Blog

  • پاکستان میں توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پہنچنا شروع

    پاکستان میں توانائی بحران کا خدشہ ختم، پیٹرول سے بھرے جہاز پہنچنا شروع

    کراچی:(پاکستان واچ نیوز)مشرق وسطیٰ میں امریکہ ایران جنگ کے باعث پاکستان میں پیٹرول بحران کا خدشہ ختم ہوگیا۔پورٹ قاسم پر پیٹرول سے بھرے جہازوں کی آمد شروع ہوگئی، پورٹ قاسم پر گیس آئل بردار جہاز ایم ٹی ٹورم دامینی فوٹکو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔ ایم ٹی ناوے ایٹروپوس 50 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول کے ساتھ 9 مارچ کو پورٹ قاسم پہنچ گیا، ایم ٹی اسپروس 2 بھی 55 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول کے ساتھ 10 مارچ رات 8 بج کر 30 منٹ پر لنگرانداز ہوگا۔ایم ٹی سی کلپر تقریباً 34 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول کے ساتھ 11 مارچ دوپہر 12 بجے پہنچے گا۔ترجمان پورٹ قاسم کا کہنا ہے کہ فجیرہ سے آنے والا ایک جہاز پورٹ قاسم پہنچ چکا ہے، پیٹرول کی سپلائی کیلئے مزید جہازوں کی آمد متوقع ہے۔

  • امریکی وزیر خارجہ نے طالبان حکومت کو سنگین نتائج کی دھمکی دیدی

    امریکی وزیر خارجہ نے طالبان حکومت کو سنگین نتائج کی دھمکی دیدی

    واشنگٹن (پاکستان واچ نیوز)امریکا نے افغان طالبان حکومت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے افغانستان کو ’اسٹیٹ اسپانسر آف رانگ فل ڈیٹینشن‘ یعنی ناجائز حراست کی سرپرستی کرنے والی ریاست قرار دے دیا ہے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اپنے بیان میں کہا کہ آج وہ افغانستان کو باضابطہ طور پر ایسے ملک کے طور پر نامزد کر رہے ہیں جہاں لوگوں کو غلط اور ناجائز طور پر حراست میں رکھا جا رہا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ طالبان حکومت اب بھی پالیسی میں رعایتیں حاصل کرنے کے لیے دہشت گردانہ طریقے استعمال کر رہی ہے۔مارکو روبیو کے مطابق اس طرح کے اقدامات سے طالبان عالمی برادری کا دباؤ مزید بڑھا رہے ہیں اور یہ طریقہ کار کسی صورت کامیاب نہیں ہوگا۔امریکی وزیر خارجہ نے مطالبہ کیا کہ طالبان حکومت ڈینس کوائل اور محمود حبیبی سمیت افغانستان میں قید تمام امریکی شہریوں کو فوری طور پر رہا کرے۔انہوں نے کہا کہ امریکا اپنے شہریوں کی رہائی کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے اور اس سلسلے میں طالبان حکومت پر دباؤ جاری رکھا جائے گا۔

  • عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیاں اور پاکستان کا مثبت کردار…..شیخ راشد عالم

    عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیاں اور پاکستان کا مثبت کردار…..شیخ راشد عالم

    اکیسویں صدی کی بدلتی ہوئی عالمی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ سرد جنگ کے بعد جو یک قطبی نظام قائم ہوا تھا، اب وہ بتدریج کثیر قطبی دنیا میں ڈھل رہا ہے۔ طاقت کے مراکز تبدیل ہو رہے ہیں، اتحاد نئے سرے سے تشکیل پا رہے ہیں اور مفادات کی بنیاد پر عالمی صف بندیاں ازسرِنو مرتب ہو رہی ہیں۔ اس تمام منظرنامے میں حالیہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، خصوصاً ایران ،امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ کی فضا نے عالمی سیاست کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اگرچہ یہ مکمل عالمی جنگ کی صورت اختیار نہیں کر سکی، تاہم اس کے اثرات عالمی صف بندیوں پر واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
    گزشتہ برسوں میں امریکہ اور چین کے درمیان اسٹریٹجک مسابقت نے عالمی سیاست کو نئی جہت دی۔ چین تیزی سے معاشی اور عسکری طاقت کے طور پر ابھرا ہے، جبکہ روس، یوکرین تنازع کے بعد مغربی اتحاد کے مقابل ایک نمایاں کردار میں سامنے آیا۔ یوں دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں طاقت کا توازن مختلف خطوں میں تقسیم ہو رہا ہے۔ یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ سب اس نئی ترتیب کا حصہ ہیں۔
    مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی نے اس تبدیلی کو مزید نمایاں کیا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ کشمکش، اور اس میں امریکہ کی شمولیت یا حمایت، نے کئی ممالک کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی پر مجبور کیا ہے۔ خلیجی ریاستیں ایک طرف اپنے سیکیورٹی مفادات کے تحت امریکہ سے روابط برقرار رکھے ہوئے ہیں تو دوسری جانب چین اور روس کے ساتھ معاشی تعاون بھی بڑھا رہی ہیں۔ یہ توازن کی پالیسی دراصل نئی عالمی صف بندیوں کی علامت ہے جہاں ریاستیں کسی ایک بلاک میں مکمل طور پر شامل ہونے کے بجائے مفادات کی بنیاد پر تعلقات استوار کر رہی ہیں۔
    معاشی میدان میں بھی تبدیلی واضح ہے۔ BRICS جیسے اتحاد عالمی مالیاتی نظام میں متبادل بیانیہ پیش کر رہے ہیں۔ توانائی کے معاہدے، مقامی کرنسیوں میں تجارت، اور علاقائی تعاون کے نئے ماڈلز سامنے آ رہے ہیں۔ توانائی کی سیاست خصوصاً ایران اور خلیجی خطے کی صورتحال کے باعث عالمی معیشت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی چین کے خدشات نے عالمی منڈیوں کو محتاط بنا دیا ہے۔
    ایسے حالات میں پاکستان کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت اور جغرافیائی لحاظ سے اہم ملک ہے جو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ چین کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون اور سی پیک جیسے منصوبے پاکستان کو علاقائی رابطوں کا مرکز بناتے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ کے ساتھ بھی پاکستان کے سفارتی اور تجارتی تعلقات موجود ہیں۔ یہی توازن پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔

    ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے ہمیشہ محتاط اور متوازن مؤقف اپنایا ہے۔ پاکستان کی کوشش رہی ہے کہ خطے میں کشیدگی کم ہو اور مکالمے کا راستہ اختیار کیا جائے۔ پاکستان نہ تو کسی تصادم کا حصہ بننا چاہتا ہے اور نہ ہی کسی بلاک کی اندھی حمایت کرنا اس کی پالیسی ہے۔ یہی طرزِ عمل اسے ایک ذمہ دار اور تعمیری ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے۔
    مزید برآں، پاکستان نے عالمی سطح پر امن کے قیام میں فعال کردار ادا کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستانی افواج کی شمولیت عالمی برادری میں پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرتی ہے۔ اسی طرح اسلاموفوبیا کے خلاف آواز اٹھانا، ماحولیاتی تبدیلی جیسے عالمی مسائل پر مؤثر سفارت کاری کرنا، اور علاقائی استحکام کے لیے کوششیں جاری رکھنا پاکستان کی تعمیری سوچ کا مظہر ہے۔
    نئی عالمی صف بندیوں میں معاشی استحکام بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان اگر اپنی معیشت کو مضبوط کرے، برآمدات میں اضافہ کرے اور ٹیکنالوجی کے شعبے کو فروغ دے تو وہ عالمی نظام میں زیادہ باوقار مقام حاصل کر سکتا ہے۔ نوجوان آبادی، آئی ٹی انڈسٹری اور فری لانسنگ کے شعبے پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل معیشت کا فعال حصہ بنا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ توانائی اور زراعت میں خود کفالت پاکستان کو بیرونی دباؤ سے محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔
    پاکستان کو اس وقت جذباتی ردعمل کے بجائے تدبر اور حکمت سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً ایران، اسرائیل اور امریکہ کے مابین تناؤ، ایک حساس معاملہ ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ امن، مذاکرات اور علاقائی ہم آہنگی کی حمایت جاری رکھے۔ یہی پالیسی اسے تنازعات سے دور رکھتے ہوئے عالمی برادری میں ایک مثبت اور متوازن قوت کے طور پر ابھار سکتی ہے۔
    آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ عالمی طاقتوں کی نئی صف بندیاں ایک ناگزیر حقیقت ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال نے اس عمل کو تیز ضرور کیا ہے، مگر اس کے باوجود دنیا مکمل تقسیم کی طرف نہیں بلکہ مفادات کے توازن کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کے پاس موقع ہے کہ وہ اپنی جغرافیائی اہمیت، سفارتی بصیرت اور قومی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک مثبت، تعمیری اور باوقار کردار ادا کرے۔ اگر ہم داخلی استحکام، معاشی مضبوطی اور متوازن خارجہ پالیسی کو یقینی بنائیں تو بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں پاکستان نہ صرف محفوظ رہے گا بلکہ ترقی کی نئی راہیں بھی ہموار کرے گا۔

  • مصنوعی ذہانت اور روزگار کا مسئلہ…نشید آفاقی

    مصنوعی ذہانت اور روزگار کا مسئلہ…نشید آفاقی

    دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ٹیکنالوجی کی رفتار انسانی سوچ سے بھی آگے نکلتی دکھائی دیتی ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) اب محض سائنسی افسانوں کا موضوع نہیں رہی بلکہ یہ ہماری روزمرہ زندگی، کاروبار، تعلیم اور حکمرانی تک میں داخل ہو چکی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت انسان کا روزگار چھین لے گی یا نئے مواقع پیدا کرے گی؟ یہی وہ بنیادی بحث ہے جو آج عالمی سطح پر جاری ہے۔
    مصنوعی ذہانت سے مراد وہ کمپیوٹر سسٹمز ہیں جو انسانی ذہانت کی نقل کرتے ہوئے سیکھ سکتے ہیں، فیصلے کر سکتے ہیں اور پیچیدہ مسائل حل کر سکتے ہیں۔ بینکنگ سے لے کر صحت کے شعبے تک، فیکٹریوں سے لے کر میڈیا ہاؤسز تک، ہر جگہ خودکار نظام تیزی سے جگہ بنا رہے ہیں۔ بڑے بڑے ادارے اخراجات کم کرنے اور کارکردگی بڑھانے کے لیے مشین لرننگ اور آٹومیشن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ نتیجتاً وہ کام جو پہلے انسان انجام دیتے تھے، اب مشینیں سنبھال رہی ہیں۔
    روزگار کے حوالے سے سب سے بڑا خدشہ یہی ہے کہ کم مہارت رکھنے والے افراد سب سے پہلے متاثر ہوں گے۔ مثال کے طور پر ڈیٹا انٹری، کسٹمر سروس، کیشیئرز، اور فیکٹری ورکرز جیسے شعبوں میں خودکار نظام پہلے ہی انسانی افرادی قوت کی جگہ لے رہے ہیں۔ چیٹ بوٹس کسٹمر سروس نمائندوں کی جگہ لے رہے ہیں، جبکہ روبوٹس مینوفیکچرنگ یونٹس میں مسلسل کام کر رہے ہیں۔ اس صورت حال نے خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے لیے تشویش پیدا کی ہے جہاں آبادی کا بڑا حصہ کم ہنر مند مزدوروں پر مشتمل ہے۔
    لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر صنعتی انقلاب نے ابتدا میں بے روزگاری کا خوف پیدا کیا، مگر بعد میں نئے شعبے اور نئی مہارتیں سامنے آئیں۔ بھاپ کے انجن نے گھوڑا گاڑیوں کا دور ختم کیا تو آٹوموبائل انڈسٹری وجود میں آئی۔ اسی طرح کمپیوٹر نے کئی روایتی دفتری نوکریاں ختم کیں، مگر آئی ٹی کے بے شمار مواقع پیدا ہوئے۔ مصنوعی ذہانت بھی ممکنہ طور پر ایسی ہی تبدیلی لا سکتی ہے۔
    آج ڈیٹا سائنس، سائبر سیکیورٹی، اے آئی انجینئرنگ، روبوٹکس، اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ جیسے شعبے تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ فری لانسنگ پلیٹ فارمز نے دنیا بھر کے نوجوانوں کو عالمی مارکیٹ تک رسائی دی ہے۔ اگر تعلیمی نظام بروقت جدید مہارتوں کی تربیت فراہم کرے تو نوجوان نسل اس تبدیلی کو خطرہ نہیں بلکہ موقع بنا سکتی ہے۔
    پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ چیلنج دوہرا ہے۔ ایک طرف نوجوانوں کی بڑی آبادی ہے جو روزگار کی تلاش میں ہے، دوسری طرف تعلیمی ڈھانچہ ابھی تک روایتی نصاب پر انحصار کرتا ہے۔ اگر ہم نے بروقت ڈیجیٹل مہارتوں، پروگرامنگ، اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کو فروغ نہ دیا تو عالمی مسابقت میں پیچھے رہ جانے کا خدشہ ہے۔ اس کے برعکس اگر پالیسی ساز درست حکمت عملی اپنائیں تو یہی نوجوان آبادی ملک کی سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے۔
    مصنوعی ذہانت صرف نوکریاں ختم نہیں کرتی بلکہ کام کی نوعیت بھی بدل دیتی ہے۔ مستقبل میں انسان اور مشین کا اشتراک عام ہوگا۔ ڈاکٹر تشخیص میں اے آئی کی مدد لیں گے، وکیل قانونی تحقیق میں خودکار نظام استعمال کریں گے، اور صحافی ڈیٹا اینالیسس کے لیے الگورتھمز پر انحصار کریں گے۔ یعنی مکمل خاتمہ نہیں بلکہ کردار کی تبدیلی زیادہ نمایاں ہوگی۔
    یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت تخلیقی اور جذباتی صلاحیتوں کا مکمل متبادل نہیں بن سکتی۔ انسانی ہمدردی، اخلاقی فیصلہ سازی، قیادت اور تخلیقی سوچ وہ اوصاف ہیں جو اب بھی انسان کو مشین سے ممتاز کرتے ہیں۔ لہٰذا تعلیم اور تربیت کا رخ صرف تکنیکی مہارت تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ تنقیدی سوچ، اخلاقیات اور تخلیقی صلاحیتوں پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
    حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی پالیسیاں ترتیب دیں جو ٹیکنالوجی کے فوائد کو عام کریں اور اس کے منفی اثرات کو کم کریں۔ سوشل سیفٹی نیٹ، فنی تربیتی پروگرامز، اور ری اسکلنگ منصوبے بے روزگار ہونے والے افراد کے لیے سہارا بن سکتے ہیں۔ بعض ممالک بنیادی آمدنی جیسے تصورات پر بھی غور کر رہے ہیں تاکہ آٹومیشن کے دور میں معاشی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
    کاروباری اداروں کو بھی صرف منافع کے بجائے سماجی ذمہ داری کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ اگر کمپنیاں ملازمین کو نئی مہارتیں سکھانے میں سرمایہ کاری کریں تو نہ صرف ادارے کو فائدہ ہوگا بلکہ معاشرہ بھی مستحکم رہے گا۔ بصورت دیگر دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں تک محدود ہو سکتا ہے جو معاشرتی ناہمواری کو بڑھا دے گا۔
    میڈیا اور دانشوروں کا کردار بھی اہم ہے۔ خوف اور سنسنی پھیلانے کے بجائے متوازن گفتگو ضروری ہے۔ عوام کو یہ سمجھانا ہوگا کہ تبدیلی ناگزیر ہے، مگر اس کا مقابلہ تیاری اور حکمت سے کیا جا سکتا ہے۔ اگر ہم نے صرف خطرات کو دیکھا اور مواقع سے آنکھیں چرا لیں تو نقصان ہمارا اپنا ہوگا۔
    آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ مصنوعی ذہانت نہ مکمل طور پر دشمن ہے اور نہ ہی نجات دہندہ۔ یہ ایک طاقتور ذریعہ ہے جس کا اثر اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اسے کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ اگر ہم تعلیم، تحقیق اور پالیسی سازی میں دور اندیشی اختیار کریں تو یہ ٹیکنالوجی معاشی ترقی، بہتر صحت، مؤثر حکمرانی اور عالمی مسابقت میں اضافہ کر سکتی ہے۔ لیکن اگر ہم نے غفلت برتی تو بے روزگاری اور معاشی ناہمواری جیسے مسائل شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
    لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مصنوعی ذہانت کو خوف کی نگاہ سے نہیں بلکہ تیاری کی نظر سے دیکھیں۔ نئی مہارتیں سیکھیں، نوجوانوں کو جدید تعلیم دیں، اور ایسے نظام قائم کریں جو انسان اور مشین کے درمیان توازن پیدا کریں۔ مستقبل اْنہی قوموں کا ہوگا جو تبدیلی کو سمجھ کر اسے اپنے حق میں ڈھال لیں گی۔ مصنوعی ذہانت کا دور آ چکا ہے، اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اس کے تماشائی بنیں گے یا معمار۔

  • ایران،امریکہ،اسرائیل جنگ اور عالمی معیشت کا لرزتا ہوا مستقبل

    ایران،امریکہ،اسرائیل جنگ اور عالمی معیشت کا لرزتا ہوا مستقبل

    تیل اور LNG سے آگے ، افراطِ زر، سپلائی چین، مالیاتی منڈیاں اور غذائی سلامتی پر منڈلاتا طوفان
    پاکستان واچ رپورٹ
    مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست اور معیشت کا مرکز بن چکا ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی محض عسکری محاذ تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس نے عالمی توانائی منڈیوں، تجارتی راستوں، مالیاتی نظام اور ترقی پذیر معیشتوں کو غیر یقینی کے ایسے دائرے میں دھکیل دیا ہے جہاں ہر نئی خبر مارکیٹوں میں جھٹکا پیدا کر رہی ہے۔ اس بحران کا پہلا اور فوری اثر تیل اور ایل این جی کی قیمتوں پر نظر آتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے اثرات اس سے کہیں زیادہ گہرے اور ہمہ گیر ہیں۔
    توانائی کا محاذ: آبنائے ہرمز کی تلوار
    دنیا کی توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ یہ تنگ سمندری راستہ خلیج کو عالمی منڈیوں سے جوڑتا ہے اور روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل اور بڑی مقدار میں مائع قدرتی گیس (LNG) اسی راستے سے برآمد ہوتی ہے۔ اگر اس گزرگاہ میں معمولی رکاوٹ بھی پیدا ہو تو عالمی منڈیوں میں فوری بے چینی پیدا ہو جاتی ہے۔
    ایران کی جانب سے اس راستے کے حوالے سے سخت بیانات، بحری نقل و حرکت میں رکاوٹوں کا خدشہ اور خطے میں عسکری موجودگی میں اضافہ یہ سب عوامل تیل کے فیوچر کنٹریکٹس میں تیزی اور اتار چڑھاؤ کو جنم دیتے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ صرف پیٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا؛ بجلی کی پیداوار، صنعتوں کی لاگت، ٹرانسپورٹ، کھاد سازی اور حتیٰ کہ پلاسٹک و کیمیکل صنعت بھی اسی زنجیر کا حصہ ہیں۔
    LNG مارکیٹ بھی اسی دباؤ کا شکار ہے۔ یورپ، جو پہلے ہی توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش میں ہے، کسی بھی نئی غیر یقینی صورتحال کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔ ایشیائی خریداروں اور یورپی منڈیوں کے درمیان کارگو کی مسابقت قیمتوں میں اضافے کو مزید ہوا دیتی ہے۔ نتیجتاً، ترقی پذیر ممالک کے لیے درآمدی بل میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔
    افراطِ زر کی واپسی: مہنگائی کا دوسرا دور؟
    توانائی کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست اور بالواسطہ دونوں طریقوں سے افراطِ زر کو جنم دیتا ہے۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں، جس سے اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی چیزوں کی قیمتیں بھی اوپر چلی جاتی ہیں۔ مرکزی بینک، جو پہلے ہی شرحِ سود کے ذریعے مہنگائی کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے تھے، ایک نئے امتحان سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
    اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو ‘‘کاسٹ پْش انفلیشن’’ کا رجحان دوبارہ زور پکڑ سکتا ہے یعنی پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث قیمتوں میں مسلسل اضافہ۔ یہ صورتحال صارفین کی قوتِ خرید کو متاثر کرے گی اور معاشی ترقی کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک، جہاں درآمدی ایندھن پر انحصار زیادہ ہے، وہاں کرنسی پر دباؤ اور مالی خسارہ بڑھنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔

    مالیاتی منڈیاں: غیر یقینی کا کھیل
    جنگی ماحول میں سرمایہ کار عموماً ‘‘سیف ہیون’’ اثاثوں کی طرف رخ کرتے ہیں۔ سونا، ڈالر اور بعض حکومتی بانڈز کی طلب بڑھ جاتی ہے، جبکہ اسٹاک مارکیٹس دباؤ میں آ جاتی ہیں۔ توانائی کمپنیوں کے حصص میں وقتی تیزی دیکھی جا سکتی ہے، مگر مجموعی طور پر مارکیٹ کا مزاج محتاط رہتا ہے۔
    سرمایہ کاروں کے فیصلے جذباتی بھی ہو سکتے ہیں۔ کسی ایک حملے یا بیان سے مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے۔ کرنسی مارکیٹ میں بھی یہی کیفیت ہوتی ہے؛ درآمدی ایندھن پر انحصار رکھنے والی معیشتوں کی کرنسیاں دباؤ میں آ سکتی ہیں، جبکہ برآمد کنندہ ممالک کو وقتی سہارا مل سکتا ہے۔
    سپلائی چین: بندرگاہ سے بازار تک
    جنگ کا اثر صرف تیل بردار جہازوں تک محدود نہیں رہتا۔ اگر خطے میں بحری نقل و حمل غیر محفوظ سمجھی جائے تو انشورنس پریمیم بڑھ جاتے ہیں، راستے بدلنے پڑتے ہیں اور ترسیل کا وقت طویل ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ خام مال، مشینری، الیکٹرانکس اور دیگر صنعتی اجزاء￿ کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
    کئی عالمی کمپنیاں ‘‘جسٹ اِن ٹائم’’ ماڈل پر کام کرتی ہیں، جہاں معمولی تاخیر بھی پیداواری لائن کو روک سکتی ہے۔ ایسے میں لاگت بڑھتی ہے اور صارف تک پہنچنے والی مصنوعات مہنگی ہو جاتی ہیں۔ وبا کے بعد بحال ہوتی عالمی سپلائی چین ایک بار پھر دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
    غذائی سلامتی: خاموش مگر سنگین خطرہ
    توانائی اور خوراک کا رشتہ گہرا ہے۔ کھاد کی تیاری میں گیس بنیادی خام مال ہے، جبکہ زرعی مشینری اور ٹرانسپورٹ ایندھن پر انحصار کرتی ہے۔ اگر توانائی مہنگی ہوتی ہے تو زرعی پیداوار کی لاگت بھی بڑھتی ہے۔ اس کے علاوہ، اگر بحری راستوں میں خلل آئے تو اناج اور خوردنی تیل کی عالمی تجارت متاثر ہو سکتی ہے۔
    ترقی پذیر ممالک، جہاں خوراک کی قیمتوں کا عوامی زندگی پر براہِ راست اثر ہوتا ہے، وہاں سماجی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ خوراک اور ایندھن کی مہنگائی اکثر سیاسی بے چینی کو جنم دیتی ہے۔
    جغرافیائی سیاست: نئی صف بندیاں
    یہ بحران صرف عسکری نہیں بلکہ جغرافیائی سیاسی بھی ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑی طاقتوں کو مختلف کیمپوں میں تقسیم کر سکتی ہے۔ روس اور چین جیسے ممالک صورتِ حال کو اپنے معاشی یا تزویراتی مفادات کے تناظر میں دیکھتے ہیں، جبکہ یورپی ممالک توانائی تحفظ کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔

    اگر عالمی طاقتیں براہِ راست یا بالواسطہ اس تنازع میں الجھتی ہیں تو پابندیوں، تجارتی رکاوٹوں اور مالیاتی نظام پر اثرات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ عالمی تجارت کا نظام، جو پہلے ہی تحفظ پسندی کے رجحانات سے متاثر ہے، مزید دباؤ میں آ سکتا ہے۔
    پاکستان جیسے ممالک کے لیے چیلنج اور موقع
    توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے سب سے بڑا چیلنج درآمدی بل میں اضافہ اور کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ ہے۔ تاہم، بحران ہمیشہ صرف خطرہ نہیں ہوتا؛ یہ اصلاحات کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ متبادل توانائی ذرائع، مقامی پیداوار، علاقائی تجارت اور توانائی بچت پالیسیوں کو فروغ دینا اب محض انتخاب نہیں بلکہ ضرورت بنتا جا رہا ہے۔
    پاکستان جیسے ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ سفارتی توازن برقرار رکھتے ہوئے معاشی استحکام کو اولین ترجیح دیں۔ علاقائی روابط، توانائی کے متبادل معاہدے اور اسٹریٹجک ذخائر کی منصوبہ بندی اس غیر یقینی ماحول میں حفاظتی دیوار ثابت ہو سکتی ہے۔
    صرف ایک جنگ نہیں، ایک عالمی امتحان
    ایران،امریکہ،اسرائیل کشیدگی کا بحران دنیا کے لیے ایک ہمہ جہتی امتحان بن چکا ہے۔ تیل اور LNG کی قیمتوں میں اضافہ اس کہانی کا پہلا باب ہے، مگر اصل داستان افراطِ زر، سپلائی چین، مالیاتی عدم استحکام اور غذائی سلامتی کے گرد گھومتی ہے۔ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور تصادم طول پکڑ گیا تو عالمی معیشت کو ایک نئے جھٹکے کا سامنا ہو سکتا ہے۔
    یہ لمحہ عالمی قیادت کے لیے دانش مندی، تحمل اور مکالمے کا تقاضا کرتا ہے۔ کیونکہ آج کی جنگ صرف ایک خطے تک محدود نہیں اس کی گونج دنیا کے ہر بازار، ہر بندرگاہ اور ہر گھر تک پہنچ سکتی ہے۔

  • ٹرمپ کا ایران کے نئے سپریم لیڈر کی نامزدگی پر تبصرے سے گریز

    ٹرمپ کا ایران کے نئے سپریم لیڈر کی نامزدگی پر تبصرے سے گریز

    واشنگٹن (پاکستان واچ نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تازہ انٹرویو میں مجبتیٰ خامنہ ای کی ایران کے نئے سپریم لیڈر کے طور پر نامزدگی پر تبصرے سے گریز کیا۔ اسرائیلی اخبار کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ دیکھیں گے کیا ہوتا ہے، جنگ ختم کرنےکا فیصلہ وہ نیتن یاہو کے ساتھ اتفاق رائے سے کریں گے، ان کی نیتن یاہو سے بات ہوئی ہے، فیصلہ درست وقت پر کریں گے۔دوسری جانب ٹرمپ کے قریبی ساتھی سینیٹر لنزے گراہم نے مجتبیٰ خامنہ ای کو دھمکی دی اور کہا ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو والد کا ہوا۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر نامزد کردیا گیا ہے۔ایران کی مجلس خبرگان نے قوم سے اتحاد برقرار رکھنے اور ایرانی عوام سے نئے سپریم لیڈر سے وفاداری کا عہد کرنے کی اپیل کی ہے۔
    ایرانی مجلس خبرگان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں قومی اتحاد اور یکجہتی ضروری ہے۔رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے کبھی کسی سرکاری عہدے کے لیے انتخاب نہیں لڑا اور نہ ہی وہ عوامی ووٹ کے ذریعے منتخب ہوئے، تاہم وہ کئی دہائیوں سے سپریم لیڈر کے قریبی حلقے میں ایک بااثر شخصیت سمجھے جاتے رہے ہیں اور ان کے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ بھی گہرے تعلقات بتائے جاتے ہیں۔

  • آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا

    آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا

    تہران (پاکستان واچ نیوز)امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں اقتدار کی بڑی تبدیلی سامنے آگئی ہے۔ریاستی میڈیا کے مطابق ماہرین کی مجلس خبرگان (اسمبلی آف ایکسپرٹس) نے آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا ہے۔88 رکنی مجلس خبرگان نے بھاری اکثریت سے مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر منتخب کیا، وہ امام خمینی اور آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ملک کے تیسرے سپریم لیڈر ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے نے بھی ایرانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے خبر دی ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو باضابطہ طور پر ایران کی اعلیٰ ترین مذہبی و سیاسی قیادت سونپ دی گئی۔مجتبیٰ خامنہ ای ایک درمیانے درجے کے مذہبی عالم ہیں اور انہیں ایران کی طاقتور اسلامی انقلابی گارڈز (IRGC) کے ساتھ قریبی تعلقات کے باعث طویل عرصے سے اپنے والد کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔رپورٹس کے مطابق ایران کی حکومتی اشرافیہ کے بعض حلقے پہلے ہی مجتبیٰ خامنہ ای کو قیادت کے لیے موزوں سمجھتے تھے جبکہ ان کے والد کے دفتر اور اثر و رسوخ رکھنے والے حلقوں کی حمایت بھی انہیں حاصل تھی۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کا انقلابی نظریہ موروثی اقتدار کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا تاہم موجودہ حالات میں مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری ایران کی طاقت کے مراکز خاص طور پر انقلابی گارڈز کی حمایت کے باعث ممکن ہوئی۔

  • اسرائیل میں زخمیوں کی تعداد 1900 سے تجاوز،  2 اسرائیلی فوجی ہلاک

    اسرائیل میں زخمیوں کی تعداد 1900 سے تجاوز، 2 اسرائیلی فوجی ہلاک

    تل ابیب (پاکستان واچ نیوز)اسرائیلی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 1900 سے زائد زخمی افراد اسرائیل کے مختلف اسپتالوں میں لائے جا چکے ہیں۔وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 157 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 13 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 112 زخمی اب بھی اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں جن میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔اسرائیلی ریسکیو سروسز کے مطابق ایران کی جانب سے تل ابیب پر کیے گئے تازہ میزائل حملے میں 6 افراد زخمی ہوئے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وسطی اسرائیل میں ایک درجن سے زائد مقامات پر میزائل یا اس کے ٹکڑے گرنے کی اطلاعات ملی ہیں۔ حکام کے مطابق مختلف مقامات پر ہونے والے دھماکوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر ایرانی بیلسٹک میزائل میں کلسٹر بم وارہیڈ نصب تھا۔دوسری جانب جنوبی لبنان میں لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے حملے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے۔

  • عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ: پاکستان میں مہنگائی کی نئی لہر کا خطرہ

    عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ: پاکستان میں مہنگائی کی نئی لہر کا خطرہ

    اسلام آباد(پاکستان واچ نیوز) عالمی تیل کی قیمتوں میں تاریخی اضافے کے بعد پاکستان میں مہنگائی کی نئی لہر کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ چیز سیکیورٹیز کی اتوار کو جاری ہونے والی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر جاتی ہیں، تو آنے والے مہینوں میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 9 سے 11 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو براہ راست پاکستان کی معیشت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ چیز سکیورٹیز پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں مسلسل 100 ڈالر فی بیرل پر برقرار رہتی ہیں، تو اس سے پاکستان کے کنزیومر پرائس انڈیکس یعنی افراط زر میں 2.8 سے 3.7 فیصد تک کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، برینٹ کروڈ کی قیمت جو 2026 کے آغاز میں تقریباً 68.70 ڈالر فی بیرل تھی، 8 مارچ تک بڑھ کر 92.69 ڈالر فی بیرل ہو چکی ہے، جو کہ تقریباً 35 فیصد کا بڑا اضافہ ہے۔ اس ہفتے کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت ایک موقع پر 94.51 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح کو بھی چھو گئی۔دریں اثنا، ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بڑھ کر 90.90 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جس نے فیوچر ٹریڈنگ کی تاریخ میں تقریباً 35.6 فیصد کا اپنا سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اس اچانک اضافے نے پاکستان کو پہلے ہی مجبور کر دیا ہے کہ وہ اس کا بوجھ مقامی صارفین (عوام) پر منتقل کر دے۔ رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے کنزیومر پرائس انڈیکس پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے براہِ راست اور بالواسطہ اثرات بنیادی طور پر ٹرانسپورٹ اور خوراک کی لاگت کے ذریعے مرتب ہوں گے۔ سی پی آئی کی ٹوکری میں ایندھن اور ٹرانسپورٹ کا وزن تقریباً 6 فیصد ہے، اور اگر ایندھن کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ ہوتا ہے، تو یہ مہنگائی کی مجموعی شرح میں تقریباً 1.2 فیصد کا اضافہ کر سکتا ہے۔

  • پاکستان کی سعودیہ سے 10 سال کیلئے 5 ارب ڈالر ڈپازٹ، 5 ارب ڈالر کی تیل کی سہولت کی درخواست

    پاکستان کی سعودیہ سے 10 سال کیلئے 5 ارب ڈالر ڈپازٹ، 5 ارب ڈالر کی تیل کی سہولت کی درخواست

    اسلام آباد: (پا کستان واچ نیوز)پاکستان نے سعودی عرب کو طویل مدتی اقتصادی تعاون کی 8 اہم درخواستیں پیش کردیں جن میں موجودہ 5ارب ڈالر کے ذخائر کو 10 سالہ طویل مدتی سہولت میں تبدیل کرنا بھی شامل ہے۔پاکستان نے سعودی عرب کی حکومت کے سامنے طویل مدتی اقتصادی تعاون کے تحت آٹھ درخواستیں پیش کی ہیں، جن میں موجودہ چھوٹے عرصے کے 5 ارب ڈالر کے ذخائر کو 10 سالہ طویل مدتی سہولت میں تبدیل کرنا، ڈیفرڈ ادائیگی کے تحت تیل کی سہولت کو 1.2 ارب ڈالر سے بڑھا کر 5 ارب ڈالر کرنا اور اس کی مدت میں اضافہ کرنا، بیرون ملک پاکستانیوں کی رقوم 10 ارب ڈالر کی سکیورٹائزیشن کرنا، اور دیگر امور شامل ہیں۔ اعلیٰ سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو تصدیق کی کہ جاری جغرافیائی سیاسی تناؤ کے بعد پاکستان کی اقتصادی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے، جو امریکا اور اسرائیل کی قیادت میں ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران پیدا ہوئی ہیں۔ دوسری جانب پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) کے تحت تیسری جائزے کی تکمیل کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب پہلے ہی جامع اقتصادی تعاون کے پیکج پر مذاکرات کر رہے تھے۔