شہر میں اربوں روپے کی لاگت سے نصب ہونے والے ای چالان سسٹم کا حالیہ معاملہ نہ صرف عوام کے لیے تشویش کا باعث ہے بلکہ حکومتی ٹیکنالوجی اور نگرانی کے نظام پر بھی سوالیہ نشان لگا رہا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں چلنے والی ایک بس کا چالان عدالت میں چیلنج کیا گیا، جہاں بس کے مالک اور ایسوسی ایشن کے صدر فاروق احمد نے اپنے وکیل منصف جان ایڈووکیٹ کے ذریعے موقف اختیار کیا کہ بس میں حد رفتار میٹر120 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جبکہ شہر میں نصب کیمروں نے دوران ڈرائیونگ گاڑی کی رفتار160کلومیٹر فی گھنٹہ ظاہر کی۔
یہ معاملہ بظاہر ٹریفک کی معمولی خلاف ورزی لگتا ہے، لیکن اس کے پیچھے کئی اہم پہلو ہیں جن پر غور کرنا ضروری ہے۔ سب سے پہلے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اربوں روپے کی سرمایہ کاری سے نصب شدہ ای چالان سسٹم کس حد تک درست اور قابل اعتماد ہے۔ اگر سسٹم میں ایسی خامیاں ہیں کہ یہ حقیقی رفتار کو غلط دکھا رہا ہے، تو اس کا استعمال نہ صرف عوامی اعتماد کو متاثر کرے گا بلکہ قانونی تنازعات کو بھی جنم دے گا۔
ای چالان سسٹم بنیادی طور پر جدید کیمرے اور ٹریکنگ ڈیوائسز پر مبنی ہوتا ہے جو گاڑیوں کی رفتار، نمبر پلیٹ اور دیگر ضروری معلومات ریکارڈ کرتے ہیں۔ تاہم، ہر ٹیکنالوجی کی طرح اس سسٹم میں بھی حدود اور خامیاں موجود ہو سکتی ہیں۔ بس کے مالک کی عدالت میں دعویٰ کہ بس کی حد رفتار120کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، ایک فنی حقیقت کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جو واضح کرتا ہے کہ کیمروں یا سسٹم میں کوئی خرابی ہو سکتی ہے جس کے باعث حقیقی رفتار سے زیادہ ظاہر کی گئی۔
یہ معاملہ صرف ایک بس تک محدود نہیں۔ اگر اربوں روپے کی لاگت سے نصب یہ سسٹم درستگی میں کمی رکھتا ہے تو اس کا اثر پورے شہر کی ٹریفک انتظامیہ اور عوام کے اعتماد پر پڑ سکتا ہے۔ عوامی سطح پر یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ غلط چالانوں کی زد میں آ سکتے ہیں اور یہ نظام صرف آمدنی کا ذریعہ بن کر رہ گیا ہے۔
عدالت میں چیلنج کیے جانے والے اس کیس نے شہری حقوق اور قانونی انصاف کے پہلو کو بھی اجاگر کیا ہے۔ فاروق احمد کے وکیل نے عدالت میں استدعا کی کہ حکام کی جانب سے نصب کیمروں اور گاڑیوں کی رفتار کو مانیٹر کرنے والے ٹریکنگ سسٹم کی غیر جانب دار ماہرین سے مکمل جانچ پڑتال کی جائے۔ یہ قانونی تقاضا نہ صرف بس مالک کے حق میں بلکہ عام شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی اہم ہے۔ شہریوں کا حق ہے کہ وہ اس نظام کی شفافیت اور درستگی کو یقینی بنانے کے لیے عدالت یا متعلقہ حکام سے رجوع کریں۔
عوامی اعتماد کسی بھی ٹیکنالوجی یا حکومتی پروگرام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ جب اربوں روپے کی لاگت سے نصب شدہ ای چالان سسٹم میں خامیاں سامنے آتی ہیں، تو یہ نہ صرف عوام کے اعتماد کو متاثر کرتا ہے بلکہ حکومتی مشینری کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف ٹیکنالوجی کی درستگی کو یقینی بنائے بلکہ شفاف طریقے سے شہریوں کو آگاہ کرے کہ یہ سسٹم کس حد تک قابل اعتماد ہے۔
یہ کیس ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ شہر میں نصب ای چالان سسٹم کا مکمل اور شفاف جائزہ لیا جائے۔ غیر جانب دار ماہرین کی ٹیم سسٹم کی ٹیکنالوجی، کیمروں اور ٹریکنگ ڈیوائسز کی درستگی کی جانچ کرے، اور اگر کوئی خامی پائی جائے تو فوری اصلاحات کی جائیں۔ ساتھ ہی عوام کو اس سسٹم کی حدود اور درستگی کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں تاکہ شہری اپنے قانونی حقوق سے آگاہ رہیں اور کسی بھی غلط چالان کی صورت میں مناسب قانونی کارروائی کر سکیں۔
یہ معاملہ صرف ٹیکنالوجی یا قانونی پہلو تک محدود نہیں، بلکہ یہ عوامی شعور اور ٹریفک نظم کے لیے بھی اہم ہے۔ عوام کو یہ احساس دلایا جانا چاہیے کہ ٹریفک قوانین کی پابندی سب کے لیے ضروری ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنانا لازمی ہے کہ جو جرمانے لگائے جا رہے ہیں وہ درست اور شفاف ہوں۔ شہری اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ اپنے حقوق کے لیے بھی آواز اٹھا سکتے ہیں اور کسی بھی شکایتی معاملے میں عدالت یا متعلقہ حکام سے رجوع کر سکتے ہیں۔
آخرکار، شہر میں نصب اربوں روپے کے ای چالان سسٹم کا یہ معاملہ واضح کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ شفافیت، درستگی اور شہری حقوق کی حفاظت بھی لازمی ہے۔ عدالت میں چیلنج کیے جانے والے اس کیس نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا اربوں روپے کی لاگت سے نصب شدہ نظام حقیقی اور قابل اعتماد ہے یا اس میں خامیاں موجود ہیں جو شہریوں کے حقوق کو متاثر کر رہی ہیں۔
یہ وقت ہے کہ حکومتی حکام نہ صرف اس سسٹم کی تکنیکی جانچ کریں بلکہ عوام کو بھی اعتماد میں لیں تاکہ شہری یقین رکھ سکیں کہ ان کے خلاف کوئی غلط چالان نہیں جاری کیا جائے گا۔ شفافیت اور درستگی کے بغیر کوئی بھی ٹیکنالوجی صرف پیچیدہ اور متنازعہ مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ عدالت کی مداخلت ایک مثبت اور ضروری قدم ہے جو شہریوں کے حقوق اور ٹریفک نظام کی شفافیت کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
آخر میں، اربوں روپے کی لاگت سے نصب یہ سسٹم عوامی خدمت کے لیے ہے، نہ کہ شک اور غلط چالان کے لیے۔ شہری، حکومت، اور عدالت سب کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کو عوامی بھروسے کے قابل بنائیں تاکہ شہریوں کا اعتماد بحال ہو اور ٹریفک نظام موثر اور شفاف طریقے سے کام کر سکے۔
Blog
-

امریکا و اسرائیل سے جنگ بندی کیلئے ایران کی 6 سخت شرائط سامنے آگئیں
تہران(پاکستان واچ نیوز) ایران نے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے 6 اہم اسٹریٹجک شرائط پیش کر دی ہیں، جنہیں ایک نئے قانونی اور سکیورٹی فریم ورک کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مختلف علاقائی ممالک اور ثالثوں نے ایران کو جنگ بندی کے حوالے سے تجاویز دی ہیں، جس کے جواب میں ایران نے اپنی شرائط سامنے رکھ دی ہیں۔اہلکار کے مطابق سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ جنگ دوبارہ شروع نہ ہونے کی واضح اور قابلِ عمل ضمانت دی جائے۔ دوسری شرط خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی بندش ہے، جبکہ تیسری شرط میں جارح قوتوں کو پیچھے ہٹانے اور ایران کو جنگی نقصانات کا ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔چوتھی شرط کے تحت ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام علاقائی محاذوں پر جنگ کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔ پانچویں شرط آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا قانونی نظام نافذ کرنا ہے، جبکہ چھٹی شرط ایران مخالف میڈیا سرگرمیوں کے خلاف قانونی کارروائی اور ان عناصر کو ملک بدر کرنا ہے۔رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ شرائط کن ممالک یا ثالثوں کے ذریعے امریکا اور اسرائیل تک پہنچائی گئی ہیں۔ تاہم ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اور سیاسی حلقے ان شرائط کو سنجیدگی سے لینے پر زور دے رہے ہیں۔ایک اور اہلکار کے مطابق ایران پہلے سے طے شدہ حکمت عملی کے تحت تحمل کے ساتھ مرحلہ وار آگے بڑھ رہا ہے۔ ایران نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس نے دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اب اسے فضائی برتری حاصل ہے۔ایرانی حکام کے مطابق موجودہ صورتحال میں فوری جنگ بندی کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں، تاہم ایران اپنی شرائط کے مطابق کسی بھی ممکنہ حل کے لیے تیار ہے۔
-

ٹرمپ کے مذاکرات کے دعوے، تہران کا دوٹوک انکار
تہران (پاکستان واچ نیوز)امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ 25 ویں دن میں داخل ہو گئی ہے، جبکہ ممکنہ امن مذاکرات کے حوالے سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور ایک وسیع معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے، تاہم ایرانی حکام نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹ اور گمراہ کن بیانیہ قرار دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایرانی توانائی کے انفراسٹرکچر پر مجوزہ حملوں کو عارضی طور پر پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔اس سے قبل انہوں نے ایران کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے، بصورت دیگر ایرانی پاور پلانٹس کو تباہ کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ بعد ازاں اس ڈیڈ لائن میں توسیع کر دی گئی۔ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے اس کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ایشیائی ممالک، خصوصاً جنوبی کوریا اور جاپان، اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ان کا زیادہ تر تیل اسی راستے سے آتا ہے۔دوسری جانب خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ ایران نے اسرائیل پر مزید میزائل حملے کیے، جبکہ خلیجی ممالک میں ڈرون اور میزائل حملوں کو متعدد بار ناکام بنایا گیا۔ سعودی عرب نے اپنے مشرقی علاقے کی طرف آنے والے تقریباً 20 ڈرونز کو تباہ کیا، جبکہ کویت اور بحرین میں بھی خطرے کے سائرن بارہا بجائے گئے۔لبنان، عراق اور شام میں بھی جھڑپوں میں شدت آ گئی ہے۔ اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافات پر حملہ کیا، جبکہ امریکا نے عراق کے صوبہ الانبار میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔ ماہرین کے مطابق عراق اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ایک ثانوی میدان جنگ بن چکا ہے۔ادھر ایران کے دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں میں بڑی تعداد میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے، جنہوں نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف احتجاج کیا۔ ایرانی قیادت نے اس موقع پر مزاحمت کی طاقت کا پیغام دیا۔امریکا کے اندر بھی اس جنگ پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی تیل اور ایندھن کی قیمتوں کے باعث امریکی معیشت پر دباؤ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ ممکنہ طور پر جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔اس دوران برطانیہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے فضائی دفاعی نظام بھیجنے کا اعلان کیا ہے تاکہ ایرانی میزائل حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے، جبکہ خطے کے ممالک مسلسل کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی اپیل کر رہے ہیں۔
-

اسرائیلی صدر ہرزوگ ایرانی میزائل حملے میں بال بال بچ گئے
تل ابیب (پاکستان واچ نیوز)اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ ایرانی میزائل حملے میں محفوظ رہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق صدر ہرزوگ شمالی اسرائیل میں موجود تھے جب پہاڑی علاقے میں ایک میزائل گرا، اور اسی دوران صدر شمونہ کریات میں نیوز کانفرنس کر رہے تھے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے آپریشن وعدہ صادق کی 78 ویں لہر کا آغاز کر دیا ہے۔ ترجمان کے مطابق اس کارروائی کے دوران تل ابیب، ایلات اور ڈیمونا پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ترجمان نے بتایا کہ ایرانی فورسز نے حملوں میں جدید میزائلز جیسے عماد اور قدر استعمال کیے، اور جدید ڈرونز کے ذریعے دشمن کے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اسرائیل-ایران تنازع کی ایک اور تازہ کڑی ہیں۔
-

ندا یاسر کے بولڈ لباس اور وگ پر صارفین کی شدید تنقید
کراچی (پاکستان واچ نیوز)معروف پاکستانی اداکارہ وٹی وی میزبان ندا یاسر عید پر اپنے بولڈ لباس اور وگ کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ ندا یاسر ایک معروف پاکستانی مارننگ شو ہوسٹ ہیں جن کے انسٹاگرام پر 2.4 ملین سے زائد فالوورز ہیں۔وہ تقریباً گزشتہ 19 برس سے نجی ٹی وی پر ’گڈ مارننگ پاکستان‘ کے نام سے مارننگ شو کی میزبانی کرہی ہیں۔ ندا یاسر اپنے انٹرٹینمنٹ اور ڈسکشن پر مبنی پروگرامز کے لیے جانی جاتی ہیں، تاہم وہ اکثر اپنے انداز، بیانات اور لائیو شوز میں غلطیوں کی وجہ سے سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا بھی کرتی ہیں۔حال ہی میں انہوں نے رمضان اور عید ٹرانسمیشنز کی میزبانی کی، جہاں ان کے مختلف لُکس پر خاصی تنقید کی گئی، خصوصاً ان کے بولڈ لباس اور وِگ کے استعمال پر صارفین نے شدید تنقید کی۔ عید کے ایک پروگرام میں ندا یاسر نے سینئر اداکاراؤں کے ساتھ شو ہوسٹ کیا، جہاں انہوں نے سرخ ریشمی لباس کے ساتھ سنہری جیولری پہنی، اس دوران انہوں نے اپنے بالوں میں وگ کا استعمال بھی کیا اور ساتھ میں ٹِکا اور ہیڈ جیولری بھی پہنی۔ندا یاسر کے اس وِگ اور بولڈ عید لُک پر عوام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔کئی صارفین نے انہیں عمر کے مطابق فیشن نہ اپنانے پر تنقید کا نشانہ بنایا، جب کہ کچھ مداح ان کے بڑے گلے والے لباس سے بھی ناخوش نظر آئے۔ایک صارف نے لکھا ’مجھے تو ندا یاسر پہچان میں ہی نہیں آئیں، وہ بالکل مختلف لگ رہی ہیں‘۔ ایک اور نے کہا کہ ندا یاسر وِگ پہن کر عجیب لگ رہی ہیں۔ایک مداح نے لباس پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ندا یاسر کا ڈیپ نیک ڈریس ٹی وی شو کے لیے مناسب نہیں لگتا۔کچھ صارفین نے عمومی طور پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بہت سی بڑی عمر کی خواتین خود کو کم عمر دکھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
-

ملک بھر میں آج سے موسلادھار بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان
اسلام آباد:(پاکستان واچ نیوز)محکمہ موسمیات نے آج سے 30 مارچ تک ملک کے بیشتر علاقوں میں تیز ہواؤں اور آندھی کے ساتھ تیز بارشوں کی پیش گوئی کر دی جبکہ چند مقامات پر ژالہ باری کا ابھی امکان ہے۔محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق ایک مغربی ہواؤں کا سلسلہ 24 مارچ کی شام یا رات کے دوران بلوچستان کے جنوب مغربی علاقوں میں داخل ہوگا جو کہ 27 مارچ کی رات سے شدت اختیار کر سکتا ہے اور یہ سلسلہ 31 مارچ تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔سسٹم کے زیر اثر بلوچستان، خیبر پختونخوا، پنجاب، اسلام آباد، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور سندھ میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔بلوچستان میں پنجگور، تربت، کیچ، آواران، مکران کا ساحلی علاقے، لسبیلہ، خضدار، چاغی، دالبندین، قلات، سبی، کوہلو، بارکھان، نصیر آباد، کوئٹہ، لورالائی، زیارت، چمن، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، نوشکی، ہرنائی، ژوب اور مستونگ میں 24 مارچ کی شام سے 25 کی رات اور 27 مارچ کی رات سے 29 کی صبح کے دوران تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش جبکہ بعض مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان ہے جبکہ چند مقامات پر ژالہ باری کی توقع ہے۔اسی طرح خیبر پختونخوا کے علاقے چترال، دیر، سوات، کالام، شانگلہ، کوہستان، مالاکنڈ، بونیر، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، بالاکوٹ، ہری پور، مردان، نوشہرہ، پشاور، کرم، صوابی، چارسدہ، کوہاٹ، ہنگو، کرک، بنوں، لکی مروت، ٹانک، باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، ڈیرہ اسماعیل خان اور وزیرستان میں 25 کی شام سے 26 مارچ کی صبح تک تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش جبکہ پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے۔اس کے بعد، 29 سے 30 مارچ کے دوران اکثر مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر تیز یا موسلادھار بارش جبکہ پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے۔ اس دوران چند مقامات پر ژالہ باری کا امکان ہے۔اسلام آباد سمیت مری، گلیات، راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، سرگودھا، میانوالی، فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، خوشاب، گجرات، گجرانوالہ، حافظ آباد، منڈی بہاءالدین، سیالکوٹ، نارروال، لاہور، اوکاڑہ، قصور، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، بھکر، لیہ، ملتان، کوٹ ادو، بہاولپور، ساہیوال، بہاولنگر، رحیم یار خان میں 25 سے 26 مارچ کی صبح تک اور 28 کی شام سے 30 مارچ تک بارش کا امکان ہے جبکہ چند مقامات پر ژالہ باری بھی ہوسکتی ہے۔گلگلت بلتستان کے علاقوں دیامر، استور، غذر، اسکردو، ہنزہ، گلگت، گانچھے، شگر جبکہ آزاد کشیر میں وادی نیلم، مظفر آباد، پونچھ، ہٹیاں، باغ، حویلی، کوٹلی، بھمبر اور میرپور میں 25 کی شام یا رات سے 26 مارچ اور 28 سے 30 مارچ کے دوران تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش جبکہ پہاڑوں پر برفباری کی توقع ہے۔اس دوران، کشمیر میں چند مقامات پر ژالہ باری اور موسلادھار بارش کا بھی امکان ہے۔سندھ کے شہر کراچی، ٹھٹھہ، بدین، حیدر آباد، سکھر، دادو، کشمور، جیکب آباد اور لاڑکانہ میں 25 سے 26 اور 28 سے 29 مارچ کے دوران تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے۔اس دوران، صوبے کے چند مقامات پر ژالہ باری کا بھی امکان ہے۔بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں چند مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ ہو سکتی ہے جبکہ شدید بارشوں کے باعث بلوچستان میں 25 سے 28 مارچ کے دوران فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے جبکہ خیبر پختونخوا کے مقامی ندی نالوں میں فلیش فلڈنگ کا خطرہ ہے۔
-

عید تعطیلات کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شاندار تیزی
کراچی:(پاکستان واچ نیوز)پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں عید الفطر کی تعطیلات کے بعد شاندار تیزی دیکھی جا رہی ہے۔چھٹیوں کے بعد پہلے کاروباری دن کا آغاز بازارِ حصص میں شاندار تیزی کے ساتھ ہوا، جہاں کے ایس ای 100 انڈیکس میں 4400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔منگل کے روز مارکیٹ کے آغاز پر 1568 پوائنٹس کی تیزی دیکھی گئی، جس نے 100 انڈیکس کو ایک لاکھ 54 ہزار 309 پوائنٹس کی سطح پر پہنچایا۔ بعد ازاں کے ایس ای 100 انڈیکس مجموعی طور پر 4449 پوائنٹس کے اضافے سے ایک لاکھ 57 ہزار 190 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔اقتصادی ماہرین کے مطابق اس وقت پی ایس ایکس میں اتار چڑھاؤ کا رجحان جاری ہے، تاہم مارکیٹ کی سمت مثبت بلندی کی جانب ہے۔
-

فرقہ وارانہ بیانیے کی روک تھام کے لیے علما اپنا کردار اداکریں، فیلڈ مارشل عاصم منیر
راولپنڈی: چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہےکہ پاکستان میں تشدد کی اجازت نہیں دی جائے گی اور مذہبی جذبات کو ملک میں تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقعات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے راولپنڈی میں اہل تشیع علما سے ملاقات کی جس میں انہوں نے قومی سلامتی اور بین الصوبائی ہم آہنگی پرتبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر فیلڈ مارشل نے کہا کہ اتحاد، رواداری اورقومی یکجہتی کے فروغ میں علما کا کردار کلیدی ہے، غلط معلومات اورفرقہ وارانہ بیانیے کی روک تھام کے لیے علما اپنا کردار اداکریں۔چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تشدد کی اجازت نہیں دی جائے گی، مذہبی جذبات کو ملک میں تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکیں، پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کا استعمال کسی صورت برداشت نہیں کیا جائےگا، دہشتگردوں اور ان کے ٹھکانے جہاں کہیں بھی ہوئے نشانہ بنایا جائےگا۔آئی ایس پی آر کے مطابق علما کی جانب سے تشدد کی بھرپورمذمت کی گئی اورامن و استحکام کے لیے سکیورٹی اداروں کی حمایت کا اعلان بھی کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن غضب للحق سے متعلق فیلڈمارشل نے دہشتگردوں کے مکمل خاتمےکا عزم بھی کیا۔
-

سعودی عرب کا ایران کو سخت الٹی میٹم، حملے نہ رکے تو جواب کیلئے تیار رہو
ریاض:(پاکستان واچ نیوز)سعودی عرب نے ایران کو واضح اور سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی جارحیت کے خلاف اس کا صبر لامحدود نہیں، اور اگر خلیجی ممالک پر حملے فوری بند نہ کیے گئے تو سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔جبکہ مملکت نے کھل کر فوجی کارروائی کا حق بھی محفوظ رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کہا کہ امید ہے ایران آج کے پیغام کو سمجھ چکا ہوگا ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مذاکرات کے بجائے دباؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، تاہم یہ حکمت عملی کامیاب نہیں ہوگی بلکہ الٹا نقصان دہ ثابت ہوگی۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ سعودی عرب کسی بھی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ایران پر جو معمولی اعتماد باقی تھا وہ بھی حالیہ حملوں کے بعد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، جبکہ خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے کے جواز ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان حملوں کے نتائج ضرور سامنے آئیں گے اور ایران کی علاقائی تنہائی میں مزید اضافہ ہوگا۔رپورٹس کے مطابق 28 فروری سے ایران نے ریاض سمیت متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین اور قطر پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے، جنہیں تہران نے امریکی و اسرائیلی کارروائیوں کا ردعمل قرار دیا ہے۔سعودی وزارت دفاع کے مطابق حالیہ حملے میں ریاض کی جانب داغے گئے چار بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا، جبکہ اب تک سعودی فضائی دفاعی نظام 457 سے زائد ڈرونز، 40 بیلسٹک میزائل اور 7 کروز میزائل ناکام بنا چکا ہے۔ -

قطر پر دوبارہ حملہ ہوا تو پارس گیس فیلڈ کو تباہ کر دیں گے، ٹرمپ کی ایران کو وارننگ
واشنگٹن(پاکستان واچ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے قطر پر دوبارہ حملہ کیا تو امریکا ساؤتھ پارس گیس فیلڈ کو تباہ کر دے گا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ساؤتھ پارس گیس فیلڈ ایک انتہائی اہم اور قیمتی اثاثہ ہے، اور امریکا کو اس پر ہونے والے حالیہ اسرائیلی حملے کا پیشگی علم نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس مقام پر دوبارہ حملہ نہیں کرے گا، تاہم ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے قطر کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو امریکا انتہائی سخت ردعمل دے گا۔
