دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں عالمی سیاست کی سمت تیزی سے بدل رہی ہے اور طاقت کے توازن میں نئی تبدیلیاں جنم لے رہی ہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے بڑی طاقتوں کے درمیان کشمکش بڑھتی جا رہی تھی، مگر اب حالات اس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں صرف کشیدگی نہیں بلکہ حقیقی جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تباہی عالمی نظام کو متاثر کر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تصادم نے نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک نئی بے چینی کو جنم دیا ہے۔ جنگ ہمیشہ کشیدگی کے بعد آتی ہے، لیکن جب جنگ شروع ہو جائے تو اس کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے اور عالمی نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی سیاست کا مرکز رہی ہے، مگر حالیہ جنگی صورتحال نے اس خطے کو ایک بار پھر شدید بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان پرانے تنازعات اب کھلے تصادم کی صورت اختیار کر چکے ہیں جبکہ امریکہ کی براہ راست یا بالواسطہ شمولیت نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جنگ کی آگ جب بھڑکتی ہے تو اس کے شعلے صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ انسانی جانوں، معیشتوں اور پورے معاشروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری حملوں، جوابی کارروائیوں اور عسکری کشیدگی نے لاکھوں لوگوں کو غیر یقینی مستقبل سے دوچار کر دیا ہے اور پورے خطے میں خوف اور بے یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔
جنگ کے اثرات کا سب سے بڑا بوجھ عام انسان اٹھاتا ہے۔ جب شہر کھنڈر بن جاتے ہیں، معیشتیں کمزور پڑ جاتی ہیں اور لاکھوں لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں تو یہ صرف ایک خطے کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ایک عالمی انسانی بحران کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ توانائی کی عالمی منڈی بھی اس صورتحال سے متاثر ہوتی ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ دنیا کے اہم ترین تیل اور گیس کے ذخائر کا مرکز ہے۔ جیسے ہی جنگی صورتحال شدت اختیار کرتی ہے، عالمی منڈیوں میں بے چینی بڑھ جاتی ہے اور اس کے اثرات دور دراز ممالک تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اس خطے میں ہونے والی ہر پیش رفت کو انتہائی غور سے دیکھ رہی ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے درمیان قریبی دفاعی تعاون ایک طویل عرصے سے قائم ہے اور اس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال ہمیشہ عالمی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ دوسری طرف ایران اپنی علاقائی پالیسیوں اور دفاعی صلاحیتوں کے ذریعے خود کو ایک اہم طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ جب ان قوتوں کے درمیان براہ راست تصادم یا جنگی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مبصرین اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر یہ جنگ مزید پھیلتی ہے تو اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی گہرے ہو سکتے ہیں۔
ایسے حالات میں بہت سے ممالک کے لیے خارجہ پالیسی کے فیصلے انتہائی حساس ہو جاتے ہیں۔ کچھ ممالک واضح طور پر کسی ایک فریق کی حمایت کرتے ہیں جبکہ بعض ممالک ایسی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں جو توازن اور اعتدال پر مبنی ہوتی ہے۔ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو عالمی سیاست کے پیچیدہ ماحول میں ایک متوازن اور ذمہ دارانہ پالیسی پر یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول یہی رہا ہے کہ علاقائی اور عالمی مسائل کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری اور مکالمے کے ذریعے تلاش کیا جائے۔
پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع اسے ایک خاص اہمیت فراہم کرتا ہے۔ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے پاکستان مختلف خطوں کے درمیان رابطے کا قدرتی مرکز بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ خطے میں استحکام اور تعاون کو فروغ دیا جائے۔ جنگ اور تصادم کے ماحول میں بھی پاکستان نے ہمیشہ امن، مکالمے اور سفارت کاری کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
پاکستان کے ایران کے ساتھ تاریخی اور جغرافیائی تعلقات موجود ہیں جبکہ خلیجی ممالک کے ساتھ بھی اس کے قریبی روابط ہیں۔ دوسری طرف پاکستان عالمی برادری کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی متوازن انداز میں برقرار رکھتا ہے۔ یہی متوازن پالیسی پاکستان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ مختلف عالمی اور علاقائی قوتوں کے ساتھ مثبت روابط قائم رکھ سکے۔ اس حکمت عملی کے ذریعے پاکستان نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر بھی ابھرتا ہے۔
یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ جنگیں ہمیشہ طاقت کے توازن کو تبدیل کر دیتی ہیں۔ جب بھی کسی خطے میں طویل جنگ ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں سیاسی اتحاد، معاشی ترجیحات اور سفارتی تعلقات بھی بدل جاتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال بھی اسی طرح کے اثرات پیدا کر رہی ہے۔ بعض ممالک اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کر رہے ہیں جبکہ عالمی طاقتیں خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے نئی حکمت عملیاں ترتیب دے رہی ہیں۔
ان تمام تبدیلیوں کے درمیان پاکستان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں توازن اور دانشمندی کو برقرار رکھے۔ عالمی سیاست کے اس غیر یقینی ماحول میں وہی ممالک کامیاب ہوتے ہیں جو جذبات کے بجائے حکمت اور بصیرت کے ساتھ فیصلے کرتے ہیں۔ پاکستان نے ماضی میں بھی مشکل علاقائی حالات کے باوجود اپنے مفادات کا تحفظ کیا ہے اور عالمی برادری کے ساتھ مثبت تعلقات کو برقرار رکھا ہے۔
دنیا اس وقت جس جنگی اور سیاسی ہلچل سے گزر رہی ہے اس میں یہ بات پہلے سے زیادہ واضح ہو گئی ہے کہ طاقت کے استعمال کے ذریعے پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقی استحکام صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ممالک ایک دوسرے کے ساتھ مکالمہ، تعاون اور سفارت کاری کو فروغ دیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی اسی اصول کی عکاسی کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر امن اور استحکام کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگی صورتحال نے دنیا کو ایک بار پھر یہ یاد دلایا ہے کہ جنگ کا انجام ہمیشہ تباہی اور عدم استحکام کی صورت میں نکلتا ہے۔ ایسے میں پاکستان جیسے ممالک کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے جو توازن، اعتدال اور امن کے پیغام کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اگر عالمی برادری دانشمندی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرے تو موجودہ بحران کو ایک بڑے عالمی تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔
یہی وہ لمحہ ہے جب دنیا کو طاقت کے بجائے عقل اور سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی اسی سوچ کی نمائندگی کرتی ہے اور یہی حکمت عملی مستقبل میں بھی پاکستان کو عالمی سیاست میں ایک ذمہ دار اور مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکتی ہے۔
Blog
-

ایران نے اسرائیل اور امریکی اہداف پر بیلسٹک میزائل داغ دیے
تہران (پاکستان واچ نیوز)ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی اور امریکی اہداف پر میزائل حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی ’آپریشن وعدہ صادق 4‘ کے تحت کی گئی۔آئی آر جی سی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں کی یہ 57 ویں لہر ہے، جس میں مختلف قسم کے بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے۔ بیان کے مطابق ان حملوں کو ’یا سید الساجدین علیہ السلام‘ کے نام سے منسوب کیا گیا۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں مقبوضہ علاقوں کے اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں کمانڈ اور کنٹرول سینٹرز، میزائل دفاعی نظام اور مواصلاتی تنصیبات شامل ہیں۔ ان کارروائیوں میں خیبر شکن، عماد اور قدر میزائل استعمال کیے گئے۔بیان کے مطابق ایران نے قطر میں واقع العدید ایئر بیس کو بھی نشانہ بنایا، جہاں امریکی افواج موجود ہیں۔ اس حملے میں ذوالفقار اور قیام درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ساتھ ڈرونز بھی استعمال کیے گئے۔تاحال ان حملوں کے نقصانات یا جانی نقصان سے متعلق آزاد ذرائع سے کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ متعلقہ ممالک کی جانب سے بھی فوری ردِعمل جاری نہیں کیا گیا۔
-

بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون اور راکٹ حملوں کی بارش
بغداد (پاکستان واچ نیوز)امریکی سفارتخانہ بغداد کو ڈرون اور راکٹ حملوں کی شدید لہر کا نشانہ بنایا گیا ہے، جسے حالیہ عرصے کا سب سے بڑا اور شدید حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔غیر ملکی خبر رساں اداروں اور فرانسیسی پریس ایجنسی کے مطابق عراقی سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ حملہ اتنا شدید تھا کہ اسے حالیہ حملوں کے آغاز کے بعد سب سے بڑا حملہ سمجھا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق حملوں سے چند گھنٹے قبل ہی امریکہ کے سفارتخانے نے عراق میں موجود اپنے شہریوں کے لیے سکیورٹی الرٹ جاری کیا تھا۔الرٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ ایران سے منسلک عسکریت پسند گروہ بار بار انٹرنیشنل زون بغداد کو نشانہ بنا رہے ہیں۔تاحال حملوں میں جانی یا مالی نقصان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
-

کراچی میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کب ہو گی؟
کراچی:(پاکستان واچ نیوز)شہر قائد میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کے حوالے سے محمکمہ موسمیات کی اہم پیشگوئی سامنے آ گئی ہے۔محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری الرٹ کے مطابق بدھ کو شہر میں گرج چمک کے ساتھ بارش اورژالہ باری کا امکان ہے۔پیشگوئی کے تحت مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ آج سے ملک کے مغربی علاقوں میں داخل ہوگا،جس کے اثرات سندھ کے مختلف اضلاع میں بھی محسوس کیے جائیں گے۔
اعلامیے کے مطابق جامشورو، حیدرآباد، ٹھٹھہ، سجاول، بدین، مٹیاری، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہیار، عمرکوٹ، تھرپارکر، سانگھڑ، میرپورخاص، نوشہروفیروز، شہید بینظیرآباد، دادو میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ بعض مقامات پر ژالہ باری کا بھی امکان ہے۔
اسی طرح لاڑکانہ، قمبر شہدادکوٹ، شکارپور، جیکب آباد، کشمور، گھوٹکی اور سکھر میں 18 اور 19 مارچ کے دوران وقفے وقفے سے آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اس دوران بعض علاقوں میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات بھی پیش آسکتے ہیں۔
کسانوں کو موجودہ موسمی صورتحال کے مطابق اپنی فصلوں کے تحفظ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق پیر کو شہر میں بلوچستان کی شمال مغربی سمت کی ہوائیں چلنے کے سبب گرم وخشک موسم ریکارڈ ہوا،دوپہر کے وقت گرم ہواوں کے تھپیڑے چلے،جس کے نتیجے میں گرمی محسوس کی گئی۔محکمہ موسمیات کے مطابق زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 17 فیصد رہا۔ -

آبنائے ہرمز، ٹرمپ کو اتحادیوں سے تعاون نہ کرنے کا شکوہ
واشنگٹن (پاکستان واچ نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز پر بارودی سرنگیں بچھانے کے بیان پر یوٹرن لیتے ہوئے آبی گزرگاہ کو کھولنے کیلیے چین، جاپان اور جنوبی کوریا سے مدد مانگ لی۔
امریکی صدر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران میں اب تک 7 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، حملوں میں زیادہ تر فوجی اور کمرشل اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور ان کارروائیوں نے ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اتحادی کے علاوہ باقی ممالک ابنائے ہرمز کھلونے میں ہماری مدد کریں کیونکہ امریکا کا ایک فیصد تیل بھی آبنائے ہرمز سے نہیں آتا بلکہ دیگر ممالک آبی گزر گاہ کی بندش سے پریشان ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی فوج نے ایران کے تمام بارودی سرنگیں بچھانے والے جہاز تباہ کر دیے، ایرانی بحریہ کی مائن بچھانے کی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا اور ہمیں اب تک کوئی تصدیق نہیں کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھائی گئی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ دیگر ممالک آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے اپنے بحری جہاز بھیجیں، جو ممالک آبنائے ہرمز پر انحصار کرتے ہیں انہیں خود اقدام کرنا ہوگا، آبنائے ہرمز سے فائدہ اٹھانے والے ممالک کو اس کے دفاع میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ -

کفایت شعاری مہم سے بچنے والے 23 ارب سے موٹر سائیکل اور رکشا کو سبسڈی دینے کا فیصلہ
اسلام آباد:(پاکستان واچ نیوز)حکومت نے کفایت شعاری پالیسی کے ذریعے بچنے والے 23 ارب کی رقم سے موٹر سائیکل اور رکشا کو سبسڈی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ بات سیکریٹری پیٹرولیم نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کو بریفنگ میں بتائی۔سیکرٹری پیٹرولیم نے کہا کہ حکومت نے کفایت شعاری پالیسی سے بچنے والی 23 ارب رقم کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا جو موٹر سائیکل اور رکشا رکھنے والوں کو فراہم کی جائے گی، یہ سبسڈی بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام ڈیٹا کے مطابق مستحقین کو دی جائے گی، اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن نے سبسڈی کے حوالے سے ورکنگ شروع کردی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کفایت شعاری پالیسی کے تحت جو بچت ہوگی وہ سبسڈی میں دی جائےگی جیسے کورونا میں سبسڈی دی گئی ویسے ہی دی جائے گی۔کمیٹی ارکان نے کہا کہ یہ 23 ارب روپے کہاں سے آئیں گے کون سے اقدامات کیے گئے؟ 23 ارب کا فائدہ کمپنیوں کے بجائے عوام کو دیا جائے، جس پر حکام نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق بچت کے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر سے متعلق بریفنگ میں سیکریٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ ملک میں خام تیل 11 دن، ڈیزل 21 دن، پٹرول 27 دن، ایل پی جی 9 اور جے پی ون 14 دن کے لیے دستیاب ہے۔
facebook
-

آبنائے ہرمز کا بحران: ٹرمپ کی جنگی جہاز بھیجنے کی اپیل، دوست ممالک کا انکار
واشنگٹن ( پاکستان واچ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے مختلف ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی بحریہ کے جنگی جہاز امریکا کے ساتھ بھیجیں تاکہ اہم عالمی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو محفوظ اور کھلا رکھا جا سکے۔ تاہم اب تک کسی بھی ملک نے اس تجویز پر واضح طور پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ جنوبی کوریا، جاپان، فرانس، چین اور برطانیہ جیسے ممالک کو اس اقدام میں حصہ لینا چاہیے کیونکہ ان کی معیشتیں بھی خلیج کی تیل کی سپلائی پر انحصار کرتی ہیں۔یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد تہران نے ہرمز کے راستے کو محدود کر دیا ہے، جس کے باعث عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔برطانوی اخبار کے مطابق برطانیہ نے آبنائے ہرمز کے لیے بحری جنگی جہاز بھیجنے سے انکار کردیا اور برطانوی وزیراعظم اسٹارمر نے ٹرمپ کو انکار کردیا ہے۔ جاپان، آسٹریلیا اور فرانس بھی بحری جہاز بھیجنے سے انکار کرچکے ہیں۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ کئی ممالک نے اپنے جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کے لیے ایران سے رابطہ کیا ہے، تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ ایرانی فوج کرے گی۔ادھر بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر نے بتایا کہ نئی دہلی اور تہران کے درمیان مذاکرات کے بعد بھارتی پرچم بردار دو گیس ٹینکرز کو ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔عالمی سطح پر اس منصوبے پر ردعمل محتاط رہا ہے۔ جرمنی کے وزیر خارجہ جوہان ویڈپل نے اس منصوبے پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی کسی نئی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔ادھر ایران کی فوجی تنظیم پاسداران انقلاب کے ترجمان علی محمد نے امریکی صدر کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا کو لگتا ہے کہ ایران کی بحریہ تباہ ہو چکی ہے تو وہ اپنے جہاز خلیج فارس میں بھیج کر دیکھ لے۔رپورٹس کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد کم از کم دس آئل ٹینکرز پر حملے یا حملوں کی کوششیں ہو چکی ہیں جبکہ تقریباً ایک ہزار جہاز ہرمز کے راستے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی توانائی کی منڈی اور سمندری تجارت کے لیے بڑے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔
-

ایران کے ساتھ جنگ چند ہفتوں میں ختم ہونے کا امکان ہے،امریکی وزیر
واشنگٹن (پاکستان واچ نیوز)امریکا وزیر توانائی کرس رائٹ نے ایران کے ساتھ جنگ اگلے چند ہفتوں میں ختم ہونے کا امکان ظاہر کردیا ہے جبکہ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے جنگ بندی کی درخواست یا مذاکرات کے تاثر کو رد کردیا ہے۔غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے کہا کہ توقع ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اگلے چند ہفتوں میں ختم ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ تیل کی سپلائی دوبارہ معمول پر آئے گی اور توانائی کی قیمتیں بھی اس کے بعد گر جائیں گی۔خبرایجنسی کے مطابق تین باخبر ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں کی جانب سے سفارتی مذاکرات شروع کرنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا اور ایران نے بھی واضح کر دیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملے بند ہونے تک کسی بھی جنگ بندی کے امکان کو قبول نہیں کرے گا، جس سے اس تنازع کے جلد خاتمے کی امیدیں مزید کمزور ہو گئی ہیں۔دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران نے جنگ بندی کی درخواست کبھی نہیں کی اور یہاں تک ہم نے مذاکرات کے لیے بھی نہیں کہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں امریکیوں کے ساتھ بات کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آرہی ہے کیونکہ ہم اس وقت ان کے ساتھ بات کر رہے تھے جب انہوں نے ہم پر حملہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکا کی خواہش کی جنگ ہے اور ہم اپنا دفاع جاری رکھیں گے۔قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ خود اس کے خواہاں نہیں ہیں کیونکہ شرائط ناکافی ہیں۔
-

ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کتنے ارب ڈالر پھونک چکا؟
واشنگٹن:(پاکستان واچ نیوز)ایران کے خلاف جاری جنگ امریکا کے لیے مہنگی پڑنے لگی ہے اور اب تک اس جنگ پر 12 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جبکہ امریکی حکام نے حملوں میں مزید شدت لانے کا عندیہ دے دیا ہے۔وائٹ ہاؤس کی نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر کیون ہیسیٹ نے امریکی ٹی وی پروگرام فیس دی نیشن میں انکشاف کیا کہ امریکا نے 28 فروری سے ایران کے خلاف شروع ہونے والی جنگ میں اب تک تقریباً 12 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔پروگرام کی میزبان مارگریٹ برینن نے نشاندہی کی کہ جنگ کے پہلے ہی ہفتے میں صرف ہتھیاروں پر 5 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہو چکے تھے تاہم کیون ہیسٹ اس سوال کا واضح جواب نہ دے سکے۔دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر بمباری میں جلد ہی ڈرامائی اضافہ ہونے والا ہے، جس سے جنگ کے اخراجات مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ادھر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی کے بعد عالمی منڈیاں بھی شدید بے چینی کا شکار ہیں، کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتی ہے۔تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں امریکا خود بھی بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، اس لیے ایران کی کارروائیوں سے امریکی معیشت کو ماضی کی طرح شدید نقصان نہیں پہنچے گا۔دوسری طرف جنگ کے مقاصد پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ابتدا میں ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کی بات کر رہی تھی، بعد میں میزائل صلاحیت کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا گیا، جبکہ اب ایران کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
-

چیئرمین سینیٹ کیلیے 9 کروڑ روپے کی گاڑی خریدنے کا انکشاف
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )سرکاری خزانے سے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کے لیے تقریباً 9 کروڑ روپے مالیت کی نئی گاڑی خریدے جانے کا انکشاف ہوا ہے، خریدی گئی 9کروڑ روپے کی مہنگی گاڑی سینٹ سیکرٹریٹ کے پاس پہنچ گئی۔ایکسپریس نیوز سے گفتگو میں جب چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی سے سوال کیا گیا کہ کیا سرکاری خزانے سے اتنی مہنگی گاڑی خریدی گئی ہے تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جی بالکل ہم نے سینٹ کے بجٹ سے گاڑی لی ہے۔ایکسپریس نیوز کے مطابق چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے مہنگی گاڑی کی خریداری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ گاڑی سینیٹ کے بجٹ سے خریدی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس گاڑی کا آرڈر گزشتہ سال مئی میں دیا گیا تھا اور پچھلے برس سینٹ کے بجٹ میں سے جو بچت ہوئی تھی ان پیسوں سے یہ گاڑی آرڈرکی گئی تھی۔چیئرمین سینیٹ نے مزید کہا کہ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کے پیش نظر گاڑی واپس کرنے کی کوشش کی تھی لیکن کہا گیا اب گاڑی آچکی ہے لہٰذا واپس کرنا ممکن نہیں رہا۔
