ماسکو(ویب ڈ یسک )روس نے ایک دفعہ پھر یوکرینی دارالحکومت کیف کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق دارالحکومت کیف پر روسی ڈرونز اور میزائل حملوں میں کم از کم 8 افراد ہلاک جبکہ 34 سے زائد زخمی ہو گئے۔یوکرینی فوج کے مطابق حملوں میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کے بعد ایک ہوٹل میں آگ لگ گئی اور 6 منزلہ رہائشی عمارت بھی گر گئی۔دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کے علاقوں دنیپروپیٹروسک اور پولتاوا میں میں واقع ائیرپورٹس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے
Blog
-

روس کا یوکرینی دارالحکومت کیف پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ، 8 افراد ہلاک
-

ملک کے مختلف شہروں میں زلزلےکے جھٹکے، شدت 5.3 ریکارڈ
اسلام آباد(ویب ڈیسک )ملک کے مختلف شہروں میں زلزلےکے جھٹکے محسوس کیے گئےاسلام آباد اور لاہور میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ خیبرپختونخوا کےعلاقے پشاور، سوات، شانگلہ مردان اور بونیر میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے،لوئر دیر اور گردونواح میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔زلزلے کی شدت 5.3 اور گہرائی 174 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی، زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کا مرکز ہندوکش ریجن افغانستان تھا۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

ایران: آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے موقع پر عام تعطیل اور یومِ سوگ کا اعلان
تہران (ویب ڈیسک )ایرانی حکومت نے سابق سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے موقع پر 6 جولائی کو ایران بھر میں عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ایرانی حکومت کے ترجمان کے مطابق 8 جولائی کو ملک بھر میں یومِ سوگ بھی منایا جائے گا۔یاد رہے کہ ایران کے شہید رہنما سپریم لیڈر علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران پر ابتدائی امریکی حملے میں شہید ہوئے تھے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف آیت اللّٰہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کریں گےواضح رہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف جولائی کے پہلے ہفتے میں ایران کا دورہ کریں گے۔ذرائع کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف آیت اللّٰہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کریں گے۔دورۂ ایران مکمل کرنے کے بعد وزیرِ اعظم ترکیہ بھی جائیں گے۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کی سرحد پر افغان طالبان رجیم کے 4 ڈرونز مار گرائے: آئی ایس پی آر
راولپنڈی (ویب ڈسک )پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا ہے کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے بلوچستان میں سرحد پار ڈرون پروازوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغانستان سے آنے والے 4 ڈرونز مار گرائے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق افغان طالبان رجیم نے 30 جون کو بلوچستان کی سرحد پر 4 ڈرونز بھیجے، افغان طالبان رجیم نےاپنے زیرِکنٹرول علاقوں سےسرگرم دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی میں یہ ڈرونز پاکستان بھیجے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا فضائی دفاعی نیٹ ورک متحرک ہے، مؤثرجوابی کارروائی کے نتیجے میں ڈرونز مار گرائے۔
سکیورٹی فورسز نے جدید دفاعی نظام کے ذریعے چاروں ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کردیا
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے چاروں آنے والے ڈرونز کو کامیابی سے ناکارہ بنا دیا۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کے مضبوط فضائی دفاعی نظام نے تمام ڈرونز کی فوری نشاندہی کی اور مار گرایا، سکیورٹی فورسز نے جدید دفاعی نظام کے ذریعے چاروں ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کردیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے اعلیٰ پیشہ ورانہ تیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کے تمام مذموم عزائم ناکام بنا دیے، افغان طالبان کے ہتھکنڈے افغان عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ہیں، افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کی سرپرستی ترک کرے۔
افغان طالبان نےاشتعال انگیزی کا سلسلہ جاری رکھا تو انہیں ایسا مؤثر جواب دیا جائے گا جس کی بھاری قیمت چکانا پڑےگی
آئی ایس پی آر نے خبردار کیا کہ افغان طالبان کا غیرذمہ دارانہ طرزِ عمل افغان عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہاہے، افغان طالبان کو پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں خبردار کیا گیا کہ افغان طالبان نے پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی کا سلسلہ جاری رکھا تو انہیں ایسا مؤثر جواب دیا جائے گا جس کی بھاری قیمت چکانا پڑےگی۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ہر وقت مکمل طور پر چوکس ہیں، مسلح افواج وطنِ عزیز کے ایک ایک انچ کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں، سرحد پارکسی بھی جارحیت کا آپریشن غضبُ الحق کے تحت فوری، فیصلہ کن اور بھرپورجواب دیا جاتا رہے گا۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

حکومت نے سود سے پاک مالیاتی نظام کے نفاذ کی جامع حکمت عملی جاری کردی
اسلام آباد (ویب ڈیسک )حکومت نے سود سے پاک مالیاتی نظام کی مرحلہ وار منتقلی کےلیے جامع حکمت عملی جاری کردی۔
حکومت نے پاکستان میں سود سے پاک مالیاتی نظام کے نفاذ کے لیے جامع حکمت عملی جاری کر دی ہے جس کے مطابق نئے نظام کی جانب منتقلی مرحلہ وار اور بتدریج کی جائے گی تاکہ مالیاتی استحکام برقرار رہے اور معیشت کو کسی بڑے تعطل کا سامنا نہ ہو۔
وزارت خزانہ کی رپورٹ “2027 کے بعد پاکستان کے مالیاتی نظام سے متعلق حکمتِ عملی” کے مطابق 2027 کے بعد سود سے پاک مالیاتی نظام کا عملی نفاذ متعدد اہم چیلنجز اور خطرات سے نمٹنے پر منحصر ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سود سے پاک مالیاتی نظام کے نفاذ کا تصور وفاقی شرعی عدالت کے 2022 کے فیصلے اور آئین میں 26 ویں ترمیم کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے، تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ اس نظام کی جانب منتقلی تدریجی ہوگی تاکہ معیشت پر کسی قسم کے منفی اثرات سے بچا جا سکے۔
وزارت خزانہ کے مطابق روایتی بینکوں کو اسلامی مالیات کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تربیتی پروگرام شروع کیے جا چکے ہیں، جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی زری پالیسی بھی 2027 کے بعد شریعت کے مطابق مرتب اور نافذ کی جائے گی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ سرکاری قرضوں کو شرعی مالیاتی ذرائع میں تبدیل کرنا سب سے بڑا چیلنج ہوگا، جبکہ اثاثہ رجسٹری کمپنی کے قیام، سکوک کے اجرا اور دیگر اسلامی مالیاتی ذرائع کو حکمتِ عملی کا حصہ بنایا گیا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق دسمبر 2027 تک وفاقی اور صوبائی قوانین میں ضروری ترامیم بھی اس عمل کی کامیابی کے لیے انتہائی اہم ہوں گی۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

بھارتی نیوز چینلز ہیک، صدر کی تقریر کے دوران پاکستانی قومی ترانہ نشر
ممبی (ویب ڈیسک )ہیکرز نے بھارتی نیوز چینلز کو ہیک کرکے صدر کی تقریر کے دوران پاکستانی قومی ترانہ نشر کردیا۔تفصیلات کے مطابق نامعلوم ہیکرز نے بھارتی نیوز چینلز TV9 Telugu اور Freedom TV Kannada کو ہیک کیا اور چینلز کے نشریاتی نظام تک رسائی حاصل کی۔ہیکرز نے بھارتی صدر کی تقریر کے دوران TV9 Telugu پر پاکستانی قومی ترانہ نشر کیا جب کہ اس دوران ایک پیغام بھی چلایا گیا جس میں ہیکرز کی جانب سے تنبیہ کی گئی کہ پاکستان سے چھیڑچھاڑ نہ کی جائے۔رپورٹس کے مطابق اس واقعے کے بعد دونوں چینلز کی نشریات متاثر ہوئیں، TV9 Telugu کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ جب کہ Freedom TV Kannada کے 10 لاکھ سے زائد فالوورز ہیں۔ماہرین کے مطابق مودی سرکار اور گودی میڈیا پاکستان مخالف پروپیگنڈے میں مصروف رہتا ہے مگر ہیکرز نے اس نظام کی قلعی کھول دی۔چوٹی کے بھارتی نیوزچینل کو ہیک کرکے پاکستانی ترانہ چلائے جانے سے بھارت کی ناقص سائبر سکیورٹی بے نقاب ہوگئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ وشوا گرواور شائننگ انڈیا کے دعوے کرنے والا بھارت کا انفارمیشن ٹیکنالوجی نظام مکمل طور پر غیر محفوظ ہے۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

ناران: دریا میں ویڈیو بنانے کی کوشش سیاحوں کو مہنگی پڑگئی، گاڑی بہہ گئی
مانسہرہ(ویب ڈیسک ) سیر سپاٹے کے لیے ناران آنے والے دوستوں کو دریائے کنہار ناران میں ویڈیو بنانا مہنگا پڑ گیا۔پولیس کے مطابق ویڈیو بنانے کے لیے دوستوں نے گاڑی دریا سے گزارنے کی کوشش کی، دریا میں پانی کے تیز بہاؤ کی وجہ سے گاڑی بہہ گئی۔پولیس کا بتانا ہے کہ ریسکیو ٹیم نے بروقت کارروائی کرکے چاروں دوستوں کو بچالیا۔ڈی ایس پی صداقت خان کا کہنا ہے کہ دریا میں بہنے والی گاڑی کو نکالنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

آزاد کشمیر: کالعدم ایکشن کمیٹی کے غیر ملکی روابط کے شواہد مل گئے
اسلام آباد(ویب ڈیسک ) حکومت کو پیش کی گئی ایک انٹیلی جنس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں بجلی کے زیادہ نرخوں اور آٹے کی قیمتوں کیخلاف ایک تحریک کے طور پر سامنے آنے والی کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی بتدریج ایک ایسی غیر ملکی حمایت یافتہ مہم میں تبدیل ہوگئی جس کا مقصد کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے موقف کو کمزور کرنا اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایسے ’’قابلِ اعتماد شواہد‘‘ موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں سمیت بیرونی عناصر نے بالخصوص برطانیہ اور یورپ میں موجود اپنے نیٹ ورکس کے ذریعے مالی، تشہیری اور تنظیمی معاونت فراہم کر کے اس تحریک سے فائدہ اٹھایا۔
رپورٹ کے مطابق کالعدم کمیٹی کی تحریک سماجی و معاشی مطالبات سے آگے بڑھ کر ایک سیاسی مہم میں تبدیل ہوگئی، جس میں آزاد جموں و کشمیر کے آئینی ڈھانچے کو چیلنج کیا گیا۔
ان مطالبات میں آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کیلئے مختص 12 نشستوں کے خاتمے اور بعض رہنماؤں کی جانب سے انتخابی نظام سے پاکستان سے الحاق کے حلف کو ختم کرنے کے مطالبات بھی شامل تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہاجر نشستیں مقبوضہ کشمیر کے مہاجرین کی سیاسی نمائندگی برقرار رکھنے کیلئے قائم کی گئی تھیں۔ اس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگرچہ آئینی اصلاحات پر سیاسی فورمز میں بحث کی جا سکتی ہے، تاہم انتخابات میں خلل ڈالنے کی دھمکیاں دینا اور آئینی دفعات کو مسترد کرنا سیاسی جبر کے مترادف ہے۔
رپورٹ میں اس تحریک کے ارتقاء کو دو بڑی احتجاجی مہمات کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، مئی 2024 کے لانگ مارچ کے نتیجے میں حکومت نے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں ریلیف کا اعلان کیا، تاہم یہ احتجاج تشدد پر ختم ہوا جس میں ایک قانون نافذ کرنے والے ادارے کا اہلکار شہید اور تین شہری جاں بحق ہوئے۔
بعد ازاں 29 ستمبر سے 4 اکتوبر 2025 تک جاری رہنے والے دوسرے لانگ مارچ میں سات شہری اور تین قانون نافذ کرنے والے اہلکار جان سے گئے، جس کے بعد 4 اکتوبر 2025 کو وفاق کی ثالثی میں ایک معاہدہ طے پایا۔ رپورٹ کے مطابق، اس معاہدے کی بیشتر شقوں پر یا تو عملدرآمد ہو چکا ہے یا عمل جاری ہے۔ تاہم رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی نے معاہدے پر عمل کے بجائے بعد میں اپنے مطالبات تبدیل کر دیے۔
رپورٹ میں 9 جون کے احتجاجی اعلان سے قبل پیش آنے والی حالیہ کشیدگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر حکومت نے انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ ان پرتشدد جھڑپوں کے بعد کیا، جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چار اہلکار شہید اور مزید 32 زخمی ہوئے۔
سکیورٹی اداروں نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ مظاہرین نے لاٹھیوں، پتھروں اور آتشیں اسلحے کا استعمال کیا جبکہ آزاد جموں و کشمیر کے پہاڑی علاقوں سے بھی فائدہ اٹھایا گیا۔
رپورٹ میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ احتجاجی مقامات پر عسکری پس منظر رکھنے والے بعض افراد اور ان کے مسلح ساتھی بھی موجود تھے۔ رپورٹ کا ایک بڑا حصہ اس وسیع بیرونِ ملک مہم پر مشتمل ہے جسے اس میں کالعدم ایکشن کمیٹی کی حمایت سے منسوب کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، لندن، برطانیہ کے دیگر شہروں، جنیوا اور یورپی پارلیمنٹ کے باہر پاکستانی سفارتی مشنز کے سامنے مظاہرے کیے گئے تاکہ اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔ اس میں الزام لگایا گیا ہے کہ کشمیری قوم پرست گروہوں، تحریک انصاف کے حامی کارکنوں، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور بھارت نواز پلیٹ فارمز نے مربوط آن لائن مہمات کے ذریعے کالعدم ایکشن کمیٹی کے بیانیے کو فروغ دیا۔
رپورٹ کے مطابق، واٹس ایپ گروپس کے ذریعے الجزیرہ، اسکائی نیوز، رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس، بلوم برگ، فاکس نیوز اور ڈی ڈبلیو نیوز سمیت بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نمائندوں کی رابطہ معلومات پھیلائی گئیں تاکہ احتجاج کو عالمی میڈیا میں زیادہ سے زیادہ کوریج مل سکے۔ مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ مربوط ہیش ٹیگز اور منظم پیغامات کے ذریعے چلائی گئی سوشل میڈیا مہمات کا مقصد آزاد جموں و کشمیر کو انسانی حقوق کے بحران کے طور پر پیش کرنا تھا، جبکہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مبینہ بھارتی مظالم پر خاموشی اختیار کی گئی۔
رپورٹ میں یونائیٹڈ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے اسے ایکشن کمیٹی کے بیرونِ ملک سرگرم ترین حامیوں میں شمار کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق یونائیٹڈ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی طویل عرصے سے آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں پاکستان کے انتظامی کردار کے خلاف بین الاقوامی سطح پر مہم چلاتی رہی ہے اور حالیہ احتجاج کو اپنی لابنگ مزید تیز کرنے کیلئے استعمال کیا۔
رپورٹ میں 29 ستمبر 2025 کو لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر یونائیٹڈ کشمیر پیپلز نیشنل پارٹیکے زیر اہتمام احتجاج میں ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے ایک رکن کی شرکت کو دونوں تنظیموں کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت کا ثبوت قرار دیا گیا ہے۔
انٹیلی جنس رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ ایکشن کمیٹی کو دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے برطانیہ اور یورپ میں موجود ہمدرد عناصر کے ذریعے خاطر خواہ مالی معاونت فراہم کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق، جائیداد، ٹریول اور منی ایکسچینج کے شعبوں سے وابستہ بعض کاروباری شخصیات نے مبینہ طور پر مالی معاونت فراہم کی، جبکہ فنڈز کی ایک بڑی مقدار غیر رسمی ہنڈی اور حوالہ نظام کے ذریعے منتقل کی گئی۔
اس میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ برطانیہ میں مقیم ایکشن کمیٹی کے بعض رہنماؤں کے رشتہ داروں نے آزاد جموں و کشمیر میں سرگرم کارکنوں تک رقوم پہنچانے میں کردار ادا کیا۔ رپورٹ میں ان مبینہ بیرونِ ملک نیٹ ورکس کو وسیع تر سکیورٹی خدشات سے جوڑتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دشمن انٹیلی جنس ایجنسیاں ماضی میں بھی ایسے ہی معاونتی ڈھانچوں کو جاسوسی، نگرانی، اہداف کی نشاندہی، مالی معاونت اور پاکستان کے اندر ٹارگٹ کلنگ کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔
اس میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایسے مقامی نیٹ ورکس، جو سڑکوں پر احتجاج منظم کرنے، معلومات اکٹھی کرنے اور پروپیگنڈا پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، دشمنانہ سرگرمیوں کیلئے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کی معاونت سے اسلحہ اور خطرناک جرائم پیشہ عناصر نے ایکشن کمیٹی کے احتجاجی مظاہروں میں دراندازی کی۔
تاہم اپنی سکیورٹی تشویشات کے باوجود رپورٹ میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ ابتدا میں بڑی تعداد میں عام شہری ایکشن کمیٹی میں اس لیے شامل ہوئے تھے کہ وہ حقیقی معاشی مشکلات کے خلاف احتجاج کرنا چاہتے تھے، نہ کہ اس کے بعد کے سیاسی ایجنڈے کی حمایت کیلئے۔
رپورٹ کے مطابق، کور کمیٹی کے کئی ارکان نے راولاکوٹ دھرنے کے دوران آئینی ڈھانچے کو چیلنج کرنے اور ریاستی اداروں پر تنقید پر مبنی تقاریر کے بعد تنظیم کی بدلتی سمت سے اختلاف کرتے ہوئے عوامی طور پر خود کو اس سے الگ کر لیا۔
رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ حکومت کو عوام کے جائز مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش جاری رکھنا چاہئے، تاہم تشدد، بیرونی مالی معاونت سے چلائی جانے والی تحریک، ریاست مخالف پروپیگنڈا اور دشمن نیٹ ورکس سے مبینہ تعاون کو جمہوری احتجاج قرار دے کر قبول نہیں کیا جا سکتا۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ایک جانب عوامی فلاح سے متعلق وعدوں پر عملدرآمد جاری رکھا جائے، جبکہ دوسری جانب پرتشدد اور بیرونی پشت پناہی رکھنے والے عناصر کو الگ تھلگ کیا جائے اور آزاد جموں و کشمیر کے داخلی سیاسی مباحث سے فائدہ اٹھا کر کشمیر کے بارے میں پاکستان کے موقف کو کمزور کرنے کی مبینہ بیرونی کوششوں کو بے نقاب کیا جائے۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

دریائے سندھ کا پانی پاکستان کی لائف لائن ، ہر صورت اپنے حقوق کا دفاع کریں گے: بلاول
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن ہر صورت اپنے بنیادی مفادات کا تحفظ کرے گا، سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن ممکن نہیں۔اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا پانی صرف جغرافیہ نہیں بلکہ خوراک مستقبل اور زندگی کا سوال ہے، سب نے دیکھا کہ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو متاثر کیا۔انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کی زندگی کی ضمانت ہے، سمندری گزرگاہوں یا آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا عالمی امن کے لیے خطرناک رجحان ہے، دنیا کو احساس ہوچکا ہے کہ پانی کے وسائل عالمی سیاست اور سلامتی کا مرکزی مسئلہ بن چکے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن ممکن نہیں ہے، دنیا کو پانی کو ہتھیار بنانے کے خطرے کی سنگینی کو سمجھنا ہوگا، اکیسویں صدی پانی کی بندش،آبی وسائل کو ہتھیار بنانے کے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے، عالمی برادری کو مشترکہ آبی گزرگاہوں کو ہتھیار بنانےکے خلاف نئے بین الاقوامی قوانین وضع کرنا ہوں گے، ایسا نہ ہو کہ مستقبل میں ہر دریا، آبنائے، نہر اور ہر زیریں بہاؤ والا ملک بالادست ریاستوں کے دباؤ کا شکار بن جائے۔
ان کا کہنا تھا بھارتی رویہ پوری دنیا کے لیے خطرناک مثال بن سکتا ہے، سندھ طاس معاہدہ برقرار رہنا ضروری ہے، پاکستان اپنےآبی حقوق اور دریائے سندھ پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا، کسی ملک کی پانی کی فراہمی کو جان بوجھ کر روکنا ایک وجودی حملہ ہے، بھارت کا مقصد پاکستان کے آبی حقوق کو نقصان پہنچانا ہے، اگر پاکستان کے پانی کو روکناجنگ کے مترادف ہے تو اس کی طرف بڑھنے والا ہر قدم بھی معمول کا معاملہ نہیں سمجھا جاسکتا، دریائے سندھ کا بطور ہتھیار استعمال کا جواب سیاسی، سفارتی اور قانونی سمیت ہرفورم پر دیناہوگا۔ -

پانی پاکستان کی بقا کا معاملہ ہے، ہر صورت سندھ طاس معاہدے کا تحفظ کریں گے: عطا تارڑ
اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ بقا کا معاملہ ہے اور پاکستان ہر صورت سندھ طاس معاہدے کے تقدس کا تحفظ کرےگا۔
سندھ طاس معاہدہ کے بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ہم ایک معاہدے کی نہیں بلکہ 24کروڑ عوام کی زندگی کی شہ رگ پر بات کر رہے ہیں، پاکستان کے لیے پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ بقا کا معاملہ ہے، دریائے سندھ دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کی آبیاری کرتا آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ دراصل دریائےسندھ کی تاریخ ہے، زراعت قومی معیشت کا بنیادی ستون اور دریائے سندھ اس کی شہ رگ ہے، چھ دہائیاں قبل دو ممالک نے ایک غیر معمولی فیصلہ کیا، فیصلے کے نتیجے میں سب سے پائیدار آبی معاہدوں میں سے ایک وجود میں آیا، پاکستان نے ہمیشہ پُرامن روابط، تعمیری مذاکرات اور معاہدے پر مخلصانہ عمل درآمد کے عزم کا مظاہرہ کیا، 1960کا سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی تعلقات میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔