Blog

  • قطرنے ایرانی سفارتکاروں کو 24 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا

    قطرنے ایرانی سفارتکاروں کو 24 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا

    دوحا:(پاکستان واچ نیوز)قطر اور ایران کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جہاں دوحہ حکومت نے سخت سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے ایرانی سفارتخانے کے سیکیورٹی اور ملٹری اتاشیوں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے دیا ہے۔سرکاری اعلامیے کے مطابق، دوحہ میں موجود ایرانی سفارتخانے کے دونوں اعلیٰ عہدیداروں کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب قطر نے اپنے آئل فیلڈز پر ایرانی حملوں کا الزام عائد کیا۔ذرائع کے مطابق، اس فیصلے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ خلیجی خطے میں توانائی سیکیورٹی کا بحران مزید گہرا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • تیل تنصیبات کے قریب رہنے والے فوری علاقہ خالی کردیں؛ ایران

    تیل تنصیبات کے قریب رہنے والے فوری علاقہ خالی کردیں؛ ایران

    تہران (پاکستان واچ نیوز)اسرائیل نے ایران میں واقع دنیا کے سب سے بڑے گیس فیلڈ پر فضائی حملہ کیا ہے جس پر پاسداران انقلاب نے سخت ردعمل دیا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے خلیجی ممالک میں غیرملکی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
    ایرانی سرکاری ٹیلی وژن پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایران نے خاص طور پر سعودی عرب کی سامرف ریفائنری اور جبیل پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو ہدف بنانے کی بات کی ہے۔ علاوہ ازیں متحدہ عرب امارات کے الحسن گیس فیلڈ اور قطر میں پیٹروکیمیکل پلانٹس اور ایک ریفائنری کو بھی ممکنہ اہداف میں شامل کیا گیا ہے۔دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب نے سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات میں تیل کی تنصیبات کے قریب رہنے والے لوگوں کو علاقہ خالی کرنے کی وارننگ دی ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق ان ممالک میں پانچ تیل کی تنصیبات کے اردگرد رہنے والوں کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ایرانی سرکاری میڈیا کے ذریعے شہریوں کو پیغام دیا گیا ہے کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے ان علاقوں کو چھوڑ دیں اور محفوظ فاصلے پر چلے جائیں۔
    بی بی سی اردو کے مطابق پاسدارانِ انقلاب سے منسلک خبر ایجنسی نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر درج ذیل گیس اور آئل تنصیبات سے شہریوں کو دور رہنے کی ہداہت کی ہے۔
    سعودی عرب کی سامرف ریفائنری
    سعودی عرب کا الجبیل پیٹروکیمیکل کمپلیکس
    متحدہ عرب امارات کی الحسن گیس فیلڈ
    قطر کا مسيعيد پیٹروکیمیکل کمپلیکس اور ہولڈنگ کمپنی
    قطر کی راس لفان راس لفان ریفائنری
    پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ تمام مراکز اب جائز ہدف بن گئے ہیں اور آئندہ چند گھنٹوں میں انھیں نشانہ بنایا جائے گا۔‘’تمام شہریوں، رہائشیوں اور ملازمین کو کہا جاتا ہے کہ وہ فوراً ان علاقوں سے دور بلا تاخیر محفوظ فاصلے پر چلے جائیں۔‘یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ایران نے بتایا کہ اس کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ اور اس سے منسلک تنصیبات پر حملہ کیا گیا ہے۔اسرائیل نے ان تنصیبات کو نشانہ بنانے کی تصدیق بھی کی ہے متاثرہ مقام پر فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

  • ایران جنگ سے کراچی کی فضا میں زہریلے مواد کی افواہیں بے بنیاد ہیں،  محکمہ موسمیات

    ایران جنگ سے کراچی کی فضا میں زہریلے مواد کی افواہیں بے بنیاد ہیں، محکمہ موسمیات

    اسلام آباد (پاکستان واچ نیوز)محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر انجم نذیرضیغم نے ایران جنگ کی وجہ سے کراچی کی فضا میں زہریلے مواد اور ہوا کا معیار خراب ہونے کی افواہوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا ماحول فی الحال کسی بھی قسم کےخطرے سے باہرہے، ماضی کے مقابلے میں آج جدید آلات کے ذریعے زہریلے مادوں اور دھویں کے بادلوں کا پتا لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر انجم نذیر ضیغم نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کراچی میں کہیں آلودہ اور کہیں کالی بارش جیسی صورت حال پیدا ہونے کے معاملے میں کوئی صداقت نہیں ہے، نئے مغربی سلسلے کے زیراثر بلوچستان کے مختلف مقامات پر بارش ریکارڈ ہو رہی ہے تاہم کسی بھی جگہ سےکوئی غیرمعمولی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ بارش کےعلاوہ ایک اور تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ مشرق وسطی اور ایران میں جنگی صورت حال کی وجہ سےکراچی میں ہواؤں کا معیار انتہائی خراب ہوسکتا ہے لیکن یہ تبصرے بھی بے بنیاد ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں داخل ہونے والے مغربی سسٹم کی وجہ سے سمندری ہواؤں کی مختصر وقت کے لیے بندش اور شمال مغربی ہواؤں کے اثرات کی وجہ سے ہواؤں میں معلق گردوغبار کی وجہ سےائیرکوالٹی انڈیکس میں اگر کسی وقت اضافہ محسوس ہوتا ہے، تو وہ معمول کی صورت حال کا نتیجہ ہوگا۔انجم نذیر ضیغم نے کہا کہ بمباری ایران کے شمال مغربی حصے میں ہو رہی ہے، پاکستان کا بارڈر ایران کے جنوبی حصے سے ملتا ہے جہاں حالات معمول کے مطابق ہیں، ایران کی صورت حال 1992 کی خلیجی جنگ جیسی نہیں ہے جب بڑے پیمانے پر تیل کے کنوؤں کو آگ لگائی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات بلوچستان، پنجاب اور بالائی سندھ میں ہونے والی بارش میں کوئی منفی اثرات نہیں دیکھے گئے تاہم محکمہ موسمیات بارش کے پانی کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہےکہ پانی میں غیرمعمولی ذرات تو شامل نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 1992 کے برعکس آج ہمارے پاس جدید سیٹلائٹ ٹیکنالوجی موجود ہے، سیٹلائٹ فضا میں کسی بھی زہریلے مادے یا دھوئیں کے بادلوں کا فوری پتا لگانےکی صلاحیت رکھتے ہیں، اب تک کی سیٹلائٹ تصاویر پاکستان کی فضائی حدود کو بالکل صاف ظاہر کر رہی ہیں۔ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ موسمیات نے کہا کہ عوام افواہوں پر کان نہ دھریں، حکومت اور متعلقہ ادارے صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، بارش فضا کو ہر قسم کی گرد اور آلودگی سےصاف کر دیتی ہے۔

  • ایرانی پاسداران انقلاب کا علی لاریجانی اور دیگر شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان

    ایرانی پاسداران انقلاب کا علی لاریجانی اور دیگر شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان

    تہران (پاکستان واچ نیوز)ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے علی لاریجانی اور دیگر شہدا کے خون کا بدلہ لینے کا دوٹوک اعلان کر دیا ہے جس کے بعد خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ترجمان کے مطابق لاریجانی کا خون ایرانی عزت اور قومی بیداری کی علامت بن چکا ہے اور صہیونی طاقتوں کے خلاف حوصلہ مزید بلند کر رہا ہے۔پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ شہید علی لاریجانی اور دیگر شہدا کی قربانی کو ہرگز فراموش نہیں کیا جائے گا اور ان کے خون کا حساب ضرور لیا جائے گا۔اس بیان کے ساتھ ہی ایران نے اسرائیل کے خلاف ایک اور بڑا وار کیا، جس کے بعد تل ابیب اور یروشلم سمیت کئی علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔دوسری جانب ایران نے اپنے حملوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات میں بھی ڈرون کارروائیاں کیں، جبکہ بغداد میں ایئرپورٹ کے قریب امریکی سفارتی مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ان حملوں نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے پھیلنے کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے شہید علی لاریجانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک نمایاں اور قیمتی شخصیت تھے، جنہوں نے مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے کردار ادا کیا۔ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آذربائیجان کے اپنے ہم منصب سے رابطہ کیا اور واضح کیا کہ دیگر ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈے ایران کے نزدیک جائز اہداف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی کارروائیاں صرف امریکی تنصیبات کے خلاف ہیں۔

  • دشمن کے 5 طیارے تباہ کرنے والے پائلٹ ایم ایم عالم کی آج 13 ویں برسی

    دشمن کے 5 طیارے تباہ کرنے والے پائلٹ ایم ایم عالم کی آج 13 ویں برسی

    کراچی:(پاکستان واچ نیوز)پاک فضائیہ کے عظیم ہیرو ایم ایم عالم کی 13ویں برسی آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔قوم اپنے اس جری سپوت کو خراجِ عقیدت پیش کر رہی ہے جنہوں نے 1965 کی پاک-بھارت جنگ میں ایک ناقابلِ یقین کارنامہ سرانجام دے کر تاریخ رقم کی۔جنگ ستمبر 1965 کے دوران سرگودھا کے محاذ پر ایم ایم عالم نے دشمن کے 5 بھارتی ہنٹر طیارے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں مار گرائے، جن میں سے 4 طیارے صرف 30 سیکنڈ کے اندر تباہ کیے گئے۔یہ کارنامہ آج بھی جنگی ہوابازی کی تاریخ میں ایک منفرد عالمی ریکارڈ کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔اس تاریخی مشن کے دوران وہ ایف 86 سیبر طیارہ اڑا رہے تھے۔ جنگ کے دوران مجموعی طور پر انہوں نے 11 دشمن طیاروں کو نشانہ بنایا، جن میں سے 9 مکمل تباہ جبکہ 2 کو جزوی نقصان پہنچا۔ان کی اس شاندار کارکردگی کے اعتراف میں ان کے طیارے پر 11 بھارتی پرچم نمایاں کیے گئے تھے۔ایم ایم عالم کی کامیابی کے پیچھے ان کی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ساتھ وطن سے بے پناہ محبت اور جذبۂ حب الوطنی کارفرما تھا جس نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ان کی جرات اور بہادری کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں ملک کے تیسرے بڑے فوجی اعزاز “ستارۂ جرأت” سے نوازا۔ایم ایم عالم 18 مارچ 2013 کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے تھے انہیں پی اے ایف بیس مسرور (ماڑی پور) کے شہداء قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔آج ان کی برسی کے موقع پر ملک بھر میں مختلف تقاریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جہاں انہیں ایک عظیم قومی ہیرو کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے، جن کا نام ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔

  • ایران جنگ؛ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور حساس ادارے کے ڈائریکٹر نے استعفیٰ دیدیا

    ایران جنگ؛ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور حساس ادارے کے ڈائریکٹر نے استعفیٰ دیدیا

    واشنگٹن (پاکستان واچ نیوز)امریکا کے انسداد دہشت گردی سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایران جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کے انسداد دہشت گردی سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایران کے خلاف جاری جنگ میں مزید شامل ہونے سے انکار کردیا۔انسداد دہشت گردی سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر استعفے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے ضمیر کے خلاف جا کر ایران میں جاری جنگ کی حمایت نہیں کر سکتا۔جو کینٹ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں امریکی جوانوں کی جانیں اور ملک کی دولت و خوشحالی دونوں کو متاثر کرتی ہیں، اور موجودہ حالات میں وہ اگلی نسل کو ایسے خطرات میں دھکیلنے کے حق میں نہیں ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ وہ ان اقدار اور خارجہ پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں جو صدر ٹرمپ نے 2016، 2020 اور 2024 کی انتخابی مہموں کے دوران پیش کیں اور اپنی صدارت کے ابتدائی دور میں نافذ کیں لیکن موجودہ ایران جنگ کے تناظر میں وہ اس کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔انھوں نے وضاحت کی کہ ایران نے امریکا کے لیے کوئی فوری خطرہ پیدا نہیں کیا تھا اور موجودہ جنگ اسرائیل اور امریکی لابی کے دباؤ کے تحت شروع کی گئی ہے۔خیال رہے کہ جو کینٹ کو اس عہدے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نامزد کیا تھا اور امریکی سینیٹ نے جولائی 2025 میں ان کی تقرری کی منظوری دی تھی۔جو کینٹ نے بتایا کہ وہ ایک تجربہ کار فوجی ہیں جو گیارہ بار محاذ جنگ پر جا چکے ہیں۔ انھوں نے اپنی شریک حیات کو اسرائیل میں جاری جنگ میں کھو دیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسی جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے جس کا امریکی عوام کے لیے کوئی فائدہ نہ ہو اور جس کی قیمت امریکی جوانوں کی جانوں سے ادا کی جائے۔

    facebook

  • کراچی؛ عید سے قبل گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    کراچی؛ عید سے قبل گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    کراچی:(پاکستان واچ نیوز)محکمہ موسمیات نے شہر میں بدھ اورجمعرات کو گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند مقامات پرموسلادھاربارش ہوسکتی ہے اور بارش کے دوران معمول سے تیزہوائیں چل سکتی ہیں۔محکمہ موسمیات ارلی وارننگ کی جانب سے جاری الرٹ کے مطابق بدھ اورجمعرات کو شہر میں مطلع ابرآلود رہنے اور گرج چمک کےساتھ بارش کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات نے بتایا کہ اس دوران کہیں کہیں موسلادھاربارش بھی متوقع ہے، بارش کے دوران بعض علاقوں میں تیز ہوائیں چل سکتی ہیں، جس سے کمزور انفرا اسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔مزید بتایا گیا کہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے جبکہ کم سے کم درجہ حرارت 21 سے 23 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہے گا، ہوا میں نمی کا تناسب 75 سے 85 فیصد تک رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔محکمہ موسمیات نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورت حال میں متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں۔

  • مشرق وسطیٰ میں جنگ: پی آئی اے کی فجیرہ کے لیے پروازیں معطل

    مشرق وسطیٰ میں جنگ: پی آئی اے کی فجیرہ کے لیے پروازیں معطل

    اسلام آباد:(پاکستان واچ نیوز)پی آئی اے نے خطے کی صورت حال کے پیش نظر فجیرہ کے لیے اپنی پروازیں معطل کرنے کا اعلان کردیا۔پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق خلیجی ممالک میں سیکیورٹی کی صورتحال کے پیشِ نظر ایئر لائن نے اگلے 48 گھنٹے کے لیے فجیرہ کے لیے اپنی پروازیں فوری طور پر معطل کر دی ہیں۔ترجمان پی آئی اے کا مزید کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے شہر العین کے لیے ایئر لائن کی پروازیں حسب معمول جاری رہیں گی۔ وضاحت کرتے ہوئے انہوں نےبتایا کہ فی الحال متحدہ عرب امارات کے لیے پروازیں صرف العین کے لیے ہی آپریٹ کی جائیں گی۔

  • ایران ،امریکا ،اسرائیل جنگ،ٹرمپ کو خوش کرنا کیا جرمنی کی مجبوری ہے؟تحریر سرور غزالی

    ایران ،امریکا ،اسرائیل جنگ،ٹرمپ کو خوش کرنا کیا جرمنی کی مجبوری ہے؟تحریر سرور غزالی

    برطانوی وزیر اعظم نے اپنے تعاون کا یقین دلائے بغیر گومگو رویہ اختیار کرتے ہوئے ایرانی حکومت کے غیر جمہوری رویے پر تشویش ظاہر کی
    تیل کی بلند قیمتیں، گیس کی عدم دستیابی یورپ کے لیے ایک بہت سخت امتحان ہے۔ جس سے گزرنے کے لیے برطانیہ فرانس اور جرمنی کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں

    جنگ ہمیشہ ہی قتل و غارت گری اور انانیت کی تسکین کے علاوہ کچھ نہیں ہوا کرتی۔ اور جنگ کے بعد کے مقاصد جس پر آج کل یورپ میں بحث چھڑ گئی ہے، میرے نزدیک اور کچھ نہیں ہوتے ما سوائے اس کے کہ لوٹ مار اور انسانوں کی بے حرمتی کی جائے۔ جنگ کیے جانے کا واحد مقصد دشمن کو زیر کر کے اس سے مال غنیمت چھیننا ہوتا ہے۔ یہ جنگ مال غنیمت کے حصول کے لیے ہی کی جاتی ہیں یہ الگ بات ہے کہ اس میں ہر دور میں مال غنیمت کا تعین مختلف ہوا کرتا ہے۔
    جب جنگ دو فرقوں میں چھڑ جائے اور یہ جنگ حق و باطل کی ہو جس میں ایک حملہ آور ہو اور دوسرا اپنا دفاع کرنے والا ہو، تو پھر اس میں غیر جانبدار ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا اور ایسی غیر جانبداری بھی درحقیقت حملہ آور کی پشت پناہی ہوتی ہے کہ جس میں تیسرا فرد زبان سے بھی حملہ آور کو حملہ آور کہنے سے گریز کرے۔
    موجودہ امریکی اسرائیلی جاریت جو ایران کے خلاف جاری ہے اس میں غیر جانبدار نہیں رہا جا سکتا کم از کم غیر جانبدارانہ بیانیہ تو بالکل ہی اختیار نہیں کیا جا سکتا چونکہ یہ صریحا” بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق کے قوانین اور بین الاقوامی سرحدوں کے تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ کسی بھی آزادی خودمختار ملک کی خودمختاری پر حملہ ہے، جو اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے کیا گیا ہے۔ یہ بات ایسی صورت میں اور بھی زیادہ واضح اور قابل مذمت ہے کہ ایک ایسے موقع پر جب کہ دونوں فریقین کے مابین مذاکرات چل رہے تھے اور یہ بات بھی خود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اس سے قبل کے بیان میں کہہ دیا تھا کہ ایران پر پچھلے حملے کے بعد اس کی ایٹمی افزدگی کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔ ان ساری صورتحال میں ایران پر جنگ مسلط کیا جانا اور اس کی یہ توجیع پیش کرنا کہ ایران کے ایٹم بم سے دنیا کو خطرہ ہے، ایک ایسا جھوٹ ہے جس پر دنیا میں کسی کو بھی یقین نہیں آیا ہے۔ یورپی ممالک کے جو سربراہان اس کھلی جھوٹی کہانی پر یقین کرتے ہوئے ایران کو متنبہ کر رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر اپنے جوابی حملے بند کر دے وہ یقینا آئینے میں اپنا منہ نہیں دیکھ رہے ہوں گے۔ ایک دوسرا بہانہ اس جنگ کو شروع کرنے کے سلسلے میں جو گھڑا گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ایران کی حکومت اپنے عوام کی آزادانہ رائے دہی کے حقوق سلب کر رہی ہے اور انہیں عوامی احتجاج پر سخت سزائیں دی جا رہی ہیں۔ یعنی ایران میں بہتر جمہوری حکومت کی ضرورت کو پیش نظر رکھ کر ایرانی حکومت کی تبدیلی کی کوشش کو وجہ جنگ بنایا جا رہا ہے تو یہ بات جتنی درست ہے کہ ایران کو یقینی طور پر ایک آئینی جمہوری آزادانہ حقوق پر یقین رکھنے والی حکومت کی ضرورت ہے تو موجودہ صورتحال میں اس کی اس سے بھی زیادہ شدید ضرورت اسرائیل اور امریکہ کے شہریوں کو ہے چونکہ ایرانی معاملات کے اثرات صرف اندرونی ہیں جبکہ اسرائیل اور امریکہ کے اندرونی معاملات کے اثرات ساری دنیا پر پھیلتے نظر آرہے ہیں ان کی ڈکٹیٹرانہ حکومت سے ساری دنیا کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
    اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ایرانی عوام پر اس طرح بے تحاشہ بمباری اس ملک کے عوام کو کسی بھی طرح کا فائدہ نہیں پہنچا سکتی بلکہ ان کی زندگی کو مزید اجیرن کیا جا رہا ہے اور اسے جنگ کی وجہ بتانا دراصل انتہا درجے کی غیر ذمہ دارانہ، بہیمانہ عمل ہے۔
    ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگی کارروائی کے آغاز سے قبل جس طرح سے دنیا کے بڑے بڑے سیاستدان، سربراہ حکومت اور اہم شخصیات ایپسٹین فائیلز کے اسکینڈلز سے اپنی شہرت گنوا رہے تھے اور جس طرح جنگ چھڑنے کے بعد ساری توجہ جنگ کی طرف مبذول ہوکر ایپسٹین اسکینڈلز سے ہٹ گئی ہے۔ اس سے عوام میں یہ شبہ بھی سر اٹھارہا ہے کہ یہ جنگ دراصل اس اسکینڈلز کے مضر اثرات کو کم کرنے کے لیے ہی شروع ہوئی ہے۔
    اس جنگ کے بارے میں یورپین یونین میں بھی آپس میں اختلافات پیدا ہو گئے۔ جرمنی کے چانسلر میرز مکمل طریقے سے اس جنگ کی حمایت کر رہے ہیں انہوں نے اپنے ایک بیان میں بین الاقوامی ملکی سا لمیت کے حقوق کے بارے میں بھی ایک ایسا متنازعہ بیان دیا ہے کہ جس سے ایران کی سورنٹی، خودمختاری پر ضرب لگی ہے انہوں نے اسرائیلی امریکی جارحیت کا ذکر کیے بغیر ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے دفاع میں کیے جانے والے حملے کو بند کر دیں اس کے علاوہ انہوں نے اس جنگ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ سے ایک ملاقات میں اپنے اس حتمی تعاون کا یقین دلایا ہے اور یہ کہا ہے کہ وہ اس امریکی جنگ کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ جرمنی کے شہر رمسٹائن بھی موجود امریکی اڈے کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنے کی امریکیوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔
    جب سے جنگ کے آغاز پر ہی اسرائیلی کا سرکاری صدارتی ہوائی جہاز برلن کے ایئرپورٹ پر اترا ہے تو اسرائیلی صدر نیتن یاہو کے قیام اور ان کی صحت کے متعلق بھی چہ میگوئیاں ہورہی ہیں۔ اسرائیلی سرکاری پریس کانفرنس اس سلسلے میں مکمل خاموشی اختیار کرنا اور اسرائیلی صدر کا خود پردہ سیمی پر نہ آنا اور ان کے کسی بھی بیان کا سامنے نہ آنا بھی شکوک پیدا کررہے ہیں۔ سرکاری طور پر صرف یہ اعلان کیا گیا کہ طیارے کو جنگ سے محفوظ رکھنے کے اقدامات کے طور پر برلن لایا گیا ہے۔ جوکہ ایک مبہم سی توجیع ہے۔ جرمنی کا اسرائیلی اور امریکی جارحیت کے اقدام کا اس طرح سے مکمل اور بھرپور ساتھ دینا دراصل یہودی قوم کے ساتھ جرمنی کا عالمی جنگ دوم کے دوران ناروا سلوک کی تلافی ایک وجہ ہے جب کہ دوسری وجہ ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تیسری وجہ جرمنی کی بگڑتی معاشی صورتحال میں جرمنی کی اپنی اسلحے کی پیداوار کو بھی بڑھانے کی کو شش ہے۔ امریکی اسرائیلی جنگ سے خود کو الگ کرکے برطانوی وزیراعظم اسٹامر نے کھل کر ٹرمپ سے ناراضگی مول لی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ برطانیہ از خود یہ فیصلہ نہیں کرے گا کہ جنگ میں اس کو بھی کودنا ہے۔ وزیر اعظم نے اپنے تعاون کا یقین دلائے بغیر جنگ کے بارے میں گومگو رویہ اختیار کرتے ہوئے ایرانی حکومت کی غیر جمہوری رویے اور عوامی قید و بند اور آزادی اظہار رائے کی پابندی پر تشویش ظاہر کی ہے۔
    فرانس کا بھی یہی حال ہے ایک طرف جنگ کو غیر ضروری قرار دے کر اس کی ساری ذمہ داری ایران پر تھوپ دی ہے۔ یہ دونوں ممالک کسی وقت بھی اس جنگ میں ایران کے حلیف بن سکتے ہیں خاص کر جب اس مشرق وسطی کے اڈے غیر محفوظ ہونے جارہا ہوں۔
    ناروے نے بھی جنگ کی مخالفت کی ہے۔ سب واضح اور مثبت رویہ جو سامنے آیا ہے وہ ہسپانوی حکومت کا۔ اس کے صدر سانچیز نے دوٹوک لفظوں میں جنگ کی مخالفت کی ہے۔ اور اپنے ملک میں قائم امریکی اڈوں کے استعمال کرنے پر پابندی بھی لگا دی ہے۔ ڈونلڈ
    ٹرمپ نے اس بات پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
    سوئٹزرلینڈ کا بھی کم و بیش یہ رویہ ہے کہ یہ جنگ غیر انسانی، غیر قانونی اور عالمی سلامتی کونسل سے مشورہ کیے بغیر شروع ہوئی ہے۔
    جرمنی کے چانسلر میئرز کا ڈونلڈ ٹرمپ سے ملنا ہو یا مکرون کا بیان یورپی یونین اور یورپ کی اہمیت ڈونلڈٹرمپ کے یورپی ممالک سے اختلافات اور خاص کر یوکرین کی جنگ کے معاملے پر نا اتفاقی نے یورپ کی اہمیت گلوبل پولیٹکس میں بہت کم کر دی ہے۔ دوسری طرف روس سے جنگ اور اس کے نتیجے میں تجارتی بندش تیل و گیس کی عدم دستیابی کی موجودہ صورتحال میں ایران سے جنگ کی صورت میں آبنائے ہرمز کی بندش اور اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں کا آسمان سے باتیں کرنا۔ گیس کی عدم دستیابی یورپ کے لیے ایک بہت سخت امتحان اور آزمائش ہے۔ جس سے گزرنے کے لیے برطانیہ فرانس اور جرمنی کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ ان سب کا نتیجہ مگر بھاری تباہی کی صورت میں ہی ظاہر ہوگا۔ آنے والے وقتوں میں ہی اس بات کا اندازہ ہوگا کہ اس جنگ کا رخ کس طرف مڑتا ہے اور کیا کیا تباہیاں آتی ہیں۔

  • کیا کتاب کی اہمیت کم ہو گئی ہے؟نشید آفاقی

    کیا کتاب کی اہمیت کم ہو گئی ہے؟نشید آفاقی

    آج کا دور رفتار کا دور ہے۔ معلومات کی رفتار، رابطوں کی رفتار اور زندگی کے معمولات کی رفتار پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز ہو چکی ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے انسان کو ایک ایسی دنیا میں پہنچا دیا ہے جہاں ہر خبر، ہر خیال اور ہر تصویر چند سیکنڈ میں سامنے آ جاتی ہے۔ اس تیز رفتار دور میں ایک سوال بار بار ذہن میں آتا ہے کہ کیا کتاب کی اہمیت کم ہو گئی ہے؟ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کتاب اب انسان کی زندگی میں پہلے جیسی جگہ نہیں رکھتی، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کتاب آج بھی وہی طاقت رکھتی ہے جو صدیوں پہلے رکھتی تھی، بلکہ ٹیکنالوجی کے اس ہجوم میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔
    کتاب صرف معلومات کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ یہ انسان کی سوچ کو تشکیل دیتی ہے۔ ایک اچھی کتاب قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے، اسے نئے زاویوں سے دنیا کو دیکھنے کا موقع دیتی ہے اور اس کی ذہنی صلاحیتوں کو وسعت دیتی ہے۔ سوشل میڈیا یا مختصر ویڈیوز انسان کو چند لمحوں کی معلومات تو دے سکتی ہیں، لیکن وہ گہرائی نہیں دے سکتیں جو ایک کتاب دیتی ہے۔ کتاب پڑھنے والا انسان زیادہ صبر والا، زیادہ غور و فکر کرنے والا اور زیادہ وسیع النظر ہوتا ہے۔ اسی لیے دنیا کی بڑی شخصیات کی زندگیوں کو دیکھا جائے تو ان میں ایک مشترک بات نظر آتی ہے کہ وہ سب مطالعہ کے شوقین تھے۔
    بدقسمتی سے پاکستان میں کتابوں سے دوری ایک سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہاہے۔ نئی نسل کا زیادہ وقت موبائل فون، ویڈیوز اور سوشل میڈیا پر گزرتا ہے۔ کتاب ہاتھ میں لینا اب بہت سے نوجوانوں کے لیے ایک مشکل اور بورنگ کام بن گیا ہے۔ تعلیمی اداروں میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ اکثر طلبہ صرف امتحان پاس کرنے کے لیے نصابی کتابیں پڑھتے ہیں، جبکہ غیر نصابی مطالعہ کی روایت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان معلومات تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن گہری سوچ اور تجزیہ کرنے کی صلاحیت کمزور رہ جاتی ہے۔
    کتابوں سے دوری کا اثر صرف تعلیم تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ معاشرے کی فکری سطح پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ جب ایک معاشرے میں مطالعہ کا رجحان کم ہو جائے تو وہاں تخلیقی سوچ بھی کمزور پڑنے لگتی ہے۔ نئی سوچ، نئے خیالات اور نئی ایجادات کا تعلق براہ راست مطالعہ اور تحقیق سے ہوتا ہے۔ اگر نوجوان نسل کتابوں سے دور ہو جائے تو معاشرہ آہستہ آہستہ فکری جمود کا شکار ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ قومیں آج بھی کتاب اور مطالعہ کو بہت اہمیت دیتی ہیں۔
    یہ بھی حقیقت ہے کہ کتابی شوق خود بخود پیدا نہیں ہوتا بلکہ اسے پیدا کرنا پڑتا ہے۔ اس میں سب سے بڑا کردار گھر اور تعلیمی اداروں کا ہوتا ہے۔ اگر بچوں کو بچپن سے ہی کہانیاں سنائی جائیں، انہیں رنگین اور دلچسپ کتابیں دی جائیں اور گھر میں کتاب پڑھنے کا ماحول ہو تو ان کے اندر مطالعہ کی عادت پیدا ہو سکتی ہے۔ والدین اگر خود کتاب پڑھتے ہوں تو بچے بھی اس عادت کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح اسکولوں میں لائبریریوں کو فعال بنانا اور طلبہ کو نصابی کتابوں کے علاوہ بھی مطالعہ کی ترغیب دینا ضروری ہے۔
    آج کے دور میں یہ بھی ضروری ہے کہ کتاب کو جدید طریقوں سے نوجوانوں تک پہنچایا جائے۔ اگرچہ روایتی کتاب کی اپنی ایک خوشبو اور کشش ہوتی ہے، لیکن ای بک اور آڈیو بک جیسی سہولیات بھی مطالعہ کے فروغ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ ٹیکنالوجی کو کتاب کا دشمن بنانے کے بجائے اسے کتاب کا ساتھی بنایا جا سکتا ہے۔ اگر نوجوان موبائل فون پر گھنٹوں وقت گزار سکتے ہیں تو اسی موبائل پر اچھی کتابیں پڑھنے کی عادت بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔
    مغربی ممالک کی مثال دیکھیں تو وہاں ٹیکنالوجی ہم سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہے، لیکن اس کے باوجود کتاب کا شوق ختم نہیں ہوا۔ یورپ اور امریکہ کے شہروں میں عوامی لائبریریاں آج بھی لوگوں سے بھری رہتی ہیں۔ بچوں کے لیے خصوصی ریڈنگ پروگرام ہوتے ہیں، اسکولوں میں کتاب پڑھنے کے مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں اور والدین بچوں کو چھوٹی عمر سے کہانیاں سناتے ہیں۔ وہاں مطالعہ کو صرف تعلیم کا حصہ نہیں بلکہ زندگی کی ایک خوشگوار سرگرمی سمجھا جاتا ہے۔
    مغرب میں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ مصنفین اور کتابوں کو بہت احترام دیا جاتا ہے۔ نئی کتاب شائع ہونے پر تقریبات منعقد ہوتی ہیں، مصنفین کے ساتھ ملاقات کے پروگرام ہوتے ہیں اور لوگ شوق سے کتابیں خریدتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کتابی صنعت بھی بہت مضبوط ہے اور نوجوان نسل میں مطالعہ کی عادت برقرار ہے۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں لائبریریاں کم ہوتی جا رہی ہیں اور کتاب خریدنے کا رجحان بھی محدود ہوتا جا رہا ہے۔
    اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نئی نسل زیادہ باشعور، تخلیقی اور باصلاحیت ہو تو ہمیں انہیں کتاب سے جوڑنا ہوگا۔ مطالعہ صرف امتحان پاس کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ انسان کی شخصیت بنانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ کتاب انسان کو وہ بصیرت دیتی ہے جو مختصر معلومات یا سوشل میڈیا فراہم نہیں کر سکتے۔
    حقیقت یہ ہے کہ کتابیں صرف کاغذ پر لکھے ہوئے الفاظ نہیں بلکہ یہ خیالات، تجربات اور دانش کا خزانہ ہوتی ہیں۔ ایک اچھی کتاب انسان کے ذہن میں ایسے سوالات پیدا کرتی ہے جو اسے بہتر انسان بننے کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ کتابیں انسان کی سوچ بدل سکتی ہیں۔
    ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی اگر کوئی چیز انسان کو گہرائی سے سوچنے، سمجھنے اور اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کی طاقت دیتی ہے تو وہ کتاب ہی ہے۔ اگر ہم اپنی نئی نسل کو کتاب سے جوڑنے میں کامیاب ہو جائیں تو نہ صرف ان کی سوچ وسیع ہوگی بلکہ ہمارا معاشرہ بھی فکری طور پر زیادہ مضبوط اور روشن ہو سکتا ہے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو کسی بھی قوم کے مستقبل کو سنوار سکتا ہے۔