لاہور (کنزیومر واچ نیوز): بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑنے کے باعث بہاؤ میں تیزی آگئی ہے۔ پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق ہریکے اور فیروزپور ڈاؤن اسٹریم سمیت ہیڈ سلیمانکی پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ ضلع پاکپتن میں 23 دیہات مکمل جبکہ 53 جزوی طور پر ڈوب گئے، 64 ہزار سے زائد افراد متاثر اور 66 ہزار ایکڑ رقبہ زیرِ آب آچکا ہے۔ اب تک 24 ہزار 974 افراد کا انخلا اور 4 ہزار سے زائد مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے ہیں۔ فصلوں کی تباہی اور پانی کھڑا رہنے سے بیماریوں کے پھوٹنے کا بھی خدشہ ہے۔
Blog
-

ایک ملاقات: کراچی آرٹس کونسل میں احمد شاہ، کے ساتھ …حمیرا گل تشؔنہ
کراچی کی شام، جس پر سمندر کی نم ہوا اور شہر کی بے چین توانائی کا امتزاج طاری تھا، اور ایسے وقت میں، میری گاڑی کا رخ ایک ایسی عمارت کی طرف تھا جو کسی معبدِ فن سے کم نہیں۔ جی صحیح پہچانا، یہ کراچی آرٹس کونسل تھا۔ اس کی دیواریں نہ صرف پتھر اور چونے سے بنی ہیں بلکہ یہ شہر کی ثقافتی روح، اس کے فنکاروں کے خوابوں اور ایک شخص کے عزم کی داستان بھی سناتی ہیں۔ وہ شخص جس نے اس خواب کو حقیقت کا روپ دیا، جناب احمد شاہ۔
وہ اپنے معمول کے مطابق ایک میٹنگ میں مصروف تھے لیکن اپنی میٹنگ چھوڑ کر آفس میں ملنے آئے۔ ان کے چہرے پر ایک سکون تھا، آنکھوں میں چمک تھی، اور مسکراہٹ میں ایک ایسی گرمجوشی تھی جو فوری طور پر ہر اجنبی کو اپنا بنا لیتی ہے۔ مجھے اپنے آفس میں دیکھتے ہی ان کا کہنا تھا، “آؤ آؤ تشؔنہ، بیٹھو۔ یہ گھر تمہارا اپنا گھر ہے۔” اور یہی جملہ دراصل آرٹس کونسل کے پوری فلسفے کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک ایسی جگہ جو ہر فن کے دلدادہ کے لیے اپنے دروازے کھلی رکھتی ہے۔
بات شروع ہوئی تو انہوں نے اس سفر کے اولین دنوں کا ذکر کیا۔ احمد شاہ صاحب نے بتایا کہ یہ خیال کس طرح وجود میں آیا۔
آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی میں واقع ایک خود مختار ثقافتی ادارہ ہے جس کا مقصد فن و ثقافت کو فروغ دینا اور فنکاروں کی فلاح و بہبود ہے۔ کراچی، جو پہلے ہی سے ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز تھا، میں ایک ایسے ادارے کو مستحکم کرنے کی شدید ضرورت محسوس ہو رہی تھی جہاں نسل و زبان کے فرق کو مٹا کر تمام فنون — مصوری، موسیقی، تھیٹر، ادب — کو یکجا کیا جا سکے۔
“لوگ کہتے تھے، ‘احمد، یہ شہر تجارت کا شہر ہے، فنون کے لیے یہاں جگہ نہیں۔’ لیکن ہمارا ایمان تھا کہ انسان کی روح کو صرف روٹی ہی نہیں، رنگ و آہنگ بھی چاہیے۔” ابتدائی دنوں کی بات کرتے ہوئے ان کی آنکھیں چمک اٹھیں، گویا وہ اس سفر میں حائل ہونے والی تمام مشکلات کو اپنی سب سے بڑی کامیابی سمجھتے ہوں۔
احمد شاہ صاحب کے نزدیک، آرٹس کونسل محض ایک عمارت نہیں، بلکہ ایک ایسا وجود ہے جو شہر کی ثقافتی زندگی میں سانس لے رہا ہے۔
“ہماری کوشش ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ یہ جگہ ہر کسی کے لیے ہو۔ نامور مصور بھی آئے، اور وہ نوجوان طالب علم بھی جو پہلی بار برش ہاتھ میں لے رہا ہو۔ یہاں موسیقار اپنے راگ سناۓ، اور شاعر اپنے الفاظ کی نزاکت سے ہمیں آشنا کرے۔ ہم نے کبھی کسی کے عقائد یا نظریات کی بنیاد پر امتیاز نہیں برتا۔ فن ہمارے لیے وسیلہ ہے — انسانیت کو جوڑنے کا، احساسات کو ابھارنے کا، معاشرے کو خوبصورت بنانے کا۔”
انہوں نے خصوصاً نوجوان نسل پر زور دیا۔ “ہمارے یہاں یوتھ فیسٹیول، انٹرن شپ پروگرامز، اور ورکشاپس کا اہتمام اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ نئی صلاحیتیں سامنے آ سکیں۔ میں جب کسی نوجوان لڑکے یا لڑکی کو اپنا پہلا کینوس سنبھالے دیکھتا ہوں، پہلی دفعہ اسٹیج پہ پرفارمنس دیتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے اپنی تمام محنت ایک پل میں پوری ہوتی محسوس ہوتی ہے۔”
آج کے دور میں، جب ثقافتی ادارے مالی اور انتظامی چیلنجز کا شکار ہیں، احمد شاہ صاحب کا نقطہ نظر واضح ہے۔
“جی ہاں، مشکلات بدلتی رہتی ہیں۔ پہلے وسائل کم تھے، اب وسائل کے ساتھ ساتھ توجہ کی کمی ہے۔ لوگ مصروف ہو گئے ہیں۔ لیکن ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس شعلے کو روشن رکھیں۔ حکومت اور نجی شعبے سے بھی ہمیں تعاون درکار ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم بیٹھ جائیں۔ ہم نے ہمیشہ عزم اور مستقل مزاجی سے کام لیا ہے۔”
ان کا مستقبل کا خواب آرٹس کونسل کو ایک بین الاقوامی معیار کا ادارہ بنانے کا ہے۔ “میں چاہتا ہوں کہ یہاں سے نکلنے والا ہر فنکار دنیا میں اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کرے۔ ہم ڈیجیٹل آرٹ، فلم سازی، اور نئی میڈیا کی نمائشوں کو بھی فروغ دے رہے ہیں تاکہ وقت کے ساتھ قدم ملا کر چلا جا سکے۔” یہی وجہ ہے کہ ہم ہر سال کلچر فیسٹیول و ایگزیبیشن کرتے ہیں اور پوری دنیا سے لوگ آکر ہمارے پروگرامز کا حصہ بنتے ہیں۔
باتیں چلتی رہیں تو میں نے ان کے شخصی سفر کے بارے میں پوچھا۔ اتنے بڑے ادارے کی بنیاد رکھنے والے شخص کی ذاتی زندگی کیسی ہے؟
تو وہ مسکرا دیے۔ “میرا گھر بھی تو یہی ہے۔ میری فیملی نے ہمیشہ میرا بہت ساتھ دیا۔ اور میں نے کبھی اسے اپنی ذاتی کامیابی نہیں سمجھا۔ یہ تو ایک اجتماعی کاوش ہے، ایک سماجی و ثقافتی وقف ہے۔”
ان کی نظر میں عاجزی اور لگن صاف جھلک رہی تھی۔ وہ اپنے بارے میں بات کرنے سے زیادہ اپنے ساتھیوں، رضاکاروں اور ان تمام فنکاروں کے بارے میں بات کرنا پسند کر رہے تھے جنہوں نے اس ادارے کو سنوارنے میں حصہ ڈالا۔
چائے پینے کے دوران جب میں نے ان سے پوچھا کہ آپ اپنے پیچھے کیا ورثہ چھوڑنا چاہیں گے، تو وہ لمحہ بھر کو خاموش ہو گئے۔
“مجھے فرق نہیں پڑتا کہ لوگ مجھے یاد رکھیں۔ میں چاہتا ہوں کہ لوگ اس جگہ کو یاد رکھیں۔ میں چاہتا ہوں کہ جب کوئی مصور اپنی پہلی پینٹنگ بیچے، کوئی گلوکار پہلی بار اسٹیج سجائے، کوئی نوجوان اپنی تخلیق سے کسی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرے تو اسے یاد رہے کہ کراچی آرٹس کونسل سے اس کی شروعات ہوئی تھی اور یہی بات میرا اصل اثاثہ ہوگا۔ میں نے تو بس ایک بیج بویا تھا، آج یہ درخت ہزاروں شاخیں پھیلائے ہوئے ہے۔ اس درخت کی آبیاری کرتے رہنا، یہی میری سب سے بڑی تمنا ہے۔”
پھر ہنس کر مخاطب ہوئے اور نہایت سادہ لہجے میں پوچھنے لگے، ” تشؔنہ، کیا میں تمہیں بہت مغرور لگتا ہوں؟” اس سوال پر میں حیران ہوکر ان کو دیکھتی رہی۔ میری حیرانی بھانپ کر ہنسنے لگے پھر خود ہی کہنے لگے بھئی، “مجھے لوگ بہت مغرور کہتے ہیں اس لیے پوچھ رہا ہوں۔” مجھے ہنسی آگئی، “بھئی سچ پوچھیں تو سنا تو ہم نے بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ لیکن اپ سے مل کر ایسا کوئی تاثر نہیں ملا۔ بلکہ جو سنا تھا وہ غلط ہی لگا”۔ یہ کہہ کر میں نے ہنسے ہوئے احمد شاہ صاحب سے رخصت لی۔
جب میں آرٹس کونسل سے باہر نکلی تو شام ڈھل چکی تھی۔ عمارت کی روشنیاں جگمگا رہی تھیں، اندر سے موسیقی کی کوئی دھن سنائی دے رہی تھی۔ میں نے مڑ کر ایک نظر اس عمارت کو دیکھا۔ یہ محض اینٹوں کا ڈھیر نہیں تھی۔ یہ ایک شخص کے عزم، ایک خواب کی تعبیر، اور ایک شہر کی ثقافتی شناخت کا استعارہ تھی۔ احمد شاہ صاحب جیسے لوگ کسی قوم کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں ، وہ جو دیکھنے والوں کو خواب دکھاتے ہیں، اور پھر ان خوابوں کو حقیقت میں بدل دیتے ہیں۔
ان کی زندگی کا یہ پیغام ہر نوجوان کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ عزم و ہمت سے کوئی بھی خواب شرمندۂ تعبیر کیا جا سکتا ہے، خواہ راستے میں کتنی ہی رکاوٹیں کیوں نہ ہوں۔ احمد شاہ اور کراچی آرٹس کونسل کا سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ فن و ثقافت کی محبت ہی انسانیت کو متحد کرتی ہے اور معاشرے میں خوبصورتی اور رواداری کا درس دیتی ہے۔ -

ایشیا کپ سے قبل پاک بھارت کرکٹرز میں کشیدگی، کھلاڑیوں نے مصافحہ تک نہ کیا
شارجہ (کنزیومر واچ نیوز) ایشیا کپ کرکٹ سے قبل پاکستان اور بھارتی کرکٹرز کے درمیان کشیدگی دیکھنے میں آ رہی ہے، بھارتی کرکٹ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ ایشیا کپ میں ضرور کھیلیں گے لیکن حکومتی پالیسی کے تحت دشمن ملک کے خلاف دوطرفہ مقابلے میں حصہ نہیں لے سکتے۔ ماضی میں پاک بھارت میچوں کے دوران گراؤنڈ میں کشیدگی ضرور ہوتی تھی لیکن فیلڈ سے باہر کھلاڑیوں کے تعلقات دوستانہ رہتے تھے تاہم مئی میں جنگ کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔ دبئی میں 14 ستمبر کو پاک بھارت میچ ہوگا اور اس سے قبل 6 ستمبر کو دونوں ٹیموں نے آئی سی سی اکیڈمی میں ایک ہی گراؤنڈ میں تین گھنٹے پریکٹس کی مگر کھلاڑیوں میں واضح دوریاں دیکھی گئیں اور ایک دوسرے سے مصافحہ تک نہ کیا۔
-

پاکستان کے خلاف بھارتی پروپیگنڈا مہم پھر سے شروع
ممبئی (کنزیومر واچ نیوز)پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا مہم کے تحت بھارتی میڈیا ایک بار پھر فالس فلیگ آپریشنز کی فضا ہموار کرنے میں مصروف ہوگیا۔ذرائع کے مطابق ممبئی کے نائر اسپتال کو موصول ہونے والی بم دھمکی ایک اور فالس فلیگ کے اسکرپٹ کا حصہ ہے۔ دہشتگردی کی پے درپے اطلاعات کا بھارتی میڈیا پر آنامنظم پراپیگنڈے کی نشاندہی کرتا ہے۔بھارتی میڈیا کی جانب سے اس طرح کی خبروں کا تسلسل بھارتی حکومت کی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانا ہے۔ اس حوالے سے ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ای میل اور فون کال کے ذریعے بم کی اطلاع دینا اور فوری سکیورٹی ردعمل دکھانا طے شدہ اسکرپٹ کا حصہ ہے۔ یہ پروپیگنڈا اس وقت کیا جا رہا ہے جب بھارت کو عالمی سطح پر انسانی حقوق، اقلیتوں کے تحفظ اور کشمیریوں پر مظالم کے حوالے سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ مودی سرکار ایک بار پھر خوف کی فضا بنا کر عوامی جذبات کو بھڑکانا چاہتی ہے تاکہ اصل مسائل کو پسِ پشت دھکیلا جا سکے۔ ایسے اقدامات عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہیں۔ پلواما، اڑی اور پٹھان کوٹ جیسے واقعات میں بھارت نے خود اپنے ہی فوجیوں کو نشانہ بنایا۔
-

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس 155 ہزار کی حد عبور
کراچی (کنزیومر واچ نیوز) پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس میں آج بھی کاروبار کے دوران مثبت تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے اور کاروباری ہفتے کے پہلے روز ہی انڈیکس ایک لاکھ 55 ہزار کی حد عبور کر گیا ہے۔ اس وقت پی ایس ایکس 100 انڈیکس 780 پوائنٹس اضافے سے 155057 پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ کاروباری ہفتے کے آخری روز بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھی گئی تھی اور انڈیکس نے ایک لاکھ 54 ہزار کا ہندسہ عبور کیا تھا۔
-

کراچی میں کل شدید موسلا دھار بارش کی پیشگوئی، اربن فلڈنگ کا خدشہ
کراچی (کنزیومر واچ نیوز) محکمہ موسمیات نے شہر میں کل شدید موسلا دھار بارش کی پیشگوئی کرتے ہوئے اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ترجمان محکمہ موسمیات انجم نذیر کے مطابق کراچی میں مون سون سسٹم ڈیپ ڈپریشن کی شدت کے ساتھ برقرار ہے جو سمندری طوفان بننے سے پہلے کی ایک اسٹیج ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بارش کا سسٹم زمین پر موجود ہے اور اس کا مرکز تھرپارکر میں ہے، جس کے باعث 60 سے 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل سکتی ہیں۔ میئر کراچی کے مطابق سمندر میں پانی کی سطح بلند ہے اور اگر شہر میں تیز بارش ہوئی تو اس سے نمٹنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ ترجمان نے کہا کہ سہ پہر میں موسلادھار بارش ہوسکتی ہے جبکہ کل یہ سسٹم کراچی کے قریب سے گزرے گا جس کے باعث صورتحال خراب رہنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شہر میں انفرااسٹرکچر کی کمزوری کے باعث اربن فلڈنگ ہوسکتی ہے اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کا خدشہ ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ تیز بارش کے دوران گھروں میں رہیں اور کچے انفرا اسٹرکچر سے دور رہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق پورے اسپیل کے دوران کراچی میں 100 ملی میٹر سے زائد بارش ہوسکتی ہے۔
-

پنجاب میں دریاؤں کی طغیانی، سیلابی صورتحال تشویشناک
لاہور (کنزیومر واچ نیوز) دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کے باعث مظفر گڑھ کے سیکڑوں دیہات پانی میں ڈوب گئے جبکہ ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے۔ پولیس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایک ہزار سے زائد افراد کو کشتیوں کے ذریعے نکالا گیا۔امدادی کارروائیاں رنگپور، دوآبہ، سنکی، خان گڑھ، وہیلاں والی، بنڈہ اسحاق اور عظمت پور میں جاری ہیں۔ ریسکیو کی 32 اور پولیس کی 8 کشتیاں آپریشن میں مصروف ہیں جبکہ فوج، وائلڈ لائف اور پرائیویٹ کشتیاں بھی امدادی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔اوکاڑہ میں دریائے راوی اور ستلج کی طغیانی کے باعث انتظامیہ نے 32 دیہات کے اسکولوں کی تعطیلات 14 ستمبر تک بڑھا دی ہیں۔ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر انتہائی اونچے درجے اور سلیمانکی پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے راوی میں شاہدرہ اور ہیڈ سدھنائی پر اونچے درجے جبکہ دریائے چناب کے خانکی ہیڈ ورکس پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ 9 ستمبر تک پنجاب کے دریاؤں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے کیونکہ بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
-

ٹرائی نیشن کرکٹ سیریز،پاکستان کی شاندار فتح،افغانستان کی عبرتناک شکست
شارجہ(کنزیومر واچ نیوز)پاکستان ٹرائی نیشن سیریز کا فاتح بن گیا، فائنل مقابلے میں افغانستان کو 75 رنز سے شکست دے دی ہےشارجہ کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل مقابلے میں پاکستانی اسپنر محمد نواز افغان بیٹرز کے لیے بھیانک خواب ثابت ہوئے، پاکستان کے 142 رنز کے ہدف کے تعاقب میں افغستان کی پوری ٹیم 66 رنز بنا کر آل آؤٹ ہوگئی۔لیف آرم اسپنر محمد نواز نے ہیٹ ٹریک سمیت 5 وکٹیں حاصل کر کے افغان ٹیم کی کمر توڑ دی، صفیان مقیم اور ابرار احمد نے 2،2 وکٹیں اپنے نام کیں، شاہین شاہ آفریدی نے ایک شکار کیا۔افغان ٹیم کے 9 کھلاڑی ڈبل فگر میں بھی داخل نہ ہو سکے، کپتان راشد خان 17 اور صدیق اللہ اتل 13 رنز بنا کر نمایاں رہے۔
اس سے قبل، پاکستان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا، پاکستان ٹیم نے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 141 رنز بنائےاوپنر بلے باز فخر زمان 27، محمد نواز 25 اور کپتان سلمان علی آغا 24 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، صائم ایوب 17، حسن نواز اور فہیم اشرف 15،15 رنز بنا کر پویلین واپس لوٹے۔آؤٹ آف فارم محمد حارث ایک بار پھر ناکام رہے اور صرف 2 رنز بناکر نور احمد کا شکار بنے جب کہ صاحب زادہ فرحان کھاتہ بھی کھول نہ سکےافغانستان کے اسپنر نے مجموعی طور پر 6 وکٹیں حاصل کیں، کپتان راشد خان نے 3، نور احمد نے 2 جب کہ اے ایم غضنفر نے ایک وکٹ اپنے نام کی، جب کہ فاسٹ باؤلر فضل حق فاروقی نے 19 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں۔


