Blog

  • افریقہ میں جے ایف۔17 تھنڈر کی بڑھتی ہوئی مانگ’….. شیخ راشد عالم

    افریقہ میں جے ایف۔17 تھنڈر کی بڑھتی ہوئی مانگ’….. شیخ راشد عالم

    دنیا کی بدلتی ہوئی عسکری سیاست میں وہ ممالک تیزی سے نمایاں ہو رہے ہیں جو کم لاگت میں زیادہ کارکردگی دینے والے ہتھیار تیار کر رہے ہیں۔ پاکستان کا جے ایف-17 تھنڈر اسی رجحان کی سب سے کامیاب مثال بنتا جا رہا ہے۔ حیران کن طور پر یہ طیارہ صرف جنوبی ایشیا یا مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہا، بلکہ اب افریقہ کے ممالک میں اس کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس بڑھتی ہوئی دلچسپی کے پیچھے محض کم قیمت نہیں، بلکہ وہ حقیقت ہے کہ افریقی ایئر فورسز جدید مگر قابلِ برداشت ٹیکنالوجی کی تلاش میں ہیں، اور جے ایف-17 ان کی ضرورت پوری کرنے کی حقیقی صلاحیت رکھتا ہے۔

    براعظم افریقہ کی عسکری ضروریات باقی خطوں سے مختلف ہیں۔ یہاں متعدد ممالک داخلی تنازعات، سرحدی کشیدگی اور دہشت گرد گروہوں کے خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔ ان حالات میں جدید فائٹر جیٹ کی ضرورت تو بہرحال رہتی ہے مگر محدودبجٹ ان کے فیصلوں پر سخت اثر ڈالتا ہے۔ مغربی ممالک کے جدید لڑاکا طیارے عملی طور پر ان کے خریداروں کی پہنچ سے باہر ہوتے ہیں۔ ایف-16 ہو یا رافال، غِریب ملکوں کے لیے ان کا حصول تو دور کی بات، ان کا سالانہ آپریشنل خرچ بھی دیوالیہ کر سکتا ہے۔ ایسے میں جے ایف-17 تھنڈر افریقی ممالک کی فضائیہ کی پہلی ترجیح بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

    جے ایف-17 کی سب سے بڑی خوبی اس کی “کاسٹ ایفیشینسی” ہے۔ یعنی ایک ایسے دور میں جب جدید طیاروں کی قیمتیں اربوں ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، پاکستان کا تیار کردہ یہ فائٹر جیٹ کم بجٹ میں نہ صرف خریدے جا سکتے ہیں بلکہ اس کے اسپیئر پارٹس اور اپ گریڈ کی لاگت بھی قابلِ برداشت ہے۔ کئی افریقی ممالک کے لیے یہ اہم نکتہ ہے کیونکہ ان کا دفاعی بجٹ بیک وقت زمینی، بحری اور فضائی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتا۔ جے ایف-17 ان کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا وہ دروازہ کھول رہا ہے جو پہلے صرف دولت مند ممالک کے لیے مخصوص سمجھا جاتا تھا۔

    افریقہ میں اس طیارے کی کامیابی کا آغاز نائیجیریا سے ہوا، جس نے جے ایف-17 بلاک ٹو طیارے خرید کر پاکستانی دفاعی صنعت پر اعتماد کا اظہار کیا۔ یہ فیصلہ صرف خریداری نہیں تھا بلکہ خطے میں ایک سیکیورٹی میسج بھی تھا کہ نائیجیریا اپنی فضائی قوت کو جدید خطوط پر استوار کرنا چاہتا ہے۔ نائیجیریا کے بعد زمبابوے اور آذربائیجان جیسے ممالک نے دلچسپی دکھائی، جبکہ کئی دوسرے افریقی ممالک نے پاکستان سے تکنیکی بریفنگ اور مشترکہ تعاون کے امکانات پر بات چیت کی ہے۔

    یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان صرف طیارہ فروخت نہیں کرتا بلکہ اس کے ساتھ پائلٹس کی تربیت، تکنیکی معاونت، اور مستقبل میں اپ گریڈیشن کے راستے بھی فراہم کرتا ہے۔ یہ وہ پیکیج ہے جو مغربی ممالک بہت کم فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان کی دفاعی ڈپلومیسی کا یہ پہلو اس کی اصل طاقت بنتا جا رہا ہے۔ اس تعاون سے نہ صرف پاکستان کا امیج مضبوط ہو رہا ہے بلکہ دفاعی صنعت میں بیرونی سرمایہ اور نئے معاہدوں کے امکانات بھی روشن ہو رہے ہیں۔

    جے ایف-17 کی مضبوط شہرت کی ایک اور وجہ اس کی جدید ٹیکنالوجی ہے۔ بلاک تھری ورژن میں AESA ریڈار، جدید میزائل سسٹمز اور بہتر اسٹیلتھ خصوصیات شامل ہیں۔ یہ وہ فیچرز ہیں جو کسی بھی فضائیہ کی طاقت میں حقیقی اضافہ کرتے ہیں۔ جن ممالک نے ماضی میں قدیم روسی یا چینی طیاروں پر انحصار کیا، ان کے لیے جے ایف-17 جدید دور میں قدم رکھنے کا بہترین ذریعہ بن چکا ہے۔

    افریقہ کی فضائیہ کو یہ بھی معلوم ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں بڑی طاقتیں اپنے ہتھیار فروخت تو کرتی ہیں مگر اس کے ساتھ بے شمار شرائط اور پابندیاں بھی منسلک ہوتی ہیں۔ پاکستان کے ساتھ معاملہ سادہ، دوطرفہ اور برابری کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ نہ کوئی سیاسی دباؤ، نہ کوئی غیر ضروری شرط۔ اسی لیے افریقی حکومتیں پاکستانی مصنوعات پر زیادہ اعتماد دکھا رہی ہیں۔

    پاکستان کے لیے یہ صورتحال نہ صرف معاشی فائدے کا باعث ہے بلکہ اسے عالمی اسلحہ مارکیٹ میں ایک نمایاں مقام بھی دلوا رہی ہے۔ دفاعی صنعت کسی بھی ملک کی ٹیکنالوجیکل برتری، انجنئیرنگ کی صلاحیت اور بین الاقوامی اعتماد کی عکاس ہوتی ہے۔ اگر پاکستان آنے والے برسوں میں جے ایف-17 بلاک تھری کی پیداواری صلاحیت بڑھا لیتا ہے تو یہ صرف افریقہ نہیں، بلکہ پوری ایشین اور لاطینی امریکی مارکیٹ میں بھی اپنا حصہ مزید بڑھا سکتا ہے۔

    افریقہ میں جے ایف-17 کی مانگ بڑھنے سے پاکستان کے لیے ایک نیا چیلنج بھی کھڑا ہو رہا ہے دنیا بھر میں تکنیکی دوڑ تیز ہے اور ہر سال نئے سسٹم سامنے آ رہے ہیں۔ اگر پاکستان نے اس دوڑ میں اپنا مقام مستحکم رکھنا ہے تو اسے تحقیق اور جدت پر زیادہ سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ جے ایف-17 کی کامیابی کو بنیاد بنا کر پاکستان اگلے مرحلے کے لیے “جے ایف-17 بلاک فور” یا اس سے بھی جدیدطیارے کی تیاری کا سوچ سکتا ہے۔

    آخر میں، افریقہ میں جے ایف-17 کی بڑھتی ہوئی مانگ یہ طے کر رہی ہے کہ پاکستان اب صرف دفاعی خریدار نہیں، بلکہ عالمی اسلحہ مارکیٹ کا ایک سنجیدہ سپلائر بھی ہے۔ یہ قومی معیشت کے لیے خوشخبری ہے، دفاعی صنعت کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے اور ملکی سفارتکاری کے لیے ایک بڑی کامیابی۔ آنے والے برسوں میں بلاشبہ جے ایف-17 پاکستان کا وہ سفیر بن سکتا ہے جو دنیا بھر میں ہماری تکنیکی صلاحیت اور پیشہ ورانہ مہارت کا پیغام لے کر جائے۔

  • امریکا میں ماریجوانا کی تاریخ، معاشرتی قبولیت اور صدر ٹرمپ کا کردار …. حمیرا گل تشنہ

    امریکا میں ماریجوانا کی تاریخ، معاشرتی قبولیت اور صدر ٹرمپ کا کردار …. حمیرا گل تشنہ

    ماریجوانا (گانجہ) امریکا میں ایک متنازعہ اور پیچیدہ موضوع رہا ہے جس کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔ یہ پودا نہ صرف طبی، معاشی اور معاشرتی حلقوں میں زیر بحث رہا بلکہ قانونی نظام کی ترقی پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
    ماریجوانا امریکا میں کولمبس سے پہلے کے زمانے سے موجود رہا ہے۔ قدیم مقامی امریکی قبائل نے اسے روحانی اور طبی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ تاہم، جدید امریکی تاریخ میں اس کی کہانی 16ویں صدی میں شروع ہوتی ہے جب یورپی مہاجرین ہیمپ (بھنگ) کی کاشت لائے، جو ماریجوانا ہی کی ایک قسم ہے، جسے رسیاں، کپڑے اور کاغذ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
    19ویں صدی میں، ماریجوانا کو عام طور پر ادویات کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا اور یہ فارمیسیوں میں دستیاب تھا۔ اسے درد، بے خوابی اور متلی جیسی بیماریوں کے علاج کے لیے تجویز کیا جاتا تھا۔ 20ویں صدی کے آغاز تک، ماریجوانا کا استعمال نسبتاً غیر متنازعہ تھا۔
    صورت حال 1910 سے 1930 کے درمیان بدلی، جب میکسیکو سے ہونے والی بڑی پیمانے پر ہجرت کے نتیجے میں امریکی معاشرے میں “ریکر میری جین” کا تعارف ہوا۔ اس وقت نسل پرستانہ تعصبات نے ماریجوانا کے خلاف مہم کو ہوا دی، جسے میکسیکن تارکین وطن اور افریقی امریکی کمیونٹیز سے جوڑ کر دیکھا جاتا تھا۔
    1937 میں “ماریجوانا ٹیکس ایکٹ” نے پہلی بار وفاقی سطح پر ماریجوانا کو غیر قانونی قرار دیا۔ اس قانون سازی کے پیچھے ہیری اینسلنگر، فیڈرل بیورو آف نارکوٹکس کے سربراہ، کی مہم تھی جنہوں نے ماریجوانا کو تشدد اور جنون سے جوڑنے والی پروپیگنڈا مہم چلائی۔ اس کے بعد 1970 میں “کنٹرولڈ سبسٹینس ایکٹ” آیا، جس نے ماریجوانا کو شیڈول I ڈرگ کے طور پر درجہ بندی کیا، جو ہیروئن کے برابر خطرناک سمجھا گیا، حالانکہ اس کی طبی افادیت کے شواہد موجود تھے۔
    1970 کی دہائی میں صدر رچرڈ نکسون نے “منشیات کے خلاف جنگ” کا اعلان کیا، جس نے ماریجوانا کے خلاف سخت اقدامات کو مزید تقویت دی۔ اس پالیسی نے نہ صرف ماریجوانا کے استعمال کو جرم قرار دیا بلکہ اس کے نتیجے میں لاکھوں افراد خصوصاً اقلیتی گروہوں کو گرفتار کیا گیا۔ 1980 کی دہائی میں صدر رونالڈ ریگن کے دور میں اس جنگ میں اور شدت آئی، جس میں ماندیل کے کم از کم سزائیں قوانین متعارف کرائے گئے، جن کے تحت ماریجوانا کے استعمال پر طویل قید کی سزائیں دی جانے لگیں۔
    تاہم، 1990 کی دہائی میں معاشرتی رویوں میں تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ کیلیفورنیا نے 1996 میں پہلی بار طبی مقاصد کے لیے ماریجوانا کے استعمال کو قانونی قرار دیا۔ یہ فیصلہ ایڈز اور کینسر کے مریضوں کی تکالیف کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ تھا۔ اس کے بعد دیگر ریاستیں بھی اس راستے پر چل پڑیں۔
    21ویں صدی میں ماریجوانا کے حوالے سے امریکی عوامی رائے میں ڈرامائی تبدیلی آئی۔ 2012 میں کولوراڈو اور واشنگٹن نے تفریحی مقاصد کے لیے ماریجوانا کو قانونی قرار دینے والی پہلی ریاستیں بنیں۔ اس کے بعد سے، متعدد دیگر ریاستوں نے بھی اسی راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا۔
    آج، 37 ریاستوں نے کسی نہ کسی شکل میں طبی ماریجوانا کو قانونی قرار دے دیا ہے، جبکہ 18 ریاستوں نے تفریحی استعمال کے لیے اسے قانونی بنا دیا ہے۔ اس تبدیلی کے پیچھے معاشی، سماجی اور طبی عوامل کارفرما ہیں:
    معاشی فوائد: ماریجوانا کی قانونی صنعت نے ہزاروں نوکریاں پیدا کی ہیں اور ریاستی حکومتوں کو ٹیکس ریونیو میں اربوں ڈالر کا اضافہ کیا ہے۔
    طبی فوائد: متعدد مطالعات نے ماریجوانا کے طبی فوائد کو ثابت کیا ہے، خاص طور پر درد، متلی، مرگی اور پی ٹی ایس ڈی جیسے حالات کے علاج میں۔
    نسلی انصاف: ماریجوانا کے خلاف جنگ کے نتیجے میں غیر متناسب طور پر اقلیتی آبادی متاثر ہوئی، اور قانونی کاری اس عدم مساوات کو دور کرنے کا ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔
    عوامی رائے میں تبدیلی: گیلپ پول کے مطابق، 2021 میں 68% امریکیوں نے ماریجوانا کی مکمل قانونی کاری کی حمایت کی، جو 1969 میں محض 12% تھی۔
    سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماریجوانا کے معاملے پر ایک متنازعہ اور بعض اوقات متضاد موقف اختیار کیا۔ 2016 کے انتخابی مہم کے دوران، ٹرمپ نے کہا تھا کہ ماریجوانا کو قانونی بنانے کا فیصلہ ریاستوں پر چھوڑ دینا چاہیے۔ انہوں نے طبی ماریجوانا کی حمایت کا اظہار کیا لیکن تفریحی استعمال کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا۔
    پہلا، جیف سیشنز کا تقرر: ٹرمپ نے جیف سیشنز کو اٹارنی جنرل مقرر کیا، جو ماریجوانا کے سخت خلاف تھے۔ سیشنز نے اوباما دور کی “کول میمو” کو ختم کر دیا، جس نے وفاقی سطح پر ان ریاستوں میں ماریجوانا کے خلاف کارروائی سے گریز کیا تھا جہاں یہ قانونی تھا۔
    FIRST STEP ادوسرا، ایکٹ: 2018 میں، ٹرمپ نے اس قانون پر دستخط کیے جس نے ماریجوانا سے متعلقہ بعض جرائم کی سزاؤں میں کمی کی راہ ہموار کی۔ یہ اقدام دو جماعتی حمایت کا حامل تھا۔
    تیسرا، تحقیقی زرعی بل 2018: ٹرمپ نے ہیمپ (بھنگ) کو کنٹرولڈ سبسٹینس ایکٹ کی فہرست سے ہٹانے والے بل پر دستخط کیے، جس سے اس کی کاشت اور تحقیق کو قانونی حیثیت مل گئی۔
    ٹرمپ نے اکثر کہا کہ وہ ریاستوں کو یہ حق دینے کے حق میں ہیں کہ وہ اپنی ماریجوانا پالیسیاں خود طے کریں، لیکن انہوں نے وفاقی سطح پر مکمل قانونی کاری کی حمایت نہیں کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس معاملے پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے، خاص طور پر نوجوانوں پر اس کے اثرات کے حوالے سے۔
    موجودہ دور میں ماریجوانا کا معاملہ امریکی سیاست میں اہم مقام رکھتا ہے۔ صدر جو بائیڈن نے ماریجوانا سے متعلقہ سزاؤں میں نرمی، ریاستی حقوق کا احترام اور ممکنہ طور پر وفاقی سطح پر قانونی کاری کے وعدے کیے تھے۔
    وفاقی اور ریاستی قوانین کے درمیان تضاد ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ریاستی سطح پر قانونی ہونے کے باوجود، وفاقی قانون کے تحت ماریجوانا اب بھی غیر قانونی ہے، جس کے نتیجے میں بینکاری، تحقیقات اور بین ریاستی تجارت میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
    پہلا، وفاقی سطح پر قانونی کاری: کانگریس کے ذریعے ماریجوانا کو کنٹرولڈ سبسٹینس ایکٹ کی فہرست سے ہٹایا جا سکتا ہے۔
    دوسرا، ریاستی حقوق کا تحفظ: ریاستوں کو مکمل اختیار دیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے قوانین خود بنائیں۔
    تیسرا، حالتِ موجودہ کا تسلسل: وفاقی اور ریاستی قوانین کے درمیان تضاد برقرار رہ سکتا ہے۔
    امریکا میں ماریجوانا کی تاریخ معاشرتی رویوں، سیاسی رجحانات اور قانونی نظام کے باہمی تعامل کی عکاس ہے۔ ابتدائی قبولیت سے لے کر سخت ممنوعیت اور پھر آہستہ آہستہ قانونی کاری کی طرف سفر نے امریکی جمہوریت کی لچک اور تبدیلی کی صلاحیت کو ظاہر کیا ہے۔
    سابق صدر ٹرمپ کا کردار اس سلسلے میں اہم رہا ہے، جنہوں نے ریاستی حقوق کے اصول کو تقویت دی لیکن وفاقی سطح پر قانونی کاری کی طرف واضح قدم نہیں اٹھایا۔ ان کی پالیسیوں نے ماریجوانا کی صنعت کو ترقی دینے میں مدد کی، لیکن وفاقی قانون میں بنیادی تبدیلیوں سے گریز کیا گیا۔
    لیکن اب 2025 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر کے وفاقی سطح پر ماریجوانا کی ازسرنہ درجہ بندی کے عمل میں تیزی لانے کا حکم دیا ہے، جو کینابیس صنعت کی جانب سے شدید لابنگ کے بعد عمل میں لایا گیا ہے۔ یہ اقدام وفاقی قانون میں ماریجوانا کی موجودہ درجہ بندی میں تاریخی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
    ٹرمپ کا یہ ایگزیکٹو آرڈر منشیات کے خلاف جنگ کی پالیسیوں میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس حکم نامے کے تحت:
    1) ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن (DEA) کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کنٹرولڈ سبسٹینسز ایکٹ کے تحت ماریجوانا کی موجودہ درجہ بندی (شیڈول I منشیات) پر ازسرنہ غور کرے۔
    2) صحت اور انسانی خدمات کے محکمے (HHS) اور عدلیہ کے محکمے کو عمل میں تیزی لانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
    3) 90 دن کے اندر تجاویز پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جو عام طور پر سالوں تک جاری رہنے والے عمل کو تیز کرنے کی ایک کوشش ہے۔
    ٹرمپ کا یہ فیصلہ ماریجوانا کے حوالے سے امریکی پالیسی میں ایک اہم موڑ ہے۔ اگرچہ یہ مکمل وفاقی قانونی کاری نہیں ہے، لیکن یہ درجہ بندی میں تبدیلی لاکھوں امریکیوں کے لیے جو قانونی طور پر ماریجوانا استعمال کر رہے ہیں اور اربوں ڈالر کی صنعت کے لیے اہم اثرات رکھتی ہے۔
    ماریجوانا کی قانونی کاری کا سفر صرف ایک پودے کے حوالے سے نہیں، بلکہ سماجی انصاف، معاشی ترقی، طبی تحقیق اور فرد کی آزادی کے بارے میں وسیع تر سوالات سے متعلق ہے۔ جیسے جیسے مزید ریاستیں ماریجوانا کو قانونی شکل دیتی جائیں گی، وفاقی سطح پر اصلاحات کا دباؤ بڑھتا جائے گا۔ امریکا میں ماریجوانا کی کہانی ایک ایسی قوم کی کہانی ہے جو اپنے ماضی کے فیصلوں پر نظرثانی کر رہی ہے اور نئے سماجی معاہدے کی تشکیل کی کوشش کر رہی ہے۔

  • کےاو ایچ سی کنسورشیم کا پی آئی اے کی نجکاری میں اہم قدم، بولی کے عمل کا باضابطہ آغاز

    کےاو ایچ سی کنسورشیم کا پی آئی اے کی نجکاری میں اہم قدم، بولی کے عمل کا باضابطہ آغاز

    اسلام آباد(کنزیومرواچ نیوز)کوهاٹ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ (KCCL) نے لکی سیمنٹ لمیٹڈ، حب پاور ہولڈنگز لمیٹڈ اور میٹرو وینچرز (پرائیویٹ) لمیٹڈ پر مشتمل کنسورشیم کے ساتھ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (PIACL) کی نجکاری کے لیے بولی کے عمل کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کو دی گئی اطلاع کے مطابق کنسورشیم نے مکمل اطمینان کے ساتھ ڈیو ڈیلیجنس مکمل کر لی ہے اور نجکاری کمیشن کی جانب سے جاری کردہ بولی کی شرائط کے مطابق مطلوبہ ارنسٹ منی بھی جمع کرا دی ہے۔پی آئی اے کی نجکاری متعلقہ قوانین اور ضوابط کے تحت مسابقتی بولی کے ذریعے کی جا رہی ہے، جس کی بولی 23 دسمبر 2025 کو شیڈول ہے۔ اس عمل کا حتمی نتیجہ کنسورشیم کے کامیاب بولی دہندہ بننے اور تمام ضروری ریگولیٹری منظوریوں سے مشروط ہوگا۔کے سی سی ایل نے پی ایس ایکس سے درخواست کی ہے کہ اس پیش رفت سے ٹی آر ای سرٹیفکیٹ ہولڈرز کو آگاہ کیا جائے، جس سے کمپنی کی پاکستان کی سب سے زیادہ زیرِ بحث نجکاری مہم میں فعال شرکت واضح ہوتی ہے۔یہ پیش رفت قومی ایئرلائن میں نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی عکاس ہے، اور کامیابی کی صورت میں کنسورشیم پی آئی اے کے مستقبل کے آپریشنز میں اہم اور ممکنہ طور پر تبدیلی لانے والا کردار ادا کر سکتا ہے۔

  • اسرائیلی آرمی چیف کی  ایران  پردوبارہ حملے کی وارننگ

    اسرائیلی آرمی چیف کی ایران پردوبارہ حملے کی وارننگ

    تل ابیب(کنزیومر واچ نیوز)فوج کے سربراہ ایال زمیر نے ایک مرتبہ پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کسی بھی وقت اپنے دشمنوں کے خلاف کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہے اور ضرورت پڑنے پر حملے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔حالیہ بیان میں اسرائیلی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ بعد ازاں وسیع ہو گئی، جس میں یمن اور ایران سمیت دیگر فریق بھی شامل ہوتے چلے گئے۔ان کے مطابق اسرائیل جہاں اور جب ضروری سمجھے گا، دشمن کے خلاف کارروائی کرے گا۔ایال زمیر نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف سرگرم عناصر کو مالی اور عسکری مدد فراہم کرتا رہا ہے اور اسرائیل کو نقصان پہنچانے کے منصوبوں کے پیچھے بھی ایران کا ہاتھ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنے دفاع اور سلامتی کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متوقع ملاقات کے دوران ایران پر ممکنہ نئے حملے کے حوالے سے تبادلہ خیال کر سکتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق اسرائیل کو تشویش ہے کہ ایران اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کی دوبارہ تعمیر اور توسیع میں مصروف ہے۔دوسری جانب ایران نے بھی اسرائیل کی جانب سے دوبارہ حملے کے خدشات کا اظہار کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران پر ایک اور حملے کے امکان کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔روسی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں، تاہم اگر جنگ مسلط کی گئی تو ملک بھرپور دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
    ان کے مطابق جنگ سے بچاؤ کا مؤثر ترین طریقہ یہی ہے کہ ہر سطح پر تیاری رکھی جائے۔ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران ماضی کی جارحیت کے نقصانات کا ازالہ کر چکا ہے اور اگر کوئی فریق سابقہ ناکام تجربات کو دہرانا چاہتا ہے تو اسے کسی بہتر انجام کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ادھر امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس بات پر قائل ہے کہ ایران بیلسٹک میزائل پروگرام پر تیزی سے کام کر رہا ہے، اسی تناظر میں اسرائیل امریکا کے ساتھ ممکنہ فوجی اقدامات پر مشاورت کا خواہاں ہے۔رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو آئندہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران ایران پر حملے کے معاملے پر بات کر سکتے ہیں۔

  • عمران خان نے مذاکرات کی تجویز پھر مسترد کردی

    عمران خان نے مذاکرات کی تجویز پھر مسترد کردی

    اسلام آباد: (کنزیومرواچ نیوز)عمران خان کے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر جاری کردہ تازہ ترین بیان نے عملاً محمود خان اچکزئی کی جانب سے مذاکرات کی اپیل کو مسترد کر دیا ہے اور ساتھ ہی پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات نے واضح کیا ہے کہ احتجاجی تحریک سے متعلق عمران خان کی ہدایت ہی حتمی ہوگی اور اسی پر عمل کیا جائے گا۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ 9؍ مئی کے واقعات اور عمران خان اور پارٹی کے سوشل میڈیا پر فوج مخالف مہم پر اظہارِ ندامت یا معذرت کے بغیر پی ٹی آئی کے ساتھ بامعنی مذاکرات ممکن نہیں۔ اس حوالے سے رابطہ کرنے پر پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ چونکہ احتجاجی تحریک کی پالیسی براہِ راست پارٹی قائد عمران خان کی جانب سے آئی ہے لہٰذا وہی نافذالعمل ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی مذاکرات سمیت اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں، تاہم پی ٹی آئی قیادت عمران خان کی تازہ ہدایات کی پابند ہے۔ شیخ وقاص اکرم کے مطابق عمران خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو ہدایت دی ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کیلئے احتجاجی تحریک کی تیاری کریں۔ اپوزیشن اتحاد کی جانب سے گزشتہ روز منعقدہ قومی کانفرنس میں اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آئین کو چیتھڑوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس نازک مرحلے پر، انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے اپیل کی کہ وہ آگے آئیں اور ملک کو بحران سے نکالنے کیلئے مذاکرات کا آغاز کریں۔ اسی روز عمران خان کی جانب سے ’’ایکس‘‘ پر جاری بیان میں نہ صرف فیلڈ مارشل کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا بلکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو احتجاجی تحریک کی تیاری کی ہدایت بھی دی گئی۔ اس حوالے سے دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات نے واضح کیا کہ پارٹی عمران خان کی پالیسی لائن پر ہی چلے گی۔ دی نیوز نے شیخ وقاص اکرم سے رابطہ کر کے یہ جاننے کی کوشش کی کہ پی ٹی آئی کی حتمی پالیسی کیا ہے اور آیا پارٹی اچکزئی کے موقف پر عمل کرے گی یا عمران خان کی ہدایات پر۔ دوسری جانب وزیراعظم کے قریبی ایک سینئر ذریعے سے جب یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ حکومت محمود خان اچکزئی کی مکالمے کی پیشکش پر کیا ردعمل دے گی تو ان کا کہنا تھا کہ 9؍ مئی کے سنگین جرائم اور پارٹی و اس کے بانی چیئرمین عمران خان کی جانب سے جاری فوج مخالف مہم کو نظرانداز کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ساتھ بامعنی مذاکرات کیسے ممکن ہیں؟ ذرائع کے مطابق، شہباز شریف حکومت کا موقف ہے کہ اظہارِ ندامت یا معذرت کے بغیر مذاکرات ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ [ان لوگوں نے] فوجی تنصیبات پر حملے کیے، شہداء کا تمسخر اڑایا اور فوج اور اس کی اعلیٰ قیادت کیخلاف کردارکشی کی مہم چلائی۔ ایسے حالات میں کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

  • بالائی علاقوں میں بارش اور برفباری سے موسم شدید سرد، رابطہ سڑکیں بند

    بالائی علاقوں میں بارش اور برفباری سے موسم شدید سرد، رابطہ سڑکیں بند

    پشاور(کنزیومرواچ نیوز)خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے بالائی علاقوں میں بارش و برفباری سے موسم شدید سرد ہوگیا جبکہ رابطہ سڑکیں برف سے ڈھک گئیں، محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں اور برفباری کی پیشگوئی کر دی۔
    پشاور شہر اور گردونواح میں بارش سے موسم سرد ہوگیا جبکہ درجہ حرارت 11 سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مطلع ابرآلود رہنے کا امکان ہے۔
    دیر لوئر اور دیر اپر کے شہری علاقوں میں بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ وادی کمراٹ، جہاز بانڈہ، باڈگوائی، لواری ٹنل، کلپانی، شاہی، بن شاہی اور عشیرئی درہ میں ایک فٹ برف پڑ چکی ہے۔
    بارش اور برف باری سے سردی کی شدت بڑھ گئی ہے، برف باری سے لطف اندوز ہونے کے لیے سیاحوں نے سیاحتی علاقوں کا رخ کرنا شروع کر دیا۔
    ایبٹ آباد شہر اور گردونواح میں میں ہلکی بارش سے موسم شدید سرد ہوگیا جبکہ نتھیاگلی، ایوبیہ اور ڈونگا گلی میں دوسرے روز بھی موسلا دھار بارش جاری ہے۔
    نتھیاگلی، گلیات اور ٹھنڈیانی میں بھی بارش جبکہ بالائی پہاڑوں پر ہلکی برفباری ہوئی۔
    ڈی جی گلیات کا کہنا تھا کہ موسم بتانے والوں کے مطابق آج سے گلیات، نتھیا گلی اور ٹھنڈیانی میں برف باری کا نیا اسپیل متوقع ہے جبکہ شہری علاقوں میں تیز بارش کے امکانات ہیں۔
    ڈی جی گلیات نے ہدایت کی ہے کہ پہاڑی علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کیا جائے۔
    وادی کاغان کے بالائی مقامات ناران، بابو سر، جھیل سیف الملوک اور دیگر مقامات پر برفباری کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ناران میں 6 انچ جبکہ جھیل سیف الملوک اور بابو سر ٹاپ پر ایک فٹ سے زائد برفباری پڑ چکی ہے۔
    برفباری دیکھنے کے شوقین سیاح شوگران اور کاغان کا رخ کر سکتے ہیں۔
    بالاکوٹ و گردونواح میں بارش کا سلسلہ دوسرے روز بھی وقفے وقفے سے جاری ہے، بارش سے گردو غبار کا خاتمہ ہوگیا اور موسم میں نکھار آگیا۔
    محکمہ موسمیات کے مطابق بالاکوٹ میں بارش جبکہ پہاڑوں پر برفباری سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا جبکہ بارش و برفباری کا سلسلہ آج بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔
    گلگت بلتستان
    گلگت بلتستان میں غذر کے بالائی علاقہ یاسین میں موسمِ سرما کی پہلی برفباری شروع ہوگئی، صبح سے جاری برفباری کے باعث یاسین کی رابطہ سڑکیں برف سے ڈھک گئیں جس سے عوام کو شدید سفری مشکلات کا سامنا ہے۔
    انتظامیہ نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔
    دوسری جانب، محکمہ موسمیات کے مطابق برفباری کا سلسلہ آئندہ 24 گھنٹوں تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
    پنجاب
    پنجاب بھر میں بارش برسانے والا سسٹم بعض اضلاع میں بارش برسا کر گزر گیا اور دوبارہ سے خشک موسم کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
    محکمہ موسمیات کے مطابق سسٹم کمزور ہونے کی وجہ سے لاہور میں صرف بادل چھائے رہے لیکن بارش نہ ہوسکی، بارش کا سسٹم نکلنے سے دوبارہ خشک موسم کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ 27 سے 31 دسمبر تک دوبارہ بارش برسانے والا سسٹم پاکستان میں داخل ہوگا، 27 سے 31 دسمبر تک لاہور اور پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارش کا امکان ہے۔
    لاہور سمیت پنجاب بھر میں صبح اور رات کے وقت دھند کا راج ہے جبکہ موٹرویز کو دھند کے باعث مختلف جگہوں سے ٹریفک کے لیے بند کیا گیا۔
    لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 9 اور زیادہ سے زیادہ 18 ڈگری تک جانے کے امکانات ہیں۔
    بلوچستان
    بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک رہے گا۔محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، زیارت اور قلات میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔ژوب میں درجہ حرارت 0، سبی میں 8، تربت میں 11، نوکنڈی میں 7 اور چمن میں 2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔گوادر میں کم سے کم درجہ حرارت 11 اور جیوانی میں 12 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔

  • ایک اور معروف اداکارہ کیساتھ ہجوم کی بدسلوکی

    ایک اور معروف اداکارہ کیساتھ ہجوم کی بدسلوکی

    ممبی (کنزیومرواچ نیوز)بھارت میں معروف اداکارہ سمانتھا پربھو کے ساتھ تقریب کے دوران بدسلوکی کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔ بھارت میں مداحوں کی جانب سے فنکاروں کے ساتھ بدتمیزی کرنا کوئی نئی بات نہیں تاہم ان دنوں ہجوم کی جانب سے خاص طور پر اداکاراؤں کو گھیر کر ان کی جان خطرے میں ڈالے جانے کی واقعات مسلسل رونما ہورہے ہیں۔چند روز قبل، بھارتی اداکارہ ندھی اگروال کو مداحوں نے اس وقت گھیر لیا تھا جب وہ تقریب سے واپسی پر اپنی گاڑی کی جانب جارہی تھیِں۔اس دوران، ان کے لیے چند قدم کا فاصلہ طے کرنا انتہائی مشکل ہوگیا تھا، البتہ ان کے گارڈز نے بہادری کے ساتھ اداکارہ کو گاڑی تک بحفاظت پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔سوشل میڈیا پر ایک اور ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں نامور بھارتی اداکارہ سمانتھا رتھ پربھو کو بھی اسی قسم کی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔اداکارہ حیدرآباد میں ایک آؤٹ لیٹ کی افتتاحی تقریب میں شریک تھیں، جہاں سے واپسی پر مداحوں نے انہیں گھیر لیا اور اس دوران انہیں ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا، تاہم ان کے سیکیورٹی گارڈ کسی طرح انہیں گاڑی تک لے جانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔دوسری جانب، سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے مداحوں کے اس حرکت پر شدید تنقید کی جارہی ہے، صارفین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مداح یہ کیوں نہیں سجھتے ہیں کہ اداکار بھی انسان ہوتے ہیں اور وہ اپنی حدود کا تعین کیوں نہیں کرتے۔یاد رہے کہ بھارتی فنکاروں کے ساتھ اکثر اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں، خاص طور پر ایئرپورٹ یا کسی تقریب کے دوران جب مداح ان کے ساتھ سیلفی لینے کی کوشش کرتے ہیں یا ان سے آٹوگراف کا مطالبہ کرتے ہیں۔

  • چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کےلئے سعودی عرب کا اعلیٰ ترین قومی اعزاز

    چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کےلئے سعودی عرب کا اعلیٰ ترین قومی اعزاز

    راولپنڈی:(کنزیومرواچ نیوز)چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو سعودی عرب کا اعلیٰ ترین قومی اعزاز عطا کیا گیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرأت نے سعودی عرب کے سرکاری دورے کے دوران وزیر دفاع، شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ملاقات کی۔اہم ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے مابین باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں علاقائی سلامتی کی صورتحال، دفاعی اور عسکری تعاون، اسٹریٹجک اشتراکِ عمل اور بدلتے ہوئے جغرافیائی چیلنجز شامل تھے۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان گہرے، تاریخی اور برادرانہ تعلقات کی توثیق بھی کی گئی۔دورے کے دوران خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے فرمان کے تحت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو مملکتِ سعودی عرب کا اعلیٰ ترین قومی اعزاز کنگ عبدالعزیز میڈل آف ایکسی لینس بھی عطا کیا گیا۔یہ اعزاز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی نمایاں عسکری خدمات اور قیادت کے اعتراف کے طور پر دیا گیا۔ اس موقع پر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون، اسٹریٹجک ہم آہنگی اور ادارہ جاتی روابط کے فروغ میں اُن کے مرکزی کردار کو بھی سراہا گیا۔ یہ اعزاز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے علاقائی امن و استحکام کے لیے خدمات، بالخصوص انسدادِ دہشت گردی اور سلامتی کے شعبے میں مسلسل تعاون کا بھی اعتراف ہے۔
    سعودی قیادت نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور اسٹریٹجک وژن کو سراہتے ہوئے پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ و برادرانہ تعلقات کے فروغ کے لیے اُن کے عزم کی تعریف کی۔
    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس اعزاز پر خادم الحرمین شریفین اور سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور اسے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط و دیرپا تعلقات کی عکاسی قرار دیا۔ انہوں نے مملکتِ سعودی عرب کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
    کنگ عبدالعزیز میڈل آف ایکسی لینس کا عطا کیا جانا پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی مضبوطی اور دونوں ممالک کے درمیان علاقائی و عالمی امن کے فروغ کے لیے اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کو اجاگر کرتا ہے۔

  • لاہور: شہریوں سے صفائی کا بل لینے کےلیے نیا طریقہ کار طے

    لاہور: شہریوں سے صفائی کا بل لینے کےلیے نیا طریقہ کار طے

    لاہور(کنزیومرواچ نیوز)لاہور میں شہریوں سے صفائی کا بل لینے کے لئے نیا طریقہ کارطے کرلیا گیا۔صاف ستھرا پنجاب، صفائی بل اب محکمہ ایکسائز وصول کرے گا۔ 6 ماہ تک ماہانہ جبکہ جون 2026 سے سالانہ بل دینا ہوگا۔ 3 مرلے کے گھر پر ٹیکس نہیں ہوگا۔جنوری 2026 سے ایکسائز ابتدائی طور پر ماہانہ بل وصول کرے گا، جون 2026 سے بل ماہانہ کی بجائے سالانہ وصول کیا جائے گا۔ 5 مرلے سے 2 کنال والا گھریلو صارف 300 سے2 ہزار روپے صفائی بل دے گا۔کمرشل کیلئے اربن ریٹ 500 سے 2ہزارروپے مقرر کیا گیا ہے، دیہی گھریلو صارف کو200 سے 400 روپے صفائی بل دینا ہوگا۔ دیہی کمرشل صارف 300 سے 1000 روپے تک صفائی بل دے گا۔

  • غزہ کو پرکشش اور جدید ساحلی شہر بنانے کاامریکی منصوبہ

    غزہ کو پرکشش اور جدید ساحلی شہر بنانے کاامریکی منصوبہ

    نیو یارک (کنزیومرواچ نیوز)غزہ کو پرکشش اورجدید ساحلی شہر بنانے کا نیا امریکی منصوبہ سامنے آگیا۔امریکی اخباروال اسٹریٹ جرنل کےمطابق جیرڈ کشنر اوراسٹیو وٹکوف نےسن رائز کےنام سےمنصوبہ پیش کر دیا، ٹرمپ انتظامیہ یہ منصوبہ غیرملکی حکومتوں اورسرمایہ کاروں کےسامنے پیش کررہی ہے،منصوبہ دس برس میں مکمل ہوگاجس پرایک سو بارہ ارب ڈالرلاگت آئےگی،ساٹھ ارب ڈالرامریکا قرضوں اورگرانٹس کی صورت میں ادا کرے گا۔ تعمیرنوچارمرحلوں میں مکمل ہوگی،آغاز رفح اورخان یونس سےکیاجائے گا،جس کے بعدغزہ سٹی اور شمالی غزہ کی باری آئےگی،دوسری جانب اسرائیلی جارحیت رکنےکا نام نہیں لے رہی۔ بمباری سے مزید چھ فلسطینی شہید ہوگئے۔