Blog

  • اٹلی کا پاکستانی ہنر مندوں کیلئے ساڑھے 10ہزار ویزوں کا اعلان

    اٹلی کا پاکستانی ہنر مندوں کیلئے ساڑھے 10ہزار ویزوں کا اعلان

    روم:(پاکستان واچ نیوز) اٹلی کے وزیر داخلہ میٹیو پینٹے کا کہنا ہے کہ لیگل مائیگریشن کے لیے پاکستانی اسکلڈ لیبرکو ساڑھے 10ہزار ویزے فراہم کریں گے۔
    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے روم میں اطالوی ہم منصب میٹیو پینٹے ڈوسی سے ملاقات کی جس میں داخلی سکیورٹی تعلقات اور غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔اطالوی وزیر داخلہ نے کہا کہ لیگل مائیگریشن کے لیے پاکستانی اسکلڈ لیبرکو ساڑھے 10ہزار ویزے دیں گے جبکہ پاکستانی ڈپلومیٹک پاسپورٹ والوں کو ویزے سے استثنیٰ دیں گے۔میٹیو پینٹے ڈوسی کا کہنا تھا کہ محسن نقوی نے کچھ عرصہ قبل ڈپلومیٹک پاسپورٹ پر ویزا استثنیٰ کی بات کی تھی۔
    دونوں ممالک کے وزرائے داخلہ کی ملاقات میں انسداد منشیات و انسانی اسمگلنگ اور دہشتگردی کے خلاف تعاون پرتبادلہ خیال کیا گیا، دونوں نے غیر قانونی امیگریشن اورانسانی اسمگلنگ روکنے کے اقدامات کو بھی سراہا۔
    محسن نقوی نےغیرقانونی امیگریشن کےخلاف پاکستان کے مؤثر اقدامات سے آگاہ کیا
    محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان میں ائیرپورٹس اور سمندری سرحدوں پر کڑی نگرانی سے غیرقانونی امیگریشن کم ہوئی۔اطالوی وزیرداخلہ نے غیرقانونی امیگریشن کےخلاف پاکستان کی مؤثر پالیسی کی تعریف کی اور کہا کہ غیرقانونی امیگریشن، انسانی اسمگلنگ، منشیات کےخلاف پاکستان کی کامیابیاں قابل تحسین ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ لیگل مائیگریشن کے فروغ کے لیے باہمی تعاون بڑھائیں گے، پاکستان کے ساتھ مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کیلئے تیار ہیں۔

  • طالبان  کی بلا اشتعال فائرنگ، پاک فوج کا بھرپور جواب، افغان چیک پوسٹ تباہ

    طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ، پاک فوج کا بھرپور جواب، افغان چیک پوسٹ تباہ

    اسلام آباد:(پاکستان واچ نیوز)ضلع خیبر ضلع میں پاک افغان سرحد پر اچانک کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی گئی، جس پر پاکستانی سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں کر لیا۔وزیراعظم شہباز شریف کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی کے مطابق فائرنگ کے واقعات سرحدی علاقوں طورخم اور تیراہ میں پیش آئے، جہاں افغان جانب سے اچانک گولہ باری کی گئی۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپیں سرحد کے تین مختلف پوائنٹس پر ہوئیں اور تقریباً ایک گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔پاکستانی فورسز کے تمام جوان محفوظ رہے، جبکہ جوابی کارروائی میں افغان فورسز کی ایک چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا جو مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔حکومتی مؤقف کے مطابق پاکستان اپنی سرحدی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، اور کسی بھی مزید اشتعال انگیزی کا بھرپور اور فوری جواب دیا جائے گا۔

  • ٹی 20 ورلڈ کپ میں چھکوں کا نیا ریکارڈ بن گیا

    ٹی 20 ورلڈ کپ میں چھکوں کا نیا ریکارڈ بن گیا

    کولمبو(پاکستان واچ نیوز)بھارت اور سری لنکا میں جاری ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے دوران چھکوں کا نیا ریکارڈ بن گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ٹورنامنٹ میں اب تک 541 چھکے لگ چکے ہیں، یہ کسی ایک ایڈیشن میں زیادہ سکسز کا ریکارڈ بن چکا ہے۔اس سے قبل 2024 ایڈیشن میں 517، 2021 میں 405، 2022 میں 331 اور 2016 کے ایڈیشن میں بھارتی میدانوں پر بیٹرز نے 314 چھکے جڑے تھے۔حالیہ ایڈیشن میں چھکوں کی تعداد میں مزید اضافہ ممکن ہے، ابھی سپر 8 مرحلہ جاری ہے جبکہ اس کے بعد سیمی فائنلز اور فائنل بھی باقی ہے۔

  • ٹی 20 ورلڈ کپ سیمی فائنل، پاکستان کیلئے اگر مگر کا کھیل شروع

    ٹی 20 ورلڈ کپ سیمی فائنل، پاکستان کیلئے اگر مگر کا کھیل شروع

    کراچی:(پاکستان واچ نیوز)پاکستان کے ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے سیمی فائنل تک رسائی کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں مگر مکمل ختم نہیں ہوئے۔انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد پاکستان کو اپنے آخری میچ میں فتح حاصل کرنا ہوگی اور دیگر میچوں کے نتائج بھی پاکستان کے حق میں جانے چاہئیں۔پاکستان سپر 8 مرحلے کا اپنا آخری میچ 28 فروری کو سری لنکا کے خلاف کھیلے گا۔ اس وقت پاکستان کے پاس ایک پوائنٹ ہے جبکہ انگلینڈ نے پہلے ہی سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔پاکستان کو سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے سری لنکا کو شکست دینا ضروری ہے تاکہ تین پوائنٹس مکمل ہو جائیں۔ تاہم صرف جیت کافی نہیں، نیوزی لینڈ کے نتائج بھی اہم ہوں گے۔ اگر نیوزی لینڈ دونوں بقیہ میچ ہار دیتا ہے تو پاکستان دوسرے نمبر پر سیمی فائنل میں جگہ بنا سکتا ہے۔اگر پاکستان جیت جاتا ہے لیکن نیوزی لینڈ ایک میچ جیت لیتا ہے تو دونوں ٹیمیں تین تین پوائنٹس پر پہنچیں گی اور سیمی فائنل کی جگہ نیٹ رن ریٹ کے حساب سے ملے گی۔دوسری طرف اگر پاکستان سری لنکا سے ہار جاتا ہے یا میچ ملتوی ہو جاتا ہے تو وہ سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہو جائے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سپر 8 کے دیگر گروپ میں انگلینڈ نے پہلے ہی سیمی فائنل کے لیے جگہ یقینی بنا لی ہے، اس لیے پاکستان کے امکانات اب اپنے آخری میچ اور نیٹ رن ریٹ پر منحصر ہیں۔

  • ٹیرف پالیسی کے ذریعے پاکستان اور بھارت سمیت کئی جنگیں رکوائیں، امریکی صدر

    ٹیرف پالیسی کے ذریعے پاکستان اور بھارت سمیت کئی جنگیں رکوائیں، امریکی صدر

    واشنگٹن:(پاکستان واچ نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ٹیرف پالیسی کے ذریعے پاک بھارت نیوکلیئر جنگ سمیت کئی جنگیں رکوائیں، ٹیرف کے نفاذ کے باوجود مختلف ممالک امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں، پاکستانی وزیر اعظم نے مانا کہ میں نے 35 ملین لوگوں کی جانیں بچائی ہیں۔اپنے دوسرے صدارتی دور کے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران ایسے میزائل بنارہا ہے جو جلد ہی امریکا تک پہنچیں گے، ہم ایران سے ڈیل کی کوشش کررہے ہیں، ایران میں 32 ہزار مظاہرین کو حکومت نے قتل کیا، میری ترجیح ہے کہ ایران کا مسئلہ سفارتکاری سے حل ہو، ہم نے ایران میں مظاہرین کی پھانسیاں رکوائیں۔ ہم امن بزور طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ گزشتہ برس ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے امریکی حملوں نے ملک کے مبینہ جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا، ہم نے جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کیا۔ تہران نے یہ واضح یقین دہانی نہیں کرائی کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔صدر ٹرمپ نے ٹیرف کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر سخت تنقید کی۔ خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ اس وقت امریکی تاریخ میں سرحدی صورتحال سب سے زیادہ محفوظ ہے اور گزشتہ 9 ماہ میں کوئی بھی غیر قانونی تارکِ وطن امریکا میں داخل نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی مہاجرین کو ملک سے نکالا جا رہا ہے اور حکومت نہیں چاہتی کہ غیر قانونی امیگرینٹس امریکا میں قیام کریں۔معیشت اور مہنگائی کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کے دوسرے دورِ صدارت میں افراطِ زر میں نمایاں کمی آئی، انڈوں کی قیمتوں میں 60 فیصد کمی ہوئی اور گزشتہ 12 ماہ کے دوران 18 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کے وعدے حاصل کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ امریکا آج پہلے سے زیادہ خوشحال اور مضبوط ہے اور صرف ایک سال میں بڑی تبدیلیاں ممکن بنائی گئی ہیں۔ ان کے بقول، امریکا غیر معمولی کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔صدر ٹرمپ نے سابق صدر جو بائیڈن کے دور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک تباہی کے قریب تھا جبکہ اب امریکا دنیا کا سب سے پسندیدہ ملک بن چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال انہوں نے کانگریس سے ٹیکس میں کمی کا مطالبہ کیا جسے ریپبلکنز نے منظور کروایا، جبکہ تمام ڈیموکریٹس نے اس کی مخالفت کی کیونکہ وہ ٹیکس بڑھانا چاہتے تھے۔تقریر کے دوران رکنِ کانگریس آل گرین، الہان عمر نے احتجاج کیا اور بینر لہرانے کی کوشش کی جس پر انہیں کانگریس کی عمارت سے باہر نکال دیا گیا۔صدر ٹرمپ کے خطاب کے موقع پر کابینہ اراکین، کانگریس کے ارکان اور ان کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔

  • اسرائیلی فوج نے فلسطینی خواتین کے مردہ جسموں سے اعضا تک نکالے؛ ہولناک انکشافات

    اسرائیلی فوج نے فلسطینی خواتین کے مردہ جسموں سے اعضا تک نکالے؛ ہولناک انکشافات

    لندن (پاکستان واچ نیوز)برطانوی حکمراں جماعت لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کاربن فلسطین میں ڈھائے جانے والے ان مظالم کو سامنے لائے ہیں جو اب تک پوشیدہ رکھے گئے تھے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جیریمی کاربن نے ایک حالیہ ویڈیو میں انکشاف کیا کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں ہلاک ہونے والی خواتین کے جسموں کو کھولا اور اعضا نکالے۔جیریمی کاربن جو اپنی جماعت لیبر پارٹی کو چھوڑ چکے ہیں اور اب ایک آزاد رکن پارلیمنٹ ہیں۔ انھوں نے غزہ کے الشفا اسپتال کے ڈائریکٹر سے بات کی۔اسپتال کے ڈائریکٹر نے جیریمی کاربن کو بتایا کہ اسرائیلی فوج نے 60 یا 70 میتیں بھیجی تھیں جو بکسوں میں بند تھیں۔جب ان بکسوں کو کھولا گیا تو ہر ایک میں ایک فلسطینی کی کھوپڑی پڑی تھی جب کہ باقی اعضا غائب تھے۔اس کے علاوہ اسپتال کو خواتین کی لاشیں بھی موصول ہوئیں جن کے اعضا پہلے ہی نکال لیے گئے تھے۔جیریمی کاربن نے کہا کہ یہی کچھ فلسطینی عوام کے ساتھ ہوتا آ رہا ہے۔ یہ ہمارے دور کاسنگین اور درد ناک المیہ ہے۔یاد رہے کہ غزہ کا الشفا اسپتال حماس کے کنٹرول میں ہے جہاں سے اسرائیلی فوج نے اکتوبر 2025 میں انخلا کیا تھا۔تب سے فلسطینیوں کی میتیں دفنانے کے لیے اسرائیل سے ریڈ کراس کے ذریعے الشفا اسپتال بھیجی جاتی ہیں اور ایسا آخری بار 29 جنوری کو ہوا تھا۔اسرائیلی فوج کی جانب سے حوالے کی گئی ان لاشوں پر بہیمانہ تشدد کے نشانات ہوتے ہیں۔ جسم کٹے پٹے اور اعضا غائب ہوتے ہیں۔جیریمی کاربن کی یہ ویڈیو سب سے پہلے ویئر دا پیس نامی انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شائع ہوئی تھی جو اپنی آمدنی کا ایک حصہ مختلف انسانی ہمدردی کے کاموں میں عطیہ کرتا ہے۔اسرائیل نے اس کے جواب میں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق جیریمی کاربن اور ویئر دا پیس کو ہی تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔اسرائیلی فوج کے انٹرنیشنل ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ندّووشوشانی نے سوال کیا کہ حیران کن بلڈ لیبل پھیلانے سے پہلے حقائق کی جانچ کی گئی؟انھوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی کے فوجی کئی مہینوں سے الشفاء ہسپتال کے قریب بھی نہیں گئے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ ہمارا دور حقائق کی دوبارہ جانچ کرنے کا ہے اور ایسے صحافیوں پر بھروسہ نہیں جو بے بنیاد کہانیاں پھیلاتے ہیں۔ان کے بقول اسرائیلی فوج بین الاقوامی قانون اور داخلی قواعد و ضوابط کے مطابق کام کرتی ہے جو اس طرح کے عمل کی سختی سے ممانعت کرتے ہیں۔اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ فلسطینیوں کی میتوں کی واپسی بین الاقوامی رابطے اور ریڈ کراس کی مدد سے کی جاتی ہے۔

  • پاکستان کی دفاعی صنعت نے عالمی سطح پر اپنا لوہا منوالیا….شیخ راشد عالم

    پاکستان کی دفاعی صنعت نے عالمی سطح پر اپنا لوہا منوالیا….شیخ راشد عالم

    سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقد ہونے والی عالمی دفاعی نمائش 2026 میں پاکستان کی دفاعی صنعت نے بھرپور شرکت کے ذریعے عالمی برادری میں اپنی صلاحیتوں، خود کفالت اور جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور اظہار کیا۔ اس ایونٹ میں 80 سے زائد ممالک نے شرکت کی عالمی ایونٹ میں پاکستان کے جدید دفاعی سازوسامان، بالخصوص فتح 2 میزائل، لڑاکا طیاروں اور دیگر دفاعی نظاموں نے بین الاقوامی ماہرین، دفاعی تجزیہ کاروں اور غیر ملکی وفود کی غیر معمولی توجہ حاصل کی۔
    نمائش کے دوران پاکستان کی شرکت کو نہ صرف ایک دفاعی نمائش بلکہ قومی وقار، تکنیکی خود اعتمادی اور عالمی سطح پر ابھرتی ہوئی دفاعی قوت کے طور پر دیکھا گیا۔ عالمی دفاعی نمائش میں یہ بات واضح ہو گئی کہ پاکستان کی دفاعی صنعت اب محض ملکی ضروریات تک محدود نہیں رہی بلکہ بین الاقوامی دفاعی منڈی میں ایک مضبوط، قابلِ اعتماد اور مؤثر شراکت دار کے طور پر اپنی شناخت قائم کر چکی ہے۔
    نمائش میں شرکت کے موقع پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے مختلف بین الاقوامی فورمز اور دفاعی سیشنز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ برسوں میں دفاعی میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور آج دنیا کے کئی ممالک پاکستان کے لڑاکا طیاروں، میزائل ٹیکنالوجی اور دفاعی سازوسامان کے حصول میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی دفاعی صنعت کا دائرہ کار مسلسل وسعت اختیار کر رہا ہے، جو نہ صرف ملکی سلامتی کو مضبوط بنا رہا ہے بلکہ قومی معیشت کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔
    نمائش کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف کی سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات بھی ہوئی، جس میں دوطرفہ دفاعی تعاون، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور مشترکہ منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ خواجہ آصف نے عالمی دفاعی نمائش کے شاندار انعقاد پر سعودی قیادت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے عالمی ایونٹس خطے میں دفاعی تعاون، استحکام اور اعتماد سازی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
    عالمی دفاعی نمائش میں پاکستان کی جانب سے گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز، ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا، پاکستان آرڈیننس فیکٹری اور دیگر دفاعی اداروں نے شرکت کی۔ ان اداروں کی جانب سے پیش کیے گئے جدید دفاعی نظام، ہتھیار، ٹیکنالوجی اور تحقیق و ترقی کے منصوبوں نے پاکستان کی دفاعی خود کفالت کی عملی تصویر پیش کی۔
    نمائش کے دوران پاکستان کے فتح 2 میزائل کو خصوصی پذیرائی حاصل ہوئی، جسے پاکستان کی دفاعی لائن کو مضبوط بنانے والی ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔ عالمی دفاعی ماہرین نے اس میزائل کی تکنیکی صلاحیتوں، درستگی اور جدید فیچرز کو سراہا۔ فتح 2 میزائل سمیت دیگر دفاعی سازوسامان نے یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستان دفاعی میدان میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اور مستقبل کی جنگی ضروریات کے لیے تیار ہے۔
    وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی نمائش کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی معاہدوں اور مشترکہ اقدامات نے خطے میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کو فروغ دیا ہے، جو مستقبل میں مزید وسعت اختیار کرے گا۔
    نمائش میںدفاعی ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان کی دفاعی صنعت اب جدید ٹیکنالوجی، مقامی پیداوار اور برآمدی صلاحیت کے امتزاج کے ساتھ ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے دفاعی نظام اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک نے محدود وسائل کے باوجود تحقیق، جدت اور قومی عزم کے ذریعے دفاعی میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔
    دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی دفاعی نمائش 2026 میں پاکستان کی مؤثر موجودگی نے نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کیا بلکہ دفاعی برآمدات کے نئے امکانات بھی پیدا کیے ہیں۔ کئی ممالک کی جانب سے پاکستانی دفاعی مصنوعات میں دلچسپی مستقبل میں دفاعی تعاون، مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
    نمائش میں یہ بات بھی نمایاں ہو کر سامنے آئی کہ پاکستان کی دفاعی صنعت ملکی سلامتی کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ دفاعی برآمدات میں اضافہ، عالمی مارکیٹ تک رسائی اور بین الاقوامی شراکت داری پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مضبوط سہارا بن سکتی ہے۔
    عالمی دفاعی نمائش 2026 کے کامیابی کے ساتھ ہی پاکستان نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ دفاعی میدان میں ایک ذمہ دار، پْرامن مگر مضبوط ملک کے طور پر عالمی برادری میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کی دفاعی صنعت کی ترقی نہ صرف قومی سلامتی کی ضامن ہے بلکہ یہ مستقبل میں خطے اور دنیا میں پاکستان کے مؤثر کردار کی بنیاد بھی بن رہی ہے۔

  • پاکستان میں سونے کے  ذخائر میں اضافہ،اسٹیٹ  بینک کے اعداد وشمار جاری

    پاکستان میں سونے کے ذخائر میں اضافہ،اسٹیٹ بینک کے اعداد وشمار جاری

    خصوصی رپورٹ
    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں سونے کے ذخائر کی مجموعی مالیت بڑھ کر 10.374 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہمیت رکھتی ہے بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر، عالمی منڈی میں قیمتوں کے رجحانات اور ملکی معاشی پالیسیوں کے حوالے سے بھی ایک جامع تجزیے کی متقاضی ہے۔
    اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے پاس اس وقت 64.76 ٹن سونا موجود ہے، جو وزن کے اعتبار سے تقریباً 20 لاکھ 82 ہزار اونس اور 55 لاکھ 52 ہزار تولے بنتا ہے۔ صرف جنوری 2026 کے دوران ان ذخائر کی مالیت میں 1.279 ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ رواں مالی سال کے ابتدائی سات ماہ میں مجموعی اضافہ 3.5 ارب ڈالر رہا۔ جون 2025 میں یہی مالیت 6.84 ارب ڈالر تھی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ چند ماہ کے اندر اندر عالمی قیمتوں میں اضافے نے ان ذخائر کی قدر میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔
    عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں کا کردار
    سونے کے ذخائر کی مالیت میں اضافے کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں کا بڑھنا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی، جغرافیائی کشیدگی، مہنگائی کے دباؤ اور بڑی معیشتوں کی مالیاتی پالیسیوں نے سرمایہ کاروں کو محفوظ اثاثوں کی جانب مائل کیا۔ سونا تاریخی طور پر ایک “محفوظ پناہ گاہ” (Safe Haven Asset) سمجھا جاتا ہے۔ جب عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی بڑھتی ہے تو سرمایہ کار ڈالر، بانڈز یا اسٹاک مارکیٹ کے بجائے سونے میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
    پاکستان چونکہ اپنے سونے کے ذخائر کو عالمی قیمتوں کے مطابق مارکیٹ ویلیو پر ظاہر کرتا ہے، اس لیے قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر مجموعی مالیت پر پڑتا ہے، چاہے ذخائر کی مقدار میں کوئی تبدیلی نہ بھی ہو۔
    زرمبادلہ کے ذخائر پر اثرات
    اگرچہ سونا براہ راست نقد زرمبادلہ نہیں ہوتا، لیکن اسے مجموعی بین الاقوامی ذخائر کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ کسی بھی ملک کے لیے اس کے غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر مالیاتی استحکام کا بنیادی اشاریہ ہوتے ہیں۔ سونے کے ذخائر کی مالیت میں اضافہ ملک کے مجموعی ریزروز کی پوزیشن کو مضبوط ظاہر کرتا ہے، جس سے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بہتر ہو سکتا ہے۔
    یہ بات اہم ہے کہ سونا فوری ادائیگیوں کے لیے نقدی کا متبادل نہیں ہوتا، تاہم ضرورت پڑنے پر اسے عالمی منڈی میں فروخت یا بطور ضمانت استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے سونے کے ذخائر میں اضافہ ایک حفاظتی ڈھال کا کردار ادا کرتا ہے۔

    مالی سال کے ابتدائی سات ماہ کا رجحان
    رواں مالی سال کے ابتدائی سات مہینوں میں 3.5 ارب ڈالر کا اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کا رجحان مسلسل رہا ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہتا ہے تو سال کے اختتام تک سونے کے ذخائر کی مالیت مزید بڑھ سکتی ہے۔
    تاہم اس میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ اضافہ بنیادی طور پر قیمتوں کے باعث ہے، نہ کہ مقدار میں اضافے کے سبب۔ اگر ملک نے سونے کی خریداری میں اضافہ کیا ہوتا تو اس کا مطلب فعال ذخیرہ جاتی حکمت عملی ہوتی، لیکن موجودہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزن تقریباً مستحکم ہے۔
    معاشی استحکام اور کرنسی پر اثرات
    سونے کے ذخائر میں مالیت کے اضافے کو ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارہ سمجھا جا سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کرنسی پر دباؤ ہو یا بیرونی ادائیگیوں کا بوجھ زیادہ ہو۔ مضبوط ذخائر مقامی کرنسی کے استحکام میں بالواسطہ کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ وہ مارکیٹ کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ ملک کے پاس بیرونی جھٹکوں سے نمٹنے کی گنجائش موجود ہے۔
    مزید برآں، عالمی ریٹنگ ایجنسیاں اور مالیاتی ادارے کسی بھی ملک کی کریڈٹ ریٹنگ کا جائزہ لیتے وقت اس کے مجموعی ذخائر کو مدنظر رکھتے ہیں۔ سونے کے ذخائر کی قدر میں اضافہ مالیاتی اشاریوں کو بہتر بنا سکتا ہے، جو قرضوں کی لاگت میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔
    خطرات اور چیلنجز
    اگرچہ موجودہ صورتحال مثبت دکھائی دیتی ہے، لیکن اس میں کچھ خطرات بھی پوشیدہ ہیں۔ سونے کی قیمتیں عالمی حالات کے تابع ہوتی ہیں اور ان میں اتار چڑھاؤ معمول کی بات ہے۔ اگر عالمی معیشت مستحکم ہو جائے، شرح سود میں کمی آئے یا سرمایہ کار دیگر منافع بخش اثاثوں کی جانب منتقل ہوں تو سونے کی قیمتوں میں کمی بھی آ سکتی ہے۔ ایسی صورت میں موجودہ مالیت کم ہو سکتی ہے۔
    اس لیے صرف قیمتوں کے اضافے پر انحصار کو پائیدار معاشی بہتری نہیں سمجھا جا سکتا۔ اصل استحکام تب حاصل ہوتا ہے جب برآمدات، بیرونی سرمایہ کاری اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ہو۔
    سونے کی ذخیرہ جاتی حکمت عملی
    عالمی سطح پر مرکزی بینک اپنے ذخائر میں تنوع (Diversification) کی حکمت عملی اپناتے ہیں۔ ڈالر، یورو، بانڈز اور سونے کا متوازن امتزاج مالیاتی خطرات کو کم کرتا ہے۔ پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی ذخیرہ جاتی پالیسی کو عالمی رجحانات کے مطابق ترتیب دے۔
    گزشتہ چند برسوں میں کئی ممالک، خصوصاً ابھرتی ہوئی معیشتوں نے اپنے سونے کے ذخائر میں اضافہ کیا ہے تاکہ وہ ڈالر پر انحصار کم کر سکیں۔ اس تناظر میں پاکستان کے موجودہ ذخائر کا حجم معتدل ہے، تاہم مستقبل میں قیمتوں اور معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے مزید حکمت عملی وضع کی جا سکتی ہے۔
    تاریخی تناظر
    جون 2025 میں ذخائر کی مالیت 6.84 ارب ڈالر تھی، جبکہ اب یہ 10.374 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ اس نمایاں اضافے سے اندازہ ہوتا ہے کہ عالمی قیمتوں میں اضافہ غیر معمولی رہا ہے۔ اگر اسی مدت میں عالمی قیمتوں کا گراف دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سونا کئی تاریخی سطحوں کو عبور کر چکا ہے۔
    یہ اضافہ محض عددی بہتری نہیں بلکہ مالیاتی بیانیے میں بھی تبدیلی کا اشارہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محفوظ اثاثوں کی طلب میں عالمی سطح پر اضافہ ہوا ہے، جس کا فائدہ پاکستان جیسے ممالک کو بھی ہوا ہے۔
    مستقبل کا لائحہ عمل
    آنے والے مہینوں میں عالمی معاشی حالات، امریکی فیڈرل ریزرو کی شرح سود کی پالیسی، جغرافیائی کشیدگی اور عالمی افراط زر سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہوں گے۔ اگر قیمتیں مزید بڑھتی ہیں تو پاکستان کے ذخائر کی مالیت میں بھی اضافہ ہوگا، لیکن اگر کمی آتی ہے تو موجودہ مالیت میں کمی ممکن ہے۔
    لہٰذا پالیسی سازوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس اضافے کو عارضی فائدہ سمجھتے ہوئے طویل المدتی معاشی اصلاحات پر توجہ دیں۔ برآمدات میں اضافہ، صنعتی پیداوار کی بہتری اور مالیاتی نظم و ضبط ہی وہ عوامل ہیں جو حقیقی اور پائیدار استحکام فراہم کر سکتے ہیں۔
    سونے کے ذخائر کی مالیت کا 10.374 ارب ڈالر تک پہنچ جانا ایک مثبت معاشی پیش رفت ہے۔ یہ اضافہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے رجحان کا نتیجہ ہے اور اس نے ملک کے مجموعی بین الاقوامی ذخائر کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ تاہم یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ یہ اضافہ بنیادی طور پر قیمتوں کی وجہ سے ہے، نہ کہ مقدار میں اضافے کے باعث۔
    مستقبل میں پائیدار معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ذخائر کے اس استحکام کو ایک حفاظتی سہارا سمجھا جائے اور ساتھ ہی برآمدات، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کو فروغ دیا جائے۔ اسی متوازن حکمت عملی کے ذریعے ملکی معیشت کو طویل المدتی استحکام کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

  • پشین میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، بھارتی حمایت یافتہ 5 دہشتگرد ہلاک

    پشین میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، بھارتی حمایت یافتہ 5 دہشتگرد ہلاک

    کوئٹہ (پاکستان واچ نیوز)بلوچستان کے ضلع پشین میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن کرتے ہوئے بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنۃ الخوارج کے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ ایک خودکش بمبار خوارجی نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بھارتی پراکسی، فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جہاں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔آپریشن کے دوران خوارج کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا۔ ہلاک خوارج علاقے میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔علاقے میں پائے جانے والے کسی بھی ممکنہ دہشت گرد کے خاتمے کے لیے کلئیرنس آپریشن جاری ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے وژن ’’عزم استحکام‘‘ کے تحت انسداد دہشت گردی کی مہم پوری رفتار سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع پشین میں فتنۃ الخوارج کے خلاف کامیاب کارروائی پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن دہشت گردی کے خلاف قومی عزم کی عکاسی ہے۔صدر زرداری کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے عفریت کے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی پشین میں فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے 5 دہشت گردوں کو عبرتناک انجام تک پہنچانے پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا اور کہا کہ قوم کو سیکیورٹی فورسز کی جرات اور پیشہ وارانہ مہارت پر فخر ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ بہادر سپوتوں نے بروقت کارروائی کرکے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔ بلوچستان میں قیام امن کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں لائق تحسین ہیں۔

  • تشدد کے منصوبہ ساز کہیں بھی ہوں دسترس سے باہر نہیں رہیں گے،صدر زرداری

    تشدد کے منصوبہ ساز کہیں بھی ہوں دسترس سے باہر نہیں رہیں گے،صدر زرداری

    اسلام آ باد(پاکستان واچ نیوز)صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سرحد پار دہشتگردی کیلئے برداشت اپنی حد کو پہنچ چکی، تشدد کے منصوبہ ساز کہیں بھی ہوں دسترس سے باہر نہیں رہیں گے۔اپنے بیان میں صدر مملکت کا کہنا تھاکہ سرحد پار دہشت گردی کیلئے برداشت اپنی حد کو پہنچ چکی ہے، پاکستان دفاع کے فطری حق کے تحت اقدامات کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی انتباہات کے باوجود دہشت گرد گروہوں کو مسلسل جگہ ملتی رہی، افغانستان میں حالات پچھلے دور سے بھی زیادہ تشویشناک اورغیریقینی ہوچکے ہیں اور دوحہ معاہدے کے وعدوں کے برعکس دہشت گرد عناصر کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھاکہ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ نے متعدد گروہوں کی افغانستان میں سرگرم موجودگی کی تصدیق کی، رپورٹ کے مطابق داعش خراسان اور کالعدم ٹی ٹی پی سمیت کئی تنظیمیں افغان سرزمین استعمال کررہی ہیں۔صدرمملکت کا کہنا تھاکہ افسوس کہ افغان حکام نے انتباہات کے باوجود کوئی قابلِ اعتبار اقدام نہیں کیا، پاکستان نے طویل عرصہ تحمل دکھایا اور کارروائیاں محدود علاقوں تک رکھیں، تشدد کے منصوبہ ساز کہیں بھی ہوں دسترس سے باہر نہیں رہیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن،استحکام اور تعاون پر مبنی تعلقات چاہتا ہے، امن صرف تب ممکن ہے جب دہشت گردی کےخلاف عملی اورسنجیدہ اقدامات ہوں، پاکستانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے، اس حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، آصف زرداری کا کہنا تھاکہ افغانستان میں طالبان رجیم نے نائن الیون سے پہلے جیسی یا اس سے بھی بدترصورتحال پیدا کردی ہے، داعش خراسان، ٹی ٹی پی،القاعدہ، ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ افغانستان سے آپریٹ کررہی ہیں، جماعت انصاراللہ، اتحاد المجاہدین پاکستان اور دیگر گروہ افغانستان میں موجود ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ شب پاکستان نے افغانستان میں دہشت گرد ٹھکانوں پر جوابی کارروائی کی اور تین صوبوں ننگرہار، پکتیکا اورخوست میں فتنہ الخوارج اور کالعدم ٹی ٹی پی کے سات مراکز کو نشانہ بنایا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہاکہ اطلاعات کے مطابق 70 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا، زیادہ تر ہلاک دہشت گرد پاکستانی تھے۔