اسلام آباد:(فارن ڈیسک )پاکستان کی عالمی اہمیت سے خائف بھارت دنیا کے امن کا دشمن بن گیا، پاکستان اور خطے کے امن کے خلاف بھارت کی سازش بے نقاب ہوگئی۔تفصیلات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امن کی پاکستانی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا خطرناک بھارتی منصوبہ سامنے آگیا، بھارت نے افغانستان کے ساتھ مل کر خفیہ ڈس انفارمیشن نیٹ ورک کے ذریعے ایران کے نام پر پاکستان کے خلاف منظم اور اسٹریٹجک پروپیگنڈا آپریشن لانچ کردیا۔جعلی ایرانی شناختوں کے ذریعے پاکستان میں نفرت پھیلانے کا بیانیہ گھڑنے کا انکشاف ہوا ہے، ڈس انفارمیشن مہم کا آغاز INN Iran News اور Iran TV جیسے گھوسٹ ایکس اکاؤنٹس سے کیا گیا۔
پاکستان پر امریکہ کے لیے تیل ترسیل کا جھوٹا الزام لگا کر نفرت انگیز پراپیگنڈے کو بنیاد فراہم کی گئی، ایرانی شناخت رکھنے والے درجنوں اکاؤنٹس بھارت اور افغانستان سے آپریٹ کیئے جا رہے ہیں۔ بیانیہ تشکیل دینے والے اکاؤنٹس بھارت جب کہ پراپیگنڈے کے پھیلاؤ والے اکاؤنٹس افغانستان سے آپریٹ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔پاکستان کے خلاف مصنوعی ایرانی ردعمل افغانستان سے آپریٹ اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلایا گیا، افغان نیٹ ورک کو بطور proliferators استعمال کرنے کا ثبوت بھی سامنے آگیا ہے، بھارتی ڈس انفارمیشن حملے کا مقصد امن کوششوں کے کلیدی کردار پاکستان کو متنازعہ بنانا تھا۔اس پورے آپریشن کے ماسٹر مائنڈ اکاؤنٹس بھارتی نکلے ہیں، بیانیہ سازی، کنٹرول اور اسٹریٹجک ڈائریکشن بھارتی اکاؤنٹس کے ذریعے کی گئی، سازش میں Times of Iran News مرکزی پروپیگنڈا ہب کی صورت میں سامنے آیا، بھارت سے آپریٹ ہونے والا پلیٹ فارم عالمی سطح پر جھوٹ پھیلاتا رہا۔ماہرین کی تحقیقات میں Initiator → Proliferator → Amplifier ماڈل کے تحت مکمل انفارمیشن وار بے نقاب ہو گئی، مربوط و مرحلہ وار حکمت عملی سے جھوٹ کو سچ کا رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی تھی، پاکستان کو ایران مخالف اور مغربی ایجنڈے کا حصہ دکھانے کا بیانیہ بنایا جا رہا تھا جس کا مقصد عالمِ اسلام میں بداعتمادی اور تقسیم پیدا کرنا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ڈس انفارمیشن حملہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے ممکنہ پھیلاؤ کو ہوا دینے کی کوشش ہے، بھارت صرف پاکستان نہیں امریکہ، ایران اور پورے خطے کے خلاف سرگرم ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت افغانستان مربوط انفارمیشن وار فیئر خطے کے امن، سفارتکاری اور استحکام پر براہ راست حملہ ہے، بھارتی سازش بے نقاب کرکے پاکستان کا عالمی کردار ایک بار پھر نمایاں ہوگیا۔ماہرین کے مطابق ثابت ہو گیا مذاکرات کے ہر دشمن کے خلاف پاکستان اور ادارے پوری طرح چوکنا ہیں، پاکستان کے عوام کو بھی اپنی حکومت اور اداروں سے بداعتمادی پیدا کرنے کی ہر سازش سے چوکنا رہنا ہوگا۔
Blog
-

پاکستان اور خطے کے امن کے خلاف بھارت کی سازش بے نقاب
-

عالمی مالیاتی بساط پر پوتن کا ‘چیک میٹ’: ڈالر کے زوال اور نئے ‘گولڈ سٹینڈرڈ’ کا آغاز…تحریر: شیخ راشد عالم
ایک نئی معاشی سرد جنگ کا آغاز ، جب دنیا کی نظریں واشنگٹن میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں اور صدر ٹرمپ کے فاتحانہ بیانات پر جمی تھیں، کرملین میں ایک ایسی دستاویز پر دستخط کیے گئے جس نے خاموشی سے عالمی مالیاتی نظام کی بنیادیں ہلا دیں۔ صدر ولادیمیر پوتن نے یکم مئی 2026 سے روس سے ‘ریفائنڈ گولڈ بارز’ کی برآمد پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ محض ایک تجارتی فیصلہ نہیں، بلکہ ‘ڈی-ڈالرائزیشن’ (De-dollarization) کے تابوت میں وہ آخری کیل ہے جس کا انتظار عرصہ دراز سے کیا جا رہا تھا۔
روسی معیشت کا فولادی قلعہ (The Gold Fortress)
روس، جو دنیا کا دوسرا بڑا سونا پیدا کرنے والا ملک ہے، اب اپنی سالانہ 310 ٹن سے زائد پیداوار کو عالمی منڈی میں جھونکنے کے بجائے اپنے ہی ‘خودمختار اثاثوں’ (Sovereign Assets) میں محفوظ کر رہا ہے۔
روسی سینٹرل بینک نے حکمت عملی کے تحت سال کے آغاز میں بلند ترین قیمتوں پر سونا فروخت کر کے اربوں ڈالر کمائے اور اب سپلائی روک کر عالمی قیمتوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو معلوم پڑتا ہے کہ 74.3 ملین اونس سونے کے ذخائر کے ساتھ، روس اب اس پوزیشن میں ہے کہ وہ اپنی کرنسی ‘روبل’ کو ٹھوس اثاثوں کی پشت پناہی دے کر مغربی پابندیوں کو ہمیشہ کے لیے بے اثر کر دے۔
برکس (BRICS) اور ‘یونٹ’ کرنسی کا ظہور
اس فیصلے کا سب سے اہم پہلو اکتوبر 2025 میں لانچ ہونے والا BRICS Unit نظام ہے۔ یہ نیا مالیاتی بلاک ایک ایسی کرنسی پر کام کر رہا ہے جو امریکی ڈالر کی طرح صرف ‘اعتبار’ پر نہیں، بلکہ 40 فیصد سونے اور 60 فیصد برکس ممالک کی مقامی کرنسیوں پر مبنی ہے۔
پوتن کا سونے کو سرحدوں کے اندر ‘لاک’ کرنا دراصل برکس کے تجارتی نظام کے لیے ایک ‘کولیٹرل’ (ضمانت) فراہم کرنا ہے۔ جب تجارت سونے کی بنیاد پر ہوگی، تو ڈالر کی مصنوعی طلب خود بخود ختم ہو جائے گی۔
ہرمز سے ماسکو تک: ایک نیا تجارتی سرکٹ
مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی مزاحمت اور آبنائے ہرمز میں چینی یوآن میں ٹول کی وصولی نے اس سرکٹ کو مکمل کر دیا ہے۔
انرجی کنٹرول پالیسی کے تحت ایران نے تیل کی ادائیگیوں کو غیر-ڈالر چینلز پر منتقل کیا۔
جبکہ روس نے اس تجارتی سرکٹ کو سونے کی مضبوطی اور ضمانت فراہم کی۔
جس کے نتیجے میں بظاہر ‘پیٹرو ڈالر’ (Petrodollar) کا وہ دور ختم ہو رہا ہے جس نے نصف صدی تک امریکہ کو عالمی معیشت کا بے تاج بادشاہ بنائے رکھا۔
عالمی منظر نامے میں تیزی سے رونما ہونے والی ان تبدیلیوں سے ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مستقبل کی ‘نیشن برانڈنگ’ صرف اشتہارات سے نہیں، بلکہ ‘اکنامک ریزیلینس’ (Economic Resilience) سے وابستہ ہے۔
پاکستان جیسے ممالک جو اس وقت ڈالر کے بوجھ تلے دبے ہیں، ان کے لیے یہ ایک تزویراتی (Strategic) اشارہ ہے کہ دنیا ‘کاغذی معیشت’ سے نکل کر ‘حقیقی اثاثوں’ (Real Assets) کی طرف لوٹ رہی ہے۔ ہمیں بھی اپنی معاشی پالیسیوں میں تنوع لانے اور ابھرتے ہوئے برکس بلاک کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم عالمی غلامی کے طوق سے آزاد ہو سکیں۔
صدر ٹرمپ کی ‘فتح’ کے غلغلے میں پوتن کا یہ خاموش حملہ ثابت کرتا ہے کہ اصل طاقت اب اسلحے کے انبار میں نہیں، بلکہ انبار شدہ سونے اور توانائی کے کنٹرول میں ہے۔ عالمی معیشت کا نیا سورج مشرق سے طلوع ہو رہا ہے، اور جو قومیں اس تبدیلی کو بروقت بھانپ لیں گی، وہی مستقبل کے نقشے پر پائیدار معاشی استحکام حاصل کر پائیں گی۔ـــ -

امریکا اور ایران کے نمائندے بہت جلد پاکستان میں ملاقات کریں گے، جرمن وزیر خارجہ
اسلام آباد / برلن(ویب ڈیسک ) جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے نمائندے بہت جلد پاکستان میں ملاقات کرنے جا رہے ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنا اور ممکنہ مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے۔جرمن ریڈیو کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان اب تک بالواسطہ رابطے جاری رہے ہیں، تاہم اب براہ راست ملاقات کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور یہ اہم ملاقات پاکستان میں متوقع ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف بھی تصدیق کر چکے ہیں کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان مثبت پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔دوسری جانب پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر اطلاعات عطا تارڑ بھی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم سفارتی کوششیں کر رہا ہے اور امریکا و ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے راہ ہموار کر رہا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ ملاقات کامیاب ہوتی ہے تو یہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی کردار کو بھی مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔
-

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب بمباری، سفیر اور عملہ محفوظ
تہران (ویب ڈیسک )ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب شدید بمباری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم تمام پاکستانی سفارتی عملہ محفوظ رہا ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق بمباری کا سلسلہ رات تقریباً 8 بجے شروع ہوا، جس کے دوران سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارتخانے کے سامنے ایرانی فوج کا مرکز ’ارتش‘ واقع ہے، جو ممکنہ طور پر حملے کا ہدف تھا۔مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں، جہاں بھی بمباری کی گئی۔ تاہم خوش قسمتی سے سفارتخانے یا سفیر کی رہائشگاہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ذرائع کے مطابق سفیر مدثر ٹیپو تقریباً بیس رکنی سفارتی عملے کے ہمراہ معمول کے مطابق اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ایک سینئر سفارتکار نے بتایا کہ دھماکوں کی آوازیں انتہائی شدید تھیں جس سے عملہ پریشان ضرور ہوا، لیکن تمام اہلکار محفوظ ہیں۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدہ صورتحال کے باوجود پاکستانی سفارتی عملہ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا ہے اور حالات پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
-

موٹر سائیکلز کیلیے پیٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے سے متعلق تجویز سامنے آگئی
اسلام آباد:(ویب ڈیسک )وفاقی حکومت نے کم آمدن والے افراد کو پیٹرول سبسڈی کے لیے ایپ تیار کر لی جس کے ذریعے پیٹرول کم قیمت مل سکے گا۔ذرائع کے مطابق وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے تیار کی گئی ایپ فی الحال ٹیسٹنگ کے مراحل میں ہے جس کے بعد ایپ کو عوام کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔پیٹرول پر سبسڈی ٹو تھری ویلرز گاڑیوں پر دی جائے گی جبکہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافہ دیگر صارفین تک منتقل کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق موٹر سائیکلز کے لیے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مختص کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے تاہم 800 سی سی گاڑیاں رکھنے والے صارفین کے لیے سبسڈی کا فیصلہ نہیں ہو سکا۔اس حوالے سے ملک کے 12 ہزار پیٹرول پمپس پر سبسڈی نوزلز مختص کی جائیں گی اور ہر پیٹرول پمپ پر 2 موبائل فونز بھی فراہم کیے جائیں گے۔اس طرح ہر پیٹرول پمپ پر موبائل فونز ایپ کے ذریعے پیٹرول دیا جائے گا۔
-

ٹرمپ کا جنگ بندی منصوبہ، ایران نے امریکی تجاویز کو غیر منصفانہ قرار دے دیا
تہران(ویب ڈیسک) ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی 15 نکاتی تجاویز پر باضابطہ جواب دے دیا ہے اور اب واشنگٹن کے ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ جنگ بندی منصوبہ یک طرفہ اور غیر منصفانہ ہے، جو زیادہ تر امریکی اور اسرائیلی مفادات کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔ایرانی عہدیدار کے مطابق یہ تجاویز پاکستان کے ذریعے تہران تک پہنچائی گئیں، جن کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ایران نے اپنا مؤقف بھی پاکستان کے ذریعے ہی امریکا تک پہنچا دیا۔ایران نے واضح کیا ہے کہ ان تجاویز میں بنیادی تقاضوں کی کمی ہے اور موجودہ صورتحال میں باضابطہ مذاکرات کے لیے کوئی واضح فریم ورک موجود نہیں۔حکام کے مطابق اس مرحلے پر براہ راست بات چیت کا کوئی عملی منصوبہ سامنے نہیں آیا، تاہم سفارتکاری کا عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکا حقیقت پسندانہ رویہ اپنائے تو تنازع کے حل کی راہ نکالی جا سکتی ہے۔ایرانی ذرائع کے مطابق پاکستان اور ترکیہ دونوں ممالک امریکا اور ایران کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ادھر ایرانی خبر رساں ایجنسی نے بھی تصدیق کی ہے کہ تہران اب واشنگٹن کے باضابطہ جواب کا منتظر ہے۔
-

فوج اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہے، اسرائیلی آرمی چیف
تل ابیب(پاکستان واچ نیوز) اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر نے ایک غیر معمولی اور تشویشناک وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو اسرائیلی فوج اندرونی طور پر ٹوٹ سکتی ہے۔اپنے بیان میں آرمی چیف نے کہا کہ وہ 10 لال جھنڈے اٹھا کر خبردار کر رہے ہیں کہ موجودہ صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے۔ان کے مطابق میدان جنگ میں ریزرو فوجی مزید لڑنے کی سکت کھو رہے ہیں، جس سے فوجی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔ایال زمیر نے واضح کیا کہ اگر ریزرو فوجیوں سے متعلق قوانین میں فوری ترمیم اور دیگر ضروری اقدامات نہ کیے گئے تو فوج کے اندرونی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، جو ملک کی سکیورٹی کے لیے خطرناک ہوگا۔دوسری جانب اسرائیل کے سابق وزیراعظم نفتالی بینٹ نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو اس وقت تقریباً 20 ہزار فوجیوں کی کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جنگ بغیر مکمل حکمت عملی، وسائل اور مناسب افرادی قوت کے شروع کی گئی۔ادھر اپوزیشن رہنما یائر لاپڈ نے بھی اس وارننگ کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ 13 برسوں سے سکیورٹی کابینہ کا حصہ رہے ہیں، لیکن اس نوعیت کی سنگین وارننگ انہوں نے پہلے کبھی نہیں سنی۔ماہرین کے مطابق یہ بیانات اسرائیل کی فوجی اور سیاسی قیادت کے اندر بڑھتے ہوئے دباؤ اور موجودہ جنگی صورتحال کے اثرات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
-

وزیراعظم نے صدر کومشرق وسطیٰ کی صورتحال میں پاکستان کے کردار پر اعتماد میں لیا
اسلام آباد:(پاکستان واچ نیوز) وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف زرداری کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ہے۔وزیراعظم اور صدر مملکت کی ملاقات ایوان صدر میں ہوئی جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔وزیراعظم شہباز شریف اور صدر زرداری کی ملاقات میں ملکی سکیورٹی، معاشی صورتحال اور تونائی بحران پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی جب کہ وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں پاکستان کے کردار پر صدرکو اعتماد میں لیا۔ذرائع کے مطابق صدر مملکت نے خطے کی موجودہ صورتحال پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم اپناکردار اداکرنے کو حاضر ہیں۔صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ دنیا میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے اپنا مثبت کردار اداکرنے کے لیے تیار ہے۔
-

ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ 4 سے 6 ہفتوں کے اندر ختم کرنا چاہتے ہیں، امریکی اخبار
واشنگٹن:(ویب ڈیسک) امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ کو جلد از جلد ختم کرنے کے خواہش مند ہیں اور وہ اس تنازع کو آئندہ 4 سے 6 ہفتوں کے اندر نمٹانا چاہتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو بتایا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ کو طویل نہیں کرنا چاہتے اور ان کے خیال میں یہ تنازع اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اس جنگ کو اپنی دیگر سیاسی ترجیحات، جیسے وسط مدتی انتخابات اور امیگریشن پالیسی سے توجہ ہٹانے کا باعث بھی سمجھتے ہیں۔اخبار کے مطابق وائٹ ہاؤس نے مئی میں چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایک اہم سربراہی اجلاس کی منصوبہ بندی بھی اسی بنیاد پر کی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اس سے پہلے ختم ہو جائے گی۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال ابھی غیر یقینی ہے اور حتمی فیصلے کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا ایک طرف مزید مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بھی بڑھا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایرانی تیل تک امریکی رسائی کو ممکنہ شرائط میں شامل کرنے پر غور کیا ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی واضح عملی منصوبہ سامنے نہیں آیا۔دوسری جانب امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکا نے جنگ بندی کے لیے چند تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ ان تجاویز میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ختم کرے، بیلسٹک میزائل پروگرام محدود کرے اور حزب اللہ، حوثیوں اور حماس جیسے گروہوں کی حمایت بند کرے۔امریکی حکام کے مطابق یہ تجاویز حساس نوعیت کی ہیں، اس لیے ان کی مکمل تفصیلات ظاہر نہیں کی جا رہیں۔ وائٹ ہاؤس نے ان خبروں کی تردید بھی کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران نے ان تجاویز کو مسترد کر دیا ہے، اور واضح کیا ہے کہ بات چیت ابھی جاری ہے۔رپورٹس کے مطابق پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش بھی سامنے آئی ہے، جبکہ ایران نے تصدیق کی ہے کہ وہ اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے۔ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں سفارتکاری اور فوجی حکمت عملی ساتھ ساتھ چل رہی ہیں، جس کے باعث یہ کہنا مشکل ہے کہ جنگ کا خاتمہ کس شکل میں ہوگا، تاہم آنے والے ہفتے اس حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
-

صدرِ مملکت نے افسران اور جوانوں کو فوجی اعزازات دینے کی منظوری دیدی
راولپنڈی (ویب ڈیسک )آئی ایس پی آر کے مطابق صدرِ مملکت نے پاک فوج، بحریہ اور فضائیہ کے افسران اور جوانوں کو فوجی اعزازات دینے کی منظوری دے دی، 11 ستارۂ بسالت، 475 تمغۂ بسالت، 130 امتیازی اسناد،378 چیف آف آرمی اسٹاف تعریفی کارڈز ، 23 ہلالِ امتیاز (ملٹری)، 100 ستارۂ امتیاز ، 136 تمغۂ امتیاز دیئے جائیں گے