاتے ہیں اور ان کے نام پر ایوارڈز کا اعلان کیا جاتا ہے۔ان کے اعزاز میں شام رکھی جاتی ہے
    سوال یہ ہے کہ اگر یہی عزت، یہی اعتراف اور یہی محبت ان کی زندگی میں مل جاتی تو کیا وہ زیادہ خوش، زیادہ مطمئن اور معاشرے کے لیے زیادہ مثر کردار ادا نہ کر سکتے تھے؟
    ہمارا دین بھی ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ زندہ انسان کی عزت کرو، اس کی دلجوئی کرو، بیمار کی عیادت کرو، رشتوں کو جوڑو، ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کرو اور کسی کے دل کو ٹوٹنے نہ دو۔ اسلام نے زندہ انسان کے حقوق کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے، لیکن ہم نے ان تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کر رسمی تعزیت کو اصل ہمدردی سمجھ لیا ہے۔
    آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات بدلیں۔ اپنے والدین کو ان کی زندگی میں بتائیں کہ ہم ان سے محبت کرتے ہیں۔ اپنے اساتذہ کا احترام ان کے سامنے کریں۔ اپنے دوستوں کی کامیابی پر دل سے خوش ہوں۔ اپنے ساتھیوں کی محنت کو سراہیں۔ کسی لکھنے والے کو اس کی زندگی میں داد دیں، کسی فنکار کو اس کے جیتے جی عزت دیں اور کسی خدمت گزار انسان کو اس کی موجودگی میں شکریہ کہیں۔
    ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگر کل ہم خود اس دنیا سے چلے جائیں تو کیا ہمیں اس بات کی خوشی ہوگی کہ ہماری وفات کے بعد ہزاروں پوسٹیں لکھی جائیں، یا اس بات کی کہ ہماری زندگی میں کسی نے ہمارا ہاتھ تھاما، ہمارا حوصلہ بڑھایا اور ہمیں یہ احساس دلایا کہ ہم اہم ہیں؟
    سوشل میڈیا بذاتِ خود برا نہیں، لیکن اس کا استعمال ہمارے رویوں کی عکاسی ضرور کرتا ہے۔ اگر ہم اسے محبت، حوصلہ افزائی، خیرخواہی اور زندہ انسانوں کی قدر کے لیے استعمال کریں تو یہی پلیٹ فارم معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ صرف مصنوعی سوگ، نمائشی جذبات اور وقتی ہمدردی کا ذریعہ بن جائے تو پھر ہمیں اپنے ضمیر سے ضرور سوال کرنا چاہیے۔
    اس موضوع سے متعلق ہم فیصل عشرت صاحب کے بھی خیالات آپ کی بصارتوں کی نذر کرتے ہیں

    : فیصل عشرت*
    (ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ)
    ******
    کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ آج کے اس بے حس اور مشینی دور میں ہمارے جذبات بھی ڈیجیٹل ہو چکے ہیں؟ جب تک کوئی شخص
    ہمارے درمیان سانس لیتا ہے، ہم اس کی ایک آواز سننے، اس کا حال پوچھنے یا اس کے درد کو بانٹنے کے لیے ایک لمحہ نہیں نکالتے۔ لیکن جونہی وہ اس فانی دنیا سے کوچ کرتا ہے، یا بیروں ملک یا کسی شہر چلا جاتا ہے تو ہمارا سوشل میڈیا اکانٹ اچانک مصنوعی محبت اور آنسووں کے سیلاب سے ڈوب جاتا ہے۔ کیا یہ سچا دکھ ہے یا محض ایک نیا “ورچوئل ٹرینڈ” (Virtual Trend)؟
    ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں۔ زندگی کی اس اندھی دوڑ میں ہم اتنے خود غرض ہو چکے ہیں کہ اپنوں کی سانسیں ٹوٹنے کا انتظار کرتے ہیں۔ جیتے جی کوئی فون کال نہیں، کوئی خیریت کا پیام نہیںبس ایک ہولناک خاموشی اور دوری! لیکن جیسے ہی کسی کی موت کا آخری پیغام فیس بک کی وال یا واٹس ایپ اسٹیٹس کی زینت بنتا ہے، ہمارے اندر کا سویا ہوا ضمیر اچانک جاگ اٹھتا ہے۔ ہم فورا طویل اور دکھ بھری ایموشنل پوسٹس (Emotional Posts) کا انبار لگا دیتے ہیں، پرانی تصاویر ڈھونڈ کر شیئر کرتے ہیں اور “RIP” کے روایتی الفاظ لکھ کر خود کو دنیا کے سامنے سب سے بڑا درد مند ظاہر کرنے کی ناکام اداکاری کرتے ہیں۔
    دل چیر دینے والا سوال تو یہ ہے کہ جب وہ انسان تنہائی کے اندھیروں میں گھٹن جھیل رہا تھا، تب آپ کی یہ محبت کہاں تھی؟ کیا اسے آپ کی اس “ڈیجیٹل سمپتی” (Digital Sympathy) اور ان دکھاوے کے لفظوں کی اس وقت ضرورت نہیں تھی جب وہ زندگی کی کشمکش میں اکیلا تھا؟ جب اسے آپ کے دو محبت بھرے بولوں کی یا صرف ایک خلوص بھرے میسج کی پیاس تھی؟
    تلخ مگر عیاں حقیقت یہی ہے کہ ہم اس بے حس معاشرے کا حصہ بن چکے ہیں جہاں ہم جیتے جی لوگوں کی قدر نہیں کرتے، بلکہ ان کی لاش پر بیٹھ کر اپنی خودساختہ “محبت” کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہم کسی کی موت کو بھی اپنے “لائکس” (Likes)، “ویوز” (Views) اور “ہمدردی کے سرٹیفکیٹس” سمیٹنے کا گھٹیا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ یہ کیسا ہولناک تضاد ہے کہ ہم زندگی میں اپنوں کو اپنانے سے کتراتے ہیں اور مرنے کے بعد ان کے نام پر “پوسٹ اور ری پوسٹ” کا تماشا لگا دیتے ہیں۔
    خلاصہ کلام یہ کہ، خدارا اس کھوکھلے، مصنوعی اور کاغذی سوگ کے اسیر بننے سے باہر نکلیں۔ مرنے کے بعد یا کسی کے بیرون ملک یا شہر جانے کے بعد
    دکھاوے کے جملوں اور ڈیجیٹل آنسوں سے کہیں بہتر ہے کہ ہم زندگی ہی میں اپنوں کو وقت دیں، ان کی روح کو سکون بخشیں اور ان کے دکھ سکھ میں سچے دل سے شریک ہوں۔ یاد رکھیے، اس دنیا سے جانے والے کو آپ کے “ڈیجیٹل کمنٹس” یا تعزیت کے طویل پیغامات کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی؛ اسے ضرورت ہوتی ہے تو صرف جیتے جی آپ کے خلوص، آپ کے ساتھ اور آپ کی سچی محبت کی!۔۔۔۔
    یہ تھے فیصل عشرت صاحب آخر میں بس اتنا کہ
    آئیے عہد کریں کہ ہم لوگوں کی قدر ان کی زندگی میں کریں گے، ان کی موجودگی میں ان کا شکریہ ادا کریں گے، ان کی کامیابی پر انہیں مبارک دیں گے، ان کے دکھ میں ان کا سہارا بنیں گے اور ان کے جانے کے بعد افسوس کرنے کے بجائے ان کے جیتے جی محبت بانٹنے کی روایت کو زندہ کریں گے۔
    کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ انسان کو اپنے مرنے کے بعد لکھی جانے والی تحریروں سے زیادہ، اپنی زندگی میں بولے جانے والے دو مخلص الفاظ
    کی ضرورت ہوتی ہے۔

  • موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی آگ      صبیحہ خان صبیحہ

    موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کی آگ صبیحہ خان صبیحہ

    کینیڈا اور امریکہ کا تعلق ساس بہو والا ہوگیا ہے ۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ جنگل کی آگ کا ساس بہو سے کیا تعلق؟ مگر عالمی سیاست پر نظر ڈالیں تو کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ بعض ممالک کے تعلقات بھی ہمارے معاشرے کے ساس بہو کے رشتے سے ملتے جلتے ہیں۔ بہو لاکھ احتیاط کرے، ساس کو کوئی نہ کوئی خامی ضرور مل جاتی ہے۔ ادھر جنگل میں آگ لگی، ادھر الزاموں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیاکبھی کبھی امریکہ کا انداز کینیڈا کے لئے ساس جیسا لگتا ہے جو کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی اپنی بہو میں کیڑے نکالنے میں زرا دیر نہیں کرتی بعض اوقات بین الاقوامی تعلقات بھی ساس بہو کے رشتے کا منظر پیش کرتے ہیں، جہاں بہو جو بھی کرے، ساس کو کوئی نہ کوئی خامی ضرور نظر آ جاتی ہے۔جب گھر میں آگ لگتی ہے تو دھواں سے پڑوسی کا گھر کیسے محفوظ رہ سکتا ہے تو بجائے پڑوسی کی مدد آتی اس کے بجائے الزامات کی بوچھاڑ ہوگئی جیسا کہ حالیہ کینیڈا کے جنگل کی آگ کا زمہ دار کینیڈا حکومت پر ڈال کر ٹیرف بڑھانے کی دھمکی بھی دے ڈالی ۔مگر حقیقت یہ ہے کہ قدرتی آفات نہ سرحدیں دیکھتی ہیں اور نہ سیاسی بیانات ان سے نمٹنے کے لیے الزام نہیں بلکہ تعاون درکار ہوتا ہے ۔ کینیڈا دنیا کے سب سے زیادہ جنگلات والے ممالک میں شامل ہے۔ یہاں تقریبا 369 ملین ہیکٹر (3.69 ملین مربع کلومیٹر) جنگلات ہیں، جو کینیڈا کی زمینی سطح کا تقریبا 40 فیصد بنتے ہیں۔ یہ دنیا کے کل جنگلات کا لگ بھگ 9 فیصد ہے اگر آپ مشرق سے مغرب تک سفر کریں تو ہزاروں کلومیٹر تک مسلسل جنگلات، جھیلیں اور دریا ملتے ہیں۔اور برف سے ڈھکے پہاڑ میدان اور جھیلیں سمندر ہیں کینیڈا کے بیشتر شمالی علاقے آج بھی تقریبا غیر آباد ہیں، جہاں صرف جنگلات، پہاڑ، جھیلیں اور جنگلی حیات ہے۔یہاں صرف چار ماہ گرم موسم رہتا ہے باقی سرد موسم اور برفباری کا راج ہوتا ہے ۔گرمیوں کا موسم آتے ہی دنیا کے مختلف ممالک میں جنگلات کی آگ کی خبریں عام ہونے لگتی ہیں۔ کہیں ہزاروں ایکڑ جنگل جل جاتے ہیں، کہیں قیمتی جنگلی حیات متاثر ہوتی ہے اور کہیں لوگوں کو اپنے گھر خالی کرنا پڑتے ہیں۔ ایسے حالات میں اکثر سوال اٹھتا ہے کہ آخر اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا ہر جنگل کی آگ حکومت کی ناکامی ہوتی ہے یا بعض اوقات یہ واقعی ایک قدرتی آفت ہوتی ہے؟حقیقت یہ ہے کہ قدرتی جنگلات کسی باغ کی طرح نہیں ہوتے جہاں ہر خشک پتہ اور ہر گری ہوئی شاخ روزانہ ہٹا دی جائے۔ کینیڈا کے طویل رقبے پر پھیلے جنگلات یہ جنگل کے قدرتی نظام کا حصہ ہوتے ہیں، جہاں بے شمار پرندے، جانور اور کیڑے مکوڑے انہی درختوں اور جھاڑیوں سے اپنی بقا کا سامان کرتے ہیں۔جب کئی ہفتوں یا مہینوں تک بارش نہ ہو، درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھ جائے اور تیز ہوائیں چلنے لگیں تو یہی خشک جھاڑیاں آگ کے لیے ایندھن بن جاتی ہیں۔ بعض اوقات بجلی گرنے سے آگ لگ جاتی ہے، اور کبھی انسانی لاپرواہی بھی اس کا سبب بنتی ہے۔ اس لیے ہر واقعے کو صرف ایک وجہ سے جوڑ دینا حقیقت کا مکمل عکس نہیں۔حالیہ دنوں میں بعض سیاسی بیانات میں جنگلات کی آگ کا ذمہ دار کینیڈا کو قرار دیا گیا۔ لیکن ایسے پیچیدہ مسئلے کو صرف ایک فریق کی گردن میں ڈال دینا انصاف پر مبنی تجزیہ نہیں۔ جنگلات کی آگ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں قدرتی عوامل، موسمی تبدیلیاں، انتظامی تیاری اور انسانی رویے سب اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ کینیڈا کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں لاکھوں مربع کلومیٹر پر جنگلات پھیلے ہوئے ہیں۔ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس ملک کا دوسرا نام ہی جنگل ہو، فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں انسان نے جنگل کو ختم نہیں کیا بلکہ جنگل کے ساتھ رہنے کا سلیقہ سیکھ لیا ہے۔ شہروں کو اس انداز سے آباد کیا گیا ہے کہ فطرت بھی محفوظ رہے اور شہری بھی۔اس کے باوجود جب غیر معمولی گرمی، خشک سالی اور تیز ہوائیں مل جائیں تو جنگلات کی آگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسی قدرتی آفت کو مکمل طور پر روکنا شاید کسی بھی ملک کے بس کی بات نہیں، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ حکومت اپنی ذمہ داری سے غافل ہے۔ کینیڈا میں جدید وارننگ سسٹم، تربیت یافتہ فائر فائٹرز، فضائی امداد، بروقت انخلا کے انتظامات اور شہریوں کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ انسانی جان کو اولین ترجیح دی جاتی ہے سیاست اپنی جگہ، مگر فطرت کے اپنے قوانین بھی ہوتے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ حکومتوں کی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی۔ جدید نگرانی کا نظام، بروقت وارننگ، فائر فائٹرز کی مناسب تربیت، آگ بجھانے کے وسائل، اور جہاں ممکن ہو وہاں خشک جھاڑیوں کی صفائی جیسے اقدامات نقصان کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ لیکن یہ توقع کرنا کہ لاکھوں ایکڑ پر پھیلے جنگلات کے ہر درخت اور ہر جھاڑی کی مکمل حفاظت کی جا سکتی ہے، حقیقت پسندانہ سوچ نہیں جہاں تک امریکہ کے بیانات کا تعلق ہے، سیاست دان بعض اوقات کسی مسئلے پر مختلف زاویے سے تنقید کرتے ہیں۔ اگر وہ کینیڈا کی حکومت پر جنگلات کے انتظام یا آگ سے نمٹنے کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں بجائے اس کی مدد کرنے کے تو یہ ایک سیاسی مقف ہو سکتا ہے۔ جبکہ امریکہ کی ریاستوں کو بھی قدرتی آفات کا سامنا رات دن کرنا پڑتا ہے اور کینیڈا ہمیشہ اچھے پڑوسی کا رول ادا کرتا ہے ۔لیکن اگر یہ کہا جائے کہ کینیڈا کی کوشش ہے کہ انسانی جانیں محفوظ رہیں کیونکہ جنگلات کی آگ میں قدرتی حالات، موسم، خشک سالی،موسمیاتی عوامل اور انسانی سرگرمیاں سب کردار ادا کر سکتے ہیں ،قدرت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بعض آفات کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا، لیکن بہتر منصوبہ بندی، سائنسی تحقیق، ماحول دوست پالیسیوں اوراجتماعی ذمہ داری سے ان کے نقصانات ضرور کم کیے جا سکتے ہیں۔ الزام تراشی سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا موسمیاتی تبدیلی، جنگلات کے تحفظ اور ہنگامی تیاری کے لیے مل کر کام کرے۔ کیونکہ آگ یہ نہیں دیکھتی کہ سرحد کہاں ختم ہوتی ہے؛ وہ صرف وہیں پھیلتی ہے جہاں اسے ایندھن اور سازگار حالات مل جائیں جنگلات کی آگ (Wildfires) کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں، اور ہر آگ کا سبب ایک جیسا نہیں ہوتا بعض آگیں قدرتی وجوہات سے لگتی ہیں، مثلا بجلی گرنا، شدید گرمی، خشک موسم اور تیز ہوائیں۔جبکہ بہت سی آگ انسانی سرگرمیوں سے بھی لگتی ہیں، جیسے کیمپ فائر کو مکمل طور پر نہ بجھانا،کینیڈا جیسے وسیع ملک میں لاکھوں ایکڑ پر پھیلے جنگلات کی ہر جھاڑی اور ہر درخت کی حفاظت عملی طور پر ممکن نہیں۔ اگر مہینوں تک بارش نہ ہو، درجہ حرارت بہت زیادہ ہو اور ہوائیں تیز ہوں تو ایک چھوٹی سی چنگاری بھی بڑی آگ میں تبدیل ہو سکتی ہے ۔مگر اس کے باجود کینیڈین حکومت الرٹ رہتی ہے اپنے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت زمہ داری ان کی اولین کوشش ہوتی ہے جس سے وہ غافل نہیں رہتے ۔ See less

  • اختلاف جرم، احتجاج سزا     ماجد علی سید

    اختلاف جرم، احتجاج سزا ماجد علی سید

    مودی حکومت کی ہٹ دھرمی نے بھارتی جمہوریت کو کہاں لا کھڑا کیا؟

    جمہوریت کی خوبصورتی اختلافِ رائے میں ہوتی ہے، لیکن جب اختلاف کو جرم اور احتجاج کو بغاوت سمجھ لیا جائے تو پھر جمہوریت صرف آئین کے صفحات تک محدود رہ جاتی ہے۔
    دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعوی کرنے والے بھارت میں آج یہی سوال شدت سے اٹھ رہا ہے۔ طلبہ اپنے مستقبل کا تحفظ مانگ رہے ہیں، اساتذہ شفاف نظامِ تعلیم کا مطالبہ کر رہے ہیں، اپوزیشن ان کی حمایت میں سڑکوں پر ہے، مگر حکومت کا رویہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مسئلہ حل کرنے سے زیادہ احتجاج ختم کرنا اس کی ترجیح ہو۔
    حالیہ دنوں میں مختلف ریاستوں میں امتحانی بے ضابطگیوں، پیپر لیکس اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبات نے طلبہ کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا۔
    احتجاج کا دائرہ وسیع ہوا تو اپوزیشن، خصوصا راہول گاندھی، بھی میدان میں آگئے۔ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ نوجوانوں کا مستقبل دا پر لگا ہوا ہے، مگر حکومت جواب دینے کے بجائے سیاسی برتری ثابت کرنے میں مصروف ہے۔ کئی مقامات پر احتجاج روکنے کے لیے پولیس کی سخت کارروائیوں، لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کی تصاویر بھی سامنے آئیں، جنہوں نے حکومتی طرزِ عمل پر مزید سوالات کھڑے کر دیے۔
    یہ پہلا موقع نہیں کہ مودی حکومت پر اختلافی آوازوں کو دبانے کا الزام لگا ہو۔ کسانوں کی طویل تحریک ہو، شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج، منی پور کا بحران یا مختلف جامعات میں طلبہ کی تحریکیں، ہر بڑے تنازع میں حکومت کا پہلا ردعمل مکالمہ نہیں بلکہ انکار، سختی یا تاخیر رہا۔
    شاید اسی لیے آج ناقدین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا بھارت میں اختلافِ رائے کو سیاسی مخالفت نہیں بلکہ ریاستی چیلنج سمجھا جانے لگا ہے؟
    مودی حکومت گزشتہ ایک دہائی سے “نیو انڈیا” اور “وشو گرو” کے خواب کی بات کرتی رہی ہے۔ بڑے انفراسٹرکچر منصوبے، تیز رفتار معیشت اور عالمی سفارت کاری یقینا اس بیانیے کا حصہ ہیں، مگر کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ اگر وہی نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں غیر محفوظ محسوس کریں، امتحانی نظام پر اعتماد کھو بیٹھیں اور اپنی آواز سنوانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں تو ترقی کے دعووں پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
    یہ احتجاج صرف ایک امتحان یا ایک پیپر لیک کا معاملہ نہیں، بلکہ اعتماد کے بحران کی علامت ہے۔
    لاکھوں نوجوان برسوں محنت کرتے ہیں، اپنے خوابوں کو ایک امتحان سے جوڑتے ہیں، مگر جب امتحانات کی شفافیت ہی مشکوک ہو جائے تو متاثر صرف نتائج نہیں ہوتے بلکہ ریاست پر اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔ کسی بھی حکومت کے لیے یہ سب سے بڑا خطرہ ہوتا ہے کہ نوجوان نظام پر یقین کھو دیں۔
    راہول گاندھی نے اس احتجاج کو یقینا سیاسی رنگ بھی دیا، اور ایک اپوزیشن رہنما ہونے کے ناطے یہ ان کا سیاسی حق ہے۔ مگر اصل سوال یہ نہیں کہ اپوزیشن نے کیا کیا، بلکہ یہ ہے کہ حکومت نے کیا کیا؟ اگر پارلیمنٹ میں کھلی بحث ہوتی، طلبہ کے خدشات کو سنجیدگی سے لیا جاتا اور ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی جاتی تو شاید احتجاج اس حد تک نہ پہنچتا۔ جمہوریت میں اختلاف کا جواب دلیل سے دیا جاتا ہے، طاقت کے مظاہرے سے نہیں۔
    یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مضبوط اکثریت بعض اوقات حکومتوں کو یہ احساس دلا دیتی ہے کہ عوامی حمایت مستقل ہے، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ ووٹ اور اعتماد دو الگ چیزیں ہیں۔ انتخابات جیتنے سے حکومت بنتی ہے، مگر نوجوانوں کا اعتماد صرف شفافیت، انصاف اور جوابدہی سے حاصل ہوتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جس پر مودی حکومت کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
    آج بھارت صرف ایک تعلیمی بحران کا سامنا نہیں کر رہا بلکہ یہ اس کی جمہوری روایت کا بھی امتحان ہے۔
    جب طلبہ سوال کریں، اساتذہ اصلاحات مانگیں اور اپوزیشن احتجاج کرے تو حکومت کے پاس دو راستے ہوتے ہیں۔ ایک راستہ مکالمے، شفاف تحقیقات اور اصلاحات کا ہوتا ہے، جبکہ دوسرا راستہ انکار، سختی اور وقت گزاری کا۔ بدقسمتی سے موجودہ منظرنامے میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دوسرا راستہ زیادہ نمایاں ہے۔
    دنیا بھر میں جمہوریتوں کی مضبوطی اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ حکومت کتنی طاقتور ہے، بلکہ اس سے کہ وہ تنقید کو کتنے حوصلے سے سنتی ہے۔ جو حکومتیں ہر مخالف آواز کو سازش، ہر احتجاج کو سیاست اور ہر سوال کو دشمنی سمجھنے لگیں، وہاں جمہوریت کا حسن آہستہ آہستہ ماند پڑنے لگتا ہے۔
    بھارت کے لیے یہ لمح فکریہ ہے۔ اگر نوجوانوں کی بے چینی کو محض اپوزیشن کی سیاست قرار دے کر نظر انداز کیا گیا تو مسئلہ وقتی طور پر دب تو سکتا ہے، مگر ختم نہیں ہوگا۔ نوجوانوں کے دلوں میں پیدا ہونے والی مایوسی کسی بھی ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہوتی ہے، کیونکہ یہی نوجوان مستقبل کی معیشت، سیاست اور سماج کی بنیاد ہوتے ہیں۔
    مودی حکومت کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ طاقت کے بجائے اعتماد کا راستہ اختیار کرے۔ اختلافی آوازوں کو دشمن سمجھنے کے بجائے انہیں سنے، احتجاج کو قانون و انتظام کا مسئلہ بنانے کے بجائے اس کے اسباب دور کرے، اور یہ ثابت کرے کہ بھارت واقعی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، صرف آبادی کے اعتبار سے نہیں بلکہ جمہوری رویوں کے اعتبار سے بھی۔ ورنہ تاریخ شاید یہی لکھے کہ “وشو گرو” بننے کے سفر میں نئی دہلی اپنے ہی نوجوانوں کی آواز سننا بھول گیا تھا، اور جب سوال بلند ہوئے تو جواب دلیل سے نہیں، طاقت سے دینے کی کوشش کی گئی۔

  • ایران امریکا ڈیل کی نئی اُمیدیں،  خام تیل کی قیمتوں میں کمی آگئی

    ایران امریکا ڈیل کی نئی اُمیدیں، خام تیل کی قیمتوں میں کمی آگئی

    لندن (ویب ڈیسک )ایران کے خلاف امریکی حملوں میں وقفے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی آگئی۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر 2 ہفتوں سے جاری حملوں میں وقفہ دینے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 5.58 ڈالر یا 5.77 فیصد کمی کے بعد 91.20 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے۔دوسری جانب امریکی خام تیل4.91 ڈالر یا 5.50 فیصد سستا ہو کر 84.40 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کی امید نے تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات کو کم کیا، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔واضح رہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے روکنے کا حکم دیا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق 13 روز سے جاری کارروائی روکنے کا حکم جمعے کو دیا گیا ۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ حملے ایک روز کے لیے روکے گئے ہیں یا جنگ بندی کردی گئی ہے ۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • پیٹرول لاگت سے 125 روپے 42 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل 112 روپے 54 پیسے مہنگا

    پیٹرول لاگت سے 125 روپے 42 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل 112 روپے 54 پیسے مہنگا

    اسلام آباد(ویب ڈیسک ) ملک میں پیٹرول لاگت سے 125 روپے 42 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 112 روپے 54 پیسے مہنگا ہے۔پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں شامل لیوی، ٹیکسز اور مختلف مارجنز کی تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک لیٹر پیٹرول پر مجموعی طور پر 125 روپے 95 پیسے جبکہ ایک لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 112 روپے 54 پیسے لیوی، ٹیکس اور مارجنز وصول کیے جا رہے ہیں۔دستاویزات کےمطابق ایک لیٹرپیٹرول کی بنیادی لاگت 209 روپے 76 پیسے بنتی ہے تاہم حکومت نے فی لیٹر قیمت 335 روپے 18 پیسے مقرر کی ہے، پیٹرول پر 80 روپے پیٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی، 17 روپے 28 پیسے کسٹمز ڈیوٹی، 7 روپے 16 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن شامل ہے۔ اسی طرح فی لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت 270 روپے 92 پیسے ہے جبکہ حکومت نے اس کی قیمت 383 روپے 46 پیسے فی لیٹر مقرر کی ہے۔ دستاویز کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل پر مجموعی طور پر 112 روپے 54 پیسے کی لیوی، ٹیکسز اور مختلف مارجنز وصول کیے جا رہے ہیں، ہائی اسپیڈ ڈیزل کے فی لیٹر پر پیٹرولیم لیوی 70 روپے 82 پیسے اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی 5 روپے کے حساب سے عائد ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کے فی لیٹر میں 15 روپے 68 پیسے کسٹمز ڈیوٹی، 4 روپے 53پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن شامل ہے۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • امریکا کیساتھ مذاکرات کی بحالی کیلئے تیار ہیں، ایران نے پاکستان کو آگاہ کردیا

    امریکا کیساتھ مذاکرات کی بحالی کیلئے تیار ہیں، ایران نے پاکستان کو آگاہ کردیا

    اسلام آباد(ویب ڈیسک )ایران نے پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے تیار ہے۔پاکستان اور قطر کی ثالثی میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرانے کی سفارتی کوششوں میں ایک اہم پیشرفت سامنے آرہی ہے جس کے مطابق امریکا اور ایران نے مذاکرات کی بحالی کے لیے پیش کی گئی نئی تجاویز پر اپنے جوابات پاکستان اور قطر کے حوالے کر دیے ہیں ان تجاویز کا مقصد مشرق وسطی میں جاری کشیدگی میں کمی اور فریقین کے درمیان معطل ہونے والے مذاکرات کی راہ ہموار کرنی ہے۔
    عرب نشریاتی ادارے “العربیہ” کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران نے پاکستان اور قطر کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر اپنے اپنے مؤقف سے ثالث ممالک کو آگاہ کر دیا ہے۔مذکورہ رپورٹ میں کیے گئے دعوے کے مطابق ایران نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اسلام آباد میمورنڈم کی روشنی میں امریکا کے ساتھ جینوا دوحا یا اسلام آباد میں مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔یادرہے کہ ایران مذاکرات میں پہلے آبنائے ہرمز اس کے بعد اپنے منجمد اثاثوں اور آخر میں اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت کا خواہاں ہے، تاہم وہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی نئی بحری راہداری کے قیام کو مسترد کرتا ہے۔ العربیہ کی رپورٹ کے پیشِ نظر یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مسلسل دوسری رات بھی امریکا کی جانب سے ایران پر حملے نہیں کیے گئے اور نہ ہی ایران کی جانب سے خطے میں موجود امریکی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا نے تصدیق کی ہے کہ امریکا نے گزشتہ دو راتوں کے دوران ایران پر حملے نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا کیونکہ ہماری حکمت عملی بنیادی طور پر جوابی رد عمل پر مبنی ہے اس لیے ہم نے بھی اپنی فوجی کاروائیاں روک رکھی ہیں۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • بھارت  دہشتگردی کا سب سے بڑا سرپرست ہے، خواجہ آصف کا راجناتھ سنگھ کو کرارا جواب

    بھارت دہشتگردی کا سب سے بڑا سرپرست ہے، خواجہ آصف کا راجناتھ سنگھ کو کرارا جواب

    اسلام آباد (ویب ڈیسک )وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارتی ہم منصب راجناتھ سنگھ کے متنازع اور اشتعال انگیز بیان کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھارتی وزیرِ دفاع کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔خواجہ آصف نے بھارتی وزیر دفاع کے اشتعال انگیز بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات سیاسی بیان بازی اور زبردستی کے رویے کے ذریعے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ قانونی حقائق کو مسخ کرنے کی ایک مسلسل کوشش کی عکاسی کرتے ہیں، یہ نہ تو بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی حیثیت کو بدل سکتے ہیں اور نہ ہی علاقائی امن، استحکام یا معنی خیز مذاکرات میں کوئی تعاون پیش کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے، جس کا حتمی فیصلہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی آزادانہ طور پر ظاہر کی گئی خواہشات کے مطابق ہونا باقی ہے۔پاکستان نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی وزیر دفاع کے بیانات کو اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیدیاان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو بدنام کرنے کی بھارت کی بار بار کی جانے والی کوششیں، ریاست کی سرپرستی میں جاری اس کی اپنی دہشت گردی اور مجرمانہ سرگرمیوں کے ٹھوس ریکارڈ کی روشنی میں مکمل طور پر ناقابلِ اعتبار ہیں، درحقیقت، بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست اور عدم استحکام کا اصل ذمہ دار ہے، جس نے اپنے جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم کی وجہ سے پورے خطے کو یرغمال بنا رکھا ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ اسی طرح بھارت کی یہ غیر ذمہ دارانہ بیان بازی بھی انتہائی تشویشناک ہے، جو خطے میں بین الریاستی تنازعات کے خطرے کو مزید بڑھا رہی ہے، پاکستان امن اور مذاکرات کے لیے پرعزم ہے، لیکن اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے دفاع کا اس کا عزم حتمی اور غیر متزلزل ہے، جسے آزمانے کی غلطی کبھی نہیں کی جانی چاہیے۔خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیرِ دفاع کی یہ زبردستی کی بیان بازی دراصل بھارت کی اندرونی کشیدگی، بڑھتی ہوئی بے چینی اور مودی کی آمرانہ و تفرقہ انگیز طرزِ حکومت کے خلاف عوامی غصے سے توجہ ہٹانے کی ایک ناکام کوشش ہے
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • محکمہ موسمیات کی  ملک میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات کی ملک میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    اسلام آباد(ویب ڈیسک )محکمہ موسمیات نے سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور کشمیر میں آج تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آج تھرپارکر، عمرکوٹ، میر پور خاص اور دیگر علاقوں میں موسلادھار بارش ہوسکتی ہے جبکہ کراچی میں بھی آج بوندا باندی یا ہلکی بارش کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات نے ڈیرہ غازی خان اور شمال مشرقی بلوچستان میں موسلا دھار بارش کی پیشگوئی اور ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • پاکستان کو بڑا دھچکا، اہم کھلاڑی کرکٹ سیریز سے باہر

    پاکستان کو بڑا دھچکا، اہم کھلاڑی کرکٹ سیریز سے باہر

    لاہور (ویب ڈیسک )پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کے ابھرتے ہوئے اوپنر عبداللہ فضل کمر کے نچلے حصے میں انجری کے باعث ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف آئندہ ٹیسٹ سیریز سے باہر ہو گئے ہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے مطابق یہ انجری جمعرات کو ٹرینیڈاڈ کے برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں ٹریننگ سیشن کے دوران پیش آئی جہاں ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا جائے گا۔ایم آر آئی اسکین اور طبی معائنے کے بعد ٹیم کے میڈیکل پینل نے انہیں بحالی کے عمل سے گزرنے کا مشورہ دیا ہے جبکہ متبادل کھلاڑی کے حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔23 سالہ عبداللہ فضل نے مئی میں بنگلادیش کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا اور اپنے پہلے ہی میچ کی دونوں اننگز میں نصف سنچریاں بنائی تھیں۔ویسٹ انڈیز سلیکٹ الیون کے خلاف وارم اپ میچ میں بھی وہ دونوں اننگز میں ناٹ آؤٹ رہے اور بالترتیب 50 اور 48 رنز اسکور کیے تھے۔ان کی عدم موجودگی میں مڈل آرڈر بیٹر اویس ظفر کے ٹیسٹ ڈیبیو کے امکانات روشن ہو گئے ہیں جبکہ امام الحق کے دوبارہ اوپننگ جوڑی کا حصہ بننے کی توقع ہے۔قومی کپتان بابر اعظم نے عبداللہ فضل کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک باصلاحیت اور پراعتماد نوجوان کھلاڑی ہیں جن کا ٹیم سے باہر ہونا پاکستان کے لیے بڑا نقصان ہے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • کالے دھن سے ذخیرہ اندوزی کرنے والوں نے گندم کے نرخ آسمان تک پہنچا دیئے

    کالے دھن سے ذخیرہ اندوزی کرنے والوں نے گندم کے نرخ آسمان تک پہنچا دیئے

    اسلام آباد:(ویب ڈیسک ) کالے دھن سے ذخیرہ اندوزی کرنے والوں نے گندم کے نرخ 4850 روپے تک پہنچا دیئے۔
    سندھ اور پنجاب کی حکومتوں نے اپنے کسانوں سے ربیع کی فصل کی گندم 3500 روپے فی 40 کلو گرام خریدنے کا فیصلہ کیا جبکہ نان اسٹیک ہولڈرز نے کالے دھن سے اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 4700 سے 4850 روپے فی 40 کلو گرام کر دی ہے، صوبوں کے محکمہ خوراک ان گندم ذخیرہ کرنے والے مافیا کے آگے بوجوہ بے بس ہو گئی ہے۔
    کیا صوبوں کے وزرائے اعلیٰ متعلقہ فوڈ ڈپارٹمنٹ کے سربراہان سے ان کی ناکامی کی باز پرس نہیں کریں گے کیونکہ جمعہ 24 جولائی کو غیر قانونی گندم کا ذخیرہ کرنے والوں نے 3500 روپے فی 40 کلو گرام سرکاری خرید کی گندم کھلم کھلا، اوپن مارکیٹ میں 1000 سے 1250 روپے فی 40 کلوگرام محکمہ خوراک کے سامنے فروخت کی ہے اور کراچی سے لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور اور دوسری منڈیوں میں گندم کے جو نرخ ریکارڈ کیے گئے وہ 4700 سے4850 روپے تک ذخیرہ اندوزوں نے پہنچا دیئے۔
    وفاقی حکومت کا فوری طورپر 10لاکھ ٹن گندم درآمد کرنےکافیصلہ
    گندم کی قیمتیں کراچی ، پورٹ قاسم کورنگی میں 11650سے 11700روپے 100 کلو گرام، حیدر آباد کوٹری 11400 روپے سے 11500روپے فی 100 کلوگرام، راولپنڈی اسلام آباد میں 4750 روپے فی 40 کلو گرام، ٹیکسلا، واہ کینٹ، اسلام آباد اور راولپنڈی میں 4850 روپے فی 40 کلوگرام، رحیم یار خان میں 4600 روپے، لاہور میں 4650 روپے،گوجرانولا میں 4650 روپے فی 40 کلو گرام اور پشاور میں 12650 روپے فی 100کلوگرام سے تجاوز کر گئی۔