راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے آج ملاقات کا دن تھا تاہم کوئی بھی ان سے ملنے نہ آیاعمران خان سے ملاقات کا دن ہونےکے باوجودکوئی رہنما، وکیل اور فیملی ممبر اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے نہ پہنچا۔مذاکراتی کمیٹی کا کوئی رکن بھی اڈیالہ جیل ملاقات کےلیے نہ پہنچا۔ وکیل فیصل چوہدری کے مطابق مذاکراتی کمیٹی کو ملاقات کی اجازت تاحال نہیں ملی ہے۔جیل ذرائع کے مطابق منگل اور جمعرات بانی پی ٹی آئی سے معمول کی ملاقات کا دن مقرر ہے۔ جیل مینوئل کے مطابق آج ملاقاتوں کا وقت بھی ختم ہوگیا ہے تاہم ملاقات کی اجازت ملنے یا نہ ملنے کے باوجود پارٹی رہنما اور وکلا اڈیالہ جیل پہنچتے ہیں۔
Blog
-

زیادہ ٹیکسز پاکستان کو نہیں چلنے دیں گے، وزیراعظم
کراچی:وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ زیادہ ٹیکس پاکستان کو نہیں چلنے دیں گے تاہم ہمیں آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے پورے کرنے ہیں اور وقت آنے پر آئی ایم ایف کو خیرباد کہیں گے۔پاکستان اسٹاک ایکس چینج کراچی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پہلی بار اسٹاک مارکیٹ کا دورہ کرنے پر خوشی ہوئی ہماری کامیابیاں ٹیم ورک کا نتیجہ ہیں ہمیں اب معاشی نمو کی جانب بڑھنا ہے، اسٹاک مارکیٹ کی تیزی کو اب معیشت کی بہتری کے لیے استعمال کرنا ہے، ماضی میں بھی بڑے خوش نما پروگرام دیکھے اور سنے ہیں۔انہوں ںے کہا کہ زیادہ ٹیکس پاکستان کو نہیں چلنے دیں گے، ہمیں آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے پورے کرنے ہیں تاہم وقت آنے پر آئی ایم ایف کو خیرباد کہیں گے۔انہوں ںے کہا کہ ایک زمانے میں کراچی کی روشنیاں ختم ہوگئی تھیں مگر اب کراچی میں دوبارہ روشنیاں آچکی ہیں کراچی ہمارا تجارتی، فنانشل اور ایکسپورٹس کا مرکز ہے، اب ہم اڑان پاکستان کے ذریعے ملکی معیشت کو مزید اوپر لے کر جائیں گے۔قبل ازیں گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری اور وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے پی اے ایف بیس فیصل کراچی میں وزیراعظم کا استقبال کیا۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر خزانہ اورنگزیب، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت علی پرویز ملک بھی ان کے ہمراہ پہنچے۔وزیراعظم پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے بعد کے پی ٹی اور آغا خان یونیورسٹی میں ہونے والی تقاریب میں شرکت کریں گے۔سرکاری ذرائع کے مطابق امکان ہے کہ وزیراعظم سے بزنس کمیونٹی اور دیگر وفود ملاقاتیں بھی کریں گے۔
-

چین کی سرزمین پر ایک پاکستانی لڑکی
ارم زہرا کون ہیں؟
ارم زہرا کراچی کی ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں، انھوں نے کراچی یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا ا ور روزنامہ “قومی اخبار” اور “دھوم چینل” میں خدمات انجام دیں۔ نثر نگاری میں نام پیدا کرنے کے بعد جب شاعری کی طرف رجوع کیا تو وہ کراچی کے مشاعروں کی ایک اہم ضرورت بن گئیں۔ حساس دل کی مالک ہونے کی وجہ سے انہوں نے انسانی جذبوں سے لبریز ایسی شاعری کی جو جلد ہی ادبی اور عوامی حلقوں میں مقبول ہو گئی۔ ہر مشاعرے میں ان کی پراثر شاعری کے لیے واہ واہ کی صدائیں گونجتیں۔ بھرپور عوامی پذیرائی نے ان کے حوصلے کو بلند کیا اور انہوں نے پانچ کتابیں لکھ ڈالیں، جن میں دو مجموعہ کلام *”اف اللہ”* اور *”دل کی مسند”* شامل ہیں۔شہرِ کراچی کے حوالے سے ان کی تخلیقات میں “میرے شہر کی کہانی” جیسا اہم ادبی کام شامل ہے، جب کہ ان کا ناول *”چاند میرا منتظر”* اور افسانوی مجموعہ *”آدھ کھلا دریچہ”* بھی قارئین میں خاصا مقبول ہوا۔ ارم زہرا ان دنوں چین میں مقیم ہیں اور اب *”کنزیومر واچ”* کے لیے ہفتہ وار کالم لکھیں گی، جو بنیادی طور پر ایک سفرنامہ ہےکراچی ایئرپورٹ کی چمکتی دمکتی روشنیوں میں ایسا جادو ہے جو نہ صرف مسافروں کے قدموں کو نئی راہوں پر لے جانے کی دعوت دیتا ہے بلکہ دلوں میں ان کہی کہانیاں بنا دیتا ہے ۔ یہ وہی لمحہ تھا جب میں اور میرے شریک حیات ، ایک نئے سفر کی شروعات کرنے جا رہے تھے۔ ہماری منزل وہ دیس ہے جسے دنیا “چین ” کے نام سے جانتی ہے جہاں قدیم تہذیب کی خوشبو اور جدیدیت کی روشنی قدم , قدم پر محسوس ہوتی ہے چین کا نام سنتے ہی ہمیشہ میرے ذہن میں رنگ برنگی تصاویر ابھرتی تھیں پرانے بادشاہوں کے محلات، اونچی دیواریں، جدید ترین ٹیکنالوجی , قدیم دیوار چین کی بلندیاں، بلند و بالا پہاڑوں کا سلسلہ, آبشاریں جہاں قدرت اپنے جوبن پر نظر آتی ہے . میری ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ ایک دن میں اس سرزمین کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھوں گی نا کہ ٹک ٹاک کی ریلیز پہ ….. اور جب یہ موقع آیا، تو میں نے اسے دل سے خوش آمدید کہا .کراچی ایئرپورٹ پر مسافروں کی جلد بازی کے ساتھ جذبات کا سمندر نظر آرہا تھا ۔ جہاں والدین کے آنسو، بچوں کی ہنسی، اور دوستوں کی دعائیں اپنے پیاروں کو رخصت کر رہی تھیں ، وہیں میں نے بھی اپنی بہنوں سے وداع لیا ۔ سب کچھ ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی فلم چل رہی ہو۔ اور اس فلم کے مرکزی کردار ہم ہوں …. جہاز نے آہستہ , آہستہ رن وے پر حرکت کی، اور میں نے مسکراتے ہوئے کھڑکی سے نیچے دیکھا۔ کھڑکی والی سیٹ پر میں ہمیشہ ہی قبضہ کر لیتی ہوں. شریک حیات بھی بخوبی جانتے ہیں جب میں معصومیت سے ہمیشہ وہی وعدہ دہراتی ہوں جو کبھی نبھانے کا ارادہ نہیں ہوتا ” واپسی پر آپ کی باری ! جیسے ہی جہاز نے فضا میں بلند ہونا شروع کیا، میں نے سفری دعائیں پڑھیں اور انہی دعاوں کے حصار میں تصوراتی خیالی دنیا میں حقیقت کے رنگ بھرنے لگی…. رات کے اندھیرے میں جہاز کی روشنیوں کا منظر، اور نیچے زمین پر بکھری روشنیوں کی قطاریں، سب کچھ کسی خوبصورت شاعری کا حصہ لگ رہا تھا۔ میں نے اپنے شریک حیات کی طرف دیکھا، جن کی آنکھوں میں مستقبل کے روشن امکانات نمایاں تھے .کراچی سے
بیجنگ کا سفر طویل مگر آرام دہ تھا۔ جیسے ہی جہاز بیجنگ کے قریب پہنچا، دنیا بدل چکی تھی۔ کھڑکی سے نظر آنے والے مناظر کسی اور ہی دنیا کی کہانی سنا رہے تھے۔ قدیم عمارتیں، جدید اسکائی اسکریپرز، اور ان کے درمیان پھیلے باغات۔ یہ شہر ایک عجیب امتزاج تھا، جہاں تاریخ اور جدیدیت نے ایک دوسرے کو گلے لگایا ہوا تھا۔بیجنگ ایئرپورٹ پر اترتے ہی سرد ہوا نے ہمارا استقبال کیا۔ یہاں تو ہوا بھی لگتا ہے ویزہ لے کر آتی ہے ۔ میں نے صاف ستھری ہوا میں ایک طویل سانس لیتے ہوئے سوچا۔ ایئرپورٹ کی وسیع و عریض عمارتیں دیکھ کر دل میں ایک عجیب سی حیرت جاگی۔ چین واقعی وہ ملک ہے جہاں مستقبل کا ہر خواب حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے۔۔ بیجنگ ایئرپورٹ، جو اپنی وسعت اور خوبصورتی کے لیے مشہور ہے، واقعی کسی شاہکار سے کم نہیں تھا۔ ایئرپورٹ پر موجود ہر چیز نہایت منظم اور جدید تھی۔ ۔بیجنگ ایئرپورٹ پر قدم رکھتے ہی ایسا محسوس ہوا جیسے ہم مستقبل کی کسی دنیا میں آ پہنچے ہوں۔ یہ صرف ایک ایئرپورٹ نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کا ایسا شاہکار ہے جہاں ہر چیز اپنی جگہ خودکار اور بے مثال ہے۔داخلے سے لے کر سامان کی ترسیل تک، ہر قدم پر جدت کے مظاہر دیکھنے کو ملے۔ روبوٹ گائیڈز خاموشی سے مسافروں کی مدد کرتے نظر آتے ہیں، اپنے روشن اسکرینوں پر نقشے اور راستے دکھاتے ہوئے، جیسے وہ انسانوں کی جگہ لینے کے لیے ہی بنائے گئے ہوں۔ چیک ان کا نظام مکمل طور پر خودکار تھا، جہاں صرف ایک بارکوڈ اسکین کروا کر آپ کی تمام معلومات کمپیوٹر کے سامنے موجود ہوتی ہیں۔ نہ کوئی قطار، نہ کوئی پیچیدگی بس ایک اسکرین کے سامنے کھڑے ہو جائیں اور باقی کام مشین خود کر لیگی. پھر سیکورٹی چیک کا مرحلہ آیا، جہاں نہ صرف جدید اسکینرز بلکہ مصنوعی ذہانت کے حامل روبوٹ بھی کام کر رہے تھے۔ چہرے کی شناخت کا نظام اتنا تیز تھا کہ پلک جھپکنے میں ہی آپ کی شناخت مکمل ہو جاتی ہے ایئرپورٹ کے اندرونی نظام کا ہر حصہ اتنا مربوط اور منظم تھا کہ ہر کام اپنی جگہ بالکل درست انداز میں انجام پا رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے ایسا لگا کہ ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں ماضی کی مشکلات کو مستقبل کی آسانیوں نے بدل دیا ہو۔یہاں ہمارا تین گھنٹے کا قیام تھا اس لئے اب بھوک کا احساس بھی شدت اختیار کر گیا … جہاز میں حلال کھانے کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہم نے سفر کے دوران صرف فروٹس پر گزارا کیا تھا۔ وہ سیب اور ڈرائی فروٹس جو جہاز کے عملے نے ہمیں بڑی محبت سے دیے تھے، کسی شاہی ضیافت سے کم نہ لگے۔ لیکن بیجنگ کے سرد موسم میں، یہ پھل کافی نہیں تھے۔ دل چاہ رہا تھا کہ کچھ گرم اور خوشبودار مل جائے، جو نہ صرف جسم کو بلکہ روح کو بھی سکون دے۔ہماری نظریں اسٹار بکس پر جا ٹھہریں۔ وہاں پہنچتے ہی کافی کی خوشبو نے ہمیں جکڑ لیا۔ ہم نے “کیپو چینو” کا آرڈر دیا اور جب کافی کا پہلا گھونٹ لیا تو ایسا لگا جیسے زندگی دوبارہ شروع ہو گئی ہو۔ گرم، کریمی، اور چاکلیٹ کے ہلکے ذائقے کے ساتھ یہ کافی، سردی اور تھکن دونوں کے لیے بہترین علاج تھی.”بیجنگ ایئرپورٹ پر قیام مختصر تھا، لیکن اس دوران میں نے محسوس کیا کہ یہ ملک واقعی ترقی کی ایک مثال ہے۔ میری اگلی پرواز وینزو کے لیے تھی، اور میرے دل میں تجسس مزید بڑھ رہا تھا۔ میں سوچ رہی تھی کہ وینزو، جو اپنی کاروباری ذہانت اور قدیم روایات کے لیے مشہور ہے، دیکھتے ہیں مجھے کیا حیرتیں دکھائے گا … ؟”رات کا دوسرا پہر تھا، جب طیارے کی کھڑکی سے جھانکتے ہوئے مجھے وینزو کے جگمگاتے چراغ نظر آئے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی نے زمین پر ستارے بکھیر دیے ہوں۔ میں نے اپنے دل کو تیز دھڑکتا محسوس کیاایک نئی سرزمین، ایک نیا شہر، اور ایک نئی کہانی میرا انتظار کر رہی ہے , ہوا میں ایک عجیب سی خوشبو تھی، مجھے اپنے ارد گرد کسی قدیم روایت کی بازگشت محسوس ہورہی تھی.”میں نے اپنی یادداشت کی ڈائری میں لکھا : چین کے شہر وینزو کا سفر صرف راستوں کی کہانی نہیں ہوگا، بلکہ یہ وقت کے پردے میں چھپے ہوئے خوابوں کی تلاش کا سفر ہوگا۔”جیسے ہی طیارہ زمین پر اترا، میں نے اپنی گھڑی پر وقت دیکھارات کے تین بج رہے تھے، لیکن وینزو کے ایئرپورٹ پر زندگی جاگ رہی تھی۔ یہ شہر شاید کبھی سوتا ہی نہیں۔ میرے ارد گرد اجنبی زبانوں کی سرگوشیاں، مختلف ثقافتوں کی جھلکیاں اور ایک خاص قسم کا سکون تھا، جو کسی نئی جگہ پر پہنچنے پر ہی محسوس ہوتا ہے۔””ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہی ٹھنڈی ہوا نے ہمارا استقبال کیا۔( جاری ہے) -

بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے اقدامات تیز کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے اقدامات تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے وزارت توانائی کی جانب سے مختلف آپشنز پر کام جاری ہے۔وزارت توانائی حکام کے ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر 5 آئی پی پیز سے معاہدے ختم کیے جا چکے ہیں، پانچ معاہدوں کے خاتمہ سے مجموعی طورپر 411 ارب روپے کی بچت ہوگی، پانچوں معاہدوں کے خاتمے سے سالانہ بچت 70 ارب روپے بنتی ہے، بگاس کے 8 پاورپلانٹس کا ٹیرف تبدیل کیے جانے سے بھی اربوں کی بچت کا تخمینہ ہے۔ذرائع مطابق بگاس کے 8 پاور پلانٹس کے ریٹ تبدیلی سے 238 ارب روپے کی بچت ہوگی، بگاس پاور پلانٹس کے ٹیرف تبدیلی کی سالانہ 8 ارب 83 کروڑ روپے بنتی ہے، 16 آئی پی پیز سے نظر ثانی شدہ معاہدوں سے 481 ارب روپے کا فائدہ ہوگا، معاہدوں کے خاتمے یا ان میں تبدیلی کا فائدہ صارفین تک پہنچایا جائے گا، بجلی بلوں پر ٹیکسز کا بوجھ کم کرنےکی بھی تجویز بھی زیر غور ہیں۔
-

تبت میں زلزلہ،95افراد ہلاک،62 زخمی
تبت کے دوسرے سب سے بڑے اور مقدس سمجھے جانے والے شہر شگاتسے کے قریب طاقتور زلزلے کے جھٹکوں سے کم از کم95افراد کی ہلاکت اور 62 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو گئی جب کہ نیپال میں بھی سیکڑوں کلومیٹر دور زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق زلزلے کی شدت کے حوالے سے چینی اور امریکی مانیٹرنگ گروپس نے معلومات فراہم کیں۔چین کے زلزلہ نیٹ ورکس سینٹر کے مطابق زلزلہ منگل کو مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بج کر 5 منٹ پر آیا، اس کی گہرائی 10 کلومیٹر (6.2 میل) اور شدت 6.8 ریکارڈ کی گئی، جب کہ امریکا کے جیولوجیکل سروے نے زلزلے کی شدت 7.1 رپورٹ کی۔رپورٹ کے مطابق 6.8 شدت کا زلزلہ طاقتور اور شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے، ایک سے زیادہ آفٹر شاکس بھی رپورٹ کیے گئے جن میں سب سے زور دار جھٹکے 4.4 شدت کے تھے۔چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ڑنہوا نے اطلاع دی کہ شہر کے آس پاس کے تین علاقوں میں 9 افراد ہلاک ہوئے، اس کے علاوہ کئی عمارتیں منہدم ہو گئیں اور مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔الجزیرہ کی رپورٹر نے بیجنگ سے رپورٹنگ کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ علاقوں سے آنے والی تصاویر میں کئی عمارتیں اور مکانات منہدم دکھائی دے رہے ہیں۔رپورٹر نے بتایا کہ زلزلے کے شکار علاقے دور دراز پہاڑی دیہات ہیں جہاں رسائی مشکل ہے اور اب موسم سرما کے دوران وہاں تک پہنچنا مزید مشکل ہے، علاقے میں شدید سردی ہے اور یہاں سے کوئی بھی بڑا شہر قریب نہیں ہے۔نرطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے چین کے سرکاری میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ زلزلے کے جھٹکوں سے کم از کم 95افراد کی ہلاکت اور 62 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے۔زلزلے کے جھٹکے تبت کے پڑوس میں واقع ملک نیپال اور بھارت کے کچھ حصوں میں بھی محسوس کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق اس خطے میں زلزلے عام ہیں جو کہ فالٹ لائن پر واقع ہے۔شگاتسے کو تبت کے مقدس ترین شہروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، یہ بدھ مت کی ایک اہم شخصیت پنچن لامہ کی روایتی نشست ہے جنہیں دلائی لامہ کے بعد دوسرے نمبر کی روحانی شخصیت قرار دیا جاتا ہے۔ -

شہید اعتزاز حسن کی غیر معمولی جرأت ہمارے لیے اُمید کی کرن ہے۔ وزیراعظم
اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمت اور بہادری کا ایک عمل کئی زندگیوں کو بچا سکتا ہے۔
وطن کے لیے جان قربان کرنے والے طالب علم اعتزاز حسن کی برسی کے موقع پر اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج ہم خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو سے تعلق رکھنے والے پاک مٹی کے فرزند شہید اعتزاز حسن کی شہادت کو یاد کرکے افسردہ ہیں، جن کی غیر معمولی جرأت ہمارے لیے اُمید کی کرن ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ صرف 15 سال کی عمر میں اعتزاز نے بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا اور اپنے اسکول اور ہم جماعتوں کو دہشت گرد حملے سے بچاتے ہوئے اپنی جان قربان کی۔
وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ اعتزاز کا بے لوث اور غیر متزلزل عزم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمت اور بہادری کا ایک عمل کئی زندگیوں کو بچا سکتا ہے۔ اعتزاز کی میراث آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ -

عمران خان، بشریٰ بی بی کیخلاف 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس پر فیصلہ 13جنوری کو سنایا جائے گا
اسلام آباد:
عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس پر فیصلہ ایک مرتبہ پھر موخر کر دیا گیا جبکہ جی ایچ کیو حملہ، سانحہ 9 مئی سمیت 13 کیسز پر سماعت 8 جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔
احتساب عدالت نے آج فیصلے کی تاریخ مقرر کر رکھی تھی تاہم جج ناصر جاوید رانا کی رخصت کے باعث فیصلہ نہیں سنایا جا سکا۔
عدالتی عملے نے بانی پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف چوہدری کو آگاہ کر دیا۔ خالد یوسف چوہدری نے کہا کہ کورٹ اسٹاف نے بتایا ہے کہ فیصلہ آج نہیں سنایا جائے گا، عدالتی عملے نے بتایا ہے فیصلہ سنانے کی اگلی تاریخ آج عدالت میں مقرر کی جائے گی۔
عدالتی عملے نے نیب اور عمران خان کے وکیل کو آگاہ کیا کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس کے فیصلے کے لیے 13 جنوری کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔
کیس کی سماعت اڈیالہ جیل کے بجائے نیب کورٹ جی الیون میں ہوئی۔ فیصلہ سنانے کے لیے عدالت میں ملزمان کی حاضری ضروری ہوتی ہے تاہم بانی پی ٹی آئی کے جیل میں ہونے کی وجہ سے جی الیون سماعت میں ملزمان کی حاضری ممکن نہیں ہو سکی۔ عدالت کی جانب سے فیصلہ سنانے کے لیے نئی تاریخ دیے جانے کا امکان ہے۔
جی ایچ کیو حملہ کیس
جی ایچ کیو حملہ اور سانحہ 9 مئی سمیت 13 کیسز کی سماعت 8 جنوری تک ملتوی کر دی گئی، تمام ملزمان کی عدالت پیشی حاضری لگائی گئی۔
عدالت کے جج امجد علی شاہ ٹریننگ باعث چھٹی پر ہیں اس لیے آج اڈیالہ جیل میں کسی بھی مقدمہ کی سماعت نہیں ہوگی۔ تمام ملزمان کو آج کے لیے حاضری سے استثنا دیا گیا۔ -

سندھ کو محفوظ، مضبوط اور خوشحال بنائیں گے،وزیراعلیٰ سندھ
کراچی:وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی کے مسائل بہت ہیں لیکن ہم نے کافی حل کر دیئے ہیں۔سندھ ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 کے ہائی وے ریسکیو آپریشنز کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو کی ہدایت ہے کہ واٹر سپلائی اور نکاسی ا?ب کی اسکیمیں صوبے بھر میں دینی ہیں۔ آج کا دن ہماری جدوجہد کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے، ہم سندھ کو محفوظ، مضبوط اور خوشحال بنانے کے لیے کوشاں ہیں، ریسکیو 1122 عالمی معیار کی ایمرجنسی خدمات فراہم کرنے کا بہترین اقدام ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 کا 2022ء میں جدید ترین سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا کراچی میں افتتاح کیا تھا، آج ہم ریسکیو 1122 کے سیٹلائٹ اسٹیشنز کا آغاز کر رہے ہیں جو نہ صرف بڑی شاہراہوں اور موٹرویز کے دائرہ کار میں ہنگامی خدمات سرانجام دیں گے بلکہ قریبی آبادیوں کو بھی سہارا فراہم کریں گے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ ریسکیو 1122 سندھ میں ایمرجنسی خدمات کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے، ورلڈ بینک کی معاونت سے یہ منصوبہ شروع کیا گیا تھا اور اب یہ مکمل طور پر سندھ حکومت کے محکمہ بحالی کے تحت کام کر رہا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریسکیو 1122 کے ورکرز کو بین الاقوامی سطح کی اکیڈمی سے مکمل پیشہ ورانہ تربیت دی جاتی ہے، ہم سندھ کے عوام کو اعلیٰ معیار کی ایمرجنسی خدمات فراہم کرنا چاہتے ہیں، سندھ حکومت جدید ترین ریسکیو مشینری، بشمول جدید آلات اور سامان ریسکیو 1122 کو فراہم کر رہی ہے۔انکا مزید کہنا تھا کہ عوام کو ریسکیو 1122 کے ذریعے ایمرجنسی کی صورت میں بے حد فائدہ پہنچے گا، تربیت یافتہ ریسکیو اہلکار اور جدید آلات کا یہ پیشہ ورانہ امتزاج یقیناً قیمتی جانیں بچائے گا، ریسکیو 1122 ضرورت مندوں کو بروقت مدد فراہم کرے گا۔
-

ٹرمپ کو سزا سنانے کیلئے 10 جنوری کی تاریخ مقرر
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی جج نے کاروباری معلومات میں جعلسازی سے متعلق مقدمے میں ٹرمپ پر فرد جرم برقرار رکھی اور سزا سنانے کیلئے 10 جنوری کی تاریخ مقرر کردی۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ نومنتخب صدرکو جیل کی سزا ممکنہ طورپر نہیں سنائی جائے گی۔
دوسری جانب ریپبلکن رہنما کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف عدالتی فیصلے پر اپیل دائر کیے جانے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ مجرم قرار دیے جانے کے باوجود صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے امریکا کے پہلے صدر ہوں گے۔ -

اے آئی کے اثرات، گوگل نے مزید 10 فیصد ملازمین فارغ کر دیئے
کیلیفورنیا: آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کے آنے کے بعد سرچ انجن (گوگل) نے ایک بار پھر بڑی تعداد میں اپنے ملازمین کو نوکری سے فارغ کر دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق گوگل نے اس بار اپنے انتظامی عہدوں سے لوگوں کو فارغ کر دیا۔ گوگل نے ڈائریکٹر اور نائب صدر سمیت 10 فیصد ملازمین کو نوکری سے فارغ کیا۔
گوگل کے سی ای او سندر پچائی نے ملازمین کی ایک میٹنگ میں 10 فیصد ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کیا۔
سندر پچائی نے کہا کہ کمپنی کو اوپن اے آئی جیسے حریفوں سے مقابلے کا سامنا ہے۔ اور اس سے نمٹنے کے لیے بہتر کارکردگی کی ضرورت ہے۔
ملازمین اور ذمہ داران کو نوکریوں سے فارغ کرنے کے بعد کمپنی نے کچھ منیجرز کو انفرادی طور پر دوبارہ معاملات سونپ دیئے۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس بھی تشکیل نو کے لیے گوگل کی جانب سے انتہائی قدم اٹھایا گیا تھا۔ اور 12 ہزار سے زائد ملازمین کو نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ملازمین کو نوکریوں سے نکالنے کا فیصلہ سی ای او کے وسیع لائحہ عمل کا حصہ ہے۔ جس کو 2022 میں متعارف کرایا گیا تھا۔ جس کا مقصد گوگل کو 20 فیصد مزید بہتر کرنا اور اے آئی پر مشتمل مستقبل کو اپنانا ہے۔
