Blog

  • ائیر انڈیا کا مسافر طیارہ احمد آباد میں گرکر تباہ، تمام 242 مسافر ہلاک

    ائیر انڈیا کا مسافر طیارہ احمد آباد میں گرکر تباہ، تمام 242 مسافر ہلاک

    احمد آباد(کنزیومر واچ نیوز)بھارتی شہر احمد آباد میں سرکاری ائیرلائن ائیر انڈیا کا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہوگیا جس میں سوار تمام 242 مسافر ہلاک ہوگئے۔بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست گجرات کے شہر احمد آباد کے ائیرپورٹ کے قریب ائیر انڈیا کا مسافر بردار طیارہ گرگیا جس میں عملےکے 12 ارکان سمیت 242 مسافر سوار تھے، حادثےکا شکار طیارے میں گجرات کے سابق وزیراعلیٰ روپانی بھی سوار تھے۔طیارہ احمد آباد ائیرپورٹ سے لندن جارہا تھا کہ ٹیک آف کرنے کے چند سیکنڈز بعد ہی گرکر تباہ ہوگیا بھارتی میڈیا کا بتانا ہےکہ حادثےکا شکار طیارے میں 169 بھارتی شہری، 53 برطانوی، ایک کینیڈین اور 7 پرتگالی شہریوں سمیت 11 بچے بھی موجود تھے۔

  • عاصم اظہر اور انکی منگیتر میرب نے راہیں جدا کرلیں، انسٹا اسٹوری وائرل

    عاصم اظہر اور انکی منگیتر میرب نے راہیں جدا کرلیں، انسٹا اسٹوری وائرل

    کراچی (کنزیومر واچ نیوز)پاکستانی گلوکار عاصم اظہر اور ان کی منگیتر اداکارہ میرب علی نے راہیں جدا کرلیں۔عاصم اظہر نے انسٹاگرام پر ایک اسٹوری اپ لوڈ کرتے ہوئے منگیتر میرب علی سے علیحدگی کا اعلان کیا۔عاصم نے اسٹوری میں فینز کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ‘ہم ایک ذاتی بات آپ سے شیئر کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارے فینز او دوستوں کاحق ہے’۔عاصم اظہر نے بتایا کہ کافی سوچ و بچار اور غور و فکر کے بعد میں نے اور میرب نے باہمی رضامندی سے الگ راستے اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ ہم نے خوبصورت لمحات شیئر کیے اور ایک مشترکہ مستقبل کی امید رکھی، لیکن زندگی ہمیشہ ہماری مرضی کے مطابق نہیں چلتی۔ ہم ایک دوسرے اور اپنے خاندانوں کی دل سے عزت کرتے ہیں اور ہمیشہ کرتے رہیں گے۔

  • اسرائیل کسی بھی وقت ایران پر حملہ کرسکتا ہے: امریکی میڈیا

    اسرائیل کسی بھی وقت ایران پر حملہ کرسکتا ہے: امریکی میڈیا

    واشنگٹن (کنزیومر واچ نیوز)امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کسی بھی وقت ایران پر حملہ کرسکتا ہے۔امریکی میڈیا نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ اسرائیل کسی بھی وقت ایران پر حملہ کرسکتا ہے اور اسرائیل نے ایران پر حملے کی پیشگی اطلاع امریکا کو بھی کردی ہے۔ اسرائیلی حکام نے امریکا کو بتایا کہ اسرائیل ایران میں آپریشن کے لیے پوری طرح تیار ہے رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے امریکا کو بتایا کہ اسرائیل ایران میں آپریشن کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق ایران اسرائیلی حملے کے ردعمل میں ممکنہ طور پر عراق میں موجود امریکی سائٹس پر حملہ کرسکتا ہے جس کے باعث امریکا نے مشرق وسطیٰ میں موجود اپنے کچھ شہریوں کو فوری وہاں سے نکلنے کی ہدایت کی ہے۔ امریکا نے مشرق وسطیٰ سے اپنے غیر سفارتی عملے کے رضاکارانہ انخلا کی منظوری دیدی اس کمے علاوہ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے فوجی خاندانوں کے اہلخانہ کو رضاکارانہ طور پر مشرقی وسطیٰ چھوڑنے کا اختیار دیدیا ہے۔دوسری جانب ایران اسرائیل کشیدگی کے باعث گزشتہ روز امریکی وزیر دفاع نے مشرق وسطیٰ سے اپنے غیر سفارتی عملے کے رضاکارانہ انخلا کی منظوری دے دی ہے۔امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ فوجیوں اور ان کے اہلِ خانہ کی حفاظت اور سلامتی ہماری ترجیح ہے۔علاوہ ازیں ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کے ساتھ کوئی تنازعہ چھڑتا ہے تو وہ خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔ایرانی وزیر دفاع نے کہا کہ امید ہے نوبت وہاں تک نہیں پہنچے گی اور مذاکرات کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے لیکن اگر ایسا نہ ہوا اور ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو دشمن کے نقصانات ایران کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوں گے ۔ ایران اور امریکا اس وقت یورینیئم کی افزودگی کے معاملے پر شدید سفارتی کشیدگی کا شکار ہیں۔ایران اور امریکا اپریل سے اب تک 5 بار مذاکرات کر چکے ہیں تاکہ 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کی جگہ ایک نیا معاہدہ کیا جا سکے۔اب امریکا اور ایران کے جوہری مذاکرات کا چھٹا دور اتوار کو مسقط میں متوقع ہے۔

  • چیئرمین سینیٹ اور اسپیکرنے اپنی اپنی تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ خود کیا، ذرائع

    چیئرمین سینیٹ اور اسپیکرنے اپنی اپنی تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ خود کیا، ذرائع

    اسلام آباد: (کنزیومر واچ نیوز)چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں بھاری بھرکم اضافے کے معاملے میں نئی کہانی سامنے آگئی۔ نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی نے اپنی اپنی تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ خود کیا۔ذرائع کا کہنا ہےکہ چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین سیینیٹ کی تنخواہوں میں اضافہ سینیٹ کی ہاؤس فنانس کمیٹی نےکیا جب کہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافہ قومی اسمبلی کی ہاؤس فنانس کمیٹی نےکیا۔ذرائع نے بتایا کہ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نےچند ماہ قبل سینیٹ کی ہاؤس فنانس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی اور سردار ایاز صادق نے چند ماہ قبل قومی اسمبلی کی ہاؤس فنانس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔ذرائع کے مطابق دونوں الگ الگ اجلاسوں میں 4 افراد کی تنخواہیں بڑھانے کا فیصلہ خاموشی سے کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کا قومی اسمبلی و سینیٹ کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، حکومت پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو بجٹ فراہم کرتی ہے، اس بجٹ کے استعمال میں قومی اسمبلی اور سینیٹ خود مختار ہیں جب کہ وزیراعظم قانون کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ وزیراعظم نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے لیکن وہ اس میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرسکتے، وہ اخلاقی طور پر دونوں شخصیات کو پیغام دے سکتے ہیں یا کابینہ سے کہا جاسکتا ہے تاہم دونوں ایوانوں کی فنانس کمیٹی اس حوالے سے فیصلہ کرسکتی ہے۔واضح رہےکہ وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کی ہے۔گزشتہ روز پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں ک اس حوالے سے سوال کرنے پر وزیر خزانہ نے وزرا، ارکان پارلیمنٹ، چیئرمین اور اسپیکر کی تنخواہوں میں اضافے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی تنخواہوں میں 2016 سے اضافہ نہیں ہوا۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان مراعات اور تنخواہوں کو مالی فحاشی قرار دیا ہے۔واضح رہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ کی بھاری بھرکم تنخواہوں میں اضافے پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔

  • رجب بٹ باز نہیں آئے، بھانجی کے عقیقے پر دولت کی نمائش

    رجب بٹ باز نہیں آئے، بھانجی کے عقیقے پر دولت کی نمائش

    لا ہور (کنزیو مر واچ نیوز)پاکستان کے متنازع یوٹیوبر رجب بٹ ایک بار پھر اپنی دولت کی نمائش پر تنقید کا نشانہ بن گئے۔رجب بٹ کی بھانجی آیت زہرا کے عقیقے کے موقع پر منعقدہ تقریب میں پیسوں کی بے تحاشا برسات اور انہیں پیروں تلے روندنے کے مناظر نے سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا کر دیا ہے۔تقریب کی وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ رجب بٹ، ان کی اہلیہ ایمان اور دیگر فیملی ممبرز ننھی بچی پر پیسے برسا رہے تھے۔ لیکن جو چیز سب سے زیادہ قابل اعتراض تھی، وہ زمین پر بکھرے ہوئے نوٹوں کو پیروں تلے روندتے ہوئے مناظر۔ یہ منظر دیکھ کر صارفین غصے سے پھٹ پڑے۔سوشل میڈیا صارفین نے اس واقعے کو پیسوں کی بے حرمتی قرار دیتے ہوئے رجب بٹ اور ان کے خاندان کو کھل کر تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’اگر یہ پیسہ حلال کا ہوتا تو اس طرح اڑایا نہیں جاتا۔‘‘ جبکہ دوسرے نے کہا، ’’یہ عقیقہ نہیں بلکہ محض ایک تماشا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی دولت کی نمائش کرنا چاہتے ہیں۔‘‘عوام کی بڑی تعداد نے اسے پیسوں کی توہین اور غریبوں کے منہ پر طمانچہ قرار دیا، جہاں امیر طبقات دکھاوے کے لیے کرنسی زمین پر گرا رہے ہیں اور دوسری طرف کروڑوں لوگ دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔یہ پہلا موقع نہیں جب رجب بٹ اپنی دولت کی نمائش پر تنقید کا نشانہ بنے ہیں۔ ماضی میں بھی وہ اپنی مہنگی گاڑیوں، گھروں اور شاپنگ کی ویڈیوز کی وجہ سے بحث کا موضوع بنتے رہے ہیں۔ تاہم، اس بار ان کا یہ رویہ خاصا قابل اعتراض ہے کیونکہ یہ ایک مذہبی تقریب کے موقع پر تھا۔

  • بجٹ کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی

    بجٹ کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی

    کراچی(کنزیومر واچ نیوز)وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ پیش کیے جانے کے اگلے ہی دن اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی جا رہی ہے۔بدھ کے روز بازارِ حصص میں کاروبار کا آغاز 2296 پوائنٹس کے بڑے اضافے کے ساتھ ہوا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 24 ہزار 314 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔گزشتہ روز وفاقی حکومت کی جانب سے نئے مالی سال 2025-26 کا بجٹ پیش کیا گیا تھا، جس کے بعد پی ایس ایکس میں مثبت رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے اور کاروبار میں دلچسپی سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد کو ظاہر کررہی ہے۔حکومت نے گزشتہ روز 17 ہزار 573 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا ہے، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فی صد اضافے کے علاوہ پنشن میں بھی 7 فیصد اضافے کی تجویز دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے تنخواہوں پر انکم ٹیکس کی شرح میں بھی کمی کی ہے۔

  • بجٹ میں ریلیف؛ کتنی تنخواہ پر کتنا ٹیکس کٹے گا؟

    بجٹ میں ریلیف؛ کتنی تنخواہ پر کتنا ٹیکس کٹے گا؟

    اسلام آباد (کنزیو مر واچ نیوز)وفاقی حکومت نے بجٹ 2024-25 میں تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس میں نمایاں کمی کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت ہر سطح کی آمدن والے ملازمین کو ریلیف دیا گیا ہے۔ٹیکس ریلیف کے تحت ماہانہ 50 ہزار روپے تنخواہ پر مکمل چھوٹ دی گئی ہے جب کہ ایک لاکھ روپے ماہانہ کمانے والے افراد کا ٹیکس 2,500 روپے سے کم کر کے صرف 500 روپے کر دیا گیا ہے۔
    تنخواہوں میں ریلیف کے حوالے سے مزید تفصیلات کے مطابق:
    ماہانہ ڈیڑھ لاکھ تنخواہ پر ٹیکس 10 ہزار سے کم ہو کر 6 ہزار روپے
    ماہانہ 2 لاکھ تنخواہ پر ٹیکس 19,167 سے کم ہو کر 13,500 روپے
    2 لاکھ 25 ہزار پر ٹیکس 25,417 سے کم ہو کر 19,250 روپے
    2 لاکھ 50 ہزار پر ٹیکس 31,667 سے کم ہو کر 25 ہزار روپے
    3 لاکھ تنخواہ پر ٹیکس 45,833 سے کم ہو کر 38,833 روپے
    ساڑھے 3 لاکھ پر ٹیکس 61,250 سے کم ہو کر 54,250 روپے
    4 لاکھ تنخواہ پر ٹیکس 78,750 سے کم ہو کر 71,750 روپے
    5 لاکھ پر ٹیکس 1,13,750 سے کم ہو کر 1,06,750 روپے
    ساڑھے 5 لاکھ پر ٹیکس 1,31,250 سے کم ہو کر 1,24,250 روپے
    6 لاکھ پر ٹیکس 1,48,000 سے کم ہو کر 1,41,000 روپے
    8 لاکھ تنخواہ پر ٹیکس 2,18,000 سے کم ہو کر 2,11,000 روپے
    10 لاکھ تنخواہ پر ٹیکس 3,17,000 سے کم ہو کر 3,07,000 روپے
    15 لاکھ پر ٹیکس 5,10,000 سے کم ہو کر 4,98,000 روپے
    20 لاکھ پر ٹیکس 7,02,000 سے کم ہو کر 6,89,000 روپے
    25 لاکھ پر ٹیکس 8,95,000 سے کم ہو کر 8,79,000 روپے
    28 لاکھ پر ٹیکس 10,10,000 سے کم ہو کر 9,94,000 روپے
    30 لاکھ پر ٹیکس 10,87,000 سے کم ہو کر 10,70,000 روپے کر دیا گیا ہے۔
    حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد تنخواہ دار طبقے کو مہنگائی کے تناظر میں ریلیف فراہم کرنا ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق ٹیکس فارم کو بھی سادہ بنایا جا رہا ہے تاکہ عام افراد اسے خود بھر سکیں۔

    f

  • بجٹ میں ہر طبقےکو جس حد تک ممکن ہوا ریلیف دیا گیا، وزیرخزانہ

    بجٹ میں ہر طبقےکو جس حد تک ممکن ہوا ریلیف دیا گیا، وزیرخزانہ

    اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ہر ممکن حد تک ریلیف دیا ہے۔پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ روز پیش کیے گئے بجٹ میں حکومت نے عوام کو جہاں تک ممکن تھا ریلیف فراہم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایکسپورٹ پر مبنی معیشت کو اپنی ترجیح بنایا ہے۔ بجٹ میں 7 ہزار ٹیرف لائنز میں سے 4 ہزار میں کسٹمز ڈیوٹی ختم کی گئی ہے اور اس طرح کی اصلاحات 30 برس میں پہلی بار ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے 2700 ٹیرف لائنز میں کسٹمز ڈیوٹی کو کم کیا ہے، کسٹمز ڈیوٹی ختم یا کم ہونے جیسے تمام اقدامات سے برآمد کنندگان کو خاطر خواہ فائدہ حاسل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینا وزیراعظم کی اور میری خواہش تھی اور ہم نے بجٹ میں ہرممکن حد تک اس طبقے کو ریلیف دیا ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ پنشن اور تنخواہوں کو مہنگائی کے ساتھ جوڑنا ہے، اور اسی تناسب سے ریلیف دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہم نے انفورسمنٹ کے ذریعے 400 ارب سے زائد ٹیکس جمع کیا ہے۔ ہمارے پاس 2 ہی طریقے ہیں کہ یا ٹیکس لگائیں اور یا پھر انفورسمنٹ کے ذریعے ٹیکس اکٹھا کریں، اس سلسلے میں قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ میں بات ہوگی۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت چھوٹے کسانوں کو قرضے دے گی۔ زرعی شعبے پر ایڈیشنل ٹیکس نہ لگانے کے حوالے سے بورڈ سے بات کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ اعداد و شمار پہلے سال کے ہیں جب کہ حکومت اگلے برسوں میں ٹیرف میں کٹوتی کا سلسلہ بڑھائے گی اور اس پورے نظام میں 4 فی صد کمی کی جائے گی۔ اسٹرکچرل ریفارمز کے حوالے سے حکومت نے بڑے قدم اٹھائے ہیں اور اسے ابھی مزید آگے لے کر جانا ہے۔محمد اورنگزیب کا پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ ہم مالی گنجائش کے تناسب ہی سے کام کر سکتے تھے اور تنخواہ دار طبقے کو ہرممکن حد تک ریلیف دینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ اقدامات ہمارے سفر کی سمت متعین کرتے ہیں کہ ہم تنخواہ دار طبقے کو کہاں لے جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہائر کلاس اور تنخواہ دار طبقے کو مختلف سلیبز میں تقسیم کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم مڈسائز کارپوریٹ سے شروع ہوئے۔ سپر ٹیکس میں کمی شروع کی ہے، خواہ وہ 0.5 فی صد ہی کیوں نہ ہو، یہ اہم سگنل ہے۔ ہم کوشش کررہے ہیں کہ ٹرانزیکشن کاسٹ کم ہو، کیوں کہ فروخت کرنے والا پھر بھی نفع کماتا ہے لیکن خریدار کو ریلیف ملنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ خریداروں کے لیے ٹرانزیکشن کاسٹ کم رکھی گئی ہے۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ اسی طرح ایف ای ڈی (فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی) کو بھی ختم کیا گیا ہے۔ اس میں ٹرانزیکشن کاسٹ میں کمی کی بات کی گئی ہے۔۔انہوں نے کہا کہ ہم صوبوں کی مشاورت کے بغیر کچھ نہیں کریں گے۔ این ایف سی اکتوبر میں ہوگا تو اس سے پہلے کچھ تبدیلی نہیں ہوگی۔ اخراجات اور ریونیو سے متعلق تمام صوبوں سے باہمی مشاورت سے چیزیں چل رہی ہیں۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ اسپیکر اور پارلیمنٹیرین کی کب آخری بار تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا یہ دیکھنا ہوگا؟۔ 2016ء میں آخری بار تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا ۔ قرضہ لے کر تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے تو بیلنس رکھنا پڑتا ہے۔ مہنگائی کے تناسب کو دیکھ تنخواہ میں اضافہ کیا گیا ۔ میں نے اپنی زندگی میں کسی چیز کو بڑھنے کے بعد کم ہوتے نہیں دیکھا۔چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دو طرح کی اکانومی چل رہی ہیں، جن میں سے ایک فارمل ریٹیل سیکٹر ہے۔ سرچارج سے متعلق پاور کا بل تھا جس میں ترمیم کی گئی ۔ پاور سیکٹر میں اصلاحات کرنا چارہے ہیں، فی الحال کوئی ریٹ نہیں بدل رہا۔وزیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ جب ہم عالمی اداروں سے بات کررہے تھے تو وہ ہماری بات ماننے کو تیار نہیں تھے کہ ہمارے ہاں ٹیکسز نافذ کیے جا سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمیں پچھلے سال اضافی ٹیکسز عائد کرنے پڑے۔ انہوں نے کہا کہ قوانین موجود بھی ہیں اور قانون سازی بھی ہو رہی ہے، ٹیکسز بھی موجود ہیں، مگر ہم نافذ نہیں کر پا رہے تھے۔ اس سال ٹیکسز کا نفاذ کیا ہے وہ 400 ارب سے متجاوز ہو چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ رواں سال ٹیکسوں کے مقابلے میں جی ڈی پی کی شرح 10.3 فی صد ہے جو آئندہ برس 10.9 فی صد ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ 22 کھرب میں سے اضافی ٹیکسز صرف 312 ارب روپے ہیں اور باقی خودکار نمو اور نفاذ کا پہلو ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اب قانون سازی کے مرحلے میں جائیں گے جس کے لیے پارلیمنٹ میں بات ہوگی۔ ٹیکسوں کو نافذ کرنے کے لیے قانون میں ترمیم بھی کریں گے، کیوں کہ اگر ٹیکس نافذ نہ کر سکے تو ہمیں 4 سے 500 ارب روپے کے اضافی اقدامات کرنا پڑیں گے۔ پارلیمنٹ سے گزارش کریں گے کہ وہ ٹیکس نافذ کرنے کے لیے قانون سازی اور ترامیم کریں تاکہ حکومت کو اضافی اقدامات نہ کرنا پڑیں اور نظام میں موجود لیکیج کو خاتمہ کیا جا سکے۔

  • وزیر خزانہ کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس، صحافیوں کا واک آؤٹ

    وزیر خزانہ کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس، صحافیوں کا واک آؤٹ

    اسلام آباد:(کنزیومر واچ نیوز)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں صحافیوں نے تکنیکی بریفنگ نہ دینے پر احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ ایف بی آر کی جانب سے نئے مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے پہلے تکنیکی بریفنگ نہ دیے جانے پر صحافیوں نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ پریس کانفرنس شروع ہوتے ہی فنانس بیٹ رپورٹرز اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور احتجاج ریکارڈ کرایا۔یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ روز نئے مالی سال کا بجٹ پیش کیا ہے، جس پر ایف بی آر نے کوئی تکنیکی بریفنگ نہیں دی اور صحافیوں کی جانب سے اس حوالے سے احتجاج کے طور پر وزیر خزانہ کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کا بائیکاٹ کیا گیا ہے۔صحافیوں کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے بجٹ پر تکنیکی بریفنگ نہ دیے جانے کا مطلب ہے کہ ٹیکسوں کے حوالے سے حکومت نے حقائق چھپانے کی کوشش کی ہے۔وزیر خزانہ نے صحافیوں کی غیر موجودگی ہی میں پریس کانفرنس شروع کی۔بعد ازاں وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ،چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے صحافیوں سے معذرت کی اور یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایف بی آر کی ٹیکنیکل بریفنگ یقینی بنائی جائے گی۔ عطا تارڑ اور راشد لنگڑیال کے معافی مانگنے پر صحافیوں نے بائیکاٹ ختم کردیا۔

    f

  • 17573ارب کا وفاقی بجٹ پیش، تنخواہوں میں 10، پنشن میں 7 فیصد اضافہ

    17573ارب کا وفاقی بجٹ پیش، تنخواہوں میں 10، پنشن میں 7 فیصد اضافہ

    اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز)17573ارب کا وفاقی بجٹ پیش، تنخواہوں میں 10، پنشن میں 7 فیصد اضافہ، انکم ٹیکس میں کمی کی تجویزوفاقی بجٹ میں ایف بی آر کے محصولات کا تخمینہ 14ہزار 131 ارب روپے وفاقی حکومت نے17 ہزار 573 ارب کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں شروع ہوا۔ وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کیا۔
    اس دوران اپوزیشن کا شورشرابہ بھی جاری رہا۔
    وزیر خزانہ کا بجٹ تقریر میں کہنا تھاکہ یہ بجٹ انتہائی اہم اور تاریخی موقع پر پیش کیا جارہا ہے، حالیہ پاک بھارت جنگ میں قوم نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا، حالیہ جنگ میں کامیابی پر عسکری اور سیاسی قیادت کو مبارک باد دیتا ہوں، عالمی برداری میں پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے۔
    بجٹ 2025: شریک حیات کے انتقال کے بعد فیملی پنشن کی مدت 10 سال تک محدود کردی گئی
    انہوں نے کہا کہ قومی عزم اور یکجہتی کو بروئے کار لاتے ہوئے ہماری توجہ اب معاشی ترقی پر ہے، معاشی اصلاحات کے ذریعے معاشی استحکام لایا گیا، معیشت کی بہتری کے لیے کئی اقدامات کیے، افراط زر میں نمایاں کمی ہوئی اور ترسیلات زر 10 ماہ میں 36ارب ڈالر رہیں۔

    وفاقی حکومت کی خالص آمدنی11ہزار 72ارب روپے ہوگی، بجٹ
    مالی سال 2025-2026 کے لیے اقتصادی ترقی کی شرح4.2فیصد رہنے کا امکان ہے، افراط زر کی اوسط شرح 7.5فیصد متوقع ہے، بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3.9فیصد ، پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 2.4فیصد ہوگا۔

    بجٹ دستاویز کے مطابق ٹیکس ریونیو کا ہدف 14ہزار 131 ارب روپے، نان ٹیکس ریونیو وصولی کا ہدف 5147ارب روپے تجویز کیا گیا ہے، بجٹ خسارہ رواں سال 5.9 فیصد تھا جوکہ 8500 ارب روپے بنتا ہے۔

    قرض پر سود کی ادائیگی کی مد میں 8207 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، رواں سال اس مد میں 9ہزار 9775ارب روپے مختص کیےگئےتھے۔

    وفاقی بجٹ میں دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور بجٹ میں دفاع کیلئے 2550 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 11 ہزار 72 ارب روپے ہوگی جبکہ وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 17ہزار 573 ارب روپے ہے، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کےلیے ایک ہزار ارب کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

    پنشن میں اضافہ اور انکم ٹیکس شرح میں کمی
    بجٹ میں تنخواہوں میں 10 اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی جبکہ تنخواہوں پر بھی انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی گئی ہے۔

    وزیرخزانہ نے بتایاکہ 6 لاکھ روپے سے 12لاکھ روپے تنخواہ پر ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے کم کرکے 2.5 فیصد کردی گئی جبکہ 22 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پر کم سے کم ٹیکس کی شرح 15 فیصد کے بجائے11فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

    انہوں نے بتایاکہ 22لاکھ روپے سے 32لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پر ٹیکس 25سےکم کرکے23فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

    پلاٹس اور گھروں کی منتقلی پر 7 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کم کرنے کی تجویز
    بجٹ 2025-26 میں جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 4 فیصد سے کم کرکے 2.5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ جائیداد کی خریداری پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی 3.5 فیصد شرح کم کرکے 2 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

    پلاٹس اور گھروں کی منتقلی پر 7 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کم کرنے کی تجویز ہے جبکہ اسلام آباد میں جائیداد کی خریداری پر اسٹامپ پیپر ڈیوٹی 4 سے کم کرکے ایک فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    آن لائن خریداری اور سولر پینلز کی درآمد پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد
    وفاقی حکومت نے بجٹ 26-2025 میں آئن لائن خریداری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنےکی تجویز دی ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سیلز ٹیکس ایکٹ میں ترامیم کی تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ آن لائن کاروبار اور ڈیجیٹل مارکیٹ پلیسز (Digital Market Places) کی تیزی سے ترقی نے ٹیکس قوانین کی پاسداری کرنے والے روایتی کاروباروں کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ معیاری مسابقتی فضا پیدا کرنے اور ٹیکس قوانین کی مکمل پاسداری کو یقینی بنانےکے لیے یہ تجویز کیا جاتا ہےکہ ای کامرس پلیٹ فارمز کی طرف سے ترسیل کرنے والےکورئیر اور لاجسٹکس خدمات فراہم کرنے والے ادارے 18 فیصد کی شرح سے ان ای کامرس پلیٹ فارمز سے سیلز ٹیکس وصول کرکے جمع کرائیں گے۔

    اس کے علاوہ بجٹ 2025 میں سولر پینلز کی درآمد پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔