Blog

  • دنیا کا مہنگا ترین اسکول کس ملک میں ہے؟ ہوشربا اعداد وشمار سامنے آگئے

    دنیا کا مہنگا ترین اسکول کس ملک میں ہے؟ ہوشربا اعداد وشمار سامنے آگئے

    لندن (کنزیومرواچ نیوز)تعلیم روشن مستقبل کا ضمانت ہوتی ہے، دنیا بھر میں کئی خاندانوں کو اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دلانا ایک خواب ہوتا ہے لیکن اسی دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے بچوں کی اسکول کی تعلیم کے لیے کروڑوں خرچ کرتے ہیں اور اسی طرح پاکستان جیسے ممالک میں نجی اسکول معیاری تعلیم کے مراکز ہوتے ہیں لیکن ان اسکولوں کی فیسیں سالانہ بنیاد پر بڑھتی ہیں۔پاکستان میں بھی بڑے اسکولوں کی بھرمار ہے جہاں سالانہ لاکھوں میں فیسیں وصول کی جاتی ہیں جو اکثر شہری برداشت نہیں کرپاتے اور یہی صورت حال دیگر کئی ممالک میں بھی ہے لیکن ایک طرف دنیا میں نجی اسکولوں تک لوگوں کی رسائی زیادہ فیسوں کی وجہ سے محدود ہے وہی دنیا میں ایک ایسا اسکول بھی ہے جو انتہائی مہنگا ہے لیکن دنیا بھر سے بچوں کو تعلیم کے لیے اس اسکول میں بھیج دیا جاتا ہے۔غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق دنیا کا سب سے مہنگا اسکول انسٹی ٹیوٹ لے روزے سوئٹزرلینڈ میں قائم ہے، جہاں دنیا کے 50 سے زائد ممالک سے بچے تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں۔دنیا کے اس مہنگے ترین اسکول میں نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ٹینس، شوٹنگ، گھڑ سواری اور میوزک سمیت دیگر شعبوں میں اعلیٰ معیار کی تربیت دی جاتی ہے، یہی خصوصیات انسٹی ٹیوٹ لے روزے کو دنیا میں منفرد تعلیمی ادارہ بناتی ہیں۔رپورٹ کےمطابق انسٹی ٹیوٹ لے روزے کا قیام 1880 میں ہوا اور اس قدیم اسکول کے بانی کا نام پال کارنال تھا، دنیا کے مہنگے ترین بورڈنگ اسکول کے دو کیمپسز ہیں جو دنیا بھر کے بورڈنگ اسکولوں سے انفرادیت کا حامل ہے۔مذکورہ کیمپسز میں ٹینس کورٹ، شوٹنگ رینج، گھڑ سواری کا مرکز اور کنسرٹ ہال بھی بنایا گیا ہے، جس کی تعمیر تقریباً پاکستانی 12 ارب روپے سے زیادہ لاگت سے ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق اسکول میں پرتعیش سہولیات دستیاب ہیں، جن میں جھیل کنارے واقع محل نماعمارت، اسٹیم اور سوانا رومز، جکوزی، ٹینس کورٹ اور تیراکی کی سہولیات شامل ہیں اور کھانے کے دوران طلبہ کو مخصوص لباس بھی فراہم کیا جاتا ہے۔انسٹی ٹیوٹ لے روزے میں داخل بچوں کی فیس پاکستانی کرنسی میں کروڑوں میں بنتی ہے، میڈیا رپورٹ کے مطابق سالانہ فیس تقریباً ایک لاکھ 33 ہزار امریکی ڈالر ہے۔سوئٹزرلینڈ میں 1880 میں قائم اس اسکول میں صرف 280 بچے زیرتعلیم ہوتے ہیں جو دنیا بھر کے 50 سے زائد ممالک سے منتخب ہوتے ہیں اور دنیا کے اس مہنگے ترین اسکول میں اسپین، مصر، بیلجیم، ایران اور یونان سمیت دیگر ممالک کے بادشاہوں کے بچے داخل ہوتے ہیں۔

  • بانی پی ٹی آئی آج بھی مسکرا رہے تھے، وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کا بیان

    بانی پی ٹی آئی آج بھی مسکرا رہے تھے، وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کا بیان

    لاہور(کنزیومرواچ نیوز)عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی آج بھی مسکرا رہے تھے فیصلے پر بلکل حیران نہیں تھے، بانی نے ہدایت کی کہ ان کے اور اہلیہ کے لیے میں ہائی کورٹ میں اپیل دائر کروں۔راولپنڈی اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ کل رات کو آٹھ بجے تمام لیگل ٹیم کو اطلاع دی گئی کہ کل صبح نو بجے کیسز پر کارروائی ہوگی، ہم توقع ہی نہیں کر رہے تھے، موٹر وے بند ہوتی ہے دھند ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سولہ اکتوبر کو جج صاحب نے کیس کو ایڈجرن کیا، دلائل کےلیے آج کی تاریخ رکھی گئی، دلائل مکمل ہونے تھے نہ کہ فیصلہ سنایا جانا تھا، جج صآحب پہلے چلے گئے سیکورٹی بھی زیادہ تھی لگا کہ کچھ ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ جج صآحب نے غیر قانونی کام کیا، وکلاء کی غیر موجودگی میں فیصلہ سنایا گیا، جج صآحب 59 صفحات پرمبنی فیصلہ لکھ کر لائے ہوئے تھے، لکھا ہوا فیصلہ تمام پیٹرن پر سنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل سے کبھی میرٹ ہر فیصلہ نہیں ہوا، ہمشیہ ہائی کورٹ سے ریلیف ملا، کل رات تک ایک سزا تھی، القادر کی متعدد بار درخواست دی گئیں، ایک سال ہوگیا القادر میں جنوری میں سزا آئی تھی، ایک سال بعد پانچ منٹ کی سماعت نہیں کی گئی۔بشریٰ بی بی کی سماعت نہیں لگ سکی، بانی پی ٹی آئی آج بھی مسکرا رہے تھے بلکل حیران نہیں تھے، جج صآحب نے فیصلہ سنایا اور چلے گئے، دس اے کے تقاضے تو پورے کئے جاتے، قانونی تقاضے پورے نہیں کئے گئے۔بانی نے ہدایت کی ہے کہ ان کے اور اہلیہ کے لیے میں اپیل دائر کروں ہائیکورٹ میں، بانی کو مشکلات میں رکھا گیا ہے، کتابیں ان کے پاس نہیں وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت مشکل سے ملاقات ہو سکی، اندر اتنا پہرہ تھا کہ ملاقات نہیں ہو سک رہی تھی، گفتگو کرنے کے لیے تین منٹ بھی نہیں تھے، لیگل ٹیم اپنا کام جاری رکھے گی، جتنے مقدمات ہوئے سب کو ختم کیا گیا مگر التوا کا شکار ہے، بانی کے حوصلے بلند تھے۔ سرکار توشہ خانہ کا کیس بار بار بنا کر لاتی ہے، توشہ خانہ کا کیس نیب نے چوتھی مرتبہ بنایا، ہماری کبھی دوبارہ سننے کی درخواست لگی ہی نہیں خان صاحب نے پوچھا ہوا کیا ہے بتایا گیا کہ سزا ہوئی ہے، بحث مکمل ہونے سے پہلے فیصلہ لکھا ہوا تھا۔

  • توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید

    توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید

    اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز)توشہ خانہ ٹو کیس میں عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی۔اسپیشل جج سینٹرل ارجمند شاہ نے اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں کیس کا فیصلہ سنایا۔ عدالت کی جانب سے جاری تحریری فیصلے کے مطابق استغاثہ اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا اور دونوں ملزمان جرم کے مرتکب پائے گئے۔
    بانی پی ٹی آئی کو جرم ثابت ہونے پر دفعہ 409 کے تحت 10 سال سزا جبکہ انسداد رشوت ستانی ایکٹ کے تحت 7 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ بشریٰ بی بی کو بھی 17 سال قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔ مجرمان پر فی کس 1 کروڑ 64 لاکھ 25 ہزار 650 روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے جس کی عدم ادائیگی پر مزید 6، 6 ماہ قید کی سزا ہوگی۔
    تحریری فیصلے کے مطابق بانی کی عمر زیادہ ہونے اور بشریٰ بی بی کے خاتون ہونے کا خیال رکھتے ہوئے دونوں کو کم سے کم سزا دی گئی۔ مجرموں کی عرصہ حوالات کو بھی سزا میں شامل کرلیا گیا ہے۔
    واضح رہے کہ 13 جولائی 2024 کو نیب نے توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل میں گرفتار کیا تھا، دونوں 37 دن تک نیب کی تحویل میں رہے، تفتیش مکمل ہونے کے بعد نیب نے 20 اگست کو احتساب عدالت میں کیس کا ریفرنس دائر کیا تھا۔
    ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کا بیان:
    ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ خصوصی عدالت سینٹرل-I، اسلام آباد نے توشہ خانہ-II کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیرِاعظم عمران احمد خان نیازی اور ان کی اہلیہ بشرٰی عمران کو مختلف دفعات کے تحت سزا سنا دی ہے۔
    عدالت نے ملزمان کو دفعہ 409 تعزیراتِ پاکستان کے تحت 10 سال قیدِ سادہ اور دفعہ 5(2) بمعہ دفعہ 47 انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 کے تحت 7 سال قید سادہ کی سزا سنائی، جبکہ دونوں ملزمان پر 16,405,000 روپے فی کس جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ یہ فیصلہ عدالت نے 21 گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد صادر کیا۔مقدمہ کا پس منظر یہ ہے کہ ملزمان نے مملکت سعودی عرب کے سرکاری دورے کے دوران موصول ہونے والا Bvlgari جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہیں کروایا حالانکہ وہ اس کے قانونی طور پر پابند تھے۔تفتیش کے دوران یہ بات ثابت ہوئی کہ ملزمان نے باہمی ملی بھگت اور بدنیتی سے مذکورہ جیولری سیٹ کی انتہائی کم قیمت لگوائی جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو 32.851 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔یہ مقدمہ ایف آئی اے کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جس میں سابق وزیرِاعظم اور ان کی اہلیہ کو خالصتاً دستاویزی شواہد کی بنیاد پر سزا سنائی گئی۔فیصلے کے بعد دونوں ملزمان کو ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے تحویل میں لے کر اڈیالہ جیل منتقل کر دیا تاکہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ایف آئی اے کی جانب سے محمد افضل خان نیازی، ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد اور شمس گوندل، ایس ایچ او ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد خصوصی عدالت میں پیش ہوئے۔ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد بدعنوانی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے اور اس مقدمہ کی کامیاب پیروی پر متعلقہ تفتیشی ٹیم اور افسران کی کارکردگی کو سراہتا ہے۔

  • رجب بٹ کے خلاف توہینِ مذہب کیس میں اہم پیشرفت

    رجب بٹ کے خلاف توہینِ مذہب کیس میں اہم پیشرفت

    اسلام آباد(کنزیومرواچ نیوز)پاکستان کے متنازع یوٹیوبر رجب بٹ کی لندن سے واپسی کے بعد مذہبی بے حرمتی کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔سیشن عدالت وسطی نے شعائر اسلام کی بے حرمتی کرنے کے مقدمے میں یوٹیوبر ملزم رجب بٹ کی عبوری ضمانت منظور کرلی۔کراچی سٹی کورٹ میں سیشن عدالت وسطی کے روبرو شعائر اسلام کی بے حرمتی کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ ملزم رجب بٹ اپنے وکیل میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔ رجب بٹ کی جانب سے عبوری ضمانت کےلیے درخواست دائر کی گئی۔ملزم کے وکیل صفائی اشفاق ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ ملزم کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں۔ یہ سی آر پی سی 196 کی خلاف وزری ہے۔ صوبائی یا وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی شکایت نہیں ہوئی۔ ملزم شامل تفتیش ہوکر تعاون کرے گا۔ ملزم رجب بٹ کی عبوری ضمانت منظور کی جائے۔عدالت نے رجب بٹ کی عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے ملزم کو ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔یاد رہے کہ مقدمے میں ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ رجب بٹ نے اپنے پرفیوم برانڈ کے لانچنگ کے وقت ’مذہبی جذبات کو مجروح‘ کیا اور مبینہ طور پر پاکستان کے توہین مذہب کے قانون کا مذاق اڑایا۔

  • 2025ء اہلِ کراچی کیلیے خوفناک ثابت ہوا،  اعداد و شمار سامنے آگئے

    2025ء اہلِ کراچی کیلیے خوفناک ثابت ہوا، اعداد و شمار سامنے آگئے

    کراچی(کنزیومرواچ نیوز)گزرتا سال 2025ء اہل کراچی کے لیے خوفناک ثابت ہوا ہے، اس حوالے سے پریشان کن اعداد و شمار سامنے آ گئے۔امدادی ادارے چھیپا فاؤنڈیشن کی سالانہ رپورٹ کے مطابق جنوری سے اب تک شہر میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر 89 افراد جان کی بازی ہار گئے جب کہ اسی عرصے میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 830 افراد جاں بحق اور 11 ہزار 837 زخمی ہوئے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ شہریوں کے تشدد کے واقعات میں 14 ڈاکو ہلاک اور 35 شدید زخمی ہوئے۔ فائرنگ کے مختلف واقعات کراچی کے مختلف علاقوں میں پیش آئے جن میں مجموعی طور پر 407 افراد زندگی ہار گئے جب کہ 1632 زخمی ہوئے۔رواں سال مختلف علاقوں سے 21 تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئیں جب کہ 4 بوری بند لاشیں بھی رپورٹ ہوئیں۔ اسی دوران ایک پٹاخہ فیکٹری میں دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد جھلس کر جاں بحق اور 31 زخمی ہوئے۔سالانہ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ چھریوں کے وار سے 43 افراد قتل ہوئے۔ گیس سلنڈر پھٹنے کے واقعات میں 11 افراد جاں بحق اور 40 زخمی ہوئے۔ چھت سے گرنے کے باعث 73 افراد جب کہ چھت گرنے کے واقعات میں 19 افراد جان سے گئے۔اعداد و شمار کے مطابق ٹرین کی ٹکر سے 51 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ مختلف مقامات پر پانی میں ڈوبنے کے واقعات میں 83 افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ شہر میں جھلسنے کے واقعات کے نتیجے میں 21 افراد جاں بحق اور 128 زخمی ہوئے جب کہ کرنٹ لگنے سے 131 افراد کی موت واقع ہوئی۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مین ہول میں گر کر 13 افراد جاں بحق ہوئے۔ رواں سال خودکشی کے 119 واقعات رپورٹ ہوئے جب کہ 33 نوزائیدہ بچوں کی لاشیں بھی مختلف مقامات سے ملیں۔اسی طرح منشیات کے زیادہ استعمال کے نتیجے میں 381 مردوں اور 5 خواتین کی لاشیں ملی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر لاشیں لاوارث تھیں۔

  • اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھارت  کاجھوٹ بے نقاب

    اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھارت کاجھوٹ بے نقاب

    نیویارک (کنزیومرواچ نیو)اقوامِ متحدہ کے خصوصی ماہرین نے پاک بھارت کشیدگی اور مئی 2025 میں ہونے والی فوجی کارروائیوں پر ایک تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں بھارت کے یکطرفہ اقدامات پر سنگین قانونی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے پہلگام حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس کے ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دینے پر زور دیا ہے۔رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان نے اس حملے میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی اور غیر جانبدار، شفاف اور بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔خصوصی ماہرین کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 7 مئی 2025 کو بھارت نے “آپریشن سندور” کے تحت پاکستان کی حدود میں فوجی طاقت استعمال کی، جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے منافی قرار دیا گیا۔رپورٹ کے مطابق بھارت نے اقوامِ متحدہ چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت سلامتی کونسل کو بروقت اطلاع نہیں دی، جو طے شدہ عالمی طریقۂ کار کی خلاف ورزی ہے۔معرکہ حق میں جگ ہنسائی کے باوجود بھارت نے آپریشن سندور ٹو کی تیاری شروع کردی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بھارتی حملوں کے دوران شہری علاقے متاثر ہوئے، مساجد کو نقصان پہنچا اور متعدد شہری ہلاک و زخمی ہوئے۔ اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے مطابق دہشت گردی کے نام پر یکطرفہ فوجی کارروائی کا کوئی الگ یا خودکار حق بین الاقوامی قانون میں تسلیم شدہ نہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بھارت پہلگام حملے میں پاکستان کی ریاستی سطح پر شمولیت کے کوئی قابلِ اعتبار شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔ ماہرین کے مطابق اگر طاقت کا استعمال غیر قانونی ہو تو یہ بنیادی انسانی حقِ زندگی کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات خطے میں بڑے فوجی تصادم کا خطرہ پیدا کر سکتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر بھارتی کارروائی کو “مسلح حملہ” تصور کیا جائے تو بین الاقوامی قانون کے تحت پاکستان کو دفاع کا حق حاصل ہوگا۔ماہرین نے بھارتی اقدامات کو پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور عدم مداخلت کے عالمی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

  • 9مئی؛ یاسمین راشد سمیت دیگر کو 10، 10 سال قید کی سزا

    9مئی؛ یاسمین راشد سمیت دیگر کو 10، 10 سال قید کی سزا

    لاہور:(کنزیومرواچ نیوز)انسداد دہشت گردی عدالت نے سانحہ نو مئی کلب چوک جی او آر کے گیٹ پر حملہ کے مقدمے میں پی ٹی آئی کی ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، سرفراز چیمہ اور محمود الرشید کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی۔انسداد دہشتگردی عدالت کے جج منظر علی گل نے کوٹ لکھپت جیل میں فیصلہ سنایا۔ عدالت نے 18 دسمبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔مقدمہ کے 25 ملزمان کا چالان جمع کروایا گیا تھا اور 4 ملزمان دوران ٹرائل اشتہاری ہوگئے، مقدمے میں مجموعی طور پر 56 گواہان کی شہادت ریکارڈ ہوئی۔تھانہ ریس کورس نے کلب چوک جی او آر گیٹ پر حملے کا مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزمان نے کلب چوک جی او آر گیٹ کے سیکیورٹی کیمرے توڑے، ملزمان نے پولیس کی وائر لیس اور جی او آر گیٹ کے شیشے بھی توڑے۔ ملزمان نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا اور پولیس اہکاروں پر حملہ کیا جبکہ پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر کی زیر قیادت ہجوم نے حملہ کیا۔کیس کے ملزمان میں ڈاکٹر یاسمین راشد، شاہ محمود قریشی، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید شامل ہیں۔پی ٹی آئی رہنماؤں پر کارکنان کو نو مئی بغاوت اور فسادات پر اکسانے کا الزام ہے۔

  • ناکامی  انسان کی سب سے بڑی معلم  ہے۔ سعدیہ راشد

    ناکامی انسان کی سب سے بڑی معلم ہے۔ سعدیہ راشد

    کراچی (کنزیومرواچ نیوز)ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد نےکہا کہ ناکامی دراصل انسان کی سب سے بڑی معلم ہوتی ہے۔ بعض اوقات ہم پوری محنت اور اخلاص کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پاتے، جس سے دل بوجھل ہو جاتا ہے، مگر یہی لمحے ہمیں مضبوط بناتے ہیں۔انہوں نے یہ بات 18 دسمبر 2025 کو ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کے زیرِ اہتمام ہمدرد نونہال اسمبلی کے اجلاس بیت الحکمہ آڈیٹوریم، مدینۃ الحکمہ میں اسمبلی کے موضوع،“ناکامی افتاد نہیں، استاد ہے” پر نونہالوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔انہوں نے کہا کہ ناکامی نہ دشمن ہے نہ ٹھوکر بلکہ ایک آئینہ ہے جو ہماری کمزوریوں اور پوشیدہ صلاحیتوں کو واضح کرتا ہے۔ جو بچے اور نوجوان ناکامی سے سبق سیکھ لیتے ہیں، وہی مستقبل میں کامیابی کے دروازے کھولتے ہیں۔ انہوں نے حکیم محمد سعیدؒ کی زندگی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ محدود وسائل اور مشکلات کے باوجود ان کی مستقل جدوجہد نے ہمدرد فاؤنڈیشن اور ہمدرد یونیورسٹی جیسے عظیم اداروں کو جنم دیا۔ انہوں نے نونہالوں کو نصیحت کی کہ کامیابی اکثر پہلی کوشش میں نہیں ملتی بلکہ بار بار کی گئی کوششیں ہی انسان کو منزل تک پہنچاتی ہیں۔
    اس موقع پر مہمانِ خصوصی ممتاز ماہرِ تعلیم محترمہ فاطمہ عبید نے اپنے خطاب میں والدین اور اساتذہ کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب کوئی بچہ ناکام ہو تو اسے ڈانٹنے کے بجائے حوصلہ دینا، گلے لگانا اور اس کا ساتھ دینا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے ریفلیکٹو پریکٹس (خود احتسابی) کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اپنی غلطیوں پر سوال اٹھانا، ان کا تجزیہ کرنا اور خود پر تنقیدی نظر ڈالنا ہی کامیابی کی بنیاد بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی انسان کامل نہیں، غلطیاں کرنا ناکامی نہیں بلکہ ان سے سیکھنا اصل کامیابی ہے۔
    قبل ازاں قائدِ ایوان عائشہ فواد نےہمدرد نونہال اسمبلی کے موضوع “ناکامی افتاد نہیں، استاد ہے” پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات سو فیصد درست ہے کہ شاہراہِ حیات کبھی سیدھی اور ہموار نہیں ہوتی۔ زندگی کا سفر نشیب و فراز سے گزرتا ہے، جس میں آسائشوں کی مٹھاس بھی شامل ہے اور مشکلات کی تلخیاں بھی، کامیابیاں بھی آتی ہیں اور ناکامیاں بھی، مگر اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان اپنی ناکامیوں سے مایوس ہوئے بغیر آگے بڑھتا رہے۔انہوں نے کہا کہ اگر انسان ناکامی کو اپنی کامیابی کا پہلا زینہ سمجھ لے تو بالآخر وہ کامیابی کی اعلیٰ منزل تک پہنچ جاتا ہے۔ انہوں نے شاعرِ مشرق غالبؔ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
    “مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہو گئیں”
    یہی زندگی کا اصل فلسفہ ہے۔
    انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب ایک بچہ پہلی بار چلنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ کئی مرتبہ گرتا ہے، مگر گرتے گرتے آخرکار سنبھلنا اور چلنا سیکھ ہی لیتا ہے۔ اگر وہ گرنے کے خوف سے کوشش ہی ترک کر دے تو کبھی چلنا نہیں سیکھ سکتا۔ یہی اصول زندگی کے ہر شعبے میں لاگو ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کامیابی اور ناکامی کا دار و مدار کوشش پر ہے، اگر ناکامی کے بعد ہار نہ مانی جائے تو انجامِ کار ناکامی خود ہار مان لیتی ہے اور انسان کامیاب ہو جاتا ہے۔
    قائد حزبِ اختلاف جائشہ احمر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ناکامی زندگی کا ایک اہم تجربہ ہے جو ہمیں آئندہ غلطیوں سے بچنے کا سبق دیتا ہے۔ انہوں نے والدین اور اساتذہ پر زور دیا کہ وہ بچوں کو ناکامی کی صورت میں مایوس کرنے کے بجائے حوصلہ دیں اور یہ سمجھائیں کہ ناکام ہونا کوئی جرم نہیں بلکہ اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنے کا اشارہ ہے۔ انہوں نے قرآنِ پاک کی آیت “بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ درس بچوں کو بچپن سے دیا جانا چاہیے۔
    تقریب میں نونہال مقررین مریم فاطمہ، عائشہ فواد اور دیگر طلبہ نے بھی موضوع پر پُراثر تقاریر کیں۔ اجلاس کا آغاز محمد یعقوب ملک کی تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا جبکہ نعتِ رسولِ مقبول ﷺ بھی پیش کی گئی۔ اختتام پر طلبہ نے ٹیبلوز، خاکے، ملی نغمے پیش کیے اور ہمدرد پبلک اسکول کے طلبہ نے دعائے سعید پیش کی۔تقریب میں طلبہ، اساتذہ، والدین اور معزز مہمانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

  • لانس نائیک محمد محفوظ شہید (نشان حیدر) کا54واں یوم شہادت،  شاندار خراج عقیدت

    لانس نائیک محمد محفوظ شہید (نشان حیدر) کا54واں یوم شہادت، شاندار خراج عقیدت

    راولپنڈی:(کنزیومرواچ نیوز)آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، ایئر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے نشان حیدر کے حامل لانس نائیک محمد محفوظ شہید کی 54ویں یومِ شہادت کے موقع پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔
    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا کہ لانس نائیک محمد محفوظ شہید بہادری، قربانی اور مادرِ وطن سے بے لوث عقیدت کی عظیم مثال ہیں۔
    1971 کی جنگ کے دوران واہگہ سیکٹر پر انہوں نے دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کیا۔
    شدید زخموں اور مسلسل دشمن کی فائرنگ کے باوجود وہ بے خوف ہو کر آگے بڑھے اور جامِ شہادت نوش کیا۔
    بیان میں کہا گیا کہ جنگ میں لانس نائیک محمد محفوظ شہید کی بہادری پاکستان کی مسلح افواج کی تاریخ کے روشن ترین بابوں میں سے ایک ہے۔
    ان کی اعلیٰ قربانی ناقابلِ تسخیر جذبے، پیشہ ورانہ مہارت اور بے لوثی کی عکاس ہے، جو مسلح افواج اور قوم کے درمیان اس مقدس رشتے کو مزید مضبوط کرتی ہے جس کے دفاع کے لیے سپاہی حلف اٹھاتے ہیں۔
    آئی ایس پی آر کے مطابق شہید کی برسی پر مسلح افواج نے ملک کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا اور اس عہد کی تجدید کی کہ قوم کے ہیروز کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی۔
    بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ لانس نائیک محمد محفوظ شہید کی وراثت ہمیشہ قوم کی اجتماعی یادداشتوں میں نقش رہے گی اور آنے والی نسلوں کے لیے حوصلہ، عزم اور قربانی کی روشن مثال بنی رہے گی۔
    خصوصی قرآن خوانی کا اہتمام
    محمد محفوظ شہید کے یومِ شہادت کے موقع پر دن کا آغاز مساجد میں قرآن خوانی سے کیا گیا۔ علماء کرام نے شہید کے بلند درجات اور مغفرت کیلئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا۔
    علماء کرام کا کہنا تھا کہ شہداء کی لازوال قربانیوں کی بدولت ہی پاکستان آج قائم و دائم ہے۔ علماء نے وطن پر جان نچھاور کرنے والے پاک فوج کے جوانوں کو عزت اور تکریم کا حقیقی حقدار قرار دیا۔
    علماء کرام نے کہا کہ شہداء کا مقدس لہو پوری قوم پر قرض ہے۔ زندہ اور باشعور قومیں اپنے محسنوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں، علماء کرام۔ علماء کرام نے واضح کیا کہ جو قومیں اپنے شہداء کی تکریم نہیں کرتیں وہ رسوائی کا شکار ہو جاتی ہیں۔
    علماء نے کہا کہ لانس نائیک محمد محفوظ شہید دھرتی کے دلیر سپوت تھے جو قوم کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے، شہداء کی قربانیاں ملکی استحکام، وقار اور قومی عظمت کی علامت کے ساتھ ساتھ پوری قوم کا فخر ہیں۔
    وزیر اعظم کا بیان
    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ لانس نائک محمد محفوظ شہید نے 1971 میں واہگہ اٹاری سیکٹر میں دشمن کی پیش قدمی کو تاریخی اور مثالی دلیری سے مقابلہ کرتے ہوئے مادر وطن کے تحفظ کو تاریخ میں امر کر دیا۔
    صدر کا بیان
    صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ لانس نائیک محمد محفوظ شہید بہادری، قربانی اور وطن سے غیر متزلزل وفاداری کی روشن علامت ہیں۔

  • 10 مہینوں میں 8 جنگیں رکوائیں،  امریکی  صدرٹرمپ

    10 مہینوں میں 8 جنگیں رکوائیں، امریکی صدرٹرمپ

    واشنگٹن:(کنزیومرواچ نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بائیڈن دور کی پالیسیاں دوبارہ نافذ نہیں ہونے دی جائیں گی اور امریکا میں غیر قانونی آمد و رفت کا سلسلہ مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ غیر قانونی تارکین وطن کو کسی صورت امریکا میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ انہیں کرپشن کے خاتمے کے لیے عوامی مینڈیٹ ملا اور ایک سال میں انہوں نے وہ کامیابیاں حاصل کیں جو کوئی اور حاصل نہ کر سکا۔امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ان کے دور میں امریکا بدترین حالات سے نکل کر بہترین مقام پر پہنچا، امریکی شہریوں کی تنخواہوں میں اضافہ ہوا جبکہ کھانے پینے اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں نمایاں کمی ہوئی ہے اور امریکا کے پاس دنیا کی طاقتور ترین فوج موجود ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق منشیات کی اسمگلنگ کو زمین اور سمندر کے راستوں سے 94 فیصد تک کم کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کئی بڑے اقدامات ٹیرف پالیسی کی بدولت ممکن ہوئے، جس سے ملکی معیشت کو بہتر بنایا گیا اور امریکا میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ممکن بنائی گئی۔صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے 10 مہینوں میں 8 جنگیں رکوائیں، ایران کے جوہری خطرے کو تباہ کیا اور غزہ کی جنگ ختم کر کے تین ہزار سال میں پہلی بار امن قائم کیا۔انہوں نے کہا کہ زندہ یا ہلاک یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنایا گیا اور تمام کو وطن واپس لایا گیا۔خطاب کے اختتام پر امریکی صدر نے کہا کہ امریکا کو نئی قانون سازی نہیں بلکہ ایک مضبوط اور فیصلہ کن صدر کی ضرورت تھی، جو انہوں نے ثابت کر کے دکھا دیا ہے۔