Blog

  • ایران نے اصفہان میں 3 کروڑ ڈالر کا امریکی ڈرون مار گرایا

    ایران نے اصفہان میں 3 کروڑ ڈالر کا امریکی ڈرون مار گرایا

    تہران (فارن ڈیسک )ایران نے اصفہان میں امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی یونٹس نے اصفہان کے قریب امریکا کے ایک MQ-9 ڈرون کو مار گرایا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈرون کو منگل کی صبح روک کر تباہ کر دیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مار گرایا جانے والا ڈرون جنگ میں گرایا جانے والا 146 واں ڈرون ہے۔MQ-9 ریپر، جو وسیع پیمانے پر نگرانی اور حملے کے مشن کے لیے استعمال ہوتا ہے، کا تخمینہ لاگت تقریباً 30 ملین ڈالر فی یونٹ ہے۔

  • آبنائے ہرمز بند رہنے کے باوجود ٹرمپ ایران جنگ ختم کرنے کیلئے تیار

    آبنائے ہرمز بند رہنے کے باوجود ٹرمپ ایران جنگ ختم کرنے کیلئے تیار

    واشنگٹن (ویب ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بند رہنے کے باوجود وہ ایران جنگ ختم کرنے کیلئے تیار ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وال سٹریٹ جرنل نے ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے اپنے معاونین سے کہا ہے کہ وہ ایران جنگ کو ختم کرنے کے لیے تیار ہیں بھلے آبنائے ہرمز بند رہے۔ٹرمپ اور ان کے معاونین کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے فوجی کارروائیاں ایران کے تنازع کو چار سے چھ ہفتوں کی ٹائم لائن سے آگے دھکیل دیں گی۔ انتظامیہ کے حکام نے بتایا کہ صدر کے پاس فوجی اختیارات ہیں، لیکن وہ ان کی ترجیح نہیں ہیں۔رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے فیصلہ کیا ہے کہ امریکا ایران کی بحریہ اور میزائلوں کو تباہ کرکے اپنے مقاصد حاصل کرے، پھر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے تہران پر سفارتی دباؤ ڈالے گا اور دشمنی کو ختم کرے گا۔ اور اگر ایران ایسا نہیں کرتا تو واشنگٹن یورپ اور خلیج میں اتحادیوں پر دباؤ ڈالے گا کہ وہ آبنائے کو دوبارہ کھلوائیں۔واضح رہے کہ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز نہ کھلی تو ایران کے شہری بنیادی انفراسٹرکچر پر حملہ کر دیں گے۔

  • ایران جنگ میں آدھے زیادہ مقاصد حاصل کرلیے ہیں، نیتن یاہو

    ایران جنگ میں آدھے زیادہ مقاصد حاصل کرلیے ہیں، نیتن یاہو

    تل ابیب (ویب ڈیسک )اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں آدھے سے زیادہ مقاصد حاصل کرلیے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے ایک امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے اس جنگ میں آدھے سے زیادہ اہداف حاصل کرلیے ہیں تاہم لیکن اس جنگ کے خاتمے پر میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔انہوں نے کہا کہ جنگ نے ایران کے پاسداران انقلاب کے “ہزاروں” ارکان کو ہلاک کرنے سمیت کئی اہداف حاصل کیے ہیں۔ ہم ان کی ہتھیاروں کی صنعت کو ختم کرنے کے بھی قریب ہیں۔نیتن یاہو نے اس اعتماد کا بھی اظہار کیا کہ ایران کی اسلامی جمہوریہ ختم ہوجائے گی تاہم انہوں نے اضافہ کیا کہ جنگ کا مقصد یہ نہیں تھا۔واضح رہے کہ 28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ جنگ ​​کا آغاز کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ آپریشن چار سے چھ ہفتے تک جاری رہے گا۔سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ جنگ مہینوں کے بجائے ہفتوں جاری رہے گی۔ نیتن یاہو اور ٹرمپ نے بارہا الزام لگایا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب ہے جبکہ یہ الزام اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کی رپورٹ کیخلاف ہے۔

  • امن کےلئے   پاکستان جیسے دوست ملک  کی کو ششوں کو سراہتے ہیں، ایرانی سفیر

    امن کےلئے پاکستان جیسے دوست ملک کی کو ششوں کو سراہتے ہیں، ایرانی سفیر

    اسلام آباد:(پاکستان واچ نیوز)پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا جنگ بندی کیلئے پاکستان کی کوششوں سے متعلق اہم بیان سامنے آگیا۔ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کی جانب سے ایکس پر شیئر پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان جیسے دوست اور برادر ملک کی جانب سے امریکا-اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت روکنے اور خطے میں امن و استحکام بحال کرنے کے لیے نیک نیتی، مثبت اقدام اور سفارتی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ایرانی سفیر نے کہا کہ میں یہاں چند نکات پیش کروں گا جنہیں میں آئندہ تھریڈز میں بیان کروں گا۔

  • مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ؛ کراچی میں بارش ہوگی یا نہیں؟

    مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ؛ کراچی میں بارش ہوگی یا نہیں؟

    کراچی:(پاکستان واچ نیوز)محکمہ موسمیات نے اپریل کے آغاز پر بارش کے نئے سلسلے کے حوالے سے نئی ایڈوائزری جاری کر دی۔محکمہ موسمیات کی ارلی وارننگ سینٹر پیشگوئی کے مطابق مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ بلوچستان کے راستے ملک میں داخل ہوگا۔کراچی میں جمعرات کو گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے جبکہ مذکورہ سسٹم شہر پر 4 اپریل تک بارشوں کی صورت اثر انداز رہ سکتا ہے۔شہر کے کچھ مقامات پر موسلادھار بارشیں متوقع ہیں جبکہ دیہی سندھ کے مختلف اضلاع میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارشیں ہونے کا امکان ہے۔دیہی سندھ بشمول کراچی میں بارشوں کے دوران ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارش، ژالہ باری اور تیز ہواؤں کے سبب کمزور املاک کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

  • پی ٹی آئی کا پیکا ایکٹ پر یوٹرن؟ عظمیٰ بخاری کے خلاف کارروائی کی تیاری،رپورٹ: بےنظیر مہدی رضوی

    پی ٹی آئی کا پیکا ایکٹ پر یوٹرن؟ عظمیٰ بخاری کے خلاف کارروائی کی تیاری،رپورٹ: بےنظیر مہدی رضوی

    پی ٹی آئی کا ایک اور بڑا یوٹرن؟ جس کو کل تک پی ٹی آئی کالا قانون قرار دیتی تھی اب اس کے تحت عظمیٰ بخآری کے خلاف کارروائی کی تیاری مکمل،
    پی ٹی آئی کی جانب سے عظمیٰ بخاری کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی کے لیے چیئرمین پیمرا اور ڈائریکٹر جنرل این سی سی سی کو خط بھیجنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔
    ذرائع کے مطابق خط لکھنے کے معاملے پر پی ٹی آئی رہنماؤں کے درمیان شدید اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔ وہی قانون جسے ماضی میں “کالا قانون” کہا جاتا تھا، اب اسی کے تحت کارروائی کا مطالبہ پارٹی کے اندر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔
    پارٹی رہنماؤں کے واٹس ایپ گروپس میں اس معاملے پر سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، جس سے اندرونی کشیدگی واضح ہو گئی ہے۔
    خط کے متن کے مطابق یہ اقدام دانستہ اور مسلسل غلط معلومات پھیلانے کی مہم کے ردِعمل میں اٹھایا جا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مہم ٹاک شوز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور پریس کانفرنسز کے ذریعے چلائی گئی، جس میں قاسم خان کے مطابق چھوٹے الزامات کو بڑھا چڑھا کر حقائق کے طور پر پیش کیا گیا۔
    بعد ازاں ان بیانات کو الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے وسیع پیمانے پر پھیلایا گیا، جس کے نتیجے میں غیر مصدقہ دعوے ملک گیر بیانیہ بن گئے۔
    ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اس خط کا متن تیار کیا۔
    سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا یہ پی ٹی آئی کا واضح یوٹرن ہے یا بدلتی سیاسی حکمت عملی کا حصہ

  • عالمی طاقتوں کا کھیل اور پاکستان…شیخ راشدعالم

    عالمی طاقتوں کا کھیل اور پاکستان…شیخ راشدعالم

    دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں عالمی طاقتوں کے مفادات کا ٹکراؤ کھل کر سامنے آ چکا ہے۔ طاقت، اثر و رسوخ اور وسائل کی اس کشمکش نے بین الاقوامی سیاست کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ اسی تناظر میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہ جنگ محض دو ممالک کے درمیان تصادم نہیں بلکہ ایک وسیع تر عالمی کھیل کا حصہ ہے، جس میں ہر بڑی طاقت اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم ہے۔
    اس جنگ کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، تجارت اور معیشت پر واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ خلیج کا خطہ، جو دنیا کی توانائی کا ایک بڑا مرکز ہے، غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ تیل کی سپلائی میں رکاوٹ اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے کئی ممالک کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ تاہم، ایسے نازک حالات میں کچھ ممالک نے محض تماشائی بننے کے بجائے مثبت کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور پاکستان ان میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔
    پاکستان نے ہمیشہ اپنی خارجہ پالیسی میں توازن، خودمختاری اور امن کو ترجیح دی ہے۔ امریکہ اور ایران کی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے یہی اصول اپناتے ہوئے کسی فریق کا حصہ بننے کے بجائے ثالثی اور مفاہمت کا راستہ اختیار کیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف دانشمندانہ ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
    پاکستان کی ثالثی کی کوششیں محض بیانات تک محدود نہیں رہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے بھی اس کا اظہار کیا گیا ہے۔ مختلف سفارتی ذرائع سے رابطے، عالمی فورمز پر امن کی اپیل، اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ کاوشیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا کے کئی ممالک کسی نہ کسی بلاک کا حصہ بن رہے ہیں، پاکستان کا غیر جانبدار اور امن پسند رویہ اسے ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔
    جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کی اہمیت اس صورتحال میں مزید بڑھ جاتی ہے۔ ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے سنگم پر واقع پاکستان نہ صرف ایک اسٹریٹیجک راہداری ہے بلکہ مختلف خطوں کے درمیان رابطے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو اس بحران میں ایک پل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو تنازعات کو کم کرنے اور مکالمے کو فروغ دینے میں مدد دے سکتا ہے۔
    پاکستان کی سفارتی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اس نے ہمیشہ مشکل حالات میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ چاہے علاقائی تنازعات ہوں یا عالمی سطح کے مسائل، پاکستان نے ہمیشہ بات چیت اور مفاہمت کو ترجیح دی ہے۔ موجودہ صورتحال میں بھی پاکستان اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے امن کے فروغ کے لیے سرگرم ہے۔
    معاشی میدان میں بھی پاکستان نے چیلنجز کے باوجود استحکام کی جانب پیش رفت کی ہے۔ عالمی جنگی ماحول کے باوجود پاکستان نے اپنی معیشت کو سنبھالنے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور تجارتی روابط کو مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری جیسے منصوبے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھول رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان مستقبل کی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    ٹیکنالوجی اور نوجوان آبادی پاکستان کا ایک اور مضبوط پہلو ہیں۔ ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھتے ہوئے دنیا میں پاکستان کی نوجوان نسل ایک قیمتی اثاثہ ہے، جو نہ صرف ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتی ہے۔ ایسے میں اگر خطے میں امن قائم ہوتا ہے تو پاکستان اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
    اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نے اس پورے بحران میں اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کو مقدم رکھا ہے۔ کسی دباؤ میں آئے بغیر امن کی بات کرنا اور عملی اقدامات کرنا ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ یہ وہ رویہ ہے جو پاکستان کو ایک ذمہ دار اور باوقار ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔
    عالمی طاقتوں کے اس کھیل میں جہاں اکثر ممالک دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں، پاکستان نے دانشمندی، توازن اور بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی راہ متعین کی ہے۔ امریکہ اور ایران کی جنگ جیسے پیچیدہ بحران میں پاکستان کا کردار اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ نہ صرف حالات کو سمجھتا ہے بلکہ ان میں بہتری لانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
    آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ دنیا کے اس بدلتے ہوئے منظرنامے میں پاکستان ایک امید کی علامت بن کر ابھر رہا ہے۔ جہاں ایک طرف جنگ اور تصادم کا ماحول ہے، وہیں پاکستان امن، مکالمے اور ثالثی کا پیغام دے رہا ہے۔ اگر یہی پالیسی مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رکھی جائے تو پاکستان نہ صرف اس مشکل وقت میں اپنا وقار بلند رکھے گا بلکہ عالمی سطح پر ایک مؤثر، بااعتماد اور امن پسند ملک کے طور پر اپنی پہچان کو مزید مضبوط کرے گا۔

  • خاموش جنگیں اور بولتی دنیا    ….نشید آفاقی

    خاموش جنگیں اور بولتی دنیا ….نشید آفاقی

    دنیا بظاہر پہلے سے کہیں زیادہ شور میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ہر لمحہ خبریں، بیانات، تجزیے اور تبصرے ہماری سماعتوں پر دستک دیتے رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی گھن گرج، ٹی وی اسکرینوں کی چمک اور عالمی رہنماؤں کے بیانات ایک ایسا منظر پیش کرتے ہیں جیسے ہر طرف کھلا مکالمہ جاری ہو۔ مگر اس شور کے پیچھے ایک اور دنیا بھی موجود ہے خاموش جنگوں کی دنیا، جہاں فیصلے بند کمروں میں ہوتے ہیں اور ان کے اثرات پوری انسانیت کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
    یہ خاموش جنگیں روایتی جنگوں کی طرح ٹینکوں، توپوں اور میزائلوں سے نہیں لڑی جاتیں، بلکہ یہ معیشت، اطلاعات، سفارتکاری اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں جاری رہتی ہیں۔ ان جنگوں میں نہ کوئی واضح محاذ ہوتا ہے اور نہ ہی فوری طور پر کوئی فاتح یا شکست خوردہ دکھائی دیتا ہے۔ مگر ان کے اثرات کہیں زیادہ گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں۔
    معاشی محاذ پر جاری خاموش جنگیں آج کی دنیا کا سب سے بڑا ہتھیار بن چکی ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، تجارتی پابندیاں، کرنسی کی قدر میں کمی یا اضافہ یہ سب ایسے ہتھکنڈے ہیں جن کے ذریعے طاقتور ممالک کمزور معیشتوں کو دباؤ میں رکھتے ہیں۔ بظاہر یہ سب کچھ مارکیٹ کی قوتوں کا کھیل لگتا ہے، مگر حقیقت میں اس کے پیچھے طاقت کی سیاست کارفرما ہوتی ہے۔ جب کسی ملک کی معیشت کمزور ہوتی ہے تو اس کے عوام کی زندگی براہِ راست متاثر ہوتی ہے، مہنگائی بڑھتی ہے، روزگار کے مواقع کم ہوتے ہیں اور سماجی بے چینی جنم لیتی ہے۔
    اطلاعات کی دنیا میں بھی ایک خاموش جنگ جاری ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے بیانیے تشکیل دیے جاتے ہیں، رائے عامہ کو متاثر کیا جاتا ہے اور بعض اوقات حقیقت کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جہاں الفاظ ہتھیار بن جاتے ہیں اور خبریں گولیاں۔ ایک خبر کا زاویہ بدل کر پوری قوم کی سوچ کو بدلا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج معلومات کی جنگ کو جدید دور کی سب سے خطرناک جنگ قرار دیا جا رہا ہے۔
    ٹیکنالوجی نے ان خاموش جنگوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سائبر حملے، ڈیٹا چوری، اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے فیصلوں پر اثر انداز ہونایہ سب ایسے ہتھکنڈے ہیں جو بغیر کسی آواز کے دشمن کو کمزور کر سکتے ہیں۔ ایک سائبر حملہ کسی ملک کے بینکاری نظام کو مفلوج کر سکتا ہے، بجلی کے نظام کو متاثر کر سکتا ہے اور عوام میں خوف و ہراس پیدا کر سکتا ہے۔ مگر چونکہ یہ سب کچھ نظر نہیں آتا، اس لیے اس کا احساس بھی دیر سے ہوتا ہے۔
    سفارتی محاذ پر بھی خاموش جنگیں جاری رہتی ہیں۔ بظاہر دوستانہ تعلقات کے پیچھے سخت مذاکرات، خفیہ معاہدے اور مفادات کی کشمکش چھپی ہوتی ہے۔ ایک طرف ممالک امن کی بات کرتے ہیں، دوسری طرف اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتے ہیں۔ یہ وہ کھیل ہے جہاں الفاظ نرم ہوتے ہیں مگر ارادے سخت۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ ان خاموش جنگوں کے دوران دنیا بولتی رہتی ہے۔ بیانات، قراردادیں، کانفرنسیں اور مذاکرات یہ سب ایک ایسا تاثر دیتے ہیں جیسے مسائل کا حل تلاش کیا جا رہا ہو۔ مگر اکثر اوقات یہ سب کچھ محض وقت حاصل کرنے یا عالمی رائے عامہ کو مطمئن کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ اصل فیصلے کہیں اور ہو رہے ہوتے ہیں، اور عام عوام ان سے بے خبر رہتے ہیں۔
    پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ صورتحال مزید چیلنجنگ ہے۔ ایک طرف انہیں عالمی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوتا ہے، دوسری طرف اپنی معیشت اور داخلی استحکام کو بھی مضبوط بنانا ہوتا ہے۔ ایسے میں ہر فیصلہ نہایت احتیاط سے کرنا پڑتا ہے، کیونکہ ایک غلط قدم ملک کو بڑی مشکلات میں ڈال سکتا ہے۔ تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ چیلنجز کے ساتھ مواقع بھی موجود ہوتے ہیں۔ اگر درست حکمت عملی اپنائی جائے تو انہی حالات میں ترقی کے راستے بھی نکالے جا سکتے ہیں۔
    عوام کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ شور اور حقیقت میں فرق کر سکیں۔ ہر خبر پر یقین کرنے کے بجائے اس کا تجزیہ کریں، مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور اپنی رائے خود قائم کریں۔ کیونکہ آج کے دور میں سب سے بڑی طاقت شعور ہے۔ جس قوم کے عوام باشعور ہوں، اسے کسی بھی خاموش جنگ میں آسانی سے شکست نہیں دی جا سکتی۔
    آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دنیا واقعی بول رہی ہے، مگر اس کی آواز میں سچ کم اور حکمت عملی زیادہ شامل ہے۔ اصل کھیل ان خاموش جنگوں کا ہے جو ہماری نظروں سے اوجھل ہیں مگر ہماری زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نہ صرف اس شور کو سمجھیں بلکہ اس خاموشی کو بھی سننے کی صلاحیت پیدا کریں، کیونکہ اصل حقیقت اکثر وہیں چھپی ہوتی ہے جہاں آواز نہیں ہوتی۔
    یہی شعور ہمیں ایک مضبوط قوم بنا سکتا ہے اور یہی بصیرت ہمیں اس پیچیدہ عالمی نظام میں اپنا مقام حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

  • وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کا وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانے کیلیے بڑا فیصلہ..پاکستان واچ رپورٹ

    وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کا وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت بڑھانے کیلیے بڑا فیصلہ..پاکستان واچ رپورٹ

    وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کی جانب سے ایران کے راستے وسطی ایشیائی ممالک اور آذربائیجان کو برآمدات کے لیے بینک گارنٹی اور لیٹر آف کریڈٹ کی شرط سے عارضی استثنیٰ دینے کا فیصلہ پاکستان کی تجارتی پالیسی میں ایک اہم اور دور رس اثرات کا حامل اقدام ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف برآمدکنندگان کے لیے سہولت پیدا کرتا ہے بلکہ پاکستان کے علاقائی تجارتی کردار کو بھی مضبوط بناتا ہے، جو موجودہ عالمی معاشی حالات میں ایک مثبت پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
    اس اقدام کے تحت زمینی راستے کے ذریعے ایران، آذربائیجان اور وسطی ایشیائی ریاستوں تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی کو آسان بنا دیا گیا ہے۔ ماضی میں برآمدکنندگان کو بینک گارنٹی اور لیٹر آف کریڈٹ جیسی پیچیدہ مالی شرائط کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جس کے باعث نہ صرف اخراجات میں اضافہ ہوتا تھا بلکہ کاروباری عمل بھی سست روی کا شکار رہتا تھا۔ اب ان شرائط میں عارضی نرمی سے کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئے گی اور چھوٹے و درمیانے درجے کے برآمدکنندگان کو بھی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوگی۔
    وزارت تجارت کے نوٹیفکیشن کے مطابق تین ماہ کے لیے دی جانے والی یہ خصوصی رعایت 24 مارچ سے 21 جون 2026 تک نافذ العمل رہے گی۔ اس مدت کے دوران برآمدکنندگان کو ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت میں غیر معمولی سہولت میسر آئے گی۔ اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ضوابط سے جزوی استثنیٰ دیا گیا ہے، تاہم برآمدی آمدن کو مقررہ مدت میں واپس لانے کی شرط برقرار رکھی گئی ہے، جو مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے ایک متوازن حکمت عملی ہے۔
    ایران کو برآمد کی جانے والی اشیاء کی فہرست خاصی وسیع ہے، جس میں چاول، سمندری خوراک، آلو، گوشت، پیاز، مکئی اور مختلف اقسام کے پھل شامل ہیں۔ یہ تمام اشیاء پاکستان کی زرعی پیداوار کا اہم حصہ ہیں، اور ان کی برآمد سے نہ صرف کسانوں کو فائدہ ہوگا بلکہ زرعی شعبے میں بھی بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ فارماسیوٹیکل مصنوعات اور ٹینٹس کی برآمد کو بھی اس رعایت میں شامل کیا گیا ہے، جو پاکستان کی صنعتی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔
    یہ اقدام اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ وسطی ایشیائی ریاستیں ایک ابھرتی ہوئی منڈی ہیں، جہاں پاکستانی مصنوعات کے لیے وسیع مواقع
    موجود ہیں۔ ان ممالک تک براہ راست رسائی نہ ہونے کے باعث پاکستان کو ماضی میں مشکلات کا سامنا رہا، تاہم ایران کے راستے زمینی تجارت کی اجازت ملنے سے یہ رکاوٹ بڑی حد تک دور ہو گئی ہے۔ اس سے نہ صرف تجارتی حجم میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان کی برآمدی منڈیوں میں تنوع بھی آئے گا۔
    وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کا یہ کہنا بجا ہے کہ ایران کے راستے تجارت سے برآمدکنندگان کے اخراجات اور وقت میں نمایاں کمی آئے گی۔ سمندری راستوں کے مقابلے میں زمینی راستہ تیز اور نسبتاً کم خرچ ہوتا ہے، جس سے پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بن سکتی ہیں۔ خاص طور پر چاول اور ادویات جیسے شعبوں میں یہ سہولت پاکستان کو ایک مضبوط برآمد کنندہ کے طور پر سامنے لا سکتی ہے۔
    ادویات کی برآمدات کے حوالے سے حکومت کی ترجیح بھی قابلِ ذکر ہے۔ پاکستانی فارماسیوٹیکل صنعت نہ صرف معیار کے لحاظ سے بہتر ہے بلکہ قیمت کے اعتبار سے بھی مسابقتی ہے۔ اگر اس شعبے کو مزید سہولتیں فراہم کی جائیں تو پاکستان خطے میں ایک اہم فارماسیوٹیکل حب بن سکتا ہے۔ اس رعایت کے ذریعے ادویات کی برآمد میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ایک مثبت قدم ہے جو مستقبل میں مزید مواقع پیدا کرے گا۔
    مزید برآں، یہ فیصلہ علاقائی روابط کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ایک پل بناتی ہے۔ اگر اس موقع سے مؤثر انداز میں فائدہ اٹھایا جائے تو پاکستان نہ صرف اپنی برآمدات میں اضافہ کر سکتا ہے بلکہ ایک علاقائی تجارتی راہداری کے طور پر بھی اپنی حیثیت مستحکم کر سکتا ہے۔
    یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ عالمی سطح پر تجارت کے رجحانات تیزی سے بدل رہے ہیں اور ممالک علاقائی تعاون کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کا یہ قدم اسے ایک فعال اور متحرک معیشت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت برآمدات کے فروغ اور معیشت کے استحکام کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
    تاہم اس پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ برآمدکنندگان اس موقع سے کس حد تک فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ معیار، پیکجنگ اور بروقت ترسیل پر خصوصی توجہ دیں تاکہ عالمی منڈی میں پاکستان کی ساکھ مزید بہتر ہو۔ اسی طرح حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس رعایت کے نتائج کا بغور جائزہ لے اور کامیابی کی صورت میں اسے مزید توسیع دینے پر غور کرے۔
    مزید یہ کہ اس پالیسی کے تحت سرحدی انفراسٹرکچر، کسٹمز سہولیات اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کو بھی بہتر بنانا ناگزیر ہے تاکہ بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں سنبھالا جا سکے۔ اگر سرحدی راستوں پر تیز تر کلیئرنس، ڈیجیٹل ڈاکیومنٹیشن اور جدید لاجسٹکس نظام متعارف کرایا جائے تو برآمدات کے حجم میں کئی گنا اضافہ ممکن ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کی شمولیت اور سرمایہ کاری کو بھی فروغ دینا ہوگا تاکہ یہ اقدام محض عارضی سہولت نہ رہے بلکہ ایک پائیدار معاشی حکمت عملی میں تبدیل ہو سکے۔
    آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران کے راستے وسطی ایشیا اور آذربائیجان تک برآمدات کے لیے مالیاتی شرائط میں نرمی ایک دانشمندانہ اور بروقت فیصلہ ہے۔ یہ نہ صرف برآمدکنندگان کے لیے آسانیاں پیدا کرے گا بلکہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ اگر اس پالیسی کو مستقل بنیادوں پر موثر حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو پاکستان خطے میں ایک مضبوط تجارتی طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔

  • صدر نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر  اجلاس طلب کرلیا، وزیراعظم،  وزرا، عسکری قیادت شریک ہوگی

    صدر نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اجلاس طلب کرلیا، وزیراعظم، وزرا، عسکری قیادت شریک ہوگی

    اسلام آباد (ویب ڈیسک )صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت ایوانِ صدر میں اہم اجلاس آج متوقع ہے جس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور اہم وفاقی وزرا شرکت کریں گے۔
    ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں اعلیٰ عسکری قیادت اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی شرکت بھی متوقع ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔
    اجلاس میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا، ساتھ ہی خلیجی ممالک پر حملوں سے پیدا ہونے والی صورتحال بھی زیرِ بحث آئے گی۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار شرکا کو چار ملکی وزرائے خارجہ اجلاس پر اعتماد میں لیں گے۔
    ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک میں موجود پٹرولیم ذخائر اور ترسیل کے نظام کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ کفایت شعاری پالیسی اور اس پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
    شرکا کو ممکنہ اسمارٹ لاک ڈاؤن اور دیگر ہنگامی اقدامات پر بریفنگ دی جائے گی، جبکہ اسمارٹ لاک ڈاؤن سے متعلق صوبوں کی تجاویز پر بھی غور ہوگا۔ ذرائع کے مطابق موٹر سائیکل اور رکشہ ڈرائیورز کو سبسڈی دینے سے متعلق بھی اہم فیصلے متوقع ہیں۔