Blog

  • وزارت خزانہ نے آئل اینڈ گیس سیکٹر کے مالیاتی نظام پر سوالات اٹھادیئے

    وزارت خزانہ نے آئل اینڈ گیس سیکٹر کے مالیاتی نظام پر سوالات اٹھادیئے

    وفاقی وزارت خزانہ نے پی ایس او، پاکستان پیٹرولیم لمٹیڈ، او جی ڈی سی ایل، سوئی سدرن اور سوئی ناردرن گیس کمپنیوں کے مالیاتی نظام کو غیر موثر قرار دے دیا۔وزارت خزانہ نے آئل اینڈ گیس سیکٹر کے مالیاتی نظام پر سوالات اٹھائے ہیں۔ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق ان تیل و گیس کمپنیوں کا انفرا اسٹرکچر دقیانوسی اور غیر موثر ہوچکا ہے جس کی وجہ سے تمام پانچ کمپنیوں کو چیلنجز کا سامنا ہے۔ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی پی ایل کے وصولی کے ایشوز نے ان کی مالی پوزیشن کو کمزور کیا جس کی وجہ سے ان کا حکومت کی مالی سپورٹ پر انحصار بڑھا ہے۔ انرجی سیکٹر میں گردشی قرضے کے باعث کیش فلوز کے مسائل پیدا ہوگئے اور عدم ادائیگیوں کے باعث واجبات بڑھ گئے جس سے لیکو ڈیٹی متاثر ہو رہی ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق واجبات بڑھنے سے کمپنیوں کی معاشی صورتحال پر اثرات مرتب ہوئے اور سرکاری اداروں کا حکومتی سپورٹ پر انحصار بڑھ گیا ہے، پرانی ٹیکنالوجی کے باعث پیداوار کم اور آپریشنل لاگت زیادہ ہے۔گیس کے ترسیلی اور تقسیمی نظام میں لاسز کا سامنا ہے، بزنس پلان کے ذریعے ریونیو لاسز محدود اور آپریشنل کارکردگی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ مالیاتی نظام کو بہتر بنا کر گردشی قرضے کے مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

  • ایف پی سی سی آئی کی فیسوں میں 100 فیصد اضافہ غیر منصفانہ ہے،مرزاعبدالرحمن

    ایف پی سی سی آئی کی فیسوں میں 100 فیصد اضافہ غیر منصفانہ ہے،مرزاعبدالرحمن

    فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف پی سی سی آئی)کے سابق نائب صدر اور اٹک چیمبر آف کامرس کے بانی صدر مرزا عبدالرحمن نے کہا ہے کہ ایف پی سی سی آئی کی جانب سے مختلف فیسوں میں سو فیصد اضافہ کو مسترد کرتے ہیں ۔ اخراجات میں کمی کے بجائے انھیں بڑھایا جا رہا ہے جسے پہورا کرنے کے لئے تاضروں اور صنعتکاروں کو ہدف بنایا جا رہا ہے جو ناقابل برداشت ہے۔ مرزا عبدالرحمان نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ایف پی سی سی آئی فیس کے ڈھانچے میں ایک سو فیصد اضافہ سے تجارتی انجمنوں اور تاجر برادری کے ارکان پر اضافی بوجھ پڑے گا۔یہاں جاری ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یونائیٹڈ بزنس گروپ(یو بی جی)نے ایف پی سی سی آئی میں پانچ سال کے وقفے کے بعد دوبارہ اقتدار سنبھالا ہے کیونکہ ووٹرز نے اسے ناقص کارکردگی کی وجہ سے مسترد کر دیا تھا۔مگر اقتدار سنبھالنے کے بعد وہی کام شروع کر دئیے گئے ہیں جس کی وجہ سے انھیں مسترد کیا گیا تھا جو افسوسناک ہے۔وسائل کے ضیاں، غیر قانونی تقرریوں اور دیگر متنازعہ اقدامات کے براہ راست ذمہ دار ایف پی سی سی آئی کے صدر ہیں۔مرزا عبدالرحمن نے تمام چیمبرز آف کامرس اور تجارتی انجمنوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس اقدام پر احتجاج کریں، کیونکہ یہ ان کے مفاد میں نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بزنس مین پینل نے اقتدار میں آتے ہی سالانہ فیسوں میں کمی کی لیکن یو بی جی نے ان میں اضافہ کر ڈالا ہے۔ تاجر رہنما نے کہا کہ بزنس کونسلز، سٹینڈنگ کمیٹیوں، ویزا سفارشات اور سارک ویزا پروسیسنگ کی فیس دگنی کر دی گئی ہے جسے واپس لیا جائے۔

  • نیا سال مہنگائی کا طوفان لئے آیا ، عوام کی مشکلات بڑھ گئیں

    نیا سال مہنگائی کا طوفان لئے آیا ، عوام کی مشکلات بڑھ گئیں

    نیا سال مہنگائی کا طوفان لئے آیا ، عوام کی مشکلات بڑھ گئیں، آٹے ،چینی کی بوری پر 300روپے بڑھا دئے گئے ، سرسو ںکے تیل فی لیٹر 80روپے کا اضافہ ، ڈاکٹرز نے اپنی فیس بھی بڑھا دی۔ تفصیلا ت کے مطابق جیکب آباد میں نئے سال کی آمد سے ہی مہنگائی کا طوفان امنڈ آیا ہے جس سے عام شہری کی مشکلات بڑھ گئی ہیں آٹے اور چینی کی بوری پر 200سے 300روپے بڑھا دئے گئے ہیں اسی طرح سر سو کے تیل پر فی لیٹراضافہ کردیا گیا ہے اب سرسو کا تیل 480روپے لیٹر فروخت کیا جارہا ہے خوردنی تیل مہنگا ہونے کی وجہ سے شہری سرسو کے تیل کو کھانے پکانے میں استعمال کرنے لگے تھے جس کے ریٹ بھی اب بڑھا دئے گئے ہیںدوسری طرف شہر میںپرائیوٹ کلینکس کے ڈاکٹرس نے بھی اپنی معائنہ فیسیں بھی بڑھا دی ہیںہوشربا مہنگائی سے عوام کی چیخیں نکل گئی ہیں اور عام استعمال کی اشیاء خریدنا مشکل ہو گیا ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ ظالمانہ مہنگائی سے قوت خرید جواب دے گئی ہے کیا کھائیں کیا پہنیں ، اب تو گذارہ بھی مشکل ہو گیا ہے، مہنگائی کا خاتمہ اور کنٹرول کرنے کے حکومتی دعوی جھوٹے ہیںکوئی پرسان حال نہیں۔

  • چین کے شہر وینزو میں حلال کھانے کی تلاش ایک امتحان

    چین کے شہر وینزو میں حلال کھانے کی تلاش ایک امتحان


    پہاڑوں کے دامن میں گھرا وینزو اور سامنے سڑک کے کنارے روشن لالٹینیں، جن پر قدیم چینی خطاطی میں کچھ لکھا تھا، ہوا کے ساتھ جھول رہی تھیں۔ہمارے میزبان، مسٹر چائو، پہلے سے ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھے اور نہایت خلوص سے ہاتھ ملایا۔ ان کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو وینزو کے ہر شہری میں دکھائی دیتی ہے ایک مہمان نواز، گرم جوش اور زندگی سے بھرپور انداز۔””گاڑی میں بیٹھتے ہی، مسٹر چائو نے ہنستے ہوئے کہا، ‘آپ خوش قسمت ہیں کہ وینزو کی سب سے مشہور چیز، رات کی روشنیوں کو دیکھنے کا موقع مل رہا ہے لیکن اس بار بارشیں معمول سے زیادہ ہو رہی ہیں اس لیے چھتری ہمیشہ اپنے ساتھ رکھیں ۔’ گاڑی تیزی سے شہر کی طرف روانہ ہوئی، اور میں کھڑکی سے باہر جھانکنے لگی۔ ہر طرف قدیم اور جدید کا امتزاج نظر آ رہا تھا۔ ایک طرف بلند و بالا عمارتیں تھیں، جن پر نیون روشنیوں کے ساتھ چینی حروف جگمگا رہے تھے، اور دوسری طرف پرانے لکڑی کے گھر، جو صدیوں کی تاریخ سناتے محسوس ہو رہے تھے۔””مسٹر چائو نے بتایا، ‘یہ وینزو ہے، جہاں لوگ نہ صرف تجارت میں ماہر ہیں بلکہ اپنے کلچر اور روایات کو زندہ رکھنا بھی جانتے ہیں۔’ ان کے لہجے میں فخر کی جھلک تھی۔ ‘آپ دیکھیں گے کہ یہاں کے لوگ زندگی کو کس طرح محبت اور محنت کے ساتھ گزارتے ہیں۔’ ان کی باتیں سن کر میرا تجسس مزید بڑھ گیا۔””گاڑی جب شہر کے مرکز میں پہنچی تو مجھے لگا جیسے میں کسی خواب کا حصہ بن گئی ہوں۔کشادہ شاہراہیں , جن کے دونوں اطراف گلاب کے پھولوں کی باڑ تھی . دونوں جانب چمکتے کاغذی فانوس لٹک رہے تھے، اور ہر موڑ پر کسی قدیم کہانی کی جھلک مل رہی تھی۔ مسٹر چائو نے بتایا کہ یہاں ہر گلی کی اپنی کہانی ہے، اور لوگ اپنے آبائو اجداد کی روایات کو زندہ رکھنے کے لیے ان کہانیوں کو سینے سے لگائے رکھتے ہیں۔ اسی دوران ہماری گاڑی ایک قدیم پل کے اوپر سے گزری. پل کے نیچے بہتا دریا چاند کی روشنی میں چمک رہا تھا مسٹر چا ئونے پل کے بارے میں بتایا کہ یہ پل تقریبا پانچ سو سال پرانا ہے اور یہاں کے لوگوں کے لئے محبت اور اتحاد کی علامت ہے.”میں نے سوچا یہ شہر نہ صرف خوبصورت ہے بلکہ اپنے ماضی اور حال کو خوبصورتی سے سنبھالے ہوئے ہے.جہاں قدیم روایات اور جدید ترقی ایک ساتھ سانس لیتی ہیں۔چین کا شہر وینزو، ایک ایسا شہر ہے جس کی تاریخ بھی کسی ہیرے جواہرات سے کم نہیں۔ جیسے ہی آپ اس شہر میں قدم رکھتے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ماضی اور حال کا سنگم ایک خوبصورت اور حیرت انگیز طریقے سے آپ کے روبرو ہے۔ یہ شہر صرف ایک جغرافیائی مقام نہیں، بلکہ ایک جیتی جاگتی تاریخ ہے، جو اپنی تمام تر عظمتوں اور چیلنجوں کے ساتھ آپ کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے۔وینزو کا ماضی اتنا رنگین ہے کہ اس کی کہانیاں سن کر آپ کو لگے گا کہ جیسے کسی قدیم داستان کا حصہ بن گئے ہوں۔ 192 قبل مسیح میں جب اس شہر نے مشرقی او کی سلطنت کا دارالحکومت ہونے کا اعزاز حاصل کیا، تب یہ شہر ایک نیا سورج بن کر ابھر رہا تھا۔ اور پھر جب 323 عیسوی میں اس نے یونگجیا پریفیکچر کا درجہ حاصل کیا، تو گویا یہ شہر اپنی عظمت کی طرف قدم بڑھا رہا تھا۔ لیکن ایک کہانی بھی ہے، جو شاید اس شہر کے دل کی آواز ہو۔ کہتے ہیں کہ جب اس شہر کی بنیاد رکھی جا رہی تھی، تو ایک سفید ہرن پھول کے ساتھ شہر کے گرد چکر لگاتا تھا۔ اس دن کے بعد سے، وینزو کو “سفید ہرن کا شہر” کے نام سے جانا جانے لگا۔ وینزو کا شمار چین کے ان شہروں میں ہوتا ہے جہاں کی دستکاری، سیلاڈون کے سامان، کاغذ سازی، کشتی سازی، ریشم، کڑھائی، لکڑی کے کام، جوتے اور چمڑے کی مصنوعات کا نام دنیا بھر میں لیا جاتا ہے۔ ان تمام چیزوں کے بیچ، ایک اور چیز ہے جو وینزو کو دیگر شہروں سے ممتاز کرتی ہے، وہ ہے اس کی ثقافت۔ وینزو “نانشی اوپیرا” کا گھر ہے،
    جسے جنوبی اوپیرا بھی کہا جاتا ہے۔ گا منگ کے مشہور ڈرامے “دی پیپا” کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی، اور اس کی کہانیوں نے وینزو کو دنیا بھر میں ایک خاص مقام دلایا۔مگر وینزو کی عظمت صرف اس کی تاریخ اور ثقافت تک محدود نہیں۔ اس شہر نے کئی عظیم فلسفیوں، شاعروں اور دانشوروں کو جنم دیا ہے۔ ان میں سے بعض ایسے ہیں جنہوں نے چینی ادب، فلسفہ اور سائنس میں انقلابی تبدیلیاں لائیں۔ یونگجیا اسکول کے فلسفی “یے شی” اور جنوبی سونگ دور کے “دریا اور جھیلوں کے اسکول” کے شاعروں نے وینزو کو ایک نئی پہچان دی۔وینزو کے بارے میں سب سے دلکش بات یہ ہے کہ یہاں کی ثقافت ایک خوبصورت توازن قائم کرتی ہے۔ یہاں کی دستکاری، اوپیرا، آرٹ، ڈرامہ، رقص اور لوک ادب میں ایک عجیب سی گہرائی ہے، جو نہ صرف چینی بلکہ عالمی سطح پر اپنی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ شہر صرف تاریخ کا محافظ نہیں بلکہ ایک جدید ترقی کی علامت بھی ہے۔ وینزو کا جغرافیہ، اس کی تاریخ اور اس کی ثقافت ایک خوبصورت کہانی بناتی ہے، جس میں ہر قدم پر ایک نیا راز، ایک نیا تجربہ چھپا ہوتا ہے۔ اور جب آپ اس شہر کی گلیوں میں چلتے ہیں، تو آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ صرف ایک سیاح نہیں بلکہ اس شہر کا حصہ بن چکے ہیں، جہاں ہر زاویہ، ہر منظر اور ہر کہانی آپ کو اپنے اندر کھینچ لیتی ہے۔اس شہر میں، جہاں ماضی کی گونج اور حال کی حقیقت آپس میں ملتی ہیں، وہیں ہر شخص کا سفر ایک منفرد تجربہ ہوتا ہے۔ وینزو کی گلیاں، بارش میں دھلے پہاڑ، اور لوگوں کے چہروں پر سجی مسکراہٹیں۔۔۔ یہ سب کسی خواب کا حصہ لگتے ہیں۔ مگر خوابوں کے ساتھ کچھ حقیقتیں بھی ہوتی ہیں، جو ہمارے جیسے مسافروں کے قدموں کو کبھی بوجھل اور کبھی ہلکا کر دیتی ہیں۔ پہاڑوں کے دامن میں گھرا یہ شہر اپنی خوبصورتی سے دل کو موہ لیتا ہے، لیکن کیا یہ دل کو ہمیشہ کے لیے اپنا بنا سکتا ہے؟ ہم پاکستانی، جہاں بھی جاتے ہیں، اپنی ثقافت، اپنی روایات اور اپنی شناخت کا عزم بھی ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ وینزو میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ یہاں کے لوگوں کی مسکراہٹیں تو بے حد خلوص بھری ہیں، مگر کیا یہ مسکراہٹیں ہمارے عقیدے، ہماری زبان اور ہمارے رہن سہن کو قبول کر سکیں گی ؟ اور ہاں، کھانے کی بات کریں تو یہاں کے پکوان کا ہر ذائقہ یقینا منفرد ہوگا، مگر ایک پاکستانی کے لیے اپنے ذائقے سے دور رہنا کسی امتحان سے کم نہیں۔ حلال کھانے کی تلاش، اردو بولنے والوں کی کمی، اور مسجد کے میناروں کو ڈھونڈنے کی جستجو۔۔۔ یہ سب کہانی کے وہ حصے ہیں جنہوں نے ہمیں ایک لمحے کے لیے سوچنے پر مجبور کیا کہ یہاں رہنا کتنا آسان ہوگا؟ کیا وینزو کے ان چمکتے بازاروں میں ہماری اقدار جگہ بنا سکیں گی؟ کیا زبان کا یہ خلا کبھی بھر سکے گا؟ اور کیا یہ سرزمین ہماری کہانیوں کا حصہ بنے گی یا صرف ایک عارضی قیام کی منزل رہے گی؟ یہ سب جاننے کے لیے آپ کو اگلی قسط کا انتظار کرنا ہوگا، جہاں ہم وینزو کی زندگی کے ان گوشوں کو بے نقاب کریں گے، جو ہر اجنبی کے لیے حیرت کا باعث بنتے ہیں۔ تو دل تھام لیجیئے , کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی!

  • دنیا کے ٹاپ ٹین ارب پتی ( تازہ ترین فہرست جاری)

    دنیا کے ٹاپ ٹین ارب پتی ( تازہ ترین فہرست جاری)

    بلوم برگ نے رواں مہینے ارب پتیوں کی فہرست جاری کی ہے،ایلون مسک نے پھر میدان مارلیا اور وہ اب بھی نمبرون کی پوزیشن پر موجود ہیں،بلوم برگ کے مطابق ٹاپ ٹین ارب پتی درج ذیل ہیں

    1 ایلون مسک ۔۔نیٹ ورتھ 426 بلین ڈالر
    ایلون مسک دنیا کی سب سے قیمتی کار ساز کمپنی ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ آسٹن، ٹیکساس میں قائم کمپنی الیکٹرک گاڑیاں اور گھریلو شمسی بیٹریاں فروخت کرتی ہے۔ مسک اسپیس ایکس کے چیف ایگزیکٹیو بھی ہیں،جو راکٹ بنانے والی کمپنی ہے جسے ناسا نے خلائی اسٹیشن کو دوبارہ سپلائی کرنے کے لیے مقرر کیا ہے، وہ سوشل نیٹ ورکنگ کمپنی X کے مالک بھی ہیں، جو پہلے ٹویٹر کے نام سے جانا جاتا تھا۔
    ٹیسلاکمپنی کے مطابق ایلون مسک ٹیسلا کے تقریباً 13 فیصد حصص کے مالک ہیں۔ ان کے پاس اپنے 2018 کے معاوضے کے پیکیج سے تقریباً 304 ملین قابل استعمال اسٹاک آپشنز بھی ہیں۔ جنوری 2024 میں اس معاوضے کے پیکج کو ڈیلاویئر کے جج نے کالعدم قرار دے دیا، شیئر ہولڈر کے نئے ووٹ کے بعد دسمبر 2024 میں اسے دوبارہ مسترد کر دیا گیا۔
    SpaceX کی قدر دسمبر 2024 کی ٹینڈر پیشکش کا استعمال کرتے ہوئے کی گئی جس کے مطابق کمپنی کی قیمت تقریباً $350 بلین ہے۔ دسمبر 2022 میں فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن اور بلومبرگ کے مطابق مسک کمپنی کے تقریباً 42% حصص کے مالک ہیں۔
    2022 میں $44 بلین میں حاصل کرنے کے بعد ایون مسک کے پاس X Corp کے تقریباً 79% حصص تھے جو پہلے ٹویٹر کے نام سے جانا جاتا تھا،
    ایلون مسک کے اسٹارٹ اپس نیورلنک، xAI اور دی بورنگ کمپنی میں بھی حصص ہیں
    تعلیم: ایلون مسک ،جنوبی افریقہ میں ایک انجینئر والد اور غذائیت کی ماہر ماں کے ہاں پیدا ہوئے، انھوں نے 17 سال کی عمر میں کینیڈا میں کالج کے لیے گھر چھوڑ دیا، اس لیے کہ وہ نسل پرستی کے دور کی جنوبی افریقی فوج میں خدمات انجام دینے سے گریز کرنا چاہتے تھے۔ یونیورسٹی آف پنسلوانیا سے فزکس اور اکنامکس میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد انھوں نے ا سٹینفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ انھوں نے اپنی دلچسپی کے اہم شعبوں: انٹرنیٹ، صاف توانائی کو چند دنوں کے بعد ہی چھوڑ دیا۔ انھوںنے یونیورسٹی آف پنسلوانیا، یونیورسٹی آف پنسلوانیا کا وارٹن اسکول میں بھی تعلیم حاصل کی۔
    ٭انھوںنے 1995 میں Zip2 کے نام سے ایک آن لائن پبلشنگ پلیٹ فارم بنایا اور اسے چار سال بعد $300 ملین سے زیادہ میں فروخت کیا۔ انھوں نے آن لائن ادائیگی کا نظام X.com شروع کرنے کے لیے کچھ رقم دوبارہ انویسٹ کی۔ جو بالآخر پے پال بن گیا، ای کامرس سائٹ جو بالآخر 2002 میں ای بے کو 1.5 بلین ڈالر میں فروخت کر دی گئی۔
    ٭ان کا اگلا پروجیکٹ: SpaceX، ایک راکٹ کمپنی ہے جسے NASA نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کو دوبارہ سپلائی کرنے میں خلائی شٹل کے کردار کو سنبھالنے کے لیے مقررکیا تھا۔ ایک سال بعد، انھوں نے ٹیسلا کی مشترکہ بنیاد رکھی، وہ کمپنی جس نے 2010 میں دنیا کی
    پہلی آل الیکٹرک، زیرو ایمیشن اسپورٹس کار تیار کی تھی۔ اسی سال کمپنی نے عوامی پیشکش میں حصص فروخت کیے ۔
    ٭ان کی تیسری کمپنی، سولر سٹی، سولر پاور سسٹم فراہم کرنے والی کمپنی تھی۔ سولر سٹی نے 2012 میں عوامی پیشکش میں حصص فروخت کیے اور 21 نومبر 2016 کو ٹیسلا نے خریدے۔
    ٭ایلون مسک نے خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ سیارہ مریخ پر ریٹائر ہونے کا ارادہ رکھتا ہے
    ٭ ٹیسلا جولائی 2020 میں دنیا کی سب سے قیمتی کار ساز کمپنی بن گئی اور مزید فوائد کے نتیجے میں ایلون مسک جنوری 2021 میں دنیا کے امیر ترین شخص بن گئے۔
    سنگ میل
    1971ایلون مسک جنوبی افریقہ کے شہر پریٹوریا میں پیدا ہوئے۔
    1981 دس سال کی عمر میں پہلا کمپیوٹر خریدا۔
    1983 مسک نے اپنا پہلا تجارتی سافٹ ویئر گیم بلاسٹار بنایا اور فروخت کیا۔
    1999 X.com نامی ایک آن لائن ادائیگی کا نظام تیار کیا۔
    2000 X.com کو PayPal کی بنیادی کمپنی Cofinity کے ساتھ ضم کیا۔
    2002 پے پال کو ای بے نے 1.5 بلین ڈالر میں حاصل کیا۔
    2002 LAX کے قریب ایک سابق ہوائی جہاز کے ہینگر میں SpaceX قائم کی۔
    2003 میں آل الیکٹرک ٹیسلا روڈسٹر کو ڈیزائن کرنا شروع کیا۔
    2008 SpaceX نے اپنا پہلا سیٹلائٹ خلا میں پہنچایا۔
    2010 ٹیسلا موٹرز نے اسٹاک ایکسچینج میں تجارت شروع کی۔
    2022 نے سوشل میڈیا کمپنی Twitter کو 44 بلین ڈالر میں خریدا۔
    2024 SpaceX نے سپر ہیوی راکٹ بوسٹر کو کامیابی سے پکڑ لیا۔

    #2 جیف بیزوس نیٹ ورتھ 241 بلین ڈالر
    جیف بیزوس دنیا کے سب سے بڑے آن لائن ریٹیلر Amazon کے بانی ہیں۔ سیٹل میں قائم کمپنی اپنی فلیگ شپ ویب سائٹ کے ذریعے الیکٹرانکس، گھریلو سامان اور دیگر مصنوعات فروخت کرتی ہے۔ یہ ہول فوڈز گروسری چین کو بھی کنٹرول کرتی ہے اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور اسٹریمنگ سروسز پیش کرتی ہے۔ ایمیزون کی آمدنی 2023 میں 574.8 بلین ڈالر تھی۔
    نومبر 2024 کی کمپنی کی فائلنگ کے مطابق، بیزوس دنیا کے سب سے بڑے آن لائن خوردہ فروش ایمیزون کے تقریباً 8.8 فیصد حصص کے مالک ہیں۔
    وہ خلائی ریسرچ کمپنی بلیو اوریجن کے بھی مالک ہیں، جو بلومبرگ کی سرمایہ کاری کی لاگت کے حساب کتاب میں شامل ہے۔
    وینچر فنڈ اسپیس اینجلس کے سی ای او چاڈ اینڈرسن کے مطابق، بلیو اوریجن کے لیے قیمت کا تعین کرنا اس کی منفرد حکمت عملی اور اس حقیقت کی وجہ سے مشکل ہے کہ بیزوس واحد شیئر ہولڈر ہیں اور ان کمپنی کو فروخت کرنے کا کوئی واضح ارادہ نہیں ہے۔
    جیف بیزوس نے اپریل 2017 میں کہا تھا کہ وہ “ایمیزون اسٹاک کے ایک سال میں تقریبا$ 1 بلین ڈالر” کی فروخت کے ذریعے انٹرپرائز کو فنڈ دیتے ہیں۔ اس رقم کو 2014 سے ان کے معلوم حصص کی فروخت کے بعد ٹیکس کی آمدنی سے کاٹ کر بلیو اوریجن کے لیے فنڈنگ کے طور پر دیتے ہیں۔ 2021 میں یہ رقم 2 بلین ڈالر تک بڑھا دی گئی کیونکہ کمپنی نے اپنی پہلی انسانی عملے کی پروازیں کیں اور بیزوس کے حصص کی فروخت میں تیزی آئی۔ 2002 کے بعد سے، انھوںنے بلومبرگ ڈیٹا کے تجزیے کی بنیاد پر، تقریباً 42 بلین ڈالر کے ایمیزون شیئرز فروخت کیے ۔
    بیزوس نے اگست 2013 میں واشنگٹن پوسٹ کے لیے $250 ملین ادا کیے، بیزوس نے 2023 میں شروع کی گئی سپر یاٹ، کورو کے لیے تقریباً 500 ملین ڈالر بھی ادا کیے۔
    انہوں نے 2018 میں سماجی مسائل کے لیے 2 بلین ڈالر کا وعدہ کیا اور فروری 2020 میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے 10 بلین ڈالر عطیہ کرنے کا وعدہ کیا۔ تحائف دیے جانے پر یہ رقم ان کی مجموعی مالیت سے کاٹی جائے گی۔
    ان کی نقد سرمایہ کاری کی قیمت میں یہ لین دین، ٹیکس اور مارکیٹ کی کارکردگی شامل ہے۔طلاق کے بعد 2019 میں میکنزی اسکاٹ کو 4 فیصد حصص منتقل کرنے سے پہلے بیزوس کے پاس ایمیزون کا 16 فیصد حصہ تھا۔
    تعلیمجیف بیزوس وال اسٹریٹ کے سابق کمپیوٹر انجینئر ہیں انھوںنے 1994 میں کتابیں آن لائن فروخت کرنے کے لیے ایمیزون بنایا۔ 1997 میں ابتدائی عوامی پیشکش کے بعد، ایمیزون اسٹاک میں تقریباً 40 گنا اضافہ ہوا، جس کے بعد بیزوس کی ذاتی دولت 12 بلین ڈالر سے زیادہ ہوگئی۔
    پرنسٹن کے گریجویٹ نے طویل مدتی سوچ اور کسٹمر سروس پر توجہ مرکوز کرکے اپنی ساکھ بنائی۔ آج، Amazon لاکھوں مختلف پروڈکٹس فروخت کرتا ہے، جن میں سے بہت سے فریق ثالث فروشوں کے ذریعے خریدے جاتے ہیں جو اپنے آرڈرز کو پورا کرنے میں مدد کے لیے Amazon کی ڈیٹا مینجمنٹ سروسز پر انحصار کرتے ہیں۔
    کمپنی نے 2007 میں کنڈل الیکٹرانک بک ریڈر متعارف کرایا۔ چار سال بعد، ایمیزون نے کنڈل فائر جاری کیا، جس سے کمپنی ٹیبلیٹ کمپیوٹر کے کاروبار میں ایپل کے مقابلے میں تھی۔
    بیزوس واشنگٹن پوسٹ کے مالک ہیں اور وہ بلیو اوریجن کی بھی نگرانی کرتے ہیں، جو ایک خلائی ریسرچ کمپنی ہے جو لاگت کو کم کرنے اور خلائی پرواز کی حفاظت کو بڑھانے کی کوشش کرتی ہے۔ ا نھوں نے ستمبر 2018 میں پری اسکول کے پروگراموں اور بے گھر خاندانوں کی مدد کے لیے $2 بلین اور فروری 2020 میں موسمیاتی تبدیلی سے لڑنے کے لیے $10 بلین دینے کا وعدہ کیا۔
    جیف بیزوس اور ان کی اہلیہ میک کینزی اسکاٹ نے 2019 میں طلاق لے لی۔ میک کینزی نے اپنی علیحدگی کے حصے کے طور پر ایمیزون میں 4% حصص حاصل کیا۔
    انہوں نے فروری 2021 میں اعلان کیا کہ وہ ایمیزون کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے ریٹائر ہو جائیں گے، اپنی انسان دوستی اور دیگر کمپنیوں کے لیے زیادہ وقت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جولائی 2021 میں اس نے بلیو اوریجن کے پہلے عملے کے مشن میں شمولیت اختیار کی۔
    بیزوس نے مئی 2023 میں لارین سانچیز سے منگنی کی۔
    سنگ میل
    1964 جیفری بیزوس البوکرک، نیو میکسیکو میں پیدا ہوئے۔
    1986 پرنسٹن یونیورسٹی سے گریجویشن کیا اور بینکرز ٹرسٹ میں نوکری حاصل کی۔
    1994 میں کتابیں آن لائن فروخت کرنے کے لیے Amazon.com قائم کی۔
    1997 ایمیزون کو ابتدائی عوامی پیشکش میں $18 فی حصص کی فہرست میں شامل کیا۔
    1999 ٹائم میگزین کے پرسن آف دی ایئر کے لئے نامزدگی
    2003 جنوب مغربی ٹیکساس میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے سے بچے۔
    2007 Kindle الیکٹرانک بک ریڈر متعارف کرائی۔
    2010 ای بک کی فروخت Amazon.com پر روایتی کتابوں کی فروخت کو پیچھے چھوڑ گئی۔
    2013 واشنگٹن پوسٹ اخبار کو 250 ملین ڈالر میں خریدا۔
    2017 میں امیر ترین شخص بن گئے۔
    2019 بیزوس اور میکنزی ا سکاٹ نے اعلان کیا کہ وہ طلاق لے رہے ہیں۔
    2021 ایمیزون کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے عہدے سے سبکدوش ہو گئے۔
    2021 خلاء میں بلیو اوریجن کے پہلے عملے کے مشن میں شامل ہوئے
    2023 میں 500 ملین ڈالر کی سپر یاٹ کورو نے سمندری آزمائش شروع کی۔

    #3 مارک زکربرگ نیٹ ورتھ6 21 بلین ڈالر
    زکربرگ میٹا پلیٹ فارمز کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو ہیں، جو فیس بک چلانے والی کمپنی ہے جو دنیا کا سب سے بڑا سوشل نیٹ
    ورک ہے مینلو پارک، کیلیفورنیا میں مقیم کاروباری شخصیت کی آمدنی 2023 میں 134.9 بلین ڈالر تھی اور ان کے ماہانہ صارفین تقریباً 4 بلین ہیں۔
    زکربرگ کی خوش قسمتی کا زیادہ تر حصہ ستمبر 2024 کی فائلنگ کی بنیاد پر میٹا پلیٹ فارمزہیں، جو پہلے فیس بک تھا،
    فیس بک دنیا کا سب سے بڑا سوشل نیٹ ورک ہے۔ فروری 2024 کی کمپنی پریزنٹیشن کے مطابق، میٹا پلیٹ فارمز کے ہر ماہ تقریباً 4 بلین فعال صارفین ہوتے ہیں جن میں فیس بک پر تقریباً 3 بلین شامل ہیں۔ کمپنی نے 17 مئی 2012 کو ابتدائی عوامی پیشکش میں حصص فروخت کیے جو اس وقت کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹیکنالوجی IPO تھا۔
    پراکسی کے مطابق، ارب پتی ٹرسٹ اور ہولڈنگ کمپنیوں کی ایک سیریز کے ذریعے حصص کا مالک ہے۔ دسمبر 2015 کی فائلنگ کے مطابق، وہ اپنی زندگی بھر میں اپنے حصص کا 99% دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ زکربرگ نے اپنی انسان دوستی کو فنڈ دینے کے لیے اگست 2016 میں حصص فروخت کرنا شروع کیے تھے
    ان کی نقد سرمایہ کاری کی قدر اندرونی لین دین کے تجزیہ پر مبنی ہے زیادہ تر Facebook کے شیئرز کی فروخت جس کی قیمت بلومبرگ ڈیٹا اور کمپنی کی فائلنگ کے تجزیہ سے ہوتی ہے نیز ٹیکس، جائیداد کی خریداری، انسان دوستی اور مارکیٹ کی کارکردگی
    تعلیم:وائٹ پلینز، نیو یارک میں پیدا ہوئے، زکربرگ نے ایلیٹ بورڈنگ اسکول فلپس ایکسیٹر اکیڈمی میں کمپیوٹر پروگرامنگ کے ماہر کے طور پر اپنی ساکھ بنائی۔ Exeter سے گریجویشن کرنے کے بعد ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا، جہاں انھوں نے تین دوستوں کے ساتھ مل کے اپنے کمرے سے فیس بک شروع کی۔ سائٹ نے تیزی سے دوسری یونیورسٹیوں کی طرف ہجرت شروع کر دی، جس سے زکربرگ کو ہارورڈ چھوڑ کر سلیکن ویلی جانے کا اشارہ ملا۔
    انھوں نے 2004 کے موسم خزاں میں پیٹر تھیل سے $500,000 کی فنڈنگ حاصل کی۔ دوسری وینچر فرموں کی سرمایہ کاری تیزی سے ہوئی۔ فیس بک کی رکنیت دسمبر 2004 تک 10 لاکھ صارفین تک پہنچ چکی تھی۔ ٹائلر اور کیمرون ونکلیووس نے فیس بک آئیڈیا چوری کرنے کے الزام میں زکربرگ پر مقدمہ دائر کیا۔
    نومبر 2011 میں، فیس بک نے صارف کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کی شکایات کو حل کرنے کے لیے فیڈرل ٹریڈ کمیشن کے ساتھ 20 سالہ معاہدہ کیا۔ کمپنی نے 17 مئی 2012 کو نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں ابتدائی عوامی پیشکش میں حصص فروخت کیے تھے۔ یہ اس وقت کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹیکنالوجی آئی پی او تھا۔
    زکربرگ نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ فلاحی کاموں میں دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ستمبر 2010 میں، انھوں نے فیس بک کے $100 ملین شیئرز نیوارک کو عطیہ کیے،
    سنگ میل
    1984 مارک ایلیٹ زکربرگ نیویارک کے وائٹ پلینز میں پیدا ہوئے۔
    2004 تین دوستوں کے ساتھ ہارورڈ کے کمرے میں thefacebook.com بنائی۔
    2004 نے وینچر کیپیٹلسٹ پیٹر تھیل سے $500,000 سرمایہ کاری اکٹھی کی۔
    2005 کمپنی نے باضابطہ طور پر اپنا نام فیس بک میں تبدیل کر دیا۔
    2005 فیس بک کو Yahoo کو فروخت کرنے کے لیے $1 بلین کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔
    2012 فیس بک نے ڈیجیٹل فوٹو کمپنی انسٹاگرام کو 1 بلین ڈالر میں حاصل کیا۔
    2012 فیس بک نے حصص بیچے جو اس وقت کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹیکنالوجی آئی پی او تھا۔
    2012 سوشل نیٹ ورک نے 1 بلین ممبران کو عبور کیا۔

  • 190 ملین پاو نڈز کیس کا فیصلہ 17 جنوری کو سنایا جائے گا .

    190 ملین پاو نڈز کیس کا فیصلہ 17 جنوری کو سنایا جائے گا .

    راولپنڈی:190 ملین پاو نڈز کیس کا فیصلہ آج پھر مو خر کردیا گیا ہے۔ سماعت میں بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ پیش نہیں ہوئے۔
    نجی ٹی وی کے مطابق احتساب عدالت نے اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت میں آج پھر 190 ملین پاو نڈز ریفرنس کیس کا فیصلہ مو خر کردیا۔ کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی۔سماعت سے قبل احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا اڈیالہ جیل پہنچے جب کہ نیب پراسیکیوٹر چوہدری نذر، نیب لیگل ٹیم کے ممبران عرفان احمد،سہیل عارف اور اویس ارشد، احتساب عدالت اسلام آباد کا عملہ اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکلا سلمان اکرم راجا ایڈووکیٹ اور دیگر بھی جیل پہنچے تھے۔اس موقع پر اڈیالہ جیل کے باہر پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی تھی، جس میں لیڈیز پولیس اہلکاروں سمیت ایلیٹ فورس کے تازہ دم دستے بھی شامل تھے۔ اسی طرح اڈیالہ جیل گیٹ نمبر 5 پر سکیورٹی ہائی الرٹ کی گئی تھی اور داخل ہونے والے سرکاری اہلکاروں کی بھی جامہ تلاشی لی جا رہی تھی۔اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت میں بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان اور عظمیٰ خان بھی عدالت پہنچیں، تاہم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی خود عدالت میں پیش نہیں ہوئے، جس پر عدالت نے کیس کا فیصلہ مو خر کردیا جو اب 17 جنوری کو سنایا جائے گاجج نے دورانِ سماعت ریمارکس دیے کہ بانی پی ٹی آئی کو 2مرتبہ پیغام بھجوایا لیکن وہ عدالت نہیں آئے۔ بشریٰ بی بی بھی عدالت نہیں آئیں۔ میں ٹھیک ساڑھے 8 بجے جیل آگیا تھا۔ اب ساڑھے 10 ہوچکے ہیں، ملزمان اور ان کے وکلا موجود نہیں۔ فیصلہ مو خر کررہے ہیں، جو اب 17 جنوری کو سنایا جائے گا۔بعد ازاں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل پہنچیں تاہم وہ اندر جائے بغیر باہر ہی سے واپس روانہ ہو گئیں۔واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاونڈز ریفرنس کا فیصلہ آج اڈیالہ جیل میں سنایا جانا تھا، جس کے لیے احتساب عدالت کے عملے نے بانی پی ٹی آئی کے وکلا کو باضابطہ طور پر آگاہ کردیا تھا۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف چوہدری نے تصدیق کی تھی کہ احتساب عدالت اسلام آباد کے عملے نے باضابطہ طور پر آگاہ کردیا ہے کہ آج 190 ملین پاونڈ ریفرنس کا فیصلہ اڈیالہ جیل میں سنایا جائے گا۔
    قبل ازیں احتساب عدالت نے 190 ملین پاو نڈز ریفرنس کا فیصلہ دو مرتبہ موخر کیا تھا، ٹرائل کی آخری سماعت گزشتہ سال 18 دسمبر کو اڈیالہ جیل میں ہوئی تھی۔ یہ فیصلہ آج بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں سنایا جانا تھا، تاہم دونوں آج پیش نہیں ہوئے، جس پر عدالت نے فیصلہ آج تیسری بار بھی مو خر کردیا۔اس سے پہلے 23 دسمبر کو کیس کا فیصلہ سنائے جانے کی تاریخ مقرر کی گئی تھی، تاہم عدالت نے فیصلہ سنائے جانے کی تاریخ ملتوی کرکے 6 جنوری مقرر کی تھی اور اس کے بعد کیس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ 13 جنوری مقرر کی گئی تھی۔190 ملین پاو نڈ ریفرنس کا جیل ٹرائل ایک سال میں مکمل ہوا، عمران خان کے خلاف یہ واحد کیس ہے جس کا ٹرائل ایک سال تک چلا۔ نیب نے 13 نومبر 2023 کوعمران خان کی گرفتاری ڈالی، 17 دن تک عمران خان سے اڈیالا جیل میں تفتیش کے بعد یکم دسمبر 2023 کو 190 ملین پاو ڈ ریفرنس احتساب عدالت میں دائرکیا۔عدالت نے 27 فروری 2024 کو عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کی، 190 ملین پاو نڈ ریفرنس میں آج35 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے۔190 ملین پاو نڈ ریفرنس میں سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ پرویزخٹک، سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال نے بھی بیان ریکارڈ کروایا۔
    190 ملین پاو نڈ ریفرنس میں 4 مرتبہ جج تبدیل ہوئے، سماعت پہلے جج محمد بشیر نے کی پھر سماعت جج ناصر جاوید رانا نے کی اس کے بعد ریفرنس جج محمد علی وڑائچ اور پھر دوبارہ جج ناصرجاوید رانا کے پاس آیا۔

  • 2025  میں عالمی تجارتی جنگ کے خطرات

    2025 میں عالمی تجارتی جنگ کے خطرات

    سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے دنیا آج جتنی عدم استحکام اور بے یقینی کا شکار ہے، شاید اس سے پہلے کبھی نہ رہی ہو۔ جغرافیائی سیاسی کشیدگی عروج پر ہے، یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں ہیں اور بڑھتے ہوئے ماحولیاتی خطرات نے سال رواںکو مزید پریشان کْن بنا دیا ہے۔
    گزشتہ چند سالوں سے عالمی آرڈر مسائل سے دوچار ہے۔ دوسری جانب کثیر قطبی دنیا کی جانب بڑھتے ہوئے جھکاؤ کی وجہ سے مغربی تسلط کم ہوتا جارہا ہے جبکہ کثیرالجہتی ادارے شدید دباؤ میں ہیں۔ طاقت کے عالمی توازن میں تبدیلیوں کے منظر نامے میں جغرافیائی سیاست کی تشکیل میں درمیانی طاقتیں اہم کردار ادا کریں گی۔
    2025ء کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دوسرا دورِ حکومت، عالمی معاملات میں مزید عدم استحکام کا باعث بنے گا؟ ان کی اعلان کردہ پالیسیز تشویش ناک ہیں جو پہلے سے ہی مشکلات سے گھری دنیا کے حالات کو مزید بگاڑ دیں گی۔
    جغرافیائی سیاسی سطح پر یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ ٹرمپ کی حکمرانی میں امریکا اپنے اتحادیوں، مخالفین اور حریفوں سے کیسے ڈیل کرتا ہے۔ سال2025 میں امریکا اور چین کے درمیان تعلقات کا مستقبل کیسا رہے گا، یہ بھی اسٹریٹجک اعتبار سے اہمیت کا حامل ہوگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی غیرمتوقع شخصیت کے پیش نظر چین اور امریکا کے حوالے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ کیا پتا وہ دونوں ممالک میں کشیدگی میں مزید اضافہ کردیں، یہ اب ان کے طرزِعمل پر منحصر ہے کہ وہ معاملات کو کس طرح سنبھالتے ہیں۔
    امریکا کے ساتھ تجارتی سرپلس والے چین سمیت دیگر ممالک پر زیادہ محصولات عائد کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی پر بہت سے ماہرین اتفاق کرتے ہیں کہ 2025ء کے سب سے بڑے خطرات میں عالمی تجارتی جنگ بھی شامل ہوگی۔ لندن میں قائم رسک کنسلٹنسی فرم، کنٹرول رسکس نے پیش گوئی کی ہے کہ 2025ء ’قومی سلامتی کو بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کے رہنما اصول کے طور پر قائم کرے گا‘۔
    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجارتی تحفظ پسندی میں واشنگٹن کس حد تک جائے گا، یہ چین امریکا تعلقات کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت کے لیے بھی نتیجہ خیز ثابت ہوگا۔ تاہم بڑے تجارتی شراکت دار خاص طور پر چین پہلے ہی اس حوالے سے سرگرم ہیں کہ اپنی حکمت عملیوں کو ٹرمپ سے کیسے محفوظ بنایا جائے۔ دی اکانومسٹ نے اپنی سالانہ اشاعت ‘ میں نوٹ کیا ہے کہ چینی فرمز پہلے ہی تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ گلوبل ساؤتھ میں نئی مارکیٹس تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بیرون ملک خود کو وسعت دے رہی ہیں۔ بلیک راک کے ایک جائزے نے امریکا اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے فرق کو ایک بڑھتے ہوئے عالمی خطرے کے طور پر دیکھا گیا ہے۔
    2025ء طے کرے گا کہ یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں کے نتائج کیا ہوں گے۔ یوکرین کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پالیسیز میں تبدیلی کے بیانات پہلے ہی یورپی حکومتوں کو بیچین کررہے ہیں۔ وہ اکثر دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ یوکرین جنگ ’ایک دن میں‘ ختم کروا سکتے ہیں، توقع کی جارہی ہے کہ ٹرمپ یوکرین کو روس کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے مجبور کریں گے۔ اگرچہ انہوں نے مسئلہ حل کرنے کے لیے کوئی واضح منصوبہ پیش نہیں کیا ہے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کو ایسے مذاکرات سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا جس سے روس کو فائدہ ہو اور یوکرین کو اپنی کچھ زمین سے دستبردار ہونا پڑے۔
    ڈونلڈ ٹرمپ یہ بھی متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں اور غزہ میں جنگ بندی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس حوالے سے تفصیلات نہیں دیں لیکن گمان یہی ہوتا ہے کہ یہ جنگ بندی بھی اگر ہوگی تو وہ اسرائیل کی شرائط پر ہوگی۔ وہ کہہ چکے ہیں کہ امریکا کو شام میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے لیکن شام میں حکومت کی تبدیلی کے پیچیدہ علاقائی اثرات کے پیش نظر وہ کیسے امریکا کو اس معاملے سے دور رکھ پائیں گے، یہ دیکھنا اہم ہوگا۔
    دنیا بھر میں جمہوریت کو چیلنجز کا سامنا رہے گا۔ گزشتہ چند سالوں میں جو رجحانات سامنے آئے ہیں وہ کسی صورت حوصلہ افزا نہیں۔ بہت سے ممالک میں سیاست زیادہ تقسیم کا شکار اور غیر مستحکم ہوتی جا رہی ہے۔ سیاست میں درمیانی راستے کی گنجائش ختم ہوتی جارہی ہے جبکہ سیاسی مرکز عالمی سطح پر کمزور ہوتا جارہا ہے۔ اس کا تعلق دائیں بازو کے پاپولزم کے عروج سے ہے جس کا اثر و رسوخ یورپ کے کئی حصوں میں بڑھ رہا ہے جبکہ یہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
    دنیا کے تقریباً تمام خطوں میں جمہوریت کمزور ہوئی ہے۔ بہت سے بین الاقوامی تنظیموں نے بھی کمزور ہوتی جمہوریت کو اجاگر کیا ہے جبکہ جتنے زیادہ ممالک میں ’آمرانہ طرزِ حکمرانی‘ بڑھی گی اور جمہوری حقوق اور آزادی کم ہوگی، یہ مسئلہ بڑھتا جائے گا۔ عالمی تھنک ٹینکس جو جمہوریت کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہیں، جمہوریت کے مستقبل کے حوالے سے مایوس ہیں۔ عوام کی توقعات سوشل میڈیا کی وجہ سے بڑھ چکی ہیں جبکہ سیاسی نظام ان معیارات اور توقعات پر پورا نہیں اتر پا رہے۔ عالمی خطرات کی پیش گوئی کرنے والی کچھ انٹیلی جنس کمپنیز نے کہا ہے کہ دنیا کے زیادہ تر خطوں میں بدامنی بڑھنے کے خدشات ہیں۔
    2025 کا ایک اور سب سے بڑا چیلنج عالمی تجارتی جریدے گلوبل ٹریڈ ریویو کے مطابق ’گرے زون جارحیت پسندی‘ ہے۔ یہ ایسا خطرہ ہے جو بیان کرنا مشکل ہے لیکن اس کی تشخیص انتہائی ضروری ہے۔ اس میں غلط معلومات پھیلانے کی مہمات، سائبر حملے اور پراکسی وارز شامل ہیں۔ ایسے عوامل تنازعات اور امن کے وقت کے درمیان کی لکیر کو دھندلا دیتے ہیں۔
    نئی طرز کی یہ جنگ دنیا بھر میں لڑی جارہی ہے جس کی وجہ سے ممالک اس سے مقابلے کے لیے تیار نہیں ہوتے نہ ان کے پاس نمٹنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اس سے ’بلیک سوان‘ (غیرمتوقع) واقعات بڑھنے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں اور اچانک ہونے والی جغرافیائی سیاسی پیش رفت جن کے دور رس نتائج ہوتے ہیں، طاقت کے موجودہ توازن کو تبدیل کرسکتے ہیں اور اس سے نئے چیلنجز پیدا ہوسکتے ہیں۔
    مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ہونے والی ترقی پر بھی 2025ء میں نظر رکھنا ہوگی۔ کاروبار، دفاتر، انٹرٹینمنٹ، میڈیا، صحت عامہ اور ذاتی زندگیوں میں اے آئی ٹولز کا استعمال زیادہ عام ہوجائے گا۔ مصنوعی ذہانت پہلے ہی بہت سی تبدیلیاں لے کر آیا ہے۔ لیکن ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئے چیلنجز جنم لیں گے جس میں سائبر سیکیورٹی کو بھی خطرات لاحق ہوں گے۔ ملٹری میں اے آئی کے استعمال سے بھی اضافی چیلنجز سر اٹھائیں گے۔
    برطانوی تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس کا خیال ہے کہ سال 2025ء میں اے آئی کی عالمی نگرانی پر زیادہ توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اس نے فروری میں پیرس میں ہونے والی اے آئی ایکشن سربراہی اجلاس کی جانب اشارہ کیا ہے جس میں حکومتی نمائندگان، ٹیک کمپنیز، سائنسدان اور ماہرین شرکت کریں گے اور اے آئی کو ’عوام کے مفاد‘ کے مطابق لانے کے لیے بات چیت کریں گے۔ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی ترقی نے مشکل سوالات اٹھائے ہیں کہ اس ترقی کے متاثر کْن اثرات اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی کمزوریوں سے کیسے نمٹا جائے۔ جہاں ایک ڈیجیٹل دنیا چیلنجز لاتی ہے وہیں یہ معاشی اور سماجی شعبہ جات میں ترقی کے نئے مواقع بھی پیش کرتی ہے۔
    2025ء اپنے ساتھ جغرافیائی تناؤ اور معاشی چیلنجز لے کر آئے گا جوکہ نہ صرف اقوام کے لیے کڑا امتحان ثابت ہوں گے بلکہ یہ بھی بتائیں گے کہ بین الاقوامی برادری مشترکہ مسائل کو حل کرنے کے لیے مل کر کیسے کام کرتے ہیں،ڈان نیوز کے شکریہ کے ساتھ شائع کیا گیا۔

  • گیس کی قیمتوں میں بھاری اِضافے کی منظوری مسترد

    گیس کی قیمتوں میں بھاری اِضافے کی منظوری مسترد

    حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے قائم مقام صدر احمد ادریس چوہان نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگراٌکی جانب سے گیس کی قیمتوں میں بھاری اِضافے کی منظوری کو مسترد کرتے ہوئے اسے صنعتوں، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کے لیے مہلک قرار دیا ہے، یہ غیرمنصفانہ اِضافہ عوام اور صنعتوں پر اِضافی بوجھ ڈالے گا جو پہلے ہی بلند افراطِ زر اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ایک بیان میں احمد ادریس نے کہا کہ اوگرا کو گیس کی قیمتوں میں اِضافے کی تجویز دینے کے بجائے قیمتوں میں کمی کی تجویز پیش کرنی چاہیئے تھی۔ کیونکہ شرح سود میں کمی اور گیس کے نقصانات (یو ایف جی)میں کمی جیسے عوامل اِس بات کی حمایت کرتے ہیں۔ عام طور پر جب شرح سود میں اِضافہ ہوتا ہے تو گیس کے ٹیرف میں بھی اِضافہ کیا جاتا ہے۔ لیکن حالیہ شرح سود میں کمی کو گیس کے نرخوں کے تعین میں نظرانداز کیا گیا ہے جس سے اوگرا کی قیمتوں میں اِضافے کی تجویز حیران کن نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوگرا کی سفارش پر سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کے صارفین کے لیے گیس کی قیمت میں 25.78 فیصد اور سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے صارفین کے لیے 8.71 فیصد اِضافہ کیا گیا ہے جو واضح طور پر سندھ اور بلوچستان کے صارفین پر پنجاب، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد کے صارفین کو ترجیح دینے کا مظہر ہے۔ ادریس چوہان نے کہا ہے کہ آئین پاکستان کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبہ سندھ کو اپنے قدرتی وسائل پر پہلا حق حاصل ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے سندھ اپنی ضرورت کے مطابق گیس سے محروم ہے۔ یہ آئین شکنی ہے اور اِس کے باعث سندھ کے صنعتی اور گھریلو صارفین کو اِضافی چارجز ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔ جبکہ اوگرا کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ پاکستان کے تقریبا 70 فیصد قدرتی گیس کے ذخائر رکھتا ہے اور قومی پیداوار میں 63 فیصد حصہ بھی ڈالتا ہے۔ ادریس چوہان نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف صنعتوں کی پیداواری لاگت میں اِضافے کا باعث بنے گا بلکہ بہت سی صنعتوں اور کارخانوں کی بندش کا سبب بھی بنے گا۔ خاص طور پر ایس ایم ایز جو پہلے ہی مہنگائی اور بلند پیداواری لاگت کا شکار ہیں مزید نقصان اٹھائیں گے۔ اِس کے نتیجے میں بے روزگاری بڑھے گی اور برآمدات متاثر ہوں گی جو معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں سے حکومت نے گیس کے نئے ذخائر کی دریافت پر توجہ نہیں دی جس کے باعث گیس کا بحران بڑھ رہا ہے۔ اگر فوری اِقدامات نہ کیے گئے تو قیمتیں ناقابل برداشت ہو جائیں گی۔ حکومت کو چاہیئے کہ سندھ کو اِس کا حق دے اور ملکی وسائل کی دریافت کے لیے مثر پالیسی بنائے تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔ قائم مقام صدر چیمبر ادریس چوہان نے اِس بات پر زور دیا کہ حکومت کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی ترقی کے لیے کیے گئے اقدامات جیسے کہ رعایتی قرضے اور صنعتی ترقی کے منصوبے اِس فیصلے سے متصادم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی قیمتوں میں اِضافے سے ایس ایم ایزکی مسابقتی صلاحیت ختم ہو جائے گی جو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ اوگرا کو اپنی سفارشات پر نظر ثانی کرنے کی ہدایت دیں اور متبادل حل تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کریں۔ انہوں نے حکومت سے یہ بھی کہا کہ وہ اِس بات کو یقینی بنائے کہ صنعتوں پر مزید بوجھ نہ پڑے۔ اگر ٹیرف میں اِضافہ ضروری ہو تو اس کا بوجھ دوسرے شعبوں پر منتقل کیا جائے نہ کہ ان صنعتوں پر جو پہلے ہی بلند گیس کے بلوں کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ اِس کے ساتھ ایس ایم ایز کی ترقی کے لیے مثر اور عملی اقدامات کئے جائیں تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔

    گیس لوڈشیڈنگ نے شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا
    وزیراعلی سندھ کے معاون خصوصی برائے خوراک و سابق ایم پی اے عبدالجبار خان نے کہا ہے کہ سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ نے حیدرآباد سمیت سندھ بھر کے شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے، سردی کے آغاز کے ساتھ ہی سوئی گیس کی طویل دورانیہ کی لوڈشیڈنگ کے باعث شہریوں کو روزمرہ کے کاموں کھانا پکانے کے لئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سارا دن گیس نہیں آتی اور اگر گیس آتی ہے تو اس کا پریشر اتنا کم ہوتا ہے کہ نہ تو اس پر کھانا بن پاتا ہے، اس کے علاوہ بچے بھی صبح گھروں میں ناشتے سے محروم ہوجاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ سندھ جوکہ سب سے زیادہ گیس پیدا کرتا ہے لیکن سندھ کے عوام کو گیس کی بنیادی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہے اور خاص طورپر صنعتی علاقوں میں بھی گیس کی شدید بحرانی کیفیت ہے جس کی وجہ سے صنعتیں بھی بحران کا شکار ہیں، کئی صنعتی اداروں میں کام نہ ہونے کے برابر ہے، شفٹیں کم کردی گئی ہیں جس کی وجہ سے بیروزگاری میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورت حال رہی تو پھر مجبورا لوگ لکڑیوں پر کھانا پکانے لگیں گے جو اضافی بوجھ ہو گا، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طورپر اس طرف توجہ دے اور حیدرآباد سمیت سندھ میں گیس کی قلت کا فوری خاتمہ کیا جائے۔

  • TIK TOKنے چینی بزنس مین کو امیر ترین شخص بنادیا

    TIK TOKنے چینی بزنس مین کو امیر ترین شخص بنادیا

    ٹک ٹاک کی بڑھتی ہوئی عالمی مقبولیت نے اس کی پیرنٹ کمپنی بائٹ ڈانس کے شریک بانی کو چین کا سب سے امیر شخص بنا دیا ۔ہورن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی جانب سے تیار کی گئی امیر ترین افراد کی فہرست کے مطابق ژانگ ییمنگ کی دولت اب 49.3 ارب ڈالر ہے جو 2023 کے مقابلے میں 43 فیصد زیادہ ہے۔41 سالہ ژانگ ییمنگ نے 2021 میں کمپنی کے انچارج کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا لیکن سمجھا جاتا ہے کہ وہ کمپنی کے تقریبا 20 فیصد حصص کے مالک ہیں۔ٹک ٹاک دنیا کی مقبول ترین سوشل میڈیا ایپس میں سے ایک بن چکی ہے اس کے باوجود کہ کچھ ممالک میں چینی ریاست کے ساتھ اس کے تعلقات کے بارے میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔اگرچہ دونوں کمپنیوں کا اصرار ہے کہ وہ چینی حکومت سے آزاد ہیں لیکن امریکہ کا کہنا ہے کہ اگر بائٹ ڈانس اسے فروخت نہیں کرتا تو وہ جنوری 2025 میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دے گا۔امریکہ میں شدید دباؤ کا سامنا کرنے کے باوجود بائٹ ڈانس کے عالمی منافع میں گذشتہ سال 60 فیصد اضافہ ہوا جس سے ژانگ ییمنگ کی ذاتی دولت میں بھی اضافہ ہوا۔ہورن کے سربراہ روپرٹ ہوگی ورف کا کہنا ہے کہ ژانگ ییمنگ صرف 26 سال چین کے ایسے 18ویں فرد ہیں جو نمبر ون بن گئے ہیں۔اس کے مقابلے میں امریکہ میں صرف چار افراد ہیں جو پہلے نمبر پر آئے وہ بل گیٹس، وارن بفیٹ، جیف بیزوس اور ایلون مسک ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ’اس سے پتا چلتا ہے کہ چینی معیشت کتنی متحرک ہے۔‘ژانگ اس فہرست میں چین کے ٹیک سیکٹر کے واحد نمائندے نہیں۔ ٹیکنالوجی گروپ ’ٹینسینٹ‘ کے سربراہ پونی ما 44.4 ارب پاؤنڈ کی ذاتی دولت کے ساتھ اس فہرست میں تیسرے نمبر پر ہیں۔درحقیقت فہرست میں شامل تقریباً 30 فیصد افراد کی مجموعی دولت میں اضافہ ہوا تھا جبکہ باقی میں کمی دیکھی گئی۔ہوگی ورف کا کہنا ہے کہ ’ہورون چائنا رچ لسٹ‘ مسلسل تیسرے سال غیر معمولی طور پر سکڑ گئی کیونکہ چین کی معیشت اورا سٹاک مارکیٹس کے لیے ایک مشکل سال تھا۔انھوں نے کہا کہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ یہ شاؤمی جیسے سمارٹ فون مینوفیکچررز کے لیے اچھا سال رہا ہے جبکہ گرین انرجی مارکیٹ میں گراوٹ دیکھا گیا۔انھوں نے کہا ’سولر پینل، لیتھیم بیٹری اور ای وی بنانے والوں کے لیے مشکل سال رہا کیونکہ مسابقت میں تیزی آئی اور محصولات کے خطرے نے غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کیا۔‘سولر پینل بنانے والوں کی دولت میں 2021 کے مقابلے میں 80 فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ بیٹری اور ای وی بنانے والوں کی دولت میں بالترتیب نصف اور ایک چوتھائی کمی آئی۔ژانگ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنے کریئر کے آغاز پر ناکامیوں کے باوجود ثابت قدم رہے۔ انھوں نے 2005 میں نانکائی یونیورسٹی سے گریجویشن کیا جہاں انھوں نے مائیکرو الیکٹرانکس کی تعلیم شروع کی تاہم بعد میں انھوں نے سافٹ ویئر انجینیئرنگ کو اپنا مضمون بنا لیا۔گریجویشن کے بعد ژانگ نے ایک ا سٹارٹ اپ میں ملازمت حاصل کی جہاں انھوں نے وہ مہارت حاصل کی جس کی مدد سے انھوں نے اپنی کمپنی کی بنیاد رکھی۔گلوبل لیڈرز نامی ویب سائٹ کے مطابق انھوں نے بتایا کہ ’میں نے کوکسون نامی کمپنی میں شمولیت اختیار کی اور میں اس کے اولین ملازمین میں سے ایک تھا۔ میں شروع میں ایک عام انجینیئر تھا لیکن دوسرے سال میں بیک اینڈ ٹیکنالوجی اور مصنوعات سے متعلق دیگر کاموں کے ذمہ دار تقریبا 40 سے 50 افراد کا انچارج تھا۔‘تیزی سے ترقی اور مہارت حاصل کرنے کی ان کی فطری صلاحیت نے انھیں دہائی کے ابھرتے ہوئے لیڈرز میں شامل کر دیا۔انھوں نے مزید کہا کہ ’آپ میں ذمہ داری کا احساس اور چیزوں کو اچھی طرح سے کرنے کی خواہش، آپ کو مزید چیزیں کرنے اور تجربہ حاصل کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔‘ایک انجینیئر ہوتے ہوئے ژانگ کا مسائل کو حل کرنے کے لیے وقف رویہ اور جوش آخر کار ان کے منصوبوں میں مددگار ثابت ہوا۔ژانگ نے یہی مہارت بعد میں اپنی کمپنی بائٹ ڈانس کو بڑھانے کے لیے استعمال کی۔کوکسون کے بعد ژانگ نے مختصر عرصے کے لیے مائیکروسافٹ میں شمولیت اختیار کی۔ یہ ہ وقت تھا جس نے ان میں مزید آزادی اور تخلیقی صلاحیتں نکھارنے کا جذبہ پیدا کیا اور وہ دوبارہ ا سٹارٹ اپ کی دنیا میں لوٹ گئے۔سنہ 2009 میں ژانگ نے اپنا پہلا کاروبار شروع کیا ایک پراپرٹی سرچ سائٹ شروع کی لیکن انھوں نے تین سال بعد یہ کاروبار چھوڑ دیا لیکن یہ کمپنی بنانے سے ژانگ میں انٹرپرینیورشپ کا جذبہ پیدا ہوا۔سنہ 2012 میں انھوں نے بیجنگ میں واقع ایک کاروبار بائٹ ڈانس کی بنیاد رکھی جو خبریں جمع کرنے کی خدمات فراہم کرتا ہے۔ژانگ کا ارداہ تھا کہ وہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے صارفین کو متعلقہ مواد پہنچانے کے لیے تجاویز دیں اور یہی خیال بالآخر بائٹ ڈانس کی تخلیق کا باعث بنا۔اس کمپنی کا آغاز انھوں نے بیجنگ کے ایک چار بیڈروم والے اپارٹمنٹ سے کیا۔ ان کی ٹیم یہاں رہتی بھی تھیں اور کام بھی کرتی تھی۔انھوں نے گلوبل لیڈز کو بتایا کہ ’ہمارے خیالات بہت بڑے تھے۔ ہم ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں گلوبلائزیشن کے بارے میں بات کر سکتے ہیں۔‘انھوں نے کمپنی کے لیے جو مستقبل سوچا وہ چین تک محدود نہیں تھا۔ انھوں نے کمپنی کو دنیا بھر میں پھیلانے کا منصوبہ بنایا تاہم زیادہ تر سرمایہ کار ان کے خیال سے متاثر نہیں تھے۔بہت کوشش کے بعد بھی وہ فنڈز حاصل کرنے میں ناکام رہے لیکن پھر سیسکویہنا انٹرنیشنل گروپ منصوبے کی صلاحیت بھانپتے ہوئے اس سٹارٹ اپ میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہو گیا۔ اس کے بعد ترقی کرتے ہوئے وہ موجودہ مقام تک پہنچ گئے۔

  • آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے ہر میدان میں ٹیکنالوجی کا انقلاب

    آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے ہر میدان میں ٹیکنالوجی کا انقلاب

    ٹیکنالوجی ماہرین نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس)ہر میدان میں ٹیکنالوجی کا انقلاب لاتے ہوئے مستقبل کے کاروباری ماڈلز، صنعت کے مقابلے، اور سرکاری و نجی تنظیموں کو منظم اور تبدیل کرے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز جیسے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کلا ڈ کمپیوٹنگ، اور بگ ڈیٹا تیزی سے ٹیکنالوجی کے منظرنامے کو تبدیل کر رہی ہیں، جبکہ روایتی صنعت کار آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے کم لاگت کے طریقے اور محدود بجٹ میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی سافٹ ویئر کی مدد سے کام کرنے جیسے بے شمار فوائد دیکھ کر حیرت زدہ ہیں۔مغرب میں، انٹیلیجنس سافٹ ویئر پہلے سے ہی استعمال ہو رہا تھا، لیکن اسے تیزی سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی سافٹ ویئر سے تبدیل کیا جا رہا ہے، جو تمام اقسام کی تنظیموں، چاہے سرکاری ہوں یا نجی، چھوٹی ہوں یا بڑی، کے لیے بے شمار فوائد فراہم کرتا ہے۔جرمنی سے کراچی آئے ہوئے نوجوان ڈیٹا اینالسٹ بلال احمدصدیقی کامیڈیا سے گفتگو میں کہنا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی پروگرام صنعت سے صنعت، تنظیم سے تنظیم اور فیلڈ سے فیلڈ میں مختلف ہوتے ہیں،مثلا آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی سافٹ ویئر کسی منصوبے کے لیے بجٹ اور لاگت کے حوالے سے درست اعداد و شمار اکٹھا کرنے میں مدد فراہم کرسکتا ہے، جبکہ سرکاری تنظیموں میں خراب گورننس یا کرپشن کو کنٹرول کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ بلال احمدصدیقی نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس ہماری صنعت میں انقلاب لانے کے لیے تیار ہے،بگ ڈیٹا بھی درست معلومات نکالنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی قدر ناقابل انکار ہے، حال ہی میں یورپ کے ایک کلائنٹ نے لاجسٹکس سافٹ ویئر تیار کرایا ہے، وہاں کی حکومت اب اس سافٹ ویئر میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی صلاحیتوں کو شامل کرنے کے لیے گرانٹ فراہم کر رہی ہے، جو لاجسٹکس کو مزید بہتر بنانے اور اقتصادی ترقی کو بڑھانے کی صلاحیت کو تسلیم کرتی ہے۔ یہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی تبدیلی کی طاقت اور صنعتوں کو نئے سرے سے تشکیل دینے کی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔ دوسری جانب یہ سافٹ ویئر زراعت کے شعبے میں مٹی کی جانچ کو یقینی بنا سکتا ہے، صحت کے شعبے میں تمام مریضوں کے الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ (ای ایم آر) کو برقرار رکھ سکتا ہے، ہوٹل انڈسٹری میں کھانے کے ضیاع کو کم کرسکتا ہے اور ڈیلیوری مینجمنٹ کو یقینی بنا سکتا ہے، اور مینوفیکچرنگ کے شعبے میں وسائل کے استعمال کو بہتر بنا سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ کسی بھی کمپنی یا تنظیم کے لیے پرانا ڈیٹا آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی پروگرام بنانے میں بہت اہم ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کرنا بہت آسان ہے، اور قریب مستقبل میں دنیا بھر میں ہر چیز آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر انحصار کرے گی۔
    انہوں ںے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی وسیع رسائی اور استعمال سے صنعتوں میں ایک انقلاب آنے والا ہے، جیسے ماضی میں سیٹلائٹ ٹیلی ویژن، کمپیوٹرز، انٹرنیٹ اور اسمارٹ فونز نے تبدیلی لائی تھی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا بڑا ڈیٹا پروسیس کرنے اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت کاروباروں کو تیز، ذہین فیصلے کرنے، اپنے آپریشنز کو بہتر بنانے اور نئے ترقیاتی مواقع دریافت کرنے کے قابل بنائے گی، کلا ڈ کمپیوٹنگ نئی کمپنیوں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کو بغیر زیادہ انفراسٹرکچر کے اخراجات کے اپنے آپریشنز کو بڑھانے کے قابل بنا رہی ہے، آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی بصیرتیں کاروباروں کو تیزی سے نئے ماڈلز کے ساتھ تجربہ کرنے اور ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں داخل ہونے کے قابل بناتی ہیں،انٹرپرینیورز اور پروڈکٹ ڈیولپمنٹ ٹیموں کے لیے یہ ٹیکنالوجی تبدیلی لانے والی ہے۔ نئے پروڈکٹس بنانے اور ان کی جانچ کے لیے درکار وسائل اور وقت میں نمایاں کمی واقع ہو رہی ہے۔