Blog

  • ایران کے لیےاب جوہری ہتھیاربنانا بہت مشکل ہے،ٹرمپ

    ایران کے لیےاب جوہری ہتھیاربنانا بہت مشکل ہے،ٹرمپ

    دی ہیگ(کنزیومر واچ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران یورینیئم افزودگی کا پروگرام دوبارہ شروع کرے تو اس پر دوبارہ حملہ کریں گے۔دی ہیگ میں جاری نیٹو سمٹ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ جنگ بندی کی تھوڑی بہت خلاف ورزی ہوئی تھی تاہم اب اسرائیل ایران سیزفائر پر اچھے سے عمل ہورہا ہے اور جنگ بندی کے بعد میرے کہنے پراسرائیلی طیارے واپس آگئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں جو سب کےلیے اہم ہیں، ایران میں فردو جوہری سائٹ تباہ کردی اور فردو جوہری سائٹ پراب تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو کسی صورت یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اب ایران طویل عرصے تک ایٹمی مواد نہیں بناسکے گا اور ایران کے لیےاب جوہری ہتھیاربنانا بہت مشکل ہے۔صحافی کے سوال پر امریکی صدر نے کہا کہ امریکا نے ایران پر حملہ کرکے جنگ ختم کردی، اب اگر ایران یورینیئم افزودگی کا پروگرام دوبارہ شروع کرے تو اس پر پھر حملہ کریں گے۔غزہ سے متعلق بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ غزہ کے معاملے پربھی بڑی پیش رفت ہورہی ہے۔ اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکی حملےکے بعد اب ایران ایٹمی ہتھیار بنانے سےبہت دور ہے، امریکی صدر کے اقدام سےایران کے جوہری پروگرام کوکافی حد تک بلکہ زیادہ نقصان پہنچا ہے جس کی مزید تفصیلات لےرہے ہیں۔ سمٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل نیٹو نے کہا کہ ٹرمپ نے نیٹو ممالک کو دفاعی اخراجات بڑھانے پر آمادہ کیا۔

  • ہانیہ عامرکی فلم ‘سردار جی 3’ کا ٹریلر جاری، بھارتی تلملا اٹھے

    ہانیہ عامرکی فلم ‘سردار جی 3’ کا ٹریلر جاری، بھارتی تلملا اٹھے

    ممبئی(کنزیومر واچ نیوز)چند روز قبل بھارتی گلوکار و اداکار دلجیت دوسانجھ نے ہانیہ عامر کے ہمراہ پنجابی فلم ‘سردار جی 3’ کا ٹریلر جاری کیا جس کے بعد بھارتی تلملا اٹھے۔تب سے ہی ہانیہ خبروں کی زینت ہیں اور بھارتی میڈیا اداکارہ کی زندگی پر کافی باریک بینی سے نظر رکھے ہوئے ہے، کبھی بھارتی میڈیا ہانیہ کے خلاف زہر اگل رہا ہے تو کبھی ان کے ٹیلنٹ کے لیے انہیں داد دے رہا ہے۔بھارتی انٹرٹینمنٹ ویب سائٹ ’بالی وڈ لائف‘ نے اپنی رپورٹ میں پاکستانی اداکارہ کی دولت سے متعلق دعویٰ کیا ہے۔ویب سائٹ کے مطابق ہانیہ عامر کی مقبولیت پاکستان اور بھارت سمیت سری لنکا ، افغانستان اور بنگلادیش میں بھی ہے۔’سردار جی 3‘ میں ہانیہ کو شامل کرنے پر بھارت تلملا اٹھا، فلم ورکرز یونین دلجیت کے پیچھے پڑگئی بالی وڈ لائف نے دعویٰ کیا کہ ہانیہ عامر کا طرز زندگی انتہائی پرتعیش ہے، ان کا رہن سہن اورکپڑے مہنگے اور لاجواب ہوتے ہیں اور ان کے پاس عالیشان گھر اور گاڑیاں ہیں۔
    ویب سائٹ کے مطابق ہانیہ کے پاس آڈی کی ایک سے زائد مہنگی گاڑیاں ہیں جب کہ ان کی سالانہ کمائی بھی تقریباً 50 کروڑ روپے ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی ویب سائٹ نے بتایا کہ ہانیہ عامر شوبز کے کام سے سالانہ 43 کروڑ روپے کماتی ہیں جب کہ اشتہارات اور برانڈز کی کمائی الگ ہوتی ہے،ہانیہ عامر ٹی وی اسکرین کی بھی مقبول ترین اداکارہ ہیں اور وہ ایک قسط میں کام کرنے کا معاوضہ 4 لاکھ روپے تک وصول کرتی ہیں۔یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ بھارتی ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا کہ ہانیہ عامر نے پنجابی فلم ‘سردار جی 3’ میں کام کرنے کا کیا معاوضہ وصول کیا۔

  • بھارتی فلم  ’سردار جی 3‘ کے گانے میں ہانیہ عامر  کے جلوے

    بھارتی فلم ’سردار جی 3‘ کے گانے میں ہانیہ عامر کے جلوے

    ممبی(کنزیو مر واچ نیوز)پنجابی بھارتی گلوکار و اداکار دلجیت دوسانجھ کی جلد ریلیز ہونے والی فلم ’سردار جی 3‘ کا گانا ’سوہنی لگدی‘ جاری کردیا گیا ہے جس میں پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر جلوے بکھیرتی دکھائی دے رہی ہیں۔
    اس گانے کی آفیشل ویڈیو دلجیت دوسانجھ اور ہانیہ عامر نے اپنے آفیشل انسٹاگرام ہینڈلز پر شیئر کی ہیں جو دیکھتے ہیں دیکھتے خوب وائرل ہو رہی ہے۔ مداحوں کو گانے ’سوہنی لگدی‘ میں ہانیہ کی پرفارمنس بےحد پسند آرہی ہے۔
    سوشل میڈیا پر یہ گانا ریلیز ہوتے ہی چھا گیا ہے جس کے ہر طرف چرچے ہورہے ہیں اور اس کی وجہ اس گانے میں دکھائی دینے والی ہانیہ اور دلجیت کی کیمسٹری ہے۔سردار جی 3 کو 27 جون کو بھارت کے علاوہ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں ریلیز کیا جارہا ہے جبکہ دلجیت دوسانجھ کو اس وجہ سے بھارت میں شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

  • ایران کے بعد غزہ؟ اسرائیلی اپوزیشن نے جنگ بندی کا مطالبہ کر دیا

    ایران کے بعد غزہ؟ اسرائیلی اپوزیشن نے جنگ بندی کا مطالبہ کر دیا

    تل ابیب (ویب ڈیسک)ایران کے ساتھ جنگ بندی کے بعد اب اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں نے غزہ میں بھی فوری طور پر جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔سینٹر-لیفٹ ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ یائیر گولان نے کہا ہے کہ “اب وقت ہے کہ مشن مکمل کیا جائے: تمام یرغمالیوں کو واپس لایا جائے، غزہ کی جنگ ختم کی جائے، اور اسرائیل کو کمزور، تقسیم شدہ اور غیر محفوظ بنانے والی بغاوت کو روکا جائے۔”انہوں نے ٹائمز آف اسرائیل سے بات کرتے ہوئے کہا، “اور اب غزہ… اب وہاں بھی کام مکمل کرنا ہوگا۔ یرغمالیوں کو واپس لائیں، جنگ ختم کریں۔ اسرائیل کو دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔”یہ مطالبات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کے ساتھ دو طرفہ جنگ بندی کا عمل شروع ہو چکا ہے اور خطے میں کشیدگی میں کمی کی امید کی جا رہی ہے۔

  • جنگ بندی: عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آنے لگیں

    جنگ بندی: عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آنے لگیں

    تہران(کنزیومر واچ نیوز)ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی آئی ہے۔ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل برینٹ کی قیمت مزید 3.71 فیصد فیصد گرگئی جس کے بعد خام تیل برینٹ کی قیمت 68.83 ڈالر فی بیرل پر آگئی ہے۔رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت مزید 3.88 فیصد کم ہو کر 65.85 ڈالر فی بیرل پر آگئی ہے۔ واضح رہے کہ اب سے چند گھنٹوں قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔پاکستان وقت کے مطابق ایران نے صبح 9 بجے سے جنگ بندی پر عملدرآمد شروع کردیا ہے اور اسرائیل نے بھی اپنی فضائی حدود کھول دی ہے۔اس کے علاوہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے فریقین سے جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ کرنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔

  • ٹرمپ نے ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے کیلئے کس مسلم ملک سے مدد مانگی؟

    ٹرمپ نے ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے کیلئے کس مسلم ملک سے مدد مانگی؟

    واشنگٹن (کنزیومر واچ نیوز)قطر میں ایرانی حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر نے امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے ساتھ اسرائیل ایران جنگ بندی کی تجویز پر تبادلہ خیال کیا۔خبر رساں ایجنسی کے مطابق ٹرمپ اور وینس نے اسرائیل ایران جنگ بندی کی تجویز پر قطری امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے بات کی، ٹرمپ نے امیر قطر کو بتایا کہ اسرائیل جنگ بندی کے لیے متفق ہے۔خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے امیر قطر سے کہا کہ ایران کو جنگ بندی پر راضی کرنے میں مدد کریں اور پھر قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبد الرحمان الثانی نے ایرانی حکام کے ساتھ گفتگو میں انہیں امریکی جنگ بندی کی تجویز پر متفق کر لیا۔واضح رہے کہ صدرٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام لوگوں کو مبارک ہو! اسرائیل اور ایران کے درمیان مکمل جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا ہے ۔ٹرمپ نے کہا کہ اگلے 6 گھنٹے میں ایران اور اسرائیل اپنے جاری مشن مکمل کریں گے، اگلے 12 گھنٹے میں جنگ کو ختم سمجھا جائے گا۔امریکی صدر کے جنگ بندی کے اعلان کے بعد وائٹ ہاؤس کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے پیر کی سہہ پہر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے فون پر بات کی جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس، روبیو اور وٹکوف نے ایرانیوں سے براہ راست اور بالواسطہ بات کی۔وائٹ ہاؤس عہدیدار کے مطابق اسرائیل نے اتفاق کیا کہ ایران نے مزید حملے نہیں کیے تو وہ جنگ بندی کے لیے تیار ہے جبکہ ایران نے امریکا کو عندیہ دیا کہ وہ مزید حملے نہیں کرے گا۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے اعلان پر صدرٹرمپ نے کہا کہ یہ دنیا کے لیے شاندار دن ہے،جنگ بندی لامحدود ہے، امید ہے یہ ہمیشہ کے لیے قائم رہےگی۔دوسری جانب سینیئر ایرانی عہدیدار کاکہنا ہے کہ ایران نے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کی تجویزکو قبول کرلیا۔ ایران قطر کی ثالثی اور امریکی تجویز پر اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی پر رضامند ہے۔اس کے علاوہ اسرائیل کی جانب سے بھی اب تک جنگ بندی کے حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

  • ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل سے جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ کرنے کی اپیل کردی

    ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل سے جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ کرنے کی اپیل کردی

    واشنگٹن(کنزیومر واچ نیوز)امریکی صدر نے دونوں فریقین سے جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ جنگ بندی کا آغاز ہوگیا ہے، برائے مہربانی جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ کریں۔ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل سے جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ کرنے کی اپیل کردیواضح رہے کہ اب سے چند گھنٹوں قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔پاکستان وقت کے مطابق ایران نے صبح 9 بجے سے جنگ بندی پر عملدرآمد شروع کردیا ہے اور اسرائیل نے بھی اپنی فضائی حدود کھول دی ہے۔

  • ایران اوراسرائیل نے جنگ بندی پر اتفاق کرلیا،ٹرمپ

    ایران اوراسرائیل نے جنگ بندی پر اتفاق کرلیا،ٹرمپ

    واشنگٹن(کنزیومر واچ نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور ایران جنگ بندی پر متفق ہوگئے اور اگلے 6 گھنٹوں میں حملے بند کردیے جائیں گے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر یہ اعلان کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ سب کو مبارک ہو، اسرائیل اور ایران کے درمیان مکمل جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان اگلے 6 گھنٹوں بعد حملے بند کردیے جائیں گے جب دونوں ممالک اپنے جاری آخری مشن مکمل کرلیں گے۔مزید کہا کہ باضابطہ طور پر جنگ بندی کا آغاز پہلے ایران کرے گا اور 12ویں گھنٹے پر اسرائیل بھی جنگ بندی شروع کردے گا جب کہ 24ویں گھنٹے پر ’12 روزہ جنگ‘ کے خاتمے کو دنیا بھر میں باقاعدہ طور پر تسلیم کیا جائے گا۔
    اپنی پوسٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے دوران دونوں فریقین پرامن اور باعزت رویہ اختیار کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق چلا اور بالکل چلے گا، تو میں اسرائیل اور ایران دونوں کو ان کی ہمت، استقامت، اور دانشمندی پر مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ انہوں نے ایسی جنگ کو ختم کیا، جسے برسوں جاری رکھا جا سکتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ’12 روزہ جنگ‘ برسوں جاری رہ سکتی تھی جو پورے مشرق وسطیٰ کو تباہ کر سکتی تھی، مگر ایسا نہ ہوا، اور نہ ہی ہو گا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ خدا اسرائیل اور ایران پر رحم کرے، خدا مشرقِ وسطیٰ ، امریکا اور خدا پوری دنیا پر رحم کرے۔
    دنیا کو مبارکباد، امن کا وقت آگیا
    اس سے قبل، امریکی صدر نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا تھا کہ ایران نے اپنے جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کا بہت کمزور جواب دیا ہے جس کا دفاع موثر انداز میں کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران نے کل 14 میزائل داغے، جن میں سے 13 کو مار گرایا گیا، اور ایک کو چھوڑ دیا گیا کیوں کہ وہ کسی خطرناک سمت میں نہیں جا رہا تھا۔ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ کوئی بھی امریکی زخمی نہیں ہوا، اور بمشکل ہی کوئی نقصان ہوا۔
    ان کا کہنا تھا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران نے اپنا غصہ نکال لیا ہے، اور امید ہے کہ اب مزید نفرت نہیں ہوگی۔ایک اور پوسٹ میں امریکی صدر نے لکھا ’میں ایران کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ہمیں حملے سے پہلے پیشگی اطلاع دی، جس کی وجہ سے کسی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا‘۔ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ تہران ’خطے میں امن و ہم آہنگی کی طرف بڑھے، اور میں پُرجوشی سے اسرائیل کو بھی یہی کرنے کی ترغیب دوں گا۔ٹروتھ سوشل پر دوسری پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے امیرِ قطر کا ’خطے میں امن کے لیے کی گئی تمام کوششوں‘ پر شکریہ ادا کیا۔ایک اور پوسٹ میں صدر نے لکھا ’دنیا کو مبارک ہو، اب وقت ہے امن کا‘۔
    l

  • چین : ماضی کی جھلک اورمستقبل کی چمک ….ارم زہراء چین

    چین : ماضی کی جھلک اورمستقبل کی چمک ….ارم زہراء چین

    میں نے بیجنگ کے تیز رفتار سب وے سے قدم باہر رکھا تو یوں لگا جیسے تاریخ اورمستقبل نے یک جان ہو کر میری انگلی پکڑ لی ہو۔ صبح کی کرنوں میں ممنوعہ شہر کی سرخ دیواریں انگڑائیاں لے رہی تھیں اور انہی دیواروں کے سائے میں لگے خودکار اسکینرز میرے چہرے کے زاویے نوچ نوچ کر اپنی یادداشت میں محفوظ کر رہے تھے۔ میں نے ہر سو اٹھتی ہوئی اس آہٹ کو سنا صدیوں پرانی اینٹوں کی خاموش سرگوشی اور مصنوعی ذہانت کے برقی زمزمے کی ملی جلی آواز ، یہی تو بیجنگ ہے ‘‘ایک فقیر کے ہاتھ میں ٹین کا کٹورا اور برابر میں کسی انجینئر کی ہتھیلی پر چمکتا ہوا کیو آر کوڈ۔
    مجھے یاد ہے بچپن میں جب میں سفرنامے پڑھتی تھی ، تب سوچتی تھی، کیا واقعی راستے ہم سے مکالمہ کرتے ہیں؟ آج، میں انہی سطروں کے سنگ کسی بے نام کبوتر کی طرح قدیم سنگِ مرمر پر پھسلتی جا رہی تھی۔ محلِ معبودات کے بلند دروازے کے سامنے ٹھہر کر میں نے دْور سے آتی اْس دوپہر کو دیکھا جو صدیوں پہلے کسی شہنشاہ کے تاج میں مقید تھی۔ ہوا میں لوبان کی مدھم خوشبو تھی، مگر اْسی لمحے میری جیب میں رکھا موبائل تڑپ اٹھا Alipay کی ایک نئی ٹون نے اعلان کیا کہ میری بس کا بل خود بخود ادا ہو چکا تھا۔
    یہ تضادات شاید بیجنگ کی سب سے بڑی تہذیبی معرکہ آرائی ہیں۔ لکڑی کے جھروکوں سے جھانکتا کونفوشس اور بغل میں سلور ڈرون، جو سیلفی اسٹک کی جگہ لینے کو مچل رہا ہے۔ ایک جھٹکے میں خیال آیا کہ میں یہاں تماشائی نہیں، خود داستان کی راوی ہوں۔‘‘محل کی سلوں پر وقت چٹان کی طرح جما ہوا ہے، مگر میری انگلی کی پور میں بہتا ڈیجیٹل نبض کا قاصد مجھے بتاتا ہے کہ اب لمحہ صدیاں بن کر گردش نہیں کرتا، بلکہ کلاؤڈ سرور پر اَپ لوڈ ہو جاتا ہے۔’’
    دوپہر ڈھل رہی تھی۔ میں ہْوٹونگ کی تنگ گلیوں میں سے گزری۔ چھوٹی سی چائے کی دکان کے باہر بیٹھے نانا جیسی داڑھی والے بزرگ مجھے دیکھ کر مسکرائے۔ اْن کی میز پر پرانی چائے دانی کے ساتھ ایک چھوٹا سا روبوٹ رکابیوں کا حساب لگا رہا تھا۔ بزرگ نے میری حیرت بھانپ لی، کہنے لگے ‘‘ہماری ثقافت کو کوئی بدل نہیں سکتا، بیٹی۔ صرف اس کے ملبوس بدل جاتے ہیں۔’’ میں نے یہ سنا تو مجھے اپنے اندر ٹھنڈک اتری ہوئی محسوس ہوئی، جیسے کسی روحانی فقیر نے شہرِ شور میں امید کا دیپ جلا دیا ہو۔
    شام کے نیلے سائے دھند کی چادر کی طرح پھیلنے لگے۔ ممنوعہ شہر کی دیواریں نِت نئے رنگ اوڑھ کر ایک خوابیدہ دیو کا رْوپ دھار رہی تھیں۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا اوپر ہولوگرام لائٹس نے آسمان پر سرخ ڈریگن بْنا تھا نیچے سنگِ سجدہ پر تاریخ اب بھی اپنی لمبی قمیص سنبھالے ہوئے تھی۔
    ‘‘بیجنگ وہ آئینہ ہے جس میں ماضی اور مستقبل ساتھ جھانکتے ہیں۔اگر تم دل کی آنکھ سے دیکھو تو اْن دونوں کی تصویر تمہارے اندر کی دیوار پر نقش ہو جاتی ہے۔’’
    میں نے ڈائری بند کی۔ یہ تو ابھی شروعات ہے آگے نجانے کتنے در کھلنے والے ہیں۔ میں ایک خواب میں داخل ہو چکی ہوں، مگر جاگنے کی کوئی جلدی نہیں…’’
    اگلی صبح سورج چائے کی پیالی جیسا سنہرا تھا، جس میں آسمان کی نیلاہٹ گھلی ہوئی تھی۔ میں ‘‘تین آنکھوں والے’’ اسمارٹ ہوٹل کے کمرے سے نیچے اتری، جہاں نہ دربان تھا، نہ استقبالیہ۔ ایک چھوٹا سا روبوٹ میرے استقبال کو بڑھا، اور اْس نے مسکرا کر کہا
    ‘‘صبح بخیر، محترمہ لی! آپ کی کافی تیار ہے۔’’
    میں چونکی۔ ‘‘لی؟’’
    پھر یاد آیا، یہاں غیر ملکیوں کے نام بھی مشینیں آسانی سے بدل دیتی ہیں۔ میرا نام، میری شناخت… سب ڈیجیٹل ترجمے میں تحلیل ہو چکے تھے۔
    ہوٹل کے باہر بیجنگ کی سڑکیں ایک نظم کی مانند کھنک رہی تھیں۔ سست رفتاری سے چلنے والی سائیکلوں کی جگہ اب بجلی سے دوڑتے ہوئے اسمارٹ بائیکس نے لے لی تھی۔ لیکن ان میں سے کچھ کے پیچھے اب بھی سرخ کپڑے میں لپٹی ٹفن کی چھوٹی سی گٹھریاں لٹکی ہوئی تھیں وہی ماں کے ہاتھ کی روٹی، بس اب ہوم ڈیلیوری سروس کی ‘ایپ’ میں چھپی ہوئی۔
    میرا رخ ‘‘798 آرٹ زون’’ کی جانب تھا۔ یہ پرانی فیکٹریوں کی بستی ہے، جہاں لوہے کی بھٹیوں میں اب خواب تپائے جاتے ہیں۔ دیواروں پر لگے گرافٹی کسی صوفی کا کلام لگتے تھے ‘‘مشینوں میں سانسیں ڈالنا، یہی نئی شاعری ہے۔’’
    ایک نوجوان چینی مصور سے ملاقات ہوئی، جس کے برش نے کسی زمانے کے سرخ انقلاب کو نیون روشنیوں میں لپیٹ کر دوبارہ جنم دیا تھا۔اس نے کہا ‘‘ہمیں ماضی سے محبت ہے، مگر ہم اْسے جیب میں رکھ کر چلتے ہیں، بوجھ بنا کر نہیں۔’’
    شام کی طرف پلٹتے ہوئے میں ‘‘تھیان آن مِن اسکوائر’’ کے قریب رک گئی۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں تاریخ کے پاؤں میں زنجیر بھی پڑی، اور پر بھی لگے۔
    میرے آس پاس ہر شخص مصروف تھا۔موبائل پر وی چیٹ، چہرے پر سکون، اور قدموں میں رفتار۔ میں نے محسوس کیا، یہاں کے لوگوں کو اپنے ماضی پر فخر ہے، مگر وہ اْسے کسی عجائب گھر کی طرح نہیں رکھتے، بلکہ روز جیتے ہیں، روز برتتے ہیں۔
    تبھی ایک بچی دوڑتی ہوئی میرے قریب آئی۔ اْس کے ہاتھ میں ہولوگرام پتنگ تھی، جو ہوا میں چمکتے ستارے بکھیر رہی تھی۔ اْس نے مجھ سے کہا، ‘‘یہ پتنگ بھی اب نیٹ سے کنٹرول ہوتی ہے!’’
    میں مسکرا دی۔ ‘‘اور تم؟ تمہیں کون کنٹرول کرتا ہے؟’’
    وہ ہنسی، اور بھاگ گئی۔
    شاید یہی بیجنگ کا حسن ہے یہ سوالوں کا شہر ہے، جوابوں کا نہیں۔
    رات کو واپس ہوٹل آ کر میں نے دوبارہ اپنی ڈائری کھولی اور لکھا
    ‘‘بیجنگ وہ خواب ہے، جو مصنوعی ذہانت سے بْنا گیا ہو، اور دادی اماں کی گود میں جا کر تعبیر پاتا ہو۔ یہاں دیواریں سنتی ہیں، مشینیں بولتی ہیں، اور انسان…؟ وہ اب بھی صرف محسوس کرتا ہے۔’’
    میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ شہر کے آسمان پر نیون روشنیوں نے پھر سے ایک اڑدہے کی صورت اختیار کر لی تھی۔ شاید تہذیب کی نئی صورت… شاید بیجنگ کا اصل چہرہ۔ اور میں؟
    میں تو ابھی آئینے میں جھانک رہی تھی۔ یہاں رہتے ہوئے ایک بات جو ہمیشہ دل کو چھو جاتی ہے کہ ‘‘یہاں ترقی نے فطرت کا دامن نہیں چھوڑا بلکہ اسے ساتھ لے کر چلی ہے…
    دن چڑھتے ہی میں نے محسوس کیا کہ بیجنگ اب صرف تاریخ یا ٹیکنالوجی کا شہر نہیں رہا۔ یہ فطرت کا ہمراز بھی ہے۔ کھڑکی سے جھانکا تو سورج کی کرنیں کسی خاموش عبادت کی طرح سولر پینلز پر اتر رہی تھیں۔ ہوٹل کی چھت پر لگے سیاہ چمکتے پینل گویا آسمان سے دعا وصول کر رہے تھے، اور زمین کی گود میں روشنی کا صدقہ اتار رہے تھے۔
    میری اگلی منزل ‘‘یانگ زہو سولر سٹی’’ کے ایک ماڈل ٹاؤن کی سیر تھی، جو بیجنگ سے باہر چند گھنٹوں کی مسافت پر تھا۔ ایک خودکار الیکٹرک بس نے مجھے اپنی آغوش میں لیا۔ کوئی شور نہیں، کوئی دھواں نہیں۔ جیسے ہوا کے بازو پر سفر ہو رہا ہو۔ راستے میں سبز پہاڑ، بامبو کے جھنڈ، اور ان کے بیچ چھپی ہوئی سولر پلیٹس، جن کی سطح پر سورج خود کو تکتے ہوئے مسکرا رہا تھا۔
    میں نے نوٹ کیا کہ سڑک کنارے لگے درختوں کے نیچے چھوٹے چھوٹے روبوٹ صفائی کرتے پھرتے تھے۔ ایک راہگیر نے مجھے بتایا
    ‘‘یہ صرف صفائی نہیں کرتے، ان میں فضائی آلودگی کو جذب کرنے والے مائیکرو فلٹر بھی لگے ہیں۔’’ میں حیرت سے سن رہی تھی، جیسے کوئی قدرت اور ٹیکنالوجی کی محبت کی کہانی سنا رہا ہو۔
    سولر سٹی میں پہنچ کر مجھے لگا جیسے کسی سائنسی خواب کا منظر ہوں۔ ہر گھر کی چھت پر سورج کی گود سے آئی روشنی کے خزانے سجے تھے۔ بچوں کا اسکول بھی ایک سبز عمارت تھی، جو دن کی روشنی سے اپنی بجلی خود پیدا کرتا، اور بارش کے پانی کو جمع کرکے پودوں کو سیراب کرتا تھا۔
    ایک بزرگ خاتون سے ملاقات ہوئی۔ چہرے پر جھریاں اور ہونٹوں پر تبسم۔ وہ ایک چھوٹے باغ میں کام کر رہی تھیں، جہاں روبوٹک آبیاری نظام لگا تھا۔ میں نے پوچھا،
    ‘‘آپ جیسے سادہ سے دیہی لوگ اس سب میں گھبرا تو نہیں جاتے؟’’
    وہ بولیں،
    ‘‘ہم نے تو صدیوں تک آسمان دیکھا ہے بیٹی، اب اگر آسمان ہم پر مہربان ہو گیا ہے، تو اس سے ڈرنے کا کیا فائدہ؟’’
    میں نے سوچا ‘‘یہاں سورج صرف روشنی نہیں دیتا، یہ شناخت بن چکا ہے۔ ہر چھت پر اس کا ایک عکس، ہر دیوار پر اس کا نشان… گویا سورج نے شہر کے باسیوں سے وعدہ کیا ہو کہ میں تمہیں جلاتا نہیں، سنوارتا ہوں۔’’
    واپسی پر بس میں بیٹھے بیٹھے میں نے ایک چھوٹے بچے کو دیکھا اس کے اسکول بیگ پر لکھا تھا:
    ?‘‘Green is not a colour, it’s our future.’’

    میں مسکرا دی۔ بیجنگ اب صرف ماضی کا فخر یا مستقبل کی دوڑ نہیں، بلکہ حال میں سانس لیتا ہوا ایک شعور ہے ایسا شعور جو یہ جان چکا ہے کہ اگر ترقی کرنی ہے، تو درختوں کا ہاتھ تھام کر، اور ہوا سے دوستی کر کے۔ یہ خیال ابھی دل کی زمین پر شبنمی حروف کی طرح چمک ہی رہا تھا کہ اسٹیشن کے لاو?ڈ اسپیکر نے آگے بڑھنے کا اشارہ دے دیا۔ میں نے ڈائری بند کی، سانس میں درختوں کی مہک سمیٹی، اور مستقبل کی پٹری پر قدم رکھا وہاں جہاں ہوا اور الگورتھم بغل گیر ہوتے ہیں۔
    میری اگلی منزل ہانگڑو تھی۔ بلٹ ٹرین کے شیشوں سے باہر دوڑتے مناظر یوں بدلتے رہے جیسے کسی جادوئی ورق گر کتاب کے صفحے پلٹ رہے ہوں۔ چند ہی گھنٹوں میں میں نے خود کو ہانگڑو کے جدید اسٹیشن پر پایا، جہاں پلیٹ فارم پر اترتے ہی ایک نامعلوم سی روشنی نے میرا استقبال کیا۔ کوئی سویچ تلاشنے کی ضرورت نہ پڑی۔ سینسر نے میری آہٹ محسوس کی اور دھیمی نارنجی لائٹ نے میرے تھکے قدموں کو آہستہ آہستہ آگے بڑھنے کا راستہ دکھایا۔ یہ شہر تھا مگر خواب کی سطح پر تیرتا ہوا۔ ایسا خواب جس میں جاگنے کا اختیار بھی کسی خفیہ الگورتھم کے پاس تھا۔
    ہانگڑو کے ‘‘سٹی برین’’ کنٹرول روم تک پہنچنے کے لیے میں نے محض ایک کیو آر کوڈ اسکین کیا۔ بس کے دروازے نے پاس آ کر خود کو میرے قد کی مناسبت سے جھکا لیا، جیسے کوئی پرانا نوکر شرفاء￿ کی تعظیم میں سر جھکاتا ہے۔ کھڑکی سے باہر دیکھتی تو محسوس ہوتا تھا کہ سڑکیں سانس لیتی ہیں۔ ٹریفک لائٹس اپنے رنگ مسافروں کے ہجوم اور رفتار کو پڑھ کر بدلتی تھیں۔ ایک لمحے کو میری نظر سامنے اشارے پر رکی سرخ سے ہرا ہونے میں صرف اتنا وقفہ لگا جتنا میں نے اپنی پلک جھپکی۔ میں نے دل ہی دل میں کہا ‘‘یہاں وقت بھی شاید کسی سرور پر اَپ لوڈ ہے، جہاں لیٹ ہونے کا کوئی بہانہ باقی نہیں رہتا۔’’
    سٹی برین کے وسیع ہال میں داخل ہوتے ہی دیوار پر لگی دیوہیکل اسکرین گویا شہر کی دھڑکن کا گراف بن گئی۔ کہیں ٹریفک کے بہاؤ کے نیلے دھبّے، کہیں شہری حدِ رفتار کے سرخ نقطے، کہیں بارش کی آمد کے سنہری پھوار کی پیش گوئیاں۔ ایک انجینئر نے مسکرا کر بتایا ‘‘ہم نے شہر کو پڑھنا سیکھ لیا ہے اب یہ خود ہمیں پڑھاتا ہے۔’’ یہْ سْن کر میں نے سوچا، شاید یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کی عقل اور شہر کی عقل ایک دوسرے کو آئینہ دکھاتی ہیں۔
    شام ڈھلے میں ‘‘قِیان جیان نیو ٹاؤن’’ کی جانب نکل پڑی۔ یہاں ہر سڑک کے کنارے ننھے روبوٹ کوڑے دان سے کچرا چن رہے تھے۔ کوئی چیخا نہیں، کوئی ٹرک کا شور نہیں۔ بس پہیوں کے نرم سرسرانے کی آواز، اور کبھی کبھار کسی روبوٹ کی خفیف سی ونڈ چلڈ نوٹفکیشن۔ ایک بوڑھی خاتون راستہ پار کرتی دکھائی دیں۔ اسمارٹ زیبرا کراسنگ نے اْن کے چلنے کی رفتار کو پہچانا اور پورا ٹریفک روکے رکھا، یہاں تک کہ وہ مسکراتی ہوئی دوسری طرف پہنچ گئیں۔ میرے لیے یہ منظر اور بوڑھی خاتون کا احترام محبت اور اپنائیت کا خوبصورت لمحہ تھا شاید یہاں رْک جانا بھی رفتار کا حصہ ہے اور مہلت بھی ٹیکنالوجی کی مہربانی ہے۔
    رات کو ویسٹ لیک کے کنارے کھڑی ہوئی تو پانی پر چاند کی پرچھائیں کے ساتھ رنگ بدلتی ایل ای ڈی فوارے جھلملا رہے تھے مگر فطرت خفا نہ تھی۔ ہر رنگ وسطِ جھیل میں عین اتنا چمکتا جتنا اردگرد بانس کے جھنڈ برداشت کر سکتے تھے۔ میں نے ہوا میں نمی اور الگورتھم کی ملی جلی
    خوشبو محسوس کی جیسے چائے کی پیالی میں کسی نے ڈیٹا کی چٹکی شامل کر دی ہو۔
    واپسی کے وقت موبائل ایپ نے میری رائیڈ خود منتخب کی اور بل کی ادائیگی بھی۔ میں نے غیر ارادی طور پر پرس کھولنا چاہا ، پھر ہنس دی یہ عمل اب کتابوں میں رہ گیا تھا۔ ہوٹل کی لابی میں داخل ہوئی تو بتیاں یکایک روشن ہو گئیں۔ لگتا تھا روشنی نے میرے اندر کے اندھیرے کو بھی پڑھ لیا ہو۔ ‘‘ ہانگڑو عالمِ خواب کی وہ گلی ہے، جہاں بٹن نہیں دبائے جاتے، ارادے پڑھ لیے جاتے ہیں اور شہر، جسے کبھی چین کے باسیوں نے بسایا تھا، اب خود بستیاں بساتا پھرتا ہے۔’’
    ہانگڑو سے بیجنگ کی جانب سفر کرتے ہوئے میں نے اپنے سفریہ لمحوں کے ورق تہہ کرتے ہوئے محسوس کیا کہ ہر شہر نے میرے ہاتھ پر الگ الگ خطوط کھینچے، مگر جب انہیں جوڑا تو ایک ہی نقشہ بنا۔ وہ نقشہ جس میں ماضی، حال اور مستقبل ایک دوسرے کے بازو تھامے کسی طویل قوس کی صورت کفِ دست پر جھولتے ہیں۔ ممنوعہ شہر کے سرخ دروازوں سے لے کر ہانگڑو کے شفاف سینسر تک، میں نے دیکھا کہ تاریخ کبھی مرس نہیں ہوتی؛ وہ بس اپنا لبادہ بدلتی ہے اور اگلے پڑاؤ کے راستے پر کھڑی ہو کر ہمیں پکارتی رہتی ہے۔
    بیجنگ نے مجھے سکھایا کہ اینٹ اور الگورتھم میں دشمنی نہیں؛ وہاں شہنشاہ کے خاموش ستونوں کے نیچے چہرہ شناس مشینیں دھڑکتے دل کی رفتار سے مسافروں کو سلام کرتی ہیں۔ پھر سولر سٹی کے سنہری پینل آئے، جہاں سورج نے ثابت کیا کہ وہ محض جلانے والا ستارہ نہیں، بلکہ زمین کے زخموں پر پھایا بھی رکھ سکتا ہے۔ اور آخر میں ہانگڑو وہ خوابوں کا سمارٹ شہر جہاں لائٹس خود بیدار ہوتی ہیں، کچرا خود غائب ہو جاتا ہے، اور سڑکیں سانس لیتی ہیں؛ وہاں انسان کے ہاتھ میں صرف ایک ایپ رہ جاتی ہے، مگر دل کی جیب میں پورا جہاں۔
    ان سب مناظر کے بیچ میں نے محبت کو دیکھا وہ محبت جو دیوارِ چین کی صدیوں پرانی اینٹوں میں بھی چھپی تھی، اور سٹی برین کے شیشے جیسے نیورونز میں بھی۔ ایک بوڑھی دیہاتی عورت کے ہاتھوں میں بیجوں کی تھیلی اور سٹی برین کے انجینئر کے ہاتھوں میں ڈیٹا کی پوٹلی دونوں ایک ہی دعا مانگتے تھے: ‘‘زمین بے خوف سانس لے، اور انسان بے وجہ بھاگے نہیں۔’’
    یقینا اگر ٹیکنالوجی کو فطرت کا دل مل جائے اور فطرت کو ٹیکنالوجی کی عقل، تو شہر صرف شہر نہیں رہتے وہ آغوش بن جاتے ہیں۔’’
    مجھے لگتا ہے بیجنگ، ہانگڑو، شینڑین یہ سب آغوشیں ہیں، جہاں بچے روبوٹ کے ساتھ کھیلتے ہیں اور درخت الگورتھم کی لوری پر جھومتے ہیں۔ یہاں ترقی نے کبھی فطرت کا دامن نہیں چھوڑا، بلکہ اس کے بدن پر سبز دوپٹا ڈال کر ساتھ چل پڑی ہے۔ میں نے وہ دوپٹا ہوا میں لہراتے دیکھا اور جان لیا کہ شاید یہی نئے زمانے کا جمال ہے جہاں سکرین کی نیلی روشنی اور پتے کی سبز نمی ایک دوسرے کو بوسہ دے سکتی ہے۔
    اب میں رختِ سفر لپیٹتی ہوں۔ بلٹ ٹرین کی روانگی کا اعلان ہوا چاہتا ہے، مگر دل کے پلیٹ فارم پر کوئی جلدی نہیں۔ میں جانتی ہوں آنے والے دنوں میں جب کبھی میری آنکھیں دھندلا جائیں گی، تو یہ شہر اپنے سولر چراغ جلا کر میرے اندر کا اندھیرا دور کر دیں گے۔ اور تب میں ہنس کر کہوں گی ‘‘میں نے دیواروں کو بولتے، سڑکوں کو چلتے اور سورج کو محبت کرتے دیکھا ہے اب مجھے تنہا ہونے کا خوف نہیں۔
    یہ سفر ختم ہوا، پر کہانی باقی ہے۔ جو بھی مسافر دل میں سوال لے کر بیجنگ کے آئینے میں جھانک کر دیکھے: وہاں اسے اپنا چہرہ نہیں، انسانیت کا مشترکہ پرتو ملے گا ایک ایسا پرتو جو کہتا ہے۔ ہم سب ایک دوسرے کے ہاتھ کی لکیر میں لکھے ہوئے شہر ہیں اگر ہاتھ تھام لیں تو راستے خود
    روشن ہو جاتے ہیں۔

  • عبدالحئی بشارت کے شعری مجموعہ کی تقریب رونمائی اور مشاعرہ

    عبدالحئی بشارت کے شعری مجموعہ کی تقریب رونمائی اور مشاعرہ

    میٹرو ا ادبی فورم ( کینیڈا) کے زیر اہتمام تقریب پذیرائی و مشاعرہ شعری مجموعہ (چلتے رہنا) شاعر عبدلحئی بشارت ، تقریب کا انعقاد ٹورنٹو کے مقامی ریسٹورنٹ کے پارٹی ہال میں کیا گیاتقریب کی مسند صدارت پر امریکا سے تشریف لائے نظم کے ممتاز شاعر اور امریکا میں ادب و زبان کے فروغ کے تعلق سے جانی پہچانی شخصیت جناب باسط جلیلی جلواہ افروز رہے،جبکہ مہمانان خصوصی میں نوجوان نسل کی نمایندہ شاعرہ جنہیں خصوصی طور پر امریکا سے مدعو کیا گیا یاد رہے کہ حمیرا گل تشنہ کینڈا کے ادبی حلقوں میں اپنی شاندار شاعری کے سبب بیحد پسند کی جاتی ہیں ، اسی طرح مہمانان خصوصی میں کینڈا سے اردو اخبار پاکستان ٹائم کے چیف، محمد ندیم شامل تقریب رہے محمد ندیم نہ صرف کینڈا سے اردو اخبار شائع کرتے ہیں بلکہ زبان و ادب کی خدمات کے تعلق سے ان کی کاوشات اہل کینڈا پر عیاں ہیں ،صدر تقریب اور مہمانان خصوی کے علاوہ
    جن احباب کو مسند پر مدعو کیا گیا ان میں ممتاز شاعرہ اسما ناز وارثی اور آصف جاوید شامل رہے اسماناز وارثی نے صاحب اعزاز اور صاحب کتاب (چلتے رہنا) پر تادیر گفت گو فرمائی ان کے اظہار خیال کو خوب پسند کیا گیا اور سامعین نے خوب داد سے نوازہ
    آصف جاوید جن کا کینیڈا میں قیام کم و بیش ۳۵ برس سے ہے، آصف جاوید نہ صرف صحافی ہیں بلکہ ٹی وی چینل پر میزبانی کے فرائض بھی ادا کرتے ہیں، اور دنیا بھر میں رہنے والے احباب انہیں ان کی سالانہ دعوت حلیم کے تعلق سے بھی جانتے ہیں آصف جاوید کینڈا میں سالانہ سب سے بڑی دعوت حلیم کا اہتمام کرتے ہیں ان کی دعوت حلیم میں تمام مکاتب فکر سے وابسطہ احباب ہزاروں کی تعداد میں اپنی شرکت یقین بناتے ہیں اور کینڈا میں مقیم احباب ان کی سالانہ دعوت حلیم کے منتظر رہتے ہیں۔ آصف جاوید نے صاحب کتاب اور کتاب پر شاندار گفت گو فرمائی اور صاحب کتاب کو مبارک باد پیش کی، تقریب کے دوسرے حصے میں مشاعرے کا اہتمام کیا گیا مشاعرے میں امریکا اور ٹورنٹو سے اہم شعرا کو مدعو کیا گیا مشاعرے میں شریک شعرا کرام کے اسم گرامی: صدر مشاعرہ باسط جلیلی مہمانان خصوصی حمیرا گل تشنہ، محمد ندیم، مہمانان اعزاز میں جمیل قمر، اسماناز وارثی ، قیصر وجدی رفیع رضا، ندیم رشید، منیف اشہر، بشارت ریحان،سلمان اطہر، ڈاکٹر صغیر، ڈاکٹر عظمی محمود، فیصل عظیم، توقیر اے خان، بابر عطا، سلیم افتخار بیگ ، صبیحہ خان صبیحہ ، انصر قریشی ،بشری سعید، خالد و بیگم خالد و دیگر نے کلام پیش کیااختام مشاعرہ باسط جلیلی نے صاحب کتاب بشارت عبدحئ کو اشاعت مجموعہ پر مبارک باد پیش کی اور اپنا شاندار کلام پیش کیا، کینینڈا کی ہر دل عزیز شخصیت اور کئی ادبی تنظیموں کے ڈائریکٹر باکمال شاعر بشارت ریحان ، نے صاحب کتاب کو مبارک باد پیش کی اور میٹرو ۱ ادبی فورم کے کارکن قیصر وجدی کو شاندار تقریب کے انعقاد پر خوب سراہا، اختام تقریب میٹرو ۱ ادبی فورم کی جانب سے مہمانان کی خدمت میں شاندار پرتکلف و پر ذائقہ عشائیہ پیش کیا گیا، میٹرو ۱ ادبی فورم سے وابسطہ قیصر وجدی، نے میٹرو ۱ نیوز کے ڈائرکٹر امیر علی چانڈیو، اور سی ای او عامر مسعود شیخ کے تعاون کا شکریہ ادا کیااور کہا کہ میٹرو ۱ ادبی فورم آئندہ بھی ادبی تقریبات کا انعقاد یونہی جاری رکھے گا اور کہا کہ ادبی تقریبات کا انعقاد ہمارا کاروبار نہیں عبادت ہے، اس خوبصورت اظہار خیال کے بعد تقریب پذیرائی و مشاعرہ اپنی شاندار یادوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوا