Blog

  • کراچی لاوارث   سانحہ نیپا : ذمہ دارکون؟

    کراچی لاوارث سانحہ نیپا : ذمہ دارکون؟

    کیا مئیر کراچی مرتضی وہاب کو گٹر کے ڈھکن لگوانے کے لئے بھی اختیارات کی ضرورت ہے؟
    مجرموں کو کٹہرے میں لایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں،شہریوں کا مطالبہ
    کنزیومرواچ رپورٹ
    کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں نیپا فلائی اوور کے قریب کھلے مین ہول میں گر کر کم عمر بچے کاجاں بحق ہونا ایک ایسا درد ناک واقعہ ہے جسںنے شہریوں کو ایک بار پھر سوالات اٹھانے پر مجبور کردیا ۔ جاں بحق ہونے والے بچے کی لاش کئی گھنٹوں کی تلاش کے بعد لنک نالے سے ملی یہ واقعہ شہری منصوبہ بندی، نگرانی اور بین الادارہ جاتی رابطے کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔شہریوں کا غم وغصہ اس وقت عروج پر ہے وہ اس سانحہ کا ذمہ دار مئیر کراچی مرتضی وہاب اور خاص طور پر پیپلزپارٹی کو سمجھتے ہیں عوام کا ماننا ہے کہ کراچی کو لاوارث کردیا گیا ہے کوئی بھی شہر کی اونر شپ لینے کے لئے تیار نہیں ہے عوام کا مرتضی وہاب سے سوال ہے کہ کیا مئیر کراچی کو گٹر کے ڈھکن لگوانے کے لئے بھی اختیارات کی ضرورت ہے؟
    کے ایم سی کی تحقیقاتی رپورٹ، ذمہ داری کس پر؟
    کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) نے واقعے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ محکمہ بلدیات کو ارسال کردی ہے، جس میں واضح طور پر **BRT ریڈ لائن منصوبے کی تعمیرات کو حادثے کا بنیادی سبب قرار دیا گیا ہے۔
    سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز عمران راجپوت کے مطابق:
    بی آر ٹی کے کھدائی کام نے پورے نالے کے نکاسی نظام کو نقصان پہنچایا۔
    گٹروں کو بند کرنے کے لیے صرف دو فٹ کے غیر معیاری کورز استعمال کیے گئے۔
    ایک مین ہول تعمیراتی عمل کے دوران کھلا چھوڑ دیا گیا، جو حادثے کا براہِ راست سبب بنا۔
    بی آر ٹی انتظامیہ نے کام شروع کرنے سے پہلے کے ایم سی کو باقاعدہ اطلاع نہیں دی۔
    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کور اور طریقہ کار کے ایم سی کے منظور شدہ معیار سے مطابقت نہیں رکھتے۔
    نجی اسٹور پر بھی الزام
    کے ایم سی رپورٹ میں نجی اسٹور کی انتظامیہ پر بھی غفلت کا الزام عائد کیا گیا ہے، کیونکہ کھلا مین ہول ان کے بالکل سامنے موجود تھا لیکن اسٹور نے بھی حفاظتی اقدام کے طور پر:
    مین ہول کے گرد رکاوٹیں نہ لگائیں
    نہ ہی متعلقہ حکام کو بروقت اطلاع دی
    میئر کراچی کیا کہتے ہیں؟
    میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا تھا:
    اگر میں ذمہ دار جماعت اسلامی کو کہوں تو لوگ ناراض ہوں گے، مگر ذمہ داری جہاں ہے وہاں رکھنی چاہیے۔
    میئر کا اشارہ ریڈ لائن منصوبے کی نگرانی اور انتظامی ذمہ داریوں کی طرف تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ:
    شہر میں مختلف اداروں کے الگ الگ دائرہ اختیار عوامی مشکلات میں اضافے کا باعث ہیں۔
    بی آر ٹی کی کھدائی اور اس کے بعد صفائی کا نظام بہتر طریقے سے منظم نہیں کیا گیا۔
    عوام کیا کہہ رہے ہیں؟
    سوشل میڈیا اور مقامی رہائشیوں کا ردعمل شدید تھا:
    کچھ لوگ بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کو براہِ راست قصوروار ٹھہرا رہے ہیں۔
    کچھ شہری کے ایم سی کی نگرانی کو ناکافی قرار دے رہے ہیں۔
    بہت سے لوگوں نے شہر میں کھلے مین ہولز کے مستقل مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے۔
    کچھ لوگ مئیر اور پیپلزبارٹی کی ھکومت کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں
    عام شہریوں کے مطابق:
    کراچی میں کھلے مین ہول کوئی نئی بات نہیں، مگر آج ایک گھر اْجڑ گیا… اگر وقت پر ڈھکن لگ جاتا تو بچہ بچ جاتا۔’’
    بین الادارہ جاتی بدانتظامی ، مسئلے کی جڑ؟
    تجزیہ کے مطابق اس واقعے کے پیچھے تین بنیادی عوامل کارفرما دکھائی دیتے ہیں:
    1. اداروں کے درمیان رابطے کی کمی
    ایک ہی سڑک پر کے ایم سی، سندھ گورنمنٹ، بی آر ٹی اتھارٹی، کنٹریکٹرز اور ٹاؤن انتظامیہ،سب کا الگ کنٹرول ہے مگر ہم آہنگی صفر
    2. غیر معیاری تعمیراتی طریقہ کار
    بڑے شہروں میں مین ہول کو عارضی طور پر کھلا چھوڑنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ یہاں معمول بنا ہوا ہے۔
    3. نالوں اور نکاسی کا کمزور نظام
    شہر بھر میں نالوں کی مرمت اور صفائی جزوقتی کام کے طور پر کی جاتی ہے، جس سے ایسی صورتِ حال پیدا ہوتی ہے۔
    ماہرین شہری منصوبہ بندی کا موقف
    شہر کے شہری انجینئرز کے مطابق:

    ترقیاتی منصوبے شروع کرنے سے پہلے پورا GIS نقشہ کے ایم سی، واٹر بورڈ، ٹریفک پولیس اور دیگر اداروں کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہوتا ہے۔
    مین ہولز کو کھلا چھوڑنا عالمی حفاظتی اصولوں کے خلاف ہے۔
    ایسے پروجیکٹس میں ہائی رسک ایریاز کی نشاندہی اور 24 گھنٹے کی نگرانی لازمی ہے۔
    آئندہ ایسے حادثات روکنے کیلئے کیا کیا جائے؟
    1مشترکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم
    شہر میں جاری تمام کھدائی، تعمیرات اور رکاوٹوں کی ریئل ٹائم نگرانی ایک ہی پلیٹ فارم سے ہو۔ دبئی، سنگاپور اور لندن میں یہی نظام استعمال ہوتا ہے۔
    2سخت حفاظتی پروٹوکول
    کھلے مین ہول کے گرد کم از کم 4 فٹ اونچی بیریئر
    رات کے وقت روشن لائنز
    پیلا یا سرخ حفاظتی ٹیپ
    CCTV نگرانی

    3.تمام اداروں کے درمیان قانونی معاہدہ

    ہر ترقیاتی منصوبے سے پہلے ایک MoU بنایا جائے جس میں یہ طے ہو:

    * کس نے کون سی جگہ کھودی؟
    * کب تک کھلی رہے گی؟
    * کس ادارے کو اطلاع دینا لازمی ہے؟
    * ذمہ داری کس کی ہوگی؟

    4. غیر معیاری کورز کے استعمال پر پابندی

    صرف انجینئرنگ سرٹیفائیڈ ڈھکن استعمال ہوں۔ زیادہ ٹریفک والے علاقوں میں *کاسٹ آئرن ڈھکن* لازمی ہوں۔

    5. عوامی آگاہی مہم

    اگر کسی علاقے میں مین ہول کھولا جا رہا ہو تو:

    * علاقے کے واٹس ایپ گروپس
    * مقامی یونین کونسل
    * ٹیلی فون ایلرٹ سسٹم

    کے ذریعے اطلاع دی جائے۔
    نیپا فلائی اوور کا سانحہ ایک بار پھر کراچی کے شہری انتظام میں موجود دائمی خامیوں کو سامنے لاتا ہے۔ ایک بے گناہ بچے کی جان چلی گئی، مگر ذمہ داری کا تعین اور اصلاحی اقدامات وقت کی سب سے اہم ضرورت ہیں۔ جب تک شہر میں اداروں کے درمیان واضح رابطہ، سخت حفاظتی طریقہ کار اور معیار پر مبنی تعمیرات نہیں ہوں گی۔ایسے حادثات دوبارہ ہوتے رہیں گے۔

  • ٹیکس نظام، معاشی اصلاحات اور ریاست کی سمت،،،،،،شیخ راشد عالم

    ٹیکس نظام، معاشی اصلاحات اور ریاست کی سمت،،،،،،شیخ راشد عالم

    وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی حالیہ پریس کانفرنس نے ایک بار پھر قومی معیشت کی بنیادی خرابیوں کو نمایاں کر دیا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ 9 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے ساتھ ملک نہیں چل سکتا، دراصل برسوں سے جاری مالیاتی تضادات کا نچوڑ ہے۔ ریاست کی مالی سکت کا اندازہ قومی آمدن سے لگایا جاتا ہے اور جب ایک 25 کروڑ آبادی کا ملک محض 9 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی پر گزارہ کر رہا ہو تو اس کا نتیجہ بجٹ خسارے، مہنگائی، قرضوں اور کمزور معاشی ڈھانچے کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔
    ٹیکس کا بحران،مسئلہ کہاں ہے؟
    پاکستان کی ٹیکس پالیسیوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ ٹیکسوں کی شرح کم ہے بلکہ اصل خرابی ٹیکس نیٹ کے انتہائی تنگ ہونے میں ہے۔ ہمارے ملک میں رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد آج بھی قابلِ رحم ہے۔ آمدن کا بڑا حصہ چند مخصوص سیکٹرز سے لیا جاتا ہے جبکہ بڑی تعداد یا تو ٹیکس ہی نہیں دیتی یا اپنی اصل آمدن چھپا لیتی ہے۔ وزیر خزانہ نے درست کہا کہ اگر ریاست نے پائیدار ترقی کرنی ہے تو اسے ٹیکس بنیاد کو بڑھانا ہی پڑے گا، خواہ اس کے لیے کتنی ہی مخالفت کیوں نہ برداشت کرنا پڑے۔
    سبسڈی میں کرپشن؛اصل نقب یہاں لگتی ہے
    وزیر خزانہ نے ایک دلچسپ اور اہم جملہ کہا کہ مسئلہ ملازمین کا نہیں بلکہ سبسڈی میں ہونے والی کرپشن کا ہے۔ پاکستان کی بہت سی معاشی بیماریوں کی جڑ یہی ہے۔ ہر سال کھربوں روپے کی سبسڈیز منظور کی جاتی ہیں، مگر ان کا بڑا حصہ ہدف تک پہنچنے کے بجائے مخصوص گروہوں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔ توانائی، گندم، چینی، کھاد اور پیٹرولیم سبسڈی میں جو بے ضابطگیاں ہوتی رہی ہیں، وہ نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ مسابقتی معیشت کی بنیاد بھی کمزور کرتی ہیں۔
    اصلاحات کی بات تو ہر حکومت کرتی ہے مگر یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ سبسڈی کے نام پر ایک طاقتور لابی دہائیوں سے نظام کا حصہ بنی ہوئی ہے۔ اس ڈھانچے کو بدلنا آسان نہیں، مگر اگر حکومت واقعی بدعنوانی کے ان مراکز کو نشانہ بنانے میں سنجیدہ ہے تو یہ اقدام معیشت کے لیے بڑی خبر ہوگی۔
    آئی ایم ایف معاہدہ،ضرورت یا مجبوری؟
    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پانے کا اعلان یقیناً سرمایہ کاروں اور مارکیٹ کے لیے مثبت اشارہ ہے۔ تاہم یہ بات بھی حقیقت ہے کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کے ساتھ سخت شرائط لازمی آتی ہیں۔ ٹیکس بڑھانے، سبسڈی کم کرنے اور بجلی و گیس کی قیمتیں ایڈجسٹ کرنے جیسے اقدامات عام شہری کو براہ راست متاثر کرتے ہیں۔

    یہ بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ موجودہ معاشی حالات میں آئی ایم ایف کی مدد ناگزیر تھی۔ زرمبادلہ کے ذخائر کم، درآمدی بل بلند اور قرض ادائیگیوں کا دباؤ بڑھ رہا تھا۔ ایسے ماحول میں بیرونی فنانسنگ کے بغیر معاشی پہیہ زیادہ دیر نہیں چل سکتا تھا۔ لیکن آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد سیاسی طور پر ایک مشکل مرحلہ ہوگا جس کا سب سے بڑا امتحان عام شہری کی برداشت ہے۔
    ریکوڈک،امید کا نیا باب؟
    پریس کانفرنس کا سب سے حوصلہ افزا حصہ ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے دیا گیا بیان تھا۔ یہ منصوبہ اپنی نوعیت میں بے حد اہم ہے کیونکہ اس میں تانبے اور سونے کے عالمی معیار کے ذخائر موجود ہیں۔ یو ایس ایگزم بینک کا دوبارہ فنانسنگ میں شامل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے ایک بار پھر پاکستان کے بڑے منصوبوں پر اعتماد ظاہر کر رہے ہیں۔
    ریکوڈک ایک طویل المدت منصوبہ ہے، اس کے ثمرات فوری نہیں مل سکیں گے۔ مگر اگر اسے شفافیت اور عالمی معیار کے مطابق مکمل کیا گیا تو یہ واقعی پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہوسکتا ہے اور مستقبل میں برآمدات کے نئے راستے کھول سکتا ہے۔
    بیرونی کھاتوں کا توازن،معیشت کی ریڑھ کی ہڈی
    محمد اورنگزیب نے درست نشاندہی کی کہ ادائیگیوں کا توازن اور کرنٹ اکاؤنٹ کسی بھی معیشت کی پائیداری میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان مسلسل کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا شکار رہا ہے، جس کی بڑی وجہ درآمدات کا دباؤ اور برآمدات کی محدود ساخت ہے۔ جب تک برآمدی صنعتوں کو سہولتیں نہیں ملیں گی اور روایتی مصنوعات سے ہٹ کر نئی منڈیاں اور نئے شعبے نہیں بنائے جائیں گے، اس مسئلے کا حل ممکن نہیں۔
    ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج کا خاتمہ دراصل اسی سمت میں ایک قدم سمجھا جا سکتا ہے۔ اگر برآمد کنندگان کو مسابقت کے مواقع ملتے ہیں تو اس کے نتیجے میں نہ صرف زرمبادلہ بڑھے گا بلکہ روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ ہوگا۔
    NFC کا آئندہ اجلاس،ایک پیچیدہ مرحلہ
    وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئندہ ہفتے نیشنل فنانس کمیشن (NFC) کا اجلاس ہوگا۔ یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب وفاق پہلے ہی مالیاتی دباؤ کا شکار ہے۔ موجودہ NFC ایوارڈ کے تحت قومی وسائل کا بڑا حصہ صوبوں کو جاتا ہے جبکہ دفاع، قرض ادائیگی اور انتظامی اخراجات وفاق کے ذمے رہ جاتے ہیں۔
    یہ ایک حساس بحث ہے کہ آیا موجودہ فارمولا بدلنا چاہیے یا نہیں، مگر یہ حقیقت واضح ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی ہم آہنگی کے بغیر کوئی بھی اصلاحاتی ایجنڈا کامیاب نہیں ہوسکتا۔
    سمت درست، سفر کٹھن
    وزیر خزانہ کی گفتگو میں دو چیزیں نمایاں تھیں—ایک حقیقت پسندی اور دوسرا اصلاحات کا عزم۔ پاکستان کی معیشت کو آج ایسے ہی رویے کی ضرورت ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی قیادت اس مشکل مگر لازمی راستے پر حکومت کے ساتھ کھڑی ہوگی؟
    اقتصادی استحکام صرف بیانات سے نہیں آتا۔ اس کے لیے عملی اقدامات، شفافیت، سخت فیصلے اور سب سے اہم پالیسیوں کے تسلسل کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان کی معاشی کہانی ایک ایسے چکر میں پھنسی ہوئی ہے جس میں ہر چند سال بعد بحران پھر سر اٹھا لیتا ہے۔ اس چکر کو توڑنے کے لیے ٹیکس نیٹ میں اضافہ، سبسڈی کے غلط استعمال کا خاتمہ، برآمدات کا فروغ اور بجلی کے شعبے کی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
    اگر حکومت اپنے اعلان کردہ اصلاحاتی ایجنڈے پر بلا خوف اور بلا تعطل آگے بڑھتی ہے تو آنے والے برسوں میں پاکستان ایک زیادہ مضبوط، زیادہ خودمختار اور زیادہ متوازن معیشت کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ لیکن اگر اصلاحات سیاسی نعرے بن کر رہ گئیں تو پھر ایک اور بحران ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہوگا۔

  • تھینکس گیونگ کیا ہے؟ ثقافت، تہذیب یا کاروبار؟….حمیرا گل تشنہ

    تھینکس گیونگ کیا ہے؟ ثقافت، تہذیب یا کاروبار؟….حمیرا گل تشنہ

    امریکہ میں تھینکس گیونگ نہ صرف ایک قومی تعطیل ہے بلکہ اس ملک کی ثقافتی اور تہذیبی شناخت کا ایک اہم جزو بھی ہے۔ یہ تہوار نعمتوں کے شکرانے، خاندانی بندھن اور تاریخی ورثے پر غور کرنے کا دن ہے۔ تھینکس گیونگ کی تاریخ کا آغاز سترہویں صدی کے اوائل میں شمالی امریکہ میں پہلے یورپی آباد کاروں کے ساتھ ہوتا ہے۔ سن 1620ء میں مے فلاور نامی جہاز پر سوار 102 انگریز آباد کار (جنہیں پیوریٹن یا زائرین بھی کہا جاتا ہے) مذہبی آزادی کی تلاش میں یورپ سے نکل کر موجودہ میساچوسٹس کے ساحل پر اترے . یہ لوگ نئے خطے کے سخت موسم سرما کے لیے تیار نہیں تھے، جس کے نتیجے میں پہلے ہی سال میں ان کی نصف سے زیادہ تعداد بھوک اور بیماری سے ہلاک ہو گئی۔ ان مشکل حالات میں، مقامی وامپانواگ (Wampanoag) قبیلے نے ان آباد کاروں کی مدد کی اور انہیں خوراک فراہم کی، نیز مقامی حالات کے مطابق فصلیں اگانے اور زندہ رہنے کے طریقے سکھائے۔ سن 1621ء میں پہلی کامیاب فصل کٹائی کے بعد، آباد کاروں نے اپنے بقا کے شکرانے کے طور پر ایک دعوت کا اہتمام کیا۔ اس تقریب میں 53 آباد کاروں نے 90 مقامی امریکیوں کے ساتھ مل کر شرکت کی۔ اس پہلے تہوار میں ہرن کا گوشت، بطخ اور دیگر پرندے، مچھلی، نیز خشک مکئی اور سبزیاں شامل تھیں۔ اگرچہ اس وقت اس تقریب کا نام “تھینکس گیونگ” نہیں تھا، لیکن یہی واقعہ اس قومی تہوار کی بنیاد بنا۔ابتدائی دور میں مختلف امریکی ریاستیں مختلف دنوں میں یہ تہوار مناتی تھیں۔ صدر ابراہم لنکن نے 1863ء میں نومبر کی آخری جمعرات کو تھینکس گیونگ کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ بالآخر 1941ء میں صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کے دور میں کانگریس نے ایک قانون پاس کیا، جس کے تحت ہر سال نومبر کی چوتھی جمعرات کو تھینکس گیونگ کے طور پر مقرر کیا گیا۔صدیوں سے چلتی ہوئی اس روایت “تھینکس گیونگ” کی اصل شکل میں اب بہت تبدیلی آ چکی ہے۔ لیکن آج بھی اس کی بنیادی روح یعنی شکرگزاری، اجتماع اور فیضان کا جشن برقرار ہے۔تھینکس گیونگ کی سب سے اہم روایت خاندان اور دوستوں کے ساتھ جمع ہونا ہے۔ اس موقع پر بھنی ہوئی ٹرکی دسترخوان کی خاص ڈش ہے، جس کے ساتھ عام طور پر سٹفنگ، کرین بیری ساس، میشڈ آلو، گریی، اور کدو کی پائی پیش کی جاتی ہے۔ ٹرکی کو اس تہوار کی علامت بنانے کا سہرا مصنفہ سارا جوزفہ ہیل کے ناول “نارتھ ووڈ” (1827ء ) کو جاتا ہے، جس میں اس ڈش کی تفصیلی منظر کشی کی گئی تھی۔تھینکس گیونگ، امریکہ میں سفر کا سب سے مصروف ترین دن ہے۔ امریکن آٹوموبائل ایسوسی ایشن (AAA) کے اندازوں کے مطابق، اس موقع پر آٹھ کروڑ سے زائد افراد کم از کم 80 کلومیٹر یا اس سے زیادہ کا سفر کر کے اپنے پیاروں سے ملنے جاتے ہیں۔ یہ سفر ہوائی جہاز، ریل یا سڑک کے ذریعے ہوتا ہے۔
    اس دن نیویارک میں ایک بڑی پریڈ کا انعقاد ہوتا ہے، جبکہ ٹیلی ویژن پر امریکی فٹ بال کے کھیل دکھائے جاتے ہیں۔ بہت سے لوگ اس دن کو غریب اور ضرورت مند افراد میں کھانا یا تحائف تقسیم کرنے اور رضاکارانہ خدمات انجام دینے کے لیے وقف کرتے ہیں۔تھینکس گیونگ نہ صرف ایک ثقافتی تہوار ہے بلکہ یہ کاروبار اور معیشت کے لیے بھی ایک اہم موسم ہے، جو متعدد شعبوں میں بے پناہ مواقع پیدا کرتا ہے۔چونکہ اس موقع پر گھروں میں بڑی دعوتیں ہوتی ہیں، اس لیے گروسری اسٹورز، ریستورانوں اور کیٹرنگ سروسز کے کاروبار میں
    زبردوں اضافہ ہوتا ہے . لوگ تھینکس گیونگ سے متعلقہ اجناس اور تیار کھانے کی اشیاء کی خریداری کے لیے بڑی تعداد میں بازاروں کا رخ کرتے ہیں۔تھینکس گیونگ کے اگلے دن “بلیک فرائیڈے” منایا جاتا ہے، جو خریداری کا سب سے بڑا دن سمجھا جاتا ہے۔ خوردہ فروش اس موقع پر خصوصی پروموشنز اور ڈسکاؤنٹس کا اعلان کرتے ہیں، جس سے ان کی فروخت میں زبردوں اضافہ ہوتا ہے . اس کے بعد آنے والے “سائبر منڈے” پر آن لائن خریداری کو فروغ دیا جاتا ہے۔
    چھٹی کے موقع پر ملک بھر میں ہونے والے وسیع پیمانے پر سفر کی وجہ سے ایئر لائنز، ہوٹلوں اور کرایہ کی گاڑیوں کی کمپنیوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔ یہ موسم ان شعبوں کے لیے آمدنی کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
    تھینکس گیونگ کا جذبہ دوسروں کی مدد کرنے اور صدقہ خیرات دینے پر زور دیتا ہے۔ اس موقع پر خیراتی تنظیمیں عطیات حاصل کرنے اور ضرورت مندوں تک مدد پہنچانے کے لیے مہمات چلاتی ہیں۔ بہت سے کاروباری ادارے بھی اپنی برانڈ کی شہرت بہتر بنانے کے لیے اس موسم میں سماجی خدمات کے پروگراموں میں حصہ لیتے ہیں۔
    تھینکس گیونگ امریکی معاشرے کا ایک ایسا جزو ہے جو اپنے دامن میں گہری تاریخی اہمیت، مضبوط ثقافتی روایات اور وسیع کاروباری مواقع سموئے ہوئے ہے۔ یہ تہوار نہ صرف ماضی کے اس تاریخی واقعے کی یاد دلاتا ہے جب مقامی امریکیوں نے آباد کاروں کی مدد کی تھی، بلکہ یہ آج کے دور میں خاندانوں کے اجتماع، نعمتوں کے شکرانے اور انسانی ہمدردی کا استعارہ بھی بن چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ تہوار کاروباری شعبے کے لیے ترقی اور منافع کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ یہی کثیر الجہتی پہلو تھینکس گیونگ کو امریکی ثقافت میں ایک منفرد اور اہم مقام عطا کرتا ہے۔

  • ڈکی بھائی کا فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستانی اداروں  سےاظہار تشکر

    ڈکی بھائی کا فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستانی اداروں سےاظہار تشکر

    لاہور: (کنزیومرواچ نیوز)یوٹیوبر سعد عرف ڈکی بھائی نے رہائی کے بعد پہلا ویڈیو بیان جاری کیا ہے، این سی سی آئی اے نے ریمانڈ کے دوران کیا کیا سب بتادیا۔سعدالرحمان اپنی رہائی کے بعد پہلی بار سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر نظر آئے اور اپنی ویڈیو کے دوران کئی بار وہ نہایت آبدیدہ ہوگئے، ڈکی بھائی نے بتایا کہ این سی سی آئی اے نے 23 روزہ ریمانڈ لیا، پہلے 23 منٹ میں سب بتادیا تھاڈکی بھائی نے رہائی کے بعد اپنے یوٹیوبل چینل پر جاری پہلے ویڈیو بیان میں مزید انکشاف کیا کہ موبائل، لیپ ٹاپ اور تمام اکاؤنٹس کے پاسورڈ دیدیے تھے پھر بھی بری طرح تشدد کیا گیاانھوں نے بتایا کہ تعاون کے باوجود مجھ پر تشدد ہوا اور گالیاں دی گئیں، سابق ڈپٹی ڈائریکٹر نے 7 سالہ بچے کو ویڈیو کال پر لےکر مجھے گالیاں دلوائیں ڈکی بھائی نے کہا کہ 3 لاکھ 26 ہزار یو ایس ڈی ٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیے گئے، 3 لاکھ 26ہزار یو ایس ڈی ٹی پاکستانی 9 کروڑ روپے بنتے ہیں۔اپنی ویڈیو کے آخر میں ڈکی بھائی عرف سعدالرحمان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستانی اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان زندہ باد کا نعرہ بھی لگایا۔

  • چیف آف ڈیفنس فورسز کے اعزاز میں گارڈ آف آنر کی تقریب

    چیف آف ڈیفنس فورسز کے اعزاز میں گارڈ آف آنر کی تقریب

    راولپنڈی (کنزیومرواچ نیوز)جی ایچ کیو میں “چیف آف ڈیفنس فورسز کے اعزاز میں گارڈ آف آنر” کی تقریب منعقد ہوئی۔آئی ایس پی ار کے مطابق جی ایچ کیو میں پروقار تقریب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشان امتیاز (ملٹری)، ہلال جرات، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کو تینوں مسلح افواج کے دستے کی طرف سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔تقریب بطور پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز تعینات ہونے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے اعزاز میں منعقد کی گئی۔تقریب میں چیف آف دی نیول اسٹاف اور چیف آف ائیر اسٹاف سمیت اعلیٰ عسکری افسران بھی شریک تھے۔اعزازی دستے کی جانب سے مہمان خصوصی کو جنرل سلامی پیش کی گئی، مہمان خصوصی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اعزازی دستے کا معائنہ کیا، پروقار تقریب میں اعلی فوجی افسران نے بھی شرکت کی۔

  • چھینی اور چوری کی گئیں 150 گاڑیاں اے آئی کیمروں کی مدد سے برآمد

    چھینی اور چوری کی گئیں 150 گاڑیاں اے آئی کیمروں کی مدد سے برآمد

    کراچی (کنزیومرواچ نیوز)سندھ حکومت کے نئے منصوبے ایس 4 کے جدید ترین اے آئی کیمروں کی مدد سے کراچی سے چھینی یا چوری کی گئی 150 سے زائد گاڑیاں برآمد کر لی گئیں۔پولیس کے مطابق گاڑیوں کی چوری اور چھینا جھپٹی کے الزامات میں ایک خاتون سمیت 200 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق چہروں اور نمبر پلیٹس کی شناخت کرنے والے جدید ترین آرٹیفیشل انٹیلی جنس کیمرے مختلف شہروں کے داخلی اور خارجی راستوں پر لگائے گئے ہیں۔ کراچی میں کیمروں سے لاکھوں چالان، اسٹریٹ کرمنلز، ٹارگٹ کلرز اور گٹر کے ڈھکن چور گرفت سے آزادکراچی سے چھینی و چوری کی گئی تمام گاڑیوں اور مطلوب ملزمان کا ڈیٹا بھی ایس فور کیمروں کے ڈیٹا بینک میں شامل کیا گیا ہے۔ جوں ہی چوری شدہ گاڑی یا ملزمان شہروں کے انٹری ایگزٹ راستوں سے گزرتے ہیں تو اے آئی کیمروں سے مذکورہ گاڑیوں اور ملزمان کی ازخود فوری نشاندہی ہو جاتی ہے۔ کراچی میں حال ہی میں تشکیل دی گئی سندھ پولیس ہائی وے پیٹرول کا عملہ مذکورہ گاڑیوں کو روک کر ملزمان کو گرفتار کرتا ہے اور اس طرح سے چوری کی گئی یا چھینی گئی گاڑیاں برآمد کی جاتی ہیں۔

  • غزہ جنگ کا  دباؤ، ایک اور اسرائیلی فوجی کی خودکشی

    غزہ جنگ کا دباؤ، ایک اور اسرائیلی فوجی کی خودکشی

    جدہ (کنزیومرواچ نیوز)غزہ میں جاری دو سالہ جنگ میں شامل ایک اور اسرائیلی فوجی نے خودکشی کرلی ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق رافیل بارزانی نامی فوجی غزہ میں کارروائیوں میں حصہ لیتا رہا اور شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔رپورٹس کے مطابق بارزانی پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) میں مبتلا تھا، جو جنگی صدمات کے باعث پیدا ہونے والی ذہنی کیفیت ہے۔اس بیماری میں مریض کو خوفناک خواب، فلیش بیک اور ذہنی بے چینی کا سامنا رہتا ہے، جس سے معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوتے ہیں۔اس واقعے کے بعد غزہ جنگ میں شریک اسرائیلی فوجیوں میں ذہنی بیماریوں اور خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اسرائیل میں اندرونی سطح پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

  • گڈز ٹرانسپورٹرز کا غیر معینہ مدت کیلیے پہیہ جام ہڑتال کا اعلان

    گڈز ٹرانسپورٹرز کا غیر معینہ مدت کیلیے پہیہ جام ہڑتال کا اعلان

    کراچی:(کنزیومرواچ نیوز)گڈز ٹرانسپورٹرز نے بروز پیر سے غیر معینہ مدت تک ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کردیا۔اس اعلان کا اظہار سابق رکن سندھ اسمبلی اور پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان نے اپنے ویڈیو بیان میں کیا۔ملک شہزاد اعوان کے مطابق گڈز ٹرانسپورٹرز نے پنجاب حکومت کو 72 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا تھا، جس میں گاڑیوں کے خلاف درج ایف آئی آرز واپس لینے، گاڑیوں کو ناجائز روکنے کا سلسلہ ختم کرنے اور ڈرائیورز کی گرفتاریوں پر اعتراضات شامل تھے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب پولیس کی جانب سے ٹرانسپورٹروں کے ڈرائیورز کو لاک اپ میں رکھا گیا جبکہ متعدد گاڑیوں کے خلاف ایف آئی آرز بھی درج کی گئیں، جس پر احتجاج کرتے ہوئے ٹرانسپورٹرز نے حکومت کو تین روز کی مہلت دی تھی۔ملک شہزاد اعوان نے بتایا کہ 72 گھنٹوں کے دوران اگرچہ پنجاب حکومت کے نمائندوں نے رابطہ کیا لیکن مطالبات کے حل کے لیے کوئی عملی پیش رفت نہیں کی گئی۔انہوں نے اعلان کیا کہ پیر سے کراچی سمیت ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹرز کوئی لوڈنگ نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک وفاقی، پنجاب اور سندھ حکومتیں تمام مطالبات تسلیم نہیں کرتیں، پہیہ جام ہڑتال غیر معینہ مدت تک جاری رہے گی۔ملک شہزاد اعوان نے اس تمام تر صورتحال کا ذمہ دار پنجاب حکومت کو قرار دیا۔راولپنڈی اسلام آباد میں اسکول کالج کے لیے چلنے والی پک اینڈ ڈراپ سروس بھی ہڑتال میں شامل ہیں۔ پک اینڈ ڈراپ وینز گھروں پر نہ پہنچیں جس کے بعد والدین از خود بچوں کو تعلیمی ادروں میں چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔شاہراؤں پر صبع سویرے پبلک ٹرانسپورٹ کی نقل و حرکت بھی نہ ہونے کے برابر۔ مال بردار اور گڈز ٹرانسپورٹرز بھی ہڑتال میں شامل ہیں۔ اتوار کو اضلاع کی سطح پر انتظامیہ کے ٹرانسپورٹرز سے مزاکرات جاری تھے۔ رات گیے تک لاہور میں صوبائی سطح پر بھی مذکرات ہوئے لیکن آرڈینس کے معاملہ پر ڈیڈ لاک برقرار رہا۔راجہ خاقان جمیل نے کہا کہ حکومت پنجاب ہمارے مطالبات کو منظور کرنے سے انکاری ہے۔ مطالبات کی منظوری تک کوئی ٹرانسپورٹر اپنی گاڑی کو روڈ کے اوپر نہ لے کر آئے۔ سوزوکی یونین کی جانب سے پک اینڈ ڈراپ اور دیگر ٹرانسپورٹ سے مسافروں کو اتار دیا گیا۔اسی طرح گڈز ٹرانسپورٹرز نے کنٹینرز، ٹرالرز اور ٹینکرز بھی روک دیے۔ تمام سامان بردار گاڑیوں کو پہیہ جام کر دیا گیا۔ کراچی بندرگاہ سے کوئی نئے سامان کی ترسیل کے لیے لوڈنگ روک دی گئی۔ تمام گاڑیاں ان لوڈ ہو کر ٹرک اسٹینڈ پر رک رہی ہیں۔

  • بھارت کی  آبی دہشت گردی، دریائے چناب میں پانی کا ریلہ چھوڑ دیا

    بھارت کی آبی دہشت گردی، دریائے چناب میں پانی کا ریلہ چھوڑ دیا

    لاہور (کنزیومرواچ نیوز)بھارت نے خوفناک آبی دہشت گردی کرتے ہوئے دریائے چناب میں پانی کا ریلہ چھوڑ دیا۔رپورٹ کے مطابق دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ 58 ہزار300 کیوسک ہوگیا، گندم کی فصل کو نقصان پہنچانے کےلیے بھارت نے ڈیم خالی کیے۔بھارت اب ڈیم دوبارہ بھرے گا جس سے دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ صفر ہوسکتا ہے، گندم کی فصل کو نقصان پہنچانے کے لیے بھارت نے آبی دہشت گردی کی۔قبل ازیں ہیڈ مرالہ سمیت دیگر دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آج صبح 6 بجے کی صورتحال کے حوالے سے ترجمان واپڈا نے کہا کہ تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 20 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 28 ہزار کیوسک ہے، منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد 3 ہزار 400 کیوسک اور اخراج 35 ہزار کیوسک ہے۔ترجمان واپڈا نے کہا کہ چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 32 ہزار 400 کیوسک اور اخراج 35 ہزار کیوسک ہے، ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 63 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 56 ہزار 900 کیوسک ہے۔ترجمان واپڈا نے کہا کہ نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی آمد 7 ہزار 400 کیوسک اور اخراج 7 ہزار 400 کیوسک ہے، تربیلا ریزروائر میں آج پانی کی سطح 1490.27 فٹ اور پانی کا ذخیرہ 26 لاکھ 68 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔ترجمان واپڈا نے کہا کہ منگلا ریزروائر میں آج پانی کی سطح 1212.10 فٹ اور پانی کا ذخیرہ 50 لاکھ 51 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔چشمہ ریزروائر میں آج پانی کی سطح 646.60 فٹ اور پانی کا ذخیرہ 1 لاکھ 97 ہزار ایکڑ فٹ ہے، تربیلا، منگلا اور چشمہ کے ریزروائرز میں قابل استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ 79 لاکھ 16 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔ترجمان واپڈا نے کہا کہ تربیلا، اور چشمہ کے مقامات پر دریائے سندھ، نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل اور منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد و اخراج 24 گھنٹے کے اوسط بہاؤ کی صورت میں ہے۔

  • پی ٹی آئی والوں کا اس مٹی سے کوئی رشتہ نہیں،وزیردفاع خواجہ آصف

    پی ٹی آئی والوں کا اس مٹی سے کوئی رشتہ نہیں،وزیردفاع خواجہ آصف

    اسلام آباد (کنزیومر واچ نیوز)وفاقی وزیردفاع خواجہ آصف نےکہا پی ٹی آئی نے گالم،گلوچ کو اپنا وطیرہ بنا لیا ہے،اس مٹی کے ساتھ انکا کوئی رشتہ نہیں،جب ایسی زبان کسی فرد اور ادارے کےخلاف بولی جائے گی تو جواب آنا فطری ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے بڑا مختاط جواب دیا ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نےسیالکوٹ میں میڈیا سےگفتگو میں کہا تحریک کی انصاف کی موجودہ لیڈر شپ کی زبان بھی وہی ہےجو باہربیٹھے افراد استعمال کر رہے ہیں،سیاست کریں لیکن ملک دشمنی نہ کریں۔مزیدکہامیں نےشہدا کےکئی جنازےپڑھےہیں کیایہ پاکستان کےشہری نہیں ہیں،ان کےصوبے میں شہادتیں ہوتی ہیں یہ جنازوں میں نہیں جاتے،یہ شہدا کے قربانیون کوتسلیم نہیں کررہے، انکو چاہیئےکہ شہدا کے جنازوں میں جائیں دہشت گردوں اور طالبان کی حمایت نہ کریں۔اس سےقبل وفاقی وزیردفاع نےاپنے بیان میں کہا فوج پرتنقیدہم نےبھی کی لیکن کبھی سرخ لکیر عبور نہیں کی،سوشل میڈیاپرسب کچھ پی ٹی آئی کی مرضی سےہورہاہے،پی ٹی آئی کے لوگ طالبان کو بھتہ دیتے ہیں۔وفاقی وزیردفاع خواجہ آصف نے کہابانی پی ٹی آئی کی بہن کی بھارتی میڈیا سے بات چیت تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی،چیئرمین پی ٹی آئی کیابات کرینگےجب ان کی اپنی پارٹی مخالفانہ بیانات دےرہی ہے، بیرسٹرگوہرکوکوئی لفٹ نہیں کراتا،پارٹی ورکرز ان کیخلاف بیان دیتے ہیں، تحریک انصاف دہشت گردی کے خلاف جنگ کی کھلی مخالفت کرتی ہے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوادہشتگردی کےخلاف جنگ نہیں لڑرہے۔مزیدکہا نوازشریف نےبھارتی میڈیا انٹرویوزمیں کبھی پاکستان کےوجود،سالمیت کیخلاف بات نہیں کی،پی ٹی آئی نےاپنےکسی رہنماکی پاکستان مخالف بات پرایک باربھی مذمت نہیں کی،نوازشریف کوقیدکیا گیا،انکو3مرتبہ ہٹایاگیالیکن کبھی ریڈلائن کراس نہیں کی۔،خواجہ آصف نےکہاپیپلزپارٹی کےلیڈرکوپھانسی دی گئی اسکے باوجود انہوں نے 9 مئی جیسا واقعہ نہیں کیا، محترمہ بینظیربھٹوکو شہیدکیاگیاپیپلزپارٹی نےتوکبھی بھارت کوآوازنہیں دی،پیپلزپارٹی اورن لیگ نےکبھی 9 مئی جیسااقدام نہیں کیا۔