Blog

  • ایک شام ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی کے نام۔۔۔۔حمیرا گل تشنہ

    ایک شام ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی کے نام۔۔۔۔حمیرا گل تشنہ

    ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی کے اعزاز میں کاروان ِ شعروسخن ٹورنٹو،کینیڈا کے زیراہتمام منائی گئی شام کی صدارت اردو ادب کی معتبر شخصیت ڈاکٹرسید تقی عابدی نے کی
    ڈاکٹر زبیر فاروق دبئی سے تعلق رکھتے ہیں وہ عربی گھرانے میں پیدا ہونے والے بلند پایہ ادیب، شاعر، گلوکار اور موسیقار ہیں
    زندگی کے گہرے تجربات، انسانی جذبات، دکھ، درد ، محبت اور دیگر مسائل کی عکاسی ڈاکٹر زبیر فاروق کی شاعری میں ہوتی ہے
    معروف شعرا ء کرام نے اپنا خوبصورت کلام پیش کیا اور خوب دادوصول کی،اس خوبصورت محفل کو مدتوں فراموش نہیں کیا جا سکے گا
    بشارت ریحان کینیڈا میں اردو ادب کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں یہ مشاعرے ان کی اردو ادب سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہیں
    کاروان ِ شعروسخن ٹورنٹو،کینیڈا کے زیراہتمام ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی کے ساتھ ایک شام منائی گئی جس کی صدارت اردو ادب کی معتبر شخصیت ڈاکٹرسید تقی عابدی نے کی۔ اس شام ہمیں امریکہ سے خصوصی طور پر بحیثیت اعزازی مہمان شرکت کی دعوت دی گئی۔تقریب میں معروف شعراکرام نے اپنا کلام پڑھا اور حاضرین محفل سے دادوصول کی۔
    اردو ادب کی دنیا کی بہت معتبر شخصیت ڈاکٹر زبیر فاروق کی کینیڈا مشاعرے کے سلسلے میں آمد ہوئی ۔ اس مشاعرے کے دوسرے ہی دن ہمیں انتظامیہ کی طرف سے فون آیا جس میں ہمیں ڈاکٹر زبیر فاروق صاحب کے جشن میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ ڈاکٹر زبیر فاروق دبئی سے تعلق رکھنے والے عربی گھرانے میں پیدا ہونے والے ایک بلند پایہ ادیب، شاعر، سنگر اور موسیقار ہیں جنھوں نے اردو زبان و ادب میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اب جبکہ کینیڈا میں ان کے اعزاز میں ایک شاندار جشن منعقد کیا گیا، تو یہ موقع ڈاکٹر زبیر فاروق کی علمی اورادبی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے بہترین ہے۔
    ڈاکٹر زبیر فاروق کا ادبی سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ انہوں نے نہ صرف شاعری میں اپنا لوہا منوایا، بلکہ موسیقی کے میدان میں بھی اہم کارنامے انجام دیے۔ ایک عربی گھرانے میں پیدائش ہوئی، دبئی میں مقیم ہونے کے باوجود، ان کی اردو سے محبت ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ انھوں نے اردو ادب کی ترویج و ترقی کے لیے بین الاقوامی سطح پر کام کیا۔ ان کی شاعری نہ صرف پاکستان اور ہندوستان میں، بلکہ خلیجی ممالک اور دیگر عالمی برادری میں بھی سراہی جاتی ہے
    ڈاکٹر زبیر فاروق کی شاعری میں کلاسیکل رچاؤ اور جدید احساس کی آمیزش نظر آتی ہے۔ ان کے کلام میں زندگی کے گہرے تجربات، انسانی جذبات، دکھ، درد اور محبت کے مسائل کی عکاسی ہوتی ہے۔ اسکے علاوہ انھوں نے مزاحیہ شاعری میں بھی بہت کام کیا۔
    کینیڈا میں ڈاکٹر زبیر فاروق کے اعزاز میں منعقد ہونے والا یہ جشن نہ صرف ان کی ادبی عظمت کو سلام پیش کرے گا، بلکہ یہ اردو زبان کے بین الاقوامی فروغ کا بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ کینیڈا میں اردو بولنے والی کثیر آبادی موجود ہے۔ کاروان شعر و سْخن ٹورنٹو کینیڈا کے
    زیر اہتمام ہونے والی ادبی تقریب لوگوں کو انہیں اپنی زبان و ثقافت سے جوڑے رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
    جشن میں ڈاکٹر تقی عابدی نے زبیر فاروق کی تخلیقات پر علمی و ادبی گفتگو کی، اور عرب گھرانے سے تعلق رکھنے اور اردو مادری زبان نا ہونے کے باوجود ڈاکٹر زبیر فارق صاحب کی کاوشوں کو سراہا۔
    ڈاکٹر زبیر فاروق صاحب نے خود اپنی منتخب غزلیں پیش کریں، سقر مشاعرے کو یادگار بنا دیا۔
    ڈاکٹر زبیر فاروق صرف دبئی یا کینیڈا تک محدود نہیں، بلکہ ان کا ادبی کام پوری دنیا میں پزیرائی حاصل کر چکا ہے۔ انہیں متعدد بین الاقوامی ادبی انعامات سے نوازا جا چکا ہے۔ کینیڈا میں ان کا یہ جشن اردو زبان کی عالمی سطح پر پذیرائی کی ایک اور کڑی ہے۔

    جشن میں ڈاکٹر زبیر فاروق صاحب کی شخصیت کے کئی پہلو سامنے آئے۔ اپنے کلام کو دھن دینا اور اس کی میوزک کمپوزنگ کرنا، یہ سارے پہلو دیکھ کر ان کی سادہ مزاجی اور اردو شاعری سے ان کی والہانہ محبت کو ثبوت ہے۔
    مزید یہاں کاروانِ شعر و سْخن کی ادبی خدمات کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ جس قدر بشارت ریحان صاحب کینیڈا میں اردو ادب کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں یہ مشاعرے ان کی اردو ادب سے محبت و خلوص کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
    ڈاکٹر زبیر فاروق کی شخصیت اور ادبی خدمات ہمارے لیے باعثِ فخر ہیں۔ کینیڈا میں ان کے اعزاز میں منعقد ہونے والا یہ جشن نہ صرف ان کے چاہنے والوں کے لیے ایک خوشی کا موقع ہے، بلکہ یہ اردو ادب کی عالمی سطح پر ترقی کی ایک اور روشن مثال بھی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ تقریب اردو زبان کے فروغ میں ایک نئی روح پھونکے گی اور آنے والی نسلوں کو اپنی ثقافتی ورثے سے جوڑے رکھنے کی تحریک دے گی۔

  • چین کے شہر ،لِنشیا کی مویشی منڈی میں۔۔ارم زہرا

    چین کے شہر ،لِنشیا کی مویشی منڈی میں۔۔ارم زہرا

    ہوا میں خنکی تھی، اور لِنشیا کی صبح کچھ ایسی پرسکون تھی جیسے وضو کے بعد کی خاموشی۔ میں، ایک پاکستانی لڑکی، جب اس چینی شہر کے دروازے میں داخل ہوئی تو دل میں ایک ہی سوال تھا یہاں کی مویشی منڈی کیسی ہوگی ؟
    چین کی زمین پر قدم رکھے کئی سال ہو چکے تھے، لیکن لِنشیا کی کشش کچھ اور ہی ہے۔ سنا ہے اس شہر کو “چین کا چھوٹا مکہ” کہا جاتا ہے اور واقعی، یہاں ہر گلی میں ایک خاموش سی دینداری چلتی پھرتی دکھائی دیتی ہے۔ مسجدوں کے اونچے گنبد، سفید ٹوپی پہنے بوڑھے اور بچیاں جن کے اسکارف ہوا کے ساتھ ہلکے سے لرزتے ہیں۔ مجھے لگا جیسے یہ شہر خود دعا میں مصروف ہے۔
    صبح دس بجے، ہم نے ٹیکسی لی اور مویشی منڈی کی طرف روانہ ہوئے یعنی میں اور میرے ہمسفر ، راستے میں سبزہ، پہاڑ، اور پھلوں کے اسٹالز ایسے لگے تھے جیسے کسی پرانے لوک داستان کی جھلک ہو۔ ٹیکسی ڈرائیور Hui مسلمان تھا، اس نے عربی میں “السلام علیکم” کہا تو میری آنکھوں میں نمی اتر آئی۔ اس سلام میں اپنائیت تھی، جیسے کراچی کی کسی سڑک پر اجنبی اردو بول اٹھے۔
    منڈی کے دروازے پر پہنچ کر ہم کچھ لمحے رک گئے۔ دروازے کے پاس CCTV کیمرے، صاف صفائی، اور نظم و ضبط کا وہ عالم تھا جو ہمارے ہاں عید سے تین دن پہلے ناپید ہو چکا ہوتا ہے۔ لیکن یہاں… ایک عجب ترتیب تھی۔ کوئی شور نہیں، کوئی آواز نہیں۔ بس جانور تھے اور ان کی آنکھوں میں قربانی کی خاموشی۔
    بکرے قطار میں بندھے ہوئے تھے۔ کچھ Hui بچے اپنے والدین کے ساتھ جانور دیکھنے آئے تھے۔ میں نے ایک چھوٹے بچے کو دیکھا جو بکرے کے کان کو سہلا رہا تھا۔ اس کی ماں نے آہستہ سے کہا
    “بس دیکھو، چھونا نہیں۔”
    میں نے سوچا، یہ ہدایت صرف بکرے کے لیے نہیں، شاید مذہب کے اظہار کے لیے بھی ہے۔
    مجھے ایک بکرا بہت پسند آیا۔ سفید رنگ کا، ہلکی بھوری دھاری کے ساتھ۔میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا تو لگا وہ مجھ سے کہہ رہا ہو
    “تم پاکستان سے آئی ہو؟ وہاں بھی مجھے قربان کیا جاتا ہے نا؟”
    دل کچھ لرز سا گیا۔ میں نے مسکرا کر سر ہلا دیا۔
    منڈی کے ایک کونے میں چینی رسم الخط میں کچھ بورڈز تھے
    زندہ بکریاں برائے فروخت
    اردو کا ترجمہ ذہن میں آیا تو عجیب سا لگا، جیسے میرے گاؤں کی منڈی کسی اور زبان میں چل رہی ہو۔
    میں نے وہاں کچھ Hui دکانداروں سے بات کرنے کی کوشش کی۔ وہ شرمیلے تھے، لیکن احترام سے پیش آئے۔ میرے ہاتھ میں ڈائری دیکھ کر ایک بزرگ نے پوچھا “کیا آپ لکھاری ہیں؟” میں نے کہا “جی، تھوڑا بہت لکھتی ہوں۔ انہوں نے کہا “تو ہماری عید بھی لکھ دیجیے، جو آوازوں سے خالی ہے لیکن قربانی سے بھری ہوئی ہے۔”
    یہ سن کر میں خاموش ہو گئی۔ دل میں ایک نوک سی چبھی۔ واقعی، یہاں کی مویشی منڈی صرف گوشت کی خرید و فروخت کی جگہ نہیں، یہ ایمان، صبر اور نظم کی ایک جیتی جاگتی تفسیر تھی۔
    یقینا یہ منڈی کراچی جیسی نہ تھی۔نہ وہ شور، نہ ہنگامہ، نہ لاؤڈ اسپیکر پر بکروں کی تعریف۔یہاں سب کچھ خاموش، سلیقے سے اورمختلف انداز سے تھا۔
    بکرے رسیوں سے بندھے، سایہ دار چھتوں کے نیچے اور ہر ایک کی پیشانی پر چھوٹی سی تختی
    حلال، رجسٹرڈ، قیمت ¥xxxx
    ہم نے ایک درمیانے قد کے، چمکدار سفید بکرے کا انتخاب کیا۔
    آنکھوں میں سکون تھا، جیسے وہ خود بھی تیار ہو، اپنی آخری منزل کے لیے۔ بیچنے والا
    Hui
    مسلمان تھا دھیما لہجہ، صاف لباس، اور گہری مسکراہٹ۔
    ہم نے کہا “ہم دوپہر کا کھانا کھا کر واپس آئیں گے، بکرا ہمارے لیے رکھ دیجیے گا؟” وہ مسکرایا، سر ہلایا، اور اگلے ہی لمحے اْس نے جیب سے ایک چھوٹی سی سرخ اسٹیمپ نکالی جس پر چینی زبان میں SOLDلکھا تھا۔
    اْس نے وہ اسٹیمپ بکرے کی تختی پر لگائی
    ایک پرانی سی تختی، جس پر جانور کا وزن، عمر اور قیمت درج تھی،
    اور اب اْس پر سرخ رنگ میں مہربند ہو گیا تھا: “SOLD”۔
    یہاں شور مچانے، رسی باندھنے، یا بکرا کھینچنے کی ضرورت نہ تھی۔
    ایک اسٹیمپ، ایک وعدہ، اور خریدار کا نام یہی اس منڈی کی شناخت تھی۔
    منڈی سے نکلتے ہی سورج بلند ہو چکا تھا،لیکن ہمارے دلوں میں ایک اور روشنی جاگی مسجد جانے کی خواہش۔ہم نے سیدھا لنشیا کی جامع مسجد کا رخ کیا۔
    وہ مسجد جس کے بارے میں سْنا تھا کہ چینی اور اسلامی طرزِ تعمیر کا حسین امتزاج ہے۔گول مینار، سبز و سفید رنگت، اور دروازے پر خوشبو بکھیرتی لکڑی۔
    مسجد کے صحن میں داخل ہوتے ہی ایسا لگا جیسے کراچی کی کسی پرانی جامع مسجد میں قدم رکھ دیا ہو۔
    میں پہلی بار Hui کمیونٹی کی مسجد میں گئی تو حیران رہ گئی۔ نہ کوئی لاوڈ اسپیکر، نہ جمعہ کا ہجوم، نہ اذان کی آواز۔ لیکن دروازے کے باہر جوتوں کی ترتیب نے بتایا کہ عبادت اندر جاری ہے۔ میں مسجد کے باہر رکی رہی، جیسے کسی پرانے خواب کے دروازے پر دستک دے رہی ہوں۔
    کچھ دیر بعد، سفید ٹوپی پہنے بزرگ حضرات باہر نکلے۔ ان کے چہروں پر چین کی شہری زندگی کا تھکن زدہ رنگ بھی تھا، اور اللہ کی رضا کا نور بھی۔ ان کے ہلکے ہلکے سلام، دھیمے لہجے، اور محتاط قدم مجھے بتا رہے تھے کہ یہاں دین جتنا مضبوط ہے، اتنا ہی خاموش بھی۔
    میں نے ایک بزرگ سے پوچھا “آپ لوگ عید الاضحیٰ کیسے مناتے ہیں؟”
    وہ مسکرائے اور بولے “ہماری عید بہت چھوٹی ہے بیٹی، بس چند گھنٹے، خاموشی سے قربانی، پھر گوشت کا تین حصوں میں بٹوارہ، اور پھر روزمرّہ کی زندگی۔” میں نے دل ہی دل میں سوچا۔ کیا یہ چھوٹی عید، درحقیقت سب سے بڑی عبادت نہیں؟
    حکومتی قوانین کی وجہ سے وہ زیادہ مذہبی اجتماعات منعقد نہیں کرتے، لیکن ان کے گھروں میں، ان کے دلوں میں، قربانی کا جذبہ زندہ ہے۔ بکرے، بھیڑیں، حتیٰ کہ کبھی کبھار گائیں — سب کو چپکے سے خریدا جاتا ہے، ذبح کیا جاتا ہے، اور گوشت قریبی غریبوں تک پہنچا دیا جاتا ہے۔
    یہاں Hui مسلمان اپنے دین کو لباس، خوراک، اور زبان سے نہیں، رویے سے ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے کھانے حلال ہیں، ان کے دل صاف، اور ان کے انداز مہذب۔ میں نے ان کے چہروں پر وہ “خاموش عبادت” دیکھی جو نہ مسجد میں ملتی ہے، نہ کتاب میں، بلکہ صرف دل میں بستی ہے۔
    فضا میں سکون تھا، ٹھنڈک تھی، اور دل میں ایک عجیب سی راحت ہم نے وضو کیا، نماز پڑھی، اور دل میں شکر ادا کیا کہ برسوں کا ارمان، آج ایک دن میں پورا ہو رہا ہے نہ صرف لنشیا دیکھا،
    بلکہ اْس مویشی منڈی میں پہنچے جہاں ایمان اور قربانی ہاتھ میں ہاتھ ڈالے چلتے ہیں
    لِنشیا کی منڈی سے واپسی کے بعد ایک سوال دل میں گونجتا رہا “اگر کبھی وقت نہ ملے، تو کیا چین میں بکرا آن لائن بھی خریدا جا سکتا ہے؟”
    کراچی کی گلیوں میں بکروں کے درمیان چلنا، ان کے سینگ چھونا، آوازیں سننا یہ سب ایک تہذیب ہے لیکن یہاں، چین میں، جہاں ہر چیز QR کوڈ سے جڑی ہو، وہاں قربانی بھی شاید ‘‘ایپ’’ میں بدل چکی ہے۔
    میں نے لیپ ٹاپ کھولا، JD.com کی ویب سائٹ پر زندہ بکری لکھا، اور انٹر کا بٹن دبا دیا۔
    چند لمحوں میں اسکرین پر درجنوں آپشنز نمودار ہو گئے۔ وزنی بکرے، مختلف نسلیں، قیمتیں، اور ہر جانور کی تفصیل۔ حیرت ہوئی، جیسے مویشی منڈی میری انگلیوں کے نیچے آ گئی ہو۔
    مجھے وہ وقت یاد آیا جب ہم کراچی میں بکرا خریدنے نکلتے تھے۔ والد صاحب ہر جانور کی ٹانگیں، دانت اور عمر کا حساب لگاتے، اور ہم بچوں کا کام صرف محبت سے نام رکھنا ہوتا “چمپو”، “لالا”، “راجو” لیکن JD.com پر کوئی جانور کا نام نہیں تھا، صرف کوڈ تھا۔ ، حلال، ترسیل بشمول ذبح’’
    یہاں قربانی صرف عبادت نہیں، ایک “سروس” بن چکی ہے۔ JD.com پر آپ بکرا خریدتے ہیں، وہ مخصوص دن پر کسی حلال سلاٹر ہاؤس میں ذبح ہوتا ہے اور گوشت پیک ہو کر آپ کے دروازے پر آ جاتا ہے۔ نہ کوئی خون، نہ گلی میں بہتا پانی، نہ تکبیرات کی گونج۔

    بس ‘‘اوڈر کنفرم’’ اور ‘‘ڈیلیوری کمپلیٹ’’۔
    میں نے ایک Hui دوکاندار لڑکی سے اس بارے میں پوچھا۔ اس نے مسکرا کر کہا “یہاں ہم عبادت کو آسان بنانے کے قائل ہیں، لیکن دل میں قربانی کا احساس باقی ہے۔” میں خاموش ہو گئی۔ شاید عبادت کا رنگ بدل گیا ہے، لیکن نیت کا خلوص وہی ہے۔ چینی زبان میں آن لائن قربانی کی ترسیل کو کہتے ہیں
    “آن لائن ذبح خدمات”
    یہ اصطلاح نئی تھی، لیکن روح پرانی وہی ابراہیمی جذبہ، بس انداز کچھ جدید۔ میں نے JD.com پر ایک بکری کو منتخب کیا، صرف تجربے کے لیے لیکن دل میں ایک ہچکچاہٹ تھی کیا عبادت بغیر مٹی کے لمس کے مکمل ہوتی ہے؟
    “دل کہہ رہا تھا تْو قربانی چاہتا ہے، یا قربت؟”اور میں سوچتی رہی…کہ کلک کی قربانی اور ہاتھ کی دعا میں فرق کتنا ہے؟
    چین جیسے جدید ملک میں جہاں ہر چیز موبائل سے کنٹرول ہوتی ہے، قربانی کے جانور بھی آن لائن ان پلیٹ فارمز سے خریدے جا سکتے ہیں اور وہ بھی حلال طریقے سے ذبح کے وعدے کے ساتھ۔
    میرے موبائل کی اسکرین پر وہ تین پلیٹ فارمز جگمگا اٹھے جن پر چینی مسلمان بکرا، دْنبہ یا گائے آن لائن آرڈر کرتے ہیں:
    1. Taobao
    یہاں مخصوص سرچ جیسے Halal Goat For Eid کرنے پر کئی فروخت کنندگان سامنے آتے ہیں۔
    ہر پوسٹ کے نیچے ذبح کی تاریخ، وزن، حلال سرٹیفیکیٹ اور ڈیلیوری تفصیلات لکھی ہوتی ہیں۔
    2. JD.com
    تھوڑی زیادہ منظم اور تیز سروس فراہم کرتا ہے، خاص طور پر شہر کے اندر slaughterhouses Halal -certified سے قربانی کے جانور پیش کیے جاتے ہیں۔
    بعض صورتوں میں، آپ جانور کی ویڈیو بھی دیکھ سکتے ہیں۔
    3. Pinduoduo
    یہاں کچھ سستے آپشنز ہوتے ہیں، اور Hui علاقوں سے مقامی جانور فروخت کیے جاتے ہیں۔
    گروپ خریداری کا نظام بھی ہے، جس سے قیمت میں کمی آتی ہے۔
    چین میں رہتے ہوئے مجھے جو سب سے خوبصورت تضاد دیکھنے کو ملا، وہ Hui مسلمانوں کی زندگی میں چھپا تھا۔ایک طرف گہری مذہبی روایت، اور دوسری طرف مکمل جدیدیت یہ امتزاج مجھے اکثر الجھا دیتا، اور پھر حیران بھی کرتا۔

    لِنشیا کی ایک گلی میں، میں نے ایک نوجوان لڑکے کو دیکھا۔ سفید ٹوپی پہنے، ہاتھ میں اسمارٹ فون، اور ایئرپوڈز کان میں وہ مسجد کے صحن میں داخل ہو رہا تھا۔ میں نے دل میں کہا”یہ روایت کا بیٹا ہے یا ٹیکنالوجی کا پجاری؟
    لیکن جیسے جیسے میں Hui کمیونٹی کو جاننے لگی، میں نے سیکھا کہ وہ دونوں ہیں اور دونوں میں توازن رکھتے ہیں۔
    یہاں Hui لوگ نماز پڑھنے کے بعد WeChat پر حلال گوشت کی ترسیل آرڈر کرتے ہیں، عید کی کھانے کی تصویریں Xiaohongshu پر لگاتے ہیں، اور بچوں کو Zoom پر عربی کلاس دلواتے ہیں۔
    ان کے گھروں میں قرآن بھی ہوتا ہے، اور Alexa بھی۔
    Huiنوجوان لڑکیاں برقعے میں کالج جاتی ہیں، اور واپسی پر تاؤباؤ
    پر جوتے خریدتی ہیں اْن کے دل ایمان سے بھرے ہیں اور دماغ آگے بڑھنے کے خوابوں سے۔
    یہ تضاد نہیں، بلکہ ہم آہنگی ہے جو کسی پاکستانی لڑکی کے لیے، جیسے میں، حیران کن بھی ہے، اور سبق آموز بھی۔ ہم نے اکثر سنا کہ روایت اور جدیدیت ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔
    لیکن Hui لوگوں نے مجھے سکھایا کہ جب دل صاف ہو، تو چہرے پر نور بھی رہتا ہے، اور ہاتھ میں فون بھی۔
    خیر ذکر مویشی منڈی کا ہو رہا تھا۔ کراچی کی مویشی منڈی کا نام آتے ہی دل میں ایک شور اٹھتا ہے۔شور سے بھرپور، زندگی سے لبریز، دھول اور خوشبو کا امتزاج۔ جہاں بچے اپنی پسند کا بکرا ڈھونڈتے ہیں اور والد صاحب قیمت میں کمی کے لیے ایک لمبی بحث چھیڑ دیتے ہیں لیکن چین میں… سب کچھ الگ ہے۔شاید ایک دْھن ہے یہاں، لیکن وہ شور سے خالی ہے۔شاید جذبات ہیں، مگر اظہار مہذب اور خاموش سا۔
    جب میں نے JD.com یا Taobao جیسے چینی آن لائن پلیٹ فارمز پر Halal Goatلکھا، تو سامنے آیا ایک ایسا جہاں جہاں بکرے تصویروں میں تھے، قیمت ساتھ درج تھی، اور نیچے چھوٹے چھوٹے نوٹس ‘‘حلال تصدیق شدہ، مخصوص ذبح خانے سے فراہمی، صرف مجاز علاقوں میں ڈیلیوری’’دل میں ایک الجھن ہوئی کیا یہ وہی قربانی ہے جسے ہم ہاتھوں سے چھوتے تھے؟ جس کی رسی تھام کر ہم تکبیر کہتے تھے؟
    چین میں مسلمانوں کے لیے مذہبی زندگی ایک الگ نظم میں بندھی ہے۔
    قربانی کے لیے جانور خود ذبح کرنا منع ہے۔ صرف لائسنس یافتہ، حکومت سے منظور شدہ مقامات پر قربانی ہو سکتی ہے۔
    گھروں میں، گلیوں میں، یا کھلے میدان میں ذبح کرنا ، ‘‘ قانونی طور پر قابلِ سزا’’ہے۔
    یہ قانون بظاہر صاف ستھرا نظام قائم رکھنے کے لیے ہیلیکن ایک پاکستانی مسلمان کے لیے، جو مذہب کو اظہار کے ساتھ جیتا ہے، یہ ایک ‘‘خاموش سی دوری’’ کا احساس دے جاتا ہے۔

    پاکستان میں ہم جس چیز کو روایتی خوشی کہتے ہیں وہ شور، وہ بکرے کی گھنٹی، وہ چھری دھار کرنا۔ یہاں وہ سب کچھ قانون، ضوابط اور احتیاط کے خول میں بند ہے۔ حلال گوشت کی دستیابی بھی آسان ہے، مگر مشروط۔بڑے شہروں میں مخصوص Hui دکانیں ہوتی ہیں، جہاں “حلال” کا بورڈ صرف سجاوٹ نہیں، بلکہ اجازت کا ثبوت ہوتا ہے۔
    ریسٹورنٹس پر جانے سے پہلے اکثر ایپ پر دیکھنا پڑتا ہے کہ “حلال” نشان موجود ہے یا نہیں۔ یہ آسانی بھی ہے اور مسلسل احتیاط بھی۔
    کراچی میں ہم دین جیتے ہیں کھل کر، گلیوں میں، مسجدوں سے باہر نکل کراور چین میں…مسلمان ‘‘دین محسوس کرتے ہیں۔اندر، دل میں، خاموشی، لیکن پْراثر۔
    تو ہاں، یہاں جانور خریدنے کا تجربہ ایک کلک میں مکمل ہو جاتا ہے،
    لیکن وہ لمس، وہ انتظار، وہ نام رکھنے والا جذبہ وہ کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔
    شاید یہی قربانی ہے صرف جانور کی نہیں، اپنی خواہشوں کی بھی اور میں یہ سب دیکھ کر سوچنے لگی
    ‘‘اگر روایت اور جدیدیت ایک ساتھ چل سکتی ہیں، تو کیا میرے دل میں بھی قربانی کے جذبے اور ڈیجیٹل دنیا کا امتزاج ممکن ہے؟”
    مگریہ جان کر خوشی ہوئی کہ چین میں نہ صرف ڈیجیٹل قربانی کے لیے آن لائن بکرے دستیاب ہیں، بلکہ مویشی منڈیاں بھی باقاعدہ موجود ہیں جو روایت اور جدیدیت کے حسین امتزاج کا ثبوت ہیں۔
    کیا میں بھی لِنشیا کی زمین پر وہی عیدالاضحیٰ منا سکتی ہوں، جو کبھی کراچی کی گلیوں میں منائی تھی؟ کیا وہی قربت، وہی جذبات، یہاں بھی ممکن ہیں؟
    یہ سوالات لے کر میں اپنی قربانی کی تیاریوں میں مصروف ہو گئی ہوں۔ نہ صرف ایک جانور کے انتخاب میں، بلکہ خود کو ایک نئی زمین پر اپنے ایمان کی خوشبو کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش میں بھی۔ اگلی بار لکھوں گی۔ عید الالضحی کے دن کی داستان، جب لِنشیا کی خاموش گلیوں میں ہماری تکبیر گونجے گی اور قربانی صرف ایک رسم نہیں بلکہ دل اور رب کے درمیان بندگی کا تعلق بن جائے گی۔

  • مودی خطے کیلیے بڑا خطرہ  ہے، خواجہ آصف

    مودی خطے کیلیے بڑا خطرہ ہے، خواجہ آصف

    اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مودی خطے کے لیے بڑا خطرہ بن چکا ہے اور وہ اپنے سیاسی مفاد کی خاطر کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو جنوبی ایشیا کے لیے غیر متوقع اور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سیاسی فائدے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔خواجہ آصف نے واضح کیا کہ نریندر مودی کی موجودگی میں پورا خطہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ مودی کا حالیہ طرز عمل صرف بھارت ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہا ہے۔وزیر دفاع نے بھارتی فوجی مشقوں کو محض ایک سیاسی تماشا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کا حقیقی مقصد بھارتی عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا اور مودی کی گرتی ہوئی مقبولیت کو وقتی سہارا دینا ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پہلگام واقعے کی کسی غیر جانبدار تحقیقات کا عندیہ تک نہیں دیا، بلکہ الزامات کا رخ براہ راست پاکستان کی جانب موڑ دیا گیا۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ حالیہ تناؤ کے بعد پاکستان کا دہشت گردی کے خلاف بیانیہ عالمی سطح پر مزید مستحکم ہوا ہے۔ انہوں نے دفاعی بجٹ کے حوالے سے کہا کہ ملک کی سکیورٹی کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر ہماری مسلح افواج کو وسائل کی اشد ضرورت ہے اور اسی لیے دفاعی بجٹ میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔سابق اور موجودہ فوجی قیادت کے حوالے سے سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور موجودہ آرمی چیف کے طرز قیادت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔انہوں نے بھارت کی پانی بند کرنے کی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کا پانی روکنا بھارت کے لیے اتنا آسان نہیں جتنا وہ سمجھتا ہے۔ یہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر قانونی اور سیاسی طور پر بھارت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔خواجہ آصف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کشمیر سے متعلق بات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ٹرمپ کے صرف ایک بیان نے بھارت کو تلملا کر رکھ دیا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیر ایک ایسا تنازع ہے جو دبایا نہیں جا سکتا۔

  • عمران خان کو پی ٹی آئی میں نیا عہدہ مل گیا

    عمران خان کو پی ٹی آئی میں نیا عہدہ مل گیا

    اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز)پاکستان تحریک انصاف میں عمران خان کو نیا عہدہ دے دیا گیا۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے ملک گیر احتجاج کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کو پیٹرن انچیف بنا دیا گیا ہے اور احتجاج کے دوران عمران خان کی نمائندگی عمر ایوب اور سلمان اکرم راجا کریں گے جب کہ علی امین گنڈا پور خیبر پختونخوا گورننس کے معاملات پر فوکس کریں گے۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ احتجاج کے دوران مجھے بطور چیئرمین ڈپلومیٹک رابطوں کہ ذمے داری ملی ہے۔ میں ہی پارٹی کا چیئرمین ہوں اور ہائیکورٹ میں پارٹی کے کیسز لے کر چلوں گا۔

  • ملیر جیل سے فرار قیدی کی ماں نے بیٹے کو خود واپس جیل پہنچا دیا، ویڈیو وائرل

    ملیر جیل سے فرار قیدی کی ماں نے بیٹے کو خود واپس جیل پہنچا دیا، ویڈیو وائرل

    کراچی (کنزیومر واچ نیوز)کراچی کی ملیر جیل سے قیدیوں کے فرار ہونے کے واقعے کے بعد ایک قیدی کو اس کی ماں نے خود ہی جیل پہنچا دیا۔پیر کی رات کراچی کی ملیر جیل میں صورتحال اس وقت خراب ہوئی جب شہر کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، زلزلے کے جھٹکوں کے دوران جیل سے 200 سے زائد قیدی فرار ہوگئے جن میں سے متعدد کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔ملیر جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پیر کی رات زلزلے کے دوران نقصان سے بچنے کے لیے قیدیوں کو بیرکوں سے باہر بٹھایا گیا تھا، زلزلےکے باعث ہنگامہ آرائی شروع ہوئی، قیدیوں نے پولیس اہلکاروں سے ہاتھا پائی کی اور اسلحہ چھین کر فائرنگ کی جب کہ اس دوران 200 سے زائد قیدی فرار ہوئے۔ڈی آئی جی جیل کراچی محمد حسن سہتو کے مطابق زلزلے کے جھٹکوں کے دوران قیدیوں کی بڑی تعداد بیرکس سے باہر نکلی، قیدیوں نے ماڑی کا گیٹ بھی توڑا اور جیل پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قیدیوں نے جیل میں پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھینا، پولیس اور قیدیوں کی جانب سے فائرنگ بھی کی گئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک قیدی جب جیل سے فرار ہو کر گھر پہنچا تو اس کی ماں نے نہ صرف اسے سمجھایا بلکہ اسے فوراً پولیس کے حوالے کردیا۔جیل کے باہر قیدی کی والدہ نے اسے پولیس کے حوالے کیا اور پھر پولیس اہلکاروں سے اپنے بیٹے کی غلطیوں کی معافی مانگتی رہی۔ قیدی کی ماں پولیس اہلکاروں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر التجا کرتی رہی کہ میرے بیٹے سے غلطی ہوئی ہے اور میں خود اسے آپ کے پاس لے کر آئی ہوں، مہربانی کرنا اور اسے کچھ مت کہنا۔مذکورہ ماں نے بتایا کہ میں بیوہ ہوں اور یہ میرا سب سے بڑا بیٹا ہے، اس کو موبائل میں دوست کے ساتھ تصویر کی بنا پر سزا سنائی گئی، کافی دور سے خود پیدل چل کے اسے پولیس کے حوالے کرنے آئی ہوں۔

  • بھارت کیساتھ حالیہ تنازع میں اپنے وسائل پر انحصار کیا،: چیئرمین جوائنٹ چیفس

    بھارت کیساتھ حالیہ تنازع میں اپنے وسائل پر انحصار کیا،: چیئرمین جوائنٹ چیفس

    راولپنڈی:(کنزیومر واچ نیوز) پاکستان کی مسلح افواج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کہا ہےکہ بھارت کے ساتھ حالیہ تنازع میں پاکستان نے اپنے وسائل پر انحصار کیا اور کہیں سے کوئی مدد نہیں حاصل کی گئی ۔برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں جنرل ساحر شمشاد نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تنازع میں96 گھنٹوں کے دوران جو کچھ ہوا، وہ مکمل طور پر پاکستان نے خود اپنے طور پر کیا۔چین سے پاکستان کو مدد ملنے کے سوال پر جواب دیتے ہوئے جنرل ساحر شمشاد نے کہا کہ حالیہ کشیدہ صورتحال میں پاکستان نے جو آلات استعمال کیے وہ یقیناً ایسے ہی ہیں جیسے بھارت کے پاس ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کچھ ساز و سامان دوسرے ملکوں سے خریدا ہے مگر اس کے علاوہ حقیقی وقت میں صرف اور صرف پاکستان کی اندرونی صلاحیتوں پر انحصار کیا گیا، ہم نے کہیں سے کوئی مدد حاصل نہیں کی۔خیال رہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام پر ہونے والے حملے کو جواز بنا کر پہلے پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کیا اور پھر 6 اور 7 مئی کی درمیانی شپ پاکستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں پر میزائل داغے جس کا پاکستانی فوج نے بھرپور جواب دیا۔بھارت نے 10 مئی کو ایک بار پھر پاکستان کے نور خان ائیر بیس اور رحیم یار خان ائیر پورٹ پر میزائلوں سے حملے کیے جس کا پاکستان نے بھرپور جواب دیتے ہوئے بھارت کے خلاف آپریشن بنیان مرصوص شروع کیا جس میں بھارت کے 3 رافیل طیاروں سمیت 6 لڑاکا طیارے گرائے اور آدم پور اور ادھم پور سمیت کئی ائیر فیلڈز اور ایمونیشن ڈپوز کو تباہ کردیا۔پاکستان کی جانب سے بھرپور جوابی کارروائی کے بعد بھارت کو اپنی شکست نظر آنے لگی تو بھارت نے امریکا اور دیگر اتحادیوں سے جنگ بندی کی درخواست کی جس کے بعد دونوں ممالک کے سیز فائر ہوئی۔

  • ملیر جیل سے قیدی کیسے فرار ہوئے؟ رپورٹ تیار

    ملیر جیل سے قیدی کیسے فرار ہوئے؟ رپورٹ تیار

    کراچی (کنزیومر واچ نیوز)سپرنٹنڈنٹ ملیر جیل نے قیدیوں کے فرار ہونے کے واقعے کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی۔سپرنٹنڈنٹ جیل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہزاروں قیدی زلزلے کے خوف کے باعث توڑ پھوڑ کرتے ہوئے نکلے اور رات ڈیڑھ بجے کے قریب قیدیوں نے مرکزی دروازہ توڑ دیا، اس دوران 216 قیدی فرار ہوئے جن میں سے 78 کو پکڑا گیا ہے جب کہ138 قیدیوں کی تلاش جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق قیدیوں نے جیل اسپتال، انٹرویو بوتھ، ای کورٹ اور مختلف شعبوں میں توڑپھوڑ کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فائرنگ کے واقعات میں 12 قیدی اور مختلف اسٹاف ارکان زخمی ہوئے جب کہ اس دوران فائرنگ سے طاہر خان نامی قیدی ہلاک بھی ہوا ہے۔ علاوہ ازیں سپرنٹنڈنٹ ملیر جیل ارشد شاہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ گزشتہ شب زلزلوں کے باعث قیدیوں میں بے چینی تھی، قیدی خوفزدہ تھے کہ چھت نہ گر جائے، رات 11 بجے کے بعد زلزلے کا شدید جھٹکا آیا، بیرک میں موجود قیدی خوف و ہراس کا شکار ہوئے تھے، دھکم پیل میں 150 افراد نے دروازے پر زور لگاکر تالا توڑا، میں جب رات کو وہاں پہنچا تو قیدیوں نے مجھ پر حملہ کیا، قیدی ہجوم کی صورت بھاگے تو واچ ٹاور سے فائرنگ کی گئی، ایف سی کے جوانوں نے فائرنگ کی تو بہت سے قیدی واپس آئے، کچھ قیدی کالونی کی طرف بھاگے، اس طرف بھی فائرنگ کی گئی، بھگدڑ مچانے والےقیدیوں کی تعداد ساڑھے تین سے چار ہزار تھی۔انہوں نے کہا کہ یہ کوئی غفلت نہیں تھی بلکہ قیدیوں کو خوف تھا،کسی اہلکار کی غفلت نہیں تھی، میں ان کے درمیان تھا، اس واقعے میں ایک قیدی کی ہلاکت ہوئی اور2 ایف سی کے جوان زخمی ہوئے، ہمارے اسٹاف کے لوگ زخمی ہوئے البتہ کوئی شہری زخمی نہیں ہوا۔دوسری جانب آئی جی جیل خانہ جات سندھ قاضی نظیر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ شہر میں زلزلہ آیا تھا جس سے بیرک کی دیواروں کو نقصان پہنچا، اس دوران ملیر جیل میں قیدیوں نے حملہ کیا تو دروازے کی کنڈی ٹوٹ گئی، قیدیوں نے جیل سے باہر آکر باقی تالے بھی توڑے، پوری کوشش کی گئی تھی کہ ہجوم کو کنٹرول کیا جاسکے۔ آئی جی جیل نے کہا کہ قیدیوں کے پتے موجود ہیں، ان کے اہلخانہ کو چاہیے انہیں واپس بھیجیں، قیدی رضاکارانہ طور پر واپس نہ آئے تو سخت ایکشن لیں گے، اس طرح کی صورتحال کا کبھی ماضی میں سامنا نہیں کیا، امید ہے کہ آج رات تک آدھے سے زیادہ قیدی پکڑلیں گے۔

  • بھارتی قیادت کے حالیہ بیانات  انتہائی تشویشناک ہیں،دفتر خارجہ

    بھارتی قیادت کے حالیہ بیانات انتہائی تشویشناک ہیں،دفتر خارجہ

    اسلام آباد:(کنزیومر واچ نیوز)دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بھارتی قیادت کے حالیہ بیانات، بشمول بہار میں دیے گئے بیانات، ایک انتہائی تشویشناک ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں اور امن کے بجائے دشمنی کو ترجیح دیتے ہیں۔بھارتی قیادت اور بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے حالیہ اشتعال انگیز بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کو خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار ٹھہرانے کی کوئی بھی کوشش حقیقت سے منہ موڑنے کے مترادف ہے۔ترجمان نے کہا کہ عالمی برادری بھارت کے دہشت گردی کی پشت پناہی اور پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ریکارڈ سے بخوبی آگاہ ہے، ان حقائق کو کھوکھلی کہانیوں یا توجہ ہٹانے کی کوششوں سے چھپایا نہیں جا سکتا

  • نان فائلرز کے کیش نکلوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس بڑھنے کا امکان

    نان فائلرز کے کیش نکلوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس بڑھنے کا امکان

    اسلام آباد:(کنزیومر واچ نیوز)آئندہ مالی سال 26-2025 کے وفاقی بجٹ میں بینک ڈیپازٹس اور بچت اسکیموں پر ٹیکس میں اضافے کی تجویز ہے۔ذرائع ایف بی آر کے مطابق نان فائلرز کے کیش نکلوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس بڑھنے کا امکان ہے، ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 0.6 فیصد سے بڑھ کر 1.2 فیصد متوقع ہے جبکہ یومیہ 50 ہزار سے زیادہ رقم نکلوانے پر اضافی ٹیکس کی بھی تجویز ہے۔ذرائع کے مطابق 800 سی سی سے چھوٹی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں اضافہ متوقع ہے جبکہ مقامی تیار کردہ کاروں پر جی ایس ٹی کی شرح بڑھانے کی تجویز ہے۔ ٹیکس کی شرح 12.5 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کا امکان ہے۔پیٹرول اور ڈیزل پر چلنے والی گاڑیوں پر لیوی عائد کرنے جبکہ کیپٹل گین اور منافع پر بھی ٹیکس میں اضافہ کرنے کی تجویز ہے۔ بجٹ میں سپر ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز زیرغور ہے، تاہم سپر ٹیکس میں کمی آئی ایم ایف کی رضامندی سے ہوگی۔

  • اداکار منیب بٹ کا اونٹ بھاگ گیا، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی

    اداکار منیب بٹ کا اونٹ بھاگ گیا، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی

    کراچی (کنزیومر واچ نیوز)اداکار منیب بٹ نے اس بار سنتِ ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے قربانی کے لیے ایک اونٹ خریدا جو رسی توڑ کر بھاگ نکلا۔سوشل میڈیا پر حال ہی میں ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں ایک اونٹ کو رسی توڑ کر بھاگتے دیکھا جاسکتا ہے، وہ اونٹ اداکار منیب بٹ اور اداکارہ ایمن خان کا ہے۔وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خوبصورتی سے سجا ایک اونٹ تیزی سے گلی سے نکل رہا ہے جب کہ لوگ خوف کے مارے دور بھاگتے نظر آئے۔اسی ویڈیو کو اداکارہ منال خان نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کرتے ہوئے بہن ایمن خان اور بہنوئی منیب بٹ کو ٹیگ کرکے لکھا کہ آپ کا اونٹ تو وائرل ہوگیا۔بعدازاں منیب بٹ نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ ایک دن قبل پیش آیا۔اداکار نے اپنی اسٹوری میں بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے پتا چلا کہ چند بچوں نے اونٹ کو پتھر مارے جس کے باعث وہ ڈر گیا اور رسی توڑ کر فرار ہوگیا۔اداکار نے والدین سے اپیل کی کہ وہ بچوں کو یہ سکھائیں کہ قربانی کے جانوروں سے حسنِ سلوک سے پیش آنا چاہیے۔منیب بٹ نے اپنے وی لاگ میں قربانی کے اونٹ کی خریداری، اسے گھر لانے کے مراحل اور اس سے جڑی دلچسپ یادوں کو بھی مداحوں کے ساتھ شیئر کیا ہے۔