Blog

  • جنگ بندی کیلئے پاکستان کی  کوششیں اہم مرحلے میں داخل، ایرانی سفیر

    جنگ بندی کیلئے پاکستان کی کوششیں اہم مرحلے میں داخل، ایرانی سفیر

    اسلام آباد (ویب ڈیسک )پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں ایک اہم مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ایرانی سفیر کے مطابق پاکستان کی جانب سے جاری خیرسگالی اقدامات اور سفارتی رابطے مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، اور اب یہ عمل ایک حساس اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ ان کوششوں سے متعلق مزید تفصیلات جلد سامنے آئیں گی۔تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور مختلف فریقین کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے سرگرم ہے۔ایرانی سفیر کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر جنگ بندی اور سفارتی حل کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔
    :Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی
    یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • اٹک میں سونے کے ذخائر کے معاملے پر بڑی پیش رفت

    اٹک میں سونے کے ذخائر کے معاملے پر بڑی پیش رفت

    لاہور (ویب ڈیسک )اٹک میں سونے کے ذخائر کے معاملے میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پنجاب حکومت نے نیسپاک سے فائنل رپورٹ 30 اپریل تک طلب کر لی ہے۔ذرائع نے اس حوالے سے بتایا کہ ابتدائی طور پر سونے کے ذخائر کی تصدیق ہوچکی ہے، تاہم حتمی رپورٹ کا انتظار ہے تاکہ آگے کی کارروائی ممکن ہو سکے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اٹک سمیت مختلف مقامات پر موجود سونے کی مقدار عالمی مارکیٹ میں کئی سو ارب روپے کے مساوی ہو سکتی ہے، جس سے ملکی معیشت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے اہم مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔نیسپاک کی فائنل رپورٹ کے بعد رواں ماہ بین الاقوامی آکشن بھی متوقع ہے، جس کے ذریعے سونے کے ذخائر کی مارکیٹ میں فروخت اور سرمایہ کاری کے اقدامات کیے جائیں گے۔واضح رہے کہ میانوالی اور دریائے ستلج کے علاقوں میں بھی سونے کے ذخائر موجود ہیں، جس سے اس خطے میں معدنی وسائل کے حوالے سے امکانات میں اضافہ ہوا ہے۔
    :Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی
    یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • ایرانی سفارتخانوں نے ٹرمپ کی دھمکیوں کا عالمی مذاق بنایا

    ایرانی سفارتخانوں نے ٹرمپ کی دھمکیوں کا عالمی مذاق بنایا

    تہران (فارن ڈیسک )دنیا بھر میں ایرانی سفارتخانوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے حوالے سے دھمکیوں کو مذاق میں اُڑا دیا ہے اور سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کر کے اپنے طنزیہ پیغامات و کارٹونز شیئر کیے ہیں۔
    ایرانی سفارتخانے ٹرمپ کی دھمکیوں کو سنجیدہ لینے کے بجائے عالمی سطح پر مزاح اور طنز کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔
    زمبابوے میں ایرانی سفارتخانے نے آبنائے ہرمز کھولنے کی ٹرمپ کی فرمائش پر لکھا کہ ’چابی کھو گئی ہے‘، اور ڈیڈ لائن والی دھمکی پر وقت آگے پیچھے کرنے کی طنزیہ درخواست کر دی۔
    بلغاریہ میں ایرانی سفارتخانے نے کارٹون کے ذریعے ٹرمپ کو آبنائے ہرمز کے تنگ راستے میں پھنسا ہوا دکھایا، جبکہ تاجکستان میں ایک کارٹون میں ایران کو ٹرمپ کے گلے میں اٹکا ہوا دکھا کر ان کی بدتمیزی پر طنز کیا گیا۔
    انڈونیشیا میں ایرانی سفارتخانے نے امریکی طیاروں کی ایران آمد اور بعد میں تباہی کی ویڈیوز شیئر کیں اور ٹرمپ کی پالیسیاں ٹرول کیں۔ آرمینیا میں بھی ایرانی سفارتخانے نے ویڈیو کے ذریعے ٹرمپ کی جنگی جنون پالیسیوں کو عالمی ایندھن بحران سے جوڑا۔
    ماہرین کے مطابق ایرانی سفارتخانے اس ٹرولنگ کے ذریعے نہ صرف عالمی میڈیا میں دلچسپی پیدا کر رہے ہیں بلکہ ٹرمپ کی دھمکیوں کے خلاف عالمی سطح پر طنزیہ ردعمل بھی پیش کر رہے ہیں۔
    :Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی
    یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • دباؤ میں نہیں آئیں گے ، ٹرمپ کی پریس کانفرنس پر ایران کا دو ٹوک ردعمل

    دباؤ میں نہیں آئیں گے ، ٹرمپ کی پریس کانفرنس پر ایران کا دو ٹوک ردعمل

    تہران:(فارن ڈیسک )ایران کی اعلیٰ فوجی قیادت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کو بے بنیاد اور حقیقت سے دور قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران کسی بھی دباؤ کے آگے جھکنے والا نہیں۔ایرانی مشترکہ فوجی کمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں امریکا کو مسلسل ناکامیوں اور سبکی کا سامنا ہے اور اس قسم کی سخت زبان دراصل انہی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔بیان میں کہا گیا کہ دھمکیوں کے ذریعے نہ تو امریکا اپنی ساکھ بحال کر سکتا ہے اور نہ ہی خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط بنا سکتا ہے۔
    فوجی حکام نے مزید کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے بڑھتی ہوئی جارحانہ بیان بازی دراصل اس کی کمزوری کا اعتراف ہے۔
    ایران نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قسم کے دباؤ یا دھمکی سے اس کی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر امریکا نے کسی بھی نوعیت کی فوجی کارروائی یا جارحیت کی کوشش کی تو اس کا بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا جس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
    ایرانی قیادت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ممکنہ کشیدگی کی تمام تر ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔
    واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے اور معاہدے پر آمادہ ہونے کے لیے سخت ڈیڈ لائن دے رکھی ہے۔
    امریکی صدر نے خبردار کیا ہے کہ اگر مقررہ وقت تک کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو ایران کے توانائی کے مراکز اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
    :Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی
    یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • اسرائیل کا ایران پر بڑا حملہ، یہودی عبادت گاہ تباہ، کئی شہر وں میں دھماکے

    اسرائیل کا ایران پر بڑا حملہ، یہودی عبادت گاہ تباہ، کئی شہر وں میں دھماکے

    تہران (ویب ڈیسک )ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس کے ساتھ واقع ایک یہودی عبادت گاہ بھی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ یہ دعویٰ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی نے کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق حملہ تہران کے مرکزی علاقے میں کیا گیا جہاں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس کے قریب واقع یہودی عبادت گاہ بھی زد میں آ کر تباہ ہو گئی۔ علاقے کی تنگ گلیوں کے باعث قریبی عمارتوں کے اندرونی اور بیرونی حصوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔تاحال اس حملے میں جانی نقصان کی کوئی مصدقہ اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں، تاہم ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے ممکنہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ ایرانی نشریاتی ادارے کی جانب سے جاری ویڈیوز میں تباہی کے مناظر اور امدادی کارکنوں کو ملبہ ہٹاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ ایران میں صدیوں سے یہودی برادری موجود ہے اور اندازاً 20 ہزار کے قریب یہودی اب بھی ایران میں رہتے ہیں، جبکہ پارلیمنٹ میں ان کے لیے ایک نشست بھی مخصوص ہے۔
    دوسری جانب اسرائیل نے ایران کے خلاف ایک نئی اور بڑی فضائی کارروائی کا اعلان کیا ہے، جس میں ملک بھر کے مختلف انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق حالیہ حملوں میں دارالحکومت تہران سمیت اہم تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی میزائل حملوں کے پیش نظر دفاعی نظام کو الرٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ شہریوں کو موبائل فونز کے ذریعے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ فوری طور پر محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہو جائیں۔
    ادھر ایران میں دھماکوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران میں زوردار دھماکے سنے گئے جو ممکنہ طور پر مہر آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ہوئے، جبکہ قریبی شہر کھارگ میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
    خطے میں جاری ان حملوں کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور صورتحال ایک بڑے تصادم کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
    :Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی
    یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • وزیراعظم  شہباز شریف کی یوتھ پروگرام کی رفتار بڑھانے کی ہدایات

    وزیراعظم شہباز شریف کی یوتھ پروگرام کی رفتار بڑھانے کی ہدایات

    اسلام آباد:(ویب ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف نے نوجوانوں کو ملک کا روشن مستقبل قرار دیتے ہوئے یوتھ پروگرام کی رفتار بڑھانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
    چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے وزیراعظم سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے شہباز شریف کو یوتھ پروگرام کے تحت جاری مختلف منصوبوں کی پیش رفت کے حوالے سے بریفنگ دی۔
    وزیراعظم نے یوتھ پروگرام کے منصوبوں کی رفتار تیز کرنے اور نوجوانوں کو زیادہ مواقع فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ہماری قوم کا روشن مستقبل ہیں اور ان کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
    شہباز شریف کا کہناتھا کہ حکومت نوجوانوں کو ملازمت، تعلیم، تکنیکی تربیت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو عالمی مارکیٹ میں بہترین افرادی قوت کے طور پر متعارف کروانے اور ان کے روشن مستقبل کے لیے کوشاں ہیں۔
    :Disclaimer
    خبریں مستند ذرائع سے لی جاتی ہیں، غلطی کی صورت میں ادارہ ذمہ دار نہیں ہوگا۔اے آئی
    یا انٹرٹینمنٹ مواد صرف تفریح کے لیے ہے۔

  • آئی پی او کی اندھیر نگری  ٭نئے رجسٹرار کے لئے چیلنجز سے نمٹنا اورآئی پی او کی ساکھ کی بحالی ایک مشکل ٹاسک رپورٹ:نشید آفاقی

    آئی پی او کی اندھیر نگری ٭نئے رجسٹرار کے لئے چیلنجز سے نمٹنا اورآئی پی او کی ساکھ کی بحالی ایک مشکل ٹاسک رپورٹ:نشید آفاقی

    ٭ٹریڈ مارک رجسڑی میں نااھلی اور کالابازی اپنے عروج پر
    ٭سائلین پر نذرانے میں اضافے اورکام کے لٹکنے کا خوف طاری،نئے رجسٹرار کے کاندھوں پر بھاری ذمہ داری
    ٭آئی پی او کا ٹریڈ مارک رجسٹری نظام مفلوج، کراچی رجسٹری میں ہزاروں کیسز التوا کا شکار، فائلوں کے انبارلگ گئے
    ٭کراچی میں ٹریڈ مارک فائلنگ میں تاخیر سے کاروباری طبقہ پریشان، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات
    ٭آئی پی او ایکٹ کے تحت اہم عہدے خالی، ڈپٹی رجسٹرار اور اسسٹنٹ رجسٹرار کی عدم تعیناتی سے ادارہ عملی طور پر مفلوج
    ٭ٹی ڈیپ کی طرز پر چیئرمین اور ڈی جی کے دفاتر کراچی منتقل کیے جائیں تاکہ نظام بہتر ہو،بزنس کمیونٹی کا مطالبہ
    ٭آئی پی او کااسلام آباد ہیڈ ا?فس کسی ملٹی نیشنل کمپنی کی طرح عالیشان مگر کام زیرو،کراچی آفس آثار قدیمہ کا بھیانک نمونہ
    ٭28 ہزار سے زائد اپوزیشن کیسز التوا کا شکار ہیں جن میں سے کافی کیسز کو دس سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔
    ٭آئی پی او نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے معاشی استحکام اور سرمایہ کار ی وژن کو ایک خواب بنادیا جس کی کوئی تعبیر نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کراچی (رپورٹ:نشید آفاقی) پاکستان کے اہم ترین ادارے انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن (آئی پی او) کا ٹریڈ مارک رجسٹری سیکشن جوتباہی کے دہانے پر ہے اب وہاں نئے رجسڑار محمد فاروق کا تقرر عمل میں آیا ہے ٹریڈ مارک رجسڑی میں نااھلی اور کالابازی اپنے عروج پر ہونے کی وجہ سے نئے رجسڑار کی ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی ہیں سائلین کے ذھن میں یہ سوال آرہا ہے کہ نئے رجسڑار کے آنے کے بعد ٹریڈ مارک کا خرچہ وہی ر ہے گا یا بڑھ جائیگا۔ سائلین کا کہنا ہے کہ نئے رجسڑار کو چاہیئے کہ وہ ایس ای سی سی پی کی مثال اپنے سامنے رکھیں
    جو سرکاری ادارہ ہونے کے باوجود نا صرف مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے بلکہ رشوت ستانی سے بھی دور ہے آئی پی او میں مبینہ طور پر اس وقت رائج سرکاری فیس اور نذرانے کی تفصیلات درج زیل ہیں
    کام کی نوعیت۔۔۔سرکاری فیس۔۔۔ نذرانہ
    اسائنمنٹ۔۔۔۔۔6 ہزار۔۔۔20 ہزار
    ایکسپٹنس۔۔۔۔۔کوئی نہیں۔۔۔5 ہزار
    سرٹیفکیٹ۔۔۔۔۔۔9 ہزار۔۔۔۔5 ہزار
    ذرائع کے مطابق ا ٓئی پی اوکے ٹریڈ مارک رجسٹری سیکشن میں معاملات شدید تعطل کا شکارہیں فائلوں کے انبار لگ گئے ، کاروباری طبقے کو سخت مشکلات کا سامنا ہے ذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں سات سال تک رجسٹرار کے عہدے پر براجمان رہنے والے رفیق طاہر کو ناگزیر وجوہات کی بنا پر عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا جبکہ ڈائریکٹر انفورسمنٹ سے ایڈیشنل رجسٹرار بننے والے نصیر احمد اسلام آباد چھوڑنے اور کراچی آنے سے گریزاںرہے اس صورتحال میں کیس فائلنگ، ٹریڈ مارک رجسٹری، ایکسپٹنس اور سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے معاملات نہ صرف متاثررہے بلکہ غیر ضروری طوالت کا شکار ہو ئے پہلے ٹریڈ مارک فائلنگ کے لیے دو سے تین دن لگتے تھے مگر بعد میںڈیڑھ ماہ میں بھی فائلنگ نہیں ہو پارہی تھی۔ ذرائع کے مطابق آئی پی او کے عہدوں میں بڑی چمک ہے مبینہ طور پر لاکھوں روپے کی خطیررقم کے معاملات ہوتے ہیں اس لئے کوئی بھی چارج چھوڑنا نہیں چاہتا جو جہاں ہے وہیں رہنا چاہتا ہے ایڈیشنل رجسٹرار نصیر احمد کے اسلام آباد میں ہونے سے نہ صرف کراچی میں ٹریڈ مارک سے متعلق متعدد اہم کیسز اور درخواستیں زیر التوا رہیں بلکہ اس صورتحال میں کاروباری طبقے کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے حالات میں وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کا منصوبہ صرف ایک خواب بن کر رہ گیاان حالات میں آئی پی او جیسے اہم ترین ادارے کی کارکردگی صفر ہوگئی اطلاعات کے مطابق سینئر افسر رفیق طاہر جن کو رجسٹرار کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا وہ قائم مقام افسر کے طور پر صرف ادارے کے روزمرہ کے کام چلا رہے تھے تاہم انہیں مکمل اختیارات حاصل نہیں تھے۔ خاص طور پر ایکسپٹنس اور سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے اختیارات نہ ہونے کے باعث نظام مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔ کراچی ملک کا سب سے بڑا تجارتی مرکز ہے جہاں ٹریڈ مارک کے ہزاروں کیسز اور درخواستیں دائر ہوتی ہیں، تاہم اختیارات کے فقدان اور انتظامی مسائل کے باعث بڑی تعداد میں کیسز تعطل کا شکارہوگئے۔آئی پی او ایکٹ کے تحت ایک رجسٹرار، دو ڈپٹی رجسٹرار اور چار اسسٹنٹ رجسٹرار تعینات ہو سکتے ہیں مگر ڈپٹی رجسٹرار کی دونوں اور اسسٹنٹ رجسٹرار کی تین آسامیاں خالی ہیں۔ آئی پی او میں ہمیشہ ذمہ دار عہدوں پر آسامیاں خالی رہتی ہیں، پہلے چیئرمین تعینات تھے تو ڈی جی کا عہدہ خالی تھا اور اب ڈی جی آ گئے ہیں تو چیئرمین کا عہدہ خالی ہے۔ آئی پی او دنیا بھر میں انتہائی اہم محکمہ سمجھا جاتا ہے مگر پاکستان میں اس کی حیثیت کسی ٹھکرائے ہوئے بلدیاتی محکمے کی لگتی ہے۔28 ہزار سے زائد اپوزیشن کیسز التوا کا شکار ہیں جن میں سے کافی کیسز کو دس سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ ملک کی مجموعی درخواستوں کا 70 فیصد کراچی میں فائل ہوتا ہے جہاں رجسٹرار کاپی رائٹ، ٹریڈ مارک اور کنٹرولر پیٹنٹ بیٹھتے ہیں مگر یہاں کا دفتر بدحالی کی داستان سنا رہا ہے، چھت تک فائلوں کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف ہیڈ کوارٹر اسلام آباد جہاں چیئرمین آئی پی او، ڈی جی اور ڈائریکٹرز بیٹھتے ہیں وہ دفتر کسی ملٹی نیشنل آفس سے
    کم نہیں جبکہ کراچی آفس کے مقابلے میں یہاں کا کام نہ ہونے کے برابر ہے۔بزنس ایسوسی ایشنز، بزنس کمیونٹی اور کراچی چیمبر نے وزارت تجارت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹی ڈیپ کی طرز پر آئی پی او کے چیئرمین اور ڈی جی کے دفاتر کراچی منتقل کیے جائیں۔بزنس کمیونٹی کا کہنا ہے کہ نئے رجسٹرار کے لئے چیلنجز کے انبار لگے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس طرح اپنی قابلیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ادارے کو اس بھنور سے نکالتے ہیں۔حیرت انگیز طور پر سابق قائم مقام رجسٹرارسات سال تک کیس لڑتے رہے جب وہ سپریم کورٹ سے کیس ہارگئے تو ان کوعہدے سے ہٹا کر ڈپٹی رجسٹرار بنادیا گیا اس کاجواب کون دے گا؟

  • ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کشیدگی: بدلتے حالات میں ایک مشکل امتحان….شیخ راشدعالم

    ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کشیدگی: بدلتے حالات میں ایک مشکل امتحان….شیخ راشدعالم

    عالمی سیاست کے افق پر بعض اوقات ایسے بحران ابھرتے ہیں جو نہ صرف خطے بلکہ بڑی طاقتوں کی پالیسیوں اور قیادت کے اندازِ حکمرانی کو بھی کڑی آزمائش میں ڈال دیتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی بھی ایک ایسا ہی پیچیدہ مرحلہ بن کر سامنے آئی ہے، جس میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار اور ان کی حکمت عملی خاص طور پر زیرِ بحث ہے۔ تاہم یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا ابھی ممکن نہیں۔
    ابتدائی دنوں میں یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے معاملے میں ایک جارحانہ مگر تیز رفتار حکمت عملی کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل کر لیں گے۔ بعض حلقوں میں ایران کو نسبتاً کمزور حریف کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا، اور یہ خیال عام تھا کہ امریکا کی عسکری و معاشی برتری فیصلہ کن ثابت ہوگی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ اندازے اپنی مکمل صورت میں درست ثابت ہوتے دکھائی نہیں دیے۔
    ایران کی جانب سے سامنے آنے والا ردعمل اور حکمت عملی کئی مبصرین کے لیے غیر متوقع رہی۔ اس نے نہ صرف امریکا بلکہ اسرائیل کی بعض توقعات کو بھی چیلنج کیا۔ بعض تجزیوں کے مطابق ایران نے ایسے اقدامات کیے جنہوں نے مخالفین کے ابتدائی اندازوں کو بدلنے پر مجبور کر دیا، اگرچہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ یہ برتری وقتی ہے یا دیرپا۔
    اس کشیدگی کا ایک اہم پہلو مالی اثرات بھی ہیں، جو اکثر جنگی صورتحال میں نمایاں ہو جاتے ہیں۔ امریکا جیسے مضبوط معاشی ڈھانچے کے حامل ملک کے لیے بھی طویل یا پیچیدہ تنازع اخراجات میں اضافے اور اندرونی دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔ کچھ رپورٹس میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ اس صورتحال نے امریکی معیشت کے بعض پہلوؤں پر اثر ڈالا ہے اور روزمرہ زندگی کے کچھ شعبوں میں بھی اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں، اگرچہ ان اثرات کی شدت اور پائیداری کے بارے میں ابھی واضح تصویر موجود نہیں۔
    سیاسی سطح پر بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت اور فیصلوں پر بحث جاری ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اس تنازع نے ان کی عوامی مقبولیت کو متاثر کیا ہے اور سیاسی منظرنامے میں ان کے گراف میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ تاہم سیاست میں عوامی رجحانات اکثر حالات کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، اس لیے اس پہلو کو بھی حتمی قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔
    جنگ یا کشیدگی کے دوران بیانات اور پالیسی میں تبدیلیاں بھی ایک فطری امر ہوتی ہیں۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کسی مرحلے پر کشیدگی کم کرنے یا جنگ کے خاتمے کی بات کی جاتی ہے تو اسے مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ کچھ ماہرین اسے حکمت عملی کی تبدیلی قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض اسے دباؤ کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہو، کیونکہ عالمی سیاست میں فیصلے اکثر کئی عوامل کے امتزاج سے وجود میں آتے ہیں۔
    یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی جنگ یا کشیدگی کے اثرات فوری طور پر ختم نہیں ہوتے۔ چاہے میدانِ عمل میں صورتحال کسی بھی سمت جائے، اس کے معاشی، سیاسی اور نفسیاتی اثرات طویل عرصے تک باقی رہ سکتے ہیں۔ بعض مبصرین اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ
    اس تنازع کے اثرات امریکا کے لیے بھی دیرپا ہو سکتے ہیں، لیکن اس بارے میں کوئی حتمی بات کہنا ابھی ممکن نہیں۔
    اس پورے منظرنامے میں ایک اور اہم پہلو معلومات کی نوعیت اور اس تک رسائی کا ہے۔ مختلف ذرائع سے آنے والی خبریں اور تجزیات ایک تصویر ضرور پیش کرتے ہیں، مگر وہ ہمیشہ مکمل نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور اس تنازع کے نتائج کے بارے میں مختلف آراء￿ سامنے آ رہی ہیں، جو اس صورتحال کی پیچیدگی کو مزید واضح کرتی ہیں۔
    ایران، امریکا اور خطے کی دیگر قوتوں کے درمیان یہ کشیدگی ایک مسلسل بدلتی ہوئی کہانی ہے۔ ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں حالات میں نرمی آئے، یا کوئی نیا موڑ سامنے آ جائے۔ یہ بھی بعید نہیں کہ فریقین کسی ایسے راستے کی تلاش کریں جو کشیدگی کو کم کر سکے، جیسا کہ عالمی سیاست میں ماضی میں کئی بار دیکھا گیا ہے۔
    فی الحال جو تصویر سامنے آ رہی ہے، اس میں یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ تنازع سادہ نہیں بلکہ کئی جہتوں پر مشتمل ہے، جس میں ہر پیش رفت نئے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے یہ صورتحال ایک اہم امتحان کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جہاں فیصلوں کے اثرات نہ صرف فوری بلکہ طویل المدتی بھی ہو سکتے ہیں۔
    ایسے میں ضروری ہے کہ اس تمام صورتحال کو حتمی نتائج کے بجائے ایک جاری عمل کے طور پر دیکھا جائے۔ بدلتے حالات، نئے بیانات اور زمینی حقائق وقت کے ساتھ مزید وضاحت پیدا کریں گے۔ تب تک محتاط تجزیہ اور متوازن نقطہ نظر ہی زیادہ مناسب راستہ ہے، کیونکہ عالمی سیاست میں آج کا یقین کل کی غیر یقینی میں بدل سکتا ہے۔

  • پیٹرول سستا، مگر حکومت کا ادھورا ریلیف ،عوام پھر بھی پریشان….نشید آفاقی

    پیٹرول سستا، مگر حکومت کا ادھورا ریلیف ،عوام پھر بھی پریشان….نشید آفاقی

    حکومت کی جانب سے گزشتہ رات پیٹرول کی قیمت میں 80 روپے کی نمایاں کمی کا اعلان بظاہر ایک بڑا اور خوش آئند قدم محسوس ہوا۔ مہنگائی کے بوجھ تلے دبی عوام کے لیے یہ خبر کسی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے سے کم نہ تھی۔ سوشل میڈیا پر مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہوا، لوگوں نے اسے ایک بڑا ریلیف قرار دیا، اور کئی شہریوں نے طویل عرصے بعد سکون کا سانس لیا۔ مگر یہ خوشی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی، کیونکہ جیسے ہی حقیقت کا دوسرا پہلو سامنے آیا—یعنی ڈیزل کی قیمت میں کوئی کمی نہیں کی گئی—تو یہ ریلیف ادھورا محسوس ہونے لگا۔

    پاکستان جیسے ملک میں، جہاں معیشت کا بڑا حصہ زمینی ٹرانسپورٹ پر انحصار کرتا ہے، ڈیزل کی اہمیت پیٹرول سے کہیں زیادہ ہے۔ ٹرکوں، بسوں، ویگنوں اور مال بردار گاڑیوں کا زیادہ تر دارومدار ڈیزل پر ہوتا ہے۔ یہی وہ نظام ہے جو شہروں سے دیہات اور بندرگاہوں سے منڈیوں تک اشیائے ضروریہ کی ترسیل کو ممکن بناتا ہے۔ ایسے میں اگر پیٹرول سستا ہو جائے مگر ڈیزل اپنی پرانی قیمت پر برقرار رہے، تو مہنگائی کے بنیادی ڈھانچے میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آتی۔

    یہی وجہ ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں کمی کے باوجود عام آدمی کی زندگی میں وہ آسانی پیدا نہیں ہو سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ موٹر سائیکل یا کار رکھنے والے افراد کو تو کچھ حد تک ریلیف ملا، مگر وہ شہری جو روزانہ پبلک ٹرانسپورٹ پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے حالات جوں کے توں ہیں۔ کرایوں میں کوئی واضح کمی دیکھنے میں نہیں آئی، بلکہ بعض علاقوں میں ٹرانسپورٹرز نے احتجاجاً گاڑیاں کم کر دیں، جس سے شہریوں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    ٹرانسپورٹرز کا مؤقف بھی قابلِ غور ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک ڈیزل کی قیمت کم نہیں ہوگی، ان کے اخراجات میں کوئی کمی ممکن نہیں۔ ایندھن ان کے کاروبار کا بنیادی جزو ہے، اور اسی کی بنیاد پر وہ کرایوں کا تعین کرتے ہیں۔ اگر ڈیزل مہنگا رہے گا تو وہ نہ صرف کرایوں میں کمی نہیں کر سکتے بلکہ بعض صورتوں میں انہیں سروسز محدود کرنے پر بھی مجبور ہونا پڑتا ہے۔ اس صورتحال میں نقصان براہ راست عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔

    یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت نے واقعی مکمل تصویر کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا؟ یا پھر یہ اقدام محض وقتی ریلیف دینے اور عوامی ردعمل کو کم کرنے کے لیے کیا گیا؟ پالیسی سازی میں توازن نہ ہو تو ایسے اقدامات بظاہر مثبت ہونے کے باوجود مطلوبہ نتائج نہیں دے پاتے۔ پیٹرول کی قیمت میں کمی ایک اچھا قدم ضرور ہے، مگر اگر اس کے ساتھ ڈیزل کی قیمت بھی مناسب سطح پر نہ لائی جائے تو یہ ریلیف محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔

    مہنگائی کا مسئلہ صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پوری معیشت میں پھیل جاتے ہیں۔ جب ٹرانسپورٹ مہنگی ہو تو اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ سبزی، آٹا، چینی، اور دیگر بنیادی اشیاء￿ کی قیمتوں میں استحکام اسی وقت ممکن ہے جب ترسیلی اخراجات کم ہوں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ڈیزل کی قیمت میں کمی نہ کرنا دراصل مہنگائی کے بڑے مسئلے کو جوں کا توں برقرار رکھنے کے مترادف ہے۔

    عوامی سطح پر بھی اس فیصلے کو ملا جلا ردعمل ملا ہے۔ ایک طرف خوشی ہے کہ پیٹرول سستا ہوا، دوسری طرف مایوسی ہے کہ اس کا اثر روزمرہ زندگی پر مکمل طور پر نہیں پڑ رہا۔ شہریوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی ٹرانسپورٹ کے مسائل، مہنگے کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی بلند قیمتوں سے پریشان ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جزوی اقدامات سے مسائل کا مکمل حل ممکن نہیں۔

    حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو محض ایک قیمت کے اتار چڑھاؤ کے طور پر نہ دیکھے بلکہ اسے ایک جامع معاشی چیلنج کے طور پر سمجھے۔ وقتی ریلیف دینے کے بجائے طویل المدتی حکمت عملی اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔ اس میں نہ صرف ایندھن کی قیمتوں میں توازن شامل ہونا چاہیے بلکہ متبادل توانائی کے ذرائع، پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کی بہتری، اور ٹیکسوں و لیویز کے بوجھ میں کمی جیسے اقدامات بھی شامل ہونے چاہئیں۔

    مزید برآں، پالیسی سازی میں شفافیت اور تسلسل بھی نہایت اہم ہے۔ عوام کو یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ کیے جانے والے فیصلے وقتی دباؤ کے تحت نہیں بلکہ ایک واضح اور مربوط حکمت عملی کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ جب عوام کو اعتماد حاصل ہوگا تو وہ مشکل فیصلوں کو بھی بہتر انداز میں قبول کر سکیں گے۔

    یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت مختلف شعبوں کے اسٹیک ہولڈرز، خصوصاً ٹرانسپورٹرز، تاجروں اور عوامی نمائندوں سے مشاورت کرے۔ یکطرفہ فیصلے اکثر زمینی حقائق سے ہم آہنگ نہیں ہوتے، جس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ مسائل کم ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔

    آخرکار، یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ کسی بھی معاشی پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس کے عوامی اثرات پر ہوتا ہے۔ اگر عوام کو حقیقی ریلیف نہ ملے تو اعداد و شمار کی بہتری یا اعلانات کی چمک اپنی اہمیت کھو دیتی ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں کمی ایک مثبت پیش رفت ضرور ہے،
    مگر جب تک یہ ریلیف مکمل اور ہمہ جہت نہیں ہوگا، تب تک عوامی پریشانیوں میں خاطر خواہ کمی ممکن نہیں۔

    آج کی صورتحال میں عوام ایک عجیب کشمکش کا شکار ہے۔ خوشی بھی ہے اور تشویش بھی۔ ایک طرف پیٹرول سستا ہونے کا احساس، دوسری طرف مہنگی ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی بلند قیمتیں۔ یہی تضاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا بلکہ اس کا صرف ایک حصہ چھیڑا گیا ہے۔

    لہٰذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ موجودہ اقدام ایک ادھورا ریلیف ہے۔ حکومت اگر واقعی عوام کو سہولت دینا چاہتی ہے تو اسے پالیسیوں میں ہم آہنگی اور توازن پیدا کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر ایسے اقدامات وقتی خوشی تو دے سکتے ہیں، مگر دیرپا سکون فراہم نہیں کر سکتے۔ عوام آج بھی اسی سوال کے ساتھ کھڑی ہے: ریلیف ملا، مگر مکمل کیوں نہیں؟

  • شوبز واچ،،،،،،،،،،،

    شوبز واچ،،،،،،،،،،،

    شوبز واچ،،،،،،،،،،،
    سینئرز کی جانب سے چھوٹی چھوٹی باتوں پر تنقید، علیزے شاہ، عینا کی حمایت میں سامنے آگئیں
    کراچی (ویب ڈیسک )پاکستانی اداکارہ علیزے شاہ نے ساتھی اداکارہ عینا آصف کے بیان کی حمایت کی ہے۔حال ہی میں نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں عینا آصف نے سینئر اداکار کے رویوں سے متعلق گفتگو کی تھی۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ بڑے اسٹارز یا سینئر اداکار سیٹ پر نئے یا چھوٹے اداکاروں کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر ٹوکتے اور ان میں خامیاں نکالتے ہیں۔عینا آصف کا کہنا تھا کہ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اگر ہم کچھ بول دیں تو وہ ہمیں ایسے دیکھیں گے جیسے ہم نے پتا نہیں کتنی احمقانہ بات کردی لیکن ہمیں پتا ہوتا ہے کہ یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں تھی۔ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ ایسا اس لیے کرتے ہیں تاکہ ہم غیر آرام دہ محسوس کریں، سیٹ پر ایسی چیزیں بھی ہوتی ہیں کہ میں کوئی سین کر رہی ہوں اور میرے لیے اہم سین ہے تو وہ لوگ باتیں شروع کردیں گے یا کچھ ایسا کریں گے کہ دھیان بٹے۔عینا آصف کا یہ بیان سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوا جس پر اداکارہ علیزے شاہ نے بھی کھل کر حمایت کی ہے۔علیزے شاہ نے عینا آصف کے انٹرویو کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام کی اسٹوری پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ اس دور کی بہترین اور ذہین اداکارہ ہے۔سینئرز کی جانب سے چھوٹی چھوٹی باتوں پر تنقید، علیزے شاہ، عینا کی حمایت میں سامنے آگئیں علیزے شاہ نے مزید لکھا کہ عینا آصف درست ہیں، اور بدقسمتی سے یہ صرف کم عمر اداکاراؤں کے ساتھ ہوتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے ساتھ جن کا شوبز کا کوئی بیک گراؤنڈ نہیں ہوتا۔اداکارہ نے مزید لکھا کہ مجھے عینا آصف پر سب کے سامنے یہ بات شیئر کرنے پر فخر ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اداکارہ ریشم منفی چیزیں پیش کرنے میں بہترین ہیں،دیدار
    کراچی (ویب ڈیسک )اداکارہ دیدار نے نامور اداکارہ ریشم پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ریشم لوگوں کی زندگیاں خراب کرتی ہیں۔حال ہی میں اداکارہ دیدار نے ایک نجی ٹی وی سے نشر ہونے والے شو میں شرکت کی جہاں انہوں نے مختلف سوالات کے جواب دیے۔اداکارہ سے میزبان کی جانب سے ساتھی اداکارہ نرگس اور ریشم سے متعلق سوال کیا گیا جس کے جواب میں دیدار نے کہا کہ اداکارہ نرگس ایک بہترین اداکارہ ہیں لیکن منفی انداز میں۔انہوں نے نامور اور سینئر اداکارہ ریشم سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ریشم بہت اچھی اداکار ہیں، وہ منفی چیزوں کو پیش کرنے میں بہترین ہیں، ریشم نے بہت سی زندگیوں کو خراب کیا ہے، وہ حقیقی زندگی میں بہت منفی ہیں۔ریشم کے فلاحی کاموں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے دیدار کا کہنا تھا کہ ان کے کھانا پکانے اور خیراتی کام کے بارے میں جانتی ہوں، مجھے ڈر ہے کہ ایک دن وہ اس کھانے میں نہ گر جائیں جو وہ دوسروں کے لیے بناتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ میرا ریشم کے ساتھ ذاتی تجربہ ہے، وہ سالوں تک میری دوست رہ چکی ہیں اسی لیے میں بتارہی ہوں اور ان کے موجودہ دوستوں کو خبردار کر رہی ہوں کہ وہ اس سے ہوشیار رہیں اور بچ کررہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بشریٰ انصاری نے جاوید شیخ سے تنازع پر خاموشی توڑ دی، اصل کہانی سامنے آگئی
    کراچی (ویب ڈیسک )پاکستانی شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے حالیہ دنوں ساتھی اداکار جاوید شیخ کے ساتھ ہونے والے تنازع پر پہلی بار کھل کر بات کرتے ہوئے اصل صورتحال واضح کردی ہے۔بشریٰ انصاری نے اپنے یوٹیوب ولاگ میں بتایا کہ رمضان کے دوران شوبز شخصیات کے درمیان کئی تنازعات سامنے آئے، اور اسی دوران وہ بھی ایک ایسے معاملے میں الجھ گئیں جس نے مداحوں کو حیران کر دیا۔ ان کے مطابق یہ تنازع ایک ایسے دوست کے ساتھ ہوا جن کے ساتھ ان کی برسوں پرانی دوستی اور بہترین تعلق رہا ہے۔اداکارہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ دراصل ایک معمولی سی بات تھی جو شاید جاوید شیخ کو ناگوار گزری، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ان کے درمیان تعلقات خراب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عید کے موقع پر دونوں اکٹھے تھے اور خوشگوار وقت گزارا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ معاملہ اتنا سنگین نہیں تھا جتنا سوشل میڈیا پر دکھایا گیا۔بشریٰ انصاری کا کہنا تھا کہ دوستوں کے درمیان اختلافات ہونا کوئی نئی بات نہیں، لیکن آج کل سوشل میڈیا معمولی معاملات کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور چھوٹی بات کو بڑا تنازع بنا دیتا ہے۔ ان کے بقول یہی وجہ ہے کہ عوام کو ہر چھوٹی بڑی بات کا علم ہو جاتا ہے، جو پہلے نجی دائرے تک محدود رہتی تھی۔اداکارہ نے مداحوں کو یہ پیغام بھی دیا کہ ہر سنی سنائی بات پر یقین کرنے کے بجائے حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ ہر تنازع اتنا بڑا نہیں ہوتا جتنا دکھائی دیتا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جویریہ سعود نے اداکارہ یمنیٰ زیدی سے باقاعدہ معذرت کر لی
    کراچی(ویب ڈیسک): پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ و میزبان جویریہ سعود نے اداکارہ یمنیٰ زیدی سے باقاعدہ معذرت کر لی ہے۔ ایک خصوصی شو کے دوران ایک تنازع سامنے آیا جس کے بعد بعد معروف اداکارہ و میزبان جویریہ سعود نے اداکارہ یمنیٰ زیدی سے باقاعدہ معذرت کر لی ہے۔یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب جویریہ کے شو کے ایک حصے میں مشہور شخصیات کے بچپن کی تصاویر پہچاننے کا مقابلہ دکھایا گیا۔ اس دوران یمنیٰ زیدی کے نام پر ایک غلط تصویر دکھائی گئی اور جویریہ سعود نے ان کی عمر کے حوالے سے مذاق اڑایا، جسے مداحوں نے ‘ایج شیمنگ’ قرار دیا۔یمنیٰ زیدی نے اس تمام صورتحال پر انتہائی شائستگی سے ردعمل دیتے ہوئے انسٹاگرام پر وضاحت کی کہ دکھائی گئی تصویر ان کی نہیں ہے اور یہ غلط معلومات پھیلانے کے مترادف ہے۔اداکارہ یمنیٰ کے اس سنجیدہ موقف کو سوشل میڈیا پر بے حد سراہا گیا اور صارفین نے جویریہ سعود کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔عوامی دباؤ اور تنقید کے بعد اب جویریہ سعود نے یمنیٰ زیدی سے معافی مانگ لی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ان کی ٹیم کی غلطی تھی اور وہ ان تمام لوگوں سے معذرت خواہ ہیں جنہیں ان کی باتوں سے دکھ پہنچا ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ وہ تصویر سوشل میڈیا سے بغیر تصدیق کے لی گئی تھی اور ان کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا یا کسی کی عمر کا مذاق اڑانا نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے تبصرے کو غلط سمجھا گیا اور وہ یمنیٰ زیدی کے لیے دل سے احترام رکھتی ہیں۔