یورپی ممالک کو ہنرمند نوجوانوں کی تلاش
جرمنی جائو۔۔۔۔مستقبل سنوارو
بھارت نے ملازمتیں ہتھیانے کی تیاری کرلی،پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
پاکستان واچ رپورٹ
دنیا اس وقت ایک خاموش مگر انتہائی اہم تبدیلی سے گزر رہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک، خاص طور پر جرمنی، اپنی معیشت کو چلانے کے لیے ہنر مند افرادی قوت کی شدید کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ فیکٹریاں ہوں، اسپتال ہوں یا آئی ٹی کمپنیاں ہر شعبہ افراد کی تلاش میں ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جسے دنیا کے کئی ممالک نے موقع میں بدل دیا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اس سنہری موقع کو پوری طرح سمجھ کر اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ جرمنی میں اس وقت لاکھوں ملازمتیں خالی ہیں۔ بڑھتی عمر کی آبادی اور کم ہوتی لیبر فورس نے جرمن معیشت کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں بیرونی ہنر مند افراد ناگزیر ہو چکے ہیں۔ جرمن حکومت نے امیگریشن قوانین کو نرم کیا ہے، “اسکلڈ ورکرز” کے لیے راستے کھول دیے ہیں، حتیٰ کہ “چانس کارڈ” جیسے پروگرامز متعارف کروائے گئے ہیں تاکہ دنیا بھر سے ہنر مند افراد وہاں آ کر کام کر سکیں۔ یہ کوئی معمولی موقع نہیں بلکہ ایک ایسا تاریخی موقع ہے جو شاید بار بار نہ آئے۔
دوسری جانب بھارت نے اس موقع کو فوراً بھانپ لیا۔ بھارت نے نہ صرف اپنے نوجوانوں کو جرمن زبان سکھانے پر سرمایہ کاری کی بلکہ اس نے اپنی یونیورسٹیوں، ٹیکنیکل اداروں اور نجی شعبے کو بھی اس مقصد کے لیے متحرک کیا۔ بھارتی حکومت نے جرمنی کے ساتھ باضابطہ معاہدے کیے، اپنی افرادی قوت کو عالمی معیار کے مطابق تیار کیا اور نتیجتاً آج بھارتی نوجوان بڑی تعداد میں جرمنی میں روزگار حاصل کر رہے ہیں۔ یہ صرف روزگار نہیں بلکہ ایک معاشی حکمت عملی ہے جس کے ذریعے بھارت مسلسل زرمبادلہ حاصل کر رہا ہے۔
اب سوال پھر وہی ہے: پاکستان کیوں پیچھے ہے؟
کیا ہمارے پاس صلاحیت کی کمی ہے؟ ہرگز نہیں۔
کیا ہمارے نوجوان عالمی معیار پر پورا نہیں اتر سکتے؟ بالکل اتر سکتے ہیں۔
اصل مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم نے ابھی تک اس موقع کو قومی ترجیح نہیں بنایا۔
پاکستان کے پاس ایک بہت بڑی طاقت موجود ہے نوجوان آبادی۔ اگر اس طاقت کو صحیح سمت دے دی جائے تو یہ نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا دے سکتی ہے بلکہ دنیا میں پاکستان کا مثبت تشخص بھی اجاگر کر سکتی ہے۔ جرمنی جیسے ملک میں پاکستانیوں کی موجودگی پہلے سے ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ راستہ موجود ہے، صرف اس راستے کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے گلوبل کمپیٹیشن۔ آج صرف بھارت ہی نہیں بلکہ بنگلہ دیش، فلپائن اور ویتنام جیسے ممالک بھی اس دوڑ میں شامل ہیں۔ یہ ممالک اپنی افرادی قوت کو منظم انداز میں یورپ بھیج رہے ہیں۔ اگر پاکستان نے اس مقابلے میں حصہ نہ لیا تو ہم
ایک بار پھر ایک بڑے موقع سے محروم ہو سکتے ہیں۔
اب وقت ہے کہ پاکستان ایک جامع اور جارحانہ حکمت عملی اپنائے۔
سب سے پہلے، حکومت کو چاہیے کہ جرمنی کے ساتھ فوری طور پر اسٹریٹجک لیبر پارٹنرشپ قائم کرے۔ اس کے تحت مخصوص شعبوں میں پاکستانیوں کے لیے روزگار کے دروازے کھولے جا سکتے ہیں۔ خاص طور پر ہیلتھ کیئر سیکٹر (نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف)، آئی ٹی، انجینئرنگ اور ہنر مند مزدوری کے شعبے ایسے ہیں جہاں پاکستانی نوجوان بہترین کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔
دوسرا، پاکستان کو اپنے تعلیمی اور ٹریننگ نظام میں انقلابی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو صرف تعلیم نہیں بلکہ قابلِ استعمال ہنر (Employable Skills) دینے ہوں گے۔ ٹیکنیکل اور ووکیشنل ٹریننگ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔
تیسرا، جرمن زبان کو قومی سطح پر فروغ دینا ہوگا۔ اگر چین کے لیے چینی زبان سیکھی جا سکتی ہے اور خلیجی ممالک کے لیے عربی، تو جرمنی کے لیے جرمن زبان کیوں نہیں؟ اس کے لیے سرکاری سطح پر اقدامات ناگزیر ہیں۔
چوتھا، اوورسیز ایمپلائمنٹ کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور شفاف بنانا ہوگا۔ ایک ایسا پورٹل ہونا چاہیے جہاں ہر نوجوان آسانی سے رجسٹر ہو سکے، نوکری تلاش کر سکے اور محفوظ طریقے سے بیرون ملک جا سکے۔
پانچواں اور نہایت اہم پہلو ہے ڈائسپورا انگیجمنٹ۔ جرمنی میں موجود پاکستانی کمیونٹی کو فعال بنایا جائے تاکہ وہ نئے آنے والوں کی رہنمائی کر سکے۔ یہ کمیونٹی پاکستان کے لیے ایک پل کا کردار ادا کر سکتی ہے۔
اگر ان اقدامات پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے تو پاکستان کے لیے امکانات بے حد روشن ہیں۔ ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، بے روزگاری کم ہو سکتی ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کا امیج بہتر ہو سکتا ہے۔
یہ صرف معیشت کی بات نہیں، یہ مستقبل کی بات ہے۔
تصور کریں ایک ایسا پاکستان جہاں نوجوان بے روزگاری سے مایوس نہ ہوں بلکہ عالمی مواقع سے جڑے ہوں، جہاں زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوں، جہاں دنیا پاکستانی ہنر کو تسلیم کرے یہ سب ممکن ہے، اور اس کی کنجی جرمنی جیسے مواقع میں پوشیدہ ہے۔
آخر میں، یہ وقت فیصلے کا ہے۔
دنیا آگے بڑھ رہی ہے،
مواقع دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں،
جرمنی ہاتھ بڑھا رہا ہے
اور ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہم اس ہاتھ کو تھامیں گے یا ایک بار پھر موقع گنوا دیں گے۔
یہ صرف حکومت کا امتحان نہیں، بلکہ ایک قومی امتحان ہے۔
اگر ہم نے آج درست فیصلہ کر لیا، تو آنے والی نسلیں ہمیں یاد رکھیں گی کہ ہم نے ایک موقع کو تاریخ میں بدل دیا۔
Blog
-

جرمنی جائو۔۔۔۔مستقبل سنوارو…پاکستان واچ رپورٹ
-

کیا جنگ رکنے والی ہے؟ امریکا اور ایران کے درمیان سیز فائر پر پیشرفت
واشنگٹن (ویب ڈیسک )امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا، ایران اور علاقائی ثالثوں کے ایک گروپ کے درمیان ممکنہ جنگ بندی سے متعلق اہم بات چیت جاری ہے، جس کے تحت 45 روزہ سیز فائر پر غور کیا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق یہ مجوزہ جنگ بندی دو مرحلوں پر مشتمل ہوگی، پہلے مرحلے میں 45 دن کی عارضی جنگ بندی کی جائے گی، جس کے دوران فریقین کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں اعتماد سازی کے اقدامات بھی زیر غور آئیں گے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔دوسرے مرحلے میں جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے ایک باضابطہ معاہدہ طے پانے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ اگر مذاکرات کو مزید وقت درکار ہوا تو اس عارضی جنگ بندی میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق اگلے 48 گھنٹوں کے اندر کسی بڑے یا حتمی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں، تاہم یہ کوشش جنگ میں مزید شدت کو روکنے کا ایک اہم اور ممکنہ طور پر آخری موقع تصور کی جا رہی ہے۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے اس رپورٹ پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا، جس کے باعث صورتحال میں غیر یقینی برقرار ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ بندی کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ خطے میں جاری کشیدگی کم کرنے اور بڑے پیمانے پر تصادم کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
-

ٹارگٹڈ پبلک ٹرانسپورٹ سبسڈی پروگرام کا اعلان
کراچی (ویب ڈیسک )حکومت سندھ نے کرایوں میں استحکام کے لیے ٹارگٹڈ پبلک ٹرانسپورٹ سبسڈی پروگرام کو حتمی شکل دے دی۔ صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کے مطابق پروگرام کا مقصد عوام کو ریلیف دینا اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں کو مستحکم رکھنا ہے۔ان کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ سیکٹر دباؤ کا شکار تھا، اسی لیے “ٹارگٹڈ فیول ڈیفرینشل سبسڈی” متعارف کرائی گئی تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔اسکیم کے تحت ٹرانسپورٹرز کو ماہانہ مالی معاونت دی جائے گی، تاہم انہیں کرایوں میں اضافہ نہ کرنے اور حکومتی قواعد کی پابندی کرنا ہوگی۔انٹرا سٹی ٹرانسپورٹ کے لیے بسوں، منی بسوں اور کوچز کو ماہانہ 2 لاکھ 40 ہزار روپے تک، ویگنز کو 2 لاکھ 30 ہزار روپے جبکہ سوزوکی پک اپ کو 60 ہزار روپے تک سبسڈی دی جائے گی۔انٹر سٹی ٹرانسپورٹ میں بسوں کو روٹ کے حساب سے ماہانہ 12 لاکھ روپے تک جبکہ ویگنز کو فاصلے کے مطابق 1 لاکھ 80 ہزار سے 7 لاکھ 50 ہزار روپے تک سبسڈی ملے گی۔پروگرام 9 ہزار سے زائد انٹرا سٹی اور 1100 انٹر سٹی گاڑیوں پر لاگو ہوگا، جس سے ماہانہ تقریباً 5 کروڑ 70 لاکھ مسافروں کو فائدہ پہنچے گا۔ اس مد میں تقریباً 2.2 ارب روپے ماہانہ خرچ ہوں گے اور فی مسافر اوسطاً 38 روپے کا ریلیف ملنے کا امکان ہے۔شفافیت کے لیے مکمل ڈیجیٹل اور ایپ بیسڈ نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے ذریعے رجسٹریشن، تصدیق اور ادائیگیاں براہ راست سندھ بینک کے ذریعے ہوں گی۔ نظام کو ایکسائز، آر ٹی اے اور پی ٹی اے کے ڈیٹا سے منسلک کیا جائے گا جبکہ انسپیکشن اور مسافروں کی فیڈبیک بھی شامل کی جائے گی۔وزیر اطلاعات کے مطابق رجسٹریشن بڑھانے کے لیے دفاتر کے اوقات کار میں 15 اپریل تک توسیع کر دی گئی ہے، جبکہ ایکسائز میں رجسٹرڈ ہر موٹر سائیکل مالک کو 2 ہزار روپے فیول سبسڈی بھی فراہم کی جائے گی۔
-

ریسکیو مشن مہنگا پڑ گیا، امریکا کے 20 کروڑ ڈالر کے طیارے تباہ
تہران (ویب ڈیسک )ایران میں امریکی پائلٹ کے ریسکیو مشن کے دوران تباہ ہونے والے امریکی طیاروں کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس آپریشن میں استعمال ہونے والے دو جدید ایم سی 130 جے ٹرانسپورٹ طیارے ایک متروک (استعمال سے باہر) ایئربیس پر لینڈنگ کے دوران زمین میں دھنس گئے، جس کے بعد امریکی فوج کو انہیں خود ہی تباہ کرنا پڑا۔امریکی فضائیہ کے اسپیشل آپریشنز کمانڈ کے مطابق ان دونوں طیاروں کی مالیت فی طیارہ 100 ملین ڈالر (یعنی 10 کروڑ ڈالر) سے زائد ہے، جس کے باعث اس واقعے کو مالی لحاظ سے بھی ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ طیارے خصوصی طور پر خفیہ فوجی آپریشنز کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ طیارے دشمن کے علاقوں میں فوجی دستوں کی خفیہ نقل و حرکت، دراندازی (انفلٹریشن) اور انخلا جیسے حساس مشنز انجام دیتے ہیں۔ان میں جدید سینسرز اور دفاعی نظام نصب ہوتے ہیں جو انہیں خاص طور پر ہیٹ سیکنگ میزائلوں سے بچاؤ میں مدد فراہم کرتے ہیں۔امریکی فضائیہ کا کہنا ہے کہ یہ طیارے کم بلندی پر پرواز کرنے اور دشمن کی نظروں سے بچ کر کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہیں دورانِ پرواز ایندھن فراہم کیا جا سکتا ہے، جبکہ یہ خود بھی ہیلی کاپٹروں اور دیگر طیاروں کو ایندھن دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔مزید یہ کہ یہ طیارے جدید ڈیجیٹل ایویانکس، نیویگیشن سسٹم اور طاقتور ٹربو پراپ انجنز سے لیس ہوتے ہیں، جو انہیں مشکل ترین حالات میں بھی آپریشن جاری رکھنے کے قابل بناتے ہیں۔ یہ طیارے عموماً رات کے وقت مشنز انجام دیتے ہیں تاکہ دشمن کی نظروں سے بچا جا سکے۔رپورٹس کے مطابق یہ طیارے امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے تیار کیے ہیں اور ان کی پرواز کی رینج تقریباً 3 ہزار میل ہے۔ ہر طیارے میں 5 افراد پر مشتمل عملہ ہوتا ہے، جن میں پائلٹس اور اسپیشل مشن کے ماہرین شامل ہوتے ہیں۔
-

سونے کے نرخ پھر بڑھ گئے، چاندی کی قیمت میں کمی
کراچی:(ویب ڈیسک )عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز سونے کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا جبکہ چاندی کی قیمتوں میں کمی ہوگئی۔بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 11ڈالر کے اضافے سے 4ہزار 687ڈالر کی سطح پر آگئی۔عالمی مارکیٹ میں اضافے کے سبب مقامی صرافہ مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت بھی 1ہزار 100روپے کے اضافے سے 4لاکھ 91ہزار 462روپے کی سطح پر آگئی۔اسی طرح، فی دس گرام سونے کی قیمت 943روپے بڑھ کر 4لاکھ 21ہزار 349روپے کی سطح پر آگئی۔سونے کے برعکس، فی تولہ چاندی کی قیمت 50 روپے کی کمی سے 7ہزار 744 روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی 43روپے کی کمی سے 6ہزار 639روپے کی سطح پر آگئی۔
-

پاکستان کا تیار کردہ جنگ بندی کا منصوبہ امریکا اور ایران کو موصول
اسلام آباد(ویب ڈیسک )ایران جنگ کے خاتمے کیلئے پاکستان کا تیار کردہ منصوبہ ایران اور امریکی قیادت کو پہنچا دیا گیا ہے۔رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران کو جنگ ختم کرنے کا منصوبہ موصول ہو گیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے تیار کردہ فریم ورک تہران اور واشنگٹن کو پیش کیا گیا جس میں فوری جنگ بندی اور بعد ازاں جامع معاہدے کی تجاویز شامل ہیں۔منصوبے کے تحت جنگ بندی کے فوراً بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل کھولنے کا امکان ہے۔رپورٹس کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطے کیے۔منصوبے کے مطابق 45 روزہ جنگ بندی کے بعد اسلام آباد میں حتمی مذاکرات متوقع ہیں جبکہ معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی کے بدلے پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہو سکتی ہے۔دوسری جانب ایران نے پاکستان کا تیار کردہ منصوبہ موصول ہونے کی تصدیق کردی ہے۔ایرانی عہدیدار نے رائٹزر سے گفتگو میں کہا کہ جنگ بندی کے حوالے سے پاکستان کی تجویز موصول ہو گئی ہے۔ جنگ بندی مجوزے کاجائزہ لے رہے ہیں۔عہدیدار نے کہا کہ تہران کسی ڈیڈ لائن یا دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ عارضی جنگ بندی کے بدلے آبنائے ہرمز نہیں کھولیں گے۔ تہران کا خیال ہے کہ امریکا میں مستقل جنگ بندی کے لیے تیاری کا فقدان ہے۔
-

ایرانی فوج کے انٹیلیجنس سربراہ مجید خادمی امریکی و اسرائیلی حملے میں شہید
تہران (ویب ڈیسک )ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلیجنس تنظیم کے سربراہ میجر جنرل مجید خادمی امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے ہیں۔یہ بات ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے پاسدارانِ انقلاب کے جاری کردہ بیان کے حوالے سے پیر کے روز رپورٹ کی۔بیان کے مطابق میجر جنرل مجید خادمی گزشتہ تقریباً پانچ دہائیوں سے ایران کے انٹیلیجنس اور سکیورٹی نظام میں اہم کردار ادا کر رہے تھے اور انہیں ملک کی سکیورٹی اسٹرکچر کی ایک کلیدی شخصیت سمجھا جاتا تھا۔پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ مجید خادمی کی خدمات ایران کی داخلی سلامتی اور انٹیلیجنس آپریشنز کے حوالے سے نہایت اہم تھیں، اور ان کی موت ملک کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ مرحوم کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے حوالے سے تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، اور مختلف محاذوں پر حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
-

بھارت نے ڈرامہ کیا تو کلکتہ تک پہنچا کرآئیں گے، خواجہ آصف
اسلام آباد (ویب ڈیسک )وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہا ہے، اگر بھارت نے کوئی ڈرامہ رچانے کی کوشش کی تو پاکستان بھرپور جواب دے گا اور جواب دیتے ہوئے کلکتہ تک پہنچا کر آئیں گے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خطے میں امن قائم ہونا چاہیے اور برادر ممالک کے درمیان اتفاق ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی افواج نے بھارت کو جنگ میں عبرتناک شکست دی۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بھارت فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہا ہے، تاہم اگر بھارت نے کوئی ڈرامہ رچانے کی کوشش کی تو پاکستان بھرپور جواب دے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی قسم کی جارحیت کی گئی تو جواب دیتے ہوئے کلکتہ تک پہنچاکر آئیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان انتہائی اہم کردارادا کر رہا ہے، دعا کریں پاکستان اپنے کردار میں سرخرو ہو۔خواجہ آصف نے کہا کہ دعا کریں خطے میں امن قائم ہو،برادرممالک میں اتفاق ہو۔
-

انشاءاللہ اور بسم اللہ، کیا رونالڈو نے اسلام قبول کرلیا؟
ریا ض (ویب ڈیسک )پرتگالی سپر اسٹار کرسٹیانو رونالڈو نے ایک بار پھر شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے اپنے سعودی کلب النصر کو النجمہ کے خلاف 2-5 سے فتح دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔اس میچ میں رونالڈو نے دو گول اسکور کیے اور اپنی ٹیم کی برتری کو مزید مستحکم کیا۔تاہم، اس میچ میں رونالڈو کی کارکردگی سے زیادہ ایک خاص لمحہ سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنا، جب انہوں نے پینلٹی پر گول کرنے سے پہلے ’بسم اللہ‘ کہا۔انہوں نے 56ویں منٹ میں پینلٹی کے ذریعے گول کر کے اسکور 2-3 کردیا، بعد ازاں 73ویں منٹ میں ایک اور گول کر کے ٹیم کی برتری 2-4 کردی۔اس شاندار کارکردگی کے بعد رونالڈو کے کیریئر گولز کی تعداد 967 تک پہنچ گئی ہے اور وہ اب تیزی سے 1000 گولز کے تاریخی سنگ میل کی جانب بڑھ رہے ہیں۔یہ پہلا موقع نہیں جب رونالڈو نے مسلمانوں کی زندگی کے لازمی جز سمجھے جانے والے کسی مخصوص اسلامی لفظ کا استعمال کیا ہو۔دسمبر 2025 میں مسلسل تیسری مرتبہ مشرقِ وسطیٰ کے بہترین فٹبالر آف دی ایئر کا اعزاز حاصل کرنے کے بعد اپنی تقریر کے دوران انہوں نے ایک ہزار گول مکمل کرنے کے لیے ’انشاءاللہ‘ کا لفظ استعمال کیا تھا۔سوشل میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ رونالڈو مزید کچھ عرصہ سعودی عرب میں رہے تو اسلام قبول کرسکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے خود رونالڈو یا ان کے قریبی ذرائع سے ایسی کسی بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔
