کراچی:(پاکستان واچ نیوز)مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ ختم ہوگیا۔پورٹ قاسم پر پیٹرول سے بھرے جہازوں کی آمد شروع ہوگئی، پورٹ قاسم پر گیس آئل بردار جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔ ایم ٹی ناوے ایٹروپوس 50 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول کے ساتھ 9 مارچ کو پورٹ قاسم پہنچ گیا، ایم ٹی اسپروس 2 بھی 55 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول کے ساتھ 10 مارچ رات 8 بج کر 30 منٹ پر لنگرانداز ہوگا۔ایم ٹی سی کلپر تقریباً 34 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول کے ساتھ 11 مارچ دوپہر 12 بجے پہنچے گا۔ترجمان پورٹ قاسم کا کہنا ہے کہ فجیرہ سے آنے والا ایک جہاز پورٹ قاسم پہنچ چکا ہے، پیٹرول کی سپلائی کیلئے مزید جہازوں کی آمد متوقع ہے۔
Blog
-

امریکی وزیر خارجہ نے طالبان حکومت کو سنگین نتائج کی دھمکی دیدی
واشنگٹن (پاکستان واچ نیوز)امریکا نے افغان طالبان حکومت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے افغانستان کو ’اسٹیٹ اسپانسر آف رانگ فل ڈیٹینشن‘ یعنی ناجائز حراست کی سرپرستی کرنے والی ریاست قرار دے دیا ہے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اپنے بیان میں کہا کہ آج وہ افغانستان کو باضابطہ طور پر ایسے ملک کے طور پر نامزد کر رہے ہیں جہاں لوگوں کو غلط اور ناجائز طور پر حراست میں رکھا جا رہا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ طالبان حکومت اب بھی پالیسی میں رعایتیں حاصل کرنے کے لیے دہشت گردانہ طریقے استعمال کر رہی ہے۔مارکو روبیو کے مطابق اس طرح کے اقدامات سے طالبان عالمی برادری کا دباؤ مزید بڑھا رہے ہیں اور یہ طریقہ کار کسی صورت کامیاب نہیں ہوگا۔امریکی وزیر خارجہ نے مطالبہ کیا کہ طالبان حکومت ڈینس کوائل اور محمود حبیبی سمیت افغانستان میں قید تمام امریکی شہریوں کو فوری طور پر رہا کرے۔انہوں نے کہا کہ امریکا اپنے شہریوں کی رہائی کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے اور اس سلسلے میں طالبان حکومت پر دباؤ جاری رکھا جائے گا۔
-

ایران،امریکہ،اسرائیل جنگ اور عالمی معیشت کا لرزتا ہوا مستقبل
تیل اور LNG سے آگے ، افراطِ زر، سپلائی چین، مالیاتی منڈیاں اور غذائی سلامتی پر منڈلاتا طوفان
پاکستان واچ رپورٹ
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست اور معیشت کا مرکز بن چکا ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی محض عسکری محاذ تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس نے عالمی توانائی منڈیوں، تجارتی راستوں، مالیاتی نظام اور ترقی پذیر معیشتوں کو غیر یقینی کے ایسے دائرے میں دھکیل دیا ہے جہاں ہر نئی خبر مارکیٹوں میں جھٹکا پیدا کر رہی ہے۔ اس بحران کا پہلا اور فوری اثر تیل اور ایل این جی کی قیمتوں پر نظر آتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے اثرات اس سے کہیں زیادہ گہرے اور ہمہ گیر ہیں۔
توانائی کا محاذ: آبنائے ہرمز کی تلوار
دنیا کی توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ یہ تنگ سمندری راستہ خلیج کو عالمی منڈیوں سے جوڑتا ہے اور روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل اور بڑی مقدار میں مائع قدرتی گیس (LNG) اسی راستے سے برآمد ہوتی ہے۔ اگر اس گزرگاہ میں معمولی رکاوٹ بھی پیدا ہو تو عالمی منڈیوں میں فوری بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔
ایران کی جانب سے اس راستے کے حوالے سے سخت بیانات، بحری نقل و حرکت میں رکاوٹوں کا خدشہ اور خطے میں عسکری موجودگی میں اضافہ یہ سب عوامل تیل کے فیوچر کنٹریکٹس میں تیزی اور اتار چڑھاؤ کو جنم دیتے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ صرف پیٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا؛ بجلی کی پیداوار، صنعتوں کی لاگت، ٹرانسپورٹ، کھاد سازی اور حتیٰ کہ پلاسٹک و کیمیکل صنعت بھی اسی زنجیر کا حصہ ہیں۔
LNG مارکیٹ بھی اسی دباؤ کا شکار ہے۔ یورپ، جو پہلے ہی توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش میں ہے، کسی بھی نئی غیر یقینی صورتحال کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔ ایشیائی خریداروں اور یورپی منڈیوں کے درمیان کارگو کی مسابقت قیمتوں میں اضافے کو مزید ہوا دیتی ہے۔ نتیجتاً، ترقی پذیر ممالک کے لیے درآمدی بل میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔
افراطِ زر کی واپسی: مہنگائی کا دوسرا دور؟
توانائی کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست اور بالواسطہ دونوں طریقوں سے افراطِ زر کو جنم دیتا ہے۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں، جس سے اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی چیزوں کی قیمتیں بھی اوپر چلی جاتی ہیں۔ مرکزی بینک، جو پہلے ہی شرحِ سود کے ذریعے مہنگائی کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے تھے، ایک نئے امتحان سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو ‘‘کاسٹ پْش انفلیشن’’ کا رجحان دوبارہ زور پکڑ سکتا ہے یعنی پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث قیمتوں میں مسلسل اضافہ۔ یہ صورتحال صارفین کی قوتِ خرید کو متاثر کرے گی اور معاشی ترقی کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک، جہاں درآمدی ایندھن پر انحصار زیادہ ہے، وہاں کرنسی پر دباؤ اور مالی خسارہ بڑھنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔مالیاتی منڈیاں: غیر یقینی کا کھیل
جنگی ماحول میں سرمایہ کار عموماً ‘‘سیف ہیون’’ اثاثوں کی طرف رخ کرتے ہیں۔ سونا، ڈالر اور بعض حکومتی بانڈز کی طلب بڑھ جاتی ہے، جبکہ اسٹاک مارکیٹس دباؤ میں آ جاتی ہیں۔ توانائی کمپنیوں کے حصص میں وقتی تیزی دیکھی جا سکتی ہے، مگر مجموعی طور پر مارکیٹ کا مزاج محتاط رہتا ہے۔
سرمایہ کاروں کے فیصلے جذباتی بھی ہو سکتے ہیں۔ کسی ایک حملے یا بیان سے مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔ کرنسی مارکیٹ میں بھی یہی کیفیت ہوتی ہے؛ درآمدی ایندھن پر انحصار رکھنے والی معیشتوں کی کرنسیاں دباؤ میں آ سکتی ہیں، جبکہ برآمد کنندہ ممالک کو وقتی سہارا مل سکتا ہے۔
سپلائی چین: بندرگاہ سے بازار تک
جنگ کا اثر صرف تیل بردار جہازوں تک محدود نہیں رہتا۔ اگر خطے میں بحری نقل و حمل غیر محفوظ سمجھی جائے تو انشورنس پریمیم بڑھ جاتے ہیں، راستے بدلنے پڑتے ہیں اور ترسیل کا وقت طویل ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ خام مال، مشینری، الیکٹرانکس اور دیگر صنعتی اجزاء کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
کئی عالمی کمپنیاں ‘‘جسٹ اِن ٹائم’’ ماڈل پر کام کرتی ہیں، جہاں معمولی تاخیر بھی پیداواری لائن کو روک سکتی ہے۔ ایسے میں لاگت بڑھتی ہے اور صارف تک پہنچنے والی مصنوعات مہنگی ہو جاتی ہیں۔ وبا کے بعد بحال ہوتی عالمی سپلائی چین ایک بار پھر دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
غذائی سلامتی: خاموش مگر سنگین خطرہ
توانائی اور خوراک کا رشتہ گہرا ہے۔ کھاد کی تیاری میں گیس بنیادی خام مال ہے، جبکہ زرعی مشینری اور ٹرانسپورٹ ایندھن پر انحصار کرتی ہے۔ اگر توانائی مہنگی ہوتی ہے تو زرعی پیداوار کی لاگت بھی بڑھتی ہے۔ اس کے علاوہ، اگر بحری راستوں میں خلل آئے تو اناج اور خوردنی تیل کی عالمی تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔
ترقی پذیر ممالک، جہاں خوراک کی قیمتوں کا عوامی زندگی پر براہِ راست اثر ہوتا ہے، وہاں سماجی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ خوراک اور ایندھن کی مہنگائی اکثر سیاسی بے چینی کو جنم دیتی ہے۔
جغرافیائی سیاست: نئی صف بندیاں
یہ بحران صرف عسکری نہیں بلکہ جغرافیائی سیاسی بھی ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑی طاقتوں کو مختلف کیمپوں میں تقسیم کر سکتی ہے۔ روس اور چین جیسے ممالک صورتِ حال کو اپنے معاشی یا تزویراتی مفادات کے تناظر میں دیکھتے ہیں، جبکہ یورپی ممالک توانائی تحفظ کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔اگر عالمی طاقتیں براہِ راست یا بالواسطہ اس تنازع میں الجھتی ہیں تو پابندیوں، تجارتی رکاوٹوں اور مالیاتی نظام پر اثرات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ عالمی تجارت کا نظام، جو پہلے ہی تحفظ پسندی کے رجحانات سے متاثر ہے، مزید دباؤ میں آ سکتا ہے۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے چیلنج اور موقع
توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے سب سے بڑا چیلنج درآمدی بل میں اضافہ اور کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ ہے۔ تاہم، بحران ہمیشہ صرف خطرہ نہیں ہوتا؛ یہ اصلاحات کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ متبادل توانائی ذرائع، مقامی پیداوار، علاقائی تجارت اور توانائی بچت پالیسیوں کو فروغ دینا اب محض انتخاب نہیں بلکہ ضرورت بنتا جا رہا ہے۔
پاکستان جیسے ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ سفارتی توازن برقرار رکھتے ہوئے معاشی استحکام کو اولین ترجیح دیں۔ علاقائی روابط، توانائی کے متبادل معاہدے اور اسٹریٹجک ذخائر کی منصوبہ بندی اس غیر یقینی ماحول میں حفاظتی دیوار ثابت ہو سکتی ہے۔
صرف ایک جنگ نہیں، ایک عالمی امتحان
ایران،امریکہ،اسرائیل کشیدگی کا بحران دنیا کے لیے ایک ہمہ جہتی امتحان بن چکا ہے۔ تیل اور LNG کی قیمتوں میں اضافہ اس کہانی کا پہلا باب ہے، مگر اصل داستان افراطِ زر، سپلائی چین، مالیاتی عدم استحکام اور غذائی سلامتی کے گرد گھومتی ہے۔ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور تصادم طول پکڑ گیا تو عالمی معیشت کو ایک نئے جھٹکے کا سامنا ہو سکتا ہے۔
یہ لمحہ عالمی قیادت کے لیے دانش مندی، تحمل اور مکالمے کا تقاضا کرتا ہے۔ کیونکہ آج کی جنگ صرف ایک خطے تک محدود نہیں اس کی گونج دنیا کے ہر بازار، ہر بندرگاہ اور ہر گھر تک پہنچ سکتی ہے۔ -

ٹرمپ کا ایران کے نئے سپریم لیڈر کی نامزدگی پر تبصرے سے گریز
واشنگٹن (پاکستان واچ نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تازہ انٹرویو میں مجبتیٰ خامنہ ای کی ایران کے نئے سپریم لیڈر کے طور پر نامزدگی پر تبصرے سے گریز کیا۔ اسرائیلی اخبار کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ دیکھیں گے کیا ہوتا ہے، جنگ ختم کرنےکا فیصلہ وہ نیتن یاہو کے ساتھ اتفاق رائے سے کریں گے، ان کی نیتن یاہو سے بات ہوئی ہے، فیصلہ درست وقت پر کریں گے۔دوسری جانب ٹرمپ کے قریبی ساتھی سینیٹر لنزے گراہم نے مجتبیٰ خامنہ ای کو دھمکی دی اور کہا ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو والد کا ہوا۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر نامزد کردیا گیا ہے۔ایران کی مجلس خبرگان نے قوم سے اتحاد برقرار رکھنے اور ایرانی عوام سے نئے سپریم لیڈر سے وفاداری کا عہد کرنے کی اپیل کی ہے۔
ایرانی مجلس خبرگان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد اور یکجہتی ضروری ہے۔رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے کبھی کسی سرکاری عہدے کے لیے انتخاب نہیں لڑا اور نہ ہی وہ عوامی ووٹ کے ذریعے منتخب ہوئے، تاہم وہ کئی دہائیوں سے سپریم لیڈر کے قریبی حلقے میں ایک بااثر شخصیت سمجھے جاتے رہے ہیں اور ان کے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ بھی گہرے تعلقات بتائے جاتے ہیں۔ -

آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا
تہران (پاکستان واچ نیوز)امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں اقتدار کی بڑی تبدیلی سامنے آگئی ہے۔ریاستی میڈیا کے مطابق ماہرین کی مجلس خبرگان (اسمبلی آف ایکسپرٹس) نے آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا ہے۔88 رکنی مجلس خبرگان نے بھاری اکثریت سے مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر منتخب کیا، وہ امام خمینی اور آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ملک کے تیسرے سپریم لیڈر ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے نے بھی ایرانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے خبر دی ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو باضابطہ طور پر ایران کی اعلیٰ ترین مذہبی و سیاسی قیادت سونپ دی گئی۔مجتبیٰ خامنہ ای ایک درمیانے درجے کے مذہبی عالم ہیں اور انہیں ایران کی طاقتور اسلامی انقلابی گارڈز (IRGC) کے ساتھ قریبی تعلقات کے باعث طویل عرصے سے اپنے والد کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔رپورٹس کے مطابق ایران کی حکومتی اشرافیہ کے بعض حلقے پہلے ہی مجتبیٰ خامنہ ای کو قیادت کے لیے موزوں سمجھتے تھے جبکہ ان کے والد کے دفتر اور اثر و رسوخ رکھنے والے حلقوں کی حمایت بھی انہیں حاصل تھی۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کا انقلابی نظریہ موروثی اقتدار کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا تاہم موجودہ حالات میں مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری ایران کی طاقت کے مراکز خاص طور پر انقلابی گارڈز کی حمایت کے باعث ممکن ہوئی۔
-

اسرائیل میں زخمیوں کی تعداد 1900 سے تجاوز، 2 اسرائیلی فوجی ہلاک
تل ابیب (پاکستان واچ نیوز)اسرائیلی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 1900 سے زائد زخمی افراد اسرائیل کے مختلف اسپتالوں میں لائے جا چکے ہیں۔وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 157 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 13 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 112 زخمی اب بھی اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں جن میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔اسرائیلی ریسکیو سروسز کے مطابق ایران کی جانب سے تل ابیب پر کیے گئے تازہ میزائل حملے میں 6 افراد زخمی ہوئے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وسطی اسرائیل میں ایک درجن سے زائد مقامات پر میزائل یا اس کے ٹکڑے گرنے کی اطلاعات ملی ہیں۔ حکام کے مطابق مختلف مقامات پر ہونے والے دھماکوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر ایرانی بیلسٹک میزائل میں کلسٹر بم وارہیڈ نصب تھا۔دوسری جانب جنوبی لبنان میں لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے حملے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے۔
-

عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ: پاکستان میں مہنگائی کی نئی لہر کا خطرہ
اسلام آباد(پاکستان واچ نیوز) عالمی تیل کی قیمتوں میں تاریخی اضافے کے بعد پاکستان میں مہنگائی کی نئی لہر کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ چیز سیکیورٹیز کی اتوار کو جاری ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر جاتی ہیں، تو آنے والے مہینوں میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 9 سے 11 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو براہ راست پاکستان کی معیشت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ چیز سکیورٹیز پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں مسلسل 100 ڈالر فی بیرل پر برقرار رہتی ہیں، تو اس سے پاکستان کے کنزیومر پرائس انڈیکس یعنی افراط زر میں 2.8 سے 3.7 فیصد تک کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، برینٹ کروڈ کی قیمت جو 2026 کے آغاز میں تقریباً 68.70 ڈالر فی بیرل تھی، 8 مارچ تک بڑھ کر 92.69 ڈالر فی بیرل ہو چکی ہے، جو کہ تقریباً 35 فیصد کا بڑا اضافہ ہے۔ اس ہفتے کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت ایک موقع پر 94.51 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح کو بھی چھو گئی۔دریں اثنا، ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بڑھ کر 90.90 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جس نے فیوچر ٹریڈنگ کی تاریخ میں تقریباً 35.6 فیصد کا اپنا سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اس اچانک اضافے نے پاکستان کو پہلے ہی مجبور کر دیا ہے کہ وہ اس کا بوجھ مقامی صارفین (عوام) پر منتقل کر دے۔ رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے کنزیومر پرائس انڈیکس پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے براہِ راست اور بالواسطہ اثرات بنیادی طور پر ٹرانسپورٹ اور خوراک کی لاگت کے ذریعے مرتب ہوں گے۔ سی پی آئی کی ٹوکری میں ایندھن اور ٹرانسپورٹ کا وزن تقریباً 6 فیصد ہے، اور اگر ایندھن کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ ہوتا ہے، تو یہ مہنگائی کی مجموعی شرح میں تقریباً 1.2 فیصد کا اضافہ کر سکتا ہے۔
-

پاکستان کی سعودیہ سے 10 سال کیلئے 5 ارب ڈالر ڈپازٹ، 5 ارب ڈالر کی تیل کی سہولت کی درخواست
اسلام آباد: (پا کستان واچ نیوز)پاکستان نے سعودی عرب کو طویل مدتی اقتصادی تعاون کی 8 اہم درخواستیں پیش کردیں جن میں موجودہ 5ارب ڈالر کے ذخائر کو 10 سالہ طویل مدتی سہولت میں تبدیل کرنا بھی شامل ہے۔پاکستان نے سعودی عرب کی حکومت کے سامنے طویل مدتی اقتصادی تعاون کے تحت آٹھ درخواستیں پیش کی ہیں، جن میں موجودہ چھوٹے عرصے کے 5 ارب ڈالر کے ذخائر کو 10 سالہ طویل مدتی سہولت میں تبدیل کرنا، ڈیفرڈ ادائیگی کے تحت تیل کی سہولت کو 1.2 ارب ڈالر سے بڑھا کر 5 ارب ڈالر کرنا اور اس کی مدت میں اضافہ کرنا، بیرون ملک پاکستانیوں کی رقوم 10 ارب ڈالر کی سکیورٹائزیشن کرنا، اور دیگر امور شامل ہیں۔ اعلیٰ سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو تصدیق کی کہ جاری جغرافیائی سیاسی تناؤ کے بعد پاکستان کی اقتصادی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے، جو امریکا اور اسرائیل کی قیادت میں ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران پیدا ہوئی ہیں۔ دوسری جانب پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) کے تحت تیسری جائزے کی تکمیل کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب پہلے ہی جامع اقتصادی تعاون کے پیکج پر مذاکرات کر رہے تھے۔


