Blog

  • 10 روپے کا نوٹ ختم  کرنے کے حوالے سے حکومتی کمیٹی کی رپورٹ

    10 روپے کا نوٹ ختم کرنے کے حوالے سے حکومتی کمیٹی کی رپورٹ

    اسلام آباد:ملک میں چلنے والے 10 روپے کا نوٹ ختم کرنے کے حوالے سے حکومتی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آ گئی۔وزیر خزانہ کی سربراہی میں قائم اعلی سطحی کمیٹی نے کرنسی مینجمنٹ رپورٹ کابینہ کو ارسال کردی۔ یہ کرنسی مینجمنٹ رپورٹ اسٹیٹ بینک اور سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن قوانین کے تحت مرتب کی گئی ہے۔آئی سی ایم اے رپورٹ کے مطابق 10 روپے کے کرنسی نوٹ کی اوسط عمر صرف 6 سے 9 ماہ ہے جب کہ 10 روپے کے سکے کی اوسط عمر 20 سے 30 سال ہوتی ہے۔ملک میں ہر سال چھپنے والے مجموعی نوٹوں کا تقریبا 35 فیصد حصہ 10روپے کے نوٹ پر مشتمل ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 10 روپے کا سکہ متعارف کرنے سے 10سال میں کم از کم 40 سے 50ارب روپے کی بچت ہوگی، کیوں کہ 10روپے کے نوٹ کی چھپائی، تبدیلی اور انتظامی اخراجات کا تخمینہ 8 سے 10 ارب روپے ہے۔رپورٹ کے مطابق سکہ تیار کرنے کی لاگت زیادہ مگر دہائیوں تک دوبارہ تیار کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

  • دھشگردوں کو قانون  کے کٹہرے  میں لائیں گے،وزیراعلی بلوچستان

    دھشگردوں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گے،وزیراعلی بلوچستان

    کوئٹہ (پاکستان واچ نیوز)وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے25 فروری کو بولیدہ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ معصوم خاندان کا قتل اور گھر کو نذرِ آتش کرنا کھلی دہشت گردی ہے۔وزیراعلیٰ نے اس بزدلانہ کارروائی میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے صوبائی اسمبلی میں اس واقعے کے خلاف مشترکہ قرارداد پیش کرنے کی تجویز بھی دی۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے امن پر حملہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا

  • بھارت مسلمانوں کیخلاف اسرائیلی ماڈل اپنا رہا ہے، الجزیرہ کی چونکا دینے والی رپورٹ

    بھارت مسلمانوں کیخلاف اسرائیلی ماڈل اپنا رہا ہے، الجزیرہ کی چونکا دینے والی رپورٹ

    دوحہ: (پاکستان واچ نیوز)عالمی خبر رساں ادارے الجزیرہ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کی موجودہ حکومت اسرائیل کے سیکیورٹی اور انتظامی ماڈل سے متاثر پالیسیوں پر عمل پیرا ہے، جن کے اثرات خصوصاً مسلمانوں اور مقبوضہ کشمیر پر مرتب ہو رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں ایک مشترکہ نظریاتی وژن پایا جاتا ہے، جس میں اقلیتوں کو سیکیورٹی اور جغرافیائی خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ہندوتوا نظریے سے وابستہ حلقے اسرائیلی طرز حکمرانی سے متاثر ہیں اور سیکیورٹی پالیسیوں میں نگرانی اور سخت اقدامات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔الجزیرہ کے مطابق 2019 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کیے گئے، جن میں چیک پوسٹوں کا قیام، چھاپے، اور مواصلاتی بندشیں شامل ہیں۔رپورٹ میں ’بلڈوزر جسٹس‘ پالیسی کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس کے تحت مبینہ طور پر گھروں اور دکانوں کی مسماری کی گئی، جسے ناقدین ماورائے عدالت اقدام قرار دیتے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اختلافی آوازوں کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔بھارتی حکومت کی جانب سے ان الزامات پر باضابطہ ردعمل رپورٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔

  • جامِ شہادت نوش کرنے والے بہادر سپوت ہیڈ کانسٹیبل  وہاب علی قوم کا فخر بن گئے

    جامِ شہادت نوش کرنے والے بہادر سپوت ہیڈ کانسٹیبل وہاب علی قوم کا فخر بن گئے

    پشاور(پاکستان واچ نیوز)فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائی کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے بہادر سپوت ہیڈ کانسٹیبل وہاب علی قوم کا فخر بن گئے۔ کوہاٹ میں فتنہ الخوارج کی بربریت کا نشانہ بننے والے ہیڈ کانسٹیبل وہاب علی کی شہادت پر لواحقین نے دہشت گردوں کے خلاف بلند حوصلوں کا اظہار کیا ہے۔
    کرک کی دھرتی کے ایک اور بہادر سپوت ہیڈ کانسٹیبل وہاب علی نے وطن پر اپنی جان قربان کر دی۔ شہید کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ وہاب علی شہید ایک بااخلاق، پرہیزگار اور انسان دوست شخص تھے۔
    لواحقین نے خیبرپختونخوا حکومت اور انتظامیہ سے سوال کیا کہ دہشت گردی کب تک برداشت کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت یا ان کے ایم این اے اور ایم پی ایز نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے بھی نہیں آئے۔
    رشتہ داروں کے مطابق سوات سے لے کر پاراچنار اور بنوں جیسے علاقے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں
    ان کا کہنا تھا کہ وہاب علی کی شہادت پر ہمیں فخر ہے، ہمارے دشمن خوارج ہیں جن کے خلاف جنگ حلال ہے۔
    شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ افغانستان، انڈیا اور اسرائیل دہشت گردی کے آلہ کار بن چکے ہیں اور دہشت گردوں کے گڑھ کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔

  • کے پی اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 34 دہشتگرد ہلاک

    کے پی اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 34 دہشتگرد ہلاک

    پشاور (پاکستان واچ نیوز)سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ چند روز کے دوران دہشتگردی کے خلاف جاری بھرپور مہم کے تحت خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر تیز رفتار اور مؤثر کارروائیاں کیں۔ ان کارروائیوں میں مجموعی طور پر 34 دہشت گرد جہنم واصل کردئے، کاروائیوں کا ہدف بھارتی سرپرستی میں سرگرم عناصر، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان تھےپاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف مہم کے تحت تیز رفتار اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کیے، 24 فروری کو خیبر پختونخوا میں چار علیحدہ کارروائی میں بھارتی پراکسی سے تعلق رکھنے والے 26 خارجی ہلاک کیے گئے۔بیان کے مطابق جبکہ بلوچستان کے علاقے سمبازہ، ضلع ژوب میں ایک کارروائی کے دوران بھارتی پراکسی سے وابستہ 8 دہشت گرد مارے گئے، شمالی وزیرستان کے علاقے حسن خیل کے بالمقابل پاک–افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش کرنے والے خارجیوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت سیکیورٹی فورسز نے بروقت پکڑ لی، مؤثر کارروائی میں ایک خارجی ہلاک ہوا،خارجی کی شناخت افغان شہری کے طور پر کی گئی۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ لکی مروت میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں 3 خارجی ہلاک کیے گئے، اسی دوران بنوں کے علاقے نرمی خیل میں دو علیحدہ جھڑپوں میں 10 خارجی مارے گئے، جبکہ میر علی، شمالی وزیرستان میں کارروائی کے دوران 12 خارجی ہلاک ہوئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق سمبازہ، ضلع ژوب میں ایک اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں بھارتی پراکسی سے تعلق رکھنے والے 8 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، کارروائیوں کے دوران ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا، یہ عناصر علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملکی سرحدوں کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں۔ علاقوں میں کلیئرنس/سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں، جبکہ قومی ایکشن پلان کے تحت “عزمِ استحکام” وژن کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے کی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی۔

  • امریکا کی ایران پر نئی پابندیاں، تیل اور میزائل پروگرام کو نشانہ بنایا

    امریکا کی ایران پر نئی پابندیاں، تیل اور میزائل پروگرام کو نشانہ بنایا

    واشنگٹن (پاکستان واچ نیوز)امریکا نے جنگ کے دباؤ اور جوہری مذاکرات کے دوران ایک بار پھر ایران پر پابندیاں عائد کردیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کی ہیں جس میں خاص طور پر وہ جہاز نشانہ بنائے گئے ہیں جو ایرانی تیل فروخت کر کے ملک کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے لیے فنڈز فراہم کر رہے ہیں۔پابندیوں کے تحت 12 جہازوں، متعدد کمپنیوں اور افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے جن کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے اور امریکی شہریوں کے لیے ان کے ساتھ مالی لین دین ممنوع ہو جائے گا۔یہ پابندیاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتظامیہ کے “زیادہ سے زیادہ دباؤ” مہم کے تحت لگائی گئی ہیں۔امریکی وزارت خزانہ کے سکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران غیر قانونی تیل کی فروخت کے ذریعے مالیاتی نظام کا غلط استعمال کرتا ہے جس سے ہتھیار خریدے جاتے ہیں اور دہشت گرد گروہوں کی مدد کی جاتی ہے۔دوسری جانب امریکا نے خطے میں اپنے فوجی وسائل بھی بڑھا دیے ہیں جن میں دو ایئرکرافٹ کیریئرز اور بڑی لڑاکا ہوائی جہاز کی فلیٹس شامل ہیں تاکہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے تیاری کی جا سکے۔امریکا نے یہ پابندیاں صدر ٹرمپ کی پہلی مدت میں 2018 میں ایران کے ساتھ جوائنٹ کمپریہنسیو پلان آف ایکشن (عالمی جوہری معاہدے) کو ختم کرنے کے بعد عائد کرنا شروع کیں۔خیال رہے کہ اس عالمی جوہری معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام میں کمی کی تھی جس کے بدلے بین الاقوامی پابندیاں ختم کی گئی تھیں۔صدر ٹرمپ کی 2025 میں دوبارہ صدارت سنبھالنے کے بعد ایران کے تیل کے برآمدات کو روکنے کے لیے معاشی دباؤ کی مہم کو دوبارہ تیز کیا گیا ہے۔

  • حکومت عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے پر راضی تھی، ذرائع پی ٹی آئی

    حکومت عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے پر راضی تھی، ذرائع پی ٹی آئی

    اسلام آباد (پاکستان واچ نیوز)وفاقی حکومت بانی پی ٹی آئی عمران خان کو طبی معالجے کے لیے اسپتال منتقل کرنے پر راضی تھی۔پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق اپوزیشن کا مطالبہ تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو کم از کم 10 دن شفاء انٹرنیشنل اسپتال میں رکھا جائے اور حکومت بھی مکمل علاج کے لیے بانی کو اسپتال میں رکھنے پر آمادہ تھی۔حکومت کی شرط تھی کہ علاج کی معلومات ظاہر کی جائیں گی اور نہ ہی کارکن بلائے جائیں گے۔ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب بانی کی اسپتال منتقلی کے انتظامات مکمل ہو چکے تھے اور بانی کے ساتھ پارٹی قیادت کے لیے گاڑیاں بھی تیار کی گئی تھیں۔اہل خانہ سے رابطہ کر کے ڈاکٹر کے نام مانگے گئے، جس میں بہنوں نے ڈاکٹر عاصم اور ڈاکٹر عظمی کے نام دیے۔ تاہم حکومت نے بہنوں کے دیے گئے نام تسلیم نہیں کیے، جس پر ڈاکٹر برکی کا نام دیا گیا لیکن حکومت نے اسے بھی مسترد کر دیا۔بعد ازاں حکومت نے ڈاکٹر قاسم زمان کا نام تجویز کیا، جس پر بہنوں اور قاسم زمان نے تشویش کا اظہار کیا اور اسپتال منتقلی پر اتفاق نہ ہو سکا۔ حکومت نے اتوار کی شب اعلان کیا کہ اب اسپتال منتقلی ممکن نہیں۔پارٹی قیادت نے پمز اسپتال کے ڈاکٹروں سے ملاقات کی اور حلف لیا کہ ملاقات کی تفصیلات پبلک نہیں کی جائیں گی۔ذرائع کے مطابق علیمہ خان بیرسٹر گوہر کے ڈاکٹروں سے رابطے پر برہم ہوئیں اور گزشتہ منگل کو پارٹی قیادت کے خلاف بنی گالہ میں پریس کانفرنس کرنے کا ارادہ رکھتی تھیں۔

  • بنوں سے اغوا ہونے والے تین سرکاری اہلکاروں کی لاشیں برآمد

    بنوں سے اغوا ہونے والے تین سرکاری اہلکاروں کی لاشیں برآمد

    ڈی آئی خان:(پاکستان واچ نیوز)بنوں سے اغوا ہونے والے تینوں سرکاری اہل کاروں کی لاشیں مل گئیں، جو آپس میں سگے بھائی تھے۔ایس ایچ او کینٹ بنوں کے مطابق تھانہ کینٹ کی حدود میں نماز کے دوران تین بھائیوں کو اغوا کر لیا گیا تھا، تینوں بھائی سوکڑی حسن خیل میں نماز کی ادائیگی کے لیے گئے تھے۔بنوں پولیس کے مطابق تینوں بھائی سرکاری ملازمین ہیں۔ سعید آختر کمشنر آفس، امجد خان پولیس اور حضرت اللہ کمشنر اسکواڈ پولیس میں ملازم تھا۔پولیس حکام کے مطابق 10 سے 12 دہشت گرد آگئے اور تینوں کو اغوا کر کے لے گئے تھے۔ڈی آئی جی بنوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی تلاش جاری ہے، خارجی و داخلی راستوں پر ناکہ بندیاں کر دی گئیں۔ سوکڑی کے علاقے میں سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔

  • مودی کا دورۂ اسرائیل؛ مسجد نذر آتش؛ فلسطینی آبادی پر حملے

    مودی کا دورۂ اسرائیل؛ مسجد نذر آتش؛ فلسطینی آبادی پر حملے

    نابلس (پاکستان واچ نیوز)مقبوضہ مغربی کنارے میں سیکیورٹی فورسز کی آشیربا سے ایک بار پھر شدت پسند مسلح یہودی آبادکاروں نے فلسطینی آبادی پر دھاوا بول دیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مغربی کنارے کے علاقے نابلس میں یہودی آبادروں نے مسجد ابو بکر صدیق پر حملہ کرکے اسے نذر آتش کردیا۔فلسطینی میڈیا کی جانب سے جاری ویڈیوز میں مسجد کے داخلی دروازے کو جھلسا ہوا دیکھا جا سکتا ہے جب کہ مسجد کی دیوار پر عبرانی زبان میں “انتقام” اور “پرائس ٹیگ” جیسے اشتعال انگیز نعرے تحریر تھے۔خیال رہے کہ یہ نفرت آمیز نعرے عموماً شدت پسند یہودی آبادکار فلسطینیوں کے خلاف تشدد کو اپنے بقول جوابی کارروائی قرار دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔فلسطینی خبر رساں ادارے معان کے مطابق آگ مسجد کے دروازے پر لگائی گئی جس سے بیرونی حصہ شدید متاثر ہوا تاہم مقامی افراد نے بروقت آگ پر قابو پا لیا۔دوسری جانب ایک گروہ گروہ نے فلسطینی آبادی پر حملہ کرکے متعد گھروں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ جلتے ہوئے گھروں میں بچے بھی موجود تھے۔فلسطینی میڈیا کے مطابق اس گاؤں میں کم از کم چار مقامات کو نشانہ بنایا گیا جن میں ایک رہائشی خیمہ اور ایک گھر کا داخلی راستہ شامل تھا جہاں اس وقت خاندان موجود تھا۔فلسطینی ہلالِ احمر نے بتایا کہ دھویں سے متاثر ہونے والے چار افراد کو موقع پر طبی امداد دی گئی۔سیکیورٹی کیمروں کی فوٹیج میں ایک درجن سے زائد نقاب پوش افراد کو گاڑیوں کو آگ لگاتے اور لاٹھیاں اٹھائے دیکھا جا سکتا ہے۔ایک ویڈیو میں ایک فلسطینی کو چیختے ہوئے سنا گیا کہ “بچوں کو بچاؤ، گھر کے اندر بچے ہیں!مسجد اور گھروں پر حملے اور انھیں نذر آتش کرنے کے دہشت گردی پر منبی ان واقعات نے خطے میں شدید خوف و ہراس اور غم و غصے کو جنم دیا ہے۔
    ادھر اسرائیلی فوج اور پولیس نے کہا کہ مذہبی مقامات کو نقصان پہنچانے جیسے واقعات کی سخت مذمت کی جاتی ہے اور ملزمان کی تلاش جاری ہےدوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کی وزارتِ اوقاف نے حملے کو نسل پرستانہ اسرائیلی اشتعال انگیزی کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات مسلم اور مسیحی مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کی عکاسی کرتے ہیں۔فلسطین اتھارٹی کی وزارتِ اوقاف کے مطابق گزشتہ برس مغربی کنارے میں 45 مساجد پر حملے ہوئے۔یاد رہے کہ تشدد پر مبنی یہ واقعات ایسے وقت میں کیے گئے جب فلسطینی ماہ مقدس رمضان میں روزے سے ہیں اور ہمہ وقت عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔7 اکتوبر 2023 کے بعد سے مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے حملوں میں 27 فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ فائرنگ، آتش زنی اور دیگر 128 پرتشدد جرائم رپورٹ ہوئے ہیں۔

    facebook

  • بولیدہ مناز میں فتنۂ ہندوستان کے دہشتگردوں کا حملہ، 6 افراد جاں بحق، گھر نذرِ آتش

    بولیدہ مناز میں فتنۂ ہندوستان کے دہشتگردوں کا حملہ، 6 افراد جاں بحق، گھر نذرِ آتش

    کوئٹہ (پاکستان واچ نیوز)ضلع کیچ کے علاقے بولیدہ مناز میں مبینہ طور پر فتنۂ ہندوستان سے منسلک مسلح دہشتگردوں نے ایک رہائشی گھر پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت چھ افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ مکان کو آگ لگا دی گئی۔
    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے رات کی تاریکی میں گھر کو نشانہ بنایا، فائرنگ کی اور بعد ازاں مکان کو نذرِ آتش کر دیا۔ اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد کے مطابق واقعہ دہشت پھیلانے اور امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔ علاقے میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے جبکہ ذمہ دار عناصر کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔سیاسی و سماجی حلقوں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملوث عناصر کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔