اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز) وفاقی دارالحکومت میں جائیداد کے تنازع پر نا خلف بیٹے نے باپ اور 2 بہنوں کو ذبح کر دیا۔پولیس کے مطابق اسلام آباد میں پیر کی صبح 30سالہ محمدعلی نے اپنےو الد انسپکٹر (ر) محمود حسین اور ہمشیرہ شبنم ز ہرہ کو اپنے گھر میں چھری سے ذبح کیا جس کے بعد اس نے سہ پہر کو پنڈی میں کانسٹیبل 35 سالہ انجم ز ہرہ کو بھی موت کے گھاٹ اتارا۔پولیس کاکہناہے کہ ملزم ہمشیرہ کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد اس کے شوہر کاانتظار کرتارہاکہ وہ آئے تواس کے خون سے بھی اپنے ہاتھ رنگے۔پولیس کے مطابق ملزم نے 3 ماہ کے بھانجے سالار حمزہ کو قتل کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا، نوزائیدہ کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس جائے وقوعہ پرپہنچی اور ملزم کو حراست میں لے لیا۔
Blog
-

سزا پانیوالے پی ٹی آئی رہنماؤں کی جائیدادیں ضبط کرنے اور شاہ محمود کو رہا کرنے کا حکم
لاہور(کنزیومر واچ نیوز)انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی مقدمات میں سزا پانے والے تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جائیدادیں بھی ضبط کرنے کا حکم دے دیا۔ جیو نیوز کے مطابق انسداد دہشتگردی عدالت لاہور نے تھانہ شادمان کو آگ لگانے سمیت دو مقدمات میں گزشتہ روز سنائے گئے فیصلے کی تفصیل جاری کی۔ عدالتی فیصلے کے مطابق عدالت نے تمام مجرموں کو قید بامشقت کی سزا سنائی اور حکم دیا کہ مجرموں کو تمام سزائیں ایک ساتھ کاٹنی ہوں گی۔ انسداد دہشتگردی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما اعجاز چوہدری، محمودالرشید، عمر سرفراز اور یاسمین راشد کی جائیدادیں ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔ دوسری جانب عدالت نے پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو 9 مئی کے 2 کیسز میں رہا کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔واضح رہے کہ اے ٹی سی نے گزشتہ روز فیصلہ سناتے ہوئے دونوں مقدمات شاہ محمود قریشی کو بری جب کہ سابق گورنر عمر سرفراز چیمہ، سابق صوبائی وزیرڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔عدالت نے عالیہ حمزہ اور ضم جاوید کو پولیس اسٹیشن کو آگ لگانے کے مقدمے 5،5 برس جب کہ عائشہ بھٹہ کو پولیس کی گاڑیاں جلانے کے مقدمے 10 برس قید کی سزا سنا ئی تھی۔
-

پاور پلس بیٹری سیل اپنے اعلی معیار کے باعث مارکیٹ لیڈر بن گیا،فیاض احمد ابڑو
پروگریسو گروپ آف کمپنیز کے بانی اور چئیرمین صدیق شیخ نے 1954 میں جوڑیا بازار سے کاروبار کا آغاز کیااور جلدکامیاب کاروباری شخصیت بن گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔..
ہما رے ایم ڈی ادریس شیخ مرحوم نے بھی کمپنی کی ترقی میں نمایاں کردار اد اکیا پاور پلس بیٹری سیل 1999میں متعارف کرایا گیااور دیکھتے ہی دیکھتے چھا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…
ہماری ہر پروڈکٹ اپنے اعلی معیار کے باعث صارفین کی پسندیدہ پروڈکٹ بن گئی،کوالٹی کنڑول کے لئے ہماری کمپنی بین الاقوامی اصولوں پر عمل کرتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…
ہماری فوڈ کمپنی پاک غذا چئیرمین صدیق شیخ کا وژن ہے،بیکری انڈسڑی کو اعلی کوالٹی کا را مٹیریل فراہم کرنے میں پاک غذا پیش پیش ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…
برانڈ ایوارڈ آپ کے برانڈ کومقبول بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، پروگریسو گروپ آف کمپنیز کے کنٹری کمرشل ہیڈ فیاض احمد ابڑو کی گفتگو
.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔..
رپورٹ:نشید آفاقی،رمشا یاور بیگ
فوٹو گرافی:حسنین احمد
فیاض احمد ابڑو سیلز اینڈ مارکیٹنگ ایکسپرٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین استاد بھی ہیں
فیاض احمد ابڑو پروگریسو گروپ آف کمپنیز کے کنٹری کمرشل ہیڈ ہیں وہ سیلز اینڈ مارکیٹنگ ایکسپرٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک استاد بھی ہیں اور استاد بھی ایسے جن کو پڑھانے کا جنون ہے جتنی خوبصورت شخصیت کے مالک ہیں اس سے کہیں زیادہ با اخلاق اور ملنسار ہیں بہت محنت اور لگن سے اس مقام تک پہنچے فیاض احمد ابڑو نے ایم بی اے کرنے کے بعد ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں مارکیٹنگ کے شعبے سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا کولگیٹ پامولیو میں مختلف برانڈز پر کام کیا ،اسٹیل مل ،ریڈ ایپل،شیل،ڈابر،ڈیوڈریٹ کیٹیگری کو دیکھا،ایف ایم سی جی اور نان ایف ایم سی جی میں کام کیا انھوں نے بتایا کہ میں نے پروگریسیو گروپ 2021میں بطور سیلز اینڈمارکیٹنگ منیجر جوائن کیا،پچھلے سال کمپنی نے مجھے کنٹری کمرشل ہیڈبنایا پہلے میں ایف ایم سی جی کو دیکھتا تھا اب فوڈ کو بھی دیکھ رہا ہوں ظاہر ہے زندگی کا ایک سفر ہے اس میں آپ کی محنت ،فیملی اور دوستوں کا رول ہے۔آپ کے اساتذہ اور کولیگز کابہت بڑا رول ہے مجھے یہ سب کچھ ورثے میں تو نہیں ملا پہلے میں بھی آفس کے ہال میں بیٹھتا تھا اب یہاں آپ کے سامنے بیٹھا ہوں ظاہر ہے ترقی میں آپ کا ڈسپلن،محنت اور دیانت کا بہت بڑا رول ہے۔آپ کی لگن بھی بہت اہمیت کی حامل ہے آپ کی صلاحیت اچھے کردار کے بغیر بے معنی ہے آپ کی کامیابی اچھے کردار کی وجہ سے ہی ملے گی آپ بہت محنتی ہوں گے مگر آپ زندگی کے کسی موڑ پر تھک جائیں گے اس موڑ پر کیریکٹر آپ کو جتا دیتا ہے۔ کیریکٹر سے مراد یہ نہیں ہے کہ آپ اچھی گفتگو کرتے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کے اندر اپنے کام کی کتنی سمجھ ہے۔ لگن ہے تو کچھ دوا کام کرتی ہے کچھ دعائیں کام کرتی ہیں اور آپ اپنا مقصد اور منزل حاصل کر لیتے ہیں
……………………………………………………………..
برانڈ ایوارڈ ایک اچھا مارکیٹنگ ٹول ہے،فیاض احمد ابڑو
برانڈ فاسٹسٹ ایوارڈ کے لئے نامزدگی پر احساسات بہت اچھے تھے،برانڈ ایوارڈ ایک اچھا مارکیٹنگ ٹول ہے،آپ کو Recognised کیا گیا ایوارڈ دیا گیا آپ کی کوششوں کو تسلیم کیا گیا اور اس کے نتیجے میں آپ کو یہ اعزاز حاصل ہوا اس طرح آپ کو نیٹ ورکنگ کا ایک اچھا پلیٹ فارم ملتا ہے آپ کے برانڈ کو مائلیج ملتا ہے مارکیٹنگ ایکسر سائز ہے بنیادی طور پر برانڈ ایوارڈ آپ کے برانڈ کو اوپر لانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے البتہ ہر کام میں مزید بہتری کی گنجائش ہوتی ہے اس پر ڈبیٹ کی جاسکتی ہے۔مختلف پلیٹ فارم سے ایوارڈزدئیے جاتے ہیں یہ ایک Healthy Exercise ہے جب لوگوں کو پتا چلتا ہے کہ وہ ایوارڈ ونر پروڈکٹ لے رہے ہیں تو پروڈکٹ پر ان کا اعتماد بڑھ جاتا ہے
……………………………………………………………..
سوال :پروگریسو گروپ آف کمپنیزکا قیام 1954 میں عمل میں آیا اس کے بانی کون تھے اور پروگریسو گروپ کی ترقی میں کن کن شخصیات نے اہم کردار ادا کیا؟
جواب:پروگریسو گروپ آف کمپنیزکے بانی اور چئیرمین صدیق شیخ ہیں، انھوں نے 1954 میں جوڑیا بازار سے کاروبار کا آغاز کیا،اس وقت کمپنی صرف ٹریڈنگ کرتی تھی، ٹریڈنگ کا مقصد یہ ہے کہ آپ نے کوئی چیز بیرون ملک سے منگوائی اپنا منافع رکھا اورآگے فروخت کردیا تو اس طرح ٹریڈنگ سے کمپنی کا آغاز ہوا تھا پھر یہ سلسلہ کامیابی سے چلتا رہا،
سوال :اپنے طویل سفر کے دوران کمپنی کوکن چیلنجز کا سامنا رہا ؟
جواب:جب بھی آپ کوئی نیا کام شروع کرتے ہیں تو آپ کو چیلنجز کاسامنا ضرور کرنا پڑتا ہے،ابتدائی طور پر ہماری کمپنی نے لکڑی کی ٹریڈنگ کی سب کے گھروں میں دروازے لگے ہوتے ہیں ہماری دلچسپی دروازوں سے ہوتی ہے دروازوں میں لگی دوسری چیزوں میں ہماری دلچسپی نہیں ہوتی دروازوں میں ایم ڈی ایف اور لاثانی کی لکڑی لگی ہوتی ہے،ہماری کمپنی ایم ڈی ایف اور لاثانی کی لکڑی بیرون ملک سے منگواتی تھی اور بڑی بڑی و اونچی عمارتیں تعمیر کرنے والوں کو فراہم کرتی تھی پھر وہ اس لکڑی کو دروازے،کھڑکیاں اور دیگر کاموں میں استعمال کرتے تھے کافی عرصے اس کام سے منسلک رہنے کے بعد ہماری کمپنی کیمیکل کے شعبے سے وابستہ ہوگئی بلک میں کیمیکل امپورٹ کی جاتی تھی جو ہماری کمپنی کپڑے دھونے کے پاوڈر اوردیگر اشیاء تیار کرنے والوں ،ہولسیلرز اور ٹریڈرزکو فروخت کرتی تھی،اس کے بعد ہم نے ٹائر کا کام شروع کردیا پھر ہماری کمپنی فارما سیو ٹیکل کے شعبے سے وابستہ ہوگئی،فارما سیو ٹیکل میں جو بھی وٹامنز،پروٹینز اورمنزلز استعمال ہوتے ہیں وہ ہماری کمپنی چین،تھائی لینڈ اور دیگر ممالک سے امپورٹ کرکے فارما سیو ٹیکل کمپنیوں کو فروخت کرتی تھی،
یہ کام انڈینٹنگ کا ہوتا ہے انڈینٹر مینو فیکچرر،ڈسڑی بیوٹر اور امپورٹر کے درمیان برج کا کردار ادا کرتا ہے،وہ اپنا کمیشن رکھتا ہے اورمال کو آگے پارٹی کو فراہم کر دیتا ہے اس طرح کاروبار کے پہیے کو رواں دواں رکھنے میں انڈینٹر کا بھی اہم رول ہوتا ہے پھر تھوڑا سا آگے چلیں تو ماچس کے شعبے میں آگئے اس کے بعد ہماری کمپنی فوٹوگرافی کے حوالے سے مشہور کمپنی کوڈک کی پاکستان میں ڈسڑی بیوٹر بن گئی اس طرح ٹریڈنگ والا تصور ختم ہوگیا،کوڈک کے ساتھ یہ لوگ دس، پندرہ تک جڑے رہے پھر جدید ٹیکنالوجی کی آمد سے آنے والی تبدیلی سے کوڈک کا ڈاون فال شروع ہوا تو ہماری کمپنی نے بھی اپنا بزنس تبدیل کیا اور ہم بیٹری سیل کی فیلڈ میں آگئے،1999میں پروگریسو ٹریڈرز گروپ نے پاور پلس بیٹری سیل متعارف کروایا،اس زمانے میں بیٹری سیل کی مارکیٹ آرگنائزڈ نہیں تھی اب آرگنائزڈ ہوگئی ہے اس وقت سو فیصد ٹریڈنگ پر کام ہوتا تھا،ٹریڈرز اور ہولسیلرز جاپان،چائنا،تھائی لینڈ ،تائیوان اور دیگر ممالک سے کنٹینرز میں بیٹری سیل منگواتے تھے اور مارکیٹ میں سپلائی کردیتے تھے۔ملک میں یہ کام آرگنائزڈ طریقے سے نہیں ہوتا تھا،ہماری کمپنی کو اس شعبے میں ترقی کے مواقع نظر آئے تو انھوں نے بیٹری سیل کے شعبے میں قدم رکھا، کھلونوں،گھڑیوں،ریمورٹس ودیگر میں استعمال ہونے والے بیڑی سیل سے لے کر فارما سیو ٹیکل ایکوپمنٹس میں استعمال ہونے والے بیٹری سیل تک سب میں ہم کام کر رہے ہیں ہمارے بچپن میں ریڈیو میں بڑے بیٹری سیل استعمال ہوتے تھے ان کو نام کی بجائے رنگوں سے شناخت کیا جاتا تھا برانڈنگ کا کوئی تصور نہیں تھا،پروگریسو ٹریڈرز گروپ پہلی کمپنی ہے جس نے ملک میں پاور پلس برانڈ کے بیٹری سیل کو متعارف کرکے اس کو ایک پہچان دی،بیٹری سیل کی کٹیگری تین حصوں میں تقسیم ہوتی ہے، سب سے پہلے الکلائن ،اس کیٹگری کے بیٹری سیل مہنگے ہوتے ہیں اس کے بعد نان الکلائن کا نمبر آتا ہے ایک سروے کے مطابق ملک میں نو لاکھ ستر ہزار دکانیں ہیں اس میں سے چار لاکھ دکانوں میں پاور پلس برانڈ کا نان الکلائن بیٹری سیل دستیاب ہے۔ڈبل اے،ٹرپل اے،چھوٹا، بڑا،پینسل سیل(ریموٹ والا یا گھڑی والا) ہرقسم کا سیل پاور پلس برانڈ میں دستیاب ہے اور ہمیں صارفین کا اعتماد حاصل ہے اور ہم بیٹری سیل کے شعبے میں مارکیٹ لیڈر ہیں کمپنی کی مجموعی سیل میں 38فیصد حصہ بیڑی سیل کا ہے۔سوال:پروگریسو گروپ آف کمپنیزکی ترقی بنیادی طور پر کس کے وژن کی مرہون منت ہے؟
جواب: کسی بھی کمپنی کی ترقی میں متعددد ماغ کام کرتے ہیں کوئی پروڈکٹ تخلیق کرتا ہے،کوئی بناتاہے،کوئی مینجمنٹ دیکھتا ہے تو کوئی سیلز مارکیٹنگ کا شعبہ سنبھالتا ہے سب مل کر کمپنی کو ترقی کی منزل تک پہنچاتے ہیں،پروگریسو گروپ آف کمپنیز کی بات کریں تو ہمارے چئیرمین
صدیق شیخ صاحب کے بھائی اور ہمارے ایم ڈی ادریس شیخ مرحوم کی یہ کیٹگری تھی ان کا انتقال 2019 میں ہوا یہ جو اسٹرکچر آپ دیکھ رہے ہیں اس میں ادریس شیخ صاحب کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔فوڈ کے بزنس میں صدیق شیخ صاحب کا بہت بڑا کردار ہے بیڑی سیل کے حوالے سے ادریس شیخ کی اہم خدمات ہیں کہہ سکتے ہیں کہ ان کے ہی وژن کے تحت پاور پلس بیٹری سیل ایک بڑا برانڈ بن گیا ۔ادریس شیخ مرحوم نے بنیادی اسٹرکچر بنا یا پھر ان کے ساتھ مختلف لوگ جڑتے چلے گئے اور یوں پاور پلس بیٹری سیل کو یہ نمایاں مقام حاصل ہوا کہ پاور پلس بیٹری سیل آج اس شعبے کا مارکیٹ لیڈر بن گیا ہے۔میں کنٹری کمرشل ہیڈہوں میں پورے پاکستان میں سیلز اور مارکیٹنگ کے معاملات کو دیکھتا ہوں میرے ساتھ پوری ٹیم ہے، کوئی ایریا مینجر ہے کوئی زونل تو کوئی ریجنل مینجر ہے، کوئی حیدر آباد میں بیٹھا ہے تو کوئی کسی اور شہر میں،ظاہر ہے ڈیٹا تو ہمیں وہاں سے بھی آتا ہے، ان پٹ وہاں سے بھی آتا ہے، فیڈبیک بھی آتا ہے، ہم ڈیٹا سے اپنی مطلب کی چیزیں نکالتے ہیں اس طرح اپنی اپنی efforts ڈالتے ہیں تو کمپنی آگے بڑھتی ہے۔ بہت سارے لوگوں کی محنت ہے، مگر ظاہر ہے جو مالکان ہیں جن کا پیسہ لگا ہوا ہے، تو اصل آئیڈیا وہیں سے آتا ہے، وژن بھی وہیں سے آتا ہے کہ ہم نے تین چار سال میں یہاں سے کتنا آگے جانا ہے، ہم نے یہ کٹیگری لانچ کر دی ہے، ہم نے اس برانڈ پر کام کرنا ہے، ہم اپنے برانڈ کی پوزیشن اگلے دو تین سالوں میں اس پوزیشن پر دیکھنا چاہتے ہیں۔
سوال:ُپاور پلس بیٹری سیل پاکستان میں ہی بنائے جاتے ہیں؟
جواب :پاکستان میں کسی بھی بیٹری سیل کی مینو فیکچرنگ نہیں ہوتی۔ سب چائنا، جاپان، تائیوان اور دیگر ملکوں سے آتے ہیں۔ اس کی کچھ وجوہات ہیں پاکستان میں بیٹری سیل کا را مٹیریل دستیاب نہیں ہے مل جائے تو اس کی کوالٹی اچھی نہیں ہوتی پھر پلانٹ کو چلانے کے لئے آپ کو اسکلڈورکر زبھی چاہیے پلانٹ میں مسئلہ آگیا تواس کی خرابیاں دور کرنا بھی ایک مسئلہ ہوگا بیٹری سیل بہت ہی حساس آئیٹم ہے چیز چھوٹی ہے مگر دھماکہ بڑا ہے تیس روپے کا بیٹری سیل نہیں ہے تو صبح آپ کا الارم نہیں بجے گا آپ تو سوئے رہیں گے دفتر نہیں پہنچ سکیں گے اگر گھڑی بند ہے تو کیا کریں گے آپ کا ٹائم رک گیا آپ کی زندگی رک گئی ،اے سی ایک لاکھ روپے یا اس سے زیادہ کا ہوتا ہے لیکن اس کے ریموٹ میں اسی روپے کے بیٹری سیل نہیں ہوں گے تو آپ اس سہولت سے محروم ہو جائیں گے ایک لاکھ روپے کی مشین اسی روپے کے بیڑی سیل کی محتاج ہے آپ نے کہا گرمی لگ رہی ہے میں نے 16پرکر دیا۔ آپ کہیں کہ سردی لگ رہی ہے تو میں نے بند کر دیا اگر ریموٹ میں بیٹری نا ہو تو میں یہ سارے کام کس طرح انجام دونگا بیٹری سیل ہے تو سستا مگر بڑی اہمیت کا حامل ہے ہم اپنے بیٹری سیل میں کوالٹی کا خیال رکھتے ہیں اس لئے پاور پلس بیٹری سیل پورے ملک میں بے حد مقبول ہیں،کوالٹی کا جانچنے کے لئے ہمارے کچھ بیرو میٹرز ہیں اس پر ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے ہیں جہاں سے ہم بیٹر ی سیل امپورٹ کر تے ہیں وہ بھی کوالٹی کا خیال کرتے ہیں اور ہمارے پاس ان ہاؤس بھی سہولت موجود ہے اس کا ایک دیسی طریقہ کار بھی ہے ٹارچ میں آپ بیٹری سیل لگا کر چھوڑ دیں سو منٹ،ستانوے۔اٹھانوے منٹ کے بعد لیک ہوجائے گا یہ سیل کی کوالٹی چیک کرنے کا بیرو میٹر ہے اسی طرح جو انٹر نیشنلی کوالٹی چیک کرنے کا طریقہ کار ہے اس سے گزار کر ہم یہ بات کرتے ہیں کہ ہمارے بیٹری سیل کی لائف اتنی ہے۔ اسی طرح اس کی قیمت اور صارفین کی ڈیمانڈ کے مطابق بھی اس کی کو الٹی کا تعین کیا جاتا ہے کبھی کبھی سیل جلد لیک کر جاتے ہیں اس کی وجہ یہ ہوتی ہے جہاں ہیوی ڈیوٹی سیل کی ضرورت ہوتی ہے آپ وہاں سستا والا بیٹری سیل استعمال کر لیتے ہیں۔ہمارے پاس مختلف قیمت اور کوالٹی کے بیٹری سیل دستیاب ہیں جو ہم مارکیٹ کرتے ہیں اور صارفین کی ڈیمانڈ کا خٰیال رکھتے ہیں
سوال: کوالٹی چیک کرنے کے لئے کسی سر ٹیفیکیشن کی ضرورت ہوتی ہے ؟
جواب:کوالٹی کنٹرول کے حوالے جتنے بھی متعلقہ ادارے ہیں ہمارے پاس ان کی سر ٹیفیکیشن موجود ہے اس کے بغیر کام کرنا ممکن نہیں ہےسوال : پروگریسیو گروپ آف کمپنیز130سے زائد پروڈکٹ مارکیٹ کر رہی ہے اتنے بڑے کام کو کس طرح مینج کرتے ہیں؟
جواب:130اسٹاک کیپنگ یونٹس ہیںپہلے بیٹری لاونچ کی 2007میں انسیکٹی سائیڈ لاونچ کئے پہلے یہ امپورٹ ہوتے تھے اب سب یہاں بن رہے ہیںپہلے انڈونیشیا،تا ئیوان،ترکی ودیگر ممالک سے آتے تھے اب سب یہاں بن رہے ہیں اسی طرح سال بہ سال مختلف پروڈکٹس لاونچ کے جاتی رہیں اور ہمیں مارکیٹ کا کنٹرول حاصل ہوگیا 26 سال کے دوران پانچ کیٹگریز اور 130 اسٹاک کیپنگ یونٹس لاونچ کئے اس کو مینج کرنے کے لئے 150 افراد پر مشتمل سیلز کی ٹیم ہے 50 ڈائرکٹ ڈسٹری بیو ٹرز ہیں 200ان ڈائریکٹ ڈسٹری بیو ٹرز ہیں 250 کا ڈسٹری بیو شن نیٹ ورک ہے آفس میں الگ اسٹاف ہے اور ڈسٹری بیو شن نیٹ ورک میں الگ لوگ کام کر رہے ہیں
سوال : ابتدا میں ملازمین کی تعداد کتنی تھی اور اب کتنی ہے؟
جواب:پہلے دس افراد کمپنی چلاتے تھے اب ملازمین کی تعداد 1000 سے زائد ہوچکی ہے،دس میں سے پانچ مالکان تھے سب کام مالکان خود کرتے تھے پہلے دو کمروں کا سیٹ اپ تھا اب ماشاء اللہ پوری وسیع عمارت ہے۔
سوال : آپ کون کون سی پروڈکٹس خود بنا رہے ہیں،کون سی امپورٹ کر رہے ہیں اور کون سی ایکسپورٹ؟
جواب:ہم صرف بیٹری سیل امپورٹ کر رہے ہیں جو سب ہی کر رہے ہیں،ہماری زیادہ تر پروڈکٹس ملک بھر میں سپلائی ہوتی ہیں،یہ بات میں پاور پلس کے حوالے سے کر رہا ہوں ہماری فوڈ کمپنی کے معاملات کچھ الگ ہیں،ایک کمپنی ہے پروگریسو ٹریڈرز پرائیویٹ لمیٹڈ،دوسری پاور پلس پرائیویٹ لمیٹڈ اور تیسری پاک غذا پرائیویٹ لمیٹڈ ہے ان تینوں کمپنیوں کو ملا کر پروگریسوز گروپ آف کمپنیز بنتا ہے
سوال :پاک غذا پرائیویٹ لمیٹڈ کے حوالے سے کچھ تفصیلات بتائیں؟
جواب:پاک غذا کی سب سے بڑی شناخت یہ ہے کہ ہم ایک ایسا انزائم مارکیٹ کو فراہم کر رہے ہیں جس کے بغیر ڈبل روٹی بن ہی نہیں سکتی اس انزائم کا نام ہے SUPER EKA 300 اس کے استعمال کے بغیر ڈبل روٹی میں سوفٹنیس نہیں آسکتی نا اس کی کوالٹی بہتر ہوسکتی ہے۔ڈبل روٹی تیار کرنے والی کمپنیاں یہ انزائم ہم سے لیتی ہیں،پاکستان میں اس وقت ہم یہ انزائم پروڈکٹ ترکی کے اشتراک سے تیار کر رہے ہیں
اس کے علاوہ ہم کوکو پاوڈر ،بیکنگ پاوڈر، سو یافلورپر کام کرتے ہیں اس کے علاوہ ابھی حال ہی میں ہم نے بیکری انڈسڑی کی سپورٹ کے لئے چاکلیٹ سلیب اور دیگر آئٹم تیار کئے ہیں جن کی بہت زیادہ ڈیمانڈآرہی ہے۔پاک غذا خالصتا ہمارے چئیرمین صدیق شیخ صاحب کا وژن ہے اوریہ کمپنی دیکھتے ہی دیکھتے مارکیٹ میں چھا گئی اور ہماری تمام پروڈکٹس مقبول ہو رہی ہیں۔آپ کسی بھی بیکری میں چلے جائیں وہاں موجود کسی نا کسی پروڈکٹ میں ہمارا ر مٹیریل ضرور ہوگا۔سوال:ہمارے ملک میں اشیاء کی امپورٹ اور سپلائی آرگنائزڈ وے میں ہورہی ہے یا سب اللے تللے چل رہا ہے؟
جواب:پاور پلس سمیت چند کمپنیاں ہیں جو آرگنائزڈ طریقے سے کام کر رہی ہیں زیادہ تر چند ہولسیلز مل کر کنٹینر منگوالیتے ہیں اور مارکیٹ میں پھیلادیتے ہیں ان پروڈکٹس کے معیار اور قیمت کی ذمہ داری کوئی قبول نہیں کرتا جبکہ پاور پلس تمام کام آرگنائزڈ طریقے سے کرتی ہے ہم معیار کابھی خیال کرتے ہیں اور قیمتوں کا بھی،اسی لئے پاور پلس کا نام معیار کی ضمانت بن چکا ہے۔سوال:آپ کی انڈسڑی کو اوربزنس کمیو نٹی کو کچھ مسائل ہیں تو آپ اپنے اس انٹرویو کے ذریعے سامنے لائیں؟
جواب:ہماری انڈسڑی کو دو بنیادی مسائل کا سامنا ہے ابھی حال ہی میں حکومت نے ہم پر دو فیصد ایڈوانس ٹیکس لگا دیا ہم سے مراد ان رجسٹرڈ کسٹمرز پر لگایا ہے پاکستان میں اس وقت 85فیصد ان رجسٹرڈ کسٹمرز ہیں ہم انوائس میں دو فیصد شامل کرتے ہیں اس طرح پرائس زیادہ ہو جاتی ہے صارف پرائس دے نہیں رہا اور کہہ رہا ہے کہ ڈسکاونٹ دے دیں اگر میں ڈسکاونٹ دیتاہوں تو مجھے ایک اور پریشانی کا سامنا رہے گا،میں جمع کرکے حکومت کو دے رہا ہوں یہ ہمارا کام نہیں ہے اس صورتحال سے ہمارا بزنس متا ثر ہو رہا ہے،آپ اس سیکٹر کو آرگنائزڈ کریں اس پر کام کریں اس کے لئے ایکشن کی ضرورت ہوگی اس پر کوئی بات نہیں کر رہا ایک اچھا کریانہ اسٹور دس لاکھ تک کا بزنس کر رہا ہے مگر وہ کیا ٹیکس دیتا ہے سیلری پرسن تو ٹیکس دیتا ہے۔ آپ کسی ریسٹورنٹ میں چلے جائیں وہ آپ کے بل میں ٹیکس شامل کردیتے ہیں حکومت توجہ نہیں دے گی تو بزنس مین ملک سے چلا جائے گا فیکٹریاں بند ہو جائیں گی تو بے روزگاری بڑھے گی گزشتہ ڈھائی سالوں کے دوران چھ فیصد ٹیکس بڑھا ہے امپورٹ ایکسپورٹ میں بھی ڈیوٹیز کے حوالے سے صورتحال خراب ہے لو گ کچا پکا کرکے بغیر ڈیوٹی کے کنٹینرنکال رہے ہیں اس ماحول میں قانونی کام کرنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ان کا مقابلہ کرنا مشکل ہورہا ہے آپ کی سیل کم ہوگی نفع کم ہوگا تو آپ ری انویسٹ نہیں کر پائیں گے۔انڈسٹری پھلے پھولے گی نہیں تو بے روزگاری بڑھے گی تو لوگ کہاں جائیں گے موبائل چھینیں گے بس،دیکھیں مارکیٹ میں پیسہ کیسے آئے گا پیسہ کمائیں گے توری انوسٹ ہوگا۔نئی فیکٹریاں لگیں گی تو لوگوں کو روزگار ملے گا،بجلی کے بل دیکھیں کہاں تک پہنچ چکے ہیں ملک میں بجلی چوری ہو رہی ہے حالات ایسے پیدا کر دئیے جاتے ہیں لوگ مجبور اور بے بس ہوجاتے ہیں ہمارے ملک میں بہت سارے چیلنجز ہیں لیڈر شپ کو اس پر توجہ دینا چاہیے۔ توجہ ہوگی تو ملک ترقی کرے گا اور لوگوں کے مسائل حل ہوں گے۔ -

روسی ہاؤس کراچی میں رشین پوئیٹری ڈے کا جشن
روسی ہاؤس کراچی میں “رشین پوئیٹری ڈے” کی ایک شاندار اور پُر جوش تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں 5 سال سے لے کر 50 سال تک کی عمر کے 25 سے زائد شرکاء نے بھرپور شرکت کی۔ یہ تقریب عظیم روسی شعرا کی ادبی وراثت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منعقد کی گئی , مقابلے میں اردو، انگریزی اور روسی زبانوں میں کلام پڑھنے کے لیے ایک منفرد پلیٹ فارم فراہم کیا گیا۔شرکاء نے اپنے پُر اثر انداز میں شاعری پیش کی، اور حاضرین کی توجہ کو اپنی گرفت میں لیے رکھا ۔ تقریب کا ماحول بہت منظم رہا۔
تقریب کی میزبانی ربیعہ علی فریدی نے جناب آصف الیاس کے ساتھ مل کر نہایت خوبصورتی اور دلنشینی سے انجام دی، ان کی پرکشش میزبانی نے تقریب کو مزید دلکش بنا دیا۔
آصف الیاس جو کے ریڈیو اور تھیٹر کا مشہور نام ہیں ۔
اردو شاعری کی پڑھت میں اول آئیں شاہ لیزے جب کے انگلش نظم کو خوبصورتی سے پیش کرنے پر چھوٹے سے خضر ساجدی اول نمبر پر آئے، روسی میں شاعری پیش کرنے پر اول آئے وجاہت ، یہ ججز کے لیے ایک مشکل مرحلہ تھا ،
مقابلے کے اختتام پر تمام شرکاء کو اسناد، شیلڈز، اور تحائف سے نوازا گیا تاکہ ان کے شوق کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔
معزز ججز میں شامل تھے جناب رسلان ایم۔ پروخوروف – چیئرمین جیوری، نائب قونصل اور روسی مرکز برائے سائنس و ثقافت پاکستان کے ڈائریکٹرجناب ندیم ظفر صدیقی – ڈپٹی چیئرمین جیوری، ادبی منتظم اور ثقافتی شخصیت ڈاکٹر حسین تھیبو – تجارتی امور کے ماہر، صحافی اور میڈیا ایکسپرٹ محترمہ نازیہ غوث – شاعرہ اور ماہر تعلیم محترمہ فریحہ عاقب – اسسٹنٹ ڈائریکٹر روسی ہاؤس کراچی، ادیبہ اور تھیٹر کوآرڈینیٹرمحترمہ ثنا ارسلان – ممتاز پاکستانی کاروباری شخصیت، جو کئی سال روس میں مقیم رہیں اور پاکستان کی سرکردہ کاروباری خواتین میں شامل رہی ہیں تقریب کے بعد مہمانوں اور شرکاء کی تواضع ایک پرتکلف ہائی ٹی سے کی گئی، جس نے، گفتگو اور ثقافتی ہم آہنگی کے لمحات کو مزید خوبصورت بنا دیا۔روسی ہاؤس ادب اور ثقافت کے فروغ اور پاکستان و روس کے عوام کے درمیان قریبی تعلقات کو مستحکم کرنے کے اپنے مشن پر کاربند ہے۔
— -

ہیوسٹن میں اسکارف پہنی پاکستانی خاتون پر وحشیانہ حملہ، ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی
ہیوسٹن (کنزیومر واچ نیوز)امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں پاکستانی نژاد خاتون پر مبینہ مذہبی منافرت کے تحت حملہ کیا گیا۔ یہ واقعہ ساؤتھ ولکریسٹ ڈرائیو پر واقع شوگر پارک پلازہ کے سامنے پیش آیا، جب جمعہ کی شام تقریباً 5 بجے ایک نامعلوم شخص نے خاتون کو پیچھے سے دھکا دے کر زمین پر گرا دیا۔خاتون کے منہ کے بل گرنے سے ان کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی اور چہرے پر شدید چوٹیں آئیں۔ واقعہ سی سی ٹی وی کیمرے میں ریکارڈ ہو گیا، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور بآسانی سڑک کے دوسری جانب چلا گیا۔خاتون کے بیٹے محمد ظہیر نے بتایا کہ اس کی والدہ اسکارف پہنے ہوئے تھیں اور ممکنہ طور پر حملہ آور نے انہیں مسلمان سمجھ کر نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ نفرت پر مبنی جرم ہے اور ملزم کو فوری گرفتار کرکے سخت سزا دی جانی چاہیے۔
-

الجزیرہ کے معروف صحافی اپنے ساتھیوں سمیت اسرائیل کے ٹارگٹڈ حملے میں شہید
غزہ(کنزیومر واچ نیوز)اسرائیلی افواج کا ایک اور مہلک وار قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے معروف صحافی انس الشریف اپنے 3 صحافتی ساتھیوں سمیت غزہ میں شہید ہو گئے۔غزہ کے الشفاء اسپتال کے مطابق 28 سالہ انس الشریف اور ان کے ساتھیوں کو اسپتال کے مرکزی دروازے کے قریب اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ صحافیوں کے لیے لگائے گئے ایک خیمے میں موجود تھے۔مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ممکنہ طور پر ٹارگٹڈ اسٹرائیک تھا۔شہادت پانے والوں میں الجزیرہ کے رپورٹر محمد قریقیہ، کیمرا مین ابراہیم ظاہر اور میڈیا ورکر محمد نوفل شامل ہیں۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق انس الشریف نے شمالی غزہ میں اسرائیلی بمباری، انسانی بحران اور جنگی جرائم کی وسیع کوریج کی تھی، جس کے بعد سے انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں۔اسرائیلی فوج نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انس الشریف پر الزام لگایا ہے کہ وہ مبینہ طور پر حماس کے ایک سیل کی سربراہی کر رہے تھے تاہم اس دعوے کے شواہد تاحال منظرِ عام پر نہیں لائے گئے۔ذرائع کے مطابق انس الشریف ان صحافیوں میں شامل تھے جو غزہ میں جاری تباہی کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے دن رات مصروف تھے۔واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیلی بمباری کے آغاز سے اب تک 200 سے زائد صحافی اور میڈیا کارکنان شہید ہو چکے ہیں، جن میں متعدد کا تعلق الجزیرہ نیٹ ورک سے تھا۔
-

یوسف رضا گیلانی کے بیٹے عبدالقادر کی بارسلونا میں قیمتی گھڑی چھین لی گئی
بارسلونا(کنزیومر واچ نیوز)چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کے بیٹے اور ممبر قومی اسمبلی سید عبدالقادر گیلانی بارسلونا میں قیمتی گھڑی سے محروم ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق چور سید عبدالقادر گیلانی سے گھڑی چھین کر لے گئے۔اطلاعات کے مطابق گھڑی کی مالیت 56 ہزار یورو تھی جو پاکستانی کرنسی میں ایک کروڑ 85 لاکھ روپے بنتی ہے ۔سابق وزیراعظم اور چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کے بیٹے عبدالقادر گیلانی بارسلونا میں سیروتفریح کے لیے گئے ہوئے ہیں۔
-

پاکستان کے کس صوبے میں کتنے گدھے ہیں؟ تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آ باد(کنزیومر واچ نیوز) پاکستان کے کس صوبے میں کتنے گدھے ہیں؟ تفصیلات سامنے آگئیں۔ حکومتی زراعت شماری رپورٹ کے مطابق گدھوں کی تعداد میں پنجاب تمام صوبوں سےآگے ہے، سندھ دوسرے اورخیبرپختونخواہ میں تیسرے نمبرپرگدھوں کی تعدادزیادہ ہےجبکہ صوبہ بلوچستان میں گدھوں کی تعداد باقی صوبوں کےمقابلے میں کم ہے۔رپورٹ کے مطابق پنجاب میں گدھوں کی تعداد 24لاکھ3ہزار، سندھ میں گدھوں کی تعداد 10 لاکھ 81 ہزار، خیبرپختونخواہ میں 7 لاکھ82 ہزار اور بلوچستان میں گدھوں کی تعداد 6 لاکھ30 ہزار ہوچکی ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گدھوں کی تعداد 4 ہزار ریکارڈ کی گئی۔ زراعت شماری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان کےمقابلے پنجاب میں گدھوں کی تعداد 17 لاکھ73ہزار زیادہ بنتی ہے، پنجاب میں خیبر پختونخواہ کےمقابلے گدھوں کی تعداد 16 لاکھ 21 ہزار اور سندھ کے مقابلے پنجاب میں گدھوں کی تعداد 13لاکھ 22 ہزار زیادہ بنتی ہے۔ زراعت شماری رپورٹ2024کے مطابق پاکستان میں گدھوں کی مجموعی تعداد49لاکھ ہو چکی ہے۔


