Blog

  • خامنہ ای کے بیٹے قابل قبول نہیں؛ اپنی پسند کی حکومت بنانا چاہتا ہوں؛ ٹرمپ

    خامنہ ای کے بیٹے قابل قبول نہیں؛ اپنی پسند کی حکومت بنانا چاہتا ہوں؛ ٹرمپ

    واشنگٹن (پاکستان واچ نیوز)امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ ایران کے اگلے رہنما کے انتخاب کے عمل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی نئی قیادت کے انتخاب میں میرا ذاتی طور پر شامل ہونا ضروری ہے تاکہ ایسا رہنما سامنے آئے جو ملک میں امن اور استحکام لائے۔ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے مزید کہا کہ سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبی خامنہ ای کو ایران کی قیادت کے لیے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ ایران کو ایسا رہنما چاہیے جو کشیدگی کے بجائے ہم آہنگی اور امن کی طرف ملک کو لے جائے۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایرانی سپریم لیڈر کی تقرری میں اسی طرح شامل ہونا چاہتے ہیں جیسے انہوں نے ماضی میں وینزویلا کی سیاست میں کردار ادا کیا تھا۔ اگر ایران میں سخت گیر قیادت سامنے آئی تو مستقبل میں ایک بار پھر کشیدگی اور جنگ کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔خیال رہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد وہاں نئی قیادت کے انتخاب کے لیے مذہبی و سیاسی حلقوں میں مشاورت جاری ہے اور سب سے مضبوط نام مجتبیٰ خامنہ ای کا ہے۔واضح رہے کہ مجتبی خامنہ ای شہرت ایک مذہبی رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ پاسداران انقلاب کے ساتھ قریبی روابط کے طور پر بھی ہے۔

  • ہرخطرے کو ختم کرنے کیلئے ضروری اقدامات کریں گے: فیلڈ مارشل

    ہرخطرے کو ختم کرنے کیلئے ضروری اقدامات کریں گے: فیلڈ مارشل

    راولپنڈی (پاکستان واچ نیوز)چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نےکہا ہےکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائیدار امن اسی صورت ممکن ہے جب افغان طالبان دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت ترک کردیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وانا جنوبی وزیرستان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے شہدا کی یادگار پر پھول رکھے اور مادر وطن کے دفاع میں قربانیاں دینے والے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو مغربی سرحد پر سکیورٹی صورتحال اور آپریشن غضب للحق پر بریفنگ دی گئی۔ فیلڈ مارشل نے مغربی سرحد پر موجودہ سکیورٹی صورتحال اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا اور اگلے مورچوں پر تعنیات جوانوں سے ملاقات کی اور جاری جھڑپوں کے دوران جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیت،آپریشنل مستعدی اور بلند حوصلے کو سراہا۔آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ شہدا کی قربانیاں پاکستان کی سلامتی اور استقامت کی بنیاد ہیں، فتنہ خوارج اورفتنہ الہندوستان کا افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنا ناقابل قبول ہے، اس جانب سے پیدا ہونے والے ہر خطرے کو ختم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ دونوں جانب امن تب ہی قائم ہوسکتا ہے جب افغان طالبان دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت سے دستبردارہوں۔آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے پاک افغان سرحد پر تعینات فارمیشنزکی جنگی تیاری، مربوط کارکردگی اور حوصلے پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

  • کشیدگی کے باعث کراچی سمیت ملک بھر سے 162 پروازیں منسوخ

    کشیدگی کے باعث کراچی سمیت ملک بھر سے 162 پروازیں منسوخ

    کراچی:(پاکستان واچ نیوز)ایران پر اسرائیل اور امریکا کے حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں جاری امریکہ کشیدگی کے نتیجے میں فضائی حدود کی بندش کے سبب کراچی سمیت ملکی ہوائی اڈوں سے162 پروازیں منسوخ ہوئیں۔ذرائع کے مطابق فضائی حدود بندش کی بندش کے سبب جناح ٹرمینل ائیرپورٹ سمیت دیگر ملکی ائیرپورٹس سے پانچویں روز ملک کے ائیرپورٹس سے متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر سمیت دیگر خلیجی ممالک کی 162 پروازیں منسوخ ہوئیں۔ذرائع نے بتایا کہ کراچی ائیرپورٹ سے دبئی، ابو ظہبی، قطر، شارجہ، کویت، بحرین کی 40 پروازیں، اسلام آباد ائیرپورٹ سے دبئی، ابوظہبی، دوحہ، بحرین، کویت اور شارجہ سمیت دیگر ایرپورٹس کی 38 پروازیں منسوخ ہوئیں۔لاہور ائیرپورٹ پر دبئی، ابوظہبی، قطر، کویت اور بحرین کی 28 پروازیں، پشاور ائیرپورٹ سے دبئی، شارجہ، قطر اور ابو ظہبی کی 24 پروازیں، ملتان ائیرپورٹ سے دبئی، شارجہ، راس الخیمہ، بحرین، دوحہ اور کویت کی 18 پروازیں، سیالکوٹ ائیرپورٹ سے دبئی، شارجہ، ابوظہبی سمیت دیگر مشرق وسطیٰ کی 8 پروازیں شامل ہیں اور یصل آباد ائیرپورٹ سے مشرق وسطیٰ کے لیے 6 پروازیں منسوخ ہوئیں۔ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ پروازوں میں ایمریٹس اتحاد، ایئرعربیہ، پی آئی اے، ایئر بلیو، فلائی دبئی، قطر ائیر سمیت دیگر ملکی اور غیرملکی ایئرلائنز شامل تھیں۔ذرائع کے مطابق پاکستانی ہوائی اڈوں سے پانچ روز میں مشرق وسطیٰ کے ملکوں کی منسوخ پروازوں کی تعداد 578 ہوگئی ہے، 28 فروری سے متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت، ایران سمیت متعدد ملکوں کی فضائی حدود بند ہونے سے ائیرلائنز کی پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔

  • رجیم چینج کی کوشش ہوئی تو اسرائیلی جوہری مرکز ہمارا ہدف ہو گا،ایران

    رجیم چینج کی کوشش ہوئی تو اسرائیلی جوہری مرکز ہمارا ہدف ہو گا،ایران

    تہران (پاکستان واچ نیوز)ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل اور امریکا نے اسلامی جمہوریہ میں رجیم چینج کی کوشش کی تو اسرائیل کے جوہری مرکز دیمونا کو براہِ راست نشانہ بنایا جائے گا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے نے نیم سرکاری خبر رساں ادارے کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایک اعلیٰ ایرانی فوجی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران کسی بھی بیرونی مداخلت یا حکومت گرانے کی سازش کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔عہدیدار کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں دیمونا نیوکلیئر ری ایکٹر ایران کے ممکنہ اہداف میں سرفہرست ہوگا۔ایرانی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ تہران کے پاس ایسے اہداف کو نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت موجود ہے اور اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کا دائرہ کار وسیع ہو سکتا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور نظام کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔

  • ٹرمپ کا پوری قوت سے ایران پر حملے جاری رکھنے کا اعلان

    ٹرمپ کا پوری قوت سے ایران پر حملے جاری رکھنے کا اعلان

    واشنگٹن (پاکستان واچ نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قیادت کو تیزی سے ختم کیا جارہاہے، ایران میں جو لیڈربننا چاہتا ہے مارا جاتا ہے۔امریکی صدر نے راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کے معاملے میں بہت مضبوط پوزیشن میں ہیں۔ ایران کے میزائلوں اور لانچروں کا صفایا کیا جا رہا ہے۔ ہم جنگی محاذ پر بہت اچھا کر رہے ہیں صورتحال توقع سے بھی بہتر ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا اگر ہم ایران پرحملہ نہ کرتے تو ایران ہم پرحملہ کردیتا، ایرانی حملے سے پہلے ہم نے ایران پر حملہ کردیا، ایران پر حملہ نہ کرتے تو جلد ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا۔ڈونلڈٹرمپ نے کہا ایران اپنے پڑوسیوں اور اتحادیوں کو نشانہ بنارہا ہے، جب پاگل لوگوں کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے ہیں تو بری چیزیں ہوتی ہیں۔ ہم نے ایران میں 47 سال سے جاری قتل عام کو روکا۔ امریکی صدر نے سابق صدراوباما کی ایران سے جوہری ڈیل پر بھی تنقید کی۔ادھر وائٹ ہاوس نے کہا امریکی صدرکاخیال ہےکہ ایران جنگ پر انہیں امریکیوں کی حمایت حاصل ہے، یہ دعویٰ بھی کیاکہ اسپین امریکی فوج کےساتھ تعاون کے لیے رضامندہے۔

  • ایرانی جنگی جہاز پر امریکی آبدوز کے حملے میں 87 ایرانی فوجی شہید

    ایرانی جنگی جہاز پر امریکی آبدوز کے حملے میں 87 ایرانی فوجی شہید

    کولمبو (پاکستان واچ نیوز)سری لنکا کے قریب ایرانی جنگی جہاز پر امریکی آبدوز کے حملے کی ویڈیو سامنے آگئی۔امریکی محکمہ جنگ کی جانب سے جاری کی جانے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے ایرانی بحری جہاز پر تارپیڈو ٹکرانے سے زوردار دھماکہ ہوتا ہے۔امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے امریکا کی جانب سے ایرانی جنگی جہاز کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے۔پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ایرانی جنگی جہاز کو لگتا تھا کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں محفوظ رہے گا لیکن ایسا نہیں تھا۔اس سے قبل غیر ملکی خبررساں ایجنسی نے امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانی جنگی جہاز پر امریکی آبدوز نے حملہ کیا۔ایرانی جنگی جہاز بھارت میں جنگی مشقیں مکمل کرنے کے بعد ایران واپس لوٹ رہا تھا جسے سری لنکا کے قریب نشانہ بنایا گیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سری لنکن وزیر خارجہ نے بتایا کہ ایرانی جہاز آئرس ڈینا (IRIS Dena) کے ڈوبنے کی اطلاع پر اس کے عملے کو ریسکیو کرنے کے لیے سری لنکن بحریہ کو روانہ کیا گیا، جب تک امدادی جہاز حادثے کے مقام پر پہنچا ایرانی جنگی جہاز ڈوب چکا تھا۔سری لنکن وزیر خارجہ کے مطابق اب تک جہاز سے 30 زخمی سیلرز کو نکال کر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ سری لنکا کے نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایرانی بحری جہازپر امریکی حملے میں80 سے زائد افرادجاں بحق ہوئے۔

  • آپریشن غضب للحق؛ پاک فوج کی طورخم کے نزدیک کارروائی، افغان طالبان کا اہم سرغنہ ہلاک

    آپریشن غضب للحق؛ پاک فوج کی طورخم کے نزدیک کارروائی، افغان طالبان کا اہم سرغنہ ہلاک

    راولپنڈی(پاکستان واچ نیوز)آپریشن غضب للحق کے تحت پاک افغان سرحد پر افغان طالبان، فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے خلاف پاک فوج کی مؤثر کارروائیاں جاری ہیں۔پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے طورخم کے نزدیک افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی، دراندازی کی کوشش کرنے والا افغان طالبان سرغنہ قہرمان ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگیا۔ہلاک ہونے والے افغان طالبان کمانڈر کا تعلق جلال آباد سے تھا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جارحیت کیخلاف پاک فوج کے مؤثر اور طاقتور جواب میں افغان طالبان کو بھاری نقصان کا سامنا ہے۔اسی طرح، چمن سیکٹر میں پاک فوج کی خفیہ اطلاعات پر افغان طالبان کی مسلح تشکیل کے خلاف کامیاب کارروائی کی گئی۔ پاک فوج کی کامیاب کارروائی سے ایک افغان طالبان دہشت گرد ہلاک جبکہ 3 کو زخمی حالت میں زندہ پکڑ لیا گیا۔پاک فوج نے اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لیکر کلیئرنس آپریشن مکمل کیا، علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ فتنۃ الخوارج کے گرفتار دہشت گردوں سے تفتیش جاری ہے۔پاک فوج خطے میں قیام امن کے لیے پرعزم ہیں اور دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے 50 مختلف مقامات پر افغان طالبان، فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کے ٹھکانوں کو نشانہ بناکر تباہ کر دیا۔پاک فوج کی جانب سے 3 اور 4 مارچ کی درمیانی شب بھاری ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے کارروائیاں کی گئیں۔پاک فوج نے قلعہ سیف اللہ سمیت چمن، سمبازہ، گھڈوانہ، جانی اور غزنالی سیکٹر پر مؤثر کارروائیاں کیں۔ ان مقامات کو سرحد پار سے دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ ان کارروائیوں کے دوران افغان طالبان، فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان کو بھاری جانی و مالی نقصان کی اطلاعات ہیں۔پاک فوج افغان طالبان کی جارحیت کے خلاف ملکی خود مختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔ آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں طے شدہ اہداف کے مکمل حصول تک جاری رہیں گی۔

  • افغانستان میں سول آبادی کو نشانہ بنانے کا گمراہ کن پروپیگنڈا، ڈی جی آئی ایس پی آر کی وضاحت

    افغانستان میں سول آبادی کو نشانہ بنانے کا گمراہ کن پروپیگنڈا، ڈی جی آئی ایس پی آر کی وضاحت

    راولپنڈی (پاکستان واچ نیوز)افغانستان میں سول آبادی کو نشانہ بنانے کا گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے جبکہ افغان طالبان رجیم کے جھوٹے دعوؤں کی بنیاد پر اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (UNAMA) نے حقائق کے برعکس رپورٹ جاری کی۔اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان کی رپورٹ کو بنیاد بنا کر افغان اور بھارتی میڈیا کا بے بنیاد پروپیگنڈا جاری ہے جبکہ پاک فوج نے افغان طالبان رجیم اور فتنۃ الخوارج کی بلااشتعال جارحیت کے ردعمل کے طور پر صرف عسکری تنصیات کو نشانہ بنایا ہے۔آپریشن غضب للحق کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر بھی اپنی پریس بریفنگ میں واضح کر چکے ہیں کہ پاک فوج نے مستند انٹیلی جنس کی بنیاد پر ملٹری اور دہشتگرد اہداف کو نشانہ بنایا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ پاک فوج نے افغان طالبان کے بریگیڈ ہیڈکوارٹر، بٹالین ہیڈکوارٹر، ایمونیشن ڈپو اور لاجسٹک بیسز سمیت چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا۔ افواج پاکستان نے پیشہ وارانہ انداز میں دشمن کے صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا۔ماہرین کے مطابق عالمی ذرائع ابلاغ بھی پاکستان کے عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کے موقف کی تائید بذریعہ تصاویر اور ویڈیوز کر چکے ہیں۔ پاک فوج ایک پیشہ وارانہ فوج ہے جو شفافیت پر یقین رکھتے ہوئے کسی بھی سویلین آبادی کو نشانہ نہیں بناتی۔ماہرین کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کے درمیان فرق ختم ہو چکا ہے۔ شلوار قمیض میں ملبوس سویلین، افغان طالب اور خارجی میں تمیز کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ ایسے میں کس طرح کوئی بھی بین الاقوامی ادارہ اپنی رپورٹ شائع کر سکتا ہے؟ احتمال ہے کہ وہ افغان طالبان کا دعویٰ ہی سچ مان رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق افغان طالبان اس سے پہلے کئی مواقع پر جھوٹا بیانیہ بنانے کے لیے غلط خبریں بھی دے چکے ہیں اس لیے ان کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا، افغان طالبان کے پاس اپنی عوام کو جواب دینے کے لیے کچھ بھی نہیں اس لیے وہ ہمدردی حاصل کرنے کے لیے سویلین نقصان کا بیانیہ بنا رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم اور فتنۃ الخوارج کا ظاہری حلیہ ایک طرح ہونے کی وجہ سے کوئی بھی من گھڑت دعویٰ کیا جا سکتا ہے۔

  • بگرام ایئر بیس پر حملہ، نیویارک ٹائمز نے بھی پاکستان کی بڑی کامیابی کی تصدیق کردی

    بگرام ایئر بیس پر حملہ، نیویارک ٹائمز نے بھی پاکستان کی بڑی کامیابی کی تصدیق کردی

    اسلام آباد:(پاکتان واچ نیوز) پاکستان نے افغان طالبان کی مبینہ جارحیت کے جواب میں زمینی اور فضائی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جبکہ بگرام ایئربیس پر بڑے فضائی حملے کیے ہیں۔رپورٹس کے مطابق پاکستان نے افغانستان کے اہم فوجی مرکز بگرام ایئر بیس کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک ایئرکرافٹ ہینگر اور دو ویئر ہاؤسز تباہ ہو گئے۔ اس حوالے سے سیٹلائٹ تصاویر بھی سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔امریکی جریدے نیویارک ٹائمز نے بھی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان نے بگرام ایئربیس کو کامیابی سے نشانہ بنایا اور افغانستان کی وزارت دفاع نے پاکستانی فضائی حملے کی تصدیق کی ہے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پاکستان نے افغانستان میں 50 سے زائد فضائی حملے کیے ہیں۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بگرام ایئربیس کو نشانہ بنانا افغان طالبان حکومت کے لیے بڑا دھچکا ہے اور اس سے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان ضرورت پڑنے پر افغانستان کے کسی بھی حصے میں کارروائی کر سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے بارہا خبردار کرنے کے باوجود افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کے واقعات جاری رہے، جن میں مبینہ طور پر امریکی چھوڑا گیا اسلحہ بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔

  • علاقائی صوتحال: وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں سیاسی جماعتوں اور ارکان پارلیمان کو بریفنگ

    علاقائی صوتحال: وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں سیاسی جماعتوں اور ارکان پارلیمان کو بریفنگ

    اسلام آباد:(پاکستان واچ نیوز)وزیراعظم محمد شہبازشریف کی زیر صدارت پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں و نمائندگان کا اہم اجلاس ہوا۔
    اجلاس کے شرکا کو پاکستان افغانستان صورتحال، ایران، مشرق و سطی و خلیج میں کشیدگی اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کے حوالے سے ان-کیمرہ بریفنگ دی گئی جب کہ اجلاس میں شریک سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا۔
    شرکا نے موجودہ حالات میں ملی اتحاد، اتفاق و یگانگت کی ضرورت پر زور دیا اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کی جانب سے سفارتی کوششوں کو سراہا۔ا س موقع پر یہی کوششیں مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا اورآئندہ کے لائحہ عمل پر تجاویز پیش کی گئیں۔
    اجلاس کے شرکا نے ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مضبوط عزم کا اعادہ کیا اور پاکستان کے وسیع تر مفاد میں تمام سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے کے وزیرِ اعظم کے اقدام کو سراہا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔
    اجلاس میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی غلام مصطفی شاہ، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، صدر جمیعت علماء اسلام مولانا فضل شریک تھے۔
    علاوہ ازیں اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، عطاء اللہ تارڑ، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، عبدالعلیم خان (استحکام پاکستان پارٹی)، خالد حسین مگسی (بلوچستان عوامی پارٹی)، خالد مقبول صدیقی (متحدہ قومی موومنٹ)، چوہدری سالک حسین (پی ایم ایل ق)، سید مصطفی کمال (متحدہ قومی موومنٹ) بھی موجود تھے۔
    ان کے علاوہ رانا مبشر اقبال، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ خان، معاون خصوصی طلحہ برکی، سینیٹرز شیری رحمن (پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرئینز)، انوار الحق کاکڑ، منظور احمد کاکڑ (بلوچستان عوامی پارٹی)، پرویز رشید (پاکستان مسلم لیگ ن)، حافظ عبدالکریم، فیصل سبزواری (متحدہ قومی موومنٹ)، جان محمد (نیشنل پارٹی)، ارکان قومی اسمبلی سید نوید قمر(پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرئینز)، ڈاکٹر فاروق ستار (متحدہ قومی موومنٹ)، امین الحق (متحدہ قومی موومنٹ)، پولین بلوچ (نیشنل پارٹی) شریک تھے