اسلام آباد:
ملک میں مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافے کے بعد حالیہ ہفتے 0.26 فیصد کمی واقع ہوگئی۔
سالانہ بنیادوں پرمہنگائی کی شرح 5.08 فیصد سے کم ہوکر3.97 فیصد ہوگئی، حالیہ ہفتے میں 18 اشیاء مہنگی اور 10 اشیاء سستی ہوئیں جبکہ 23 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں، ایک ہفتے میں ٹماٹر 13 فیصد سستے ہوئے، چکن 10.28 فیصد، پیاز 4.9 فیصد، کیلا 1.68 فیصد مہنگا ہوگیا۔
وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جمعہ کو مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران ملک میں مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر 44 ہزار 176 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والا طبقہ متاثر ہوا اس طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں 4.15 فیصد اضافہ ہوا۔
وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے کے دوران پیاز کی قیمت میں 4.93 فیصد، چکن کی قیمتوں میں 10.28 فیصد، چینی کی قیمت میں 0.95 فیصد، گڑ کی قیمتوں میں 0.58 فیصد، کیلے کی قیمتوں میں 1.68 فیصد، دال مونگ کی قیمتوں میں 1.08 فیصد، ڈیزل کی قیمتوں میں 1.18 فیصد، پٹرول کی قیمتوں میں0.21 فیصد، جلانے والی لکڑی کی قیمتوں میں 0.55 فیصد اورگھی کی قیمتوں میں0.28 فیصد اضافہ ہوا۔
دال چنا کی قیمتوں میں 0.34 فیصد، دال ماش کی قیمتوں میں0.05 فیصد، ٹماٹر کی قیمتوں میں 13.48 فیصد، آلو کی قیمتوں میں 5.59 فیصد، انڈوں کی قیمتوں میں 0.23، ایل پی جی کی قیمتوں میں 0.18 فیصد، بجلی کی قیمتوں میں 7.48 فیصد، لہسن کی قیمتوں میں 0.21 فیصد اور آٹے کی قیمتوں میں 0.09 فیصد کمی واقع ہوئی
Blog
-

چکن، پیاز اور کیلا مہنگا، ٹماٹر 13 فیصد سستا
-

ڈیوٹی میں رعایت سے درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کا امکان
کسٹم ڈیوٹی میں رعایت کے باعث ڈی ایٹ ممالک سے درآمدی اشیاء کی قیمتیں کم ہونے کا امکان ہے۔
ایف بی آر کے مطابق درآمدی آٹمز میں کھانے پینے اور روز مرہ کے استعمال کی اشیاء شامل ہیں، پاکستان میں سات ملکوں سے کم ڈیوٹی پر اشیاء درآمد کی جا سکیں گی۔
کم امپورٹ ڈیوٹی کے فیصلے سے مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے کا امکان ہے، آٹھ ممالک سے درآمدی ٹیرف لائن پر کسٹمز ڈیوٹی میں رعایت کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔
بنگلا دیش، مصر، انڈونیشیا، ایران، ملائیشیا، نائجیریا اور ترکی کے لیے رعایت دی گئی، ایف بی آر ان ملکوں سے اشیاء کی درآمد پر ڈیوٹی میں مرحلہ وار کمی کرے گا۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ 2026 میں درآمدی ائٹمز پر کسٹمز ڈیوٹی کم ہوکر 12.50 سے 20 فیصد تک ہوگی ،ایف بی آر
2027 میں درآمدی آئٹمز پر کسٹمز ڈیوٹی 11.25 سے 17.50 فیصد تک ہوگی، 2028 میں درآمدی ائٹمز پر کسٹمز ڈیوٹی 10 سے 15 فیصد تک ہوگی۔ -

مختلف شہروں میں مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں اضافہ
پشاور میں برائلر مرغی کی قیمت میں مزید 25 روپے کا اضافہ ہو گیا ہے، فی کلو زندہ مرغی کی قیمت 485 سے بڑھ کر 510 روپے ہو گئی ہے۔
کراچی میں مرغی کی قیمت میں بڑا اضافہ ہوگیا ہے، دکانداروں نے گزشتہ روز کے سرکاری نرخ 635 کو نظرانداز کرتے ہوئے من مانے نرخ وصول کرنا شروع کر دیے ہیں۔
شہر قائد میں مرغی کا گوشت 700 سے 740 روپے تک فروخت ہو رہا ہے، اس طرح ایک ہفتے کے دوران مرغی کی قیمت میں 100 روپے کلو کا اضافہ ہو گیا ہے، انڈوں کی سرکاری قیمت 300 روپے مقرر ہے لیکن فی درجن انڈے 380 روپے میں فروخت کئے جا رہے ہیں۔
زندہ مرغی کی سرکاری قیمت 410 روپے مقرر ہے لیکن ہول سیل میں زندہ مرغی 480 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔
لاہور میں زندہ برائلر مرغی کا تھوک ریٹ 397 مقرر کیا گیا ہے، سرکاری نرخنامے میں پرچون ریٹ 411 روپے کلو ہے جبکہ برائلر گوشت کی قیمت 595 کی سطح پر برقرار ہے، انڈوں کی فی درجن قیمت 329 روپے پر مستحکم ہے، منافع خور سرکاری نرخوں کو نظرانداز کرکے من مانے ریٹ وصول کررہے ہیں۔
ملتان میں برائلر مرغی کا تھوک ریٹ 398، زندہ برائلر کا پرچون ریٹ 412، برائلر گوشت کی فی کلو قیمت 595 روپے ہے جبکہ انڈوں کی فی درجن قیمت 317 روپے ہے۔ گزشتہ روز اسلام آباد کے نواحی علاقوں میں مرغی کا گوشت 730 روپے میں فروخت ہوتا رہا۔ اس طرح ملک کے دیگر شہروں میں مرغی کی قیمتوں میں فرق موجود ہے۔ -

سب میرین کیبل میں خرابی، ملک میں انٹرنیٹ کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ
اسلام آباد: سب میرین کیبل میں خرابی کے باعث ملک میں انٹرنیٹ کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق قطر کے قریب سب میرین کیبل اے اے ای ون میں خرابی ہوئی ہے۔
پی ٹی اے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کیبل میں خرابی سے انٹرنیٹ، براڈ بینڈ صارفین کو مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق کیبل پاکستان کوبین الاقوامی انٹرنیٹ ٹریفک سے جوڑنے والی 7 زیر سمندر کیبلز میں سے ایک ہے۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ٹیمیں خرابی دورکرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور پی ٹی اے کی جانب سے صورتحال کی نگرانی کی جارہی ہے۔ -

اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کے بعد مندی، انڈیکس ایک لاکھ 16 ہزار پوائنٹس کی سطح پر آگیا
کراچی:
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ابتدائی تیزی کے بعد مندی کا رجحان ہے، جس کے سبب انڈیکس ایک لاکھ 16 ہزار پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔
کاروباری ہفتے کے آخری روز بازارِ حصص میں مارکیٹ کا آغاز 622 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ ہوا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر 117742 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔
بعد ازاں مارکیٹ میں مندی کا رجحان آیا اور پی ایس ایکس میں 258، 1258 اور پھر 482 پوائنٹس کی گراوٹ دیکھی گئی، جس کے بعد اسٹاک ایکسچینج کا جمعہ کے روز پہلا سیشن ختم ہونے کے وقت کے ایس ای 100 انڈیکس گھٹ کر 116636 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔ -

اسلام آباد ائیرپورٹ کی نجکاری کیلئے فنانشل بڈ، ترک کمپنی کی بڑی پیشکش
نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کیلئے فنانشل بڈ کھولی گئی۔
فنانشل بڈ کھولنے کی تقریب کراچی میں پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی ہیڈکوارٹر میں ہوئی جس دوران بڈ میں شارٹ لسٹ ہونے والی واحد ترک کمپنی نے حصہ لیا۔
ترجمان پاکستان ائیرپورٹ اتھارٹی کے مطابق کمپنی نے اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی آمدنی کا 47.25 فیصد حصہ دینےکی پیشکش کی ہے۔
پی اےاےذرائع کا بتانا ہے کہ ترک کمپنی کی پیشکش کے جائزےکیلئےٹرانزیکشن ایڈوائزرآئی ایف سی میں بھیجی جائےگی، آئی ایف سی اپنی جائزہ رپورٹ 9 جنوری تک پی اےاے کوپیش کرےگا تاہم ترک کمپنی کی پیش کش کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی۔ -

کراچی، ایف بی آر کی پوائنٹ آف سیلز کی خلاف ورزیوں پر کارروائیاں شروع
کراچی:
ایف بی آر کی پوائنٹ آف سیلز کی خلاف ورزیوں کے مرتکب بیکریوں، کار شورومز اور پینٹ کی دکانوں کے خلاف تابڑ توڑ کاروائیوں کا آغاز کردیا گیا.
ریجنل ٹیکس آفس ون کی 3 مختلف کاروائیوں میں بیکری، کار شوروم اور پینٹ کی دکانیں سیل کردی گئیں، ریجنل ٹیکس آفس ون کی جانب سے صدر اور کلفٹن کی 2معروف بیکریوں کو پوائنٹ آف سیلز قواعد کی خلاف ورزی پر سیل کیا گیا۔
جبکہ آر ٹی او ون کے زون تھری کے دائرہ کار میں آنے والے خالد بن ولید روڈ میں واقع کار شوروم کو بھی پی او ایس رسید جاری نہ کرنے پر سیل کیا گیا۔
اسی طرح تیسری کاروائی میں معروف پینٹ شاپ کو پی او ایس سے منسلک نہ ہونے پر سیل کیا گیا۔ -

2025 میں کتنے سورج اور چاند گرہن ہوں گے؟
محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ سال 2025 میں دو سورج اوردو چاند گرہن ہوں گے۔ رواں سال پہلا چاند گرہن 14 مارچ کو ہوگا جبکہ پہلا سورج گرہن 29 مارچ کو ہوگا۔
محکمہ موسمیات کے بیان کے مطابق پہلا چاند گرہن پاکستانی وقت کے مطابق صبح8:57 منٹ پر شروع ہوگا۔ پاکستان میں دن ہونے کی وجہ سے چاندگرہن دکھائی نہیں دے۔
رواں سال کا دوسراجزوی چاند گرہن 7 اور 8 ستمبر کی درمیانی شب کو ہوگا۔چاند گرہن رات 8:28 منٹ پرشروع اور 1 بج کر 55 منٹ پراختتام پذیرہوگا۔ یہ چاند گرہن پاکستان سمیت،یورپ،ایشیاء،افریقا میں دکھا جا سکے گا۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ سال 2025 میں پہلا سورج گرہن 29 مارچ کو ہوگا۔یہ سورج گرہن پاکستان میں دکھائی نہیں دے گا۔
سال 2025 میں دوسرا سورج گرہن 21 سے 22 ستمبرکے درمیان ہوگا۔پاکستان میں رات ہونے کی وجہ سے سورج گرہن پاکستان میں دکھائی نہیں دے گا۔ سورج گرہن پاکستانی وقت کے مطابق رات 11 بجکر 30 منٹ پرشروع اور اختتام رات 2بجکر54منٹ پر ہوگا۔ -

وزیراعظم کا مہنگائی 81 ماہ کی کم ترین شرح پر پہنچنے پر اظہار اطمینان
وزیراعظم شہباز شریف نے مہنگائی 81 ماہ کی کم ترین شرح پر پہنچنے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دسمبر 2024 میں مہنگائی کی شرح 4.1 فیصد پر آنا خوش آئند ہے، میکرو اکنامک استحکام حاصل کرلیا ہے لیکن یہ صرف آغاز ہے، ہم نے اُڑان پاکستان جیسے منصوبے کا آغاز کیا، یہ منصوبہ پاکستان کو دنیا کے صف اول ممالک کی صف میں کھڑا کر دے گا۔
وزیراعظم نے مہنگائی 81 ماہ کی کم ترین شرح پر پہنچنے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 24 سال بعد کرنٹ اکاﺅنٹ سرپلس ہوا، افراط زر 38 فیصد سے کم ہو کر 4.1 فیصد پر آگیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ دنیا کی دوسری بہترین مارکیٹ بن چکی ہے، پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 13 فیصد پر آ گیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ حکومتی معاشی اور مالیاتی ٹیم کی محنت سے معیشت استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے، ان شااللہ عوام کی زندگیوں میں مزید بہتری آئے گی۔ -

گیس لوڈشیڈنگ نے شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا
وزیراعلی سندھ کے معاون خصوصی برائے خوراک و سابق ایم پی اے عبدالجبار خان نے کہا ہے کہ سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ نے حیدرآباد سمیت سندھ بھر کے شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے، سردی کے آغاز کے ساتھ ہی سوئی گیس کی طویل دورانیہ کی لوڈشیڈنگ کے باعث شہریوں کو روزمرہ کے کاموں کھانا پکانے کے لئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سارا دن گیس نہیں آتی اور اگر گیس آتی ہے تو اس کا پریشر اتنا کم ہوتا ہے کہ نہ تو اس پر کھانا بن پاتا ہے، اس کے علاوہ بچے بھی صبح گھروں میں ناشتے سے محروم ہوجاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ سندھ جوکہ سب سے زیادہ گیس پیدا کرتا ہے لیکن سندھ کے عوام کو گیس کی بنیادی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہے اور خاص طورپر صنعتی علاقوں میں بھی گیس کی شدید بحرانی کیفیت ہے جس کی وجہ سے صنعتیں بھی بحران کا شکار ہیں، کئی صنعتی اداروں میں کام نہ ہونے کے برابر ہے، شفٹیں کم کردی گئی ہیں جس کی وجہ سے بیروزگاری میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورت حال رہی تو پھر مجبورا لوگ لکڑیوں پر کھانا پکانے لگیں گے جو اضافی بوجھ ہو گا، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طورپر اس طرف توجہ دے اور حیدرآباد سمیت سندھ میں گیس کی قلت کا فوری خاتمہ کیا جائے۔