Blog

  • پروپیگنڈے میں نہ آئیں، دوست اور دشمن کو پہچانیں، مریم نواز

    پروپیگنڈے میں نہ آئیں، دوست اور دشمن کو پہچانیں، مریم نواز

    لاہور:(کنزیومرواچ نیوز)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ لوگ پروپیگنڈے میں نہ آئیں، دوست اور دشمن کو پہچانیں، پنجاب سے احساس محرومی ختم کردوں گی۔تعلیمی بورڈز کے پوزیشن ہولڈرز طلبہ کے اعزاز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ صوبے میں 50 ہزار اسکولوں میں کروڑوں بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں، حکومت ہونہار طلبہ کو لیپ ٹاپ فراہم کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز سمیت ہر افسر کی تعیناتی سے قبل وہ خود انٹرویو لیتی ہیں۔ پنجاب میں وزیرِ تعلیم کا بیٹا بھی سرکاری اسکول میں پڑھتا ہے۔ جس ملک میں اتنے ٹاپرز ہوں، وہ کبھی زوال کا شکار نہیں ہوسکتا۔ پنجاب میں 80 ہزار طلبہ اسکالرشپ پر اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ حکومت نے فوڈ سکیورٹی کے بعد اب ایجوکیشن سکیورٹی پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ سرکاری اور نجی اسکولوں میں معیارِ تعلیم کا فرق مٹانے کا تہیہ کر رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں گوگل اور اے آئی کلاس رومز بنائے جارہے ہیں، بچوں کو کروم بکس دیے جارہے ہیں اور گرین و الیکٹرک بسوں میں طلبہ کے لیے سو فیصد مفت سفر کی سہولت فراہم کی گئی ہے، جن میں وائی فائی اور سی سی ٹی وی کی سہولت بھی موجود ہے۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب میں سفارش اور دھاندلی کا خاتمہ کردیا گیا ہے، خواتین کی ہراسمنٹ پر چوبیس گھنٹے کے اندر کارروائی ہوتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ صوبے کے کئی شہروں میں اب کئی ہفتوں سے کوئی کرائم رپورٹ نہیں ہوا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں اسکولوں میں پنکھوں، پانی اور باتھ رومز سمیت تمام سہولیات کی فراہمی کے لیے 80 ارب روپے جاری کیے جاچکے ہیں۔ کتاب اور پینسل کے ساتھ اب ٹیکنالوجی ناگزیر ہو چکی ہے۔ ہم نے گھوسٹ اسکولوں اور گھوسٹ طلبہ کا خاتمہ کیا، ڈیڑھ سال میں کہیں بھی اساتذہ کی کمی نہیں رہی اور اب مضامین کے ماہرین بھرتی کیے جارہے ہیں۔مریم نواز نے بتایا کہ پنجاب میں میٹرک ٹیک متعارف کرایا گیا ہے جہاں 60 ہزار بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں، جبکہ 8 ارب روپے سے مفت یونیفارم اسکیم بھی شروع کی جارہی ہے تاکہ والدین پر بوجھ کم ہو۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے تمام وسائل عوام کے ہیں، جنہیں ان کے حقوق دینے سے پہلے والی حکومتیں محروم رکھتی رہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ریاست ماں ہوتی ہے، جو اپنے بچوں کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک نہیں کرتی۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ اپنی بچیوں کو تعلیم حاصل کرنے اور ملک کی ترقی میں حصہ لینے کا موقع دیں۔ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے پر اندھا یقین نہ کریں، کیونکہ یہ عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ نوجوانوں کو جلاؤ گھیراؤ پر اکساتے ہیں، وہ ان کے دشمن ہیں، دوست نہیں۔ مریم نواز نے 9 مئی کے واقعات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جنہوں نے ملک جلا دیا، ان کے کہے میں آنے والے آج جیلوں میں ہیں، جبکہ خود ان کے بچے باہر محفوظ ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ شہباز شریف کو خالی خزانہ ملا، لیکن آج ملک ڈیفالٹ سے نکل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ آج پنجاب میں 13 روپے کی روٹی دستیاب ہے جب کہ دیگر صوبوں میں 20 روپے کی ہے۔ مریم نواز نے وعدہ کیا کہ اگر اللہ نے 5 سال دیے تو پنجاب کو ایسا ترقی یافتہ صوبہ بناؤں گی جسے دیکھنے لوگ آئیں گے۔

  • اسرائیل کا گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ، سابق پاکتانی سینیٹر سمیت 200 گرفتار

    اسرائیل کا گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ، سابق پاکتانی سینیٹر سمیت 200 گرفتار

    تل ابیب/غزہ:(کنزیومرواچ نیوز) اسرائیلی فوج نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے عالمی قافلے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ کر کے کئی کشتیوں کو روک لیا اور سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور سابق پاکستانی سینیٹر مشتاق احمدسمیت متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔عرب میڈیا کے مطابق صمود فلوٹیلا میں 40 سے زائد کشتیوں پر تقریباً 500 انسانی حقوق کے کارکنان، پارلیمنٹیرینز، وکلا اور صحافی سوار تھے، جو غزہ کے عوام تک ادویات اور خوراک پہنچانے کے مشن پر روانہ ہوئے تھے۔ فلوٹیلا اس وقت جنگ زدہ علاقے سے تقریباً 90 میل دور تھی جب اسرائیلی بحریہ نے اس کا گھیراؤ کیا۔اسرائیلی وزارت خارجہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر کہا کہ ’’صمود فلوٹیلا کے جہازوں کو بحفاظت روک دیا گیا ہے‘‘ اور گرفتار کارکنان کو اسرائیلی بندرگاہ اشدود منتقل کیا جا رہا ہے۔ وزارت نے ایک ویڈیو بھی جاری کی، جس میں گریٹا تھنبرگ کو لے جاتے دکھایا گیا ہے۔دوسری جانب صمود فلوٹیلا انتظامیہ نے تصدیق کی کہ صیہونی فوجی کشتیوں پر سوار ہو گئے اور جہازوں پر نصب کیمروں کو بھی بند کر دیا۔ فلوٹیلا کی اسٹیئرنگ کمیٹی کی رکن یاسمین آقار نے کہا کہ ’’اسرائیلی بحری جہازوں نے ہماری کشتی الما کو گھیر لیا ہے، ہم روک لیے جانے کے لیے تیار ہیں‘‘۔اسرائیلی وزارت خارجہ کی ویڈیو میں ایک نیول افسر فلوٹیلا کو راستہ بدل کر اشدود کی بندرگاہ جانے کا کہہ رہا ہے، تاکہ امداد کی سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد اسے غزہ بھیجا جا سکے۔ تاہم فلوٹیلا کے منتظمین نے اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے مطابق انسانی ہمدردی کی امداد کو روکنا غیر قانونی ہے۔فلوٹیلا کے ایک مسافر خوسے لوئس یبوت نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’’ہمارے اردگرد تقریباً دو درجن اسرائیلی جہاز ہیں، وہ ہمیں گرفتار کرنے آ رہے ہیں‘‘۔

    ایک کشتی کے غزہ پہنچنے کا دعویٰ

    گلوبل صمود فلوٹیلا کے قافلے میں شامل کشتی Mikeno پر سوار عرب صحافی حسن مسعود نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کی کشتی غزہ کی سمندری حدود میں داخل ہو چکی ہے۔
    بین الاقوامی ردعمل

    اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے کہا کہ اسرائیلی وزیر خارجہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کارکنوں کے خلاف تشدد استعمال نہیں کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ کشتیوں پر موجود غیر ملکی شہریوں کو ممکنہ طور پر اسرائیل منتقل کرنے کے بعد ملک بدر کر دیا جائے گا۔
    اٹلی کی سب سے بڑی یونین نے بھی فلوٹیلا پر اسرائیلی کارروائی کے خلاف عام ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ یونین کا کہنا ہے کہ اسرائیل جان بوجھ کر خوراک، ادویات اور ضروری سامان کو غزہ میں داخلے سے روک رہا ہے، جس سے بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

    حملوں کے باوجود مشن جاری

    گلوبل صمود فلوٹیلا کے ترجمان سیف ابو کشیک نے انسٹاگرام پر ایک ’مشن اپ ڈیٹ‘ جاری کی ہے، جس میں تصدیق کی گئی ہے کہ اسرائیلی افواج نے سمندر میں 13 کشتیوں کو روک لیا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ گرفتاریوں کے باوجود گروپ کا مشن جاری ہے، اور جہاز اب بھی بحیرۂ روم کے راستے غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لیے رواں دواں ہیں۔

    ابو کشیک کے مطابق فلوٹیلا کے تقریباً 30 جہاز ہیں جو اب بھی قابض افواج کے فوجی جہازوں سے بچتے ہوئے غزہ کے ساحل تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    گرفتار کارکنوں کے بیانات

    فلوٹیلا میں شامل امریکی کارکن لیلیٰ ہیگزی کا پہلے سے ریکارڈ شدہ پیغام سوشل میڈیا پر جاری کیا گیا، جس میں انہوں نے کہا:
    ’’اگر آپ میری ویڈیو دیکھ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ مجھے اسرائیلی فوج نے اغوا کر لیا ہے۔ یہ اقدام غیر قانونی ہے۔ میں عالمی برادری اور امریکی حکومت سے مطالبہ کرتی ہوں کہ فلسطینی عوام کی نسل کشی میں اسرائیل کی حمایت بند کی جائے اور تمام کارکنوں کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنایا جائے۔‘‘

    پس منظر

    یاد رہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا کئی یورپی اور عرب ممالک کے کارکنوں کی مشترکہ کاوش ہے، جو اسرائیل کی غزہ پر عائد سخت ناکہ بندی توڑنے کے لیے عالمی سطح پر سرگرم ہے۔ اسرائیل متعدد بار وارننگ دے چکا تھا کہ وہ فلوٹیلا کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔

  • حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں بڑا اضافہ کردیا

    حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں بڑا اضافہ کردیا

    اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز)وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا اعلان کردیا اور پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 7 پیسے کا بڑا اضافہ کردیا۔وزارت خزانہ کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 7 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا ہے اور پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 264 روپے 61 پیسےسے بڑھا کر 268 روپے 68 پیسے فی لیٹرمقرر کر دی گئی ہے۔ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 4 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا ہے، جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 276 روپے 81 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے جو کہ 272 روپے 77 پیسے فی لیٹر تھی۔وزارت خزانہ کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہوگا اور اگلے 15 دن کے لیے لاگو رہیں گی۔

  • دانش تیمور نے بولڈ سین میں سب حدیں پار کردیں، سوشل میڈیا پر تنقید

    دانش تیمور نے بولڈ سین میں سب حدیں پار کردیں، سوشل میڈیا پر تنقید

    کراچی (کنزیومرواچ نیوز)پاکستان شوبز انڈسٹری کے ہر دلعزیز اداکار دانش تیمور ایک بار پھر سوشل میڈیا کی سخت تنقید کی زد میں ہیں۔ اس بار وجہ بنی ہے ان کے ایک پرانے ڈرامے کا بولڈ سین، جس کا کلپ اچانک وائرل ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مداحوں اور ناقدین کی زبانوں پر دانش تیمور کا چرچا ہونے لگا۔دانش تیمور گزشتہ کئی برسوں سے ہٹ ڈراموں کا حصہ رہے ہیں اور جارحانہ کرداروں نے انہیں ایک منفرد پہچان دی ہے۔ مداح انہیں عموماً سخت اور غصے والے کرداروں میں دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں، لیکن اب سامنے آنے والے اس پرانے کلپ نے سب کو حیران کر دیا۔ سوشل میڈیا صارفین کہنے لگے کہ ’’یہی وہ دانش تیمور ہیں جنہیں ہم ہیرو کے روپ میں دیکھتے آئے ہیں؟‘‘دلچسپ بات یہ ہے کہ دانش تیمور کو پہلے بھی ڈرامہ سیریل ’من مست ملنگ‘ میں بولڈ سین کرنے پر کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ لیکن اس بار معاملہ اور بھی پرانا نکلا۔ وائرل ہونے والے کلپ کے مطابق یہ سین غالباً 2008ء کے ڈرامے کا ہے، جس میں دانش تیمور اور اداکارہ جیا علی کو بولڈ کرداروں میں دکھایا گیا ہے۔

  • کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

    کراچی (کنزیومرواچ نیوز)کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق کراچی کے علاقوں ملیر، آئی آئی چندریگر روڈ اور دیگر علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔زلزلہ پیما مرکز کا بتانا ہے کہ زلزلہ صبح 9 بج کر 34 منٹ پر ریکارڈ کیا گیا جس کی شدت 3.2 اور گہرائی زیر زمین 10 کلو میٹر تھی۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کا مرکز ملیر سے 7 کلومیٹر شمال مغرب میں تھا۔ اس حوالے سے ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ موسمیات انجم نذیر نے کہا کہ 3 شدت کے زلزلے اکثر آتے ہیں مگر یہ زیادہ محسوس نہیں ہوتے گر چونکہ یہ شدت 3 سے زیادہ تھی اس لیے شدت محسوس ہوئی۔

  • پیپلز پارٹی کو مریم نواز کی کارکردگی سے خوف آتا ہے: عظمیٰ بخاری

    پیپلز پارٹی کو مریم نواز کی کارکردگی سے خوف آتا ہے: عظمیٰ بخاری

    اسلام آباد: (کنزیومرواچ نیوز)وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کو وزیراعلیٰ مریم نواز کی کارکردگی سے خوف آتا ہےنجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اگر اتحادی ڈھنگ کا مشورہ دیں تو کیوں نہیں لیں گے مگر آپ نے سیاست شروع کردی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم بیرونی امداد نہیں لے رہے تو زبردستی کیوں کررہے ہیں، انتظامی معاملات میں کسی صوبے کا گھسنا یا سیاست کرنا قطعی نامناسب ہے، ضروری نہیں کہ سیلاب کے متاثرین بی آئی ایس پی میں رجسٹرڈ ہوں۔عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ سندھ میں سیلاب آیا تو ہم نے کوئی سیاسی بیان نہیں دیا، پیپلز پارٹی کو وزیراعلیٰ مریم نواز کی کارکردگی سے خوف آتا ہے، پرفارمنس کا مقابلہ کریں لیکن الزام تراشی نہ کریں۔ صوبائی وزیرا طلاعات نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی سے اتحاد ملک میں استحکام اور آگے بڑھنے میں اچھی کارکردگی دکھارہا ہے۔

  • کوئٹہ: سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 10 دہشتگرد ہلاک

    کوئٹہ: سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 10 دہشتگرد ہلاک

    کوئٹہ(کنزیومرواچ نیوز) سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 10 دہشتگرد مارے گئے۔سکیورٹی ذرائع کا بتانا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے کوئٹہ کے مضافاتی علاقے غزہ بند میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کیا جس دوران 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشتگردوں سے مقابلے میں 2 سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا جس دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔سکیورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ ہلاک دہشتگردوں سے بھاری تعداد میں اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔

  • پاک فوج نے   فتح 4  کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا

    پاک فوج نے فتح 4 کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا

    راولپنڈی (کنزیومرواچ نیوز)پاک فوج نے ملکی ماہرین کے تیار کردہ فتح 4 گراؤنڈ لانچ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق یہ میزائل 750 کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، فتح-4 کی شمولیت سے آرمی راکٹ فورس کمانڈ کی استعداد کار میں مزید اضافہ ہوگا۔جدید ایویونکس اور نیویگیشنل سسٹمز سے لیس یہ میزائل ٹیرین ہگنگ خصوصیات کے باعث دشمن کے میزائل ڈیفنس سسٹم کو چکما دینے اور انتہائی درستگی سے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔پاکستان آرمی کے روایتی میزائل سسٹمز کی رینج، مہارت اور بقا کی صلاحیت کو تقویت ملے گی۔کامیاب تجربے کا مشاہدہ چیف آف جنرل اسٹاف، پاک افواج کے سینیئر افسران اور میزائل تیار کرنے والے سائنسدانوں و انجینئرز نے کیا۔صدر مملکت، وزیراعظم پاکستان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور تینوں سروسز چیفس نے کامیاب تجربے پر شریک افسران، جوانوں، سائنسدانوں اور انجینئرز کو مبارکباد پیش کی۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے فتح 4 کروز میزائل کے کامیاب تجربہ پر پوری قوم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ فتح 4 میزائل کا کامیاب تجربہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت میں ایک اہم اضافہ ہے۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے اگر کسی نے ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو بہت جلد وہ اپنے انجام سے واقف ہوگا۔وزیراعلیٰ نے شاندار کامیابی پر پاک فورسز، انجینئرز اور سائنسدانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

  • پاکستان میں اخباری اشاعت کازوال،ذمہ دار کون؟ (آغاخالد)

    پاکستان میں اخباری اشاعت کازوال،ذمہ دار کون؟ (آغاخالد)

    کراچی میں تمام اردو، سندھی اور انگریزی اخبارات کی روزانہ کی اشاعت 80 ہزار تک محدود ہوچکی ہے تاہم یہی اشاعت اتوار کو چھٹی کی وجہ سے ایک لاکھ 7 ہزار تک پہنچ جاتی ہے جبکہ چند برس قبل تک صرف روزنامہ جنگ کی اشاعت ڈیڑھ سے دو لاکھ تھی جبکہ بعض اہم واقعات خصوصا احتجاجی تحریکوں یا جنگوں کے دنوں میں یہی اخبار ساڑھے 3 لاکھ تک چھپتا رہاہے جبکہ کراچی کے اخبار فروشوں کے مطابق شہر کے تمام اخبارات کو ملاکر چند برس قبل تک یہ تعداد 7 لاکھ کے لگ بھگ تھی، حیرت انگیز طور پر انگریزی کے سب سے بڑے اخبار “ڈان” کی اشاعت میں کوئی خاص کمی نہیں آئی جبکہ یہ اخبار تیسری دنیا کے معاشی بحران میں مبتلا ملک کی اشرافیہ کا پسندیدہ اخبار سمجھا جاتا ہے، تیزی سے تبدیل ہوتی دنیا کے اثرات نے اس طبقہ کو شاید متاثر نہیں کیاہے اور نہ ہی تیز رفتار برقیاتی ذرائع کو وہ اپنے پسندیدہ اخبار پر ترجیح دینے کو راضی ہیں، تاہم اس سے یہ نتیجہ ہرگز نہیں نکالا جا سکتا کہ پاکستان یا خصوصا کراچی کی نئی نسل مطالعہ کے شعبہ میں بانجھ ہوچکی ہے کیونکہ یہی اخبارات پرنٹنگ کے شعبہ میں اگر زوال پذیر ہوے ہیں تو نیٹ (ای پیپر) پر غیر مصدقہ ویب پر موجود معلومات کے مطابق ان کی اشاعت کروڑوں میں پہنچ چکی ہے اور دنیا بھر کے اردو/انگریزی کے قارئین نیٹ پر ان کے مطالعہ کو ترجیح دے رہے ہیں جس سے نہ صرف روز بروز نیٹ پر ان کی مانگ میں تیزی آرہی ہے بلکہ اس سے ان کی آمدنی میں بھی معقول اضافہ ہورہا ہے، تازہ اعدادو شمار کے مطابق 3 ماہ میں ڈان کے نیٹ پر قارئین کی تعداد 2 کروڑ 98 لاکھ جبکہ جنگ 85 لاکھ 3 ہزار، ایکسپریس دو ویب ہیں پہلی پر 53 لاکھ جبکہ دوسری پر 16 لاکھ، اسی طرح نوائے وقت کے نیٹ پر قائین ہیں 2 لاکھ 74 ہزار، جنگ گروپ کے سابق گروپ ایڈیٹر محمود شام نے اس نمائندہ کے سوال پر اخبارات کے معیار کو زوال پذیر معاشرہ کا آئینہ قرار دے چکے ہیں اور پاکستان میں اردو صحافت کے امام “جنگ” کی خبروں کی گراوٹ پر انہوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے، اور اسے مالکان کے مفادات کی ہوس قرار دیاہے ان کا کہناہے کہ اکثر اخباری مالکان نے ٹی وی چینل نکال لیے جس کے اخراجات کم اور کمائی زیادہ ہے جبکہ اس کی نسبت اخبار کی کمائی کم ہے، جنگ اور ڈان سمیت چند دیگر اخبارات کے اشتہاری شعبے اس قدر فعال ہیں کہ اتوار کو انہیں بڑی تعداد میں عوامی دلچسپی کے حامل اشتہارات ملتے ہیں جس کی وجہ سے اس روز کی اشاعت میں ہزاروں کا اضافہ ہوجاتا ہے، 98 فیصد اخبارات اس شعبہ میں بھی ناکام ہیں واضع رہے کہ ملک بھر میں آج بھی ڈیڑھ لاکھ سے زائد اخبارات و رسائل رجسٹر ہیں اور ان کی ایک خاصی بڑی تعداد وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں سے سرکاری اشتہارات بھی حاصل کرہی ہے صحافتی تنظیموں کے نزدیک زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ایسے چند اخبارات جو ماضی میں لاکھوں کی اشاعت رکھتے تھے اب چند سو چھپ رہے ہیں سندھ کی وزارت اطلاعات کے ایک ناراض افسر کا کہنا ہے کہ ایسے چند اخبارات جو ماضی میں چاروں صوبوں میں لاکھوں کی تعداد میں چھپ رہے تھے اب صرف سرکاری ریکارڈ کا پیٹ بھرنے کو چند سو چھپ رہے ہیں مگر سرکاری اور نجی اشتہارات کا ماضی کی طرح ہی اپنا کوٹہ پورا حاصل کرہے ہیں جبکہ اس سلسلہ میں دو بڑے صحافی رہنمائوں خورشید عباسی اور امتیاز خان فاران سے کیے گئے الگ الگ رابطوں میں انہوں نے ایسے ہی اداروں کو صحافیوں کے روزگار کا اصل قاتل قرار دیاہے ان کا کہناہے کہ وہ صحافت کے نام پر تمام حکومتی مراعات اور اشتہارات چاہے وہ نجی ہوں یا سرکاری کا بڑا حصہ حاصل کرہے ہیں جس سے ان کے خاندانوں کی عیاشیاں دیکھی جا سکتی ہیں مگر ان اداروں کو پوری جوانیاں دینے والے پیشہ ور صحافیوں کو یک جنبش قلم نکال باہر کیا گیاہے جس سے ملک بھر میں عموما اور کراچی میں خصوصا صحافی برادری میں بے روزگاری کی بدترین لہر آئی ہوئی ہے اور بڑی تعداد میں ملازمتوں سے محرومی کے سبب بیشتر صحافیوں کی صدمہ سے اموات ہورہی ہیں یا وہ متعدی بیماریوں میں مبتلا ہوچکے ہیں جس کے ذمہ دار یہی ادارے ہیں جن کا بہر حال احتساب ہونا چاہیے اس نمائندہ کی جانب سے فروری سے جولائی 2025 کے درمیان اخبارات کے زوال پر سروے میں کراچی کے اکثر چھوٹے بڑے اخبارات کے ایجنٹوں سے رابطے کرکے ان کی کراچی میں فروخت کے جو اعدادو شمار اکٹھے کیے گئے ہیں اور ان کی تصدیق نیو چالی کے مرکزی ڈپو کے علاوہ علاقائی ڈپوز اور تین بڑی پرنٹنگ پریس سے بھی کی گئی ہے اس کے مطابق روزنامہ جنگ کی اشاعت 14 ہزار 500 کے ساتھ قیمت 30 روپے ہے جبکہ اتوار کی اشاعت 38 ہزار اور قیمت 35 روپے ہے روزنامہ ایکسپریس اتوار کی اشاعت 9 ہزار اور قیمت 40 روپے جبکہ عام ایڈیشن 8000 ہزار کی اشاعت کے ساتھ شائع ہو رہا ہے روزنامہ امت عام دنوں میں 9000 ہزار جبکہ اتوار کو 11 ہزار کی اشاعت کے ساتھ قیمت 30 روپے،مزید برآں ریاست کی قیمت 20 روپے اور اشاعت 6 ہزار 200 ہے۔ قومی اخبار 7 ہزار 100، روزنامہ آغاز 3500 سو، جناح 2 ہزار،
    دنیا 3 ہزار 400 کی اشاعت 30 روپے جسارت 1500 سو جبکہ اتوار کو 1800 سو، نوائے وقت اور خبریں بالترتیب 250 اور اتوار کو 500 سو، اوصاف 1200 سو، روزنامہ امن 500 سو، جرئت 700 سو، علاوہ ازیں دیگر اخبارات میں اسلام، حریت، جہان پاکستان، 200 سے 300 تک، نئی بات 400 سو، سندھی اخبارات میں کاوش 2 ہزار کی اشاعت کے ساتھ 40 روپے میں دستیاب ہے، پھنجی اخبار 450، عوامی آواز 300 سو اسی طرح ہفت روزہ سوبھ 70 کی اشاعت اور 40 روپے قیمت کے ساتھ شائع ہوتا ہے، انگریزی روزنامہ ڈان کی اتوار کی اشاعت حیرت انگیز حدتک 18 ہزار ہے اور قیمت 50 روپے، جبکہ عام دنوں میں 13 ہزار اشاعت اور قیمت 35 روپے، جبکہ اس کے مقابل دی نیشن کی اشاعت 250 اور قیمت 40 روپے، ٹریبیون 1 ہزار 200 اور دی نیوز کی اشاعت 1 ہزار 100 اور قیمت 45 روپے ہے،
    اس سروے کے لیے مارچ 2025 سے جون 2025 تک شہر کے مختلف اسٹالز کا معائنہ کیا گیا جبکہ نیو چالی کےمرکزی ڈپو سمیت اورنگی ٹائون، کورنگی، لانڈھی، ملیر، قائدآباد، ریگل صدر، ایف بی ایریا، لیاقت آباد، ناظم آباد، نیو کراچی، گڈاپ اور سرجانی ٹائون کے چھوٹے بڑے ڈپوز اور مرکزی اسٹالز سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق یہاں یہ جاننا بھی ضروری ہوگا کہ اخباری طباعت کے زوال کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہماری نوجواں نسل مطالعہ سے دور ہوگئی ہے یا انہیں ملکی و بین الاقوامی حالات و واقعات سے سروکار نہیں کیونکہ جن اخبارات و رسائل کی طباعت میں اشاعت گری ہے اس سے کئی گنا نیٹ پر ان کی مانگ بڑھ گئی ہے بڑے اخبارات کے ایک اہم ایجنٹ احمد حسین اس کی وجہ مہنگا اخباری کاغذ اور طباعت کے ہوش ربا اخراجات کو قرار دیتے ہیں اور دعوی کرتے ہیں کہ اشاعت کا زوال مصنوعی ہے کیونکہ مالکان کو بڑھتی اشاعت سے نقصان ہوتاہے اخبار کی قیمت سے اس کے اخراجات پورے کرنا تقریبا ناممکن ہوچکا ہے اور یہی وجہ تیزی سے اخباری اشاعت کا زوال بنی ہے، سی پی این ای کے ایک دھڑے کے سربراہ اور ممتاز صحافی جبار خٹک کہتے ہیں کہ اس موضوع پر کتاب بھی ناکافی ہوگی تاہم بنیادی وجہ انہوں نے چند مخصوص بڑے اخباری گروپوں کا اس شعبہ پر قبضہ قرار دیا جن کا نجی اور سرکاری اشتہارات پر بھی اختیار ہے اور مخصوص مفادات کے تحت وہ اخباری صنعت کو ارادتا زوال کی طرف لے کر جارہے ہیں انہوں نے بھارت اور دیگر پڑوسی ممالک کا حوالہ دیتے ہوے کہاکہ کہیں بھی اخباری صنعت اس قدر تیزی سے زوال پذیر نہیں ہوئی ہماری اسٹبلشمنٹ کو بھی انہوں نے اخباری زوال کی ایک وجہ قرار دیا جو روز بروز خبر کا گلا گھونٹ رہی ہے اور خبر نہ ہونے کی وجہ سے بھی قارئین مایوس ہورہے ہیں جبکہ سوشل میڈیا اسی وجہ سے طاقت پکڑ رہاہے ایک سوال پر انہوں نے مہنگے کاغذ اور طباعت کے اخراجات کو بھی اس کی ایک بڑی وجہ تسلیم کیا، قومی اخبار گروپ کے چیف ایڈیٹر اسد شاکر کہتے ہیں خبر کی سوشل میڈیا پر منتقلی بڑی وجہ ہے یہاں تک کہ سوشل میڈیا پر آج پائی گئی خبر اخبار میں دوسرے روز ملنے لگی ہے جس سے قاری کا اعتماد مجروح ہوا اور یوں دیگر مسائل سمیت اشاعت زوال پذیر ہوتی گئی۔

  • برلن میں ہفتہ مسلم تہذیب،،،،، سرور غزالی

    برلن میں ہفتہ مسلم تہذیب،،،،، سرور غزالی

    برلن میں مورخہ 19 ستمبر سے لے کر 5 اکتوبر 2025 ٹک ایک “ہفتہ مسلم تہذیب” منایا جا رہا ہے۔ اس ہفتہ اسلامی تہذیب کو برلن کی مقامی حکومت کے ماتحت محکمے، “محکمہ برائے تہذیب و ثقافت اور باہمی میل جول” کی جانب منعقد کیا جا رہا ہے اس سلسلے میں 19 ستمبر سے لے کر 5 اکتوبر تک کل 60 پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ پروگرام کو مشتہر کرنے کے لیے اخباری ضمیمہ، پوسٹر، اور انٹرنیٹ اعلانیہ جاری کیا گیا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی کڑی اس ہفتے اسلامی تہذیب کا افتتاحی پروگرام 19 ستمبر 2025 کو برلن کی فائن ارٹس یونیورسٹی کے ہال جوزف آخم کنسرٹ ہال برلن میں ایک خوبصورت شام کی صورت میں برپا ہوا۔ پروگرام کی ابتدا تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے لیے مسجد کے پیش امام محترم عامر عزیز صاحب کو اسٹیج پر دعوت دی گئی۔ یہ ایک نہایت روح پرور منظر تھا جس میں امام صاحب عامر عزیز نے سورہ الحمد کی قراءت کی۔ جس کے بعد اس پروگرام کے سربراہ نے ابتدائی خطبے کے بعد پروگرام کے شروع کیے جانے کا اعلان کیا اور پھر سٹیج پر برلن کی کلچرل سینٹر سارا ولسن کو خطاب کے لیے بلایا گیا جنہوں نے تہذیب و ثقافت اور مختلف اقوام کے مابین ڈائیلاگ کی اہمیت پر اپنا مقالہ پیش کیا جس کے بعد برلن کی “بسٹ سیلر” مصنفہ کبرا کو اسٹیج پہ بلایا گیا جنہوں نے ایک دقیق مضمون میں مختلف سیاست دانوں سائنس دانوں اور علماء کے فکر انگیز مقالے سے استفادہ کرتے ہوئے امن کی اہمیت اور ڈائیلاگ کی ضرورت کے ساتھ ساتھ ڈائیلاگ کی بنیادی شرائط کو واضح کیا۔ پروگرام کے اگلے حصے میں اسلامی صوفی موسیقی کا دور چلا جس میں ایران، ازبکستان اور ترکی زبان کے مقامی اور بین الاقوامی فنکاروں نے ایک طائفہ کی صورت میں جس میں 15 مختلف فنکار شامل تھے ایک رنگا رنگ پروگرام پیش کیا۔ فنکاروں میں حاکان ترگل، ہا گر گرگن حلیل بیوچل، قسینہ زد رسکا، طائفون گڈ سٹاٹ، برات زمبک امینہ مثنوی، پر ہم علی زاد، نائلہ گلگن وغیرہ شامل تھے جنہوں نے مختلف سازوں، جن میں پیانو، وائلن، دف، طبلہ، گھنگرو، ایک تارا وغیرہ جیسے قدیم و جدید سازپر مختلف صوفی دھنیں بجا کر اپنی خوبصورت اوازوں کا جادو جگایا اور محفل کو انتہائی باوقار صوفیانہ رنگ میں ڈھال دیا۔ اس پروگرام کی ا سب سے خوبصورت پیش کش استاد نصرت فتح علی خان کے پیش کردہ “دم مست علی” کو ان فنکاروں کا ہال پیش کرنا تھا۔ دما دم مست قلندر کا یہ ورژن ہال میں موجود مختلف ممالک کے شرکاء جن میں بے شمار جرمن نوجوان بھی شامل تھے اس قدر پسند کیا کہ پروگرام کے آخر میں اسے ایک بار پھر پیش کرنے کی فرمائش بھی کی گئی اور فنکاروں نے جب اسے پیش کیا تو اس سٹیج کے سامنے آ کر شائقین نے دھمال پیش کیا اور اس طرح یہ ہال یہ کنسرٹ روح پرور منظر پیش کرتارہا۔ اس پروگرام میں شرکت کے لیے خاکسار کو بھی مدعو کیا گیا تھا اور پروگرام کے دوران وقفہ طعام میں سوال جواب کے دوران لال شہباز قلندر اور ان کے صوفیانہ کلام پر گفتگو میں شرکت کی دعوت دی گئی اور مختلف تصاویر لی گئیں فنکاروں کے ساتھ اور اسٹیج کی تصاویر شامل حال ہیں۔ یہ پروگرام اس ہفتے اسلامی تہذیب کا ابتدائی پروگرام تھا۔ اس دوران پیش کیے جانے والے دیگر پروگراموں کی تفصیل یوں ہے 26 اکتوبر کو برلن کی ایک مسجد میں مسلمان امام، عیسائی پادری اور یہودی رابن یکجا ہو کر ابتدائی عبادت پیش کریں گے اسی دن بچوں کے لیے ایک جاپانی تھیٹر پیش کیا جائے گا “لکیروں کے ذریعے ڈائیلاگ” کے عنوان سے اسی دن ایک نمائش میں حاجی نوردین نامی فنکار کیلی گرافی کی اہمیت اجاگر کریں گے۔ اس کے علاوہ مختلف کتابوں کے اسٹال اور سیمینار، کتابوں کے تعارفی پروگرام پیش کیے جائیں گے۔ان دنوں برلن شہر میں پھیلے ہوئے مختلف مقامات جن میوزیم، یونیورسٹی کے ہال، چرچ اور مساجد شامل ہیں، میں مختلف پروگرام ہوتے رہیں گے جن میں ایک پروگرام بہ عنوان “سدا بہ صحرا” پیش کیا جائے گا جس میں دنیا کے مختلف ممالک سے ہجرت کر کے آنے والے شعرا اور مصنفین کے کلام پیش کی جائیں گے- ایک پروگرام چین میں بسنے والے مسلمان اوئی گورو پر بھی پیش کیا جائے گا اس کے علاوہ 29 مئی کو بدیع الزماں سید نصری :ما بعد مرگ” کے عنوان سے ایک میوزیم میں تحقیقی مقالہ پیش کریں گے مختلف فنکاروں کے ساتھ مل کر بین المذاہب گفتگو بھی پیش کی جائے گی اسی طرح سے 30 ستمبر کو “قران اور بائبل کے مشترکہ عنوانات” کے نام سے ایک چرچ میں گفتگو کا سلسلہ رکھا گیا ہے “امام اور پادری” کے عنوان سے ایک گفتگو کا پروگرام ہے جمرات 2 اکتوبر کو “صوفیانہ راہ” کے عنوان سے اسلامی صوفی طرز زندگی میں خواتین کے کردار پر ایک مقالہ پیش کیا جائے گا۔ 4 اکتوبر کو بچوں کا ایک تھیٹر بہ عنوان “تتلی کی امیدیں” پیش کیا جائے گا “مذہب کی تلاش میں مشرق وسطی کے گلوکار” کے عنوان سے ایک پروگرام پیش کیا جائے گا مختلف ورکشاپ کا انعقاد کیا جائے گا اور اس طریقے سے یہ پروگرام اپنے آخری مرحلے میں افتتاحی پروگرام کی طرح ایک رنگارنگ روح پرور صوفیانہ موسیقی کے ساتھ اپنے 5 اکتوبر کو اختتام کو پہنچے گا۔