Blog

  • کنیکٹیکٹ میں عید قرباں  پر مسلمانوں کو کئی  چیلنجز کا سامنا۔۔۔حمیرا گل تشنہ

    کنیکٹیکٹ میں عید قرباں پر مسلمانوں کو کئی چیلنجز کا سامنا۔۔۔حمیرا گل تشنہ

    عید قرباں، جسے عید الاضحیٰ بھی کہا جاتا ہے، اسلام کا ایک اہم تہوار ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یاد دلاتا ہے۔ یہ دن مسلمانوں کے لیے خوشی، تقویٰ اور ایثار کا پیغام لے کر آتا ہے۔ تاہم، امریکا کے شہر کنیکٹیکٹ اور دیگر امریکی ریاستوں میں رہنے والے مسلمانوں کو عید قرباں کے موقع پر کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان میں نماز کی جگہوں کا انتظام، قربانی کے جانوروں کا انتظام، قانونی پابندیاں، معاشی دباؤ اور ثقافتی اختلافات شامل ہیں۔
    کنیکٹیکٹ میں مسلمانوں کے لیے قربانی کے جانور (بکرے، دنبے، گائے) حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ ریاست میں حلال گوشت کی دکانیں محدود ہیں، اور زیادہ تر مسلمان بڑے شہروں جیسے نیویارک یا نیو جرسی سے قربانی کا گوشت منگواتے ہیں، جس سے قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ کنیکٹیکٹ میں کچھ جگہوں پر اب یہ ممکن ہے کہ آپ خود جا کر جانور ذبح کر سکیں لیکن وہ عمل اس قدر مہنگا ہے کہ ہر شخص کیلئے افورڈ کرنا ممکن نہیں۔
    امریکامیں جانوروں کے حقوق کے قوانین سخت ہیں، اور ذبح کے لیے خاص لائسنس درکار ہوتے ہیں۔ کنیکٹیکٹ میں گھر پر ذبح کرنے پر پابندی ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے مسلمانوں کو قربانی کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔
    امریکامیں مہنگائی کی وجہ سے قربانی کے جانوروں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ کنیکٹیکٹ میں کئی مسلم خاندان کم آمدنی کی وجہ سے قربانی نہیں کر پاتے، جس سے وہ احساس محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
    کنیکٹیکٹ میں مسلمان ایک اقلیت ہیں، اور کئی غیر مسلم عید قرباں کی روایات سے ناواقف ہیں۔ بعض اوقات قربانی کے جانوروں کو دیکھ کر پڑوسیوں میں خوف یا اعتراضات پیدا ہو جاتے ہیں۔
    امریکا میں پرورش پانے والے نوجوان مسلمانوں میں بعض اوقات عید قرباں کی اصل روح کم ہوتی جارہی ہے۔ وہ اسے صرف ایک رسم سمجھتے ہیں، جبکہ اس کا اصل مقصد اللہ کی رضا کے لیے قربانی دینا ہے۔
    کنیکٹیکٹ میں عید قرباں کبھی کبھی شدید گرمی یا بارش کے موسم میں آ جاتی ہے، قربانی کے جانوروں کو رکھنا اور گوشت کی تقسیم مشکل ہو جاتی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر نماز کی جگہوں کا ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بارشوں میں باہر اوپن ایریا میں عید کی نماز کا انتظام کیا نہیں جاسکتا اور ایکس پو سینٹرز جیسی جگہ کا ہر بار ملنا ممکن نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں مساجد میں مختلف اوقات میں نماز عید کا انتظام کیا جاتا ہے جس میں لوگوں کی کثیر تعداد کی وجہ سے لوگوں کو کافی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
    امریکا میں عید قرباں کی سرکاری چھٹی نہیں ہے، اس لیے زیادہ تر مسلمانوں کو کام یاا سکول جانا پڑتا ہے۔ اگر عید کا دن ہفتے کے آخر (جمعہ یا سنیچر) میں نہیں آتا تو بہت سے لوگ نماز اور قربانی کے لیے چھٹی لینے پر مجبور ہوتے ہیں، جو ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔ اس سے عید کی خوشیاں محدود ہو جاتی ہیں۔
    کنیکٹی کٹ میں مسلمانوں کی تعداد نسبتاً کم ہے، اور کچھ غیر مسلموں کو عید قرباں کے بارے میں علم نہیں ہوتا۔ بعض اوقات مسلمانوں کو قربانی کے عمل پر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حالانکہ یہ ایک مذہبی فریضہ ہے۔ کچھ لوگ اسے “جانوروں کے حقوق کی خلاف ورزی” سمجھتے ہیں، جبکہ اسلام میں جانوروں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے۔
    مسلم کمیونٹی کو اجتماعی کوششیں کرنی چاہئیں۔ مقامی سطح پر حلال گوشت کی سپلائی کو بہتر بنانے کے لیے اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے قربانی کے آرڈرز دینے کا نظام متعارف کرایا جائے۔ مزید کوشش کی جائے ریاستی حکومت سے رابطہ کر کے حلال ذبح کے قوانین میں نرمی کی درخواست کی جائے۔
    مساجد اور اسلامی مراکز کو چاہیے کہ وہ مقامی حکومت کے ساتھ بات چیت کر کے عید قرباں کے موقع پر عارضی ذبح گاہوں کی اجازت حاصل کریں۔ ریاست کے حلال سلیٹر ہاؤسز (ذبح خانوں) کے ساتھ معاہدہ کیا جائے تاکہ وہ عید کے دنوں میں مسلمانوں کی سہولت کے لیے اضافی سہولیات مہیا کریں۔
    مسلم کمیونٹی کو چاہیے کہ وہ عید قرباں سے پہلے اپنے غیر مسلم پڑوسیوں کو اس تہوار کی اہمیت سے آگاہ کریں۔ مقامی میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر عید قرباں کے پیغامات شیئر کیے جائیں تاکہ عوام میں آگاہی بڑھے۔ عوامی مقامات پر قربانی نہ کر کے، باقاعدہ ذبح گاہوں یا مساجد میں اس عمل کو انجام دیا جائے۔
    عید قرباں مسلمانوں کے لیے اتحاد، قربانی اور ایثار کا پیغام لے کر آتی ہے۔ کنیکٹیکٹ میں رہنے والے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ان مسائل کا مقابلہ اجتماعی کوششوں، حکومت سے تعاون اور عوام میں آگاہی پھیلا کر کریں۔ اگر منصوبہ بندی اور تعاون سے کام لیا جائے تو عید قرباں کی برکات اور خوشیاں پوری کمیونٹی میں یکساں طور پر تقسیم ہو سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عید قرباں کی حقیقی روح سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

  • چین میں عید الاضحی کا جشن ہمارے لئے ایک نیا تجربہ…ارم زہرا

    چین میں عید الاضحی کا جشن ہمارے لئے ایک نیا تجربہ…ارم زہرا

    یہ چین نہیں، کسی خواب کا در تھا، جہاں ہر تہوار ایک نئی دُنیا کا دروازہ کھولتا ہے۔جیسے یہ ملک اپ تہواروں اور روایات کے پیچ و خم میں کچھ کہہ رہا ہو ۔جیسے دو مختلف جہاں ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو گئے ہوں۔ ایک طرف عید الاضحیٰ کی روحانیت تھی، جہاں قربانی کا عہد اور ایمان کا ارمان دلوں میں رچ بس رہا تھا، اور دوسری طرف ڈریگن فیسٹول کا دھواں تھا، جس میں ماضی کی روایات اور جدیدیت کا حسین امتزاج ایک دھوم مچائے ہوئے تھا۔ چین میں عید اور ڈریگن فیسٹول کے درمیان یہ وہ لمحے تھے جو دل میں گہرے نقش کی طرح بس گئے۔
    ‎جیسے کوئی پرانی کتاب کھل جائے اور اس کی سفید صفحے پر رنگوں کا کھیل
    ‎شروع ہو جائے۔ عید کے موقع پر ، جب پورے شہر کی گلیوں میں خوشبوؤں کے دھارے تیر رہے تھے تو دوسری طرف ڈریگن کی مورتیاں، رنگین پرچم اور روایتی کھانے بازاروں میں سجے ہوئے تھے۔
    ‎میرے ذہن میں یہ سوال تھا کہ آیا یہ دو تہوار اپنے رنگوں اور خوشبوؤں کے باوجود ایک دوسرے سے کیسے ہم آہنگ ہو گئے ہیں؟ کیا چین کے مسلمان اس دن کو جس قدر مقدس جانتے ہیں، ویسے ہی اس دن کی خوشی میں ڈریگن فیسٹول کو شامل کر پاتے ہیں؟ یا پھر یہ تقاضا، یہ ہم آہنگی، کہیں ایک خاموش تہوار کی صورت میں سامنے آئی ہے؟
    ‎میں ان گلیوں میں گھوم رہی تھی، جہاں ڈریگن کی رنگین چمک اور عید کی روحانیت نے ایک نیا رشتہ قائم کیا تھا، اور میرا قلم ان مناظر کو ناپنے کے لیے بے چین تھا۔
    ‎چین، جہاں کی ہر گلی، ہر کوچہ اپنی منفرد تہذیب اور رنگینی میں رچا بسا ہے، وہاں مسلمانوں کا عید منانا ایک الگ ہی رنگ میں ڈوبا ہوا تھا۔ ڈریگن فیسٹول کی چمک دمک، کشتیوں کی دوڑ، اور خوشبوؤں میں لپٹی چینی روایات کی تہذیب ایک طرف، جبکہ دوسری طرف عیدالاضحی کی مقدس اور روحانی فضا، جہاں ہم قربانی کا گوشت تقسیم کرتے ہوئے اپنے رب کی رضا کے لیے دلوں کو صاف کرتے تھے۔
    ‎چین میں عید کی تعطیلات نہیں ہوتیں، لیکن جب ڈریگن فیسٹول کی چھٹیاں آئیں، تو ان چند دنوں میں ایک غیر معمولی سکون تھا۔ گویا دنیا کے تمام رنگ چین کی سرزمین پر سمٹ آئے تھے۔ ایک طرف رنگین جھنڈے، سڑکوں پر چمکتی لائٹس، اور کشتیوں کی دوڑ تھی تو دوسری طرف قربانی کی تیاری، گوشت کی تقسیم اور اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کا عمل۔ دونوں تہواروں کے درمیان ایک عجیب سا امتزاج تھا۔ ڈریگن فیسٹول کی ہنسی خوشی کی محافل اور عیدالاضحی کی عبادت کی تقدیس، جیسے ایک ہی سرزمین پر دو دنیاوں کا میل ہو۔ ڈریگن فیسٹول کا آغاز قدیم چین کی ایک کہانی سے جڑا ہوا ہے، جس کے مطابق یہ تہوار ایک عظیم سپہ سالار “کُو یوان” کی قربانی اور اس کی محبت کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ کُو یوان، جو کہ ایک بہت ہی ذہین اور بہادر شاعر تھا، اپنی قوم کے لئے لڑا اور آخرکار دریا میں غرق ہو گیا۔ اس کے بعد لوگوں نے اس کی یاد میں دریا میں چمچماتے ہوئے رنگین رنگوں والے ‘ڈریگن بوٹس’ میں لہریں ماری، اور اس دن کو ایک تہوار کے طور پر منایا۔
    ‎ہم اس دن دریائے ہوانگشو کے کنارے پہنچے تھے ۔ جہاں سینکڑوں لوگ جمع تھے۔ لمبی، رنگ برنگی کشتیاں، جن کے اگلے سرے پر ڈریگن کا منہ تراشا گیا تھا، پانی پر لرزتی کھڑی تھیں۔ ہر کشتی میں دس بارہ افراد، ہم رنگ وردی میں، ڈرم کی تھاپ پر چپو چلا رہے تھے۔ وہ نظارہ کچھ ایسا تھا جیسے کسی قدیم داستان کو آنکھوں کے سامنے جیتے جاگتے دیکھ رہی ہوں۔لوگ شور مچاتے، جھنڈے لہراتے، “چیا یو! چیا یو!” یعنی
    ‎حوصلہ رکھو! کے نعرے لگا رہے تھے ۔ دوسری جانب، چھوٹے چھوٹے اسٹالز پر بانس کے پتوں میں لپٹے چپچپے
    ‎چاولوں ژونگزی کی خوشبو تھی۔ ان چاولوں میں گوشت، انڈے یا میٹھا پیسٹ بھرا ہوتا ہے، اور انہیں کھانے کی روایت اس فیسٹول کا حصہ ہے۔ یہاں گائیڈ نے ہمیں بتایا کہ
    ‎یہ تہوار شاعر ‘چو یوان’ کی یاد میں منایا جاتا ہے، جو اپنی قوم کے لیے جان دے گیا۔ لوگ اسے خراج دینے کو کشتیاں دوڑاتے اور ژونگزی دریا میں پھینکتے تھے تاکہ مچھلیاں اس کا جسم نہ کھائیں۔”
    ‎میں دم بخود رہ گئ ۔ایک تہوار، جو دکھ کی کوکھ سے نکلا تھا، آج خوشی کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ یہی تو کمال ہے تہذیبوں کا وہ آنسو کو بھی رنگ میں بدل دیتی ہیں۔
    ‎میں کنارے پر کھڑی سوچ رہی تھی، “عید پر ہم بھی قربانی کرتے ہیں، اپنی محبت، اپنی وفا کا اظہار۔ اور یہاں، ڈریگن فیسٹول پر وہی عقیدت، صرف انداز الگ۔بس یہی وہ لمحہ تھا جب مجھے یہ احساس ہوا کہ اس تہوار میں نہ صرف تاریخ بلکہ جذبات اور روایات کا رنگ بھی بسا ہے۔ جہاں تک میں نے دیکھا، ہر طرف لوگوں کا جوش اور محبت بھرا ماحول تھا۔ ڈریگن بوٹ ریسز، رنگین ڈریگن کے مجسمے، خوشبو دار چاولوں سے بھرے پیکٹ اور لذت بھری روایات یہ سب ایک کہانی کی طرح ایک دوسرے میں گھل کر اس تہوار کو خاص بناتے ہیں۔
    ‎اور پھر، جب میں نے ان رنگوں اور روشنیوں میں گھومتے ہوئے لوگوں کے چہرے دیکھے، تو مجھے یہ بات سمجھ میں آئی کہ یہ تہوار محض ایک کھیل یا جشن نہیں، بلکہ ایک پورے قوم کی تاریخ، محبت اور قربانی کی داستان ہے۔ یہ اس قوم کی جذباتی وابستگی اور اپنے ماضی سے تعلق کا اظہار ہے، جو نہ صرف اپنے عظیم ہیروز کو یاد کرتی ہے، بلکہ اپنے روایات، ثقافت اور فلسفے کو نسل در نسل منتقل کرنے کا عہد بھی کرتی ہے۔
    ‎ہمارے لیے اس وقت ڈریگن فیسٹول سے زیادہ عید الاضحی کا دن اہم تھا۔ ہم نے جب قربانی کے جانور کو اپنے ہاتھوں سے خریدا، اور پھر اس کی نگہداشت کے لیے چین کے خاص “شیرٹر” میں چھوڑا، تو دل میں یہ خیال آیا کہ قربانی محض گوشت کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں روح کی صفائی، دل کی نیت کی پاکیزگی اور اپنے رب سے تعلق کی گہرائی چھپی ہوتی ہے۔
    ‎چین میں عیدالاضحی کی چھٹیاں نہیں ہوتیں، لیکن یہاں کی زندگی کا نظم و ضبط، اور تہواروں کا رنگ ہمیشہ دلکش ہوتا ہے۔ ان دنوں ڈریگن فیسٹول کی چھٹیاں ہماری عید کی چھٹیوں کا باعث بن گئیں۔ وہ لمحے، جب ہر طرف چھوٹے چھوٹے لال رنگ کے ڈریگن ہوا میں اُڑ رہے تھے، اور لوگوں کی مسکراہٹیں عید کے دن کی خوشیوں جیسی تھیں، دل نے سوچا، شاید دنیا کے سبھی تہوار دلوں کو جوڑنے کا ہنر جانتے ہیں۔
    ‎یہاں جب میں نے قربانی کے جانوروں کے لیے بنائے گئے “شیرٹرز” کو دیکھا، تو وہ مناظر نہ صرف مجھے حیران کن لگے، بلکہ دل میں ایک گہری سوالیہ فکر بھی جاگ اٹھی: “کیا واقعی قربانی کے جانوروں کی نگہداشت اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے جتنی ان کے مقصد کو پورا کرنے کی؟” چین میں، جہاں ہر کام کی ایک سلیقے سے ترتیب ہوتی ہے، قربانی کے جانوروں کی دیکھ بھال کا نظام بھی کسی شاندار ترتیب کی مانند تھا، جو نہ صرف جدیدیت کا عکاس تھا، بلکہ انسانیت کے رنگ میں ڈوبا ہوا تھا۔
    ‎لنشیا کے قریب ایک ایسا فارم دیکھنے کا موقع ملا جہاں قربانی کے جانوروں کی دیکھ بھال کی جاتی تھی۔ یہ فارم ایک جدید شیلف اسٹائل کی طرح تھا، جہاں ہر چیز اپنے مخصوص مقام پر رکھی ہوئی تھی۔ جانوروں کے لیے مخصوص “شیرٹرز” یعنی پناہ گاہیں ایسی بنائی گئی تھیں کہ نہ صرف انہیں آرام دہ زندگی گزارنے کا موقع ملتا، بلکہ ان کی صحت اور صفائی بھی بہت اچھے طریقے سے یقینی بنائی جاتی تھی۔ چھوٹے، کشادہ باڑے جہاں ہر بکرے اور بھیڑ کے لیے الگ الگ جگہ مختص کی گئی تھی، وہاں کی صفائی قابل ذکر تھی۔ ان “شیرٹرز” میں جدید آٹو میٹک صفائی کے نظام لگے ہوئے تھے، جن کی مدد سے جانوروں کی جگہیں دن بھر صاف اور خشک رہتی تھیں۔
    ‎سب سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ یہ فارم صرف جانوروں کی دیکھ بھال پر ہی نہیں، بلکہ ان کی نفسیاتی حالت پر بھی دھیان دے رہا تھا۔ ایک مخصوص “ریلیکس زون” تھا جہاں جانور ایک دوسرے کے ساتھ آزادانہ طور پر وقت گزار سکتے تھے۔ اس علاقے میں کچھ درخت اور گھاس بھی اُگائی گئی تھی تاکہ جانوروں کو قدرتی ماحول کا تھوڑا سا احساس ہو سکے۔
    ‎جہاں تک بات ہے جانوروں کی صحت کی، تو یہاں ہر جانور کی مکمل میڈیکل ہسٹری محفوظ رکھی جاتی تھی۔ فارم میں ایک چھوٹا سا کلینک بھی تھا، جہاں جانوروں کو باقاعدگی سے چیک کیا جاتا تھا۔ جانوروں کی کوئی بھی بیماری فوراً پتہ چل جاتی تھی، اور انہیں بہترین علاج فراہم کیا جاتا تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ چین میں، جہاں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بہت زیادہ ہے، وہیں یہاں کے فارموں میں “ڈیجیٹل ہینڈلنگ” کا استعمال بھی کیا جاتا ہے، یعنی جانوروں کی صحت کے تمام ریکارڈ آن لائن محفوظ ہوتے ہیں، اور اگر کسی جانور کو کسی بھی قسم کی طبی مدد کی ضرورت ہوتی ہے، تو فارم کی میڈیکل ٹیم فوراً وہاں پہنچ جاتی ہے۔
    ‎یہ نظام اتنا محنتی اور نظم و ضبط سے بھرا ہوا تھا کہ مجھے لگتا تھا جیسے ہم کسی اعلیٰ معیار کے جانوروں کے لیے مخصوص فلاحی ادارے میں ہیں، جہاں ان کی ہر ضرورت کو بڑی باریکی سے سمجھا گیا ہے۔ یہاں قربانی کے جانوروں کی نگہداشت میں یہ جدید طریقے نہ صرف چینی معاشرت کی ترقی کو ظاہر کرتے ہیں، بلکہ وہ اسلامی تصورِ قربانی میں بھی ایک نیا پہلو شامل کرتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہوتی ہے جہاں جانور عید کی آمد تک اپنی زندگی کے آخری ایام گزار رہے ہوتے ہیں۔
    ‎ عیدالاضحیٰ کے موقع پر یہاں کسی کو یہ پرواہ نہیں تھی کہ کس جانور کی قیمت کتنی ہے یا کون سا جانور سب سے خوبصورت ہے۔ یہاں قربانی کا اصل مقصد اپنی قربانی کی نیت اور ایمان کی گہرائی تھی۔ کسی کی نظر اپنے جانور کے وزن اور قیمت پر نہیں تھی، بلکہ اس بات پر تھی کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے اپنے حصے کی قربانی کس طرح ادا کر رہا ہے۔ لوگوں کی آپس میں مقابلہ بازی یا نمائش کا کوئی رواج نہیں تھا، بلکہ سکون اور خاموشی میں قربانی کی روح کی تکمیل ہو رہی تھی۔
    ‎چینی مسلمان اپنے طور پر عیدالاضحیٰ کو مناتے ہیں، مگر ان کا انداز ہمارے پاکستانیوں سے تھوڑا مختلف ہوتا ہے۔ یہاں اذان کی وہ گونج نہیں ہوتی جو ہمارے محلے کی مساجد سے ہر عید کی صبح سنائی دیتی ہے، نہ ہی بازاروں میں وہ عید کی خوشبو اور خریداروں کا ہجوم ہوتا ہے۔ یہ سکون، یہ ترتیب، شاید چین کی تہذیب کا حصہ تھا، جہاں ہر چیز کا ایک نظم اور ڈھنگ ہوتا ہے لیکن اس سکون میں ایک چیز تھی جو دل کو چھو جاتی تھی: قربانی کی روح۔
    ‎ہماری عید میں، جہاں ہر گلی میں قربانی کے جانوروں کی قیمتوں پر منڈیاں سجتی ہیں، وہاں چین میں قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت بھی بڑی ترتیب سے ہوتی ہے۔
    ‎چینی مسلمان اس دن کی نماز بڑی خاموشی سے ادا کرتے ہیں۔ مسجدوں میں داخل ہوتے ہی ایسا لگتا ہے جیسے یہ ایک پرانا خواب ہو، جہاں لوگوں کی مسکراہٹیں اور خاموشی سے کی جانے والی عبادتیں دل کی گہرائیوں میں اتر رہی ہوں۔ یہاں کی مساجد میں اذان کے بلند آواز کا فقدان تھا، لیکن یہاں کی خاموش عبادت نے مجھے ایک نئے روحانی پہلو سے آشنا کیا۔ ان کی عبادت میں ایک لطافت اور سکون تھا، جو ہماری مصروف زندگی سے کہیں دور تھا۔
    ‎پھرعید کی دن کی روایت ہے کہ خاندان کے ساتھ مل بیٹھ کر گوشت کے پکوان بنائے اور کھائے جاتے ہیں۔ یہاں بھی یہی منظر تھا ۔ چینی لوگ نہ صرف اپنے گھر والوں کو، بلکہ اپنے پڑوسیوں اور قریبی عزیزوں کو بھی بلاتے ہیں۔ چینی مسلمان اپنے مذہب کے ساتھ وہ خوبصورت ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں کہ ان کے طرز زندگی میں کبھی فرق نہیں آتا۔ وہ اپنے دلوں میں اللہ کی رضا اور قربانی کے جذبے کو محفوظ رکھتے ہیں، اور اپنی زندگی میں سکون اور ترتیب کے ساتھ اس پر عمل کرتے ہیں۔
    ‎چین میں عیدالاضحیٰ کا جشن ہمارے لیے ایک نیا تجربہ تھا۔ یہاں کا ہر منظر، ہر عمل ایک نئے رنگ میں رنگا ہوا تھا۔ وہ خاموشی، وہ ترتیب، وہ عبادت کا راز، ہمارے لئے نئی روشنی تھا۔ شاید ہم نے کبھی قربانی کو اتنی خاموشی اور اتنی گہرائی سے نہیں سمجھا، لیکن چین کے مسلمانوں نے اس عمل کو ایک نیا معنی دے دیا تھا۔
    ‎یہاں کی عید نے مجھے یہ سکھایا کہ عید کا جو اصل مقصد ہے، وہ صرف گوشت کی تقسیم یا جشن کا اہتمام نہیں، بلکہ اللہ کے ساتھ قربت کا ایک راستہ ہے، جو کہ ہر جگہ ایک الگ رنگ میں دکھائی دیتا ہے۔ اور یہ وہ رنگ تھا جو چین میں، ان خاموش لمحوں میں، میں نے محسوس کیا۔
    ‎یہاں، عید کی قربانی کا مقصد صرف گوشت نہیں تھا، بلکہ ایک نیا پیغام تھا سکون، عبادت، روحانیت کا اور میں یہ سوچ رہی تھی کہ
    ‎شاید یہی وہ عالمگیر سچائی تھی، جو تہذیبوں کی دیواروں سے ماورا ہو کر، خاموشی سے میرے دل کے دروازے پر دستک دے رہی تھی کہ عید کا اصل جشن دل میں اترتی ہوئی اُس روشنی کا نام ہے، جو قربتِ خداوندی سے روشن ہوتی ہے۔

  • پاکستان کا  قرضہ760 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا

    پاکستان کا قرضہ760 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا

    اسلام آباد:(کنزیو مر واچ نیوز) مالی سال 2025 کے پہلے9 ماہ کے دوران پاکستان کے عوامی قرضے میں 6.7 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو0 76کھرب روپے سے تجاوز کرگیا۔اقتصادی سروے 2024-25 کے مطابق اس میں 515.18 کھرب روپے کا ملکی قرضہ اور 244.89کھرب روپے کا بیرونی قرضہ شامل ہے۔مارک اپ کے اخراجات نے مکمل سال کے بجٹ تخمینے کا 66 فیصد (6,439 ارب روپے) استعمال کیا جس کا زیادہ تر حصہ(5,783 ارب روپے) ملکی قرض پر تھا۔حکومت نے جولائی تا مارچ کی مدت میں قرض کی سروسنگ پر 64.39 کھرب روپے خرچ کیے جو پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں کم رہا جس کی بنیادی وجہ بنیادی سرپلس میں اضافہ تھا۔حکومت نے قرض کی پختگی کو طول دینے اور قلیل مدتی ادائیگی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے طویل مدتی آلات جیسے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (PIBs) اور سکوک پر انحصار کیا۔اس حکمت عملی کے تحت 2.4 کھرب روپے کے ٹریژری بلز (T-bills) کو ریٹائر کیا گیا جب کہ 2 سالہ زیرو کوپن PIB اور 10 سالہ سکوک بھی متعارف کرایا گیا۔بیرونی قرضہ مارچ 2025 کے اختتام پر 87.4 بلین امریکی ڈالر رہا جو جاری مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں تقریباً 883 ملین امریکی ڈالر کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان کے بیرونی قرضے کا زیادہ تر حصہ طویل مدتی اور رعایتی قرضوں پر مشتمل ہے جو زیادہ تر کثیر جہتی اور دو طرفہ شراکت داروں سے حاصل کیے گئے ہیں۔

  • پی ٹی آئی کی بجٹ پرحکومت کوٹف ٹائم دینے کی تیاری

    پی ٹی آئی کی بجٹ پرحکومت کوٹف ٹائم دینے کی تیاری

    اسلا م آ باد (کزیومر واچ نیوز)پی ٹی آئی نےبجٹ پرحکومت کوٹف ٹائم دینےکے لیے احتجاج کی تیاری کرلی،قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس طلب کرلیا گیا۔پارلیمانی پارٹیوں کا مشترکہ اجلاس پارلیمنٹ ہاوس میں ہوگا،ایوان بالا اور زیریں کے بجٹ اجلاسوں کی حکمت عملی طے کی جائے گی،تمام ارکان قومی اسمبلی و سینیٹر کو پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اجلاس میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج زیرغور لایا جائے گا۔اس حوالے سےبیرسٹرگوہرکا کہنا ہے کہ بجٹ کے خلاف اپنا بھر پوراحتجاج ریکارڈ کرائیں گئے،بجٹ میں کفایت شعاری اور مہنگائی کنٹرول کرنے کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے،نہ کوئی ریفارمز لائی جا رہی ہے اور نہ ہی معیشت کی بہتری کے لیے کوئی اور بڑا اقدام نظر آرہا ہے۔

  • سندھ :بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا جائے گا،وزیراعلیٰ

    سندھ :بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا جائے گا،وزیراعلیٰ

    کراچی (کنزیومر واچ نیوز)وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا جائے گا۔ سندھ کا بجٹ13 جون کو صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ میڈیا سے گفتگو میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ مہنگائی کے باعث عوام پر بوجھ بڑھ گیا ہے، بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا جائے گا، وفاق سے حتمی اعدادوشمار کے بعد تنخواہیں بڑھانے کا فیصلہ کریں گے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ کسی ایک شخص کے جیل میں ہونے پر تحریک نہیں چلائی جاتی، عوامی مسائل بہت ہیں، ایک معاملے پر تحریک چلائیں گے تو وہ ناکام ہوگی، عوامی مسائل پر وہ بات نہیں کرتے۔ پی ٹی آئی والوں کو عدالتوں پرتوجہ دینی چاہیے، وہاں کیسز کو مضبوط کرنا چاہیے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سیلاب متاثرین کیلئے 21 لاکھ گھروں میں سے10لاکھ گھر مکمل ہوچکے، بلاول بھٹو کی ہدایت پر صاف پانی، سولر انرجی پرخاص توجہ دے رہے ہیں۔

  • عدالت عمران خان کو رہا کردے تو اس کی حمایت کروں گا، بلاول بھٹو

    عدالت عمران خان کو رہا کردے تو اس کی حمایت کروں گا، بلاول بھٹو

    لندن (کنزیومرواچ نیوز)پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی ) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر عدالت بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ضمانت پر رہا کردے تو میں اس کی حمایت کروں گا، ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔بلاول بھٹو کی جانب سے یہ بیان برطانوی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران دیا گیا۔انٹرویو میں اینکر نے کہا کہ یہ پوسٹ کیا جا رہا ہے 11 جون کو عمران خان کو عدالت کی جانب سے ضمانت دی جا سکتی ہے۔اس سوال پر جواب دیتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر عدالت بانی پی ٹی آئی کو ضمانت پر رہا کر دے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں کیونکہ ضمانت اُن کا حق ہے، میں اس کی حمایت کروں گا، میں اور میری پارٹی اس کو چیلنج نہیں کریں گے۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر کیس کا ایک قانونی طریقہ کار ہے اور یہ بھی اسی عمل کا حصہ ہے۔

  • کراچی، لانڈھی اور ملیر کے دھنسنے کا خطرہ بڑھنے لگا

    کراچی، لانڈھی اور ملیر کے دھنسنے کا خطرہ بڑھنے لگا

    لاہور:(کنزیومر واچ نیوز)سنگاپور کی نانینگ ٹکنالوجیکل یونیورسٹی کے ماہرین ارضیات دعویٰ کیا ہے کہ کراچی کے علاقے لانڈھی، ملیر 2014 سے 2020 کے دوران 15.7سینٹی میٹر دھنس چکے ہیں۔ماہرین کی رپورٹ کے مطابق ان علاقوں کے دھنسنے کی رفتارچینی شہر تیانجن کے بعد دنیا میں تیز ترین ہے، اس کی وجہ زیرزمین پانی نکالنا اور نئی بلند عمارتوں کی تعمیر ہے۔کراچی کا تین ارضی پلیٹوں انڈین، یورشین اور عربین کے باہمی ٹکراؤ کے مقام پر قریب واقع ہونا بھی وجہ ہے۔رپورٹ کے مطابق پانی نکالنے اور عمارتیں بنانے کا سلسلہ جاری رہا تو مستقبل میں شہرکے مزید علاقے دھنسنے کے علاوہ زلزلے آ سکتے ہیں۔اس کے سدباب کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے، جن میں سمندری پانی میٹھا بنانے کے پلانٹ لگانا اور بلند عمارتوں کی تعمیر پر پابندی شامل ہیں۔

    f

  • کراچی اور اورماڑہ میں زلزلے کے جھٹکے

    کراچی اور اورماڑہ میں زلزلے کے جھٹکے

    کراچی(کنزیومر واچ نیوز) ملیر اور بلوچستان کے شہر اورماڑہ میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
    محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں ملیرکےمختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گیے، زلزلےکی شدت 3.5 اور گہرائی 9 کلومیٹر تھی۔
    دوسی جانب بلوچستان کے شہر اورماڑہ میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔
    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق اورماڑہ میں اتوارکی شام 5 بج کر 14منٹ پر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، زلزلے کی شدت 3.1 اور گہرائی 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کامرکز اورماڑہ سے 118کلومیٹرجنوب مشرق میں تھا۔ مکران کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق زلزلے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

  • عیدالاضحیٰ؛ قصائی نخرے دکھانے لگے، نرخ بڑھا دیے

    عیدالاضحیٰ؛ قصائی نخرے دکھانے لگے، نرخ بڑھا دیے

    کراچی (کنزیومر واچ نیوز)عید قربان کے قریب آتے ہی پیشہ ور قصائیوں نے وی آئی پی جانور کے ساتھ ساتھ عام جانور ذبح کرنے کےلیے بھی نرخ بڑھا دیے جبکہ اناڑی قسائی بھی میدان میں آگئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شہریوں نے جانور تو خرید لیا اب ذبح کروانے کے لیے قصائی کی تلاش شروع کردی ہے۔ عید قربان کے تین دن قصائیوں نے ڈبل عید جمع کرنے کی ٹھان لی۔ پیشہ ور قصائیوں کے ساتھ ساتھ ٹولیوں کی شکل میں دور دراز علاقوں سے اناڑی قصائیوں نے بھی شہر میں ڈیرے ڈال لیے ہیں۔رپورٹس کے مطابق قصابوں نے لاہور میں پہلے دن بکرا ذبح کرنے کے 10 ہزار، گائے 18 ہزار اور دوسرے دن بکرے کے 6 ہزار جبکہ گائے ذبح کرنے کے 10 ہزار نرخ مقرر کیے ہیں۔پیشہ ور قصائیوں کے نرخ دیکھ کر اناڑی قسائیوں نے بھی شہریوں کی جیبوں پر ہاتھ صاف کرنے کی ٹھان لی ہے اور آدھے پیسوں میں بڑا اور چھوٹا جانور ذبح کرنے کی بکنگ شروع کر رکھی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ قصابوں کی جانب سے وی آئی پی جانوروں کی قربانی کےلیے منہ مانگی اجرت طلب کی جارہی ہے۔

  • ن لیگ کےاہم رہنما کی پی ٹی آئی میں شمولیت کا امکان

    ن لیگ کےاہم رہنما کی پی ٹی آئی میں شمولیت کا امکان

    اسلام آباد:(کنزیومر واچ نیوز)مسلم لیگ ن کے اہم رہنما کی پی ٹی آئی میں شمولیت کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق سابق گورنر اور مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف کے سابق ترجمان زبیر عمر کی پی ٹی آئی میں شمولیت کا امکان ہے۔ زبیر عمر کی پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت سے متعلق پی ٹی آئی پیٹرن ان چیف سے مشاورت مکمل کر لی گئی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی سینئر قیادت نے تصدیق کی ہے کہ اس سلسلے میں پیٹرن انچیف عمران خان نے گرین سگنل دے دیا ہے۔ زبیر عمر کو عید کے بعد باقاعدہ طور پر پی ٹی آئی کا حصہ بنائے جانے کا امکان ہے۔