Blog

  • 10 ویں جماعت کے طالب علم کا ٹیچر پر اسکرو ڈرائیور سے حملہ، ٹیچر شدید زخمی

    10 ویں جماعت کے طالب علم کا ٹیچر پر اسکرو ڈرائیور سے حملہ، ٹیچر شدید زخمی

    ممبی (ویب ڈیسک )بھارت میں 10ویں جماعت کے طالب علم نے استاد پر اسکرو ڈائیور سے حملہ کرکے اسے شدید زخمی کردیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ ریاست ہریانہ کے گاؤں میں واقع سرکاری اسکول میں پیش آیا۔اسکول کے پرنسپل پرتاپ چکرورتی نے بتایا کہ ٹیچر سنیل بیرت 10 ویں جماعت میں اپنی کلاس لے رہے تھے، سنیل طلبہ کا ہوم ورک چیک کر رہے تھے کہ ایک طالب علم پیچھے سے آیا اور اسکرو ڈرائیور سے حملہ آور ہوگیا۔پرنسپل کے مطابق طالب علم نے سنیل کی گردن پر کئی وار کیے جس سے وہ بری طرح زخمی ہوگئے اور پھر انہیں فوری اسپتال منتقل کیا گیا جب کہ طالب علم موقع سے فرار ہوگیا۔پولیس کے مطابق واقعے کی ہر پہلو سے جانچ کی جارہی ہے اور کلاس روم سے شواہد بھی اکٹھے کیے جارہے ہیں تاہم ابتدائی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ طالب علم اسکول کی جانب سے کیمپس میں موبائل فون لانے پر عائد پابندی کی وجہ سے نا خوش تھا۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • کوئٹہ کے نجی اسپتال میں خاتون کے ہاں پانچ بچوں کی ولادت

    کوئٹہ کے نجی اسپتال میں خاتون کے ہاں پانچ بچوں کی ولادت

    کوئٹہ (ویب ڈیسک )کوئٹہ کے نجی اسپتال میں خاتون نے بیک وقت پانچ بچوں کو جنم دیا ہےاسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ خاتون کے ہاں بیک وقت 5 بچوں کی ولادت ہوئی، نوزائیدگان میں 3 بچیاں اور 2 بچے شامل ہیں، والدہ اور بچے صحتمند ہیں۔اسپتال انتظامیہ کے مطابق والدہ اور بچوں کو خصوصی نگہداشت کے یونٹ میں رکھا گیا ہے۔کوئٹہ کے رہائشی جوڑے کے پہلے سے تین بچے تھے، اب 5 بچوں کی ولادت کے بعد ان کے بچوں کی تعداد 8 ہوگئی ہے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • طاقت کا مرکز مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے؟شیخ راشد عالم

    طاقت کا مرکز مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے؟شیخ راشد عالم

    کیا اکیسویں صدی “ایشیائی صدی” ثابت ہوگی یا دنیا ایک نئے عالمی تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے؟
    ایک وقت تھا جب دنیا کا نقشہ لندن، پیرس اور واشنگٹن کی میزوں پر بنتا تھا۔ عالمی معیشت، سیاست، جنگ، امن، تجارت اور ٹیکنالوجی کے فیصلے مغربی طاقتیں کرتی تھیں اور باقی دنیا ان فیصلوں کے اثرات قبول کرنے پر مجبور ہوتی تھی۔ لیکن اب منظر بدل رہا ہے۔ خاموشی سے، مگر انتہائی تیزی کے ساتھ۔
    آج دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں عالمی طاقت کا مرکز آہستہ آہستہ مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ تبدیلی آ رہی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس تبدیلی کی رفتار کیا ہوگی اور اس کے اثرات دنیا پر کتنے گہرے ہوں گے۔
    یہ تبدیلی اچانک پیدا نہیں ہوئی۔ اس کے پیچھے کئی دہائیوں کی معاشی منصوبہ بندی، صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور عالمی تجارت کے نئے راستے ہیں۔
    دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن کر ابھرا۔ یورپ نے بھی اپنی تباہ حال معیشت کو دوبارہ کھڑا کیا۔ عالمی مالیاتی ادارے، اقوام متحدہ، عالمی بینک، آئی ایم ایف اور عالمی تجارتی نظام سب بڑی حد تک مغربی قیادت کے زیر اثر رہے۔ دنیا کا ڈالر پر انحصار بڑھتا گیا اور امریکہ عالمی معیشت کا محور بن گیا۔
    لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے۔
    چین نے خاموشی سے وہ کام کیا جسے دنیا نے ابتدا میں سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ایک زرعی معیشت سے دنیا کی سب سے بڑی صنعتی طاقت بننے تک کا سفر صرف چند دہائیوں میں طے کیا گیا۔ آج دنیا کی بے شمار مصنوعات “میڈ اِن چائنا” ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر، چین اب صرف فیکٹری نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت، الیکٹرک گاڑیوں، خلائی تحقیق، سیمی کنڈکٹرز، فِن ٹیک اور جدید انفراسٹرکچر میں بھی نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔
    اسی دوران بھارت بھی خاموشی سے اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ آئی ٹی، فارماسیوٹیکل، خلائی پروگرام، اسٹارٹ اپ کلچر اور تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت نے اسے عالمی طاقتوں کی صف میں لاکھڑا کیا ہے۔ کئی عالمی کمپنیاں اپنی سپلائی چین کا رخ چین کے ساتھ ساتھ بھارت، ویتنام اور دیگر ایشیائی ممالک کی طرف بھی موڑ رہی ہیں۔
    جاپان اور جنوبی کوریا پہلے ہی ٹیکنالوجی کی دنیا کے بڑے نام ہیں۔ سنگاپور، ملائیشیا، انڈونیشیا اور ویتنام بھی عالمی سرمایہ کاری کے اہم مراکز بنتے جا رہے ہیں۔
    گویا ایشیا اب صرف آبادی کا نہیں بلکہ سرمایہ، صنعت، ٹیکنالوجی اور تجارت کا بھی مرکز بنتا جا رہا ہے۔
    دوسری طرف مغرب کو ایسے چیلنجز درپیش ہیں جو پہلے کبھی اس شدت سے سامنے نہیں آئے تھے۔
    امریکہ کو بڑھتے ہوئے قومی قرضے، سیاسی تقسیم، صنعتی نقل مکانی اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے مقابلے کا سامنا ہے۔ یورپ کو توانائی کے بحران، مہنگائی، عمر رسیدہ آبادی، ہجرت اور روس۔یوکرین جنگ کے بعد نئے معاشی دباو کا سامنا کرنا پڑا۔
    اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مغرب ختم ہو رہا ہے۔ امریکہ اب بھی دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت، سب سے بڑی اختراعی معیشت اور عالمی مالیاتی نظام کا اہم ستون ہے۔ یورپی یونین بھی ٹیکنالوجی، تعلیم اور تحقیق میں نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔
    اصل تبدیلی طاقت کے خاتمے کی نہیں بلکہ طاقت کی تقسیم کی ہے۔
    اب دنیا یک قطبی نہیں رہی۔ نہ ہی مکمل طور پر دو قطبی ہے۔ بلکہ ایک ایسی کثیر قطبی دنیا تشکیل پا رہی ہے جہاں کئی طاقتیں مختلف شعبوں میں اثر انداز ہوں گی۔
    اسی لیے چین کا “بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو” صرف سڑکوں اور بندرگاہوں کا منصوبہ نہیں بلکہ عالمی اثرورسوخ کی نئی حکمت عملی بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے ایشیا، افریقہ اور یورپ کے درجنوں ممالک کو تجارتی راہداریوں سے جوڑا جا رہا ہے۔
    دوسری جانب امریکہ بھی خاموش تماشائی نہیں۔ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر نئی معاشی اور دفاعی شراکت داریاں قائم کر رہا ہے تاکہ بحرالکاہل اور ایشیا میں اپنا اثر برقرار رکھ سکے۔
    روس بھی اس نئی عالمی صف بندی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اگرچہ اسے مغربی پابندیوں کا سامنا ہے، لیکن اس نے توانائی، دفاع اور سفارتی تعلقات کے ذریعے ایشیا، مشرق وسطی اور افریقہ میں اپنے روابط کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔
    اسی دوران برکس (BRICS) جیسے اتحاد بھی عالمی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ کئی ترقی پذیر ممالک اس پلیٹ فارم کو مغربی مالیاتی نظام کے متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ مقامی کرنسیوں میں تجارت، نئے ترقیاتی بینک اور معاشی تعاون جیسے اقدامات عالمی نظام میں نئی بحث چھیڑ رہے ہیں۔
    ٹیکنالوجی بھی اس عالمی تبدیلی کا اہم میدان بن چکی ہے۔
    اب جنگیں صرف بارود سے نہیں بلکہ چِپس، مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، ڈیٹا، سیٹلائٹس اور سائبر صلاحیتوں سے بھی لڑی جا رہی ہیں۔ جو ملک ٹیکنالوجی پر برتری حاصل کرے گا، مستقبل کی عالمی سیاست میں بھی اسی کا وزن زیادہ ہوگا۔
    یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی پر مقابلہ روز بروز شدت اختیار کر رہا ہے۔
    اس سارے منظرنامے میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
    یہ وہ سوال ہے جس کا جواب صرف سفارت کاری میں نہیں بلکہ قومی حکمت عملی میں پوشیدہ ہے۔
    پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں چین، بھارت، روس، وسطی ایشیا، خلیجی ممالک اور مشرق وسطی ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔ جغرافیہ پاکستان کی سب سے بڑی طاقت بن سکتا ہے، بشرطیکہ اسے معاشی طاقت میں تبدیل کیا جائے۔

    اگر پاکستان سیاسی استحکام، معاشی اصلاحات، معیاری تعلیم، صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافہ اور جدید ٹیکنالوجی پر توجہ دے تو وہ اس بدلتی عالمی معیشت کا اہم حصہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر داخلی سیاسی کشمکش، غیر یقینی پالیسیوں اور کمزور معاشی فیصلوں کا سلسلہ جاری رہا تو یہ تاریخی موقع ہاتھ سے نکل بھی سکتا ہے۔
    دنیا کی تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ عالمی طاقت صرف فوج سے نہیں بنتی۔ معیشت، علم، تحقیق، صنعت، اختراع، مضبوط ادارے اور سیاسی استحکام ہی کسی قوم کو دیرپا عالمی مقام دلاتے ہیں۔
    آج ایشیا کی کئی معیشتیں اسی اصول پر آگے بڑھ رہی ہیں۔
    شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا اب “ایشین سنچری” یعنی ایشیائی صدی کی بات کر رہی ہے۔
    تاہم ایک حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ طاقت کی منتقلی کبھی آسان نہیں ہوتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ایک بڑی طاقت کی جگہ دوسری طاقت ابھرتی ہے تو عالمی کشیدگی بڑھ جاتی ہے۔ تجارتی جنگیں، سفارتی محاذ آرائیاں، دفاعی اتحاد اور پراکسی تنازعات اسی عمل کا حصہ بن جاتے ہیں۔
    اس لیے آنے والے برسوں میں دنیا کو مقابلے اور تعاون، دونوں کا امتزاج دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ کہیں اقتصادی شراکت داری ہوگی تو کہیں ٹیکنالوجی پر پابندیاں۔ کہیں مشترکہ منصوبے ہوں گے تو کہیں جغرافیائی سیاست نئی صف بندیاں پیدا کرے گی۔
    طاقت کا مرکز مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہونے کا عمل محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ عالمی معیشت، تجارت، ٹیکنالوجی اور سفارت کاری میں نظر آنے والی ایک حقیقت ہے۔ البتہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مغرب کا دور ختم ہو گیا ہے، بلکہ دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں طاقت پہلے کی نسبت زیادہ تقسیم شدہ ہوگی۔
    پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ تبدیلی ایک آزمائش بھی ہے اور ایک سنہری موقع بھی۔ اگر ہم درست سمت کا انتخاب کریں، داخلی استحکام پیدا کریں اور علم، معیشت اور ٹیکنالوجی کو اپنی قومی ترجیح بنائیں تو بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں ایک باوقار مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ ورنہ تاریخ ایک بار پھر ہمارے سامنے سے گزر جائے گی، اور ہم صرف تماشائی بن کر رہ جائیں گے۔

  • فارم ہاوسز شہریوں کے لیے تفریح نہیں، قبرستان بنتے جا رہے ہیں..نشید آفاقی

    فارم ہاوسز شہریوں کے لیے تفریح نہیں، قبرستان بنتے جا رہے ہیں..نشید آفاقی

    گندے سوئمنگ پول، نگلیریا کا خوف، ایس او پیز صرف کاغذوں تک محدود… آخر معصوم جانوں کا حساب کون دے گا؟
    گرمی کی شدت بڑھتے ہی ہزاروں خاندان سکون اور تفریح کی تلاش میں فارم ہاوسز کا رخ کرتے ہیں۔ والدین بچوں کی خوشی میں خوش ہوتے ہیں۔ نوجوان دوستوں کے ساتھ تفریح کے لئے نکلتے ہیں۔ کوئی سالگرہ مناتا ہے، کوئی فیملی گیٹ ٹوگیدر کرتا ہے، کوئی ویک اینڈ انجوائے کرنے جاتا ہے۔ مگر افسوس بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ جن سوئمنگ پولز میں وہ خوشیاں تلاش کر رہے ہیں، وہی پول بعض اوقات موت بھی بن سکتے ہیں۔
    یہ صرف پانی نہیں، یہ ایک ایسا خطرہ بھی ہو سکتا ہے جو آنکھ سے نظر نہیں آتا، مگر چند دنوں میں ایک ہنستا بستا گھر اجاڑ دیتا ہے۔
    ہر سال نگلیریا جیسے مہلک جرثومے کا نام خبروں کی زینت بنتا ہے۔ کسی نوجوان کی موت، کسی بچے کی زندگی ختم، کسی خاندان کا چراغ گل۔ چند دن شور مچتا ہے، بیانات آتے ہیں، احتیاطی ہدایات جاری ہوتی ہیں، اور پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ اگلے موسم گرما میں وہی کہانی نئے کرداروں کے ساتھ دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔
    سوال یہ ہے کہ آخر کب تک؟
    کیا انسانی جان کی قیمت صرف ایک پریس ریلیز رہ گئی ہے؟
    کیا حکومت کا کام صرف عوام کو مشورے دینا ہے یا ان کی جان و مال کا تحفظ بھی اس کی ذمہ داری ہے؟
    بدقسمتی سے ہمارے ہاں فارم ہاوس کلچر تیزی سے پھیل رہا ہے، مگر اس کے ساتھ حفاظتی نظام اسی رفتار سے نہیں بڑھا۔ سینکڑوں فارم ہاوسز اور نجی سوئمنگ پولز کام کر رہے ہیں، لیکن کتنے ایسے ہیں جہاں پانی کی باقاعدہ لیبارٹری ٹیسٹنگ ہوتی ہے؟ کتنی جگہوں پر کلورین کی مقدار روزانہ چیک کی جاتی ہے؟ کتنے پولز کا ریکارڈ موجود ہے؟ کتنے فارم ہاوسز کا باقاعدہ سرکاری معائنہ کیا جاتا ہے؟
    یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب ڈھونڈنے والا شاید ہی کوئی ہو۔
    کاغذوں میں یقینا ایس او پیز موجود ہوں گے۔ قوانین بھی ہوں گے۔ ہدایات بھی جاری ہوتی ہوں گی۔ مگر اگر ان پر عمل درآمد نہ ہو تو قانون صرف ایک فائل بن کر رہ جاتا ہے۔
    اصل المیہ یہی ہے۔
    اگر کسی ریسٹورنٹ میں صفائی نہ ہو تو کارروائی ہو جاتی ہے۔ اگر کسی دکان میں غیر معیاری اشیا فروخت ہوں تو جرمانہ لگ جاتا ہے۔ مگر جہاں سینکڑوں لوگ ایک ہی پانی میں نہاتے ہیں، وہاں نگرانی کا نظام اتنا کمزور کیوں ہے؟
    کیا کسی سرکاری ادارے نے یہ ذمہ داری لی ہے کہ وہ موسم گرما شروع ہونے سے پہلے تمام سوئمنگ پولز کا معائنہ کرے؟
    کیا کسی نے یہ دیکھا کہ پانی تبدیل کب ہوا؟
    کیا فلٹریشن سسٹم چل بھی رہا ہے یا صرف دکھاوے کے لیے لگا ہوا ہے؟
    کیا جراثیم کش ادویات مقررہ مقدار میں استعمال ہو رہی ہیں؟
    اگر ان سوالوں کا جواب “نہیں” ہے تو پھر خطرہ صرف نگلیریا تک محدود نہیں رہتا۔ جلدی بیماریاں، آنکھوں کے انفیکشن، کان کی بیماریاں، معدے اور آنتوں کے انفیکشن سمیت متعدد مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
    اور سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ سب قابلِ روک تھام ہے۔
    یہ کوئی قدرتی آفت نہیں۔
    یہ کوئی ناقابلِ علاج بیماری نہیں۔
    یہ ایک ایسا خطرہ ہے جسے بروقت نگرانی، باقاعدہ صفائی، پانی کے معیار کی جانچ اور سخت قانونی عمل درآمد سے بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
    لیکن شاید انسانی جان کی اہمیت ہمارے نظام میں آخری درجے پر آ چکی ہے۔
    ہر حادثے کے بعد ایک ہی جملہ سننے کو ملتا ہے: “تحقیقات کی جائیں گی۔”
    یہ تحقیقات آخر کہاں جاتی ہیں؟
    کبھی کسی فارم ہاوس کا لائسنس مستقل منسوخ ہوا؟
    کبھی کسی غفلت کے ذمہ دار کو مثال بنایا گیا؟
    کبھی عوام کو بتایا گیا کہ کون سے فارم ہاوسز حفاظتی معیار پر پورا نہیں اترتے؟
    خاموشی… صرف خاموشی۔
    یہ خاموشی ہی اصل المیہ ہے۔
    ایک ماں اپنے بچے کو خوشی دینے کے لیے فارم ہاوس لے جاتی ہے۔ اسے کیا معلوم کہ جس پانی میں اس کا بچہ کھیل رہا ہے، وہ پانی صاف بھی ہے یا نہیں۔ ایک باپ اپنے خاندان کے ساتھ چند خوشگوار لمحے گزارنے جاتا ہے۔ اسے کیا معلوم کہ اس جگہ کی آخری بار صفائی کب ہوئی تھی۔
    عام شہری کے پاس نہ لیبارٹری ہے، نہ ٹیسٹنگ کٹ، نہ تکنیکی علم۔
    اسے تو صرف یہ یقین ہوتا ہے کہ جس جگہ عوام سے پیسے لیے جا رہے ہیں، وہاں بنیادی حفاظتی انتظامات ضرور ہوں گے۔
    اگر یہ یقین بھی ٹوٹ جائے تو پھر عوام کس پر اعتماد کریں؟
    یہ صرف حکومت کی نہیں بلکہ فارم ہاوس مالکان کی بھی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ منافع کمانے سے پہلے انسانی جان کی حفاظت کو مقدم رکھیں۔
    جو شخص ٹکٹ فروخت کر کے لوگوں کو سوئمنگ پول میں اتارتا ہے، اس پر لازم ہے کہ پانی محفوظ ہو۔

    صفائی صرف دیواروں اور لان کی نہیں، پانی کی بھی ہونی چاہیے۔
    بدقسمتی سے بعض مقامات پر خوبصورت سجاوٹ، رنگ برنگی لائٹس اور مہنگا فرنیچر تو نظر آتا ہے، مگر پانی کی صفائی پر وہ توجہ نہیں دی جاتی جس کی ضرورت ہے۔
    یہ کاروبار نہیں، امانت ہے۔
    اور انسانی جان سے بڑی کوئی امانت نہیں۔
    اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت صرف ہدایات جاری کرنے پر اکتفا نہ کرے بلکہ ایک موثر نظام قائم کرے۔
    ہر فارم ہاوس اور ہر تجارتی سوئمنگ پول کی لازمی رجسٹریشن ہو۔
    باقاعدہ انسپکشن کا شیڈول ہو۔
    پانی کے معیار کی باقاعدہ لیبارٹری جانچ لازم قرار دی جائے۔
    ہر پول کے باہر آخری معائنے اور پانی کی جانچ کی تاریخ واضح طور پر آویزاں کی جائے۔
    جو ادارہ قواعد پر عمل نہ کرے، اسے فوری طور پر بند کر دیا جائے۔
    صرف جرمانے کافی نہیں، کیونکہ جرمانہ ادا کر کے کاروبار دوبارہ شروع ہو جاتا ہے، مگر اگر ایک جان چلی جائے تو وہ کبھی واپس نہیں آتی۔
    ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ احتیاط صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں، عوام کی بھی ہے۔
    اگر پانی گدلا نظر آئے، اگر صفائی مشکوک ہو، اگر کلورین کی شدید یا بالکل نہ ہونے والی بو محسوس ہو، اگر انتظامیہ سوالوں کا جواب نہ دے، تو ایسے پول میں داخل ہونے سے گریز کرنا چاہیے۔
    چند گھنٹوں کی تفریح پوری زندگی کے غم میں تبدیل نہیں ہونی چاہیے۔
    آخر میں ایک سوال ہر ذمہ دار ادارے، ہر فارم ہاوس مالک اور ہر متعلقہ افسر کے لیے چھوڑنا چاہتا ہوں۔
    جب ایک معصوم بچہ، ایک نوجوان یا ایک شہری مشتبہ آلودہ پانی میں نہانے کے بعد جان کی بازی ہار دیتا ہے، تو اس کے والدین کے آنسووں کا حساب کون دے گا؟
    کیا صرف تعزیتی بیان کافی ہے؟
    کیا ایک اور انکوائری کافی ہے؟
    کیا ایک اور موسم گرما اسی طرح گزر جائے گا؟
    یا پھر اس بار واقعی کوئی ایسا نظام بنایا جائے گا جو انسانی جان کو کاروباری مفاد سے زیادہ اہمیت دے؟
    کیونکہ یاد رکھیے…
    صاف پانی صرف سہولت نہیں، زندگی ہے۔
    اور جب صفائی کا نظام مر جائے تو پھر پانی نہیں، موت تیرتی ہے۔

  • سفر عزم کی روداد…تحریر: فرحانہ اشرف فرحانہ

    سفر عزم کی روداد…تحریر: فرحانہ اشرف فرحانہ

    نیشنل میڈیافاونڈیشن کے وفد کا سندھ اور پنجاب کا دورہ
    دورانِ سفر انسان بہت کچھ سیکھتا ہے۔ سفر انسان کا بہترین استاد ہے۔ یہ نہ صرف نئی جگہوں، ثقافتوں اور لوگوں سے روشناس کراتا ہے بلکہ انسان کی سوچ، برداشت اور تجربات میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ ہر سفر زندگی کا ایک نیا سبق دے کر انسان کو زیادہ باشعور، خوداعتماد اور وسیع النظر بنا دیتا ہے۔ بعض سفر صرف تفریح کے لیے ہوتے ہیں، جبکہ کچھ سفر خدمت، مقصد اور عزم کی تکمیل کے لیے کیے جاتے ہیں۔ نیشنل میڈیا فاونڈیشن کا حالیہ دورہ بھی اسی نوعیت کا ایک بامقصد سفر تھا۔7 جولائی کو چیئرمین محمد علی کی قیادت میں نیشنل میڈیا فاونڈیشن کا چار رکنی وفد پنجاب کے دورے پر روانہ ہوا۔ پہلا پڑا سکھر تھا، جو دریائے سندھ کے کنارے آباد سندھ کا ایک تاریخی اور تجارتی شہر ہے اور اپنی مشہور لینس ڈان برج اور سکھر بیراج کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ یہاں ڈپٹی کمشنر سے ٹریننگ سینٹر کے لیے پلاٹ اور تنظیمی دفتر کے قیام پر مثبت گفتگو ہوئی، جبکہ سکھر چیمبر آف کامرس میں نعمان آرائیں نے پرتپاک استقبال کرتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
    اس کے بعد وفد ملتان پہنچا، جسے اولیائے کرام کا شہر کہا جاتا ہے۔ یہ شہر اپنی صوفیانہ روایات، مزارات، دستکاری اور قدیم تہذیب کی وجہ سے منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہاں معروف شاعرہ، نعت خواں اور سماجی کارکن تانیہ عابدی نے وفد کے اعزاز میں عشائیہ دیا اور ملتان میں ادبی سرگرمیوں اور مشاعروں کے انعقاد کے لیے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ملتان سے وفد لاہور پہنچا، جو پاکستان کا ثقافتی اور تاریخی دل سمجھا جاتا ہے۔ لاہور اپنی علمی، ادبی اور سیاسی اہمیت کے ساتھ ساتھ بادشاہی مسجد، لاہور قلعہ، مینارِ پاکستان اور شالیمار باغ جیسے تاریخی مقامات کی وجہ سے بھی دنیا بھر میں معروف ہے۔ یہاں اسپیکر پنجاب اسمبلی سے ملاقات میں نیشنل میڈیا فاونڈیشن کی خدمات کو سراہا گیا اور تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔ اسی طرح لاہور چیمبر آف کامرس کے میڈیا ایڈوائزر تیمور صاحب نے بھی تنظیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے مستقبل میں مکمل تعاون کا وعدہ کیا۔
    واپسی پر وفد نے صادق آباد میں قیام کیا، جو پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کا ایک اہم زرعی اور تجارتی شہر ہے اور جنوبی پنجاب کا اہم داخلی راستہ بھی شمار ہوتا ہے۔ یہاں پریس کلب میں چیئرمین محمد فرحان اقبال اور مقامی صحافیوں نے وفد کا شاندار استقبال کیا۔ صحافیوں کے مسائل، تنظیمی امور اور مستقبل کے لائح عمل پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جبکہ نیشنل میڈیا فاونڈیشن نے صحافی برادری کے حقوق کے لیے اپنی بھرپور جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔صادق آباد میں صبح معروف ایڈوکیٹ زاہد سعید نے شاندار ناشتہ کرایا اور اسکے بعد ہم پنجاب سے روانہ ہوئے۔اس وفد میں چیئرمین محمد علی، سینئر وائس چیئرمین احمد دراز خان، وائس چیئرپرسن عظمی کمال اور پی آر او فرحانہ اشرف شامل تھیں۔دورے کے اختتام پر نیشنل میڈیا فاونڈیشن کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں آئندہ کے لائح عمل کا جائزہ لیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ اگست میں تنظیم کا وفد ملک بھر کا دورہ کرے گا تاکہ صحافیوں کو درپیش مسائل، بے روزگاری، بچوں کی تعلیم و تربیت اور طبی سہولیات کے حوالے سے
    عملی اقدامات کو مزید مثر بنایا جا سکے۔
    اس پورے سفر کے دوران میرا ذاتی مشاہدہ یہ رہا کہ کراچی کے مقابلے میں دیگر شہروں کے لوگ زیادہ مہمان نواز، خلوص رکھنے والے اور محبت سے پیش آنے والے محسوس ہوئے۔ ان کی عزت افزائی، اپنائیت اور تعاون نے اس سفر کو نہ صرف کامیاب بلکہ ناقابلِ فراموش بنا دیا۔ یہی جذب محبت اور باہمی احترام پاکستان کی اصل خوبصورتی ہے۔

  • ترکیہ میں ناکام بغاوت کے دس سال: طاقت، سیاست اور جمہوریت کا بدلتا منظرنامہ   ماجد علی سید

    ترکیہ میں ناکام بغاوت کے دس سال: طاقت، سیاست اور جمہوریت کا بدلتا منظرنامہ ماجد علی سید

    15 جولائی 2016 کی رات ترکیہ کی جدید تاریخ کی سب سے فیصلہ کن راتوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ صرف ایک فوجی بغاوت کی ناکام کوشش نہیں تھی بلکہ ایک ایسا موڑ تھا جس نے ریاست، سیاست، فوج، عدلیہ، میڈیا اور عوام کے باہمی تعلقات کو نئی شکل دے دی۔ اس واقعے کو آج دس برس گزر چکے ہیں، لیکن اس کے اثرات نہ صرف ترکیہ کی داخلی سیاست بلکہ اس کی خارجہ پالیسی، جمہوری ڈھانچے اور علاقائی کردار پر بھی نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں۔
    ترکیہ میں فوج کا سیاست میں مداخلت کا ایک طویل اور پیچیدہ پس منظر موجود رہا ہے۔ گزشتہ صدی میں کئی مرتبہ فوج نے منتخب حکومتوں کو برطرف کیا اور خود کو ریاستی نظریے کا محافظ قرار دیا۔ تاہم 15 جولائی 2016 کی رات پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ عوام نے ٹینکوں کے سامنے کھڑے ہو کر فوجی بغاوت کو ناکام بنا دیا۔ یہ منظر صرف ترکیہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے غیر معمولی تھا۔
    صدر رجب طیب اردوان اس وقت چھٹیاں گزار رہے تھے۔ بغاوت شروع ہوتے ہی انہوں نے موبائل فون کے ذریعے ایک نجی ٹی وی چینل پر عوام سے اپیل کی کہ وہ گھروں سے نکل کر جمہوریت کا دفاع کریں۔ چند ہی لمحوں میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں شہری سڑکوں پر نکل آئے۔ پولیس اور فوج کے وفادار دستوں نے بھی باغی عناصر کا مقابلہ کیا، اور چند گھنٹوں کے اندر بغاوت دم توڑ گئی۔ اس رات دو سو پچاس سے زائد افراد جان سے گئے جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے، لیکن ترکیہ کا سیاسی نظام بچ گیا۔
    یہ واقعہ صدر اردوان کے لیے ایک نئے سیاسی دور کا آغاز ثابت ہوا۔ بغاوت ناکام ہونے کے بعد حکومت نے اس کا ذمہ دار فتح اللہ گولن اور ان کی تحریک کو قرار دیا۔ حکومتی مقف تھا کہ گولن کے حامی برسوں سے فوج، عدلیہ، پولیس اور دیگر ریاستی اداروں میں خفیہ طور پر اپنا اثر و رسوخ بڑھاتے رہے تھے۔ اسی بنیاد پر ملک بھر میں وسیع پیمانے پر کارروائیاں شروع ہوئیں۔
    سرکاری ملازمین، فوجی افسران، ججوں، اساتذہ، صحافیوں اور پولیس اہلکاروں سمیت لاکھوں افراد تحقیقات کی زد میں آئے۔ ہزاروں ادارے، تعلیمی مراکز، فلاحی تنظیمیں اور میڈیا ہاسز بند کر دیے گئے۔ حکومت کا مقف تھا کہ یہ اقدامات ریاست کو ایک منظم نیٹ ورک سے پاک کرنے کے لیے ضروری ہیں، جبکہ اپوزیشن اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے انہیں اختلافِ رائے دبانے اور سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائی قرار دیا۔
    اسی دوران ملک میں ہنگامی حالت نافذ کی گئی جو تقریبا دو برس تک برقرار رہی۔ اس عرصے میں ایسے انتظامی اختیارات استعمال کیے گئے جنہوں نے ریاستی ڈھانچے کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا۔ یہی وہ دور تھا جس نے بعد میں ترکیہ کے آئینی نظام میں بڑی تبدیلیوں کی بنیاد رکھی۔
    2017 کے آئینی ریفرنڈم کے ذریعے ترکیہ نے پارلیمانی نظام کو خیرباد کہہ کر صدارتی نظام اختیار کر لیا۔ وزیر اعظم کا عہدہ ختم کر دیا گیا اور بیشتر انتظامی اختیارات براہِ راست صدر کے پاس منتقل ہو گئے۔ اس تبدیلی نے صدر اردوان کو ملکی تاریخ کے طاقتور ترین رہنماں میں شامل کر دیا۔
    اب کابینہ کی تشکیل، اعلی تقرریاں، انتظامی فیصلے اور کئی اہم ریاستی معاملات صدارتی اختیار کے تحت آگئے۔
    حامی حلقوں کے نزدیک اس نئے نظام نے فیصلہ سازی کو تیز، ریاست کو مضبوط اور سیاسی عدم استحکام کو کم کیا۔ ان کا استدلال ہے کہ ترکیہ کو دہشت گردی، سرحدی خطرات، شام کی خانہ جنگی، مہاجرین کے بحران اور معاشی دبا جیسے چیلنجز کا سامنا تھا، جن سے نمٹنے کے لیے مضبوط قیادت ناگزیر تھی۔
    دوسری جانب ناقدین کا خیال ہے کہ صدارتی نظام نے اختیارات کا توازن متاثر کیا، پارلیمنٹ اور عدلیہ کا کردار محدود ہوا اور ریاستی اداروں کی خودمختاری کمزور پڑ گئی۔ ان کے مطابق طاقت کا حد سے زیادہ ارتکاز جمہوری نگرانی کے نظام کو متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں اختلافِ رائے کے لیے سیاسی گنجائش سکڑتی جاتی ہے۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ بغاوت کے بعد جہاں صدر اردوان کی طاقت میں اضافہ ہوا، وہیں اپوزیشن بھی پہلے سے زیادہ منظم ہو کر سامنے آئی۔ مختلف نظریات رکھنے والی جماعتوں نے مشترکہ سیاسی حکمت عملی اختیار کی، جس کا نتیجہ استنبول اور انقرہ جیسے بڑے شہروں میں بلدیاتی انتخابات میں اپوزیشن کی تاریخی کامیابی کی صورت میں نکلا۔ اکرم امام اوغلو سمیت کئی نئے رہنما قومی سطح پر ابھرے، اگرچہ ان میں سے متعدد اب بھی عدالتی مقدمات اور قانونی تنازعات کا سامنا کر رہے ہیں۔
    گزشتہ دس برسوں میں ترکیہ کی خارجہ پالیسی میں بھی نمایاں تبدیلی دیکھی گئی۔ انقرہ نے دفاعی صنعت میں غیر معمولی سرمایہ کاری کی، مقامی ڈرون ٹیکنالوجی کو فروغ دیا اور خود کو ایک علاقائی طاقت کے طور پر منوانے کی کوشش کی۔ شام، لیبیا، آذربائیجان، بحیرہ روم اور افریقہ میں ترکیہ کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ فعال دکھائی دیتا ہے۔ دفاعی خود انحصاری نے بھی اردوان حکومت کی سیاسی مقبولیت میں اہم کردار ادا کیا۔
    اگرچہ ترکیہ نے دفاع، سفارت کاری اور علاقائی اثرورسوخ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، لیکن معاشی میدان میں اسے سخت مشکلات کا سامنا بھی رہا۔ بلند افراطِ زر، ترک لیرا کی قدر میں مسلسل کمی، بے روزگاری اور مہنگائی نے عوامی زندگی کو متاثر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ برسوں میں حکومت کو معاشی اصلاحات پر زیادہ توجہ دینا پڑ رہی ہے۔
    جمہوریت اور انسانی حقوق کے حوالے سے بھی ترکیہ مسلسل عالمی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ بین الاقوامی تنظیمیں اظہارِ رائے، صحافتی آزادی اور عدالتی خودمختاری کے بارے میں تحفظات ظاہر کرتی رہی ہیں، جبکہ ترک حکومت ان تنقیدوں کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ قومی سلامتی اور ریاستی استحکام ہر چیز پر مقدم ہیں، اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کسی بھی خودمختار ریاست کا حق ہے۔
    یہی وجہ ہے کہ بغاوت کی دسویں برسی پر بھی ترکیہ کے تمام 81 صوبوں میں کارروائیاں کی گئیں اور تقریبا ایک ہزار مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت اب بھی سمجھتی ہے کہ 2016 کی سازش کے اثرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور ریاستی اداروں کی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔
    دس برس بعد اگر اس واقعے کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا مشکل نہیں کہ 15 جولائی نے ترکیہ کو ایک نئے دور میں داخل کر دیا۔ اس رات نے فوج کے روایتی سیاسی کردار کو تقریبا ختم کر دیا، مگر اس کے ساتھ ہی ریاستی طاقت کے ارتکاز، سیاسی آزادیوں اور جمہوری توازن کے بارے میں نئی بحثوں کو بھی جنم دیا۔
    ترکیہ آج ایک مضبوط صدارتی نظام، فعال دفاعی صنعت، مثر خارجہ پالیسی اور طاقتور قیادت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی موجود ہے کہ کیا مضبوط ریاست اور مضبوط جمہوریت ہمیشہ ایک ہی سمت میں سفر کرتی ہیں، یا ان دونوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا اصل امتحان ہوتا ہے؟
    15 جولائی 2016 کی رات تاریخ بن چکی ہے، مگر اس کے اثرات آج بھی ترکیہ کی سیاست، معیشت، ریاستی ڈھانچے اور عوامی سوچ میں پوری شدت سے محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک دہائی گزرنے کے باوجود یہ باب ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ ترکیہ کی آئندہ سیاسی سمت بھی بڑی حد تک اسی سوال کے گرد گھومتی رہے گی کہ سلامتی، استحکام اور جمہوری آزادیوں کے درمیان متوازن راستہ کیسے اختیار کیا جائے۔

  • مشرقِ  وسطی کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟صبیحہ خان صبیحہ

    مشرقِ وسطی کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟صبیحہ خان صبیحہ

    مشرقِ وسطی کی موجودہ صورتحال پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ خطے میں ایک بڑی جنگ ہوگی یا حالات جلد معمول پر آ جائیں گے، کیونکہ عالمی سیاست میں بیانات، فیصلے اور سفارتی حکمت عملیاں لمحوں میں بدل جاتی ہیں۔ تاہم اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ پورا خطہ اس وقت بے چینی، غیر یقینی اور اضطراب کی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ اس وقت مشرقِ وسطی میں صرف میزائل ہی نہیں چل رہے، بلکہ بے یقینی بھی گردش کر رہی ہے، اور بے یقینی ہمیشہ معیشت کی سب سے بڑی دشمن ہوتی ہے ہر نیا بیان، ہر سفارتی ملاقات اور ہر فوجی نقل و حرکت عالمی منڈیوں، سرمایہ کاروں اور عام لوگوں کی دھڑکنیں تیز کر دیتی ہے۔ اسی بے یقینی نے تیل کی قیمتوں، تجارتی سرگرمیوں اور عالمی معیشت پر ایک مستقل سایہ ڈال رکھا ہے، جس کے اثرات ترقی یافتہ ممالک سے لے کر ترقی پذیر ممالک تک محسوس کیے جا رہے ہیں سوال یہ ہے ؟؟کہ کیا ایران امریکہ کے مذاکرات کامیاب ہونگے امن برقرار رہے گا ؟؟ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے بھی خطے کی بے چینی میں اضافہ کر دیا ہے۔ ایک طرف وہ سخت مقف اختیار کرتے ہوئے مزید کارروائی کی بات کرتے ہیں، تو دوسری جانب مذاکرات کے دروازے بھی مکمل طور پر بند نہیں کرتے۔ یہی تضاد عالمی منڈیوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار رکھتا ہے۔ سرمایہ کار، تیل کی منڈیاں اور عام لوگ سب اسی انتظار میں ہیں کہ آنے والا لمحہ امن کا پیغام لائے گا یا ایک نئی کشیدگی کا آغاز کرے گا۔ اگرچہ جنگ کے خطرات اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، اس لیے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا،امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ جنگ کا خاتمہ اور حتمی مذاکرات تاحال غیر یقینی ہیں۔ حال ہی میں طے پانے والا سیز فائر ٹوٹ چکا ہے اور دونوں ممالک آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے تنازع کے باعث ایک بار پھر براہ راست حملوں میں الجھے ہوئے ہیں مشرق وسطی ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں تیل کے ذخائر، مذہبی اہمیت، جغرافیائی محلِ وقوع اور عالمی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ یہاں ہونے والی ہر پیش رفت پوری دنیا پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جنگیں ہوں، جنگ بندی ہو، یا سفارتی مذاکرات، دنیا کی نظریں اسی خطے پر لگی رہتی ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ اس تمام کشمکش کے بعد مشرق وسطی کا اونٹ آخر کس کروٹ بیٹھے گا؟ کیا خطے میں پائیدار امن قائم ہوگا، یا یہ تنازعات ایک نئے دور میں داخل ہونے جا رہے ہیں؟حالیہ برسوں نے ثابت کیا ہے کہ صرف فوجی طاقت مسائل کا مستقل حل نہیں۔ ایک تنازع ختم ہونے سے پہلے دوسرا جنم لے لیتا ہے، اور سب سے زیادہ قیمت عام شہری ادا کرتے ہیں۔ ہزاروں جانیں ضائع ہوتی ہیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہوتے ہیں، معیشتیں تباہ ہوتی ہیں، جبکہ عالمی منڈی میں تیل، گیس اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھنے سے دنیا کے غریب ممالک بھی شدید متاثر ہوتے ہیں۔اس خطے میں ہر ملک اپنی سلامتی، اپنے مفادات اور اپنے اتحادیوں کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتا ہے، جبکہ عالمی طاقتیں بھی اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کے مطابق کردار ادا کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشرق وسطی کا ہر بحران صرف علاقائی نہیں رہتا بلکہ عالمی مسئلہ بن جاتا ہے۔
    اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جنگیں وقتی برتری تو دلا سکتی ہیں، مگر پائیدار امن صرف مذاکرات، اعتماد سازی، انصاف اور
    باہمی احترام سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ نفرت اور انتقام کا سلسلہ جتنا طویل ہوگا، اتنا ہی امن دور ہوتا جائے گا۔آج پوری دنیا کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آنے والے دنوں میں سفارت کاری غالب آتی ہے یا طاقت کی زبان۔ اگر عقل، تدبر اور مذاکرات کو ترجیح دی گئی تو مشرق وسطی صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے استحکام کی علامت بن سکتا ہے۔ لیکن اگر کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا تو اس کے اثرات صرف اس خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی امن سب متاثر ہوں گے۔شاید اسی لیے آج سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ مشرق وسطی کا اونٹ آخر کس کروٹ بیٹھے گا؟ اس کا جواب صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز، سیاسی بصیرت اور امن کو ترجیح دینے والے فیصلوں میں پوشیدہ ہے۔مشرقِ وسطی میں جب بھی ایک میزائل فضا کو چیرتا ہے تو اس کی گونج صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتی، بلکہ دنیا بھر کی منڈیوں میں بھی سنائی دیتی ہے۔ تیل پیدا کرنے والے اس حساس خطے میں ذرا سی کشیدگی پیدا ہو تو خام تیل کی قیمتیں اچھلنے لگتی ہیں، پٹرول مہنگا ہو جاتا ہے، نقل و حمل کے اخراجات بڑھتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے مہنگائی کا ایک نیا طوفان عام آدمی کے دروازے پر دستک دینے لگتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہر میزائل کے ساتھ مہنگائی کا خطرے کا سائرن بھی بج اٹھتا ہے، جس کی سب سے زیادہ قیمت وہ لوگ ادا کرتے ہیں جن کا جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ دنیا کے غریب اور ترقی پذیر ممالک میں رہنے والے عام شہری، جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں، ایک نئی آزمائش میں مبتلا ہو جاتے ہیں جنگیں میدانوں میں لڑی جاتی ہیں، مگر ان کی قیمت دنیا بھر کے عام لوگ اپنی روزی، اپنی روٹی اور اپنے بچوں کے مستقبل سے ادا کرتے ہیں۔ سوال صرف یہ نہیں کہ مشرقِ وسطی کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس اونٹ کی ہر کروٹ کا بوجھ آخر کب تک دنیا کا عام انسان اٹھاتا رہے گا؟ جنگ کا فیصلہ چند ایوانوں میں ہوتا ہے، مگر اس کی قیمت کروڑوں لوگ اپنی خالی جیبوں، مہنگی روٹی، بڑھتے ہوئے پٹرول، بے روزگاری اور غیر یقینی مستقبل کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں، بلکہ ایسا ماحول ہے جہاں معیشت مستحکم ہو، بازاروں میں اطمینان ہو، اور عام آدمی کو یہ خوف نہ ہو کہ ہزاروں میل دور چلنے والی جنگ کل اس کے گھر کے بجٹ کو تہس نہس کر دے گی۔ اگر عالمی قیادت نے اپنے اختلافات کو مذاکرات اور تدبر سے حل کرنے کی سنجیدہ کوشش نہ کی تو ہر نیا میزائل صرف ایک شہر کو نہیں، بلکہ دنیا بھر کے کروڑوں خاندانوں کے معاشی سکون کو بھی نشانہ بنائے گا۔اس لیے دعا بھی یہی ہے اور ضرورت بھی کہ مشرقِ وسطی کا اونٹ ایسی کروٹ بیٹھے جو بارود نہیں، امن کا پیغام لے کر آئے؛ کیونکہ جب امن جیتتا ہے تو صرف ایک ملک نہیں، پوری انسانیت جیتتی ہے

  • فیفا ورلڈکپ 2026 کی فاتح ٹیم اسپین پر ڈالروں کی بارش

    فیفا ورلڈکپ 2026 کی فاتح ٹیم اسپین پر ڈالروں کی بارش

    نیو یارک (ویب ڈیسک )فیفا ورلڈکپ 2026 کے فائنل میں دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کو شکست دے کر دوسری بار ورلڈکپ جیتنے والی اسپین کی ٹیم پر ڈالروں کی بارش ہوگئی۔نیویارک میں کھیلے گئے سنسنی خیز فائنل میں اسپین نے ارجنٹینا کو صفر کے مقابلےمیں 1 گول سے ہرا دیا۔کھیل کا ریگولر ٹائم بغیر کسی گول کے ختم ہوا۔ اضافی وقت کے پہلے ہاف میں بھی مقابلہ بغیر کسی گول کے برابر رہا۔پھر آیا اضافی وقت کا دوسرا اور فیصلہ کن ہاف جس کی ابتدا میں ہی اسپینش کھلاڑی فیرن ٹوریس کو گول کرنے کا موقع مل گیا جو اُنہوں نے ضائع نہیں کیا اور یوں اسپین کی ٹیم 16 برس بعد دوسری مرتبہ چیمپئن بن گئی۔ورلڈکپ جیتنے والی اسپین کی ٹیم کو کتنی انعامی رقم ملی؟
    ورلڈ کپ 2026 کی فاتح ٹیم اسپین کو 5کروڑ ڈالر کی انعامی رقم ملی۔ پچھلے ایڈیشن کی فاتح ٹیم کو 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز کی انعامی رقم دی گئی تھی۔فیفا ورلڈ کپ رنر اپ ٹیم ارجنٹینا کو 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالرز کی انعامی رقم ملی۔
    اس کے علاوہ تیسرے نمبر پر آنے والی ٹیم انگلینڈ کو 2 کروڑ 90 لاکھ اور چوتھے نمبر کی ٹیم فرانس کو 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز ملے۔
    اعلامیے کے مطابق 2026 فیفا ورلڈ کپ میں مجموعی طور پر 65 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کی انعامی رقم تقسیم کی گئی۔
    2022 کے فیفا ورلڈ کپ میں مجموعی طور پر 44 کروڑ ڈالرز کی انعامی رقم تقسیم کی گئی تھی۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • دریاؤں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

    دریاؤں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

    اسلام آ باد(ویب ڈیسک ) نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 19 سے 23 جولائی کے دوران مشرقی اور مغربی دریاؤں و ندی نالوں میں طغیانی اور نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
    سوشل میڈیا پر جاری بیان میں این ڈی ایم اے نے بتایا کہ شدید مون سون اور مغربی ہوا کا طاقتور سلسلہ 20 سے 23 جولائی تک گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور بالائی پنجاب میں بعض مقامات پر شدید بارشوں کا باعث بنے گا۔
    اتھارٹی کے مطابق گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور شمالی بالائی پنجاب میں فلیش سیلاب اور ہل ٹورنٹس میں طغیانی کا خدشہ ہے جبکہ دریائے چناب (مارالہ) اور دریائے جہلم (منگلا کے بالائی حصے) میں سیلابی ریلوں کا امکان ہے۔
    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے

  • کشمیر کے لوگ کشمیر کو کراچی نہیں  لاہور جیسا دیکھنا چاہتے ہیں: احسن اقبال

    کشمیر کے لوگ کشمیر کو کراچی نہیں لاہور جیسا دیکھنا چاہتے ہیں: احسن اقبال

    ناروال (ویب ڈیسک )وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ کشمیر کے لوگ کشمیر کو کراچی نہیں بننے دیں گے، وہ کشمیر کو لاہور جیسا دیکھنا چاہتے ہیں۔
    نارووال میں کا ورکرز کنونشن سے خطاب میں احسن اقبال نے بلاول بھٹو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بلاول صاحب،کشمیری آپ کی اور ہماری جماعت کی کارکردگی جانتے ہیں، لوگ جانتے ہیں کس کے دور حکومت میں کرپشن کے بازار گرم ہوتے ہیں۔
    آزادکشمیر الیکشن میں ن لیگ کو ایسی شکست ہوگی کہ تاریخ یاد رکھےگی، بلاول کا مسلم لیگ ن کو چیلنج
    احسن اقبال نے کہا کہ 90 فیصد پاکستان لاہور والی ترقی کو ووٹ دے گا، مسلم لیگ (ن) کی کارکردگی پورے پاکستان میں مقبول ہے، مسلم لیگ (ن) پاکستان کی مضبوطی کی علامت ہے۔
    خیال رہے کہ گزشتہ روز چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نےکہا تھا کہ آزادکشمیر کے انتخابات میں ن لیگ کو ایسی شکست ہوگی کہ تاریخ یاد رکھےگی، پیپلز پارٹی ہی حکومت بنائےگی، عوام نے موقع دیا تو ہر فورم پرکشمیر کی آواز بنیں گے۔
    کوٹلی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ حکومت بنانےکے لیے وہ کوٹلی سے ہر سیٹ پر جیتنا چاہتے ہیں،کشمیر کا مستقبل کسی کی جیب میں نہیں بلکہ کشمیریوں کے ہاتھ میں ہے، فیصلہ کشمیرکے عوام کریں گے۔

    Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
    متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے