اسلام آباد (ویب ڈیسک )پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی پر افسوس کا اظہار کیا۔پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی ٹیم کی ناقص پرفارمنس کا مجھے بہت دکھ ہے۔
محسن نقوی نے کہا انگلینڈ میں جو کچھ کیا، ضروری تھا، پرفارمنس کےعلاوہ دیگر معاملات ہیں، فی الحال اسے دیکھ رہے ہیں۔محسن نقوی کاکہنا تھا ابھی وقت نہیں کرکٹ کے علاوہ بات کروں، تنقید سے نہ گھبرایا ہوں ناگھبراتاہوں، ان کی تنقید سےکوئی فرق نہیں پڑتا جنہوں نےخود کچھ نہیں کیا۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے
Blog
-

قومی کرکٹ ٹیم کی ناقص پرفارمنس کا مجھے بہت دکھ ہے،محسن نقوی
-

وزیر اعظم کا دورہ کرغزستان مکمل، کرغز صدر خود گاڑی چلا کر شہباز شریف کو ائیرپورٹ لائے
بشکیک(ویب ڈیسک ) وزیراعظم شہبازشریف دورہ کرغزستان مکمل کرکے پاکستان کیلئے روانہ ہوگئے۔کرغزستان کے صدر خود گاڑی چلا کر شہباز شریف کو ائیرپورٹ لائے اور انہیں الوداع کیا۔اعلامیے کے مطابق صدرکرغزستان کا ائیرپورٹ پر الوداع کرنے آنا مثالی مہمان نوازی اور مضبوط تعلقات کا اظہارہے، صدر ژاپاروف کا شہباز شریف کو ائیرپورٹ پرالوداع کرنابرادرانہ تعلقات میں نئی جہتوں کا اضافہ ہے۔دوسری جانب ائیرپورٹ پر گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان اچھے تعلقات ہیں، کرغزستان میں مثبت ملاقاتیں ہوئیں اور تجارت بڑھانے پر اتفاق ہوا۔وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ کرغزستان کے ساتھ تجارت کو 16 ملین ڈالر سے بڑھانے کی تجویز پیش کی ہے، دوطرفہ تجارت کو 2 سال میں 200 ملین ڈالرتک لے جانے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

اسمبلیاں چاہیں گی تو دو تہائی اکثریت سے صوبے بن جائیں گے: اعظم نذیر
لندن (ویب ڈیسک ) وفاقی وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ نے کہا ہےکہ صوبائی اسمبلیاں اورپارلیمنٹ چاہیں گی تو دو تہائی اکثریت سےنئے صوبے بھی بن جائیں گے۔لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیرتارڑ نے کہا کہ آزاد کشمیر میں سب سے بڑا مسئلہ انتخابات کرانا تھا، آزادکشمیر میں انتخابات پرامن اورشفاف ہوئے۔صوبوں سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جب صوبائی اسمبلیاں اورپارلیمنٹ چاہیں گی دو تہائی اکثریت سےنئے صوبے بھی بن جائیں گے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ وزیراعظم کئی مرتبہ اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں، آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کا انتخاب کرنے کا حق نواز شریف کو تھا۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

محققین کا حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی ممکنہ دریافت کا دعویٰ
استنبول (ویب ڈیسک )سائنسدانوں کی جانب سے ترکیہ کے پہاڑی سلسلے میں ایک کشتی نما ساخت کے حوالے سے تحقیق کی جا رہی ہے اور ان کے خیال میں اس جگہ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی موجود ہوسکتی ہے۔برطانوی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ترکیہ کے کوہ ارارات کے قریب دوروپینار نامی مقام میں کشتی نما ساخت کے حوالے سے بین الاقوامی ماہرین کی جانب سے تحقیقی کام کیا جارہا ہے۔ان ماہرین نے وہاں کی مٹی کے اندر کاربن کی موجودگی کو دریافت کیا ہے جبکہ اسی پہاڑی سلسلے میں چند گز کی دوری کے مٹی کے نمونوں میں یہ عنصر دریافت نہیں ہوا۔محققین کے مطابق اس سے ایسے نامیاتی مواد کی موجودگی کا عندیہ ملتا ہے کہ جو کہ قدیم لکڑی کے باقیات کا نتیجہ ہوسکتا ہے مگر فی الحال کسی قسم کی لکڑی کو دریافت نہیں کیا جاسکا۔اس پہاڑی سلسلے کے نئے ریڈار اسکینز میں بھی زیرزمین ایسے اشارے ملے ہیں جو قدرتی پہاڑی اسٹرکچر سے مطابقت نہیں رکھتے۔اس مقام میں حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی موجودگی کے بارے میں قیاس آرائی 1959 سے کی جا رہی ہے جب وہاں کی فضا سے لی جانے والی تصاویر سامنے آئی تھیں۔مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مئی 1948 میں شدید بارشوں اور زلزلوں کے نتیجے میں اس خطے کے اردگرد موجود مٹی بہہ گئی تھی جس کے نتیجے میں یہ پراسرار ساخت سامنے آئی، جسے ایک چرواہے نے دریافت کیا۔محققین کی جانب سے اس پہاڑی سلسلے کے مختلف حصوں سے مٹی کے ایک ہزار نمونوں اکٹھے کیے گئے اور ان میں کاربن کی موجودگی کی جانچ پڑتال کی گئی۔ان کی جانب سے ریڈار کو سطح سے 20 فٹ نیچے دیکھنے کے لیے استعمال کیا گیا۔محققین کے مطابق مٹی کے نمونوں میں نارمیاتی مواد اور پوٹاشیم کو دریافت کیا گیا جو کہ کسی قدیم لکڑی کی کشتی کی بوسیدہ لکڑی کے باعث متوقع تھا۔البتہ انہوں نے تسلیم کیا کہ ابھی 100 فیصد یہ کہنا ممکن نہیں کہ یہ واقعی کسی قدیم ترین لکڑی کی کشتی کا نتیجہ ہے کیونکہ 5 فیصد امکان یہ ہے کہ اس کی وجہ کچھ اور ہو۔اسی ٹیم نے اگست 2026 میں اس خطے کے ریڈار سروے کے بارے میں اعلان کیا تھا۔اس ٹیم کی جانب سے ڈیٹا کا ابھی بھی تجزیہ کیا جا رہا ہے اور مخصوص لوکیشنز پر ڈرلنگ کی جا رہی ہے کہ تاکہ معلوم ہوسکے کہ مخصوص ساخت کے نیچے کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا تو یہی ماننا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی اسی جگہ موجود ہے مگر پھر بھی ابھی تمام نتائج ابتدائی ہیں اور ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہاں واقعی یہ کشتی موجود ہے۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

قرض کی منڈی سے اعتماد کی منڈی تک پاکستان کی معیشت کا اگلا امتحان تحریر؛شیخ راشد عالم
پاکستان کی معیشت کی تاریخ میں قرض کوئی نیا لفظ نہیں۔ یہ ہماری مالیاتی داستان کا ایسا کردار ہے جو کئی دہائیوں سے مختلف ناموں، مختلف اداروں اور مختلف شرائط کے ساتھ ہمارے ساتھ چلتا آیا ہے۔ کبھی بیرونی امداد کے نام پر، کبھی ترقیاتی قرض کے عنوان سے، کبھی بجٹ سپورٹ اور کبھی کسی ہنگامی ضرورت کے تحت۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ پاکستان قرض لیتا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ قرض لینے کے بعد ملک اس مقام تک پہنچتا ہے یا نہیں جہاں اسے اگلی بار قرض کی ضرورت کم پڑ جائے۔
اب ایک بار پھر پاکستان عالمی مالیاتی منڈی کا دروازہ کھٹکھٹانے کی تیاری کررہا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عالمی کیپٹل مارکیٹس میں واپسی کے منصوبے کا عندیہ دیا ہے۔ حکومت رواں مالی سال ایک سے دو ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کرنے پر غور کررہی ہے، جبکہ سکوک اور یورو بانڈز کے اجرا کے لیے بینکوں کے کنسورشیم بھی مقرر کیے جاچکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ 75 کروڑ ڈالر کے چینی یوان بانڈز، یعنی پانڈا بانڈز، کے اجرا کی تیاری بھی جاری ہے۔
بظاہر یہ محض قرض لینے کی ایک اور کوشش ہے، مگر اس فیصلے کو ذرا گہرائی سے دیکھا جائے تو اس میں پاکستان کی مالیاتی حکمت عملی میں ایک اہم تبدیلی کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ پاکستان کو دوطرفہ قرضوں پر انحصار کم کرکے عالمی کیپٹل مارکیٹس، تجارت اور سرمایہ کاری کی طرف بڑھنا چاہیے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر آنے والے برسوں میں پاکستان کی معاشی سمت کا بڑا حصہ منحصر ہوسکتا ہے۔
عالمی مارکیٹ سے قرض لینا بذاتِ خود کامیابی نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوجائے کہ وہ صرف قرض لینے والا ملک نہیں بلکہ ایک ایسی معیشت ہے جہاں سرمایہ محفوظ بھی ہے، منافع بخش بھی ہے اور طویل مدت کے لیے قابلِ اعتماد بھی۔
یہاں کریڈٹ ریٹنگ کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے ملک کی معاشی صورتحال کو ماضی کے مقابلے میں نسبتا بہتر نظر سے دیکھنے لگے ہیں۔ حکومت اب مزید بہتری، بالخصوص بی پلس اور اس کے بعد ڈبل بی کی سطح تک پہنچنے کا ہدف رکھتی ہے۔ لیکن ریٹنگ میں بہتری صرف اعلانات سے نہیں آتی۔ اس کے لیے مالیاتی نظم و ضبط، پالیسیوں کا تسلسل، زرمبادلہ کے ذخائر، برآمدات میں اضافہ، مہنگائی پر قابو، ٹیکس نظام کی اصلاح اور سب سے بڑھ کر سیاسی و معاشی پالیسیوں میں تسلسل ضروری ہوتا ہے۔
پاکستان کے لیے اصل امتحان بھی یہی ہے۔
ایک طرف حکومت عالمی مارکیٹ سے قرض لینے کی تیاری کررہی ہے، دوسری طرف ملک کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 39.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ یہ اعداد ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ قرض لے کر وقتی مالیاتی ضرورت پوری کرنا آسان ہوسکتا ہے، لیکن درآمدات اور برآمدات کے درمیان بنیادی عدم توازن ختم کرنا کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔
اگر ایک ملک مسلسل اپنی ضرورت سے زیادہ درآمد کرتا رہے اور برآمدات اس رفتار سے نہ بڑھیں تو بیرونی قرض خواہ بدلنے سے مسئلہ ختم نہیں ہوتا۔ قرض خواہ چین ہو، عالمی بانڈ مارکیٹ ہو، کوئی مالیاتی ادارہ ہو یا نجی سرمایہ کار، رقم بہرحال واپس کرنا پڑتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ قرض کی شرائط، شرحِ سود، مدت اور ادائیگی کا طریقہ مختلف ہوسکتا ہے۔
اسی لیے پاکستان کے لیے عالمی کیپٹل مارکیٹ میں واپسی کو محض ایک مالیاتی لین دین کے بجائے ایک بڑے معاشی منصوبے کا حصہ بنانا ضروری ہے۔
امریکا کے ساتھ ممکنہ 10 ارب ڈالر کی سوئپ لائن کے حوالے سے بھی وزیر خزانہ نے پیش رفت کا ذکر کیا ہے اور اسے نجی سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد کا اشارہ قرار دیا ہے۔ پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر توجہ بھی اسی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک اور ڈی ایف سی جیسے ادارے پاکستان میں سرمایہ کاری اور منصوبوں کی فنانسنگ میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ہوگا: امداد اور سرمایہ کاری میں فرق۔
امداد کسی مشکل وقت میں سہارا دے سکتی ہے، لیکن سرمایہ کاری معیشت کو پیداوار، روزگار اور برآمدات کی طرف لے جاسکتی ہے۔ پاکستان اگر واقعی امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری کی طرف منتقل ہونا چاہتا ہے تو اسے صرف قرض لینے کی صلاحیت نہیں بلکہ سرمایہ کھینچنے کی صلاحیت بھی پیدا کرنا ہوگی۔
دنیا کا سرمایہ وہاں جاتا ہے جہاں اسے تین چیزیں نظر آئیں: واضح پالیسی، مناسب منافع اور کم خطرہ۔
پاکستان کے پاس مواقع کی کمی نہیں۔ زراعت، معدنیات، آئی ٹی، فری لانسنگ، ٹیکسٹائل، انجینئرنگ، توانائی، لاجسٹکس اور صنعتی پیداوار ایسے شعبے ہیں جہاں ملک عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بن سکتا ہے۔ لیکن مواقع کو سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کے لیے صرف کانفرنسیں، معاہدے اور اعلانات کافی نہیں۔ کاروباری ماحول کو آسان بنانا، بجلی اور گیس کی قیمتوں کو مسابقتی رکھنا، ٹیکس نظام کو قابلِ فہم بنانا اور سرمایہ کار کو پالیسی کے اچانک بدل جانے کے خوف سے آزاد کرنا ہوگا۔
چین پاکستان کا ایک بڑا قرض خواہ رہا ہے اور پاکستان کے مجموعی غیر ملکی قرض میں چین کا نمایاں حصہ ہے۔ لیکن اب حکومت کا یہ کہنا کہ فی الحال چین سے مزید فنانسنگ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی جارہی، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پاکستان اپنے بیرونی مالیاتی ذرائع میں تنوع پیدا کرنا چاہتا ہے۔
یہ تنوع بظاہر ایک مثبت حکمت عملی ہے۔ کسی بھی معیشت کے لیے بہتر یہی ہوتا ہے کہ اس کے مالیاتی ذرائع محدود نہ ہوں۔ لیکن اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ عالمی بانڈ مارکیٹ سے حاصل ہونے والا قرض عموما مارکیٹ کی شرائط پر ہوتا ہے۔ اگر عالمی سرمایہ کاروں کو خطرہ زیادہ محسوس ہو تو قرض مہنگا ہوجاتا ہے۔ اگر اعتماد بڑھے تو شرحِ سود کم ہوسکتی ہے۔
یوں عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی اصل کرنسی ڈالر یا یورو نہیں، بلکہ اعتماد ہے۔
اگر عالمی سرمایہ کار پاکستان کو ایک مستحکم اور ذمہ دار معیشت سمجھیں گے تو پاکستانی بانڈز کی قیمت بہتر ہوگی، شرحِ سود کم ہوسکتی ہے اور آئندہ فنانسنگ نسبتا آسان ہوجائے گی۔ لیکن اگر انہیں خدشہ ہو کہ ملک دوبارہ مالیاتی بحران، زرمبادلہ کی کمی یا پالیسی کے عدم تسلسل کا شکار ہوسکتا ہے تو پاکستان کو زیادہ قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
اسی لیے موجودہ مرحلے کو ایک موقع بھی سمجھنا چاہیے اور وارننگ بھی۔
موقع اس لیے کہ پاکستان دوبارہ عالمی مالیاتی نظام میں زیادہ فعال کردار حاصل کرسکتا ہے۔ وارننگ اس لیے کہ قرض کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم اگر صرف پرانے قرض اتارنے، بجٹ خسارہ پورا کرنے یا درآمدی دبا وبرقرار رکھنے میں خرچ ہوگئی تو چند سال بعد یہی بحث ایک نئے قرض کے ساتھ دوبارہ شروع ہوسکتی ہے۔
پاکستان کو اب قرض لینے کی معیشت سے پیداوار کرنے کی معیشت کی طرف بڑھنا ہوگا۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیرونی قرض ہمیشہ برا ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتیں بھی قرض لیتی ہیں۔ فرق یہ ہے کہ وہ قرض کو ایسی سرمایہ کاری میں استعمال کرتی ہیں جو مستقبل میں آمدنی پیدا کرتی ہے۔ اگر ایک ملک سڑک، بندرگاہ، توانائی، صنعت، ٹیکنالوجی یا برآمدی صلاحیت بڑھانے کے لیے قرض لے اور اس سرمایہ کاری سے مستقبل میں ڈالر کمائے تو قرض معیشت کے لیے بوجھ کے بجائے ذریعہ بن سکتا ہے۔
لیکن اگر قرض صرف آج کی ضرورت پوری کرنے کے لیے لیا جائے اور کل کی آمدنی بڑھانے کا کوئی منصوبہ نہ ہو تو قرض ایک ایسا دائرہ بن جاتا ہے جس سے نکلنا مشکل ہوتا جاتا ہے۔
پاکستان کے لیے یورو بانڈز، سکوک اور پانڈا بانڈز کا اجرا اسی بڑے سوال کے گرد گھومتا ہے: ہم قرض کہاں خرچ کریں گے؟
یہ سوال ہر قرض کے ساتھ پوچھا جانا چاہیے۔
اگر اس رقم سے برآمدی صنعت کو وسعت ملتی ہے، توانائی کے مسائل حل ہوتے ہیں، آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئی صلاحیت پیدا ہوتی ہے، بندرگاہیں اور لاجسٹکس بہتر ہوتے ہیں اور مقامی پیداوار بڑھتی ہے تو اس قرض کا معاشی جواز مضبوط ہوگا۔
لیکن اگر یہ رقم صرف مالیاتی خلا پر کرنے میں استعمال ہوتی رہی تو عالمی مارکیٹ میں واپسی بھی پاکستان کے بنیادی مسئلے کا مستقل حل نہیں بن سکے گی۔
آنے والے وقت میں پاکستان کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ملک نے کتنے ارب ڈالر قرض حاصل کرلیا۔ اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان نے کتنے ارب ڈالر کمانے کی صلاحیت پیدا کی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں برآمدات، ٹیکس اصلاحات، توانائی، صنعتی پالیسی اور سرمایہ کاری ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ حکومت اگر ایک طرف عالمی مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کرے اور دوسری طرف ملک کے اندر کاروبار، صنعت اور برآمدات کے لیے ماحول بہتر بنائے تو دونوں پہیے ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔
ورنہ ایک ہاتھ سے قرض لینا اور دوسرے ہاتھ سے درآمدی بل بڑھاتے رہنا ایک ایسی دوڑ ہوگی جس کی منزل کہیں دکھائی نہیں دے گی۔
پاکستان کے پاس آج ایک نادر موقع ہے۔ عالمی سرمایہ کار پاکستان کو دوبارہ دیکھ رہے ہیں، کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کے آثار ہیں، حکومت عالمی کیپٹل مارکیٹ میں واپسی چاہتی ہے اور امریکا، چین سمیت مختلف عالمی شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو نئے انداز میں آگے بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
لیکن یہ موقع صرف اسی وقت کامیابی میں تبدیل ہوگا جب پاکستان مالیاتی استحکام کو حقیقی معاشی ترقی سے جوڑ دے۔
ہمیں ایسی معیشت نہیں چاہیے جسے ہر چند سال بعد نیا قرض درکار ہو۔ ہمیں ایسی معیشت چاہیے جو قرض کو آخری سہارا اور سرمایہ کاری کو پہلا انتخاب بنائے؛ جو درآمدات کے لیے ڈالر مانگنے کے بجائے برآمدات کے ذریعے ڈالر کمائے؛ جو بیرونی امداد کا انتظار کرنے کے بجائے عالمی سرمایہ کاروں کو اپنے دروازے تک لائے۔
پاکستان کی اگلی معاشی کہانی شاید کسی ایک بانڈ، کسی ایک سوئپ لائن یا کسی ایک قرض سے نہیں لکھی جائے گی۔ یہ کہانی اس بات سے لکھی جائے گی کہ ہم نے قرض کو کتنا دانش مندی سے استعمال کیا، سرمایہ کار کو کتنا اعتماد دیا اور اپنی معیشت کو کتنا خود کفیل بنایا۔
عالمی مارکیٹ میں واپسی ایک اچھی خبر ہوسکتی ہے، مگر اصل منزل عالمی مارکیٹ سے قرض لینا نہیں، عالمی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات، خدمات اور سرمایہ کاری کے مواقع فروخت کرنا ہے۔
پاکستان کو اب قرض کی منڈی میں صرف ایک قرض خواہ کے طور پر نہیں، بلکہ ایک قابلِ اعتماد، پیداواری اور سرمایہ کاری کے قابل ملک کے طور پر اپنی شناخت بنانا ہوگی۔ یہی وہ تبدیلی ہے جو آج کے قرض کو کل کی طاقت میں بدل سکتی ہے۔ -

سانحہ پمز کے بعد چند گھنٹوں میں مصطفیٰ کمال نے استعفیٰ دیا، وزیراعظم نے منظور نہیں کیا
اسلام آباد:(ویب ڈیسک ) انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں ہونے والی جان لیوا آتشزدگی کے چند ہی گھنٹوں میں وزیراعظم شہباز شریف کو تحریری طور پر اپنا استعفیٰ پیش کر دیا تھا، تاہم وزیراعظم نے استعفیٰ قبول کرنے کے بجائے انہیں انکوائری مکمل ہونے تک عہدے پر برقرار رہنے کی ہدایت کی۔
ذرائع نے بتایا کہ وفاقی وزیر نے 26 اگست کو پیش آنے والے سانحے (جس میں پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 14 نومولود جاں بحق ہوگئے تھے) کے فوراً بعد وزیراعظم آفس کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق، استعفیٰ تحریری طور پر پیش کیا گیا اور واقعے کے چند گھنٹوں کے اندر وزیراعظم کو اس سے آگاہ کر دیا گیا۔ تاہم، وزیراعظم شہباز شریف نے اسے قبول نہیں کیا اور اس کے بجائے وزیر صحت کو ہدایت کی کہ وہ سانحے کی وجوہات معلوم ہونے اور ذمہ داری کا تعین کرنے کیلئے قائم کی گئی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کریں۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیر صحت کو یہ بھی کہا گیا کہ انکوائری جاری رہنے کے دوران استعفے کو منظر عام پر نہ لایا جائے۔ یہ اطلاع اس لیے اہم ہے کہ حکومت نے سانحے کے فوراً بعد وفاقی سیکریٹری صحت محمد اسلم غوری کیخلاف کارروائی کی، جبکہ مصطفیٰ کمال بدستور اپنے عہدے پر فائز رہے اور بعد ازاں پارلیمنٹ اور میڈیا کے سامنے حکومت کے احتساب کے عزم کا دفاع بھی کیا۔
رابطہ کرنے پر مصطفیٰ کمال نے اس سوال پر تبصرے کی درخواست کے پیغامات کا جواب نہیں دیا کہ آیا انہوں نے استعفیٰ پیش کیا تھا اور آیا وزیراعظم نے اسے قبول کرنے سے انکار کیا۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم سے وابستہ اعلیٰ حکام سے بھی ان کا مؤقف جاننے کیلئے رابطہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایسے کسی استعفے کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔
وزیر صحت اس کے بعد سے پمز سانحے کی انکوائری کی عوامی طور پر حمایت کرتے رہے ہیں اور بارہا کہتے رہے ہیں کہ ذمہ دار افراد کو نہیں بخشا جائے گا۔ سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ اس واقعے کو ایسا ’’چند روز کیلئے جاری رہنے والی قسط‘‘ بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور انہوں نے احتساب کے ساتھ صحت کے شعبے میں وسیع تر اصلاحات کا مطالبہ کیا۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعظم پہلے ہی عبوری انکوائری رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد پمز کے اعلیٰ حکام کیخلاف کارروائی کا حکم دے چکے ہیں۔ پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور چلڈرن اسپتال اور مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کے اعلیٰ حکام سمیت 8؍ افسران کو معطل کرنے کا حکم دیا گیا جبکہ ان کیخلاف فوجداری کارروائی کی بھی ہدایت کی گئی۔
عبوری رپورٹ میں اسپتال کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں نوزائیدہ بچوں کی نرسری کیلئے آگ لگنے اور انخلاء سے متعلق تفصیلی اور مناسب طور پر مشق شدہ طریقۂ کار کا نہ ہونا بھی شامل ہے۔
رپورٹ میں آگ لگنے کے درست مقام اور وجہ کا تعین کرنے کیلئے مزید تکنیکی اور فرانزک تحقیقات کی بھی سفارش کی گئی۔ وزیر صحت کے مبینہ استعفے نے اس طرح سانحے سے نمٹنے کے حکومتی طریقۂ کار میں ایک اور پہلو کا اضافہ کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر سانحے میں ہلاکتوں کے فوراً بعد عہدہ چھوڑنے کیلئے تیار تھے، تاہم وزیراعظم نے ذمہ داری کا تعین جاری انکوائری کے ذریعے ہونے تک انہیں عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم، سیکریٹری صحت کو مبینہ طور پر معلومات کے بغیر اور قبل از وقت ہٹا دیا گیا۔
Disclaimer
خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگانیزخبر کے مندرجات سےادارے کا
متفق ہونا ضروری نہیں ۔اے آئی یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے -

خبر یا پروپیگنڈا؟ جاپان میں مسلمانوں سے متعلق بڑا جھوٹ تحریر نشید آفاقی
آج کے دور میں خبر تک پہنچنے کے لیے اخبار کے اگلے دن کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ موبائل فون کھولیں اور دنیا بھر کی خبریں چند سیکنڈ میں سامنے آجاتی ہیں۔ یہ سہولت بلاشبہ ایک انقلاب ہے، لیکن اس انقلاب کا ایک خطرناک پہلو بھی ہے۔ اب جھوٹی خبر بھی سچ کی رفتار سے نہیں بلکہ بعض اوقات سچ سے کہیں زیادہ تیزی سے سفر کرتی ہے۔
حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر جاپان کے بارے میں ایک ایسا ہی دعوی گردش کرتا رہا جس نے بہت سے لوگوں کو حیران کردیا۔ مختلف پوسٹس میں کہا گیا کہ جاپان نے مبینہ طور پر اسلام مخالف قوانین نافذ کردیے ہیں، جن کے تحت مساجد، برقع، حلال کھانے اور اذان پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ پوسٹس کا انداز ایسا تھا کہ پڑھنے والے کے لیے فورا جذباتی ردعمل دینا آسان تھا۔ کسی نے غصے کا اظہار کیا، کسی نے جاپان کے بائیکاٹ کی بات کی اور کسی نے اسے مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت کی ایک اور مثال قرار دے دیا۔
لیکن بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا کسی نے اس خبر کی تصدیق بھی کی؟
بین الاقوامی خبر رساں ادارے ریوٹرز کے مطابق جاپان کی وزارت تعلیم، ثقافت، کھیل، سائنس اور ٹیکنالوجی کے ترجمان نے ان دعووں کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ درست نہیں ہیں۔ جاپانی حکام کے مطابق ایسا کوئی قانون یا ضابطہ نافذ نہیں کیا گیا جس کے تحت مساجد، حلال خوراک، برقع یا اذان پر پابندی عائد کی گئی ہو۔
یعنی سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی یہ سنسنی خیز خبر، خبر نہیں بلکہ جھوٹ تھی۔
یہاں معاملہ صرف جاپان کا نہیں بلکہ اس نظام کا ہے جس کے ذریعے آج جھوٹ کو خبر بنا کر دنیا بھر میں پھیلا دیا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں خبر شائع کرنے کے لیے صحافتی تربیت، ادارتی نگرانی، دستاویزات یا متعدد ذرائع کی تصدیق ضروری نہیں۔ ایک شخص چند الفاظ لکھتا ہے، ایک پرانی تصویر یا غیر متعلقہ ویڈیو لگاتا ہے اور ایسا عنوان دے دیتا ہے جو لوگوں کے جذبات کو بھڑکا دے۔ چند افراد اسے شیئر کرتے ہیں، پھر درجنوں اور سینکڑوں لوگ بغیر سوچے سمجھے آگے بھیج دیتے ہیں۔ چند گھنٹوں میں ایک جھوٹ ہزاروں اسکرینوں تک پہنچ جاتا ہے۔
جھوٹ پھیلانے والے کو اکثر اس بات کی ضرورت بھی نہیں ہوتی کہ لوگ اس پر مکمل یقین کریں۔ اسے صرف اتنا چاہیے کہ لوگ اسے آگے شیئر کردیں۔
یہی سوشل میڈیا کی طاقت بھی ہے اور کمزوری بھی۔
جھوٹے دعوے عموما ایسے موضوعات پر بنائے جاتے ہیں جو لوگوں کے جذبات سے براہ راست جڑے ہوں۔ مذہب، قومیت، سیاست، جنگ اور مختلف ممالک کے بارے میں سنسنی خیز دعوے اسی لیے زیادہ تیزی سے پھیلتے ہیں۔ جاپان نے مساجد بند کردیں جیسا جملہ ایک عام خبر سے کہیں زیادہ تیزی سے وائرل ہوسکتا ہے کیونکہ اس میں خبر سے زیادہ جذبات شامل ہوتے ہیں۔
جو شخص اسے پڑھتا ہے، وہ پہلے غصے میں آتا ہے اور بعد میں سوچتا ہے۔
صحافت کا اصول اس کے برعکس ہے۔ صحافت پہلے سوال کرتی ہے، پھر تصدیق کرتی ہے، مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کرتی ہے اور اس کے بعد خبر شائع کرتی ہے۔ لیکن سوشل میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ دنیا میں ترتیب اکثر الٹ ہوتی ہے: پہلے پوسٹ شائع ہوتی ہے، پھر وائرل ہوتی ہے اور اگر کوئی اعتراض کرے تو کہا جاتا ہے کہ ہم نے تو سنا تھا یا کسی نے بھیجا تھا۔
مسئلہ یہ ہے کہ جھوٹ ڈیلیٹ کرنے سے اس کا اثر ہمیشہ ختم نہیں ہوتا۔
ایک غلط خبر ہزاروں یا لاکھوں لوگوں کے ذہن میں ایک تصور پیدا کرچکی ہوتی ہے۔ بعد میں تردید بھی آجائے تو بہت سے لوگ اسے نہیں دیکھتے۔ جھوٹ کی پہلی پوسٹ وائرل ہوجاتی ہے جبکہ سچ کی وضاحت اکثر محدود لوگوں تک پہنچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیک نیوز اب صرف صحافت کا مسئلہ نہیں بلکہ سماجی اور قومی مسئلہ بن چکی ہے۔
جاپان کے معاملے میں حقائق ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔
جاپان کے آئین کا آرٹیکل 20 تمام افراد کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ جاپانی حکام نے واضح کیا ہے کہ مساجد، حلال خوراک، برقع یا اذان پر پابندی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوں کی کوئی قانونی بنیاد نہیں۔ ملک کے مختلف بڑے شہروں میں مساجد موجود ہیں اور مسلمان اپنی مذہبی عبادات انجام دیتے ہیں۔
جاپان کی نیشنل ٹورازم آرگنائزیشن بھی مسلمان سیاحوں کے لیے معلومات اور سہولیات فراہم کرتی ہے۔ مختلف علاقوں میں حلال خوراک کے ریسٹورنٹس، مسلم فرینڈلی سہولیات، مساجد اور مسلمان سیاحوں کے لیے دیگر انتظامات موجود ہیں۔ یہ حقائق اس دعوے سے بالکل مختلف تصویر پیش کرتے ہیں کہ جاپان نے اسلام یا مسلمانوں کے خلاف کوئی ملک گیر پابندی عائد کردی ہے۔
یقینا ہر ملک کے اپنے قوانین اور انتظامی ضابطے ہوتے ہیں۔ مذہبی مقامات، تعمیرات، شور، لباس یا عوامی سرگرمیوں سے متعلق مقامی قواعد بھی ہوسکتے ہیں۔ لیکن کسی مخصوص انتظامی ضابطے کو اٹھا کر اسے اسلام پر مکمل پابندی بنا دینا یا کسی ایک واقعے کو پورے ملک کی پالیسی قرار دینا صحافت نہیں، گمراہ کن پروپیگنڈا ہے۔
یہاں ہمیں ایک اہم حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے: ہر وہ چیز جو سوشل میڈیا پر ہزاروں مرتبہ شیئر ہو، ضروری نہیں کہ سچ ہو۔
شیئرز کی تعداد کسی خبر کی سچائی کا ثبوت نہیں۔ ویوز کی تعداد بھی حقیقت کی ضمانت نہیں اور لاکھوں فالوورز رکھنے والا اکانٹ بھی غلط معلومات پھیلا سکتا ہے۔ حقیقت کا پیمانہ صرف تصدیق ہے۔
اگر کوئی پوسٹ کہتی ہے کہ فلاں ملک نے مسلمانوں کے خلاف نیا قانون نافذ کردیا تو سب سے پہلے سوال ہونا چاہیے کہ قانون کا نام کیا ہے؟ کب نافذ ہوا؟ کس ادارے نے اسے منظور کیا؟ سرکاری اعلامیہ کہاں ہے؟ معتبر عالمی خبر رساں اداروں نے کیا رپورٹ کیا؟ متعلقہ حکومت کا مقف کیا ہے؟
اگر ان سوالوں کا جواب موجود نہیں تو خبر کو فورا آگے بڑھانے کے بجائے رک جانا چاہیے۔
آج تقریبا ہر ملک کی سرکاری ویب سائٹس، وزارتیں، سفارت خانے اور معتبر عالمی خبر رساں ادارے موجود ہیں۔ کسی بڑے قانون یا قومی پالیسی کو مکمل طور پر چھپانا آسان نہیں۔ اگر واقعی جاپان نے مساجد، برقع، حلال خوراک اور اذان پر ملک گیر پابندی لگادی ہوتی تو یہ دنیا بھر کے بڑے اخبارات، ٹیلی ویژن چینلز اور نیوز ایجنسیوں کی اہم خبر ہوتی۔ اسے صرف کسی نامعلوم سوشل میڈیا اکانٹ یا واٹس ایپ فارورڈ کے ذریعے جاننے کی ضرورت نہ پڑتی۔
مگر سوشل میڈیا پر مسئلہ یہ ہے کہ سنسنی اکثر سچ سے زیادہ منافع بخش ہوتی ہے۔
ایک متوازن عنوان شاید محدود تعداد میں لوگ پڑھیں، لیکن مسلمانوں کے لیے بڑا جھٹکا، جاپان نے اسلام پر پابندی لگادی جیسا عنوان لاکھوں کلکس حاصل کرسکتا ہے۔ کلکس سے ویوز آتے ہیں اور ویوز سے شہرت یا مالی فائدہ۔ اسی دوڑ میں بعض لوگ خبر کی سچائی سے زیادہ اس کی وائرل ہونے کی صلاحیت دیکھنے لگتے ہیں۔
یہ رویہ اس لیے خطرناک ہے کہ جھوٹی خبر صرف غلط معلومات نہیں پھیلاتی بلکہ لوگوں کے درمیان نفرت بھی پیدا کرسکتی ہے۔ کسی قوم یا ملک کے بارے میں غلط تصور قائم ہوسکتا ہے، مذہبی جذبات بھڑک سکتے ہیں اور ملکوں کے درمیان موجود فاصلے مزید بڑھ سکتے ہیں۔
اسی لیے سوشل میڈیا صارف اب صرف صارف نہیں رہا، وہ کسی حد تک خبر کا تقسیم کار بھی بن چکا ہے۔
جب ہم کوئی پوسٹ شیئر کرتے ہیں تو دراصل ہم اس کی تشہیر کی ذمہ داری میں حصہ لیتے ہیں۔ اگر خبر سچی ہے تو ہم درست معلومات پھیلاتے ہیں، لیکن اگر جھوٹی ہے تو ہم انجانے میں پروپیگنڈے کا حصہ بن جاتے ہیں۔
اس لیے ضروری ہے کہ شیئر کا بٹن دبانے سے پہلے چند لمحے ضرور سوچیں۔
کیا یہ خبر کسی معتبر ذریعے نے دی ہے؟ کیا اس میں تاریخ اور اصل حوالہ موجود ہے؟ کیا تصویر یا ویڈیو واقعی اسی واقعے کی ہے؟ کیا متعلقہ
حکومت یا ادارے نے اس کی تصدیق کی ہے؟ اور سب سے اہم سوال: کیا یہ خبر میرے جذبات کو اتنا بھڑکا رہی ہے کہ میں سوچنے سے پہلے ہی اسے آگے بھیج دوں؟اگر جواب ہاں ہے تو شاید یہی وہ لمحہ ہے جب رک کر تصدیق کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔
جاپان کے بارے میں مساجد، برقع، حلال کھانے اور اذان پر پابندی کا جھوٹا دعوی ہمیں ایک اہم سبق دیتا ہے۔ ڈیجیٹل دور میں جھوٹ صرف بول کر نہیں پھیلایا جاتا، اسے ڈیزائن کیا جاتا ہے، جذباتی عنوان دیا جاتا ہے اور پھر وائرل ہونے کے لیے سوشل میڈیا کے حوالے کردیا جاتا ہے۔
اس کا مقابلہ صرف حکومتیں یا فیکٹ چیکنگ ادارے نہیں کرسکتے۔ ہر صارف کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنا ہوگی۔ ہمیں خبر پڑھنے کے ساتھ خبر کو پرکھنے کی عادت پیدا کرنا ہوگی۔
کیونکہ آج سب سے بڑا خطرہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس معلومات کم ہیں۔ خطرہ یہ ہے کہ ہمارے پاس معلومات اتنی زیادہ ہیں کہ جھوٹ، سچ کے ہجوم میں چھپ جاتا ہے۔
جاپان کے معاملے میں حقیقت سامنے آگئی۔ ایسا کوئی قانون نافذ نہیں ہوا جس کے تحت ملک بھر میں مساجد، برقع، حلال خوراک یا اذان پر پابندی عائد کردی گئی ہو۔ جاپانی حکام نے ان دعوں کی تردید کی، جبکہ مذہبی آزادی سے متعلق آئینی ضمانت اور ملک میں مسلمانوں کے لیے موجود سہولیات بھی اس وائرل دعوے کی حقیقت واضح کرتی ہیں۔
مگر اصل سوال صرف جاپان کا نہیں، ہم سب کا ہے۔
اگلی مرتبہ جب ہمارے موبائل پر کوئی چونکا دینے والی خبر آئے گی تو ہم کیا کریں گے؟ فورا شیئر کریں گے یا پہلے سچ تلاش کریں گے؟
ڈیجیٹل دور میں شاید یہی فرق ایک ذمہ دار شہری اور ایک غیر ارادی طور پر جھوٹ پھیلانے والے کے درمیان سب سے بڑی لکیر ہے۔
سوشل میڈیا نے ہر شخص کو خبر پہنچانے کی طاقت دی ہے، لیکن اس طاقت کے ساتھ ذمہ داری بھی دی ہے۔ یاد رکھیے، جھوٹ لکھنے والا ایک شخص ہوسکتا ہے، مگر اسے وائرل کرنے والے ہم سب بن سکتے ہیں۔ -

کیا نئے صوبے عوام کی زندگی میں تبدلی لائیں گے ؟؟ صبیحہ خان صبیحہ
یہ اہم سوال ہے ؟نئے صوبے بنانا اور ملک کے معاشی مسائل حل ہونا دو الگ چیزیں ہیں نئے صوبے بعض انتظامی مسائل کم کر سکتے ہیں، مگر صرف نقشے پر نئی حد بندی کر دینے سے مہنگائی، قرض، کمزور برآمدات، بے روزگاری یا کم ٹیکس وصولی ختم نہیں ہوگی۔حالیہ بحث میں بھی یہی بنیادی سوال سامنے آ رہا ہے۔ عالمی بینک کی جولائی 2026 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا اصل مسئلہ وفاق، صوبوں اور مقامی حکومتوں کے درمیان وسائل، ذمہ داریوں اور اختیارات کی ناقص تقسیم ہے رپورٹ نے خاص طور پر مضبوط مقامی حکومتوں اور بہتر ٹیکس وصولی پر زور دیا ہے۔ تو پھر نئے صوبوں کا فائدہ کیا ہوسکتا ہے؟اگر کوئی موجودہ صوبہ بہت بڑا ہے اور دور دراز علاقوں تک حکومت، صحت، تعلیم، پولیس اور انتظامیہ مثر طریقے سے نہیں پہنچ پاتی، تو چھوٹے انتظامی یونٹ فائدہ مند ہوسکتے ہیں۔مثلا جنوبی پنجاب یا ہزارہ جیسے علاقوں میں یہ مقف موجود ہے کہ الگ انتظامی شناخت سے وسائل اور فیصلہ سازی عوام کے قریب آسکتی ہے۔ لیکن اس کا فائدہ اسی صورت میں ہوگا جب نیا صوبہ واقعی بہتر حکمرانی کرے ورنہ ایک بڑا صوبہ توڑ کر چار چھوٹے صوبے اور چار نئی بیوروکریسی، چار سیکریٹریٹ، چار اسمبلیاں اور اضافی اخراجات پیدا ہوجائیں گے۔یہ خدشہ اس وقت خاص اہم ہے کیونکہ پاکستان پہلے ہی مالی دبا میں ہے۔ حالیہ تجزیوں میں بھی یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام سے انتظامی اخراجات اور NFC کے ذریعے وسائل کی تقسیم مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔ اصل مسئلہ شاید صوبوں کی تعداد نہیں، اختیار کی نچلی سطح تک منتقلی ہے،کراچی، لاہور، ملتان، پشاور یا کوئٹہ کے عام شہری کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ صوبہ کتنا بڑا ہے، اگر اس کے محلے کی سڑک، پانی، صفائی، اسپتال اور اسکول پھر بھی خراب ہیں؟
اگر اختیار صوبائی دارالحکومت سے نکل کر ضلعی اور بلدیاتی حکومت تک نہیں پہنچتا تو صرف صوبہ چھوٹا کرنے سے عام آدمی کی زندگی لازما نہیں بدلے گی۔اسی لیے میرے نزدیک پاکستان کو اس وقت تین چیزوں کو الگ الگ دیکھنا چاہیے انتظامی اصلاحات جہاں ضرورت ہو وہاں چھوٹے صوبے یا انتظامی یونٹ۔مضبوط بلدیاتی نظام اختیارات، فنڈز اور ذمہ داری براہِ راست مقامی حکومت کو۔معاشی اصلاحات ٹیکس نیٹ، برآمدات، توانائی، سرکاری اخراجات، زراعت و صنعت، سرمایہ کاری اور روزگار پر توجہ اور سب سے اہم بات نیا صوبہ کوئی معاشی نسخہ نہیں ہے۔یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک بڑے گھر میں مسائل ہوں اور ہم گھر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیں اگر آمدنی کم، اخراجات زیادہ اور انتظام خراب ہے تو دو گھر بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ دو بجلی کے بل، دو باورچی خانے اور دو انتظامی خرچے بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔
البتہ اگر گھر بہت بڑا ہے، افراد ایک دوسرے سے دور ہیں انتظام ممکن نہیں رہا،اور تقسیم کے بعد دونوں حصے اپنی ضروریات بہتر طور پر پوری کرسکتے ہیں، تو تقسیم فائدہ مند بھی ہوسکتی ہے۔لہذا پاکستان کو پہلے یہ طے کرنا چاہیے کہ نئے صوبے کیوں بنانے ہیں عوام کو بہتر خدمات دینے کے لیے یا سیاسی انتظامی طاقت کی نئی تقسیم کے لیے؟ اگر مقصد عوامی خدمت اور معاشی کارکردگی ہے تو دلیل مضبوط ہیاگر صرف نئی حکومتیں اور نئی بیوروکریسی بنانی ہے تو یہ قومی خزانے پر مزید بوجھ بن سکتا ہے۔اور ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت حکومت کے حلقوں
میں بھی نئے صوبوں، نئے انتظامی یونٹوں اور مضبوط بلدیاتی نظام تینوں راستوں پر بحث ہو رہی ہے۔ نئے صوبے، پرانے مسائل اور اس میں ہم یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ پاکستان کونئیصوبے چاہئیں یا نئی حکمرانی؟ یہ زاویہ خاصا مضبوط رہے گاخاص طور پر ایسے ملک میں جہاں پہلے ہی قرض اور اخراجات کا دبا موجود ہو، نئے صوبے بنانے کا سوال صرف انتظامی نہیں بلکہ مالیاتی سوال بھی ہے۔اگر چار صوبوں کو مثلا آٹھ صوبوں میں تقسیم کیا جائے تو صرف نقشہ نہیں بدلے گا ہر نئے صوبے کے ساتھ گورنر، وزیرِاعلی، کابینہ، اسمبلی، اسپیکر، سیکریٹریٹ، محکمے، سرکاری رہائش گاہیں، گاڑیاں، عملہ اور سکیورٹی کا نیا ڈھانچہ درکار ہوگا۔ آئین میں صوبائی گورنر، وزیرِاعلی، وزرا اور صوبائی اسمبلی کا باقاعدہ انتظام موجود ہے اور یہی وہ پہلو ہے جسے عوام کو کیا ملے گا؟کے سوال سے جانچنا چاہییپاکستان کے موجودہ مالی حالات میں یہ سوال مزید اہم ہے۔ 2026-27 کے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم تقریبا 18.77 کھرب روپے رکھا گیا ہے اور حکومت کو قرض، ٹیکس اور ترقیاتی اخراجات کے درمیان سخت توازن درپیش ہے۔ اصل خطرہ کیا ہے؟اگر نیا صوبہ بنانے کا نتیجہ یہ ہو کہ نیا صوبہ ،نئی اسمبلی ، نئی کابینہ ،نئی بیوروکریسی ،نئی مراعات ،نئے پروٹوکول نئے سرکاری اخراجات تو پھر عوام کے لیے یہ اصلاح نہیں بلکہ حکومتی ڈھانچے کی توسیع بن سکتی ہے۔لیکن اگر یہی رقم نئے اسکول بنانے،اسپتال بہتر کرنے،روزگار پیدا کرنے،پانی اور صفائی،
سڑکوں اور ٹرانسپورٹ،صنعت اور زراعت،اور مقامی حکومتوں کو مضبوط کرنیپر خرچ ہو تو اس کا براہِ راست فائدہ عوام تک پہنچ سکتا ہے۔اس لیے میں آپ کے نکتے کو یوں دیکھتی ہوں: پاکستان کو نئے صوبوں سے پہلے نئی حکمرانی کی ضرورت ہے۔ اگر صوبہ چھوٹا کرنے کے باوجود اختیار چند لوگوں کے ہاتھ میں ہی رہے اور عام آدمی کو اپنے محلے کی سطح پر بہتر سروس نہ ملے تو صوبوں کی تعداد بڑھانے کا فائدہ کیا؟دلچسپ بات یہ ہے کہ موجودہ بحث میں بھی بعض ماہرین یہی مقف دے رہے ہیں کہ نئے صوبوں کے بجائے مقامی حکومتوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیار دینا زیادہ ضروری ہے اور نئے صوبے مالی طور پر مہنگے پڑ سکتے ہیں۔ یہاں سے کہ غریب ملک میں حکومت کا حجم بڑھانا دانشمندی ہے یا عوام کی سہولت کا نظام بالکل، ایک اہم سیاسی خطرہ پکڑا ہے، نئے صوبے لازما دو خاندانوں کے لیے ہوں گے، اگر نئے صوبے بنائے گئے مگر سیاسی نظام جماعتوں کیاندرجمہوریت اور مقامی حکومتوں کا ڈھانچہ وہی رہا تو کیا صرف صوبوں کی تعداد بڑھانے سے موروثی سیاست کم ہوگی یا اقتدار کے مراکز مزید بڑھ جائیں گیصوبے بڑھانے کی بحث میں عوام کو ترقی وخوشحالی کے خواب دکھائے جا سکتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ نئے صوبوں کے ساتھ اگر نئی اسمبلیاں، نئی وزارتیں، نئے پروٹوکول اور نئے مراعاتی عہدے بھی پیدا ہوگئے تو فائدہ کس کو ہوگا؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام کو ایک اور بار ترقی کے خواب ملیں اور اقتدار کے ایوانوں میں چند خاندانوں کا موج میلہ مزید وسیع ہوجائے۔صوبوں کی تعداد بڑھانے سے پہلے یہ ضمانت ضروری ہے کہ مراعات یافتہ لوگوں کی تعداد نہیں، عوام کی سہولت بڑھے گی۔صوبے بڑھانے کی بحث میں عوام کو ترقی و خوشحالی کے خواب دکھائے جا سکتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ نئے صوبوں کے ساتھ اگر نئی اسمبلیاں، نئی وزارتیں، نئے پروٹوکول اور نئے مراعاتی عہدے بھی پیدا ہوگئے تو فائدہ کس کو ہوگا؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام کو ایک اور بار ترقی کے خواب ملیں اور اقتدار کے ایوانوں میں چند خاندانوں کا موج میلہ مزید وسیع ہوجائے۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مسائل کا مستقل حل تلاش کرنے کے بجائے انہیں عارضی اور ایڈہاک بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یوں وقتی ریلیف تو مل جاتا ہے، مگر یہی مسئلہ
مستقل دردِسر بن جاتا ہے۔ اب کہا جانے لگا ہے کہ مزید صوبے ناگزیر ہوگئے ہیں، لیکن اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دے رہا کہ اگر نئے صوبوں میں بھی گورننس کا معیار یہی رہا تو پھر کیا ہوگا؟ محض انتظامی حدود تبدیل کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، اس کے لیے نظامِ حکمرانی، اختیارات کی تقسیم اور اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ -

ہمالیہ کا قہر: نیپال میں گلیشیئر ٹوٹا، تباہ کن سیلاب نے قیامت برپا کردی ماجد علی سید
نیپال میں نصف کلومیٹر سے بڑا برفانی تودہ ہزاروں فٹ نیچے گرا، برف، چٹان، مٹی اور پانی کے ریلے نے بستیاں، سڑکیں اور پل بہا دیے؛ ماہرین نے گلیشیائی جھیل کے اچانک پھٹنے کو خطرے کی بڑی وجہ قرار دے دیا ہے۔
ہمالیہ کی بلند و بالا چوٹیوں کو دیکھ کر شاید ہی کوئی تصور کرے کہ یہی خاموش اور برف سے ڈھکے پہاڑ چند لمحوں میں ایسی تباہی برپا کرسکتے ہیں جس کے سامنے انسان بے بس دکھائی دے۔ نیپال اور تبت کی سرحدی وادیوں میں بدھ کے روز پیش آنے والے المناک واقعے نے ایک بار پھر دنیا کو یاد دلایا ہے کہ ہمالیہ صرف خوبصورتی، برف اور سیاحت کا نام نہیں بلکہ اس کی خاموش برفانی دنیا میں ایک ایسا خطرہ بھی چھپا ہوا ہے جو پلک جھپکتے میں پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
نیپال کے پہاڑی علاقے میں اچانک برف، چٹان، مٹی، کیچڑ اور پانی کا ایک انتہائی تیز رفتار ریلا نیچے کی جانب آیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دریائی راستے کے ساتھ آباد بستیاں، سڑکیں، پل، بجلی کے منصوبے اور دیگر تنصیبات اس کی زد میں آگئیں۔ اطلاعات کے مطابق تقریبا 1500 افراد لاپتا ہیں، جن میں کم از کم 800 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 165 سے تجاوز کرنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ریسکیو ٹیمیں اب بھی ملبے تلے اور سیلابی علاقوں میں زندگی کی تلاش میں مصروف ہیں۔
اس تباہی کا ایک انتہائی خوفناک پہلو یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق پہاڑ کی بلندی سے برف اور چٹان کا ایک بہت بڑا حصہ اچانک ٹوٹ کر نیچے گرا۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ گلیشیئر کا یہ حصہ تقریبا دو ہزار فٹ یعنی نصف کلومیٹر سے بھی زیادہ چوڑا تھا۔ جب یہ دیوہیکل برفانی حصہ تقریبا چار ہزار فٹ نیچے وادی میں گرا تو اس کے ساتھ چٹانیں، مٹی اور برف بھی نیچے آ گئی۔ پہاڑی وادی میں موجود پانی اور ملبے نے اس تباہی کو مزید وسیع کردیا۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر برف اور چٹان کا ایک ٹکڑا اتنی بڑی تباہی کیسے برپا کرسکتا ہے؟
اس سوال کا جواب گلیشیائی لیک آٹ برسٹ فلڈ، یعنی GLOF میں پوشیدہ ہے۔
گلیشیائی جھیل کا سیلاب، جسے گلوف کہا جاتا ہے، اس وقت آتا ہے جب گلیشیئر سے بننے والی جھیل اچانک پھٹ جاتی ہے اور اس کا پانی انتہائی تیزی سے نیچے کی جانب بہنے لگتا ہے۔ گلیشیئر برسوں تک پہاڑوں سے برف کے ساتھ چٹانیں، مٹی اور دیگر ملبہ اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ جب گلیشیئر پگھل کر پیچھے ہٹتا ہے تو یہ ملبہ اس کے آخری سرے پر جمع ہوتا رہتا ہے۔ وقت کے ساتھ چٹانوں، مٹی اور ملبے کی ایک قدرتی دیوار بن جاتی ہے جسے مورین کہا جاتا ہے۔
یہ قدرتی دیوار گلیشیئر سے پگھلنے والے پانی کو روک کر ایک جھیل بنا دیتی ہے۔ اگر کسی وجہ سے یہ دیوار کمزور ہوکر ٹوٹ جائے تو جھیل کا پانی چند ہی منٹوں میں بڑی مقدار میں باہر نکل سکتا ہے۔ یہی اچانک اور انتہائی طاقتور سیلاب گلوف کہلاتا ہے۔لیکن گلوف کا خطرہ صرف پانی تک محدود نہیں ہوتا۔ پانی اپنے ساتھ بڑے بڑے پتھر، برف، مٹی اور کیچڑ بھی بہا کر لاتا ہے۔ یہی ملبہ پہاڑی وادیوں میں تباہی کا سب سے بڑا ذریعہ بن جاتا ہے۔ چند لمحوں میں یہ درختوں، گاڑیوں، گھروں، پلوں اور راستے میں آنے والی دوسری ہر چیز کو بہا سکتا ہے۔
نیپال میں حالیہ تباہی بھی اسی خطرے کی ایک انتہائی خوفناک مثال بن کر سامنے آئی ہے۔ ماہرین کے مطابق تباہی کا آغاز لنگٹانگ لیرونگ پہاڑ کی ڈھلوان سے ہوا، جو تقریبا 7 ہزار 234 میٹر بلند ہے اور دارالحکومت کٹھمنڈو سے تقریبا 45 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر اور ابتدائی تجزیوں سے معلوم ہوا ہے کہ تقریبا 17 ہزار فٹ کی بلندی پر موجود گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ اچانک ٹوٹا اور ہزاروں فٹ نیچے جاگرا۔
یہ واقعہ محض ایک قدرتی حادثہ نہیں بلکہ ہمالیہ میں تیزی سے تبدیل ہوتے ماحول کی ایک خطرناک جھلک بھی ہے۔ ماہرین طویل عرصے سے خبردار کرتے رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہمالیہ کے گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ جب گلیشیئر پیچھے ہٹتے ہیں تو ان کے پیچھے نئی جھیلیں بنتی ہیں اور پہلے سے موجود جھیلوں میں پانی کی مقدار بڑھ سکتی ہے۔ یوں ایسی جھیلوں کی تعداد اور حجم میں اضافہ ہوتا ہے جن کے اچانک پھٹنے سے نیچے آباد علاقوں کو شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
کھٹمنڈو میں قائم انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ مانٹین ڈیولپمنٹ کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق ہمالیہ کے گلیشیئر 1970 کی دہائی سے مسلسل پگھل رہے ہیں اور پیچھے ہٹ رہے ہیں۔
ادارے کے مطابق گلیشیئر اب 2000 کے مقابلے میں تقریبا دوگنا تیزی سے برف پگھل رہے ہیں۔ اس تبدیلی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ پہاڑوں پر برف کم ہورہی ہے، بلکہ اس کے نتیجے میں گلیشیائی جھیلوں کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔
ہمالیہ کے لیے مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان پہاڑی وادیوں میں انسان نے اپنی ضرورت کے تحت بڑے پیمانے پر آبادیاں، سڑکیں اور پن بجلی کے منصوبے تعمیر کر رکھے ہیں۔ یہی وہ راستے ہیں جہاں پہاڑوں سے آنے والا پانی قدرتی طور پر نیچے کی طرف بہتا ہے۔ چنانچہ جب گلیشیائی سیلاب آتا ہے تو اس کے راستے میں انسان کی تعمیر کردہ پوری دنیا موجود ہوتی ہے۔
ہندوکش ہمالیہ کے خطے میں تقریبا 500 گیگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اسی وجہ سے یہاں متعدد پن بجلی منصوبے قائم کیے گئے ہیں، لیکن ان میں سے کئی ایسے علاقوں میں ہیں جہاں گلیشیائی سیلاب یا برفانی تودے پہنچ سکتے ہیں۔
یہ خطرہ نیا بھی نہیں۔ فروری 2021 میں بھارت کے اتراکھنڈ میں رشی گنگا کے علاقے میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے 35 میگاواٹ کے رشی گنگا اور 520 میگاواٹ کے تپوون وشنوگڑھ پن بجلی منصوبوں کو شدید نقصان پہنچایا تھا، جبکہ 200 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں بڑی تعداد مزدوروں کی تھی۔
اکتوبر 2023 میں بھارت کی ریاست سکم میں آنے والا تباہ کن سیلاب بھی گلیشیائی جھیل کے اچانک پھٹنے کے واقعے سے جوڑا گیا تھا۔ اس کے بعد ماہرین نے ایک مرتبہ پھر خبردار کیا تھا کہ ہمالیہ میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور گلیشیئرز کے پگھلنے کے باعث مستقبل میں
ایسے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
نیپال کی حالیہ تباہی میں ایک اور تشویش ناک بات یہ ہے کہ اس کے اثرات صرف نیپال تک محدود نہیں رہے۔ تبت کی جانب بھی سڑکیں، مواصلاتی نظام اور بجلی کے رابطے متاثر ہوئے ہیں۔ چین کی جانب سے بھی سیکڑوں افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم دونوں ممالک کے اعداد و شمار میں ممکنہ طور پر ایک ہی افراد شامل ہوسکتے ہیں، اس لیے حتمی تعداد ابھی واضح نہیں۔
سیلاب نے غیر ملکی شہریوں کو بھی متاثر کیا۔ نیپال ٹورازم بورڈ کے مطابق لاپتا افراد میں بھارتی، امریکی، آسٹریلوی، برطانوی اور کینیڈین شہری بھی شامل ہیں۔ جنوبی کوریا کے آٹھ شہریوں کے لاپتا ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ بڑی تعداد ان سیاحوں اور زائرین کی بھی ہے جو تبت میں واقع کیلاش مانسروور کی مذہبی زیارت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
دوسری جانب نیپالی فوج نے بڑے پیمانے پر امدادی کارروائی شروع کردی ہے۔ تقریبا دو ہزار فوجی اہلکار متاثرہ علاقوں میں تلاش اور امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرہ علاقوں تک خوراک، خیمے اور ضروری سامان پہنچایا جا رہا ہے جبکہ لاپتا افراد کی تلاش بھی جاری ہے۔
قدرتی آفات کے ماہرین کے لیے سب سے اہم سوال اب یہ ہے کہ کیا ایسی تباہی کو روکا جاسکتا تھا؟
شاید مکمل طور پر نہیں، لیکن اس کے نقصانات ضرور کم کیے جاسکتے ہیں۔
ماہرین کے نزدیک خطرناک گلیشیائی جھیلوں کی مسلسل نگرانی، جدید سینسرز کی تنصیب، دریاں میں پانی کی سطح ناپنے کے نظام، سیٹلائٹ کے ذریعے نگرانی اور بروقت وارننگ ایسے اقدامات ہیں جو انسانی جانوں کو بچانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ بیشتر گلیشیائی جھیلیں سطح سمندر سے تقریبا 4500 میٹر یا اس سے بھی زیادہ بلندی پر واقع ہیں، جہاں پہنچنا انتہائی مشکل ہے۔
ہمالیہ کی برفانی دنیا ہمیں ایک عجیب تضاد دکھاتی ہے۔ یہی گلیشیئر کروڑوں انسانوں کے لیے پانی کا ذریعہ ہیں، یہی پہاڑ سیاحت کو فروغ دیتے ہیں، یہی وادیاں پن بجلی پیدا کرتی ہیں، لیکن یہی برفانی ذخائر اگر اچانک ٹوٹ جائیں تو چند منٹوں میں زندگی کا پورا نظام درہم برہم کرسکتے ہیں۔
نیپال میں آنے والی حالیہ تباہی کو صرف ایک اور سیلاب سمجھ کر بھلا دینا شاید سب سے بڑی غلطی ہوگی۔ یہ ایک انتباہ ہے کہ ہمالیہ بدل رہا ہے۔ گلیشیئر پیچھے ہٹ رہے ہیں، نئی جھیلیں بن رہی ہیں اور پہاڑی وادیوں میں انسانی آبادیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ قدرت کے ان تینوں عوامل کا ملاپ مستقبل میں مزید خطرناک واقعات کو جنم دے سکتا ہے۔
پہاڑ بظاہر خاموش ہیں، مگر ان کی خاموشی کو محفوظ سمجھنا خطرناک ہے۔ آج نیپال کی ایک وادی میں برف اور پانی نے تباہی مچائی ہے، کل یہی خطرہ ہمالیہ کے کسی اور حصے میں نمودار ہوسکتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ اگلا گلیشیئر کب ٹوٹے گا، بلکہ سوال یہ ہے کہ جب اگلی بار برفانی جھیل یا گلیشیئر کا بند ٹوٹے گا تو کیا ہم پہلے سے تیار ہوں گے؟
کیونکہ پہاڑ کسی کو مہلت نہیں دیتے۔ ان کا سیلاب وارننگ کے چند منٹوں کے بعد آتا ہے، مگر اپنے پیچھے برسوں کی تعمیر، بستیاں اور انسانی زندگیاں ملبے میں چھوڑ جاتا ہے۔ -

دوسروں کی روشنی سے نہ جلیں، اپنی شمع روشن کریں،محنت کر، حسد نہ کر تحریر: فرحانہ اشرف فرحانہ
انسانی زندگی ایک مسلسل سفر کا نام ہے؛ ایسا سفر جس میں ہر شخص اپنی صلاحیت، قسمت، محنت اور حالات کے مطابق آگے بڑھتا ہے۔ کوئی جلد اپنی منزل پا لیتا ہے، کوئی دیر سے کامیابی کے دروازے تک پہنچتا ہے، کوئی بار بار گر کر سنبھلتا ہے اور کوئی خاموشی سے مسلسل جدوجہد کرتے ہوئے ایک دن کامیابی کی بلند ترین چوٹی کو چھو لیتا ہے۔
مگر زندگی کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ ہے کہ ہم اکثر اپنے سفر، اپنی رفتار اور اپنی منزل پر نظر رکھنے کے بجائے دوسروں کے راستوں کو دیکھتے رہتے ہیں۔
کسی کی کامیابی ہمیں اپنی ناکامی محسوس ہونے لگتی ہے، کسی کی شہرت ہماری بے چینی بن جاتی ہے اور کسی کی ترقی ہمارے دل میں حسد کی آگ بھڑکا دیتی ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ دوسروں کی روشنی ہماری روشنی کو کم نہیں کرتی۔ کسی ایک چراغ کے جلنے سے دوسرے چراغ کے روشن ہونے کے امکانات ختم نہیں ہوتے۔ آسمان پر ہزاروں ستارے ایک ساتھ چمکتے ہیں، مگر کوئی ستارہ دوسرے کی چمک سے خوف زدہ نہیں ہوتا۔
زندگی کا حسن ہی اس تنوع میں ہے کہ ہر انسان کا سفر مختلف ہے، ہر شخص کی آزمائش الگ ہے اور ہر کامیابی کے پیچھے ایک الگ داستان موجود ہے۔ اس لیے دوسروں کی منزل کو دیکھ کر اپنے سفر سے مایوس ہونا دانش مندی نہیں، بلکہ اپنی صلاحیتوں کو پہچان کر مسلسل آگے بڑھنا ہی اصل کامیابی ہے۔
ہمیں یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ دنیا میں کامیابی محدود نہیں۔ اگر کسی کو عزت ملی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہماری عزت کم ہوگئی۔ اگر کوئی آگے بڑھ گیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارے راستے بند ہوگئے۔ اگر کسی کی آواز سنی جا رہی ہے تو ہمیں اپنی آواز خاموش کرنے کی ضرورت نہیں۔
مسئلہ صرف اتنا ہے کہ ہم دوسروں کی روشنی سے جلنے کے بجائے اپنی شمع روشن کرنا بھول گئے ہیں۔
حسد انسان کی شخصیت کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ حسد کرنے والا شخص دوسروں کے عیب تلاش کرتے کرتے اپنی خامیوں کو بھول جاتا ہے۔ وہ دوسروں کو گرتا ہوا دیکھنے کی خواہش میں خود آگے بڑھنے کی کوشش چھوڑ دیتا ہے۔ اس کی توانائی اپنی زندگی سنوارنے کے بجائے دوسروں کی زندگیوں پر تبصرہ کرنے میں صرف ہونے لگتی ہے۔
پھر ایک وقت آتا ہے کہ جس شخص سے وہ حسد کرتا ہے، وہ اپنی راہ پر آگے بڑھتا رہتا ہے، جبکہ حسد کرنے والا اپنی ہی منفی سوچ کے دائرے میں قید ہو جاتا ہے۔
یہی حسد انسان کو دوسروں کی کامیابی کے پیچھے سازش تلاش کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ وہ یہ تسلیم کرنے سے گریز کرتا ہے کہ شاید کسی کی کامیابی کے پیچھے محنت، قابلیت، صبر اور مسلسل جدوجہد موجود ہو۔ آسان راستہ یہ لگتا ہے کہ کامیاب انسان کو کم تر ثابت کر دیا جائے، اس کی کامیابی کو اتفاق قرار دے دیا جائے یا اس کے کردار پر سوال اٹھا دیا جائے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ کسی کی کامیابی کو چھوٹا ثابت کرنے سے ہم بڑے نہیں ہو جاتے۔
آج کے سوشل میڈیا کے دور میں یہ رویہ مزید بڑھ گیا ہے۔ کسی کی کامیابی، شہرت، خوبصورتی، ترقی یا مقبولیت کو دیکھ کر فورا سوال اٹھایا جاتا ہے: اس میں ایسی کیا بات ہے؟
ہم کامیابی کے پیچھے موجود برسوں کی محنت، ناکامیاں، قربانیاں، محرومیاں اور صبر دیکھنے کے بجائے صرف نتیجہ دیکھتے ہیں اور پھر اپنے دل میں حسد پال لیتے ہیں۔
کاش ہم یہ سوچیں کہ جس مقام پر آج کوئی شخص کھڑا ہے، شاید وہاں پہنچنے کے لیے اس نے کئی راتیں بے خوابی میں گزاری ہوں گی۔ شاید اس نے وہ ناکامیاں برداشت کی ہوں جن کا ہمیں اندازہ بھی نہیں۔ شاید اس کی مسکراہٹ کے پیچھے ایسے دکھ ہوں جن سے دنیا واقف نہیں۔
دنیا ہمیں اکثر کامیابی دکھاتی ہے، مگر کامیابی کی قیمت نہیں دکھاتی۔
اصل دانش مندی یہ ہے کہ ہم دوسروں کی کامیابی کو اپنی شکست نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنی تحریک بنائیں۔ اگر کوئی ہم سے آگے ہے تو اس سے جلنے کے بجائے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ وہ آگے کیسے بڑھا؟ اس کی محنت، مستقل مزاجی اور جدوجہد سے کیا سیکھا جا سکتا ہے؟
کیونکہ کامیاب انسان سے حسد کرنے کے بجائے اس سے سبق لینا زیادہ دانش مندی ہے۔
محنت انسان کو راستہ دکھاتی ہے، جبکہ حسد انسان کو راستے سے بھٹکا دیتا ہے۔
زندگی میں ہر انسان کو اپنی شمع خود روشن کرنی ہوتی ہے۔ دوسروں کے چراغ بجھا دینے سے ہمارا راستہ روشن نہیں ہو جاتا۔ کسی کی شہرت کم کرنے سے ہماری پہچان نہیں بن جاتی۔ کسی کی عزت گھٹانے سے ہماری عزت میں اضافہ نہیں ہوتا اور کسی کی کامیابی پر کیچڑ اچھالنے سے ہماری ناکامی کامیابی میں تبدیل نہیں ہو جاتی۔
یاد رکھیے!
دوسروں کو گرانے کی کوشش کرنے والے اکثر خود اپنی جگہ کھڑے رہ جاتے ہیں، جبکہ اپنی ذات کو بہتر بنانے والے خاموشی سے آگے نکل جاتے ہیں۔
محنت کا راستہ مشکل ضرور ہوتا ہے، مگر اس میں سکون ہے، وقار ہے اور ترقی کا امکان ہے۔ حسد کا راستہ بظاہر آسان محسوس ہوتا ہے، مگر اس کے انجام میں بے چینی، نفرت اور محرومی کے سوا کچھ نہیں۔
محنت کرنے والا اپنی تقدیر بدلنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ حسد کرنے والا دوسروں کی تقدیر سے شکایت کرتا رہتا ہے۔
یہی فرق ایک کامیاب اور ناکام سوچ کے درمیان ہوتا ہے۔
ہمیں اپنے بچوں، نوجوانوں اور پورے معاشرے کو بھی یہ سبق دینا ہوگا کہ مقابلہ ضرور کریں، مگر نفرت کے ساتھ نہیں؛ آگے بڑھیں، مگر کسی کو پیچھے دھکیل کر نہیں؛ کامیاب ہوں، مگر کسی کی ناکامی پر خوش ہو کر نہیں۔
حقیقی کامیابی وہی ہے جس میں انسان اپنی منزل بھی حاصل کرے اور اپنے کردار کی روشنی بھی قائم رکھے۔
ہمارا معاشرہ اس وقت زیادہ خوبصورت، مضبوط اور ترقی یافتہ ہو سکتا ہے جب ہم ایک دوسرے کی کامیابی کو خطرہ سمجھنے کے بجائے خوشی سمجھیں۔ کسی کی کامیابی پر مبارک باد دینا ہمارے مقام کو کم نہیں کرتا بلکہ ہمارے ظرف کو بلند کرتا ہے۔
بڑا انسان وہ نہیں جو دوسروں کو چھوٹا ثابت کرے، بلکہ بڑا وہ ہے جو دوسروں کی خوبیوں کو تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔
آج ہمیں اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔
کیا ہم دوسروں کی کامیابی دیکھ کر خوش ہو سکتے ہیں؟
کیا ہم کسی کے آگے بڑھنے کو اپنی ناکامی سمجھے بغیر اسے مبارک باد دے سکتے ہیں؟
کیا ہم دوسروں کے چراغوں کو دیکھنے کے بجائے اپنی شمع جلانے کی کوشش کر رہے ہیں؟
اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ:
ہم اپنی زندگی بہتر بنانے میں زیادہ وقت صرف کرتے ہیں یا دوسروں کی زندگیوں پر نظر رکھنے میں؟
اگر ان سوالوں کا جواب ہمارے حق میں نہیں تو ہمیں اپنے رویے بدلنے ہوں گے۔ کیونکہ زندگی دوسروں کے حصے کی روشنی گننے کا نام نہیں بلکہ اپنے حصے کی روشنی پیدا کرنے کا نام ہے۔
اس موضوع سے متعلق فیصل عشرت صاحب کے خیالات آپ کی بصارتوں کی نذر کرتے ہیں
تصویر
محمد فیصل عشرت*
(ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ آف سندھ، کراچی)جون ایلیا صاحب نے کیا خوب کہا ہے کہ:
کیا تکلف کریں یہ کہنے میں۔۔۔
جو بھی خوش ہے ہم اس سے جلتے ہیں۔۔اس شعر کی روشنی میں ذرا اپنے اردگرد نظر دوڑائیں؛ ہم میں سے کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو دن رات دوسروں کی ترقی کو دیکھ کر کڑھتے رہتے ہیں۔ وہ یہ تو چاہتے ہیں کہ انہیں بھی سب کچھ مل جائے، لیکن اس کے لیے جو پسینہ بہانا پڑتا ہے، اس سے جی چراتے ہیں۔
یہی وہ موڑ ہے جہاں زندگی دو حصوں میں بٹ جاتی ہے: ایک راستہ ہارڈ ورک (Hard Work) کا ہے، اور دوسرا حسد (Jealousy) کا۔ذرا سوچیے، حسد کرنے سے ہمیں کیا ملتا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ سوائے ذہنی سکون کے خاتمے، دل کی جلن اور بے خواب راتوں کے۔ جب ہم کسی اور کی کامیابی یا نعمت کو دیکھ کر دل میں کڑہتے ہیں، تو دراصل ہم اس کا کچھ نہیں بگاڑ رہے ہوتے، بلکہ اپنے ہی مائنڈ سیٹ (Mindset) اور سکونِ قلب کو خراب کر رہے ہوتے ہیں۔ حسد ایک ایسا روگ ہے جس کا شکار انسان خود اپنے ہی اندر گھٹ گھٹ کر مرتا ہے۔
اس کے برعکس، “محنت” ایک ایسا جادو ہے جو ناممکن کو بھی ممکن بنا دیتا ہے۔ قدرت کا اصول بڑا واضح اور اٹل ہے: “انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔” جب آپ حسد چھوڑ کر اپنی توجہ اپنے کام، اپنے ہنر اور اپنی محنت پر مرکوز کرتے ہیں، تو آپ کا ہر قدم آپ کو آگے لے جاتا ہے۔ دوسروں سے جلنے کے بجائے ان کی کامیابی کو اپنے لیے ایک انسپائریشن (Inspiration) بنائیں اور خود کو بہتر سے بہتر کرنے کی تگ و دو میں لگ جائیں۔
زندگی بہت مختصر ہے اور وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ اسے دوسروں کی ٹوہ لینے اور ان سے جلنے میں ضائع مت کیجیے۔ اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ رکھیے، اپنے بازوں کی طاقت پر یقین کیجیے اور ڈسپلن (Discipline) کے ساتھ جی توڑ محنت کریں۔۔
یاد رکھیے، رزق اور عزت کے فیصلے اوپر والے کے ہاتھ میں ہیں، اور وہ کسی کی محنت کا ایک ذرہ بھی رائیگاں نہیں جانے دیتا۔
خلاصہ کلام تو آج سے یہ تہیہ کر لیجیے کہ ہم نیگیٹیویٹی (Negativity) کو چھوڑیں گے اور اپنی پرائمری فوکس صرف اپنی محنت پر رکھیں گے
یہ تھے فیصل عشرت صاحب
آئیے!
حسد کی آگ میں جلنے کے بجائے محنت کا چراغ جلائیں۔
دوسروں کی کامیابیوں سے پریشان ہونے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں۔
دوسروں کے راستے میں کانٹے بچھانے کے بجائے اپنے راستے کی مشکلات دور کریں۔
دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے کے بجائے اپنی شخصیت کو بہتر بنائیں۔
اور دوسروں کے چراغ بجھانے کی خواہش رکھنے کے بجائے اتنی روشنی پیدا کریں کہ آپ کی محنت خود آپ کی پہچان بن جائے۔
کیونکہ دوسروں کی روشنی سے جلنے والے اکثر اندھیروں میں رہ جاتے ہیں، اور اپنی شمع روشن کرنے والے ایک دن خود دوسروں کے لیے راستہ بن جاتے ہیں۔
لہذا زندگی کا اصول بہت سادہ ہے:
محنت کر، حسد نہ کر۔
دوسروں کی روشنی سے نہ جلیں، اپنی شمع روشن کریں؛ کیونکہ دنیا میں آپ کی پہچان دوسروں کے چراغ بجھانے سے نہیں، بلکہ اپنے کردار، اپنی قابلیت اور اپنی محنت سے روشنی پھیلانے سے بنے گی۔
اور یاد رکھیے،
جو شخص اپنی ذات کو روشن کرنے کی کوشش کرتا ہے، اسے دوسروں کی روشنی کبھی چبھتی نہیں؛ بلکہ وہ جانتا ہے کہ ایک روشن چراغ دوسرے چراغ کے لیے خطرہ نہیں، روشنی کا پیغام ہوتا ہے۔