Blog

  • استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد

    استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد

    اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر موجودہ کسٹمز ڈیوٹی کے ساتھ 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی ہے۔ یہ اعلان جمعرات کو حکومت کی جانب سے کیا گیا۔وزارت تجارت کی جانب سے جاری کردہ ایس آر او 1895 (1) 2025 کے مطابق پانچ سال سے کم پرانی گاڑیوں کی کمرشل درآمد پی سی ٹی ہیڈنگز 8702، 8703، 8704 اور 8711 کے تحت 30 جون 2026 تک کی اجازت ہوگی۔ اس کے بعد عمر کی پابندی ختم کی جا سکتی ہے۔درآمد شدہ گاڑیوں کو ماحولیاتی، حفاظتی اور معیار سے متعلقہ تقاضوں پر پورا اترنا ہوگا، جس میں انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کی جانب سے جانچ اور سرٹیفکیشن شامل ہے۔یہ اقدام اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے 18 ستمبر 2025 کو ہونے والے اجلاس میں اسکیم کی منظوری کے بعد کیا گیا، جس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب نے کی تھی۔ بعد ازاں وفاقی کابینہ نے بھی اس کی توثیق کردی۔نوٹیفکیشن کے مطابق استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی جون 2026 تک نافذ رہے گی، جس کے بعد ہر سال 10 فیصد کمی کی جائے گی اور مالی سال 2030 تک اسے بتدریج صفر تک لایا جائے گا۔ یہ فیصلہ ٹیرف پالیسی بورڈ کی سفارشات کے مطابق ہے۔ایس آر او میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ دفعات درآمدی پالیسی آرڈر 2022 کے تحت مذکورہ پی سی ٹی ہیڈنگز سے متعلق دیگر قواعد پر اثر انداز نہیں ہوں گی تاکہ کمرشل درآمد کا فریم ورک موجودہ تجارتی قوانین سے ہم آہنگ رہے۔

  • ایف بی آر کا نان کسٹمز پیڈ گاڑیوں کی آن لائن نیلامی کا فیصلہ

    ایف بی آر کا نان کسٹمز پیڈ گاڑیوں کی آن لائن نیلامی کا فیصلہ

    اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے نان کسٹمز پیڈ گاڑیوں کی فروخت کے لیے آن لائن/ای نیلامی ماڈیول متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔جمعرات کو ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیرصدارت ٹیمپرڈ اور ضبط شدہ گاڑیوں سے متعلق اعلیٰ سطحی کمیٹی کا فالو اپ اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں ایف بی آر نے نان کسٹمز پیڈ گاڑیوں کی آن لائن/ای نیلامی کے مجوزہ ماڈیول پر تفصیلی بریفنگ دی، جس کا مقصد فروخت کے عمل میں زیادہ شفافیت، مؤثریت اور منصفانہ طریقہ کار کو یقینی بنانا ہے۔ڈپٹی وزیراعظم نے ٹیکنالوجی پر مبنی حل اپنانے کے حکومتی عزم کو دہرایا تاکہ شفافیت میں اضافہ ہو اور قیمتی عوامی وسائل کی بچت ممکن بنائی جا سکے۔ایف بی آر ٹیمپرڈ اور ضبط شدہ گاڑیوں کی نیلامی کے لیے نیا کسٹمز جنرل آرڈر (سی جی او) بھی جاری کرے گا۔ اس حوالے سے موجودہ قوانین اور پالیسیوں کا جائزہ لیا گیا۔ذیلی کمیٹی نے جامع طریقہ کار تشکیل دینے کے بعد کسٹمز جنرل آرڈر (سی جی او) کو حتمی شکل دی، جسے ڈپٹی وزیراعظم نے منظوری دے دی۔اسحاق ڈار نے اس فیصلے کو گاڑیوں کی نیلامی کے عمل کو منظم کرنے، شفافیت بڑھانے، مؤثریت میں اضافے اور زیادہ سے زیادہ ریونیو حاصل کرنے کے لیے اہم قرار دیا۔اجلاس میں وزیر قانون و انصاف، معاون خصوصی طارق باجوہ، چیئرمین ایف بی آر اور سیکرٹری وزارت اطلاعات بھی شریک ہوئے۔

  • برطانیہ سے چوری ہونے والی قیمتی رینج روور صدر کراچی میں دیکھی گئی

    برطانیہ سے چوری ہونے والی قیمتی رینج روور صدر کراچی میں دیکھی گئی

    کراچی(اسٹاف رپورٹر) برطانیہ سے چوری ہونے والی قیمتی رینج روور کی کراچی کے علاقے صدر میں موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔یو کے سے مہنگی ترین گاڑی چوری ہو کر کراچی پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے، جس کی برآمدگی میں مدد کے لیے یو کے پولیس کی درخواست پر انٹرپول مانچسٹر نے سندھ پولیس کو خط لکھ دیا ہے۔خط میں درخواست کی گئی ہے کہ سیاہ رنگ کی رینج روور 22 نومبر 2022 کو ہیروگیٹ سے چوری کی گئی تھی، گاڑی کو ٹریک کرنے پر لوکیشن کراچی کے علاقے صدر کی آئی ہے۔چوری شدہ گاڑی کی لوکیشن یو کے پولیس کی جانب سے فراہم کی گئی ہے، انٹرپول نے لکھا ہے کہ پاکستان پولیس گاڑی برآمدگی کے لیے یو کے پولیس کی مدد کرے۔خط میں بتایا گیا ہے کہ رینج روور گاڑی میں لگے ٹریکر کا رابطہ لیڈز میں منقطع ہو گیا تھا، جس کی لوکیشن 11 فروری 2025 کو کورنگی روڈ اعظم بستی صدر ٹاؤن کی آئی تھی، خط کے مطابق گاڑی کی مکمل تفصیلات انٹرپول ایس ایم وی ڈیٹا بیس پر بھی موجود ہے۔خط موصول ہونے کے بعد پولیس کی جانب سے گاڑی کو تلاش کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

  • پاکستان میں ایک اور ملٹی نیشنل کمپنی نے اپنا بزنس ختم کرنے کا اعلان کردیا

    پاکستان میں ایک اور ملٹی نیشنل کمپنی نے اپنا بزنس ختم کرنے کا اعلان کردیا

    کراچی (کنزیومرواچ نیوز)کنزیومر مصنوعات بنانے والی ملٹی نیشنل کمپنی پراکٹر اینڈ گیمبل نے بھی پاکستان میں مینوفیکچرنگ بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔کمپنی اعلامیہ کے مطابق خطے کے دیگر ملکوں سے تیار کردہ مصنوعات ڈسٹری بیوٹر ماڈل کے زریعے صارفین تک پہنچائی جائیں گی۔
    کمپنی کے جاری کردہ بیان کے مطابق پی اینڈ جی نے اپنی عالمی حکمتِ عملی کے تحت ترقی اور قدر میں اضافے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے پاکستان میں اپنے کاروباری اور عملیاتی ماڈل میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔کمپنی اب ایک تیسرے فریق (ڈسٹری بیوٹر) کے ذریعے صارفین کو اپنی مصنوعات فراہم کرے گی۔ اس فیصلے کے تحت پی اینڈ جی پاکستان اور جِلیٹ پاکستان لمیٹڈ کی مینوفیکچرنگ اور کمرشل سرگرمیاں بتدریج ختم کر دی جائیں گی، اور پاکستانی صارفین کو خطے میں موجود دیگر آپریشنز کے ذریعے خدمات فراہم کی جائیں گی۔کمپنی اس عمل کی تکمیل تک معمول کے مطابق اپنا کاروبار جاری رکھے گی، جس میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی پی اینڈ جی پاکستان اور اس کے علاقائی معاون دفاتر فوری طور پر منتقلی کے منصوبے پر کام کا آغاز کریں گے جس میں سب سے پہلے توجہ پی اینڈ جی کے ملازمین پر دی جائے گی۔جن ملازمین کی ذمہ داریاں اس فیصلے سے متاثر ہوں گی، انہیں پی اینڈ جی کے دیگر ممالک میں موجود آپریشنز میں مواقع فراہم کیے جائیں گے یا پھر مقامی قوانین، کمپنی کی پالیسیوں اور اقدار و اصولوں کے مطابق علیحدگی پیکجز دیے جائیں گے۔متعدد ممکنہ آپشنز پر غور کرنے کے بعد کمپنی نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان میں صارفین کو خدمات فراہم کرنے کا سب سے موزوں طریقہ تیسرے فریق کے ڈسٹری بیوٹر ماڈل کو اپنانا ہے۔

  • دی آرگینک میٹ کمپنی نے کراچی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون پلانٹ میں آپریشنز کا آغاز کردیا

    دی آرگینک میٹ کمپنی نے کراچی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون پلانٹ میں آپریشنز کا آغاز کردیا

    کراچی (کنزیومرواچ نیوز)دی آرگینک میٹ کمپنی نے کراچی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون پلانٹ میں آپریشنز کا آغاز کردیا دی آرگینک میٹ کمپنی لمیٹڈ (TOMCL) نے کراچی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون (KEPZA) میں اپنے نئے پلانٹ پر یکم اکتوبر 2025 سے باضابطہ آپریشنز کے آغاز کا اعلان کردیا ہے۔ اس حوالے سے کمپنی نے بدھ کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کو باضابطہ اطلاع دی۔کمپنی کے مطابق یہ پلانٹ اس کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی محمد سعید محمد حسین لمیٹڈ (MSMHL) کے تحت قائم کیا گیا ہے، جو بھیڑ اور گائے کے آفلس (offals) کی پراسیسنگ، ان کی ہائیجینک ویلیو ایڈیشن اور عالمی منڈیوں بالخصوص مشرق وسطیٰ، یورپ، چین اور وسطی و مشرقی ایشیائی ممالک کو دوبارہ برآمد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔کمپنی نے بتایا کہ نیا پلانٹ خوردنی آفلس کی پراسیسنگ اور ایکسپورٹ کا ذمہ دار ہوگا، جن میں فروزن آفلس اور ڈی ہائیڈریٹڈ پیٹ چیوز شامل ہیں۔کمپنی کے ترجمان نے کہا کہ یہ اسٹریٹجک اقدام TOMCL کے طویل المدتی وژن کو تقویت دیتا ہے، جس کے تحت کمپنی کو مکمل طور پر انٹیگریٹڈ حلال گوشت اور بائی پروڈکٹ کمپنی بنایا جائے گا، روایتی کٹس اور مارکیٹ سے آگے بڑھتے ہوئے ایکسپورٹ بیس کو وسیع کیا جائے گا اور پاکستان کو پریمیم حلال سرٹیفائیڈ پروٹین مصنوعات کا قابلِ اعتماد ذریعہ بنایا جائے گا۔گزشتہ ماہ TOMCL نے اعلان کیا تھا کہ اس نے گولڈ کریسٹ ٹریڈنگ FZE کے ساتھ 81 لاکھ ڈالر مالیت کا ایکسپورٹ معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت متحدہ عرب امارات (UAE) کو صنعتی اور گھریلو استعمال کے لیے فروزن بون لیس بیف برآمد کیا جائے گا۔خیال رہے کہ دی آرگینک میٹ کمپنی 2010 میں پرائیویٹ لمیٹڈ کے طور پر رجسٹرڈ ہوئی تھی اور یہ حلال گوشت و اس سے منسلک مصنوعات کی پروسیسنگ اور فروخت کرتی ہے۔ سرخ گوشت اور بائی پروڈکٹس کی برآمد میں بھی یہ پاکستان کی نمایاں کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے، جن میں مشرق وسطیٰ اس کی بڑی برآمدی منڈی ہے۔

  • کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کو بائی لاز میں ترمیم کیلئے 60 دن کی مہلت

    کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کو بائی لاز میں ترمیم کیلئے 60 دن کی مہلت

    کراچی (کنزیومر واچ نیوز) ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریڈ آرگنائزیشنز(ڈی جی ٹی او) نے آل پاکستان کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن (اے پی سی سی اے) کے چیئرمین ارشد خورشید کے خلاف دائر شکایات کو مسترد کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کو اپنے بائی لاز میں ترمیم کے لیے 60 دن کی مہلت دے دی ہے، تاکہ نئی تعریف اور شواہد سے متعلق معیار کو شامل کیا جا سکے۔ریگولیٹر بلال خان پاشا کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی حکم میں دو مربوط شکایات کو نمٹا دیا گیا۔ پہلی شکایت جون 2025 میں سلطان انٹرپرائزز کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ارشد خورشید نے مارچ 2025 میں ای میل کے ذریعے استعفیٰ دے دیا تھا، جو قانونی طور پر مؤثر ہو چکا تھا، تاہم ڈی جی ٹی او نے قرار دیا کہ ایسوسی ایشن کے آرٹیکل 18( 4 ) کے تحت استعفے کی باقاعدہ منظوری ضروری ہے، جو پوری نہیں ہوئی، اس لیے ارشد خورشید کا چیئرمین بننا درست ہے۔دوسری شکایت میں 19 اراکین کو ایسوسی ایٹ سے کارپوریٹ کلاس میں منتقل کرنے کے طریقہ کار کو چیلنج کیا گیا، جس میں غیر مستند بینک اسٹیٹمنٹس کی بنیاد پر سالانہ ٹرن اوور کا تعین کیا گیا تھا۔ ڈی جی ٹی او نے وضاحت کی کہ سالانہ ٹرن اوور سے مراد وہ تمام مجموعی آمدنی ہے جو ایک مالی سال میں معمول کی کاروباری سرگرمیوں سے حاصل ہو، جس میں سروس فیس شامل ہو، مگر بالواسطہ ٹیکسز اور غیر آپریشنل آمدنی شامل نہ ہوں۔اب مستقبل میں ممبرشپ کی تبدیلی صرف آڈٹ شدہ مالیاتی گوشواروں یا ایف بی آر کے جمع کرائے گئے سالانہ انکم ٹیکس ریٹرن کی بنیاد پر کی جا سکے گی۔ بینک اسٹیٹمنٹس یا خود ساختہ سرٹیفکیٹس کو ناکافی قرار دیا گیا ہے۔ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل کو ویب سائٹ نہ چلانے پر وارننگ دی گئی ہے اور انہیں 6 ماہ میں کارپوریٹ گورننس سے متعلق تربیت مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

  • مہنگائی میں اضافے کی رفتار کی شرح 5.6 فیصد تک پہنچ گئی

    مہنگائی میں اضافے کی رفتار کی شرح 5.6 فیصد تک پہنچ گئی

    اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز)رواں مالی سال 26-2026 کی پہلی سہ ماہی(جولائی تا ستمبر)کے دوران ملک میں مہنگائی کی اوسط شرح 4.22 فیصد رہی ہے تاہم گزشتہ ماہ(ستمبر )کے دوران سالانہ بنیاد پر مہنگائی میں اضافے کی رفتار کی شرح 5.6 فیصد تک پہنچ گئی جو وزارت خزانہ کی طرف سے ستمبر میں مہنگائی کی شرح ساڑھے تین سے چار فیصد کے درمیان رہنے کے تخمینے سے زیادہ ہے۔وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کردی ہے، جس کے مطابق اگست کے مقابلے میں ستمبر کے دوران مہنگائی کی شرح دو فیصد رہی ہے۔حکام کے مطابق وزارت خزانہ نے ستمبر کے لیے مہنگائی کا تخمینہ 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان لگایا تھا، ادارہ شماریات کے مطابق جولائی تا ستمبر کی سہ ماہی میں اوسط مہنگائی 4.22 فیصد رہی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگست 2025 میں مہنگائی بڑھنے کی سالانہ شرح 2.99 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ ستمبر 2024 میں مہنگائی 6.9 فیصد بڑھی تھی۔ادارہ شماریات نے بتایا کہ ستمبر 2025 کے دوران دیہاتوں میں ماہانہ بنیاد پر مہنگائی کی شرح میں 2.8 فیصد اضافہ ہوا جبکہ شہروں میں مہنگائی میں 1.5 فیصد کا اضافہ ہوا۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ گزشتہ ماہ دیہات میں مہنگائی کی سالانہ شرح 5.8 فیصد رہی، ستمبر میں شہروں میں مہنگائی کی سالانہ شرح 5.5 فیصد رہی ہے جبکہ وزارت خزانہ نے ستمبر کے لیے مہنگائی کا تخمینہ 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان لگایا تھا۔وزارت خزانہ نے اپنے ماہانہ اقتصادی جائزے اور ستمبر 2025 کے آؤٹ لک میں کہا تھا کہ 2025 کے جاری سیلاب کی وجہ سے زرعی شعبہ متاثر ہونے کا امکان ہے، سیلاب سے متعلق رکاوٹیں خوراک کی سپلائی چین پر دباؤ ڈال سکتی ہیں جس کے نتیجے میں قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔مزید بتایا گیا تھا کہ اس کے باعث مہنگائی عارضی طور پر بڑھے گی مگر ستمبر 2025 میں یہ 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان قابو میں رہنے کی توقع ہے۔

  • برطانیہ میں کھانے پینے کی اشیاء کی “بائے ون گیٹ ون فری” ڈیلز پر پابندی عائد، وجہ کیا ہے؟

    برطانیہ میں کھانے پینے کی اشیاء کی “بائے ون گیٹ ون فری” ڈیلز پر پابندی عائد، وجہ کیا ہے؟

    لندن (کنزیومرواچ نیوز)برطانیہ میں کھانے پینے کی اشیاء کی “ بائے ون گیٹ ون فری” ڈیلز پر پابندی عائد کردی گئی۔ برطانوی حکومت نے موٹاپے پر قابو پانے خصوصاً بچوں کو موٹا پے سے بچانے کےلیے غیر صحت مند کھانے پینے کی اشیاء کی ایک کے ساتھ ایک فری ڈیلز پر پابندی لگا دی۔ حکام کے مطابق یہ پابندیاں سپر مارکیٹوں، بڑی دکانوں اور آن لائن خوردہ فروشوں پر لاگو ہوں گی، یہ پابندی ریستوران اور کیفیز میں کچھ مشروبات کی مفت ری فل پروموشنز پر بھی لاگو ہوں گی۔ اس حوالے سے برطانوی محکمہ صحت نے کہا کہ یہ پابندیاں بچوں کو زندگی میں ایک صحت مند، خوشگوار آغاز دینے کے لیے ایک اہم قدم ہیں کیونکہ موٹاپا بچوں کو زندگی کی بہترین شروعات سے محروم کر دیتا ہے اور انہیں زندگی بھر صحت کے مسائل سے دوچار کرتا ہے۔

  • بھارتیوں کی ایک بار پھر تاج محل کو متنازع بنانے کی سازش

    بھارتیوں کی ایک بار پھر تاج محل کو متنازع بنانے کی سازش

    نئی دھلی (کنزیومر واچ نیوز)بھارت میں ایک بار پھر محبت کی علامت کے طور پر شہرت رکھنے والے تاج محل کو متنازع بنانے کی سازش کی گئی ہے۔سینئر بالی وڈ اداکار پریش راول کی جانب سے اپنی نئی فلم’دی تاج اسٹوری‘ کا پوسٹر سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا تھا جس میں تاج محل کے گنبد سے شیو کی مورتی نکلتی دکھائی دے رہی ہے۔اس بیہودہ پوسٹر پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے جب پریش راول کو شدید ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا تو وہ پوسٹر ڈیلیٹ کرنے پر مجبور ہوگئے۔انہوں نے فلم پروڈکشن ٹیم کا بیان بھی جاری کیا جس میں وضاحت کی گئی کہ “دی تاج اسٹوری” نہ تو مذہبی موضوع پر بنی فلم اور ہے نہ ہی اس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہاں شیو کا مندر تھا۔ معروف برطانوی تاریخ دان ولیم ڈیل رمپل نے شیو مندر کی جگہ پر تاج محل بنانے کے دعوؤں کو مضحکہ خیز اور بدنیتی پر مبنی بکواس قرار دیا۔ماضی میں بھی تاج محل کو متنازع بناکر داغ دار کرنے کی سازش رچائی گئی واضح رہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ محبت کی علامت کی شہرت رکھنے والے تاج محل کو متنازع بناکر داغ دار کرنے کی سازش رچائی گئی ہو۔ کبھی یہ دعویٰ سامنے آتا ہے کہ تاج محل اصل میں راجیہ محلہ تھا، کبھی کوئی یہ کہہ دیتا ہے کہ تاج محل اصل میں شیو کے مندر پر بنایا گیا ہے۔مندر کی زمین پر تاج محل بنانے کے تنازع کی جڑ بھارت کے خود ساختہ مورخ پی این اوک کی 1989 کی کتاب ہے جس میں اوک لکھتا ہے کہ یہ جگہ جہاں تاج محل بنا ہے وہاں مغلوں سے بہت پہلے ہندو راجا جے شاہ نے مونومنٹ بنایا تھا، پی این اوک کے دعوے کی تردید بھارت کی جانی مانی مورخ ڈاکٹر راچیکا شرما نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کی۔پھر 2018 میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے تصدیقی خط جاری کیا کہ تاج محل مغل شہنشاہ شاہ جہاں اور اس کی بیوی ممتاز محل کا مقبرہ ہے، پر معاملہ یہاں دبا نہیں، خاص طور پر بی جے پی لیڈرز نے تاج کو اپنا ہدف بنائے رکھا۔ 2022 میں رجنیش سنگھ نے ہائیکورٹ میں درخواست لگا کر تاج محل کی تاریخ جاننے کے لیے فیکٹ فائنڈنگ پینل بنانے کا مطالبہ کیا۔ رجنیش سنگھ نے کہا کہ ہندو مورتیاں ڈھونڈنے کے لیے تاج محل کے 22 بند کمرے کھلوائے جائیں، اس کے بعد 2022 میں ہی جے پی کی رکن اسمبلی دیا کماری نے دعویٰ کیا کہ جہاں تاج محل بنا ہے وہ جگہ اس کے پُرکھوں کی ہے۔

  • جونیئر ہاکی ورلڈکپ: پاکستان کا اپنے میچز بھارت سے  منتقل کرنے کا مطالبہ

    جونیئر ہاکی ورلڈکپ: پاکستان کا اپنے میچز بھارت سے منتقل کرنے کا مطالبہ

    کراچی (کنزیومرواچ نیوز)پاکستان ہاکی فیڈریشن نے جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں پاکستان کے میچ بھارت سے دوسرے ملک منتقل کرنے کا مطالبہ کردیا۔پاکستان ہاکی فیڈریشن نے انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کو خط لکھ کر بھارت میں ہونے والے جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں پاکستان کے میچز کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ایچ ایف نے اپنے خط میں پاکستانی کھلاڑیوں کو درپیش سکیورٹی خدشات سے آگاہ کیا اور پاکستان ہاکی ٹیم کے میچ بھارت کے بجائے نیوٹرل مقام پر کھیلنے کا مطالبہ کیا۔ جونیئر ہاکی ورلڈ کپ 28 نومبر کو بھارت میں شروع ہوگا اور 11 دسمبر تک جاری رہے گا۔ واضح رہے اس سے قبل پاکستان ہاکی ٹیم بھی ایشیا کپ کھیلنے بھارت نہیں گئی تھی۔