Blog

  • ناخلف بیٹے نے ریٹائرڈ انسپکٹر باپ اور 2 بہنوں کو ذبح کردیا

    ناخلف بیٹے نے ریٹائرڈ انسپکٹر باپ اور 2 بہنوں کو ذبح کردیا

    اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز) وفاقی دارالحکومت میں جائیداد کے تنازع پر نا خلف بیٹے نے باپ اور 2 بہنوں کو ذبح کر دیا۔پولیس کے مطابق اسلام آباد میں پیر کی صبح 30سالہ محمدعلی نے اپنےو الد انسپکٹر (ر) محمود حسین اور ہمشیرہ شبنم ز ہرہ کو اپنے گھر میں چھری سے ذبح کیا جس کے بعد اس نے سہ پہر کو پنڈی میں کانسٹیبل 35 سالہ انجم ز ہرہ کو بھی موت کے گھاٹ اتارا۔پولیس کاکہناہے کہ ملزم ہمشیرہ کو موت کے گھاٹ اتارنے کے بعد اس کے شوہر کاانتظار کرتارہاکہ وہ آئے تواس کے خون سے بھی اپنے ہاتھ رنگے۔پولیس کے مطابق ملزم نے 3 ماہ کے بھانجے سالار حمزہ کو قتل کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا، نوزائیدہ کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس جائے وقوعہ پرپہنچی اور ملزم کو حراست میں لے لیا۔

  • سزا پانیوالے پی ٹی آئی رہنماؤں کی جائیدادیں ضبط کرنے اور شاہ محمود کو رہا کرنے کا حکم

    سزا پانیوالے پی ٹی آئی رہنماؤں کی جائیدادیں ضبط کرنے اور شاہ محمود کو رہا کرنے کا حکم

    لاہور(کنزیومر واچ نیوز)انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی مقدمات میں سزا پانے والے تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جائیدادیں بھی ضبط کرنے کا حکم دے دیا۔ جیو نیوز کے مطابق انسداد دہشتگردی عدالت لاہور نے تھانہ شادمان کو آگ لگانے سمیت دو مقدمات میں گزشتہ روز سنائے گئے فیصلے کی تفصیل جاری کی۔ عدالتی فیصلے کے مطابق عدالت نے تمام مجرموں کو قید بامشقت کی سزا سنائی اور حکم دیا کہ مجرموں کو تمام سزائیں ایک ساتھ کاٹنی ہوں گی۔ انسداد دہشتگردی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما اعجاز چوہدری، محمودالرشید، عمر سرفراز اور یاسمین راشد کی جائیدادیں ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔ دوسری جانب عدالت نے پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو 9 مئی کے 2 کیسز میں رہا کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔واضح رہے کہ اے ٹی سی نے گزشتہ روز فیصلہ سناتے ہوئے دونوں مقدمات شاہ محمود قریشی کو بری جب کہ سابق گورنر عمر سرفراز چیمہ، سابق صوبائی وزیرڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔عدالت نے عالیہ حمزہ اور ضم جاوید کو پولیس اسٹیشن کو آگ لگانے کے مقدمے 5،5 برس جب کہ عائشہ بھٹہ کو پولیس کی گاڑیاں جلانے کے مقدمے 10 برس قید کی سزا سنا ئی تھی۔

  • پاور پلس بیٹری سیل اپنے اعلی معیار کے باعث  مارکیٹ لیڈر بن گیا،فیاض احمد ابڑو

    پاور پلس بیٹری سیل اپنے اعلی معیار کے باعث مارکیٹ لیڈر بن گیا،فیاض احمد ابڑو

    پروگریسو گروپ آف کمپنیز کے بانی اور چئیرمین صدیق شیخ نے 1954 میں جوڑیا بازار سے کاروبار کا آغاز کیااور جلدکامیاب کاروباری شخصیت بن گئے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔..
    ہما رے ایم ڈی ادریس شیخ مرحوم نے بھی کمپنی کی ترقی میں نمایاں کردار اد اکیا پاور پلس بیٹری سیل 1999میں متعارف کرایا گیااور دیکھتے ہی دیکھتے چھا گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…
    ہماری ہر پروڈکٹ اپنے اعلی معیار کے باعث صارفین کی پسندیدہ پروڈکٹ بن گئی،کوالٹی کنڑول کے لئے ہماری کمپنی بین الاقوامی اصولوں پر عمل کرتی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…
    ہماری فوڈ کمپنی پاک غذا چئیرمین صدیق شیخ کا وژن ہے،بیکری انڈسڑی کو اعلی کوالٹی کا را مٹیریل فراہم کرنے میں پاک غذا پیش پیش ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…
    برانڈ ایوارڈ آپ کے برانڈ کومقبول بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، پروگریسو گروپ آف کمپنیز کے کنٹری کمرشل ہیڈ فیاض احمد ابڑو کی گفتگو
    .۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔..
    رپورٹ:نشید آفاقی،رمشا یاور بیگ
    فوٹو گرافی:حسنین احمد
    فیاض احمد ابڑو سیلز اینڈ مارکیٹنگ ایکسپرٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین استاد بھی ہیں
    فیاض احمد ابڑو پروگریسو گروپ آف کمپنیز کے کنٹری کمرشل ہیڈ ہیں وہ سیلز اینڈ مارکیٹنگ ایکسپرٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک استاد بھی ہیں اور استاد بھی ایسے جن کو پڑھانے کا جنون ہے جتنی خوبصورت شخصیت کے مالک ہیں اس سے کہیں زیادہ با اخلاق اور ملنسار ہیں بہت محنت اور لگن سے اس مقام تک پہنچے فیاض احمد ابڑو نے ایم بی اے کرنے کے بعد ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں مارکیٹنگ کے شعبے سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا کولگیٹ پامولیو میں مختلف برانڈز پر کام کیا ،اسٹیل مل ،ریڈ ایپل،شیل،ڈابر،ڈیوڈریٹ کیٹیگری کو دیکھا،ایف ایم سی جی اور نان ایف ایم سی جی میں کام کیا انھوں نے بتایا کہ میں نے پروگریسیو گروپ 2021میں بطور سیلز اینڈمارکیٹنگ منیجر جوائن کیا،پچھلے سال کمپنی نے مجھے کنٹری کمرشل ہیڈبنایا پہلے میں ایف ایم سی جی کو دیکھتا تھا اب فوڈ کو بھی دیکھ رہا ہوں ظاہر ہے زندگی کا ایک سفر ہے اس میں آپ کی محنت ،فیملی اور دوستوں کا رول ہے۔آپ کے اساتذہ اور کولیگز کابہت بڑا رول ہے مجھے یہ سب کچھ ورثے میں تو نہیں ملا پہلے میں بھی آفس کے ہال میں بیٹھتا تھا اب یہاں آپ کے سامنے بیٹھا ہوں ظاہر ہے ترقی میں آپ کا ڈسپلن،محنت اور دیانت کا بہت بڑا رول ہے۔آپ کی لگن بھی بہت اہمیت کی حامل ہے آپ کی صلاحیت اچھے کردار کے بغیر بے معنی ہے آپ کی کامیابی اچھے کردار کی وجہ سے ہی ملے گی آپ بہت محنتی ہوں گے مگر آپ زندگی کے کسی موڑ پر تھک جائیں گے اس موڑ پر کیریکٹر آپ کو جتا دیتا ہے۔ کیریکٹر سے مراد یہ نہیں ہے کہ آپ اچھی گفتگو کرتے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کے اندر اپنے کام کی کتنی سمجھ ہے۔ لگن ہے تو کچھ دوا کام کرتی ہے کچھ دعائیں کام کرتی ہیں اور آپ اپنا مقصد اور منزل حاصل کر لیتے ہیں
    ……………………………………………………………..
    برانڈ ایوارڈ ایک اچھا مارکیٹنگ ٹول ہے،فیاض احمد ابڑو
    برانڈ فاسٹسٹ ایوارڈ کے لئے نامزدگی پر احساسات بہت اچھے تھے،برانڈ ایوارڈ ایک اچھا مارکیٹنگ ٹول ہے،آپ کو Recognised کیا گیا ایوارڈ دیا گیا آپ کی کوششوں کو تسلیم کیا گیا اور اس کے نتیجے میں آپ کو یہ اعزاز حاصل ہوا اس طرح آپ کو نیٹ ورکنگ کا ایک اچھا پلیٹ فارم ملتا ہے آپ کے برانڈ کو مائلیج ملتا ہے مارکیٹنگ ایکسر سائز ہے بنیادی طور پر برانڈ ایوارڈ آپ کے برانڈ کو اوپر لانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے البتہ ہر کام میں مزید بہتری کی گنجائش ہوتی ہے اس پر ڈبیٹ کی جاسکتی ہے۔مختلف پلیٹ فارم سے ایوارڈزدئیے جاتے ہیں یہ ایک Healthy Exercise ہے جب لوگوں کو پتا چلتا ہے کہ وہ ایوارڈ ونر پروڈکٹ لے رہے ہیں تو پروڈکٹ پر ان کا اعتماد بڑھ جاتا ہے
    ……………………………………………………………..
    سوال :پروگریسو گروپ آف کمپنیزکا قیام 1954 میں عمل میں آیا اس کے بانی کون تھے اور پروگریسو گروپ کی ترقی میں کن کن شخصیات نے اہم کردار ادا کیا؟
    جواب:پروگریسو گروپ آف کمپنیزکے بانی اور چئیرمین صدیق شیخ ہیں، انھوں نے 1954 میں جوڑیا بازار سے کاروبار کا آغاز کیا،اس وقت کمپنی صرف ٹریڈنگ کرتی تھی، ٹریڈنگ کا مقصد یہ ہے کہ آپ نے کوئی چیز بیرون ملک سے منگوائی اپنا منافع رکھا اورآگے فروخت کردیا تو اس طرح ٹریڈنگ سے کمپنی کا آغاز ہوا تھا پھر یہ سلسلہ کامیابی سے چلتا رہا،
    سوال :اپنے طویل سفر کے دوران کمپنی کوکن چیلنجز کا سامنا رہا ؟
    جواب:جب بھی آپ کوئی نیا کام شروع کرتے ہیں تو آپ کو چیلنجز کاسامنا ضرور کرنا پڑتا ہے،ابتدائی طور پر ہماری کمپنی نے لکڑی کی ٹریڈنگ کی سب کے گھروں میں دروازے لگے ہوتے ہیں ہماری دلچسپی دروازوں سے ہوتی ہے دروازوں میں لگی دوسری چیزوں میں ہماری دلچسپی نہیں ہوتی دروازوں میں ایم ڈی ایف اور لاثانی کی لکڑی لگی ہوتی ہے،ہماری کمپنی ایم ڈی ایف اور لاثانی کی لکڑی بیرون ملک سے منگواتی تھی اور بڑی بڑی و اونچی عمارتیں تعمیر کرنے والوں کو فراہم کرتی تھی پھر وہ اس لکڑی کو دروازے،کھڑکیاں اور دیگر کاموں میں استعمال کرتے تھے کافی عرصے اس کام سے منسلک رہنے کے بعد ہماری کمپنی کیمیکل کے شعبے سے وابستہ ہوگئی بلک میں کیمیکل امپورٹ کی جاتی تھی جو ہماری کمپنی کپڑے دھونے کے پاوڈر اوردیگر اشیاء تیار کرنے والوں ،ہولسیلرز اور ٹریڈرزکو فروخت کرتی تھی،اس کے بعد ہم نے ٹائر کا کام شروع کردیا پھر ہماری کمپنی فارما سیو ٹیکل کے شعبے سے وابستہ ہوگئی،فارما سیو ٹیکل میں جو بھی وٹامنز،پروٹینز اورمنزلز استعمال ہوتے ہیں وہ ہماری کمپنی چین،تھائی لینڈ اور دیگر ممالک سے امپورٹ کرکے فارما سیو ٹیکل کمپنیوں کو فروخت کرتی تھی،
    یہ کام انڈینٹنگ کا ہوتا ہے انڈینٹر مینو فیکچرر،ڈسڑی بیوٹر اور امپورٹر کے درمیان برج کا کردار ادا کرتا ہے،وہ اپنا کمیشن رکھتا ہے اورمال کو آگے پارٹی کو فراہم کر دیتا ہے اس طرح کاروبار کے پہیے کو رواں دواں رکھنے میں انڈینٹر کا بھی اہم رول ہوتا ہے پھر تھوڑا سا آگے چلیں تو ماچس کے شعبے میں آگئے اس کے بعد ہماری کمپنی فوٹوگرافی کے حوالے سے مشہور کمپنی کوڈک کی پاکستان میں ڈسڑی بیوٹر بن گئی اس طرح ٹریڈنگ والا تصور ختم ہوگیا،کوڈک کے ساتھ یہ لوگ دس، پندرہ تک جڑے رہے پھر جدید ٹیکنالوجی کی آمد سے آنے والی تبدیلی سے کوڈک کا ڈاون فال شروع ہوا تو ہماری کمپنی نے بھی اپنا بزنس تبدیل کیا اور ہم بیٹری سیل کی فیلڈ میں آگئے،1999میں پروگریسو ٹریڈرز گروپ نے پاور پلس بیٹری سیل متعارف کروایا،اس زمانے میں بیٹری سیل کی مارکیٹ آرگنائزڈ نہیں تھی اب آرگنائزڈ ہوگئی ہے اس وقت سو فیصد ٹریڈنگ پر کام ہوتا تھا،ٹریڈرز اور ہولسیلرز جاپان،چائنا،تھائی لینڈ ،تائیوان اور دیگر ممالک سے کنٹینرز میں بیٹری سیل منگواتے تھے اور مارکیٹ میں سپلائی کردیتے تھے۔ملک میں یہ کام آرگنائزڈ طریقے سے نہیں ہوتا تھا،ہماری کمپنی کو اس شعبے میں ترقی کے مواقع نظر آئے تو انھوں نے بیٹری سیل کے شعبے میں قدم رکھا، کھلونوں،گھڑیوں،ریمورٹس ودیگر میں استعمال ہونے والے بیڑی سیل سے لے کر فارما سیو ٹیکل ایکوپمنٹس میں استعمال ہونے والے بیٹری سیل تک سب میں ہم کام کر رہے ہیں ہمارے بچپن میں ریڈیو میں بڑے بیٹری سیل استعمال ہوتے تھے ان کو نام کی بجائے رنگوں سے شناخت کیا جاتا تھا برانڈنگ کا کوئی تصور نہیں تھا،پروگریسو ٹریڈرز گروپ پہلی کمپنی ہے جس نے ملک میں پاور پلس برانڈ کے بیٹری سیل کو متعارف کرکے اس کو ایک پہچان دی،بیٹری سیل کی کٹیگری تین حصوں میں تقسیم ہوتی ہے، سب سے پہلے الکلائن ،اس کیٹگری کے بیٹری سیل مہنگے ہوتے ہیں اس کے بعد نان الکلائن کا نمبر آتا ہے ایک سروے کے مطابق ملک میں نو لاکھ ستر ہزار دکانیں ہیں اس میں سے چار لاکھ دکانوں میں پاور پلس برانڈ کا نان الکلائن بیٹری سیل دستیاب ہے۔ڈبل اے،ٹرپل اے،چھوٹا، بڑا،پینسل سیل(ریموٹ والا یا گھڑی والا) ہرقسم کا سیل پاور پلس برانڈ میں دستیاب ہے اور ہمیں صارفین کا اعتماد حاصل ہے اور ہم بیٹری سیل کے شعبے میں مارکیٹ لیڈر ہیں کمپنی کی مجموعی سیل میں 38فیصد حصہ بیڑی سیل کا ہے۔

    سوال:پروگریسو گروپ آف کمپنیزکی ترقی بنیادی طور پر کس کے وژن کی مرہون منت ہے؟
    جواب: کسی بھی کمپنی کی ترقی میں متعددد ماغ کام کرتے ہیں کوئی پروڈکٹ تخلیق کرتا ہے،کوئی بناتاہے،کوئی مینجمنٹ دیکھتا ہے تو کوئی سیلز مارکیٹنگ کا شعبہ سنبھالتا ہے سب مل کر کمپنی کو ترقی کی منزل تک پہنچاتے ہیں،پروگریسو گروپ آف کمپنیز کی بات کریں تو ہمارے چئیرمین
    صدیق شیخ صاحب کے بھائی اور ہمارے ایم ڈی ادریس شیخ مرحوم کی یہ کیٹگری تھی ان کا انتقال 2019 میں ہوا یہ جو اسٹرکچر آپ دیکھ رہے ہیں اس میں ادریس شیخ صاحب کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔فوڈ کے بزنس میں صدیق شیخ صاحب کا بہت بڑا کردار ہے بیڑی سیل کے حوالے سے ادریس شیخ کی اہم خدمات ہیں کہہ سکتے ہیں کہ ان کے ہی وژن کے تحت پاور پلس بیٹری سیل ایک بڑا برانڈ بن گیا ۔ادریس شیخ مرحوم نے بنیادی اسٹرکچر بنا یا پھر ان کے ساتھ مختلف لوگ جڑتے چلے گئے اور یوں پاور پلس بیٹری سیل کو یہ نمایاں مقام حاصل ہوا کہ پاور پلس بیٹری سیل آج اس شعبے کا مارکیٹ لیڈر بن گیا ہے۔میں کنٹری کمرشل ہیڈہوں میں پورے پاکستان میں سیلز اور مارکیٹنگ کے معاملات کو دیکھتا ہوں میرے ساتھ پوری ٹیم ہے، کوئی ایریا مینجر ہے کوئی زونل تو کوئی ریجنل مینجر ہے، کوئی حیدر آباد میں بیٹھا ہے تو کوئی کسی اور شہر میں،ظاہر ہے ڈیٹا تو ہمیں وہاں سے بھی آتا ہے، ان پٹ وہاں سے بھی آتا ہے، فیڈبیک بھی آتا ہے، ہم ڈیٹا سے اپنی مطلب کی چیزیں نکالتے ہیں اس طرح اپنی اپنی efforts ڈالتے ہیں تو کمپنی آگے بڑھتی ہے۔ بہت سارے لوگوں کی محنت ہے، مگر ظاہر ہے جو مالکان ہیں جن کا پیسہ لگا ہوا ہے، تو اصل آئیڈیا وہیں سے آتا ہے، وژن بھی وہیں سے آتا ہے کہ ہم نے تین چار سال میں یہاں سے کتنا آگے جانا ہے، ہم نے یہ کٹیگری لانچ کر دی ہے، ہم نے اس برانڈ پر کام کرنا ہے، ہم اپنے برانڈ کی پوزیشن اگلے دو تین سالوں میں اس پوزیشن پر دیکھنا چاہتے ہیں۔
    سوال:ُپاور پلس بیٹری سیل پاکستان میں ہی بنائے جاتے ہیں؟
    جواب :پاکستان میں کسی بھی بیٹری سیل کی مینو فیکچرنگ نہیں ہوتی۔ سب چائنا، جاپان، تائیوان اور دیگر ملکوں سے آتے ہیں۔ اس کی کچھ وجوہات ہیں پاکستان میں بیٹری سیل کا را مٹیریل دستیاب نہیں ہے مل جائے تو اس کی کوالٹی اچھی نہیں ہوتی پھر پلانٹ کو چلانے کے لئے آپ کو اسکلڈورکر زبھی چاہیے پلانٹ میں مسئلہ آگیا تواس کی خرابیاں دور کرنا بھی ایک مسئلہ ہوگا بیٹری سیل بہت ہی حساس آئیٹم ہے چیز چھوٹی ہے مگر دھماکہ بڑا ہے تیس روپے کا بیٹری سیل نہیں ہے تو صبح آپ کا الارم نہیں بجے گا آپ تو سوئے رہیں گے دفتر نہیں پہنچ سکیں گے اگر گھڑی بند ہے تو کیا کریں گے آپ کا ٹائم رک گیا آپ کی زندگی رک گئی ،اے سی ایک لاکھ روپے یا اس سے زیادہ کا ہوتا ہے لیکن اس کے ریموٹ میں اسی روپے کے بیٹری سیل نہیں ہوں گے تو آپ اس سہولت سے محروم ہو جائیں گے ایک لاکھ روپے کی مشین اسی روپے کے بیڑی سیل کی محتاج ہے آپ نے کہا گرمی لگ رہی ہے میں نے 16پرکر دیا۔ آپ کہیں کہ سردی لگ رہی ہے تو میں نے بند کر دیا اگر ریموٹ میں بیٹری نا ہو تو میں یہ سارے کام کس طرح انجام دونگا بیٹری سیل ہے تو سستا مگر بڑی اہمیت کا حامل ہے ہم اپنے بیٹری سیل میں کوالٹی کا خیال رکھتے ہیں اس لئے پاور پلس بیٹری سیل پورے ملک میں بے حد مقبول ہیں،کوالٹی کا جانچنے کے لئے ہمارے کچھ بیرو میٹرز ہیں اس پر ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے ہیں جہاں سے ہم بیٹر ی سیل امپورٹ کر تے ہیں وہ بھی کوالٹی کا خیال کرتے ہیں اور ہمارے پاس ان ہاؤس بھی سہولت موجود ہے اس کا ایک دیسی طریقہ کار بھی ہے ٹارچ میں آپ بیٹری سیل لگا کر چھوڑ دیں سو منٹ،ستانوے۔اٹھانوے منٹ کے بعد لیک ہوجائے گا یہ سیل کی کوالٹی چیک کرنے کا بیرو میٹر ہے اسی طرح جو انٹر نیشنلی کوالٹی چیک کرنے کا طریقہ کار ہے اس سے گزار کر ہم یہ بات کرتے ہیں کہ ہمارے بیٹری سیل کی لائف اتنی ہے۔ اسی طرح اس کی قیمت اور صارفین کی ڈیمانڈ کے مطابق بھی اس کی کو الٹی کا تعین کیا جاتا ہے کبھی کبھی سیل جلد لیک کر جاتے ہیں اس کی وجہ یہ ہوتی ہے جہاں ہیوی ڈیوٹی سیل کی ضرورت ہوتی ہے آپ وہاں سستا والا بیٹری سیل استعمال کر لیتے ہیں۔ہمارے پاس مختلف قیمت اور کوالٹی کے بیٹری سیل دستیاب ہیں جو ہم مارکیٹ کرتے ہیں اور صارفین کی ڈیمانڈ کا خٰیال رکھتے ہیں
    سوال: کوالٹی چیک کرنے کے لئے کسی سر ٹیفیکیشن کی ضرورت ہوتی ہے ؟
    جواب:کوالٹی کنٹرول کے حوالے جتنے بھی متعلقہ ادارے ہیں ہمارے پاس ان کی سر ٹیفیکیشن موجود ہے اس کے بغیر کام کرنا ممکن نہیں ہے

    سوال : پروگریسیو گروپ آف کمپنیز130سے زائد پروڈکٹ مارکیٹ کر رہی ہے اتنے بڑے کام کو کس طرح مینج کرتے ہیں؟
    جواب:130اسٹاک کیپنگ یونٹس ہیںپہلے بیٹری لاونچ کی 2007میں انسیکٹی سائیڈ لاونچ کئے پہلے یہ امپورٹ ہوتے تھے اب سب یہاں بن رہے ہیںپہلے انڈونیشیا،تا ئیوان،ترکی ودیگر ممالک سے آتے تھے اب سب یہاں بن رہے ہیں اسی طرح سال بہ سال مختلف پروڈکٹس لاونچ کے جاتی رہیں اور ہمیں مارکیٹ کا کنٹرول حاصل ہوگیا 26 سال کے دوران پانچ کیٹگریز اور 130 اسٹاک کیپنگ یونٹس لاونچ کئے اس کو مینج کرنے کے لئے 150 افراد پر مشتمل سیلز کی ٹیم ہے 50 ڈائرکٹ ڈسٹری بیو ٹرز ہیں 200ان ڈائریکٹ ڈسٹری بیو ٹرز ہیں 250 کا ڈسٹری بیو شن نیٹ ورک ہے آفس میں الگ اسٹاف ہے اور ڈسٹری بیو شن نیٹ ورک میں الگ لوگ کام کر رہے ہیں
    سوال : ابتدا میں ملازمین کی تعداد کتنی تھی اور اب کتنی ہے؟
    جواب:پہلے دس افراد کمپنی چلاتے تھے اب ملازمین کی تعداد 1000 سے زائد ہوچکی ہے،دس میں سے پانچ مالکان تھے سب کام مالکان خود کرتے تھے پہلے دو کمروں کا سیٹ اپ تھا اب ماشاء اللہ پوری وسیع عمارت ہے۔
    سوال : آپ کون کون سی پروڈکٹس خود بنا رہے ہیں،کون سی امپورٹ کر رہے ہیں اور کون سی ایکسپورٹ؟
    جواب:ہم صرف بیٹری سیل امپورٹ کر رہے ہیں جو سب ہی کر رہے ہیں،ہماری زیادہ تر پروڈکٹس ملک بھر میں سپلائی ہوتی ہیں،یہ بات میں پاور پلس کے حوالے سے کر رہا ہوں ہماری فوڈ کمپنی کے معاملات کچھ الگ ہیں،ایک کمپنی ہے پروگریسو ٹریڈرز پرائیویٹ لمیٹڈ،دوسری پاور پلس پرائیویٹ لمیٹڈ اور تیسری پاک غذا پرائیویٹ لمیٹڈ ہے ان تینوں کمپنیوں کو ملا کر پروگریسوز گروپ آف کمپنیز بنتا ہے
    سوال :پاک غذا پرائیویٹ لمیٹڈ کے حوالے سے کچھ تفصیلات بتائیں؟
    جواب:پاک غذا کی سب سے بڑی شناخت یہ ہے کہ ہم ایک ایسا انزائم مارکیٹ کو فراہم کر رہے ہیں جس کے بغیر ڈبل روٹی بن ہی نہیں سکتی اس انزائم کا نام ہے SUPER EKA 300 اس کے استعمال کے بغیر ڈبل روٹی میں سوفٹنیس نہیں آسکتی نا اس کی کوالٹی بہتر ہوسکتی ہے۔ڈبل روٹی تیار کرنے والی کمپنیاں یہ انزائم ہم سے لیتی ہیں،پاکستان میں اس وقت ہم یہ انزائم پروڈکٹ ترکی کے اشتراک سے تیار کر رہے ہیں
    اس کے علاوہ ہم کوکو پاوڈر ،بیکنگ پاوڈر، سو یافلورپر کام کرتے ہیں اس کے علاوہ ابھی حال ہی میں ہم نے بیکری انڈسڑی کی سپورٹ کے لئے چاکلیٹ سلیب اور دیگر آئٹم تیار کئے ہیں جن کی بہت زیادہ ڈیمانڈآرہی ہے۔پاک غذا خالصتا ہمارے چئیرمین صدیق شیخ صاحب کا وژن ہے اوریہ کمپنی دیکھتے ہی دیکھتے مارکیٹ میں چھا گئی اور ہماری تمام پروڈکٹس مقبول ہو رہی ہیں۔آپ کسی بھی بیکری میں چلے جائیں وہاں موجود کسی نا کسی پروڈکٹ میں ہمارا ر مٹیریل ضرور ہوگا۔

    سوال:ہمارے ملک میں اشیاء کی امپورٹ اور سپلائی آرگنائزڈ وے میں ہورہی ہے یا سب اللے تللے چل رہا ہے؟
    جواب:پاور پلس سمیت چند کمپنیاں ہیں جو آرگنائزڈ طریقے سے کام کر رہی ہیں زیادہ تر چند ہولسیلز مل کر کنٹینر منگوالیتے ہیں اور مارکیٹ میں پھیلادیتے ہیں ان پروڈکٹس کے معیار اور قیمت کی ذمہ داری کوئی قبول نہیں کرتا جبکہ پاور پلس تمام کام آرگنائزڈ طریقے سے کرتی ہے ہم معیار کابھی خیال کرتے ہیں اور قیمتوں کا بھی،اسی لئے پاور پلس کا نام معیار کی ضمانت بن چکا ہے۔

    سوال:آپ کی انڈسڑی کو اوربزنس کمیو نٹی کو کچھ مسائل ہیں تو آپ اپنے اس انٹرویو کے ذریعے سامنے لائیں؟
    جواب:ہماری انڈسڑی کو دو بنیادی مسائل کا سامنا ہے ابھی حال ہی میں حکومت نے ہم پر دو فیصد ایڈوانس ٹیکس لگا دیا ہم سے مراد ان رجسٹرڈ کسٹمرز پر لگایا ہے پاکستان میں اس وقت 85فیصد ان رجسٹرڈ کسٹمرز ہیں ہم انوائس میں دو فیصد شامل کرتے ہیں اس طرح پرائس زیادہ ہو جاتی ہے صارف پرائس دے نہیں رہا اور کہہ رہا ہے کہ ڈسکاونٹ دے دیں اگر میں ڈسکاونٹ دیتاہوں تو مجھے ایک اور پریشانی کا سامنا رہے گا،میں جمع کرکے حکومت کو دے رہا ہوں یہ ہمارا کام نہیں ہے اس صورتحال سے ہمارا بزنس متا ثر ہو رہا ہے،آپ اس سیکٹر کو آرگنائزڈ کریں اس پر کام کریں اس کے لئے ایکشن کی ضرورت ہوگی اس پر کوئی بات نہیں کر رہا ایک اچھا کریانہ اسٹور دس لاکھ تک کا بزنس کر رہا ہے مگر وہ کیا ٹیکس دیتا ہے سیلری پرسن تو ٹیکس دیتا ہے۔ آپ کسی ریسٹورنٹ میں چلے جائیں وہ آپ کے بل میں ٹیکس شامل کردیتے ہیں حکومت توجہ نہیں دے گی تو بزنس مین ملک سے چلا جائے گا فیکٹریاں بند ہو جائیں گی تو بے روزگاری بڑھے گی گزشتہ ڈھائی سالوں کے دوران چھ فیصد ٹیکس بڑھا ہے امپورٹ ایکسپورٹ میں بھی ڈیوٹیز کے حوالے سے صورتحال خراب ہے لو گ کچا پکا کرکے بغیر ڈیوٹی کے کنٹینرنکال رہے ہیں اس ماحول میں قانونی کام کرنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ان کا مقابلہ کرنا مشکل ہورہا ہے آپ کی سیل کم ہوگی نفع کم ہوگا تو آپ ری انویسٹ نہیں کر پائیں گے۔انڈسٹری پھلے پھولے گی نہیں تو بے روزگاری بڑھے گی تو لوگ کہاں جائیں گے موبائل چھینیں گے بس،دیکھیں مارکیٹ میں پیسہ کیسے آئے گا پیسہ کمائیں گے توری انوسٹ ہوگا۔نئی فیکٹریاں لگیں گی تو لوگوں کو روزگار ملے گا،بجلی کے بل دیکھیں کہاں تک پہنچ چکے ہیں ملک میں بجلی چوری ہو رہی ہے حالات ایسے پیدا کر دئیے جاتے ہیں لوگ مجبور اور بے بس ہوجاتے ہیں ہمارے ملک میں بہت سارے چیلنجز ہیں لیڈر شپ کو اس پر توجہ دینا چاہیے۔ توجہ ہوگی تو ملک ترقی کرے گا اور لوگوں کے مسائل حل ہوں گے۔

  • روسی ہاؤس کراچی میں رشین پوئیٹری ڈے کا جشن

    روسی ہاؤس کراچی میں رشین پوئیٹری ڈے کا جشن

    روسی ہاؤس کراچی میں “رشین پوئیٹری ڈے” کی ایک شاندار اور پُر جوش تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں 5 سال سے لے کر 50 سال تک کی عمر کے 25 سے زائد شرکاء نے بھرپور شرکت کی۔ یہ تقریب عظیم روسی شعرا کی ادبی وراثت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منعقد کی گئی , مقابلے میں اردو، انگریزی اور روسی زبانوں میں کلام پڑھنے کے لیے ایک منفرد پلیٹ فارم فراہم کیا گیا۔شرکاء نے اپنے پُر اثر انداز میں شاعری پیش کی، اور حاضرین کی توجہ کو اپنی گرفت میں لیے رکھا ۔ تقریب کا ماحول بہت منظم رہا۔
    تقریب کی میزبانی ربیعہ علی فریدی نے جناب آصف الیاس کے ساتھ مل کر نہایت خوبصورتی اور دلنشینی سے انجام دی، ان کی پرکشش میزبانی نے تقریب کو مزید دلکش بنا دیا۔
    آصف الیاس جو کے ریڈیو اور تھیٹر کا مشہور نام ہیں ۔
    اردو شاعری کی پڑھت میں اول آئیں شاہ لیزے جب کے انگلش نظم کو خوبصورتی سے پیش کرنے پر چھوٹے سے خضر ساجدی اول نمبر پر آئے، روسی میں شاعری پیش کرنے پر اول آئے وجاہت ، یہ ججز کے لیے ایک مشکل مرحلہ تھا ،
    مقابلے کے اختتام پر تمام شرکاء کو اسناد، شیلڈز، اور تحائف سے نوازا گیا تاکہ ان کے شوق کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔
    معزز ججز میں شامل تھے جناب رسلان ایم۔ پروخوروف – چیئرمین جیوری، نائب قونصل اور روسی مرکز برائے سائنس و ثقافت پاکستان کے ڈائریکٹرجناب ندیم ظفر صدیقی – ڈپٹی چیئرمین جیوری، ادبی منتظم اور ثقافتی شخصیت ڈاکٹر حسین تھیبو – تجارتی امور کے ماہر، صحافی اور میڈیا ایکسپرٹ محترمہ نازیہ غوث – شاعرہ اور ماہر تعلیم محترمہ فریحہ عاقب – اسسٹنٹ ڈائریکٹر روسی ہاؤس کراچی، ادیبہ اور تھیٹر کوآرڈینیٹرمحترمہ ثنا ارسلان – ممتاز پاکستانی کاروباری شخصیت، جو کئی سال روس میں مقیم رہیں اور پاکستان کی سرکردہ کاروباری خواتین میں شامل رہی ہیں تقریب کے بعد مہمانوں اور شرکاء کی تواضع ایک پرتکلف ہائی ٹی سے کی گئی، جس نے، گفتگو اور ثقافتی ہم آہنگی کے لمحات کو مزید خوبصورت بنا دیا۔روسی ہاؤس ادب اور ثقافت کے فروغ اور پاکستان و روس کے عوام کے درمیان قریبی تعلقات کو مستحکم کرنے کے اپنے مشن پر کاربند ہے۔

  • گیارہ مخروطی جھیلیں ….حمیرا گل تشؔنہ

    گیارہ مخروطی جھیلیں ….حمیرا گل تشؔنہ

    اس بات کا تو ہم کو یقین ہے کہ اللہ تعالٰی نے ہمارے ہاتھ میں سفر کی لکیر کھینچی ہے۔ اس بار میموریل ویک اینڈ پر ہمارے میاں جی کو لاڈ آیا اور پیکنگ کا حکم صادر کیا۔ اب اندھا کیا چاہے؟ دو انکھیں! ہم نے بھی فرمانبرداری کا ثبوت دیتے ہوئے رخت سفر باندھا اور نکل پڑے خدا کی قدرت کے کچھ اور جلوے دیکھنے کو جیسے اونگھتے کو ٹہلنے کا بہانہ مل گیا ہو۔
    لیکن اس بار سفر کے لیے جو نکلے تو طے کیا کہ باہر کا کھانا کم سے کم کھایا جائے گا۔ اب کیا کریں ہماری موئی زبان کو بازار کے کھانے ذرا نہیں بھاتے۔ بس اسی لیے ہم اپنے ہاتھوں سے گھر پہ بیگل bagal بنائے اور ناشتے کے سامان کے طور پر پیک کیے۔ اس کے علاوہ حلیم، شامی کباب و پلاؤ بنا کر شب کی ضیافت کا اہتمام کیا اور گنگناتے ہوئے نکلے
    “میں نگری نگری گھوموں۔۔۔میں عشق میں تیرے جھوموں”
    اس بار گاڑی کا رخ “فنگر لیک finger lakes” نیویارک کی جانب تھا جو کہ تقریبا کنیکٹ ٹی کٹ سے پانچ گھنٹے کے فاصلے پر ہے۔ اسے آپ پتلی لمبی گیارہ جھیلوں کا گروپ کہہ لیں ۔ یہاں 1720 میں نیٹو امریکن native American قبیلے آباد ہوا کرتے تھے۔ یہ کوئی نہیں بتا سکتا کہ اس جگہ کا نام فنگر لیکز کیسے پڑا؟ البتہ united states geological survey by Thomas Chamberlin نے 1883 میں اس علاقے کی رپورٹ شائع کی جس میں اس جگہ کے لیے فنگر لیکز کا لفظ استعمال ہوا بعد میں 1893 میں قانونی طور پر اس جگہ کو فنگر لیکز کا نام دیا گیا۔ ویسے اگر سیٹلائٹ کی مدد سے یا بلندی سے اس جگہ کو دیکھا جائے تو یہ مخروطی جھیلیں اپنے نام کی عکاسی کرتی ہوئی ملتی ہیں۔
    خیر، ہم پانچ گھنٹے کے اس طویل سفر میں صرف ایک ریسٹ ایریا پر زرا سی دیر سستانے کو رکے اور پھر گاڑی کاٹج (ہوٹل) کے دروازے پر ہی جا کر رکی۔ کیونکہ یہ کاٹج کی طرز پہ بنا ہوٹل تھا جس کا ویلکم روم بند تھا۔ اب نہ آدم نہ آدم زاد، سفر کی تھکان الگ، بندہ بےزار ہو ہی جاتا ہے (ہم بھی ہوگئے)۔ ہم نے اپنے میاں کو آنکھیں دکھائیں (جو انھوں نے جان بوجھ کر نہیں دیکھیں) اور کہنا چاہتے تھے کہ کیا یہی جگہ ملی تھی؟ لیکن اس سے پہلےکہ ہم کچھ کہتے ہوٹل کے مالک صاحب اپنی والدہ کے ہمراہ ٹہلتے ہوئے سامنے سے آتے دکھائی دیئے۔
    کاٹج میں داخل ہوتے ہی سمجھو تھکان دور ہوگئی۔ ہلکے سبز رنگ کا کمرہ اور سفید و گلابی رنگ کے کمفرٹر نے ذہن پر خوشگوار اثرات مرتب کیے۔ بس پھر کیا تھا گاڑی سے سامان کمرے میں منتقل کیا اور پھر نکل گئے آوارہ گردی کرنے لیے۔ اور پہنچے لوکل آئس کریم کی دکان پر وہاں سے ایس کریم لی اور جھیل کنارے بیٹھ کر سکوں کھاتے ہوئے غروب آفتاب کا منظر دیکھا۔
    دوسرے دن صبح تقرینا دس بجے تک ہم پہنچے کورننگ میوزیم آف گلاس (corning museum of glass) اور وہاں پہنچ کر وقت کا اندازہ کرنا واقعی بہت مشکل کام ہے۔ ان کی آرٹ گیلری میں ہر شے شیشے سے بنی ہوئی اور عام ایگزیبیشن سے بہت ہی مختلف ہے۔
    ایک طرف شیشے کی ساڑھی پہنے عورت کا مجسمہ تھا تو دوسری طرف پیرامڈ بنے ہوئے تھے۔ ایک جانب شیشے کا ٹوٹا ہوا سرخ رنگ کا فانوس تو دوسری طرف گلاسوں سے سجا چھت کو چھوتا ریک۔ ابھی ہم ایگزیبیشن دیکھنے میں مگن تھے کہ ایک انڈین خاتون نے مسکراتے ہوئے مخاطب کیا اور پوچھا، “آپ حمیرا گل تشؔنہ ہیں ناں؟” ہم جو سکون سے شیشے کی دنیا میں گم تھے واپس زمینی دنیا میں آئے اور غائب دماغی سے بولے، جی ہاں، اور آپ؟ وہ خاتون مسکرا کر کہنے لگیں میں گیتا ہوں نیوجرسی سے آئی ہوں یہاں۔ آپ کو مشاعرے میں سنا تھا آپ کی شاعری بہت اچھی ہے۔ ہم نے مسکرا کر ان کا شکریہ ادا کیا۔ ان کی فیملی سے بڑھ کر ہیلو ہائے کی اور ان کی خواہش کے مطابق ایل سیفی بھی کھینچوائی اور ان سے رخصت لی۔ ہمارے میاں جی ساری کاروائی سکون سے دیکھتے رہے پھر بولے، “لگتا ہے مشہور ہو گئی ہو۔”

    گلاس ایگزیبیشن کے حصے سے جیسے ہی نکلے سامنے بڑا سا دروازہ دکھائی دیا۔ ہم بھی شتر مرغ کی طرح منہ سیدھے دروازے سے داخل ہوئے تو سامنے ہی کانچ کی بوتلوں کا چھت کو چھوتا شیلف دکھا جہاں کانچ سے شراب کی پہلی بنائی گئی بوتل بھی ڈیمو کے طور پر رکھی تھی۔ بائیں جانب کانچ کی بے شمار پلیٹوں کا شیلف تھا۔ آگے بڑھے تو کاریگر کانچ سے بنائی گئی مختلف چیزوں کے بارے میں آگاہی دے رہے تھے۔ ہم بھی موقع ملتے ہی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ کاریگر نے کانچ کو پگھلا کر چھوٹی سی پرفیوم کی بوتل تیار کی۔ آگ کی حدت کا اندازہ کرنا شیشے کو ایک مخصوص شکل دینا اور بوتل کی شکل دینے کے لیے شیشے کے دوسرے رخ سے خاص تناسب سے پھونک مارنا واقعی حیران کن عمل تھا۔ کیونکہ شام کو ہم کو واپس گلاس میوزیم آنا تھا اس لیے ہم وہاں سے نکل کر سیدھا پارکنگ کی جانب بڑھے۔
    اب ہمارا رخ فنگر لیک کے علاقے میں موجود واٹکنز جین اسٹیٹ پارک (Watkins genn state park) کی جانب تھا۔ وہاں پہنچ کر دس ڈالر داخلے کی فیس دی اور پارک کا نقشہ حاصل کیا۔ تقریبا پندرہ سے بیس منٹ تو اس نقشے کا بغور جائزہ لیا تاکہ راستے کا تعین کیا جا سکے کہ کون سا راستی منزل تک پہنچنے کے لئے لینا بہتر ہوگا اور جی پھر شروع ہوئی ہماری ہائیکنگ۔ اور سچ پوچھیں تو وہاں پہنچ کر ہماری اور میاں جی کی شروع ہوئی ریس۔ کبھی وہ آگے بڑھ جاتے تو کبھی ہم۔ یونہی ہنسے کھیلتے اونچے نیچے رستوں پر سے گزرتے ہوئے تقریبا ایک گھنٹہ چلنے کے بعد ہم ایک غار میں داخل ہوئے۔
    اس غار میں پہنچ کر اندازہ ہوا اک ہم نہیں دنیا میں، دیوانے ہزاروں ہیں۔ بے شمار لوگ خدا کی قدرت کے جلوے دیکھنے کے لیے بیتاب تھے۔ یہی وجہ تھی کہ بہت رش تھا۔ دوسری وجہ رش کی ہمیں آگے پہنچے کر سمجھ آئی۔ غار سے نکلتے ہی جو راہداری ہے اس کے عین اوپر سے آبشار گر رہی ہے۔ تو بے شمار لوگ وہاں رک کر پس منظر میں گرتے ہوئے پانی کے ساتھ تصاویر لے رہے ہیں جس کی وجہ سے آمد و رفت کا سلسلہ متاثر ہو رہا تھا۔ خیر ہم نے تصویر تو نہیں لی لیکن ہاتھوں کے پیالے بنا کر آبشار کا پانی ضرور پیا اور جیسے پانی پیتے ہی ساری تھکن دور ہوگئی۔ آگے رک کر تھوڑی دیر اس منظر سے لطف اندوز ہوتے رہے اور واپسی کی راہ لی کیونکہ ابھی ایک گھنٹہ واپس گاڑی تک پہنچنے کے لیے چلنا بھی تھا اور پانچ بجے تک گلاس میوزیم بھی واپس پہنچنا تھا۔
    وہاں سے نکلے تو تقریبا ساڑھے تین بج رہے تھے اور شدید بھوک کا احساس بھی ہو رہا تھا۔ اب ہم واپس میوزیم کے راستے میں تھے کہ تندوری پیزے (wood fire pizza) کی چھوٹی سی دکان دکھی۔ بس نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ فورا گاڑی روکی. آپ کو کیا لگا یہ کوئی تندوری مصالحہ پیزا ہوگا، جی نہیں یہ پیزا چھوٹی سی بھٹی میں لکڑی جلا کر بنایا جاتا ہے اور اسی لیے اس کا ذائقہ بہت عمدہ ہوتا ہے۔ خیر، یہاں سے کھانا کھا کر واپس کورننگ میوزیم آف گلاس پہنچے اور گفٹ شاپ سے یادگار کے طور پر ایک دو چیزیں لیں۔ اور پانچ بجے ساتھ ہی بنی دوسری بلڈنگ شیشے کے کارخانے میں گئے۔
    عجیب شوق ہیں ہمارے ہر چیز ہر کام کا تجربہ کرنا۔ اس کو محسوس کرنا، دیکھنا، پرکھنا۔ تو اس کارخانے میں بھی تجربہ کرنے پہنچ گئے۔ اور اس بار یہ طے کیا کہ شیشے سے لاکٹ بناؤں گی وہ بھی اپنے ہاتھوں سے۔
    یہ تجربہ کرنے کی فیس الگ سے پینتالیس ڈالر تھی۔ وہاں پہنچے تو اس کے دو کاریگر ہمارے ساتھ تھے ہمیں فورا ایپرن، آستینیں، اور کالا چشمہ پہننے کو کہا۔ اس کے بعد شروع ہوا ہمارے لاکٹ بنانے کا عمل جس کے لیے ہم نے کالا، سفید، اور نیلا ان تین رنگوں کا انتخاب کیا۔ آگ پہ شیشے کو پگھلانا، اس پگلے ہوئے شیشے میں دوسرے رنگوں کو ملانا۔ شیشے کو ایک خاص حدت پہ رکھنا اور اس کو اپنی مرضی کی شکل دینے کے لیے بڑے تحمل سے گزرنا پڑا۔ یہ نہ ہو کہ تپش زیادہ ہوجائے اور یہ بھی نہ ہو کہ لاکٹ کی شکل ہی بگڑ جائے۔ خیر ہماری مدد کرنے والے کاریگر کی مدد سے جب لاکٹ تیار ہوگیا تو اس کو ایک خاص کیمیکل میں ڈالا تاکہ وہ وقت کے ساتھ ٹھنڈا ہو سکے۔ اس کاروائی کے بعد ہمیں ایسا لگا جیسے پیسے وصول ہوگئے۔ زندگی میں بے شمار تجربے کیے لیکن یہ کافی الگ تھا۔
    وہاں سے واپس ہوٹل آتے ہوئے سینیکا لیک ( seneca lake) پر رکے اور واک کرتے ہوئے غروب آفتاب کا منظر دیکھا اور فنگر لیکز finger lakes کی شام کو پھر آنے کا کہہ کر خدا حافظ کہا۔

  • پورتو: پرتگال کا تاریخی شہر….ارم زہرا۔ چین

    پورتو: پرتگال کا تاریخی شہر….ارم زہرا۔ چین

    کبھی کبھی سفر صرف فاصلہ طے کرنے کا نام نہیں ہوتا بلکہ وقت، فطرت، اور اندر کے موسم سے بھی ایک گزر ہوتا ہے۔
    اُس صبح جب ہم اویرو سے پورتو کے لیے روانہ ہوئے، تو ہوا میں ایک عجب سی بےچینی تھی۔سورج تو یورپ میں ویسے ہی کچھ زیادہ محبت جتاتا ہے، مگر ان دنوں پرتگال کی فضا میں صرف روشنی نہیں، گرمی کا غصہ بھی تھا۔
    ٹرین وقت پر تھی، جیسا کہ یورپ میں عموماً ہوا کرتا ہے۔ مگر پلیٹ فارم پر کھڑے ہوتے ہوئے، میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ سورج یہاں مہربان نہیں، بلکہ کچھ برہم سا لگتا ہے۔ آس پاس کے مسافر چھاؤں ڈھونڈتے پھر رہے تھے، اور میں نے پانی کی بوتل ہاتھ میں مضبوطی سے تھام لی، جیسے کسی دعا کا سہارا ہو۔
    راستے میں ہسبینڈ جی نے فون پر خبر دیکھی
    “پرتگال کے جنوب میں کئی جنگلات میں آگ بھڑک اُٹھی ہے اور حکام نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔”
    میں نے کھڑکی سے باہر نظر ڈالی ۔ جلتے ہوئے کھیت تو نہیں تھے، مگر پیلاہٹ میں ڈوبا منظر ضرور تھا جیسے کسی پینٹنگ کو تندور میں تپایا جا رہا ہو۔ دل میں ایک سوال سا ابھرا
    “کیا ہم صرف زمین کو روند رہے ہیں، یا وقت کو بھی جلا رہے ہیں؟”
    پرتگال میں گرمی معمول سے زیادہ ہو چکی ہے ان دنوں ۔ درجہ حرارت تیزی سے بڑھتا جارہا ہے ۔ ہم ٹرین کی ٹھنڈی سیٹوں پر بیٹھے، مگر باہر کی فضا جیسے آنکھوں سے لپٹتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے سوچا “کیا پرتگال کے وہ دن کبھی لوٹیں گے جب ہوا سمندر کی خوشبو لاتی تھی، نہ کہ راکھ کی بو؟”
    شوہر نے میرے خیالات بھانپتے ہوئے آہستہ سے کہا
    “ہم صرف سیر کو نکلے ہیں، مگر فطرت جنگ لڑ رہی ہے ۔ اپنے لیے، ہمارے لیے، اور آنے والی نسلوں کے لیے۔”
    اگر ہم پرتگال کی تاریخ کو مسلمانوں کی نظر سے دیکھیں، تو یہ صرف ایک ملک نہیں، اندلس کے پھیلتے ہوئے سورج کی آخری کرنوں میں ڈوبا ہوا خطہ دکھائی دیتا ہے۔ پرتگال کی سرزمین کبھی اندلس کا حصہ تھی وہی اندلس جہاں قرطبہ کے چراغ جلتے تھے، جہاں گلیلیو سے پہلے ستارے ناپے جاتے تھے اور جہاں فلسفہ اذان کی بازگشت میں گم ہو جاتا تھا۔
    711ء میں جب طارق بن زیاد نے جبل الطارق عبور کیا، تو اندلس کا سورج طلوع ہوااور اس کی کرنیں پرتگال تک پہنچیں۔ عرب مور یہاں 8ویں صدی سے 13ویں صدی تک قابض رہے۔ لزبن، کوئمبرا، اویرو، اور پورتو یہ سب ان کے نقشِ قدم پر پروان چڑھے۔ انہوں نے نہ صرف زراعت، سائنس، فلسفہ اور فن تعمیر دیا، بلکہ اس سرزمین کو تہذیب کا ذائقہ بھی دیا
    پورتو کی گلیاں چپ تھیں ۔ وہی خاموشی جو تاریخ کے دفن ابواب میں سانس لیتی ہے۔ میں نے شہر کی پرانی عمارتوں، خمیدہ گلیوں اور اینٹوں کی چھتوں پر نظر ڈالی ان میں کہیں نہ کہیں، کسی مسلمان معمار کے ہاتھ کی جنبش چھپی محسوس ہوتی تھی۔ جیسے کسی نے پتھر میں وقت کو لکھ دیا ہو۔ میرے دل میں ایک سوال نے سر اُبھارا ۔ کیا یہاں کبھی اذان کی آواز گونجی تھی؟ کیا ان گلیوں سے کوئی مسلمان قاضی یا فلسفی گزرا تھا؟
    پورتو (جسے اُس وقت “Portus Cale” کہا جاتا تھا) مکمل طور پر مسلم زیرِ تسلط تو کبھی نہیں رہا، لیکن قریبی شہر کوئمبرا، اور لشبونہ (لزبن) میں مسلمانوں کی حکومت تھی اور ان کے اثرات فاصلوں سے سفر کرتے ہوئے اس شہر کی شناخت میں شامل ہوئے کہ تہذیبیں صرف فوج سے نہیں، ثقافت، علم، زبان اور طرزِ فکر سے بھی سفر کرتی ہیں۔ پورتو اگرچہ مسلم حکمرانی میں نہیں آیا، مگر آس پاس کے شہروں میں جو علمی، زرعی، اور فنی ترقی ہوئی، اس کی خوشبو پورتو تک پہنچ گئ۔
    یہی وجہ ہے کہ پورتو کے چند پرانے قلعے، آبی نظام، اور کچھ گمنام گلیوں میں آج بھی وہی انداز نظر آتا ہے ۔خمیدہ محرابیں، سفید و نیلا ٹائل ورک، زیتون کے درختوں کی قطاریں اور گنبد اسٹائل کا انفرااسٹریکچر جو شاید کسی وقت وضو کے لیے پانی مہیا کرتے تھے۔
    دریائے “دوُرو” کے کنارے پر جب ہم پہنچے، تو شام اپنا رنگ جما چکی تھی۔ پانی پر روشنیوں کے عکس تھے، اور ہوا میں خوشبو تھی پرانی اینٹوں کی، پرانے وقتوں کی۔ ہم نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے، اور Dom Luís I Bridge پر پیدل چلنا شروع کیا۔ دریائے دُورو پرتگال کا ایک مشہور دریا ہے۔ یہ دریا اسپین سے نکلتا ہے اور پرتگال سے گزرتا ہوا بحرِ اوقیانوس (Atlantic Ocean) میں گرتا ہے۔ شہر پورتو (Porto) اسی دریا کے کنارے واقع ہے۔
    پورتو کے رائبرا (Ribeira) علاقے میں ہم دیر تک گھومتے رہے۔ وہاں کی پتھریلی گلیوں میں ہر دروازہ جیسے ایک کہانی سناتا تھا۔ کچھ جگہوں پر پرانی مسجدوں کے آثار اب بھی موجود ہیں جیسے “Igreja da Misericórdia” کے پیچھے ایک چھوٹی سی محراب، جسے مقامی لوگ آج بھی “مشرق کی کھڑکی” کہتے ہیں۔
    دریائے دوُرو کے کنارے، پورتو کا رائبرا جیسے کسی پرانی کہانی کا زندہ صفحہ ہو۔ ہم جیسے ہی پتھریلی گلیوں میں اترے، وقت کی رفتار سست ہو گئی۔ سامنے دریا خاموشی سے بہہ رہا تھا، اور اس کے ساتھ ساتھ پھیلا ہوا یہ محلہ رائبرا پرتگال کے ماضی، اس کے رنگ، اس کی گلیوں، اور اس کی روح کی مکمل تصویر بن گیا تھا۔
    عمارتیں چھوٹے چھوٹے رنگین خانوں کی طرح ایک دوسرے سے جُڑی ہوئی، بالکونیوں سے جھانکتے پھول، کچھ دیر بعد وہی فادو جسے ایک نوجوان لڑکی اپنی اداس آواز میں گا رہی تھی۔ اس کی آواز جیسے دریا کی لہروں پر تیرتی ہوئی میرے دل تک آ رہی تھی۔
    رائبرا کے کنارے بیٹھ کر ہم نے چپ چاپ سورج کو دریائے دوُرو میں اترتے دیکھا۔ پانی سنہری ہو چلا تھا اور روشنی جیسے دیواروں پر رینگتی جا رہی تھی۔ مجھے لگا میں محض دیکھ نہیں رہی بلکہ سن رہی ہوں، محسوس کر رہی ہوں اس شہر کے گزرے ہوئے لمحے۔۔
    پورتو میں اگرچہ مسلمانوں کی موجودگی لزبن یا الگاروے جتنی واضح نہیں، لیکن آرکیٹیکچر، واٹر چینلز، اور زراعتی نظام میں ان کے اثرات محسوس ہوتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ پورتو کے پرانے گلی کوچے اور پانی کی تقسیم کا نظام عرب انجینیئرنگ کی دین ہے۔
    ہم نے اگلے دن مقامی میوزیم کا دورہ کیا جہاں ایک قدیم نقشہ نظر آیا۔ اس پر پورتو کو “Burth” کے نام سے دکھایا گیا تھا، جس کے نیچے عربی میں لکھا تھا:
    “بلدٌ على نهرٍ واسع” (ایک بستی جو ایک بڑی ندی کے کنارے پر ہے )
    پورتو کے ریستورانوں میں ہم نے مقامی کھانے چکھے۔ مگر ایک چھوٹے سے ریسٹورنٹ میں جب ویٹر نے “چکن تاجین” اور “کسکس” کی بات کی، تو میرے چہرے پر حیرت پھیل گئی۔ “یہ تو مراکش کا کھانا ہے!”
    ویٹر ہنس کر بولا “یہاں کے کچھ خاندان مسلمان بیک گراؤنڈ رکھتے ہیں، ہم آج بھی وہی ذائقے سنبھالے ہوئے ہیں۔”
    ہسبینڈ جی نے میری طرف دیکھا، اور آنکھوں ہی آنکھوں میں کہا
    “تاریخ صرف کتابوں میں نہیں ہوتی، ذائقوں میں بھی محفوظ رہتی ہے۔”
    اگلے دن پورتو کی صبح کسی خوش الحان بانسری کی طرح تھی۔ ہمارے ہوٹل کی بالکونی سے نظر آنے والی پتھریلی چھتوں پر سورج کی پہلی کرنیں پڑی تھیں۔ ہوا ہلکی، نم آلود، اور پرانی خوشبو سے لبریز تھی۔ میں نے ہسبینڈ جی کے لیے کافی بنائی، اور ہم دونوں گھنٹہ بھر یونہی چپ چاپ بیٹھے شہر کو جاگتے دیکھتے رہے۔
    “آج کہاں چلیں؟” انہوں نے پوچھا۔
    “چلیں، کتابوں کے شہر چلتے ہیں… اور خوابوں کی سیڑھیاں چڑھتے ہیں۔”Livraria Lello وہ لائبریری جہاں لفظ جادو بن جاتے ہیں۔
    ہم جب پورتو کی مشہور ترین جگہ، Livraria Lello، پہنچے، تو باہر لمبی قطار تھی۔ لال قالین جیسی سیڑھیاں اوپر جا رہی تھیں، اور دروازے پر سنہری نقوش چمک رہے تھے۔ ایک لمحے کو مجھے لگا میں کسی فلم کے سیٹ پر آ گئی ہوں۔ اوہ واقعی، یہ وہی لائبریری ہے جس نے J.K. Rowling کو “ہیری پوٹر” لکھنے میں متاثر کیا۔ کہا جاتا ہے کہ جب وہ پورتو میں انگلش پڑھاتی تھیں، تو یہاں آ کر بیٹھا کرتی تھیں ۔ یہی مڑی تڑی سیڑھیاں، یہی لکڑی کی چھتیں، یہی قدیم کتابیں… شاید ہوگوارٹس کا خیال یہیں سے پیدا ہوا۔
    جب ہم اندر داخل ہوئے، تو ایک عجیب خاموشی چھا گئی۔ ہر شے بولتی تھی، پر آہستہ۔ جیسے ہم کتابوں میں گم ہو گئے ہوں۔۔۔
    پورتو کا ایک اور شاندار مقام Torre dos Clérigos ہے، جو شہر کا بلند ترین ٹاور ہے۔ جہاں ہم نے 200 سے زائد سیڑھیاں چڑھیں، اور جب اوپر پہنچے تو پورا پورتو ہماری آنکھوں کے سامنے تھا ۔ گلابی چھتیں، دریا، پرانے پل، اور دور دور تک پھیلا ہوا یورپی خاموشی کا طلسم۔
    “یہاں کھڑے ہو کر دل کرتا ہے وقت تھم جائے، میں نے خود کلامی کی ۔ ُپھر ہم گئے São Bento ریلوے اسٹیشن کی طرف، جو دنیا کے خوبصورت ترین اسٹیشنز میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی دیواروں پر نیلی و سفید azulejos (پرتگالی ٹائلز) پر بنی کہانیاں تھیں جنگیں، محبتیں، بادشاہوں کی سواری، کسانوں کا جشن۔ میں نے سوچا
    “کتنا عجیب ہے نا، ہم اپنی محبتوں کو انسٹاگرام پر محفوظ کرتے ہیں اور انہوں نے دیواروں پر بنا دیا!”
    ہم نے یہاں شہر کا ایک اور نایاب عجوبہ دیکھاIgreja do Carmo۔ یہ دو چرچز ہیں جو ایک پتلی سی دیوار کے ذریعے الگ کیے گئے ہیں ۔ کبھی ایک چرچ کو مردوں کے لیے، اور دوسرے کو عورتوں کے لیے مخصوص کیا گیا تھا۔
    اگلے دن ہم نے فیصلہ کیا کہ صرف ماضی نہیں، حال بھی دیکھنا ہے۔ چنانچہ ہم گئے Casa da Música جدید فن تعمیر کا شاہکار۔ شیشے، دھات اور زاویوں کی دنیا۔ ایک ایسا پرتگال جو روایت اور جدت کے بیچ کھڑا ہے۔میں نے دل میں سوچا
    “مسلمانوں نے یہاں علم دیا، فن دیا، روشنی دی۔ آج بھی وہ روشنی زندہ ہے، بس روپ بدل گیا ہے۔”
    آخری دن ہم پھر Ribeira گئے۔ وہی دریا، وہی پل، وہی ہوا، مگر دل میں کچھ زیادہ جوش تھا۔ ہم نے کنارے پر بیٹھ کر دو کپ کافی، اور وہ خاموشی پی جو محبت سے زیادہ پُراثر ہوتی ہے۔
    “پورتو کی سب سے بڑی خاص بات کیا ہے؟” ہسبینڈ جی نے پوچھا۔
    میں نے دریا کی طرف دیکھا اور کہا
    “یہ شہر آپ کی طرح ہے… خاموش، مضبوط، اور اپنے اندر کہانیاں چھپائے ہوئے۔” وہ میری بات سن کر ہنستے رہے۔
    ہم دن بھر گھوم کر ہوٹل واپس آئے تو میں نے سوچا تھا بس تھوڑا آرام کریں گے، پھر سو جائیں گے۔ مگر پورتو کا اصل چہرہ تو رات کو ظاہر ہوتا ہے۔
    ہسبینڈ جی نے کہا، “چلو نکلتے ہیں، شہر کی سانسیں رات میں سننے کا الگ مزہ ہے۔” اور ہم نکل گئے ہاتھ میں ہاتھ، اور دل میں ایک چھوٹی سی بےچینی۔ سڑکیں روشن تھیں، مگر ہجوم نہیں تھا۔ یہاں کی نائٹ لائف میں شور نہیں، نرمی ہے۔ لوگ ہنس رہے تھے، مگر آہستگی سے۔ موسیقی بج رہی تھی، مگر دل کو چیرنے والی نہیں دل کو چھو لینے والی۔
    ہم پہنچے Galerias de Paris، پورتو کی سب سے مشہور نائٹ اسٹریٹ۔ یہ کوئی عام بازار یا ڈانس فلور نہیں، بلکہ ایک گلی ہے جہاں ہر قدم پر ایک کیفے، ایک بار، یا ایک چھوٹا سا جاز کلب ہے۔
    ہم ایک ریستورنٹ کے باہر بینچ پر بیٹھے۔ سامنے کچھ نوجوان گٹار بجا رہے تھے، اور ساتھ ہی کوئی پرتگالی لڑکی “فادو” گا رہی تھی ۔“فادو” پرتگال کا ایک روایتی اور جذباتی موسیقی کا انداز ہے، جس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں اداسی، جدائی، تنہائی، مایوسی، یا کھوئے ہوئے وقت کی جھلک ہوتی ہے۔ یہ ایک پرانی، درد بھری پرتگالی صنف ہے ، جس کی آواز میں صدیوں کی جدائی، محبت، اور انتظار ہوتا ہے ۔ میں نے دل میں سوچا “یہ آواز پرانی لگتی ہے ؟ جیسے کسی کھوئے ہوئے عشق کی پکار ہو…”
    ہم نے ایک ریسٹورنٹ چنا جو دریا کے کنارے تھا “Taberna dos Mercadores”۔ چھوٹا سا ریسٹورنٹ، لکڑی کی میزیں، مدھم روشنی، اور ویٹر جو پرتگالی لہجے میں انگریزی بول رہا تھا۔ہم نے پوچھا، “کوئی مقامی ڈش تجویز کریں؟”Bacalhau à Brás کوڈ مچھلی، آلو، انڈہ، اورزیتون کا امتزاج اور دوسری Caldo Verde آلو اور پتوں کا سوپ، جس میں سادہ پن کی گہرائی ہے۔
    آخر میں ہم نے Pastel de Nata کھایا ایک چھوٹا سا کسٹرڈ ٹارٹ، اوپر دارچینی چھڑکی ہوئی۔میں نے ہنستے ہوئے ہسبینڈ جی سے کہا
    “یہ میٹھا آپ کی طرح ہے… باہر سے مضبوط، اندر سے نرم!”
    کھانے کے بعد ہم پھر دریا کی طرف نکلے۔ Dom Luís I Bridge پر روشنی تھی، پانی میں عکس، اور ہوا میں رات کا وہ سکوت جس میں شہر سانس لیتا ہے۔لوگ بیٹھے تھے، کچھ گٹار بجا رہے تھے، کچھ ہاتھ میں وائن لیے خاموش نظارے میں گم تھے۔ہم ایک کنارے پر بیٹھ گئے اور اپنی اپنی سوچوں میں گم ہو گئے ۔
    ہم نے نائٹ لائف میں شور نہیں دیکھا بلکہ خاموش موسیقی کا تجربہ کیا۔
    یہاں لوگ چیختے نہیں، گفتگو کرتے ہیں۔یہاں روشنی آنکھیں چبھتی نہیں، دل روشن کرتی ہے۔یہاں رات ختم نہیں ہوتی، بلکہ دل میں ٹھہر جاتی ہے۔ میں اور میرے شوہر واپس آ چکے ہیں، لیکن پورتو ہم سے الگ نہیں ہوا۔ اس کی نائٹ لائف، جس میں لفظوں سے زیادہ نظر کی گفتگو تھی۔اس کے کھانے، جن میں ذائقہ نہیں، تاریخ تھی۔اور اس کی گلیاں، جہاں ہم دو سائے بن کر گھومتے رہےاور بیچ میں وہ شہر…جس نے ہمیں کچھ پل کے لیے خود میں جذب کر لیا۔
    پورتو کا سحر دل میں اتر چکا تھا اور ہم نے اپنے سوٹ کیس بند کیے، تو میرے دل میں ایک ہلکی سی اداسی تھی وہی جو کسی پیاری کتاب کا آخری صفحہ پڑھتے ہوئے ہوتی ہے۔ لیکن ہسبینڈ جی نے کہا،
    “سفر ابھی ختم نہیں ہوا، اگلا سفر لسبن کی جانب ہے ۔”
    ہم نے پورتو کے Campanhã ریلوے اسٹیشن سے لزبن کے لیے ٹرین لی۔ اسٹیشن پر صبح کی روشنی کچھ تھکی تھکی سی تھی، جیسے شہر خود بھی ہمیں رخصت کر رہا ہو۔ ٹرین وقت کی مکمل پابندی سے روانہ ہوئی، اور کھڑکی کے اس پار وہی پرتگالی زمین، جو کہیں زیتون کے درختوں سے بھری ہوئی تھی، اور کہیں دور پہاڑوں کی اوٹ میں گم۔ یہ سفر تقریباً 2.5 سے 3 گھنٹے کا تھا اور ہم نے Alfa Pendular ٹرین چنی، جو نسبتاً تیز، آرام دہ اور جدید سہولتوں سے آراستہ ہے۔ ٹکٹ قیمت 20 سے 40 یورو کے درمیان تھی، مگر وقت، آرام اور منظر سب اس رقم کا نعم البدل تھے۔ اگرچہ Intercidades (Intercity) ٹرینز بھی اسی روٹ پر چلتی ہیں ۔ تھوڑی سست، مگر آرام دہ۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ رفتار اور منظر ایک ساتھ چُنا جائے لیکن اگر آپ بس کے ذریعے لزبن جانا چاہیں تو وہ سہولت بھی میسر ہے۔Rede Expressos اور دیگر کمپنیوں کی بسیں روزانہ پورتو سے لزبن کے لیے روانہ ہوتی ہیں۔
    بس کا سفر تقریباً 3.5 سے 4.5 گھنٹے لیتا ہے، اور ٹکٹ عموماً 10 سے 20 یورو میں مل جاتی ہے۔ بسوں کے اندر ایک خاص قسم کی خاموشی ہوتی ہے ۔ نہ وہ شور جو شہروں کا ہوتا ہے، نہ وہ تنہائی جو پہاڑ دیتی ہیں۔
    بس کی کھڑکی سے نظر آنے والے چھوٹے دیہی گاؤں، انگوروں کی بیلیں، اور دھوپ میں چمکتی چھتیں دل میں ایسا سکون اُتارتی ہیں جیسے کوئی پرانا گیت ہو جو یاد آ جائے۔ چاہے ٹرین ہو یا بس، پورتو سے لزبن تک کا یہ سفر صرف فاصلہ طے کرنا نہیں بلکہ پرتگال کی روح کو چھونا ہے ۔ ایک شمال سے دوسرے جنوب کی طرف جاتے ہوئے، جہاں زبان وہی ہے، مگر لہجہ، موسم اور وقت سب کچھ دھیرے دھیرے بدلتا ہے۔

  • ہیوسٹن میں اسکارف پہنی پاکستانی خاتون پر وحشیانہ حملہ، ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی

    ہیوسٹن میں اسکارف پہنی پاکستانی خاتون پر وحشیانہ حملہ، ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی

    ہیوسٹن (کنزیومر واچ نیوز)امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں پاکستانی نژاد خاتون پر مبینہ مذہبی منافرت کے تحت حملہ کیا گیا۔ یہ واقعہ ساؤتھ ولکریسٹ ڈرائیو پر واقع شوگر پارک پلازہ کے سامنے پیش آیا، جب جمعہ کی شام تقریباً 5 بجے ایک نامعلوم شخص نے خاتون کو پیچھے سے دھکا دے کر زمین پر گرا دیا۔خاتون کے منہ کے بل گرنے سے ان کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی اور چہرے پر شدید چوٹیں آئیں۔ واقعہ سی سی ٹی وی کیمرے میں ریکارڈ ہو گیا، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور بآسانی سڑک کے دوسری جانب چلا گیا۔خاتون کے بیٹے محمد ظہیر نے بتایا کہ اس کی والدہ اسکارف پہنے ہوئے تھیں اور ممکنہ طور پر حملہ آور نے انہیں مسلمان سمجھ کر نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ نفرت پر مبنی جرم ہے اور ملزم کو فوری گرفتار کرکے سخت سزا دی جانی چاہیے۔

  • الجزیرہ کے معروف صحافی اپنے ساتھیوں سمیت اسرائیل کے ٹارگٹڈ حملے میں شہید

    الجزیرہ کے معروف صحافی اپنے ساتھیوں سمیت اسرائیل کے ٹارگٹڈ حملے میں شہید

    غزہ(کنزیومر واچ نیوز)اسرائیلی افواج کا ایک اور مہلک وار قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے معروف صحافی انس الشریف اپنے 3 صحافتی ساتھیوں سمیت غزہ میں شہید ہو گئے۔غزہ کے الشفاء اسپتال کے مطابق 28 سالہ انس الشریف اور ان کے ساتھیوں کو اسپتال کے مرکزی دروازے کے قریب اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ صحافیوں کے لیے لگائے گئے ایک خیمے میں موجود تھے۔مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ممکنہ طور پر ٹارگٹڈ اسٹرائیک تھا۔شہادت پانے والوں میں الجزیرہ کے رپورٹر محمد قریقیہ، کیمرا مین ابراہیم ظاہر اور میڈیا ورکر محمد نوفل شامل ہیں۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق انس الشریف نے شمالی غزہ میں اسرائیلی بمباری، انسانی بحران اور جنگی جرائم کی وسیع کوریج کی تھی، جس کے بعد سے انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں۔اسرائیلی فوج نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انس الشریف پر الزام لگایا ہے کہ وہ مبینہ طور پر حماس کے ایک سیل کی سربراہی کر رہے تھے تاہم اس دعوے کے شواہد تاحال منظرِ عام پر نہیں لائے گئے۔ذرائع کے مطابق انس الشریف ان صحافیوں میں شامل تھے جو غزہ میں جاری تباہی کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے دن رات مصروف تھے۔واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیلی بمباری کے آغاز سے اب تک 200 سے زائد صحافی اور میڈیا کارکنان شہید ہو چکے ہیں، جن میں متعدد کا تعلق الجزیرہ نیٹ ورک سے تھا۔

  • یوسف رضا گیلانی کے بیٹے عبدالقادر کی بارسلونا میں قیمتی گھڑی چھین لی گئی

    یوسف رضا گیلانی کے بیٹے عبدالقادر کی بارسلونا میں قیمتی گھڑی چھین لی گئی

    بارسلونا(کنزیومر واچ نیوز)چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کے بیٹے اور ممبر قومی اسمبلی سید عبدالقادر گیلانی بارسلونا میں قیمتی گھڑی سے محروم ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق چور سید عبدالقادر گیلانی سے گھڑی چھین کر لے گئے۔اطلاعات کے مطابق گھڑی کی مالیت 56 ہزار یورو تھی جو پاکستانی کرنسی میں ایک کروڑ 85 لاکھ روپے بنتی ہے ۔سابق وزیراعظم اور چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کے بیٹے عبدالقادر گیلانی بارسلونا میں سیروتفریح کے لیے گئے ہوئے ہیں۔

  • پاکستان کے کس صوبے میں کتنے گدھے ہیں؟ تفصیلات سامنے آگئیں

    پاکستان کے کس صوبے میں کتنے گدھے ہیں؟ تفصیلات سامنے آگئیں

    اسلام آ باد(کنزیومر واچ نیوز) پاکستان کے کس صوبے میں کتنے گدھے ہیں؟ تفصیلات سامنے آگئیں۔ حکومتی زراعت شماری رپورٹ کے مطابق گدھوں کی تعداد میں پنجاب تمام صوبوں سےآگے ہے، سندھ دوسرے اورخیبرپختونخواہ میں تیسرے نمبرپرگدھوں کی تعدادزیادہ ہےجبکہ صوبہ بلوچستان میں گدھوں کی تعداد باقی صوبوں کےمقابلے میں کم ہے۔رپورٹ کے مطابق پنجاب میں گدھوں کی تعداد 24لاکھ3ہزار، سندھ میں گدھوں کی تعداد 10 لاکھ 81 ہزار، خیبرپختونخواہ میں 7 لاکھ82 ہزار اور بلوچستان میں گدھوں کی تعداد 6 لاکھ30 ہزار ہوچکی ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گدھوں کی تعداد 4 ہزار ریکارڈ کی گئی۔ زراعت شماری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان کےمقابلے پنجاب میں گدھوں کی تعداد 17 لاکھ73ہزار زیادہ بنتی ہے، پنجاب میں خیبر پختونخواہ کےمقابلے گدھوں کی تعداد 16 لاکھ 21 ہزار اور سندھ کے مقابلے پنجاب میں گدھوں کی تعداد 13لاکھ 22 ہزار زیادہ بنتی ہے۔ زراعت شماری رپورٹ2024کے مطابق پاکستان میں گدھوں کی مجموعی تعداد49لاکھ ہو چکی ہے۔