Blog

  • ٹیرف کیا ہے امریکانے یہ اقدام کیوں اٹھایا؟�…. حمیرا گل تشنہ

    ٹیرف کیا ہے امریکانے یہ اقدام کیوں اٹھایا؟�…. حمیرا گل تشنہ

    ٹیرف کیا ہے؟ ٹیرف درحقیقت ایک قسم کا محصول یا ٹیکس ہے جو کسی ملک کی حکومت بیرون ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر عائد کرتی ہے۔ یہ محصولات درآمد کنندہ کمپنیوں کو ادا کرنا ہوتے ہیں جو پھر عام طور پر صارفین تک منتقل ہو جاتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 3 اپریل 2025 کو ایک تاریخی اعلان کرتے ہوئے تقریباً 100 ممالک پر نئے ٹیرفز عائد کرنے کا فیصلہ کیا، جسے انہوں نے “یوم آزادی” قرار دیا۔ اس پالیسی کے تحت تمام ممالک پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا جبکہ کچھ ممالک پر یہ شرح بہت زیادہ بھی ہے۔

    ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی معیشت کی بحالی اور تجارتی عدم توازن کو دور کرنے کے لیے ضروری تھا۔ امریکاکا دعویٰ ہے کہ یہ ٹیرفز “باہمی” (reciprocal) ہیں۔ یعنی جو شرح دیگر ممالک امریکی مصنوعات پر عائد کرتے ہیں، امریکا بھی تقریباً اسی حساب سے ان ممالک کی مصنوعات پر ٹیرفز لگا رہا ہے۔ مثال کے طور پر، پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف اس بنیاد پر عائد کیا گیا ہے کہ پاکستان خود امریکی مصنوعات پر 58 فیصد ٹیرف عائد کرتا ہے۔

    عالمی معیشت پر ٹیرف کے اثرات ایک ایٹم بم کے برابر ہے۔ امریکی ٹیرفز کے اعلان نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آئی ایم ایف کے ماہر اقتصادیات کین روگوف نے اسے “عالمی تجارتی نظام پر ایٹم بم گرانے جیسا عمل” قرار دیا ہے۔ یہ اقدام درحقیقت 1930 کی دہائی کے بعد سے عالمی تجارت پر عائد ہونے والے سب سے بڑے محصولاتی اقدامات میں سے ایک ہے۔
    ٹیرف کے منفی اثرات:
    1) کساد بازاری کا خدشہ: فچ ریٹنگ ایجنسی میں امریکی اقتصادی تحقیق کے سربراہ اولو سونالو نے خبردار کیا ہے کہ اس عمل سے بہت سے ممالک کساد بازاری کا شکار ہو سکتے ہیں۔

    2) مارکیٹس میں مندی: ایشیا کی مختلف مارکیٹس میں اعلان کے فوراً بعد مندی کا رجحان دیکھا گیا۔

    3) گلوبل جی ڈی پی میں کمی: جے پی مورگن ریسرچ کے مطابق، یہ اقدام امریکی جی ڈی پی میں 0.2 فیصد کی کمی کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ عالمی جی ڈی پی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

    4) مہنگائی میں اضافہ: یہ ٹیرفز امریکا میں مہنگائی کو بڑھا سکتے ہیں، جس سے فیڈرل ریزرو کے لیے شرح سود کے فیصلے مشکل ہو جائیں گے۔

    5) تجارتی جنگ کا خطرہ: یورپی یونین کی ایگزیکٹو ہیڈ ارسولا وان ڈیر لیین نے اسے “عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا” قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس سے تحفظ پسندی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    مثبت پہلو (امریکی نقطہ نظر):

    1) مقامی صنعت کی حمایت: ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام امریکی صنعت کاروں کی مدد کرے گا، خاص طور پر ان کمپنیوں کو جو اپنی مصنوعات امریکامیں ہی تیار کرتی ہیں۔

    2) تجارتی عدم توازن میں کمی: امریکا کا یہ بھی خیال ہے کہ یہ ٹیرفز طویل مدتی میں تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

    پاکستان پر ٹیرف کے اثرات: چیلنجز اور مواقع

    پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جن پر امریکہ نے نسبتاً زیادہ ٹیرف (29 فیصد) عائد کیا ہے۔ یہ شرح چین (34 فیصد)، ویت نام (46 فیصد) یا بنگلہ دیش (37 فیصد) سے کم ہے، لیکن بھارت (26 فیصد) سے زیادہ ہے۔

    پاکستان پر فوری ہونے والے منفی اثرات:

    1) برآمدات پر دباؤ: امریکا پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی مارکیٹ ہے، جہاں پاکستان سالانہ تقریباً 6 ارب ڈالر مال برآمد کرتا ہے جو ملک کی کل برآمدات کا 18 فیصد ہے۔

    2) ٹیکسٹائل صنعت کو شدید دھچکا: پاکستان کی کل برآمدات کا 75- 80 فیصد ٹیکسٹائل پر مشتمل ہے، اور اس ٹیرف سے یہ شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہو گا۔

    3) صارفین کو مہنگائی کا سامنا: چونکہ پاکستانی درآمد کنندگان کو ٹیرف ادا کرنا ہو گا، اس لیے ممکن ہے کہ یہ اضافی لاگت صارفین تک منتقل ہو جائے۔

    4) امریکی سرمایہ کاری میں کمی کا خدشہ: یہ اقدام پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری کے رجحان پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

    طویل مدتی مواقع:

    1) متبادل مارکیٹس کی تلاش: ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو چین، یورپی یونین اور دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔

    2) مصنوعات میں تنوع: یہ بہترین موقع ہے کہ پاکستان ٹیکسٹائل سے ہٹ کر دیگر شعبوں میں بھی برآمدات بڑھائے۔

    3) مقامی صنعت کی ترقی: زیادہ ٹیرفز کے باعث پاکستانی مصنوعات کو مقامی مارکیٹ میں فائدہ ہو سکتا ہے۔

    4) علاقائی تجارت: پاکستان کے لیے خطے کے دیگر ممالک، خاص طور پر وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت بڑھانے کا موقع موجود ہے۔

    پاکستان کے مختلف شعبوں پر اثرات
    ٹیکسٹائل صنعت:
    پاکستانی ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کے لیے صورتحال کچھ پیچیدہ ہے۔ ایک طرف تو انہیں 29 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے، لیکن دوسری جانب پاکستان کے مقابل ممالک جیسے بنگلہ دیش (37 فیصد) اور ویت نام (46 فیصد) پر اس سے بھی زیادہ ٹیرفز عائد کیے گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ پاکستانی مصنوعات مہنگی ہو جائیں گی، لیکن کچھ حریف ممالک کی مصنوعات اور بھی مہنگی ہو جائیں گی۔

    زراعت:
    پاکستان کی زرعی برآمدات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر چاول اور کپاس کی برآمدات پر۔

    جوہری اور دفاعی شعبہ:
    حال ہی میں امریکانے پاکستان کی 19 کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں جو جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام سے منسلک ہونے کے الزام میں ہیں۔ یہ پابندیاں ٹیرفز سے الگ ہیں، لیکن یہ دونوں اقدامات مل کر پاکستان اور امریکاکے درمیان تجارتی تعلقات پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

    پاکستانی حکومت اور صنعت کا ردعمل:
    پاکستانی حکومت نے اب تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے، لیکن ماہرین اقتصادیات مختلف ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں:

    1) معاشی ماہر علی حسنین (LUMS) کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکا پاکستان کا اہم تجارتی شراکت دار ہے، لیکن امریکا کو برآمدات پاکستان کے جی ڈی پی کا صرف 1.5 فیصد ہیں، اس لیے مجموعی معیشت پر اثر محدود ہو گا۔

    2) ساجد امین (SDPI) کے مطابق فوری اثرات منفی ہوں گے اور پاکستان کو مقامی پیداوار کو سبسڈی دینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

    3) عدیل نخودہ (IBA) کا خیال ہے کہ پاکستان کو یورپی یونین اور دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات مضبوط کرنے چاہئیں۔

    مستقبل کے امکانات اور سفارشات
    امریکی ٹیرفز کے طویل مدتی اثرات کا انحصار متعدد عوامل پر ہو گا:

    1) ٹیرفز کی مدت: کیا یہ عارضی ہوں گے یا طویل مدتی پالیسی کا حصہ بن جائیں گے؟

    2) بین الاقوامی ردعمل: دیگر ممالک کیسا ردعمل دیتے ہیں، خاص طور پر یورپی یونین اور چین؟

    3) پاکستانی صنعت کی لچک: پاکستانی برآمد کنندگان کس حد تک اس تبدیلی کے ساتھ ایڈجسٹ کر پاتے ہیں۔

    سفارشات پاکستان کے لیے:

    1) برآمدات میں تنوع: صرف ٹیکسٹائل پر انحصار کم کرتے ہوئے دیگر شعبوں میں برآمدات بڑھائی جائیں۔

    2) مارکیٹس کی متنوع سازی: امریکااور یورپی یونین کے علاوہ دیگر مارکیٹس تلاش کی جائیں۔

    3) مصنوعات کے معیار بہتری: اعلیٰ معیار کی مصنوعات تیار کر کے ٹیرف کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

    4) دولت مشترکہ مارکیٹس پر توجہ: پاکستان کو دولت مشترکہ ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات مضبوط کرنے چاہئیں۔

    5) علاقائی تجارتی معاہدے: خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدے کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹیرفز کا اعلان عالمی تجارتی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگرچہ امریکاکا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام اس کی معیشت کو فائدہ پہنچائے گا، لیکن زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے کہ اس کے نتیجے میں عالمی تجارت سکڑے گی، مہنگائی بڑھے گی اور معاشی نمو متاثر ہو گی۔

    پاکستان کے لیے یہ ایک چیلنجنگ صورتحال ہے، لیکن ساتھ ہی یہ موقع بھی ہے کہ وہ اپنی برآمدی پالیسیوں کا ازسر نو جائزہ لے اور معیشت میں تنوع پیدا کرے۔ پاکستان کو اپنی مصنوعات کی قیمت اور معیار دونوں پر کام کرنا ہو گا تاکہ وہ عالمی منڈی میں اپنا مقام برقرار رکھ سکے۔

    حتمی تجزیہ یہ ہے کہ جب تک امریکااور دیگر ممالک کے درمیان تجارتی تناؤ کم نہیں ہوتا، عالمی معیشت غیر یقینی کی کیفیت سے دوچار رہے گی، اور ترقی پذیر ممالک جیسے پاکستان کو اس کے اثرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ صنعت کاروں کے ساتھ مل کر جلد ایک جامع حکمت عملی تیار کرے تاکہ اس بحران کو موقع میں بدلا جا سکے۔

  • ویرات کوہلی کی دوران میچ دل کی دھڑکن تیز ،مداحوں میں تشویش

    ویرات کوہلی کی دوران میچ دل کی دھڑکن تیز ،مداحوں میں تشویش

    ممبئی ( کنزیو مر واچ نیوز)بھارت کے مایہ ناز بیٹر اور آئی پی ایل کی ٹیم رائلز چیلنجر بنگلور کے کھلاڑی ویرات کوہلی کی دوران میچ دل کی دھڑکن تیز ہوگئی، جس پر انہوں نے مخالف ٹیم کے وکٹ کیپر کو اپنے دل کی دھڑکن چیک کرنے کا کہا۔بھارت کے اسٹار بیٹر ویرات کوہلی آئی پی ایل میں رائل چیلنجر بنگلور کی نمائندگی کررہے ہیں، راجستھان رائلز کیخلاف بیٹنگ کے دوران رنز مکمل کرنے کے بعد انہوں نے مخالف ٹیم کے وکٹ کیپر سنجو سیمسن سے دل کی دھڑکن چیک کرنے کیلئے کہا۔سنجو سیمسن نے وکٹ کیپنگ گلوز اتار کر کوہلی کے دل کی دھڑکن چیک کی اور ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہا کہ سب کچھ نارمل ہےبعد ازاں ویرات کوہلی کو گراؤنڈ میں ٹریٹمنٹ لیتے بھی دیکھا گیا، کوہلی کی جانب سے دل کی دھڑکن چیک کرنے کا کہنے اور گراؤنڈ میں طبی امداد ملنے کے باعث ان کے مداحوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

  • اسرائیل کی وحشیانہ بمباری، 6 سگے بھائیوں سمیت 37 فلسطینی شہید

    اسرائیل کی وحشیانہ بمباری، 6 سگے بھائیوں سمیت 37 فلسطینی شہید

    غزہ سٹی(کنزیو مر واچ نیوز) غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ حملوں میں 6 سگے بھائیوں سمیت کم از کم 37 فلسطینی شہید ہو گئے، جبکہ اسپتالوں، بچوں اور امدادی کارکنوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق اتوار کو غزہ کے علاقے دیر البلح میں خوراک تقسیم کرنے والے 6 سگے بھائیوں کو اسرائیلی فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ شہداء کی عمریں 10 سے 34 سال کے درمیان تھیں۔شہداء کے والد زکی ابو مہدی نے بتایا کہ ان کے بیٹے جنگ کے آغاز سے ہی غریبوں کی مدد کر رہے تھے اور ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا۔عالمی ادارہ صحت (WHO) نے بھی تصدیق کی کہ ایک فلسطینی بچہ طبی امداد نہ ملنے کے باعث جان کی بازی ہار گیا۔

  • شہور ڈرامہ رائٹر خلیل الرحمٰن قمر ہنی ٹریپ و اغوا  کیس کا فیصلہ آ   گیا

    شہور ڈرامہ رائٹر خلیل الرحمٰن قمر ہنی ٹریپ و اغوا کیس کا فیصلہ آ گیا

    لاہور(کنزیومر واچ نیوز)انسداد دہشت گردی عدالت نے مشہور ڈرامہ رائٹر خلیل الرحمٰن قمر ہنی ٹریپ و اغوا برائے تاوان کیس کا فیصلہ سنا دیا۔لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمٰن قمر ہنی ٹریپ اور اغوا برائے تاوان کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے تین ملزمان کو سزا جبکہ دیگر کو بری کر دیا۔جج ارشد جاوید نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان آمنہ عروج، ممنون حیدر اور زیشان کو تاوان طلب کرنے کے جرم میں سات، سات سال قید کی سزا سنائی۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ اغوا کا الزام ثابت نہیں ہو سکا، اس لیے اس بنیاد پر سزا نہیں دی گئی۔

  • نجومی نے سلمان خان کو محتاط رہنے کا مشورہ دیدیا

    نجومی نے سلمان خان کو محتاط رہنے کا مشورہ دیدیا

    ممبئی (کنزیومر واچ نیوز)بھارت کے مشہورنجومی گیتانجلی سکسینا نے بالی وڈ دبنگ اسٹار سلمان خان کے کیرئیر اور سکیورٹی سے متعلق ایک اور بڑی پیشگوئی کردی۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گیتانجلی سکسینا نامی نجومی نے پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ’پیشہ ورانہ طور پر سلمان خان کا سال 2024 سازگار نہیں رہا اور آئندہ سالوں کیلئے انہیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی نئی فلم کی ریلیز سے باز رہیں‘ ۔نجومی نے کہا کہ ’سلمان خان کی جان کو کوئی خطرہ نہیں لیکن اس کے باوجود سلمان کو رواں برس ستمبر اکتوبر کے آس پاس محتاط رہنا پڑے گا‘۔

  • عمران خان کی رہائی کی کوششوں کے حوالے سے اہم انکشافات

    عمران خان کی رہائی کی کوششوں کے حوالے سے اہم انکشافات

    لندن: (کنزیومر واچ نیوز)سابق وزیر اعظم اور جیل میں بند پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان نے گزشتہ سال نومبر میں ایک ایسے شخص سے طویل بات چیت کی تھی جو اب اعلیٰ حکام کے ساتھ حالیہ اہم بات چیت کا حصہ ہیں۔ انگریزی اخباردی نیوز کے مطابق یہ مذاکرات عمران خان کی رہائی اور پی ٹی آئی اور طاقتور حکام کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے ممکنہ طریقے تلاش کرنے کے بارے میں ہیں۔ انتہائی موقر ذرائع نے اس نمائندے کو بتایا ہے کہ امریکی پاکستانیوں کے ایک گروپ کے گزشتہ ماہ (مارچ) کے تیسرے ہفتے میں عمران خان کے ساتھ مذاکرات سے بہت پہلے اڈیالہ جیل میں عمران خان اور ایک ایسے شخص کے درمیان بات چیت کے کئی سیشنز منعقد ہوئے تھے، یہ شخص اب حالیہ مذاکرات اور بات چیت کا حصہ ہے۔ عمران خان اور طاقتور پاکستانی انتظامیہ کے درمیان تعطل کو ختم کرنے کیلئے جو کوششیں ہو رہی ہیں اُن میں فوُڈ اور ریئل اسٹیٹ کی امریکی پاکستانی شخصیت تنویر احمد، تحریک انصاف امریکا چیپٹر کے سینئر رہنما عاطف خان، سردار عبدالسمیع، ڈاکٹر عثمان ملک، ڈاکٹر سائرہ بلال اور ڈاکٹر محمد منیر شامل ہیں۔جیل میں عمران خان سے ملاقات کرنے والے امریکی پاکستانی افراد دو دہائیوں سے عمران خان کے ذاتی دوست اور انہیں عطیات دیتے رہے ہیں، جب عمران خان وزیراعظم تھے تب بھی ملاقات کیلئے آتے رہتے تھے اور امریکا سے پاکستان آنے والے وفد کو جوڑنے میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ اِن دو ملاقاتوں کے دوران جو کچھ ہوا؛ ان کے متعلق معتبر ذرائع نے دلچسپ معلومات شیئر کی ہیں۔گزشتہ سال امریکی پاکستانیوں کے ساتھ نومبر میں ہوئی ملاقات کے دوران عمران خان نے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت کی ضرورت کو سمجھا اور معاملات کے حل کیلئے تقریباً حامی ظاہر کی اور پھر انہیں یقین دلایا گیا کہ لاکھوں لوگ اسلام آباد لانگ مارچ میں شامل ہوں گے جس سے اس قدر افراتفری پیدا ہوگی کہ نظام کو فیصلہ کن مذاکرات کی طرف لایا جا سکے گا۔ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے 3 سینئر رہنماؤں نے عمران خان کو یقین دلایا کہ لاکھوں لوگ اسلام آباد پر دھاوا بول دیں گے اور پی ٹی آئی کی شرائط پر عمران خان کو رہا کرایا جائے گا۔ اُس وقت بشریٰ بی بی اس پورے منظرنامے میں شامل نہیں تھیں اور ان کی شمولیت کے حوالے سے بھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ذرائع کا بتانا ہے کہ عمران خان اس مارچ کی کامیابی کیلئے اس قدر پرامید تھے کہ انہوں نے امریکی پاکستانیوں کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

  • امریکا میں مقیم غیر ملکی شہریوں کیلۓ قوانین مزید سخت

    امریکا میں مقیم غیر ملکی شہریوں کیلۓ قوانین مزید سخت

    واشنگٹن (کنزیومر واچ نیوز)صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے بعد گزشتہ روز نافذ ہونے والے نئے قوانین کے مطابق ریاست ہائے متحدہ امریکا میں رہنے والے تمام غیر ملکی شہریوں کو حکومت کے ساتھ رجسٹر ہونا ہوگا اور ہر وقت اپنی قانونی حیثیت کا دستاویزی ثبوت ساتھ رکھنا ہوگا یہ قاعدہ، تمام غیر شہریوں پر لاگو ہوتا ہے – جسے ایلینز کہا جاتا ہے – کا اعلان محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) نے کیا تھا اور اسے یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز (USCIS) نے نافذ کیا تھا۔اس نے 18 سال اور اس سے زیادہ عمر کے تمام غیر ملکیوں کو، بشمول قانونی حیثیت کے حامل افراد کو، ہر وقت اپنی رجسٹریشن کا ثبوت اپنے پاس رکھنے کا پابند کیا۔اس میں گرین کارڈ ہولڈرز اور امریکہ میں قانونی طور پر مقیم غیر شہریوں کے دیگر زمرے شامل ہیں۔

  • خانہ کعبہ کی توہین آمیز تصویر  شٸر کرنے پر بھارتی شہری کو سزا

    خانہ کعبہ کی توہین آمیز تصویر شٸر کرنے پر بھارتی شہری کو سزا

    جدہ (کنزیومر واچ نیوز)سعودی عرب میں ایک ہندوستانی شہری کو اس کے فیس بک اکاؤنٹ پر خانہ کعبہ سے منسلک ایک توہین آمیز تصویر منظر عام پر آنے کے بعد سزا سنائی گئی۔ اس تصویر میں مبینہ طور پر خانہ کعبہ کی جگہ مندر کو دکھایا گیا ہےاسے ابتدائی طور پر ایک سخت سزا – 2,100 کوڑے، سات سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے، اور 30,000 سعودی ریال کا جرمانہ عاٸد کیاگیا تھا۔اس شخص نے دعویٰ کیا کہ اس نے تصویر خود پوسٹ نہیں کی، اس بات پر اصرار کیا کہ اس نے صرف پوسٹ کو پسند کیا تھا۔

  • بیٹی کو بوائے فرینڈ کے ساتھ دہلی جانے پر قتل کردیا

    بیٹی کو بوائے فرینڈ کے ساتھ دہلی جانے پر قتل کردیا

    بہار (کنزیومر واچ نیوز)بھارتی ریاست بہار کے علاقے سماسٹپور میں سابق فوجی نے مبینہ طور پر اپنی بیٹی کو بوائے فرینڈ کے ساتھ دہلی جانے پر غصے میں آکر قتل کردیا جبکہ پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا۔بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ سماسٹپور میں مبینہ طور پر اپنی بیٹی کو قتل کرنے والے شہری کو گرفتار کرلیا ہے جو بھارتی فوج کا سابق اہلکار ہے۔پولیس نے بتایا کہ مبینہ طور پر 25 سالہ ساکشی کو 7 اپریل کو قتل کیا گیا اور ان کی لاش گزشتہ روز ان کے گھر میں واش روم سے برآمد ہوئی جس سے لاک کردیا گیا تھا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ گرفتار ملزم مکیش سنگھ بیٹی کو قتل کرنے کے بعد ان کے دوست کو بھی مارنے کے لیے گیا تھا لیکن وہ گاؤں میں موجود نہیں تھا۔ساکشی کے ماموں وپن کمار نے بتایا کہ لڑکی اپنے دوست کے ساتھ 4 مارچ کو دہلی گئی تھی جس کا تعلق دوسری ذات سے تھا اور ان کا پڑوسی تھا اور دونوں ایک ساتھ کالج جاتے تھے۔

  • پی ایس ایل، کراچی کنگز کو پہلے میچ سے قبل بڑا دھچکا

    پی ایس ایل، کراچی کنگز کو پہلے میچ سے قبل بڑا دھچکا

    کراچی ( کنزیومر واچ نیوز)پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی سابق چیمپئین ٹیم کراچی کنگز کو 10ویں ایڈیشن کے اپنے پہلے میچ سے قبل بڑا دھچکا لگ گیا۔کراچی کنگز کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 10 کیلئے 2 کھلاڑیوں کو اسکواڈ میں شامل کرلیا ہے، جس میں آسٹریلوی وکٹ کیپر بیٹر بین میکڈرموٹ اور پاکستان انڈر 19 کے کپتان سعد بیگ شامل ہیں۔بین میکڈرموٹ کو بنگلادیش کے لِٹن داس کی جگہ شامل کیا گیا ہے، جنہیں پی ایس ایل پلیئرز ڈرافٹ 2025 میں سلور کیٹیگری میں منتخب کیا گیا تھا تاہم پہلے میچ سے قبل پریکٹس کے دوران انجری کا شکار ہو کر ایونٹ سے باہر ہوگئے۔