کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے منعقد ہونے والی تقریبات ہمیشہ سے ہی اپنی رونق، ثقافتی رنگا رنگی اور باہمی محبت کی وجہ سے مشہور ہیں۔ ایسی ہی ایک شاندار اور یادگار دعوت کا اہتمام معروف شاعر و سماجی شخصیت “بشارت ریحان” نے کیا، جس میں پاکستان اور امریکہ سے خصوصی طور پر تشریف لائے ہوئے خصوصی مہمانان گرامی، اور مقامی معزز شخصیات نے شرکت کی۔ یہ محفل نہ صرف دوستی اور بھائی چارے کا مظہر تھی، بلکہ اس میں پاکستانی ثقافت، روایات اور مشترکہ اقدار کو بھی اجاگر کیا گیا۔ بشارت ریحان نے اپنی دعوت میں پاکستانی اور کینیڈین ثقافت کے امتزاج کو پیش نظر رکھا۔ تقریب کا مقصد نہ صرف مہمانوں کے ساتھ خوشگوار لمحات گزارنا تھا، بلکہ اس کے ذریعے پاکستانی کمیونٹی کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانا بھی تھا۔ اس موقع پر خصوصی طور پر پاکستان سے تشریف لائے ہوئے ساکنان شہر قائد کے منتظم اعلی محمود احمد خان نے شرکت کی، جنہوں نے تقریب کو اپنی موجودگی سے مزید معنویت بخشی۔ اور امریکہ سے یہ خاکسار بھی اس کینیڈا میں موجود تھی تو ہمیں بھی دعوت دی گئی۔دعوت میں دیگر معزز شخصیات میں روشن خیال، سردار خان، طارق راز، قیصر وجدی، سلمان اطہر، بشری سعید ، عبدالحئی اور ناظم الدین مقبول جیسے نام شامل تھے، جنہوں نے محفل کو اپنی شرکت سے نوازا۔ یہ تمام افراد اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں اور پاکستانی کمیونٹی کی ترقی اور بہبود کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ محمود احمد خان نے کینیڈا میں مقیم پاکستانیوں کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ پاکستانی نسل ہمیشہ سے ہی محنت اور لگن کی پہچان رہی ہے۔ انہوں نے بشارت ریحان کے اس خوبصورت اہتمام پر انہیں مبارکباد پیش کی اور کہا کہ “ایسی تقریبات نہ صرف تعلقات کو مضبوط بناتی ہیں، بلکہ یہ پاکستانی ثقافت کو دنیا بھر میں متعارف کروانے کا بھی ایک ذریعہ ہیں۔” تدعوت کا اہتمام مقامی ہوٹل میں کیا گیا جہاں پاکستانی کھانوں کا ایک وسیع انتخاب پیش کیا گیا، جس میں بریانی، پائے، نہاری، حلیم، کباب، کڑھی، چھولے، اور مختلف قسم کے میٹھے شامل تھے۔ مہمانوں نے کھانوں کی تعریف کی اور اسے پاکستانی ذائقے کا بہترین عکس قرار دیا۔ دعوت کے اختتام پر بشارت ریحان نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی موجودگی نے اس دعوت کو یادگار بنا دیا۔ آخر میں سب کی تصاویر لے کر اس خوبصورت شام کی یاد کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کیا گیا۔بشارت ریحان کی جانب سے ٹورنٹو میں منعقد کی گئی یہ دعوت نہ صرف پاکستانی ثقافت اور روایات کی عکاس تھی، بلکہ اس نے پاکستانی کمیونٹی کے درمیان اتحاد اور بھائی چارے کو بھی فروغ دیا۔ اس تقریب نے یہ ثابت کیا کہ پاکستانی دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں، وہ اپنی روایات اور تہذیب سے جڑے رہنے والے بے حد مہمان نواز لوگ ہوتے ہیں۔ یہ محفل ایک بار پھر اس بات کی گواہ بنی کہ پاکستانی قوم محبت، یکجہتی اور خوش اسلوبی کی پیکر ہے۔ بشارت ریحان کا یہ اقدام قابل تعریف ہے اور امید کی جاتی ہے کہ مستقبل میں بھی ایسی تقریبات منعقد ہوتی رہیں گی، جو نہ صرف پاکستانیوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنائیں گی، بلکہ کینیڈا جیسے ملک میں پاکستانی ثقافت کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔
Blog
-

مغربی ممالک کی شہ پر اسرائیلی جارحیت اور ایران۔۔۔۔۔۔تحریر سرور غزالی
اس وقت دنیا میں مختلف مقامات پر جنگیں جاری ہیں اور یہ جنگیں کسی وقت بھی کسی جوہری جنگ میں تبدیل ہونے کے بہت قریب ہیں۔ ایسے میں کسی بھی ایٹمی حادثے، ایٹمی ریکٹر کی تباہی کے نتیجے میں شعاؤں کے اخراج یا اور دوسری طرح کی تباہی اور بربادی کے خدشات بھی دنیا کے 99 فیصد امن پسند شہریوں کے لیے تشویش کا باعث بن رہے ہیں لیکن اس تشویش اور پریشانی کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے دنیا کے چند سو ہا ہزار افراد جو دنیا پر حکومت کر رہے ہیں، دنیا کی مختلف حکومتوں کے سربراہ ہیں، ایٹمی توانائی اور دیگر فوجی تنصیبات کے ذمہ دار ہیں، فوجی ساز و سامان کی تیاری کے کمپنی کے مالکان ہیں، دنیا کے 99 فیصد افراد کے خدشات کو یکثر نظر انداز کر کے دنیا کو جنگ میں جھونکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہیں دنیا کے ایک دم سے بھک سے اڑ جانے کا کوئی خوف نہیں جبکہ ایسا نہیں کہ انہیں ایسے کسی حادثے کا ادراک نہ ہو۔
یوکرین کی جنگ میں پہلے یورپ میں ایک بارود سے بھری فضا تیار کی گئی اور پرانے حواری ایک دوسرے کے سامنے میدان جنگ میں مد مقابل کھڑے ہو گئے اس کا فائدہ صرف اور صرف اسلحے کی تیاری کی کمپنیوں کو ہو رہا ہے دیگر ترقیاتی مد کو کم کر کے فوجی ساز و سامان کی مد میں رقم مختص کرنے کی ایک دوڑ یورپ میں شروع ہو چکی ہے۔ لیکن یورپ اور روس کی یہ جنگ ایک ہم پلہ جنگ ہے۔ چونکہ اس میں ایک طرف روس اور اس کے حواری اور دوسری طرف یورپ اور امریکہ کے زیر اثر تمام ممالک شامل ہیں۔ جب کہ ایران تن تنہا ہے اور اسرائیل کے ساتھ پوری مغربی طاقت مل کر اس جنگ کو یک طرفہ جاریت میں بدل دے رہی ہیں۔
امریکہ یورپ اور اسرائیل نے مل جل کر پہلے ہی مشق وسطی سے عراق شام اور لیبیا جیسے ممالک کو زیر کر لیا ہے یہ وہ ممالک تھے جو کبھی مغربی طاغوتی قوت کے خلاف سینہ سپر تھے مگر اج ان ممالک میں جس طرح کی انار کی اور جنگی صورتحال موجود ہے وہ کسی بھی طرح کی کوئی مغربی جارہیت کے خلاف آواز اٹھانے سے معذور ہیں۔ یہ ساری جنگیں اور ان ممالک کو بے بس کرنے کے پیچھے صرف اور صرف ایک ہی پالیسی کام کرتی رہی ہے کہ ان ممالک کے تیل اور معدنیات پر مغرب کا قبضہ ہو سکے گو کہ ان جنگوں کے نتیجے میں افغانستان میں ہونے والی جنگ پس پشت چلی گئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ افغانستان سے اس پیش قدمی کا آغاز ہوا تھا۔ شام میں روس کی شکست کے بعد مغربی طاقتوں کے لیے تمام راہیں کھل گئی تھیں اور اسرائیل نے غزا میں فلسطینیوں سے عملا” ان کا ملک چھین کر فلسطینی قوم کو تباہ و براد کر دیا، لبنان سے حماس نے جب فلسطین کی مدد کرنے کی کوشش کی تو شدید بمباری کے بعد حماس کو بھی خاموش کرا دیا۔ اسرائیل کے اغوا شدگان افراد کی بازیابی کی اڑ میں اسرائیل نے نہ صرف غزا میں کشت و خون کا بازار گرم کیا بلکہ لبنان کے بیروت تک کو اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا اور یمنی حوتی مسلح افواج کو بھی تشدد کا سامنا کرنا پڑا اس سلسلے کی اگلی کڑی اسرائیل کے ازلی دشمن ایران کو سزا دینے کے لیے ٹھیک اسی طرح جس طرح عراق پر جھوٹا الزام لگایا گیا تھا کہ اس کے پاس زہریلی کیمیائی ہتھیار ہیں، ایران پر یہ جھوٹا الزام لگا کر کہ ایران ایٹمی بم بنانے کے بالکل قریب ہے۔ اسرائیل نے ایران پر حملہ کر کے اس کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ اور اس کے سرکردہ فوجی افسران کو قتل کر دیا ہے۔ گو کے فی الوقت ایران کی جوابی کاروائی جاری ہے اور ایران اسرائیلی جارہیت کا شکار ہے مگر ساری دنیا سے مغربی طاقتیں اسے ایران کی ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کا جھوٹا فسانہ بنا کر ایران کو سزا دینے کے در پے ہیں۔ اور امریکہ بھی اس جنگ میں کودنے کی تیاری کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران نے پہلی بھی نام نہاد جوہری طاقت کے پھیلاؤ کو روکنے کے ادارہ کے ساتھ تعاون کیا اور اس کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت اپنے ملک میں یورینیم کی افزائش کی پابندی کو تسلیم کرنے کے باوجود دیگر پابندیوں اور مشکلات سے نبرد آزما رہا۔ اور اسرائیلی حملے کے وقت بھی عمان میں مذاکرات چل رہے تھے۔
لیکن غزا میں اسرائیلی جاریت اور کشت و خون کا بازار گرم کرنے اور فلسطینیوں پر خوراک کی پابندی لگا کر نہتے عوام کی قتل و غارت گری سے نیتنیاہو کا جو امیج تیزی سے خراب ہو رہا تھا۔ حتی کہ تمام مغربی سربراہان نیتن یاہو کے خلاف اپنا بیان داغ رہے تھے اور ایسے میں اسرائیل نے ایران پر ایک جھوٹا الزام لگا کر اور حملہ کر کے ان تمام مغربی سربراہان کو اپنی طرف کر لیا ہے اور نتنیاہو ایک بار پھر ان سب کا ہیرو بن چکا ہے۔
ایسی سفاکانہ اور تشدد پسند جنگی صورتحال میں ہندوستان چین اور روس بھی کوئی عملی قدم اٹھانے سے گریز کر رہے ہیں بلکہ ہندوستان پر تو یہ الزام عائد ہو رہا ہے کہ وہ درپردہ اسرائیلی جارہیت کی حمایت کر رہا ہے اور را کے ایجنٹ اسرائیلی ایجنٹ کے ساتھ مل کر ایران کو اندرونی طور سے غیر مستحکم کر رہے ہیں۔ روس کو بھی اس جنگ کا کسی نہ کسی طریقے سے فائدہ حاصل ہو رہا ہے کہ مغربی ممالک کی تمام تر توجہ اس وقت مشرق وسطی پر لگی ہے اور ایسے میں یہ روس کے لیے سنہرا موقع ہے کہ وہ یوکرین میں اپنے جنگی اہداف کو مکمل کر سکے۔
اس مغربی جنگی جنون کا حل کچھ بھی نکلے ہار ایران کی ہو یا اسرائیل کی شکست اس کا فائدہ صرف اور صرف جنگی فوجی سامان تیار کرنے والی کمپنیوں کو ہوگا اور اس جنگی ساز و سامان کی ترسیل سے ہونے والی آمدنی کی رقم سے تباہ شدہ انفرا سٹرکچر کی تعمیر نو میں خرچ کرنے کا ڈھونگ رچایا جائے گا۔ اقوام متحدہ کی بلو ہیلمٹ والی فوج کی تعیناتی کا بوجھ کمزور ملک پر ڈال دیا جائے گا۔ اب تک یہی تماشہ ہوتا آیا ہے۔ مگر دنیا کے حالات بھی تیزی سے بدل رہے ہیں اور یہ جنگ امریکی ڈالر کی بقا کی آخری جنگ ہوگی جس کے بعد شاید مغربی معیشت اپنی تباہی کے دہانے پر کھڑی ہو گی۔ -

مودی راج، 11سالہ دور جھوٹ اور فریب کی بنیاد پر قائم
نئی دہلی (کنزیومر واچ نیوز)نااہل مودی حکومت جھوٹ پر مبنی بیانیے، حقائق چھپانے اور میڈیا کے ذریعے سچ کو دفنانے میں مہارت رکھتی ہے۔مودی کی قیادت میں سچ، احتساب اور شفافیت غائب ہوگئی جبکہ صرف فوٹو شوٹس اور جھوٹے اشتہارات باقی ہیں۔ احمدآباد طیارہ حادثہ میں 270 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں، مگر مودی سرکار کی جانب سے صرف خاموشی اور بے حسی دکھائی دی۔مودی راج میں نئے ایئرپورٹس کے افتتاحی فیتے تو کاٹے جا رہے ہیں، مگر DGCA میں 48 فیصد اور ایوی ایشن اداروں میں 37فیصد آسامیاں خالی ہیں۔ بھارتی سول ایوی ایشن کا نظام شدید عملے کی کمی کا شکار ہے۔سال 2017 سے 2022 کے درمیان 244 ریلوے بڑے حادثات ہوئے لیکن مودی کی توجہ صرف بھارت کی نئے ٹرینوں کی افتتاحی تقریبات پر رہی۔اشتہاروں میں ’’شائننگ انڈیا‘‘ لیکن حقیقی بھارت بھوک، غربت اور افلاس کا شکار ہے۔ بھارت ہنگر انڈکس میں 127 میں سے 105 پر آچکا ہے۔ مودی نے 2016 میں نوٹ بندی کو ’’ماسٹر اسٹروک‘‘ فیصلہ کہا لیکن آج بھی آڈٹ کا کہیں ذکر تک نہیں۔مودی راج میں سوال پوچھنے والا ’’غدار‘‘، بھارت صحافتی آزادی میں 151 ویں نمبر پر پہنچ چکا ہے۔ مودی کا ’’گودی میڈیا‘‘ صرف جھوٹ دکھانے میں مصروف ہے۔کورونا میں صرف انسان نہیں مرے، سچ بھی دفن ہوا، مودی کے اپنے گجرات میں اموات 33 گنا زیادہ رہی جبکہ سرکاری گنتی فراڈ نکلی۔ مودی سرکار نے پارلیمنٹ کو آج تک نہیں بتایا کہ لاک ڈاؤن میں کتنی چھوٹی صنعتیں بند ہوئیں، کتنے مزدور بے روزگار ہوئے، سچ آج بھی دفن ہے۔پلوامہ حملے میں 40 بھارتی جوان ہلاک ہوئے مگر 6 سال بعد بھی نہ انصاف ملا، نہ سچ سامنے آیا۔ پلوامہ اور پہلگام حملوں پر صرف مودی نے اپنی سیاست چمکائی۔کمبھ میلہ بھگدڑ کی اموات پر بھی مودی نے عوام کو گمراہ کیا۔ بھارتی حکومت نے 37 اموات بتائیں لیکن بی بی سی رپورٹ کے مطابق 82 افراد جان سے گئے۔پہلگام حملے پر بھی مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے عوام کو گمراہ کیا، سیاحوں کی سیکیورٹی مکمل طور پر ناکام رہی۔مودی سرکار کی سفارتی ناکامی واضح ہے، کینیڈا سے تعلقات کشیدہ ہیں کیونکہ نجر قتل پر خاموشی ہے۔ مودی کا دور بھارت کی ناکامی کا دور ثابت ہو رہا ہے۔
-

ایران نیوکلیئر سائٹس پر حملوں کی سخت مذمت، اسرائیل رجیم کو روکنا ہوگا،بلاول بھٹو
اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی میں اظہار خیال کررہے ہیں۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایران کی نیوکلیئر سائٹس پر حملوں کی سخت مذمت کرتے ہیں، اسرائیل نے جھوٹ کی بنیاد پر ایران پر حملہ کیا، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی گئی، ایران کی ملٹری قیادت کو جنگ کے میدان میں نہیں بلکہ ان کے گھر میں ٹارگٹ کیا گیا ، ایرانی سائنسدانوں کو ٹارگٹ کیا، سب سے بڑی خلاف ورزی ایران کی نیوکلیئر تنصیبات پر حملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کل امریکا نے ایران کی ایٹمی سائٹ پر حملہ کیا، ایران میں ایٹمی تنصیبات پر حملے میں اگراخراج ہوتا تو سارے خطےخصوصاًپاکستان پر اثرات ہوتے، امریکا کے لوگ اس جنگ کی حمایت نہیں کرتے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ پہلے یہی عراق کے بارے کہا گیا اور اب ایران کے بارے میں کہا کہ ان کے پاس ویپن آف ماس ڈسٹرکشن ہیں، پہلے وہ لبنان آئے، یمن آئے اور اب ایران آگئے، اگر ہم اب نہ بولے تو جب وہ ہم پر آئیں گے تو کوئی بولنے والا نہیں ہوگا، اسرائیل کی رجیم کو روکنا ہوگا۔ -

ایران کا اسرائیلی پاور پلانٹ پر میزائل حملہ
تہران (کنزیومر واچ نیوز)ایران نے صہیونی حملوں کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر کئی میزائل داغے ہیں جس کے بعد جنوبی اسرائیل میں ایک میزائل نے پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، کئی اسرائیلی شہروں میں دھماکے سنے گئے ہیں۔الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل الیکٹرک کارپوریشن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک اسٹریٹجک انفرااسٹرکچر کے قریب میزائل گرا ہے، جس کے نتیجے میں کئی قصبات میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔حملے کے دوران تقریباً 35 منٹ تک سائرن بجتے رہے، اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی عوام نے ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد آج سب سے طویل وقت پناہ گاہوں میں گزارا ہے۔اسرائیلی فوج ایکس پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل کی جانب میزائل داغے ہیں، اسرائیلی میڈیا کے مطابق نہاریا، گشر حزیو، حیلا، میعونا اور میعیلیا سمیت کئی شہروں میں سائرن بجنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس کے اوپر ایک میزائل کو بلند فضا میں اڑتے دیکھا گیا، جس کے بعد فاصلے پر متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک کم از کم 4 مقامات پر میزائل گرنے کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں ایک اشدود اور ایک مغربی مقبوضہ بیت المقدس کے جنوب میں واقع ہے۔تاہم ان مقامات کی نوعیت یا وہاں کیا نشانہ بنایا گیا، اس بارے میں واضح معلومات دستیاب نہیں ہیں، کیونکہ اسرائیل میں فوجی سنسر شپ کے تحت ویڈیوز یا معلومات شیئر کرنے پر سخت پابندیاں عائد ہیں اور خلاف ورزی پر قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔اس وجہ سے اس بات کی تصدیق کرنا مشکل ہے کہ کون سی تنصیبات یا علاقے متاثر ہوئے ہیں اور نقصان کی نوعیت کیا ہے۔13 جون کو اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد سے، اطلاعات کے مطابق ایران نے اب تک تقریباً 450 بیلسٹک میزائل اسرائیل پر داغے ہیں۔
10 روز سے جاری ایرانی میزائل حملوں سے اسرائیل میں شدید نقصانات
قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق گزشتہ 10 دنوں کے دوران ایران کے تابڑ توڑ میزائل حملوں سے اسرائیل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔زیادہ تر نقصان مرکزی اسرائیل میں ہوا ہے، لیکن حیفا جیسا اہم اسٹریٹجک شہر بھی مسلسل حملوں کی زد میں رہا ہے۔ ایک واقعے میں ایک میزائل اپنے ہدف سے ٹکرایا لیکن سائرن نہیں بجے، اسرائیلی فوج نے تحقیقات کے بعد تصدیق کی کہ یہ میزائل ایرانی تھا، اور کوئی دفاعی میزائل غلطی سے فائر نہیں ہوا تھا۔اس مسلسل اور شدید صورتحال کے باعث 30 ہزار سے زائد اسرائیلی شہریوں نے معاوضے کے لیے درخواستیں دی ہیں، جب کہ کئی سو افراد کو متبادل رہائش اختیار کرنا پڑی ہے۔مقامی حکام ان فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے روزانہ 40 لاکھ ڈالر سے زائد رقم خرچ کر رہے ہیں۔ -

اسرائیل کا 6 ایرانی ہوائی اڈوں پر فضائی حملوں کا دعویٰ
تل ابیب (کنزیومر واچ نیوز)اسرائیلی فوج نے ایران کے مغربی، مشرقی اور وسطی علاقوں میں واقع کم از کم 6 ہوائی اڈوں پر فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے جبکہ ایرانی فوج نے صوبہ لورستان میں جدید اسرائیلی ڈرون مار گرایا، صوبہ یزد میں اسرائیلی حملوں میں پاسداران انقلاب کے 10 ارکان شہید ہوگئے۔الجزیرہ کے مطابق ’ایکس‘ پر جاری کردہ بیان میں اسرائیل نے کہا کہ ان حملوں میں ریموٹ کنٹرول طیاروں کے ذریعے ایران کے 15 طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کو تباہ کیا گیا۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ان حملوں میں رن ویز، زیرِ زمین بنکرز، ایک ایندھن بھرنے والا طیارہ اور ایرانی حکومت کے زیرِ استعمال ایف-14، ایف-5 اور اے ایچ ون طیاروں کو نقصان پہنچا ہے‘۔اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ ’فضائیہ نے ان ہوائی اڈوں سے پرواز کی صلاحیت اور ایرانی فوج کی فضائی طاقت کے آپریشن کو متاثر کیا ہے‘۔تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق اتوار کو ایران کے صوبہ یزد پر اسرائیلی حملوں میں پاسداران انقلاب کے کم از کم 10 اہلکار شہید ہو گئے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حملوں میں پاسداران انقلاب کے متعدد دیگر اہلکار زخمی بھی ہوئے، تاہم ان کی تعداد نہیں بتائی گئی۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ 13 جون کو شروع کیے گئے اچانک حملوں کے بعد سے اب تک ایرانی فوج کے دو درجن کمانڈرز اور جوہری سائنس دان شہید کیے جاچکے ہیں۔دوسری جانب، ایرانی میڈیا نے آج صبح ایرانی فوج کی جانب سے مار گرائے جانے والے اسرائیل کے جدید ہرمس 900 ڈرون کی فوٹیج نشر کی ہے۔لورستان نیوز نے ٹیلیگرام پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ یہ ڈرون پاسداران انقلاب کے اہلکاروں نے صوبہ لورستان کے شہر خرمآباد میں ایک کارروائی کے دوران مار گرایا۔
-

امریکی حملوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا ، ایرانی مندوب
نیو یارک(کنزیومر وا چ نیوز)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں ایرانی مندوب امیر سعید ایروانی نے امریکی حملے کا بھرپور جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جواب کے لیے وقت اور نوعیت کا فیصلہ ایرانی افواج کریں گی۔سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے دوران اپنے خطاب میں ایرانی مندوب کا کہنا تھا کہ ایران پر حملہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، اپنے ملک کے خلاف جارحیت کی مذمت کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ایران کو اپنی خود مختاری کے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے اور ان حملوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا جب کہ ایران پر حملوں کے جواب کا فیصلہ، نوعیت اور وقت کا تعین اس کی افواج کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران سے متعلق امریکا کے تمام الزامات جھوٹے ، غلط اور سیاسی محرکات سے بھرپور ہیں، ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں جب کہ قاسم سلیمانی ایرانی عوام کے ہیرو رہیں گے۔ایرانی مندوب نے کہا کہ جنگی مجرم نیتن یاہو امریکا کو جنگ میں دھکیلنے میں کامیاب ہوگیا، امریکا نے نیتن یاہو کی خاطر سفارتی کوششوں کو متاثر کیا۔مزید کہا کہ امریکی اقدامات سے عالمی امن خطرے میں پڑچکا ہے اور ایران پر حملوں کے ذریعے نیتن یاہو کو بچانے کی کوشش گئی۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو متعدد بار متنبہ کیا تھا کہ ایران کے خلاف جارحیت کے خطرناک نتائج ہوں گے لیکن امریکا نے خود اپنی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ایرانی مندوب نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل اس جارحیت پر موثر اور غیر جانبدارانہ کارروائی کرے ورنہ اس کے نتائج پوری دنیا بھگتے گی جب کہ امریکا کا سیاسی تاریخ پر ایک بار پھر سیاہ دھبہ لگ گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عالمی قوانین کے مطابق ایران کو دفاع کا حق حاصل ہے، ایران اپنے تحفظ اور سلامتی کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔انہوں نے کہا کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدہ کو ایک سیاسی ہتھیار میں تبدیل کر دیا گیا اور این پی ٹی ٹریٹی کو سیاست زدہ کردیا گیا۔اس سے قبل، پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فوری اور غیر مشروط جنگ بندی اور ایران کے حق دفاع کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔چینی مندوب نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور مذاکرات کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو صورتحال میں انصاف کرنا چاہیے۔اجلاس میں چین، روس اور پاکستان نے ایک قرارداد کا مسودہ پیش کیا ہے جس میں درج ذیل نکات شامل ہیں:سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ دو روز قبل، اسی ایوان میں، میں نے براہِ راست اپیل کی تھی کہ امن کو ایک موقع دیا جائے۔ لیکن اس اپیل پر کان نہیں دھرے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ میں مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی فوجی کشیدگی کی بارہا مذمت کر چکا ہوں، اس خطے کے عوام مزید تباہی کا ایک اور دور نہیں سہہ سکتے۔
-

جہاد کا اعلان صرف ریاست کرسکتی ہے،کسی فرد یا گروہ کو یہ اختیار نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر
راولپنڈی(کنزیومر واچ نیوز)ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ جہاد کا اعلان صرف ریاست کر سکتی ہے،کسی فرد یا گروہ کو یہ اختیار حاصل نہیں پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کراچی میں مختلف مذاہب اورسماجی حلقوں سے ملاقاتیں اور تبادلہ خیال کیامختلف مذاہب اور سماجی حلقوں کی جانب سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا خیرمقدم اور بھرپور یکجہتی کا اظہار بھی کیا گیا۔جوکہتے تھے فوج اپنا کام نہیں کرتی، ان سے سوال کریں فوج نے اپنا کام کیا یا نہیں؟مختلف مذاہب اورسماجی طبقات کےنمائندوں نےڈی جی آئی ایس پی آرسے ملاقات کو قابلِ قدر قرار دیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان میں تمام مذاہب کے ماننے والے برابر کے شہری ہیں جنہیں آئینی طور پر مکمل حقوق حاصل ہیں،قومی اتحاد برابری اور ہم آہنگی سے ہی قائم رہتا ہےڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے، پاک فوج جدید جنگی حکمت عملی کے ساتھ دشمن کو جواب دے رہی ہے،نسلی یا لسانی نفرت جہالت ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام پاکستانی برابرہیں، متحد رہیں گے تو کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی،جہاد کا اعلان صرف ریاست کر سکتی ہے،کسی فرد یا گروہ کو یہ اختیار حاصل نہیں۔
-

ایران اسرائیل جنگ، آئل کمپنیوں کو تیل ذخیرہ رکھنےکی ہدایت
اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز) ایران اسرائیل جنگ کے تناظر میں وفاقی حکومت نے آئل کمپنیوں کو تیل ذخیرہ رکھنےکی ہدایت کردی۔حکومت کی جانب سے 14 کروڑ لیٹرزپیٹرول فوری منگوانےکا حکم دیا گیا ہے۔اوگرا کی جانب سے آئل آئل کمپنیوں کو لکھےگئے خط میں 20 دن تیل ذخیرہ رکھنےکی ہدایت کی گئی ہے۔اوگرا نے ہدایت کی ہےکہ حالیہ علاقائی صورتحال کے سبب تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیاں تیل کا ذخیرہ یقینی بنائیں۔ پی ایس او حکام کے مطابق حکومتی ہدایات کے بعد پی ایس او نے تقریباً 7 کروڑ لیٹرزکا ہنگامی ٹینڈر جاری کیا ہے۔ تیل بردار جہاز 10 دن کے اندر کراچی پورٹ پہنچےگا۔ پی ایس او حکام کا کہنا ہےکہ 6 جولائی کو پہنچنے والے تقریباً 7 کروڑ لیٹرز سے لدے تیل بردار جہاز کو 26 جون کو پہنچنےکی ہدایت کی گئی ہے۔ یکم جولائی تک ملک میں اضافی 14کروڑ لیٹرز تیل موجود ہوگا۔ صورتحال دیکھتےہوئے مزید ہنگامی ٹینڈرز جاری کیے جاسکتے ہیں۔
-

اداکار محب مرزا اور اداکارہ صنم سعید کے ہاں بیٹے کی پیدائش
کراچی (کنزیو مر واچ نیوز)پاکستان شوبز کے اداکار محب مرزا اور اداکارہ صنم سعید کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے۔ جس کا اعلان انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر کیا۔انہوں نے مداحوں کو اپنے بیٹے کی آمد کی خوشخبری ایک ماہ بعد دی اور اپنے مشترکہ پیغام میں خوشی اور تشکر کا اظہار کرتے ہوئے بیٹے کے نام کا بھی اعلان کیا۔پوسٹ میں بتایا گیا کہ ان کے بیٹے کا نام “ولی حسن مرزا” رکھا گیا ہے، جس کی پیدائش 18 مئی 2025 کو ہوئی۔ دونوں فنکاروں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ وہ اپنے بیٹے کے استقبال پر بے حد خوش اور شکر گزار ہیں، اور مداحوں سے دعا کی درخواست بھی کی۔بیٹے کی پیدائش کی خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر مبارکباد کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ساتھی فنکاروں اور سوشل میڈیا صارفین نے صنم اور محب کو ننھے مہمان کی آمد پر مبارکباد دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
