تہران (فارن ڈیسک )ایران نے اصفہان میں امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی یونٹس نے اصفہان کے قریب امریکا کے ایک MQ-9 ڈرون کو مار گرایا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈرون کو منگل کی صبح روک کر تباہ کر دیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مار گرایا جانے والا ڈرون جنگ میں گرایا جانے والا 146 واں ڈرون ہے۔MQ-9 ریپر، جو وسیع پیمانے پر نگرانی اور حملے کے مشن کے لیے استعمال ہوتا ہے، کا تخمینہ لاگت تقریباً 30 ملین ڈالر فی یونٹ ہے۔
Blog
-

آبنائے ہرمز بند رہنے کے باوجود ٹرمپ ایران جنگ ختم کرنے کیلئے تیار
واشنگٹن (ویب ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بند رہنے کے باوجود وہ ایران جنگ ختم کرنے کیلئے تیار ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وال سٹریٹ جرنل نے ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے اپنے معاونین سے کہا ہے کہ وہ ایران جنگ کو ختم کرنے کے لیے تیار ہیں بھلے آبنائے ہرمز بند رہے۔ٹرمپ اور ان کے معاونین کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے فوجی کارروائیاں ایران کے تنازع کو چار سے چھ ہفتوں کی ٹائم لائن سے آگے دھکیل دیں گی۔ انتظامیہ کے حکام نے بتایا کہ صدر کے پاس فوجی اختیارات ہیں، لیکن وہ ان کی ترجیح نہیں ہیں۔رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے فیصلہ کیا ہے کہ امریکا ایران کی بحریہ اور میزائلوں کو تباہ کرکے اپنے مقاصد حاصل کرے، پھر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے تہران پر سفارتی دباؤ ڈالے گا اور دشمنی کو ختم کرے گا۔ اور اگر ایران ایسا نہیں کرتا تو واشنگٹن یورپ اور خلیج میں اتحادیوں پر دباؤ ڈالے گا کہ وہ آبنائے کو دوبارہ کھلوائیں۔واضح رہے کہ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز نہ کھلی تو ایران کے شہری بنیادی انفراسٹرکچر پر حملہ کر دیں گے۔
-

ایران جنگ میں آدھے زیادہ مقاصد حاصل کرلیے ہیں، نیتن یاہو
تل ابیب (ویب ڈیسک )اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں آدھے سے زیادہ مقاصد حاصل کرلیے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے ایک امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے اس جنگ میں آدھے سے زیادہ اہداف حاصل کرلیے ہیں تاہم لیکن اس جنگ کے خاتمے پر میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔انہوں نے کہا کہ جنگ نے ایران کے پاسداران انقلاب کے “ہزاروں” ارکان کو ہلاک کرنے سمیت کئی اہداف حاصل کیے ہیں۔ ہم ان کی ہتھیاروں کی صنعت کو ختم کرنے کے بھی قریب ہیں۔نیتن یاہو نے اس اعتماد کا بھی اظہار کیا کہ ایران کی اسلامی جمہوریہ ختم ہوجائے گی تاہم انہوں نے اضافہ کیا کہ جنگ کا مقصد یہ نہیں تھا۔واضح رہے کہ 28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ جنگ کا آغاز کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ آپریشن چار سے چھ ہفتے تک جاری رہے گا۔سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ جنگ مہینوں کے بجائے ہفتوں جاری رہے گی۔ نیتن یاہو اور ٹرمپ نے بارہا الزام لگایا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب ہے جبکہ یہ الزام اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کی رپورٹ کیخلاف ہے۔
-

امن کےلئے پاکستان جیسے دوست ملک کی کو ششوں کو سراہتے ہیں، ایرانی سفیر
اسلام آباد:(پاکستان واچ نیوز)پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا جنگ بندی کیلئے پاکستان کی کوششوں سے متعلق اہم بیان سامنے آگیا۔ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کی جانب سے ایکس پر شیئر پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان جیسے دوست اور برادر ملک کی جانب سے امریکا-اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت روکنے اور خطے میں امن و استحکام بحال کرنے کے لیے نیک نیتی، مثبت اقدام اور سفارتی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ایرانی سفیر نے کہا کہ میں یہاں چند نکات پیش کروں گا جنہیں میں آئندہ تھریڈز میں بیان کروں گا۔
-

مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ؛ کراچی میں بارش ہوگی یا نہیں؟
کراچی:(پاکستان واچ نیوز)محکمہ موسمیات نے اپریل کے آغاز پر بارش کے نئے سلسلے کے حوالے سے نئی ایڈوائزری جاری کر دی۔محکمہ موسمیات کی ارلی وارننگ سینٹر پیشگوئی کے مطابق مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ بلوچستان کے راستے ملک میں داخل ہوگا۔کراچی میں جمعرات کو گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے جبکہ مذکورہ سسٹم شہر پر 4 اپریل تک بارشوں کی صورت اثر انداز رہ سکتا ہے۔شہر کے کچھ مقامات پر موسلادھار بارشیں متوقع ہیں جبکہ دیہی سندھ کے مختلف اضلاع میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارشیں ہونے کا امکان ہے۔دیہی سندھ بشمول کراچی میں بارشوں کے دوران ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارش، ژالہ باری اور تیز ہواؤں کے سبب کمزور املاک کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
-

وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کا وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانے کیلیے بڑا فیصلہ..پاکستان واچ رپورٹ
وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کی جانب سے ایران کے راستے وسطی ایشیائی ممالک اور آذربائیجان کو برآمدات کے لیے بینک گارنٹی اور لیٹر آف کریڈٹ کی شرط سے عارضی استثنیٰ دینے کا فیصلہ پاکستان کی تجارتی پالیسی میں ایک اہم اور دور رس اثرات کا حامل اقدام ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف برآمدکنندگان کے لیے سہولت پیدا کرتا ہے بلکہ پاکستان کے علاقائی تجارتی کردار کو بھی مضبوط بناتا ہے، جو موجودہ عالمی معاشی حالات میں ایک مثبت پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
اس اقدام کے تحت زمینی راستے کے ذریعے ایران، آذربائیجان اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی کو آسان بنا دیا گیا ہے۔ ماضی میں برآمدکنندگان کو بینک گارنٹی اور لیٹر آف کریڈٹ جیسی پیچیدہ مالی شرائط کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جس کے باعث نہ صرف اخراجات میں اضافہ ہوتا تھا بلکہ کاروباری عمل بھی سست روی کا شکار رہتا تھا۔ اب ان شرائط میں عارضی نرمی سے کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئے گی اور چھوٹے و درمیانے درجے کے برآمدکنندگان کو بھی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوگی۔
وزارت تجارت کے نوٹیفکیشن کے مطابق تین ماہ کے لیے دی جانے والی یہ خصوصی رعایت 24 مارچ سے 21 جون 2026 تک نافذ العمل رہے گی۔ اس مدت کے دوران برآمدکنندگان کو ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت میں غیر معمولی سہولت میسر آئے گی۔ اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ضوابط سے جزوی استثنیٰ دیا گیا ہے، تاہم برآمدی آمدن کو مقررہ مدت میں واپس لانے کی شرط برقرار رکھی گئی ہے، جو مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے ایک متوازن حکمت عملی ہے۔
ایران کو برآمد کی جانے والی اشیاء کی فہرست خاصی وسیع ہے، جس میں چاول، سمندری خوراک، آلو، گوشت، پیاز، مکئی اور مختلف اقسام کے پھل شامل ہیں۔ یہ تمام اشیاء پاکستان کی زرعی پیداوار کا اہم حصہ ہیں، اور ان کی برآمد سے نہ صرف کسانوں کو فائدہ ہوگا بلکہ زرعی شعبے میں بھی بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ فارماسیوٹیکل مصنوعات اور ٹینٹس کی برآمد کو بھی اس رعایت میں شامل کیا گیا ہے، جو پاکستان کی صنعتی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔
یہ اقدام اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ وسطی ایشیائی ریاستیں ایک ابھرتی ہوئی منڈی ہیں، جہاں پاکستانی مصنوعات کے لیے وسیع مواقع
موجود ہیں۔ ان ممالک تک براہ راست رسائی نہ ہونے کے باعث پاکستان کو ماضی میں مشکلات کا سامنا رہا، تاہم ایران کے راستے زمینی تجارت کی اجازت ملنے سے یہ رکاوٹ بڑی حد تک دور ہو گئی ہے۔ اس سے نہ صرف تجارتی حجم میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان کی برآمدی منڈیوں میں تنوع بھی آئے گا۔
وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کا یہ کہنا بجا ہے کہ ایران کے راستے تجارت سے برآمدکنندگان کے اخراجات اور وقت میں نمایاں کمی آئے گی۔ سمندری راستوں کے مقابلے میں زمینی راستہ تیز اور نسبتاً کم خرچ ہوتا ہے، جس سے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بن سکتی ہیں۔ خاص طور پر چاول اور ادویات جیسے شعبوں میں یہ سہولت پاکستان کو ایک مضبوط برآمد کنندہ کے طور پر سامنے لا سکتی ہے۔
ادویات کی برآمدات کے حوالے سے حکومت کی ترجیح بھی قابلِ ذکر ہے۔ پاکستانی فارماسیوٹیکل صنعت نہ صرف معیار کے لحاظ سے بہتر ہے بلکہ قیمت کے اعتبار سے بھی مسابقتی ہے۔ اگر اس شعبے کو مزید سہولتیں فراہم کی جائیں تو پاکستان خطے میں ایک اہم فارماسیوٹیکل حب بن سکتا ہے۔ اس رعایت کے ذریعے ادویات کی برآمد میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ایک مثبت قدم ہے جو مستقبل میں مزید مواقع پیدا کرے گا۔
مزید برآں، یہ فیصلہ علاقائی روابط کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ایک پل بناتی ہے۔ اگر اس موقع سے مؤثر انداز میں فائدہ اٹھایا جائے تو پاکستان نہ صرف اپنی برآمدات میں اضافہ کر سکتا ہے بلکہ ایک علاقائی تجارتی راہداری کے طور پر بھی اپنی حیثیت مستحکم کر سکتا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ عالمی سطح پر تجارت کے رجحانات تیزی سے بدل رہے ہیں اور ممالک علاقائی تعاون کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا یہ قدم اسے ایک فعال اور متحرک معیشت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت برآمدات کے فروغ اور معیشت کے استحکام کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
تاہم اس پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ برآمدکنندگان اس موقع سے کس حد تک فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ معیار، پیکجنگ اور بروقت ترسیل پر خصوصی توجہ دیں تاکہ عالمی منڈی میں پاکستان کی ساکھ مزید بہتر ہو۔ اسی طرح حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس رعایت کے نتائج کا بغور جائزہ لے اور کامیابی کی صورت میں اسے مزید توسیع دینے پر غور کرے۔
مزید یہ کہ اس پالیسی کے تحت سرحدی انفراسٹرکچر، کسٹمز سہولیات اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کو بھی بہتر بنانا ناگزیر ہے تاکہ بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں سنبھالا جا سکے۔ اگر سرحدی راستوں پر تیز تر کلیئرنس، ڈیجیٹل ڈاکیومنٹیشن اور جدید لاجسٹکس نظام متعارف کرایا جائے تو برآمدات کے حجم میں کئی گنا اضافہ ممکن ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کی شمولیت اور سرمایہ کاری کو بھی فروغ دینا ہوگا تاکہ یہ اقدام محض عارضی سہولت نہ رہے بلکہ ایک پائیدار معاشی حکمت عملی میں تبدیل ہو سکے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران کے راستے وسطی ایشیا اور آذربائیجان تک برآمدات کے لیے مالیاتی شرائط میں نرمی ایک دانشمندانہ اور بروقت فیصلہ ہے۔ یہ نہ صرف برآمدکنندگان کے لیے آسانیاں پیدا کرے گا بلکہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ اگر اس پالیسی کو مستقل بنیادوں پر موثر حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو پاکستان خطے میں ایک مضبوط تجارتی طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ -

صدر نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اجلاس طلب کرلیا، وزیراعظم، وزرا، عسکری قیادت شریک ہوگی
اسلام آباد (ویب ڈیسک )صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت ایوانِ صدر میں اہم اجلاس آج متوقع ہے جس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور اہم وفاقی وزرا شرکت کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں اعلیٰ عسکری قیادت اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی شرکت بھی متوقع ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔
اجلاس میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا، ساتھ ہی خلیجی ممالک پر حملوں سے پیدا ہونے والی صورتحال بھی زیرِ بحث آئے گی۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار شرکا کو چار ملکی وزرائے خارجہ اجلاس پر اعتماد میں لیں گے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک میں موجود پٹرولیم ذخائر اور ترسیل کے نظام کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ کفایت شعاری پالیسی اور اس پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
شرکا کو ممکنہ اسمارٹ لاک ڈاؤن اور دیگر ہنگامی اقدامات پر بریفنگ دی جائے گی، جبکہ اسمارٹ لاک ڈاؤن سے متعلق صوبوں کی تجاویز پر بھی غور ہوگا۔ ذرائع کے مطابق موٹر سائیکل اور رکشہ ڈرائیورز کو سبسڈی دینے سے متعلق بھی اہم فیصلے متوقع ہیں۔



