Blog

  • کراچی: شاپنگ سینٹر میں آگ پر قابو پالیا گیا، 150 دکانیں متاثر

    کراچی: شاپنگ سینٹر میں آگ پر قابو پالیا گیا، 150 دکانیں متاثر

    کراچی(کنزیومر واچ نیوز) راشد منہاس روڈ پر شاپنگ مال میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کے بعد کولنگ کا عمل مکمل کرلیا گیا۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان ریسکیو 1122 نے بتایا کہ شاپنگ سینٹر میں آگ کی اطلاع صبح 4 بجکر 6 منٹ پر ملی جس پر قابو پانے کے لیے مجموعی طور پر 12 فائرٹینڈر نے حصہ لیا۔ترجمان ریسکیو 1122 نے بتایا کہ شاپنگ سینٹر کی عمارت میں فائر الارمنٹ سسٹم موجود تھا، فائر الارمنٹ سسٹم غیر فعال ہونے کی وجہ سے آگ پھیلی، عمارت کی تیسری منزل پرموجود 150 کے قریب دکانیں متاثر ہوئیں جب کہ عمارت کی پہلی اور دوسری منزل جزوی طور پر متاثر ہوئی ہے۔ ترجمان کے مطابق آگ عمارت کے کنٹرول روم میں لگی اور تیزی سے پھیلی، جس وقت آگ لگی اس وقت شاپنگ سینٹر میں گارڈ موجود تھے، آگ پر قابو پانے کے بعد کولنگ کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے۔

  • ہمیں پتا ہے ایرانی سپریم لیڈر کہاں ہیں لیکن ابھی نشانہ نہیں بنانا چاہتے : ٹرمپ

    ہمیں پتا ہے ایرانی سپریم لیڈر کہاں ہیں لیکن ابھی نشانہ نہیں بنانا چاہتے : ٹرمپ

    واشنگٹن (کنزیومر واچ نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایکس پر جاری بیان میں کہاہے کہ ’’ہمارے پاس ایران کے آسمانوں کا مکمل کنٹرول ہے ‘‘۔تفصیلات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناتھا کہ ہمارے پاس ایران کی فضاؤں کا مکمل کنٹرول ہے ، ایران کے پاس بڑی مقدار میں اچھے فضائی ٹریکنگ سسٹمز اور دیگر دفاعی آلات موجود تھے لیکن یہ امریکہ کے بنائے گئے سازو سامان کا مقابلہ نہیں کر سکتے ، امریکہ سے بہتر کوئی نہیں کر تا۔ دوسری جانب امریکی صدر کا ایک اور بیان میں یہ بھی کہناتھا کہ ’’ہمیں معلوم ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر کہاں چھپے ہوئے ہیں ، وہ ایک آسان ہدف ہیں لیکن وہ وہاں محفوظ ہیں کیونکہ ہم انہیں فی الحال شہید کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں بنا رہے ، ہم یہ بھی نہیں چاہتے نہتے شہریوں یا امریکی فوجیوں پر میزائل حملے کیئے جائیں، ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہاہے ، آپ کی توجہ کا شکریہ ‘‘۔امریکی صدر ٹرمپ نے یکے بعد دیگرے تیسری ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ایران سے غیر مشروط سرینڈر کرنے کا مطالبہ کیا ۔

  • ایرا ن  نے اسرائیل پر سائبر حملہ کردیا،اسرائیل کی تصدیق

    ایرا ن نے اسرائیل پر سائبر حملہ کردیا،اسرائیل کی تصدیق

    تہران (کنزیومر واچ نیوز)ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری شدید کشیدگی میں ایک نیا محاذ کھل گیا ہے جب ایران کی جانب سے اسرائیل پر سائبر حملہ کیا گیا جس میں ہزاروں اسرائیلی شہریوں کے موبائل فونز کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق شہریوں کو ایسے پیغامات موصول ہوئے جن میں انہیں پناہ گاہوں میں جانے اور ایندھن ذخیرہ کرنے کی ہدایات دی گئیں۔اسرائیلی حکام نے فوری طور پر اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایران کا ڈیجیٹل حملہ ہے اور شہری ان پیغامات پر توجہ نہ دیں۔یہ سائبر حملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران نے پیر اور منگل کی درمیانی شب اسرائیل پر ایک اور بڑا میزائل اور ڈرون حملہ کیا جس کا نشانہ تل ابیب اور حیفہ بنے۔ اس حملے کے نتیجے میں حیفہ آئل ریفائنری مکمل طور پر بند ہو گئی جبکہ کم از کم تین ملازمین ہلاک ہوئے۔حالیہ اعداد و شمار کے مطابق جمعے سے اب تک ایرانی میزائل حملوں میں 24 اسرائیلی ہلاک اور 600 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں جب کہ ملک کے مختلف حصوں میں بنیادی تنصیبات شدید متاثر ہوئی ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا سائبر حملہ ایک نیا اسٹریٹجک رخ ہے جس سے اسرائیل کے داخلی نظام اور عوامی اعتماد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسرائیلی حکام نے تمام اہم اداروں کو الرٹ کر دیا ہے اور ممکنہ مزید سائبر حملوں کے خطرے سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں۔

    facebook

  • اسرائیلی جارحیت پر مسلم ممالک کا اہم مشترکہ اعلامیہ جاری

    اسرائیلی جارحیت پر مسلم ممالک کا اہم مشترکہ اعلامیہ جاری

    جدہ (کنزیومر واچ نیوز)ایران کے خلاف مسلسل اسرائیلی جارحیت اور حملوں کے خلاف مسلم ممالک نے مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا۔ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مشترکہ اعلامیہ مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری فوجی جارحیت کے باعث بے مثال کشیدگی کے پیش نظر جاری کیا گیا۔مشترکہ اعلامیہ کی توثیق پاکستان، عراق، سعودی عرب، قطر، کویت، مصر، اردن، الجزائر اور بحرین نے کی۔برونائی دارالسلام، چاڈ، اتحاد القمری،جبوتی، لیبیا، موریتانیہ، صومالیہ اور سوڈان بھی توثیق کرنے والے ممالک میں شامل ہیں، ترکیہ، عمان اور متحدہ عرب امارات نے بھی مشترکہ اعلامییہ کی توثیق کی۔مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ 13 جون سے ایران پر اسرائیل کے حالیہ حملوں کو یکسر مسترد کرتے ہیں، 13 جون سے ایران پر اسرائیل کے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ہر اُس اقدام کی مخالفت کرتے ہیں جو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد و اصولوں کی خلاف ورزی ہو، ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام، حسن ہمسائیگی اور تنازعات کے پرامن حل پر زور دیتے ہیں۔اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت کو فوری طور پر روکنے کی اشد ضرورت پر زور دیتے ہیں، اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ہو رہی ہے۔کشیدگی کو کم کرنے، مکمل جنگ بندی اور امن کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں، اس خطرناک بگاڑ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں جو پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔مشرق وسطیٰ کو جوہری اور دیگر مہلک ہتھیاروں سے پاک علاقہ بنانے کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں، جو خطے کی تمام ریاستوں پر بلا امتیاز لاگو ہوگا۔اس میں مزید کہا گیا کہ متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق۔ نیز، مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک کی این پی ٹی (جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے) میں شمولیت پر زور دیتے ہیں، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں موجود جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔اس طرح کے اقدامات بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی انسانی قانون اور 1949 کے جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی ہیں، ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے پائیدار معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کے راستے پر فوری واپسی کو لازمی قرار دیتے ہیں۔مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یہی واحد قابل عمل راستہ ہے، بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں جہاز رانی کی آزادی کو متعلقہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق یقینی بنانے اور سمندری سلامتی کو نقصان پہنچانے سے گریز کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔خطے کے مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری، مزاکرات اور حسن ہمسائیگی کے اصولوں کی پاسداری کو ہی واحد قابل عمل راستہ قرار دیتے ہیں، اس امر کو واضح کرتے ہیں کہ فوجی ذرائع سے اس بحران کا پائیدار حل ممکن نہیں۔

  • ایران کے اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز سے تباہ کن حملے

    ایران کے اسرائیل پر میزائلوں اور ڈرونز سے تباہ کن حملے

    تہران (کنزیومر واچ نیوز)ایران نے چوتھی بار اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب اور حیفہ شہر پر بیلسٹک میزائل و ڈرون داغ دیے جس کے بعد اسرائیل میں سائرن بج اٹھے ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق حیفہ کے رمات ڈیوٹایئربیس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جبکہ اسرائیل نے بھی تہران پر تازہ حملہ کیا ہے۔ایرانی حملے کے بعد اسرائیل میں حیفہ ریفائنری کو مکمل بند کر دیا گیا جبکہ حملے میں 3 ملازمین ہلاک ہوئے ہیں۔پاسداران انقلاب کے ترجمان جنرل علی محمد نے کہا کہ آپریشن وعدہ صادق سوم کی یہ 9ویں لہر ہے جو صبح تک جاری رہے گی۔ ہم دشمن کو ایک لمحہ کے لیے بھی امن میسر نہیں ہونے دیں گے۔ایرانی سیکیورٹی کونسل نے اس سے قبل بیان دیا تھا کہ آج چوتھا دن انتہائی خطرناک ہوگا اور اسرائیل کو رات کے وقت دن کا منظر دکھائے دے گا۔قبل ازیں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے تہران کے عوام اور ایران نے تل ابیب کے شہریوں کو فوری طور انخلا کی ہدایت کرتے ہوئے بڑے حملوں کا اعلان کیا ہے۔

  • فوج کی اصل طاقت پاکستانی عوام ہیں، فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر

    فوج کی اصل طاقت پاکستانی عوام ہیں، فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر

    واشنگٹن(کنزیومرواچ نیوز) فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہےکہ بھارت سے دہشتگردی پر بات ہوگی اور جلد دنیا دیکھے گی کہ کئی اہم چیزیں رونما ہوں گی۔فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر نے امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں پاکستانی کمیونٹی کے بڑے اجتماع سے خطاب کیا جس میں انہوں نے آپریشن بنیان مرصوص سےمتعلق کئی نئے پہلووں سے لوگوں کو روشناس کیا اور پاکستان میں دہشتگردی، اقتصادی صورتحال، امریکا سے تعلقات کی نوعیت اور ایران اسرائیل جنگ سمیت کئی اہم امور پر تفصیلی بات چیت بھی کی۔ذرائع کے مطابق امریکا بھر سے آئے 400 کے قریب انتہائی اہم کمیونٹی لیڈرز سے خطاب میں فیلڈ مارشل نے کہا کہ پہلگام واقعہ کے بعد بھارت نے رابطہ کرکے الزام تراشی کی اور مطالبہ کیا کہ پاکستان اس واقعہ کو دہشتگردی قرار دے جس پر اسے دو ٹوک اندازمیں بتایا گیا کہ بھارتی تسلط کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں اور ایسے واقعات دہشتگردی نہیں قرار دیے جاسکتے۔جنرل عاصم منیر نے کہا کہ بھارت پر یہ بھی واضح کیا گیا کہ چار افراد کا الزام پاکستان پر لگایا جارہا ہے تو مقبوضہ وادی میں تعینات لاکھوں بھارتی فوجی اس وقت کیا کررہے تھے؟ ہر 10 کلومیٹر پر بھارتی چیک پوسٹ میں موجود اہلکار کیا کررہے تھے جو چار افراد 250 کلومیٹر چل کر پہلگام گئے، لوگوں کو قتل کیا اور واپس چلے گئے، کیا وہ چار لوگ سُپرمین تھے اور کیا بھارتی فوج کی ناکامی پر اس فوج کی چُھٹی نہیں کردینی چاہیے۔فیلڈ مارشل نے مزید کہا کہ بھارت پر جب واضح کیا گیا کہ پاکستان اس واقعہ کو دہشتگردی نہیں مانتا تو دھمکی دی گئی کہ پھر کارروائی کے لیے تیار رہیں مگر پاکستان دھمکی آمیز لہجہ خاطر میں نہیں لایا۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے حملے کے بعد بھارت نےہاٹ لائن پر رابطہ کیا اور کہا کہ بھارت نے جو کرنا تھا کرلیا، اب صبح 9 بجے بھارت بات چیت کے لیے تیار ہے جس پر اسے باور کرایا گیا کہ پاکستان نے جو کرنا ہوا کرلے گا، پھر فیصلہ کریں گے کہ بات کرنا ہے یا نہیں، اس دوران دنیا کی لیڈرشپ کے بھی فون آئے کہ پاکستان کارروائی سے اجتناب کرے مگر دنیا کو بتایا گیا کہ بھارت کے طیارے محض دفاع میں گرائے ہیں اور بھارتی جارحیت کا جواب ہر صورت دیا جائے گا، اس طرح عالمی مطالبات کے باوجود وطن کی حرمت اور قوم کے ناموس کےلیے پاکستان اپنے ارادوں پر قائم رہا۔فیلڈ مارشل نے حکومت اور افواج پاکستان کےدرمیان اس آپریشن میں ربط کا بھی خاص طور پر ذکر کیا اور کہا کہ انہوں نے وزیراعظم شہبازشریف سے جب صورتحال پر بات کی تو وزیراعظم نے دریافت کیا کہ لڑائی بڑی جنگ میں تبدیل ہونے کے کس قدر امکانات ہیں، ہماری طاقت کس قدر ہے، اس پر انہیں بتایا کہ ففٹی ففٹی چانسز ہیں کہ یہ لڑائی کسی بڑی جنگ میں بدل سکتی ہے، شہبازشریف نے بلاتامل کہا کہ آپ بسم اللہ کریں، اللہ ہمارے ساتھ ہے، یہ ایک سیاسی لیڈر کا فنٹاسٹک (زبردست) ردعمل تھا۔ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل نے بھارت کے خلاف کارروائی کو آپریشن بنیان مرصوص نام دیے جانےکی وجہ بتاتےہوئے کہا کہ وہ ائیر مارشل ظہیراحمد بابر سدھو کے ساتھ بیٹھے تھے اور ائیرچیف انہیں بتا رہے تھے کہ دفاع پاکستان کے لیے فضائیہ کیسے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئی اور جوانوں کاجذبہ کس قدر بلند تھا، اسی جذبہ، ہمت اور الفاظ کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے بھارت کیخلاف آپریشن کو قرآن کی آیت بنیان مرصوص یعنی سیسہ پلائی دیوار کا نام دیا۔بھارت کے خلاف جنگ میں چین کی مدد سے متعلق بات کرتے ہوئے فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ اس میں دو رائے نہیں کہ پاکستان نے چین کا کچھ ایکیوپمنٹ استعمال کیا مگر اس میں بھی شک نہیں کہ جس قدر عُمدگی سے یہ کام افواج پاکستان نے انجام دیا، اسی طرح اسے استعمال کرنا چین کےلیے بھی چیلنج ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ کس طرح بھارت کے نظام کو ہیک کیا گیا،سسٹم کریش کرکے بجلی غائب کردی گئی، ڈیمز کے اسپل وے کھول دیے، بی جے پی کی ویب سائٹ پر پاکستانی پرچم لہرائے، گجرات اور دہلی تک ڈرونز نے راج کیا، میزائل دفاعی نظام کو جکڑ لیا گیا اور فوجی اہداف کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا۔دلچسپ واقعہ بتاتے ہوئے جنرل عاصم منیر نے کہا کہ ایک جوان نے میزائل کی رینج کچھ بڑھادی تو اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ وہ بھی فوجی ہدف ہی پر جا کرلگا جب کہ پاکستان نے صرف ان 6 بھارتی طیاروں کو نشانہ بنایا جنہوں نے پاکستان پر میزائل فائرکیے تھے،لاک کیے جانے کے سبب اگر چاہتے تو 20 بھارتی طیارے مار گراتے مگر جنگ کےدوران اخلاقیات کا خیال رکھ کر مثال قائم کی گئی، یہ پانچ محاذوں پر جنگ تھی جن میں ہر محاذ پر ایک ساتھ اور مربوط انداز سے دشمن کو شکست دی گئی۔انہوں نے کہا کہ بھارت کو توقع نہیں تھی کہ دہشتگردی اور عسکریت پسندی کا شکار پاکستان کچھ کرسکےگا، بھارت کے نزدیک ہماری فوج مختلف محاذوں پر پھنسی ہوئی تھی لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ ہمارا نظام کس قدر مربوط ہے اور ہم شہادت کو مومن کی معراج سمجھتے ہیں، مجھے ماردیا جائے تو میرا بیٹا محاذ پر کھڑا ہو کر وطن کے دفاع کے لیے آگے بڑھے گا، جنگ میں اللہ کا خاص کرم ہوا اور اس نے پاکستان کو اقوام عالم میں شناخت دی۔فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ پاکستانی افواج کی اصل طاقت عوام ہیں جس نے اپنی فوج کا پوری طرح ساتھ دیا، جنگ کے موقع پر ہرطبقے کا ردعمل اس قدر منظم اور پرفیکٹ تھا کہ جیسے یہ اسکرپٹڈ رسپانس ہو۔آرمی چیف نے بھارت کے خلاف فتح کا کریڈٹ لینے سے گریز کیا اور فتح مکہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بنیان مرصوص کی کامیابی کو معجزہ قرار دیا۔مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں امریکی صدر کے کردار پر بات کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 13 بار کشمیر پر بات کی ہےاور جلد دنیا دیکھے گی کہ کئی اہم چیزیں رونما ہوں گی، بھارت سے دہشتگردی پر بات ہوگی تو پھر 1971 کا بھی حوالہ سامنےآئے گا کہ کس طرح بھارت نے مکتی باہنی بناکر دہشتگردی کی تھی۔ جنرل عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے معاملے پر امریکا اور بھارت ایک پیج پر نہیں، بھارت پاکستان میں دہشتگردی کرانا چاہتا ہے جب کہ امریکا اس دہشتگردی کا مخالف ہے۔ملک کی اقتصادی صورتحال پر بات کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ امریکا، یوکرین سے محض 400 سے 500 ارب ڈالر کے معدنی دھاتوں کا معاہدہ کرنا چاہتا ہے، پاکستان نے کہا ہے کہ ہمارے پاس ایک کھرب ڈالر کے ایسے ذخائر موجود ہیں، امریکا اگر سرمایہ کاری کرے تو ہر سال 10 سے 15 ارب ڈالر کا فائدہ حاصل کرسکتا ہے اور یہ سلسلہ 100 سال تک جاری رہے گا،پاکستان چاہتا ہے کہ دھاتوں کی پراسسینگ پاکستان میں ہو تاکہ روزگار کے مواقع بڑھیں۔انہوں نے کہا کہ اگلے 5 برسوں میں پاکستان تیزی سے ترقی کرے گا اور قیام پاکستان کے صد سالہ جشن یعنی 2047 میں اللہ نے چاہا تو یہ ملک جی 10 کا حصہ بن چکا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کرپٹوکونسل اورامریکن کرپٹو کونسل کا معاہدہ ہوگا اور کرپٹو مائننگ میں پاکستان کردار ادا کرےگا، یہی نہیں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ڈیٹا سینٹرز بھی کھولے جائیں گے۔ انہوں نے اس دور کا حوالہ دیا کہ جب مال روڈ پر اہل تشیع کا جلوس نکلتا تھا تو اہل سنت سبیلیں لگاتے تھے، وہ دور بھی تھا کہ جب لاہور میں ہپی ڈانس کیا کرتے تھے۔حال میں موجود بعض افراد کی جانب سے یہ کہنے پر کہ ہمیں پرانا پاکستان چاہیے، فیلڈ مارشل نے کہا کہ ہمیں نیا یا پرانا نہیں، ہمیں ہمارا پاکستان چاہیے۔مختلف شعبہ ہائے فکر کے مایہ ناز امریکی پاکستانیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ آپ جیسے لوگ برین گین ہیں اور ایسا برین گین ہر روز ہونا چاہیے۔تقریب کے آغاز میں پاکستانی سفیر نے خطاب میں کہا کہ بھارت نے جنگ مسلط کی تو پاکستان پوری طرح تیار تھا، بھارت کے 20 جہاز نشانے پر تھے مگر صرف 6 کو نشانہ بنایا گیا کیونکہ پاکستان دشمن کو ہوش کے ناخن لینے کا موقع دینا چاہتا تھا، دنیا کو یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ پاکستان خطے میں امن اور سلامتی چاہتا ہے۔تقریب میں امریکی پاکستانی پبلک افیئرز کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر اعجاز احمد، صدر اے پی پیک ڈاکٹر پرویز اقبال، ڈاکٹر طارق ابراہیم، اسد چوہدری اورندیم اختر بھی موجود تھے۔ پاکستان میں نسٹ کے لیے 9 ملین ڈالر عطیہ کرنیوالے تنویر احمد نے بھی شرکت کی، انہی تنویر احمد کو فیلڈ مارشل نے اس سے پہلے خطاب میں اصل ہیرو قرار دیا تھا۔امریکی پاکستانی کمیونٹی نے کہا کہ اس سے پہلے انہوں نے پاک بھارت جنگ کے بارے میں مین اسٹریم میڈیا یا سوشل میڈیا پر خبریں سنی تھیں جن کی صداقت پر انہیں شکوک و شہبات تھے تاہم فیلڈ مارشل کا خطاب سن کر انہیں یقین ہوا ہے کہ پاکستان نے بھارت کو کس طرح دھول چٹائی اور جارحیت پر اُترا بھارت آخر کیسے جنگ بندی پر مجبور ہوا۔دوران تقریب کمیونٹی کے افراد پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد، تیرا ویر میرا ویر عاصم منیرعاصم منیر کے پُرجوش نعرے لگاتے رہے، ہال افواج، حکومت اور عوام کی تاریخی فتح پر تالیوں سے گونجتا رہا۔

  • ٹرمپ نے ایرانی شہریوں کو تہران خالی کرنے کی وارننگ دیدی

    ٹرمپ نے ایرانی شہریوں کو تہران خالی کرنے کی وارننگ دیدی

    واشنگٹن (کنزیومر واچ نیوز)امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی شہریوں کو دارالحکومت تہران خالی کرنے کی وارننگ دے دی۔سوشل میڈیا پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایران سے کہا تھا کہ نیوکلیئر ڈیل پر دستخط کردیں، انہیں ایسا کرنا چاہیے تھا۔صدرٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے بارہا کہا تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا، انسانوں جانوں کا ضیاع شرم کی بات ہے،ایران کسی صورت نیوکلیئر ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا۔صدر ٹرمپ نے ایرانی شہریوں کو خبردار کیا کہ ہر شخص تہران خالی کر دے۔

  • ساکنان شہر قاٸد عالمی مشاعرہ کے منتظم اعلی محمود احمد خان کے اعزاز میں تقریب پذیراٸ اور مشاعرہ

    ساکنان شہر قاٸد عالمی مشاعرہ کے منتظم اعلی محمود احمد خان کے اعزاز میں تقریب پذیراٸ اور مشاعرہ

    گزشتہ روز ادبی تنظیم کاروان شعر و سخن اور انٹرنیشنل کونسل آف آرٹس( کینڈا ) کے زیر اہتمام پاکستان سے تشریف لاۓ ساکنان شہر قاید عالمی مشاعرہ کے منتظم اعلی محمود احمد خان کے اعزاز میں خوبصورت تقریب بہ عنوان تقریب پزیرائی و مشاعرہ کا اہتمام کیا گیاتقریب کینڈا کے شہر ٹورنٹو کے مقامی ہال میں برپا کی گئی تقریب کی مسند صدارت پر دنیائے اردو کے ممتاز لکھاری و محقق و شاعر ڈاکٹر سید تقی عابدی جلوہ افروز رہے جبکہ مہمان خصوصی کی نشست پر پاکستان سے تشریف لائے صاحب اعزاز محمود احمد خان تشریف فرما رہے، تقریب کے نظامتی فرائض کینڈا میں مقیم ممتاز علمی و ادبی شخصیت سردار خان نے ادا کئے تقریب کی خوبصورت بات سردار خان کی نظامت تھی جسے سامعین نے بہت پسند کیا کاروان شعرو سخن اور انٹرنیشنل کونسل آف آرٹس( کینڈا )کے ڈائریکٹر بشارت ریحان جو کے کینڈا میں ادبی تقریبات کی کامیابی کی ضمانت ہیں ان کی بے پناہ کاوشات سے تقریب انتہائی کامیاب رہی اور سامعین و ناظرین کی تعداد نے اس جانب اشارہ کیا کہ ہال میں گنجائش کم پڑ گئی کئی سامعین نے کرسیاں خالی نہ ہونے کے سبب مشاعرہ ہال میں کھڑے ہوکر سماعت کیا تقریب کا آغاز حمد و نعت کے اشعار سے کیا گیا، ہر دل عزیز شخصیت اور تقریب کے میزبان بشارت ریحان نے تقریب کے آغاز میں اک نئی بنیار رکھی وہ یہ کہ صدر تقریب سے آغاز تقریب میں درخواست کی گئی کہ صدر محفل ڈاکٹر سید تقی عابدی ابتدایہ خطبہ پیش کریں جس پر ناظم مشاعرہ سردار خان نے صدر محفل کو ڈائس پر مدعو کیا صدر محفل نے حضرت داغ دہلوی پر شاندار گفت گو فرمائی جسے ہال میں موجود تمام احباب نے نہ صرف توجہ سے سماعت کیا بلکہ بشارت ریحان کی اس کاوش کو بہت سراہا گیا، بعد از خطبہ ابتدائیہ مشاعرہ کا آغاز کیا گیا مشاعرہ میں جن شعرا و شاعرات نے کلام پیش کیا ان کے اسمائے گرامی یوں رہے، بابر نصراللہ خان ساہی، سلیم افتخار بیگ، صبیحہ خان صبیحہ، حمید حمیدی، عبدلحئی بشارت،بشری سعید، ڈاکٹر عظمی محمود، بشارت ریحان، اسماوارثی، سلمان اطھر، توقیر اے خان، قیصر وجدی، رشید ندیم ، ڈاکٹر سید تقی عابدی، مشاعرہ میں مدعو تمام شعرا نے خوبصورت کلام کا انتخاب کیا اور سامعین سے خوب داد حاصل کی تقریب کے مہمانان اعزازی رشید ندیم اور توقیر اے خان نے کہا کہ آج کی تقریب ایک یادگار تقریب رہی جسے برسوں یاد رکھا جائے گا،اور ہم انٹرنیشنل کونسل آف آرٹس، (کینڈا) اور کاروان شعرو سخن کے ڈائریکٹر اور باکمال شاعر بشارت ریحان کو کامیاب تقریب کے انعقاد پر مبارکباد باد پیش کرتے ہیں، صدر ،صاحب اعزاز اور مہمان خصوصی محمود احمد خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کی تقریب میں نہ صرف اسٹیج پر قد آوار شخصیات موجود ہیں بلکہ سامعین میں باکمال علمی و ادبی سماعتیں موجود ہیں اس طرح کی شخصیات کا کسی ایک تقریب میں یکجا ہونا بلاشبہ ایک انوکھا کمال ہے مجھے یہ کہتے کوئی آر نہیں کہ کینڈا سے اس تقریب کی صورت میں انتہائی قیمتی یاد اپنے ساتھ لیکر جاوں گا اور میں بشارت ریحان جن کی کاوشات سے آج کی تقریب اپنی کامیابی کے عروج پر پہنچی انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں ،صدر تقریب ڈاکٹر سید تقی عابدی نے اپنے صدارتی خطبے میں فرمایا کہ کینڈا میں ادبی تقریبات کی پہچان اور تقریبات کی کامیابی کی ضمانت بشارت ریحان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، اور ان سے کہتا ہوں کہ ان کی ہر تقریب کے لئے میں ہر وقت موجود ہوں مجھے بشارت ریحان کی تقریبات میں شرکت سے قلبی خوشی محسوس ہوتی ہے، اور محمود احمد خان کی کاوشات فروغ ادب و زبان پر ان کی تعریف کی اور کہا کہ بلاشبہ ساکنان شہر قاید عالمی مشاعرہ نہ صرف پاکستان کی شناخت ہے بلکہ ساکنان شہر قاید کے مشاعرہ کو محمود خان کی سچی لگن، دیانت اور محنت نے آج اس قابل بنا دیا ہے کہ دنیا بھر کے شعرا اس مشاعرہ میں شرکت اپنے لئے باعث اعزاز جانتے ہیں، اختتام تقریب پر میزبان اور ڈائریکٹر حمید حمیدی نے تمام احباب کا شکریہ ادا کیا جبکہ ڈائریکٹر کاروان شعر و سخن،اور انٹرنیشنل کونسل آف آرٹس بشارت ریحان نے آئندہ بھی ایسی تقریبات کے انعقاد کا یقین دلایا اور کہا کے انٹرنیشنل کونسل آف آرٹس کے چیئرمین شعیب ناصر جو کہ آسٹریلیا کے دورے کے سبب آج تقریب میں شامل نہیں ہیں مگر ان کے صاحب ذادے ظفر زکریا جو کہ انٹرنیشنل کونسل آف آرٹس کے ڈائریکٹر بھی ہیں آج ہمارے ساتھ موجود ہیں آج ان کی کاوشات سے مشاعرہ نا صرف دنیا بھر میں لائیو دیکھا گیا بلکہ انہوں نے مشاعرہ کی بہترین ریکارڈنگ کی اس پر میں ان کا متشکر ہوں اور دیگر تمام تنظیموں کو پیغام دیا کہ میں بنا رنگ و مذہب و نسل فروغ ادب کے لئے سب کہ ساتھ ہوں، مشاعرہ ہال میں سامعین کے لئے چائے و دیگر لوازمات کا اہتمام کیا گیا، اختتام مشاعرہ بشارت ریحان نے ہال میں موجود تمام احباب کے لئے شاندار عشائیہ کا اہتمام کیا، اسطرح ایک یاد گار اور کامیاب تقریب اختتام کو پہنچی

  • کنیکٹیکٹ کے کسانوں کے بازار (Farmers Market) میں ایک دن۔      حمیرا گل تشؔنہ

    کنیکٹیکٹ کے کسانوں کے بازار (Farmers Market) میں ایک دن۔ حمیرا گل تشؔنہ

    کنیکٹیکٹ، جو اپنے خوبصورت موسم، تاریخی اہمیت اور زرعی ثقافت کے لیے مشہور ہے، وہاں موسم گرما میں کسانوں کے بازار (Farmers’ Markets) کا انعقاد یہاں کے لوگوں کے لیے ایک منفرد و دلچسپ مشغلہ ہوتا ہے۔ یہ بازار نہ صرف تازہ اور مقامی پیداوار کی خریداری کا بہترین ذریعہ ہیں بلکہ یہ کمیونٹی کے لوگوں کے درمیان روابط کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔ جیسے ہی فارمز مارکیٹ کا موسم ہوا کنیکٹیکٹ کے لوگوں نے کسانوں کے بازار کا رخ کیا۔ جو نہ صرف مزیدار کھانوں اور تازہ سبزیوں سے بھرپور ہوتا ہے بلکہ کمیونیٹی کو جوڑے رکھنے کا ایک خوبصورت ذریعہ ہے۔ جو یہاں کے لوگوں کی گرمجوشی اور ثقافتی رنگینی سے دلوں پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔

    صبح سویرے میں نے کنیکٹیکٹ کے ایک چھوٹے سے قصبے ساؤتھ ونڈزر (South Windsor) کی طرف لگنے والی فارمرز مارکیٹ کا رخ کیا۔ موسم خوشگوار تھا، ہلکی ہوا چل رہی تھی اور پرندوں کی چہچہاہٹ ماحول کو رومانوی بنا رہی تھی۔ (نوٹ: ایسے بازاروں کا آغاز صبح کے 8 بجے تک ہو جاتا ہے۔) بازار کا آغاز ہوتے ہی لوگ اپنے اسٹالز لگانے میں مصروف تھے۔ ہر طرف تازہ پھلوں، سبزیوں، پھولوں، گھریلو بنے ہوئے اچار، جیمز، روٹی، دودھ، مکھن، صابن، پرفیوم (bodymist)، کپڑے، ہینڈ میڈ جیولری، پینٹنگز اور لکڑی سے بنائی گئی مصنوعات کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔

    سب سے پہلے میں نے ایک بزرگ کسان کے اسٹال پر رک کر اس سے بات کی، جو تازہ سیب، ناشپاتی اور انگور فروخت کر رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ گذشتہ 40 سال سے پھل اُگا رہا ہے اور یہ بازار اس کے خاندان کی روایت بن چکا ہے۔ اس کی باتوں سے مجھے اندازہ ہوا کہ کسانوں کے لیے یہ صرف ایک کاروبار نہیں بلکہ ایک جذبہ ہے۔

    پھر میں ایک خاتون کے اسٹال پر پہنچی، جو گھر پر بنی ہوئی جیلیں اور اچار بیچ رہی تھیں۔ اس نے مجھے مختلف ذائقوں کی جیلیں چکھنے کو دیں، جن میں اسٹرابیری، بلیک بیری اور پیچ کی جیلیاں شامل تھیں۔ ہر ایک کا ذائقہ منفرد اور لذیذ تھا۔ اس خاتون نے بتایا کہ وہ اپنی دادی کے نسخوں کو زندہ رکھنا چاہتی ہے، جو نسل در نسل چلے آ رہے ہیں۔

    کنیکٹیکٹ کے کسانوں کے بازار کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں تمام پیداوار مقامی اور نامیاتی ہوتی ہے۔ میں نے دیکھا کہ لوگ بڑے شوق سے تازہ سبزیاں، پھل، انڈے، دودھ، پنیر اور دیگر چیزیں خرید رہے تھے۔ ایک اسٹال پر میں نے رنگ برنگے ٹماٹر دیکھے، جن میں سرخ، پیلے، اور سیاہ ٹماٹر شامل تھے۔ کسان نے مجھے بتایا کہ وہ انہیں قدرتی طریقے سے اُگاتا ہے، جس میں کسی قسم کی کیمیکلز کا استعمال نہیں ہوتا۔

    کسانوں کے بازار میں صرف کھانے پینے کی چیزیں ہی نہیں بلکہ ہاتھ سے بنی ہوئی دستکاری اور آرٹ کی چیزیں بھی دستیاب تھیں۔ میں نے ایک اسٹال پر خوبصورت ہاتھ سے بنے ہوئے موم بتیاں، لکڑی کے برتن اور ہینڈ میڈ جویلری دیکھی۔ ایک مقامی فنکار نے مجھے بتایا کہ وہ اپنے فن کو فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو اس کی اہمیت بھی سمجھاتا ہے۔

    بازار میں ایک کونے میں ایک مقامی بینڈ لوگوں کے لیے موسیقی بجا رہا تھا۔ کچھ لوگ گیتوں پر ناچ رہے تھے، جبکہ کچھ بیٹھ کر موسیقی کا لطف اٹھا رہے تھے۔ تو دوسری طرف بازار کے بچوں کے کھیلنے کے لیے جمپنگ ہاؤس لگائے گئے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے لگا کہ یہ بازار صرف خرید و فروخت کا مرکز نہیں بلکہ یہ لوگوں کے لیے ایک سماجی میل جول کا بھی موقع ہے۔

    دن کے کھانے کے لیے بازار میں موجود کئی فوڈ اسٹال تھے۔ جیسے کہ کنیکٹیکٹ اسٹائل لابسٹر رول، ریشم ریستوران کے سموسے اور چاٹ، ولا ریستوران کے بنے لبنیز کھانے، تازہ لیمونیڈ اور ایپل سائیڈر ونیگر کے اسٹال شامل تھے۔ میں نے ولا ریستوران سے من پسند لبنیز کھانے کا آرڈر دیا جس کا ذائقہ بے مثال تھا۔ کھاتے ہوئے میں نے دیکھا کہ لوگ مختلف اسٹالز سے تازہ پیزا، باربی کیو، اور گھر پر بنے ہوئے کیک بھی خرید رہے تھے اور اس سے لطف اندوز بھی ہو رہے تھے۔

    دن کے اختتام پر میں نے کچھ تازہ پھل، گھر پر بنی ہوئی جیلیاں اور ایک ہاتھ سے بنا ہوا مٹی کا برتن، گھر کا بنا صابن اور موم بتی خریدی۔ یہ تمام چیزیں نہ صرف میری خریداری تھیں بلکہ یہ کنیکٹیکٹ کے لوگ ان کی ثقافت اور کسانوں کی محنت کا ایک حصہ تھیں۔

    کنیکٹیکٹ کے کسانوں کے بازار میں گزارا گیا یہ دن میرے لیے نہ صرف تفریح کا ذریعہ تھا بلکہ اس نے مجھے مقامی ثقافت، کسانوں کی محنت اور قدرتی خوراک کی اہمیت سے بھی روشناس کرایا۔ یہاں کا ماحول دوستانہ تھا، ہر شخص خوش نظر آ رہا تھا، اور ہر اسٹال پر ایک نئی کہانی چھپی ہوئی تھی۔ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو آپ کو فطرت اور انسانیت کے قریب لے آئے گا۔

  • میں جہاں بھی ہوں  اللہ میرے ساتھ ہے،ارم زہرا ۔چین

    میں جہاں بھی ہوں اللہ میرے ساتھ ہے،ارم زہرا ۔چین

    ‎چین میں مقیم ہونا صرف تعلیم یا رہائش کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ایک نئی تہذیب اور منفرد ثقافت کا سامنا کرنے جیسا تجربہ ہے۔ یہاں رہتے ہوئے اکثر ہمیں ہسبینڈ کے ادارے کی جانب سے مختلف تفریحی یا ثقافتی دوروں پر لے جایا جاتا ہے، جو ایک طرف خوشگوار تفریح ہوتے ہیں تو دوسری طرف ہمیں چین کی روایات کو قریب سےسمجھنے کا موقع دیتے ہیں لیکن جب کبھی ان دوروں میں کسی قدیم مندر جیسے مقام کی سیر کا حصہ بننا پڑے، تو دل کے اندر ایک الجھتا ہوا احساس جنم لیتا ، عقیدے اور مشاہدے کے درمیان جھولتا ہوا۔ جاؤں یا نہ جاؤں ؟
    ‎ہر بار دل میں ایک عجیب سی الجھن اورکشمکش جنم لیتی ہے ۔ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ایسے مقامات پر جانا اور وہاں کا ماحول سمجھنا ایک الگ ہی سوچ و فکر کا دروازہ کھول دیتا ہے۔
    یہ وہ جگہیں ہیں جہاں ہر سال ہزاروں زائرین آتے ہیں، جہاں دھواں، گھنٹیاں، اور پرانی دعاؤں کی گونج ہے۔ وہاں جانے سے پہلے ہم نے کئی سوال اپنے دل میں رکھے
    کیا ہمیں جانا چاہیے؟ اگر جانا ہے، تو کیا ہمیں صرف خاموش رہنا چاہیے، یا اپنے مذہب کی طرف لوگوں کی توجہ دینی چاہیے؟ کیا یہ ایک موقع ہے کہ ہم اپنے ایمان کی مضبوطی کو پرکھیں؟ یا پھر یہ بہتر ہوگا کہ سادگی سے منع کر دیں؟ مگر چونکہ یہ دورے ثقافتی نوعیت کے ہوتے ہیں اور اکثر ان کا مقصد کوئی فلم یا ڈاکیومینٹری بنانا ہوتا ہے، اس لیے ایسی جگہوں پر جانا اور وہاں کے مناظر، تاریخ اور ماحول کو سمجھنا ہر بار ضروری بن جاتا ہے۔
    میں نے سوچا، شاید ایمان کا مطلب یہی ہے کہ ہم دوسروں کے عقیدے کا احترام کریں اور اپنے ایمان کو بھی دل میں سلامتی کے ساتھ بسائیں۔ جس خدا کو میں مانتی ہوں، وہی سب کا خدا ہے، بس مختلف ناموں اور صورتوں میں۔ یہ بات میرے دل کو ایک سکون دیتی ہے کہ شاید یہ مندر میرے ایمان کے خلاف نہیں، بلکہ اس کا
    ایک مختلف اظہار ہے۔
    چین میں قیام کا ہر دن ایک نئی کہانی، ایک نیا منظر، اور ایک نیا تجربہ لے کر آتا ہے۔یہاں رہتے ہوئے کئی بار ایسے دوروں میں مختلف مندروں تک جانے کا موقع ملا، ہر ایک اپنی تاریخ اور ماحول میں منفرد تھا، لیکن آج میں جس سفر کی داستان لکھنے جا رہی ہوں وہ چنگدو کے نواح میں واقع ایک قدیم بدھ مندر کی ہے۔ ایک ایسا مقام جو اپنے سکوت، تاریخ اور روحانی فضا کے باعث چین میں ایک خاص مقدس مقام کی حثیت رکھتا ہے
    ‎صبح کی ہلکی دھند ابھی فضا میں باقی تھی جب ہم یونیورسٹی کی بس میں سوار ہوئے۔ کھڑکی سے باہر کا منظر جیسے کسی چینی مصور کی پینٹنگ ہو۔ اونچے پہاڑ دھوئیں کی طرح اُڑتے بادلوں میں چھپے ہوئے، اور کہیں کہیں چیری بلاسم کے درخت اپنی نرم گلابی پنکھڑیوں کے ساتھ خاموشی سے موسمِ بہار کی آمد کی خبر دے رہے تھے۔ بس میں ہلکی ہلکی گفتگو اور کیمروں کی کلک کلک تھی، مگر میرے دل میں ایک ہلکی سی خلش بھی تھی کیونکہ ہمارا سفر ایک ایسے مقام کی طرف تھا جو مذہبی طور پر میرے لیے اجنبی اور کسی حد تک حساس تھا۔
    ‎چین میں مندروں کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے، اور یہ صرف مذہبی عبادت گاہیں نہیں بلکہ فن، فلسفہ، سیاست، اور معاشرتی زندگی کا مرکز بھی رہی ہیں۔ چینی مندروں کا تعلق تین بڑے مذاہب یا روحانی نظریات سے رہا ہے ۔ جن میں بدھ مت ، معروف مندر ، تاؤمت مندر شامل ہیں
    ‎چینی مندروں میں جانا صرف مذہبی یا سیاحتی عمل نہیں بلکہ یہ چین کی تہذیب، آرٹ، تاریخ، اور روحانیت سے جڑنے کا ایک راستہ ہے۔
    Zhaojue Temple
    ‎ جو چنگدو کے نواح میں واقع ہے اور اس کا آغاز ہان خاندان کے دور سے منسوب کیا جاتا ہے ۔
    ‎یہ زمانہ (206 ق م – 220 عیسوی) نہ صرف چین کی سلطنتی طاقت کا سنہرا باب تھا، بلکہ فکری، روحانی اور ثقافتی بیداری کا آغاز بھی یہی تھا۔ اس عہد میں پہلی بار بدھ مت شاہراہِ ریشم کے ذریعے چین پہنچا، اور شہنشاہوں نے اس نئے عقیدے کو اپنانے والوں کو نہ صرف آزادی دی بلکہ بعض اوقات سرپرستی بھی فراہم کی۔
    ‎بدھ راہب ہندوستان سے آئے، اور ان کے ساتھ علم، نسخے، مجسمے، اور مراقبے کے فلسفے بھی آئے۔ ہان دربار میں ان کی بات سنی گئی، ترجمے ہوئے، اور پھر کچھ شہروں میں ابتدائی بدھ مندروں کی بنیاد رکھی گئی۔
یہی وہ وقت تھا جب بانس کی کھپچیوں پر مقدس صحیفے لکھے جاتے تھے، اور چٹانوں میں مجسمے تراشے جاتے تھے یعنی
    ‎ جب انسان لکڑی کے قلم اور بانس کی کھپچیوں پر الفاظ رقم کرتا تھا اور سوچنے کے لیے وقت، تنہائی اور سکون ہر شخص کے پاس موجود ہوتا تھا۔ جیسے ہی ہم مندر کے دروازے پر پہنچے، ایک گہری خاموشی نے ہمارا استقبال کیا۔ بلند و بالا دروازے، جن پر صدیوں پرانی نقش و نگار ثبت تھے، ایسے لگتے تھے جیسے وقت وہاں تھم سا گیا ہو۔
    ‎مندر کے احاطے میں داخل ہوتے ہی ہر شے خاموش، پُراسرار اور اپنی جگہ پر جامد محسوس ہوئی۔ سرخ رنگ کی دیواروں کے درمیان گونجتی ہوا، جلتی اگر بتیوں کی مہک، اور زرد رنگ کے چغے پہنے ہوئے راہب یہ سب کچھ کسی فلم کا منظر لگتا تھا۔ اور چونکہ اس دورے کا مقصد بھی ایک ڈاکیومینٹری بنانا تھا، اس لیے نہ صرف دیکھنا بلکہ محسوس کرنا بھی ضروری تھا۔
    ‎میں نے کیمرہ اٹھایا، اور ایک لمحے کے لیے خود کو اس داستان کا حصہ محسوس کیا جو صدیوں سے ان در و دیوار میں قید ہے۔ مذہبی اختلافات اپنی جگہ، مگر ثقافت، تاریخ اور انسان کی جستجو کا احترام کرنا بھی اس سفر کا اہم سبق تھا۔
    ‎یہ ایک ایسا لمحہ تھا جہاں عقیدے اور مشاہدے کا سنگم ہوا۔ ایک ایسی جگہ جہاں میں ایک سیکھنے والے کی حیثیت سے کھڑی تھی، خاموش، متجسس، اور اندر ہی اندر بہت کچھ سمیٹتی ہوئی۔
    مندر کے دروازے پر پہنچ کر میری سانس رک سی گئی۔ ہزار سال پرانی لکڑی کی کھڑکیاں، پھولوں کی خوشبو، اور ہوا میں گھلتی ہوئی خاموشی یہ سب کچھ ایک دوسرے میں گھل مل کر ایک ایسی دنیا بناتے تھے جو الفاظ سے باہر تھی۔ راہوں پر دھوئیں کے بادل، دیواروں پر کندہ پتھر کے نقش و نگار، اور ہر گوشے میں ایک داستان چھپی ہوئی تھی۔
    یہ وہی جگہیں ہیں جہاں راہب صدیاں گزارتے ہیں، دعا کرتے ہیں، اور خود کو دنیا کی عارضی چمک دھمک سے دور رکھتے ہیں۔ وہ اپنے اندر کی دنیا کی تلاش میں رہتے ہیں ۔ ایک ایسی تلاش جو شاید مذہب سے بھی بڑھ کر انسان کی روح کی گہرائیوں میں اترنے کا عمل ہے۔
    میں نے ایک کونے میں بیٹھ کر گرد و پیش کو غور سے دیکھا۔ لوگ اپنی دعائیں مانگ رہے تھے، گھنٹی بجا رہے تھے، اور موم بتی جلائی جا رہی تھی۔ ہر ایک کا چہرہ خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا، مگر ان آنکھوں میں گہرائی تھی، سکون تھا، اور ایک ربانی پیار کی جھلک تھی۔
    میری نظر ایک کنول کے پھول پر پڑی جو پانی کے حوض میں کھلا ہوا تھا۔ اس پھول کی خوبصورتی میں ایک پاکیزگی تھی جو میرے دل کو چھو گئی۔ میں نے سوچا، شاید یہی وہ خوبصورتی ہے جو ہر مذہب کا پیغام دیتا ہے ایک ایسی روشنی جو دل کے اندھیروں کو روشن کر دے۔
    اس مندر کی خاموشی مجھے بہت کچھ کہہ رہی تھی
    میں نے اپنے مسلمان ہونے پر فخر محسوس کیا، اور ساتھ ہی ان لوگوں کے عقیدے کی عزت بھی کی جن کی عبادت کا طریقہ مختلف تھا۔ یہ ایک خوبصورت توازن تھا جہاں دل میں ایمان کی گرمی ہو اور دماغ میں دوسروں کے عقیدے کی عزت۔
    مندر کے دروازے پر دو بوڑھے راہب بیٹھے تھے۔ ان کے چہروں پر عمر کی تہیں یوں جمی تھیں جیسے کسی کھنڈر پر وقت نے اپنا دستِ ہنر رکھا ہو۔ ان کے چہروں پر خوف نہیں تھا، نہ کوئی جلدی، نہ کوئی طلب صرف ایک ٹھہری ہوئی روشنی، جیسے کوئی ایسی بات وہ جانتے ہوں جو ہم سب بھول گئے ہیں۔ میں نے انہیں نی ہاؤ کہا یعنی سلام کیا۔ ان کی آنکھوں میں گہرا سکون تھا
    ایک مسلمان لڑکی ہونے کے ناتے، میرا دل ان مندروں کے دیوی دیوتاؤں کے مجسموں کو دیکھ کر تذبذب میں تھا، لیکن ساتھ ہی میرے ایمان کی بنیاد اس قدر گہری ہو چکی تھی کہ اب مجھے فرق دیکھنے میں دقت نہیں ہوتی تھی مجھے ہر چہرے میں خدا کی تلاش نظر آتی تھی، نہ کہ اس کا انکار۔
    میں نے خود کلامی کی جو دل ہر رنگ میں رب کو پہچانتا ہے، وہ کبھی دھوکہ نہیں کھاتا اور شاید یہ وہی لمحہ تھا جب میں نے سوچا کہ ایمان صرف مسجد کی اذان میں نہیں، وہ اس خاموشی میں بھی ہے جو ایک راہب اپنے تکیے پر چپ چاپ چھوڑ دیتا ہے۔ میں نے شکر ادا کیا کہ میں ایک مسلمان ہوں، پاکستانی ہوں، اور اس خامشی کو سننے کے لیے مجھے یہاں، اس غیرملکی، غیرمسلم سرزمین پر بھیجا گیا کیونکہ بعض اوقات اللہ اپنے بندے کو ہدایت کے لیے کسی بہت دور جگہ بھی بھیجتا ہے، تاکہ وہ اپنے دل کی گہرائی میں وہ روشنی دیکھ سکے جو اپنے شہر میں دھواں بن گئی تھی۔
    ‎مندر کے احاطے میں داخل ہوتے ہی سکون کی ایک دبیز چادر نے ہمیں گھیر لیا۔ سرخ دیواریں، زرد چغے میں ملبوس راہب، ہوا میں معلق اگر بتیوں کی خوشبو سب کچھ جیسے وقت کو تھامے کھڑا تھا۔ کچھ طلباء راہبوں سے گفتگو میں مصروف تھے، کچھ عقیدت سے سر جھکائے مجسموں کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے تھے۔
    ‎اسی لمحے ایک مقامی ساتھی نے مجھ سے پوچھ لیا، “کیا تم بھی ان مجسموں کے آگے جھکتی ہو؟”
    ‎میں مسکرائی اور نرمی سے کہا
    ‎تم بتوں کے سامنے جھکتے ہو، اور ہم اپنے رب کا سجدہ کرتے ہیں لیکن یہ سجدہ کسی مورت یا شبیہ کے لیے نہیں ہوتا۔ ہمارا سجدہ اُس رب کے لیے ہے جو بے صورت ہے، مگر ہر شے پر حاوی ہے؛ جو نظر نہیں آتا، مگر ہر دل کی دھڑکن میں موجود ہے۔ اللہ کو نہ کوئی شکل دی جا سکتی ہے، نہ ہی کوئی حد—مگر دل اس کی موجودگی کو ہر سانس میں، ہر لمحے محسوس کرتا ہے۔ یہی سجدہ ہے، سراسر تسلیم و رضا، خالص اپنے خالق کے لیے۔”
    ‎میری یہ بات سن کر وہ خاموش ہو گیا۔ شاید حیران تھا، یا سوچ میں گم۔ مگر میں جانتی تھی، کہ میں نے اپنے عقیدے کی روشنی سے اُس لمحے کے سکوت میں ایک چراغ سا جلا دیا تھا۔ یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جب ثقافتوں کے بیچ فرق نہیں، فہم جنم لیتا ہے۔
    مندر کے صحن میں ایسی خاموشی تھی جس میں پتوں کے گرنے کی آواز بھی سنائی دیتی تھی، جیسے کائنات کسی اہم مکالمے سے پہلے توقف میں ہو۔
    پھر میں نے رک کر کہا، “ہمارے خدا کا نام اللہ ہے۔ وہ ایک ہی ہے، سب کا خالق، سب کا مالک۔” وہ لمحہ میرے لیے وضاحت کا نہیں، بلکہ تصدیق کا تھا۔ میرے ایمان کی تصدیق کہ میں جہاں بھی ہوں، اللہ میرے ساتھ ہے، اور میرا عقیدہ کسی دیوار سے نہیں بندھا۔ میرا دل اس زمین پر بھی اپنے رب کو پکار سکتا ہے، جہاں لوگ ہزاروں سالوں سے اپنے معبودوں کو پوجتے آئے ہیں۔ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا مگر مجھے اس کے چہرے پر ایک گہری سوچ دستک دیتی نظر آئ ۔
    یہ سچ ہے کہ یہاں کے مندروں میں گوتم بدھ کے مجسمے ہیں، جن کے سامنے دیے جلتے ہیں، اگر بتیاں سلگتی ہیں، اور زائرین جھکتے ہیں لیکن میں نے ان چہروں پر سجدہ نہیں دیکھا، صرف تلاش دیکھی ایک ایسی تلاش جو انسان کو اپنے سے ماورا کسی شے کی طرف لے جاتی ہے۔
    میں نے مندر کے ایک کونے میں بیٹھے بوڑھے راہب کو دیکھا۔ وہ خاموشی سے آنکھیں بند کیے مراقبے میں تھا۔ مجھے لگا جیسے وہ اپنے ہی سوالوں سے بات کر رہا ہو۔
    میں دل ہی دل میں مسکرائی اور سوچا ہم سب تلاش میں ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ کوئی اسے ‘نروان’ کہتا ہے، کوئی ‘وصال’، کوئی ‘نور’، اور کوئی ‘سکونِ قلب ۔
    اور میں سوچ رہی تھی ۔ جب انسان اپنے خالق کی طرف ایک قدم بڑھاتا ہے، تو مذاہب کی دیواریں نہیں بلکہ دروازے بن جاتے ہیں اور ہر دروازے کے پیچھے وہی روشنی ہے، جو ایک سجدے میں ملتی ہے۔
    مندر سے نکلتے وقت میں نے چپکے سے اپنے رب کو دل ہی دل میں یاد کیا۔ میری زبان خاموش تھی، مگر دل ایک اذان بن چکا تھا۔
    اسی لمحے مجھے محسوس ہوا خدا واقعی ایک ہی ہے، اور وہ وہاں بھی ہے جہاں کوئ اُسے مانتا نہیں، لیکن وہ پھر بھی ہمیں سن رہا ہوتا ہے۔
    میں نے آسمان کی طرف دیکھا، اور دل میں ایک شکر کے آنسو گرے۔
    شکر اس بات کا کہ میرا عقیدہ مجھے بند نہیں کرتا، بلکہ وسعت دیتا ہے۔ شکر اس بات کا کہ میں کسی بھی جگہ جا کر، کسی بھی مذہب کو دیکھ کر، یہ کہنے کے قابل ہوں کہ میرا اللہ سچا ہے، اور میرا ایمان زندہ ہے۔
    مندر کے اندر ایک چھوٹا سا باغ تھا ۔چاروں طرف بانس کے درخت، اور بیچ میں ایک پتھر کا حوض، جس میں کنول کے پھول کھلے ہوئے تھے۔ کنول جسے بدھ مت میں پاکیزگی کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔کنول کی لطافت اور استقامت مجھے ہمیشہ سے متاثر کرتی رہی ہے۔ کیچڑ سے نکل کر کھلنے والا پھول، جیسے انسان کا دل ہو جو دنیا کی غلاظتوں سے بلند ہو کر کسی ربانی روشنی میں کھلتا ہے۔
    میں ایک ستون کے سائے تلے بیٹھی تھی، ہاتھ میں نوٹ بک، مگر قلم رکا ہوا تھا۔ ایسے وقت میں الفاظ کم پڑ جاتے ہیں، اور دل خود کو خاموشی کی گود میں رکھ کر سنتا ہے۔ اتنے میں، ایک دبلی پتلی سی عورت آہستہ آہستہ چلتی میرے قریب آ کر رک گئی۔ سفید لباس، چپ چاپ چال، اور آنکھوں میں ایسی چمک جیسے برسوں سے روشنی کو پیا ہو۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا پیالہ تھا جس میں گرم چائے بھاپ بن کر اٹھ رہی تھی۔
    وہ خاموشی سے بیٹھ گئی۔ چند لمحے گزرے، پھر اس نے میرے چہرے کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا،تم بہت کچھ سوچ رہی ہو۔میں ہنس پڑی۔سوچ تو رہی ہوں، مگر شاید سمجھ کم رہی ہوں۔اس نے چائے کاپیالہ اپنی چینی روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے میری طرف بڑھایا۔”
    تم مسلمان ہو؟”اس نے پوچھا۔ ہاں میں نے جواب دیا
    اور تمھارا خدا؟
    ایک، یکتا، بغیر کسی شکل کے، جو ہر جگہ موجود۔ میں نے پرسکون اندازمیں کہا
    وہ مسکرائی، اس نے کہا،
    ہمارے بدھ کی بھی کوئی حتمی شکل نہیں، صرف سکون ہے، آگہی ہے، مہربانی ہے۔ ہم سب یہاں کسی روشنی کو تلاش کرتے ہیں اور اس تلاش میں عمریں بیت جاتی ہیں ۔
    میں نے اسے بتایا کہ میں پاکستان سے ہوں، کہ میرے گھر میں جب اذان کی آواز آتی ہے، تو میں خاموشی سر جھکا لیتی ہوں کہ ہم اپنے رب کو ہر سانس میں پکارتے ہیں، ہر پریشانی میں یاد کرتے ہیں، اور ہر خوشی میں اس کا شکر ادا کرتے ہیں ۔ وہ بہت غور سے سن رہی تھی۔
    تمہارا شکر، ہمارے مراقبے جیسا ہے۔اس نے برجستہ کہا
    میں نے اس لمحے میں کچھ سیکھا کہ روحانی تجربہ کبھی کسی مذہب میں قید نہیں ہوتا، وہ ہر اس دل میں داخل ہوتا ہے جو صداقت کے لیے کھلا ہو۔
    جب وہ جانے لگی تو رک کر بولی،
    تم یہاں بار بار آنا، لیکن باہر کی خاموشی سے زیادہ اندر کی آواز سننا۔
    میں دیر تک وہاں بیٹھی رہی۔ وہ چائے کا پیالہ خالی ہو چکا تھا، مگر میری روح ایک نئے ذائقے سے لبریز تھی۔ شاید یہ ذائقہ دعا کا تھا ایسی دعا جو بغیر الفاظ کے، بغیر آداب کے، صرف احساس کی زبان میں ہوتی ہے۔
    انسان کا دل اگر سچا ہو، تو ہر عبادت گاہ مسجد بن جاتی ہے اور ہر خاموشی اذان۔ میں اپنی بے ترتیب سوچوں کو یکجا کیا اور الفاظ ترتیب دیئے ۔آج میں نے خاموشی سے سیکھا، اور دعا کی زبان سمجھی جو نہ عربی تھی، نہ چینی، بلکہ دل کی تھی۔
    واپسی کی راہ پر جب مندر کی چھتیں پیچھے رہ گئیں اور چنگدو کی بل کھاتی سڑکیں سامنے آنے لگیں یونیورسٹی کی بس میں بیٹھے سبھی طلبہ ہنس بول رہے تھے، کسی نے چھوٹے چھوٹے تحفے خریدے، کسی نے مجسموں کے ساتھ تصویریں بنوائیں اور کسی نے ہاتھ جوڑ کر ویڈیوز بنائیں۔ میرے پاس کوئی چیز نہ تھی سوائے اس ایک نوٹ بک کے، جس میں اب خاموشی کے ساتھ ایک مکمل دعا بند تھی۔
    یونیورسٹی میں رہتے ہوئے میں نے کئی بار اپنے مذہب پر تنقید سنی تھی، اور کئی بار خود بھی دوسروں کے عقائد کو ناسمجھی سے دیکھا تھا۔ مگر آج، اس مندر کی خاموشی، ایک راہبہ کی سادہ باتیں، اور کنول کے پھولوں کی نرم خوشبو نے مجھے یہ سکھایا کہ اصل علم وہ نہیں جو کتابوں میں لکھا ہو، بلکہ وہ ہے جو انسان کے دل میں نرمی اور آنکھوں میں روشنی بھر دے۔
    میرا مسلمان ہونا میری شناخت ہے، مگر میری انسانیت میری اصل پہچان ہے۔ میں فخر سے کہتی ہوں کہ میں ایک خدا کو ماننے والی ہوں ۔جو مجھے چین کے ایک مندر میں بھی سن لیتا ہے، اور پاکستان کے کسی گاؤں کی مسجد میں بھی اور یہی ایمان مجھے دوسروں کو عزت دینے کا سبق دیتا ہے کیونکہ سچ یہ ہے کہ ہم سب، کسی نہ کسی “وان نیان سی” کے مسافر ہیں کچھ اسے مندر کہتے ہیں، کچھ مسجد، اور کچھ محض ایک لمحہ۔
    اس سفر کے بعد جب میں اپنی یونیورسٹی کی لائبریری واپس پہنچی، تو پہلا کام یہی کیا کہ اس مندر کی تاریخ پر ایک تحقیقی مضمون لکھا۔ مگر میرا اصل مضمون وہی تھا جو میرے دل پر لکھا جا چکا تھا بغیر کسی زبان کے، بغیر کسی عنوان کے، صرف ایک احساس کے ساتھ۔
    کہتے ہیں سفر وہی سچا ہوتا ہے جو واپسی پر تمھیں وہ نہ رہنے دے جو تم پہلے تھے اور میں اب وہ نہ رہی تھی۔ میں اب خاموشی کو سننے لگی تھی، اختلاف کو سمجھنے لگی تھی، اور دعاؤں کو صرف عربی الفاظ میں نہیں، بلکہ ہر اس دل کی دھڑکن میں پہچاننے لگی تھی جو اپنے رب سے راستہ مانگ رہا ہواور تب مجھے احساس ہوا کہ رب تک پہنچنے کے لیے راستے مختلف ہو سکتے ہیں، مگر طلب کی سچائی ہی وہ واحد پُل ہے جو سب کو جوڑ دیتا ہے اور بس، وہی لمحہ ہوتا ہے جب انسان کا دل زمین سے اٹھتا ہے اور آسمان سے جا ملتا ہے۔