کراچی: (اسٹاف رپورٹر)سندھ کابینہ نے سانحہ گل پلازہ میں شہید ہونے والوں کے اہلخانہ کو ایک کروڑ روپے فی کس دینے کی منظوری دیدی۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ سانحہ گل پلازہ میں متاثر ہونے والے دکانداروں کو 5-5 لاکھ روپے کچن اور یوٹیلیٹی اخراجات کے لیے کمشنر کے ذریعے ادا کیے جا رہے ہیں۔سندھ کابینہ نے متاثرہ دکانداروں کو ایک ایک کروڑ روپے بلاسود قرض فراہم کرنے کی منظوری دی اور اس موقع پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا کہنا تھا ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ متاثرین کو ہر ممکن ریلیف فراہم کریں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ قرض دکانداروں کو دوبارہ کاروبار شروع کرنے کے لیے دیا جا رہا ہے، ایک کروڑ روپے پر واجب الادا سود حکومت سندھ ادا کرے گی۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا تمام متاثرہ دکانداروں کو دو ماہ کے اندر کاروبار شروع کرنے کے لیے دکان کی سہولت فراہم کی جائے گی، ہم دکانداروں کے تحفظ اور سہولت کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔
Blog
-

اسٹامپ پیپرز کی فیسوں میں ہوشربا اضافہ کردیا گیا
کراچی (نیوز ڈیسک )اسٹامپ پیپرز کی فیسوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا گیا ہے جس سے سائلین کی چیخیں نکل گئی ہیں۔کم سے کم ای اسٹامپ پیپر کی مالیت100روپے سے بڑھا کر 300روپے ،طلاق اسٹامپ پیپرکی قیمت100روپے سے بڑھا کر 1000روپے جبکہ بچوں کے نئے اسکولز میں داخلوں اور جاب کیلئے ڈومیسائل اسٹامپ پیپر فیس100روپے سے بڑھا کر 500روپے کر دی گئی ہے۔اسی طرح بجلی، سوئی گیس اورپانی کے نئے کنکشن اسٹامپ فیس بھی 100روپے کی بجائے اب1000 روپے ہوگی۔ پراپرٹی سیلز ایگریمنٹ ای اسٹامپ پیپر کی فیس1200روپے سے بڑھا کر 3ہزار روپے کردی گئی ہے۔پراپرٹی کے علاوہ کسی بھی معاہدے کیلئے استعمال ہونے والے ای اسٹامپ پیپرکی فیس100روپے سے بڑھا کر 500روپے کردی گئی ہے۔5 لاکھ روپے تک معاہدے کیلئے ای اسٹامپ پیپرکی فیس1200 سے بڑھا کر 3ہزار جبکہ 5لاکھ روپے سے 10لاکھ روپے تک معاہدے کی فیس 6 ہزار،ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کیلئے استعمال ہونے والے اسٹامپ پیپرکی فیس میں20ہزار روپے اضافہ کیا گیا۔پاور آف اٹارنی کے ای اسٹامپ پیپر فیس 1500سے 1800روپے کردی گئی۔ اشٹام پیپرزکے لئے سائل کے نام پر موبائل فون کی سم بھی لازمی قرار دی
-

پنجاب میں بسنت سے قبل دفعہ 144 کے تحت سخت پابندیاں عائد
لاہور(نمائندہ خصوصی): پنجاب حکومت نے بسنت پر اشتعال انگیزی روکنے کیلئے دفعہ 144 کے تحت مختلف پابندیاں عائد کردیں۔حکومت پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بسنت کے دوران مذہبی ہم آہنگی اور امنِ عامہ برقرار رکھنے کیلئے پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پتنگوں پر مقدس کتب، مذہبی مقامات یا کسی شخصیت کی تصویر لگانے، کسی ملک یا سیاسی جماعت کے جھنڈے کی تصویر والی پتنگوں سمیت 30 روز کیلئے مذہبی و سیاسی نقش و نگار والی پتنگوں کی تیاری و خرید و فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق بسنت کے دوران بغیر تصویر والی یک رنگی یا کثیر رنگی گُڈّا اور پتنگ استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، خلاف قانون پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال قابلِ تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے۔
حکومت پنجاب کے نوٹیفکیشن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اشتعال انگیز عناصر کی جانب سے بسنت کے دوران مذہبی یا سیاسی علامات استعمال کرنے کا اندیشہ تھا، دفعہ 144 کے تحت احکامات فوری نافذ العمل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سخت کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔دوسری جانب ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ حکومت نے لاہور میں 6 تا 8 فروری محفوظ بسنت کی مشروط اجازت دی ہے، حکومت پنجاب نے محفوظ بسنت کی اجازت ایک تفریحی تہوار کے طور پر دی ہے، بسنت کے موقع پر کسی قسم کی قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ترجمان محکمہ داخلہ نے بتایا کہ امنِ عامہ کو برقرار رکھنے اور عوام کے مذہبی جذبات کے احترام کیلئے پابندیاں عائد کی ہیں، دھاتی تار، نائلون یا شیشے سے لیپ شدہ ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی ہے جبکہ خطرناک ڈور اور پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال ممنوع ہے۔ترجمان محکمہ داخلہ کے مطابق مقررہ تاریخ سے قبل پتنگ بازی پر 5 سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے، ممنوعہ مواد کی تیاری یا فروخت میں ملوث افراد کو 7 سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ -

پولیس کم ہے اسی لیے ایم کیو ایم رہنماؤں سے سکیورٹی واپس لی گئی ہوگی: ترجمان سندھ حکومت
کراچی (نیوز ڈیسک )سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید کا کہنا ہے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے سکیورٹی واپس لینے کی یقیناً کچھ وجوہات ہوں گی۔جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید کا کہنا تھا شہر میں پولیس کم ہے، ہوسکتا ہے اس وجہ سے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے پولیس سکیورٹی واپس لی گئی ہو۔ان کا کہنا تھا میرے پاس کوئی پولیس سکیورٹی نہیں ہے، سندھ کے حکومتی ایم پی ایز کے پاس بھی کوئی سکیورٹی نہیں ہے، ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے سکیورٹی واپس لینے کی یقیناً کوئی وجوہات ہوں گی۔سعدیہ جاوید کا کہنا تھا سندھ میں فارنزک لیب کا قائم نہ ہونا حکومت کی کوتاہی ہے، اس سال کے آخر میں سندھ کی فارنزک لیب فعال ہو جائے گی۔گل پلازہ کے متاثرین کی منتقلی سے متعلق سوال پر ترجمان سندھ حکومت کا کہنا تھا گل پلازہ کے سامنے دو پلازے ہیں جہاں دکانداروں کو شفٹ کیا جائے گا، حکومت پلازہ کے مالکان سے بات کررہی ہے، ایک پلازہ میں 500 اور دوسرے میں 350 دکانیں ہیں۔ترجمان سندھ حکومت کا کہنا تھا کمیٹی گل پلازہ کے نقصان کا تخمینہ لگائے گی، اس کا ازالہ بھی حکومت کرے گی، کمیٹی تین ہفتے میں گل پلازہ کے نقصان کی رپورٹ حکومت کو پیش کرے گی۔
-

سکیورٹی واپس لیکر ہمیں ڈرایا نہیں جاسکتا، مصطفیٰ کمال
کراچی (نیوز ڈیسک )ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے ایک بار پھر کراچی کو فوری طور پر وفاق کے کنٹرول میں لینے کا مطالبہ کر دیا۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کراچی جیسا اہم شہر سندھ حکومت جیسی نااہل صوبائی حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہونا چاہیے، کراچی کو فی الفور وفاق کا حصہ بنایا جائے، وفاق ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے کراچی کو کنٹرول کرسکتا ہے، وفاق کو آرٹیکل 148 کے تحت کراچی کو کنٹرول میں لینا چاہیے۔ان کا کہنا تھا گل پلازا کا سانحہ ہوا، لوگ شہید ہوگئے، گل پلازہ کی غفلت اور کارکردگی پر ہم نے اسے ظلم کہا، ظلم کوظلم کہنے پر یہ رویہ ہے تو دوبارہ کہتا ہوں کراچی کو ان کے چنگل سے آزاد کرایا جائے، سندھ حکومت کے اس اقدام سے ایم کیو ایم کے موقف کی تائید ہوئی۔ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے سکیورٹی واپس لینے سے متعلق سوال پر مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا مجھ سے بھی سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے، سکیورٹی واپس ہمیں سیکیورٹی ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ سمجھتے ہیں سیکیورٹی واپس لے کر ہمیں ڈرا لیں گے، انہیں حق نہیں کہ وہ کراچی کے حکمران رہیں، سندھ حکومت ایسے اقدامات کرکے ہماری آواز دبا نہیں سکتی۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا جئے سندھ والے شاہراہ پر کھڑے ہو کر پاکستان توڑنے کا نعرہ لگاتے ہیں، سندھ حکومت انہیں سکیورٹی دیتی ہے، یہ پاکستان کو اپنے اقدامات سے تباہ وبرباد کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا وفاقی حکومت کو خط بھی لکھا گیا ہے اور کابینہ میٹنگ میں بھی یہ بات کررہے ہیں، ساری وفاقی حکومت اور ریاست ہمارے موقف کو سن رہی ہے، دنیا چاند پر جاتی ہے اور ہمارے بچے گٹر میں گر رہے ہیں، کوئی غیر جمہوری ، غیر آئینی بات نہیں کررہا، پیپلزپارٹی سے بھی بات کریں گےکہ وہ ہمارے ساتھ یہ کرکے اپنے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں۔
-

ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کا سلسلہ مزید بڑھنے کا امکان
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ )بلوچستان اور خیبر پختونخوا سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کا سلسلہ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بارشوں اور برفباری کا ایک اور اسپیل داخل ہوگیا۔ کوئٹہ، قلات، مستونگ، کان مہترزئی، مسلم باغ اور چمن سمیت دیگر اضلاع میں برفباری کا سلسلہ رات گئے شروع ہوا جس کے باعث موسم مزید سرد ہوگیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق بارش اور برفباری کا دوسرا اسپیل آئندہ دو روز تک جاری رہنے کا امکان ہے جبکہ بارشوں کے باعث پہاڑوں علاقوں کے ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
محکمہ پی ڈی ایم اے نے متعلقہ اضلاع کو الرٹ جاری کر دیا ہے۔ پی ڈی ایم اے اور این ایچ اے کی ہیوی مشینری عملے کے ہمراہ قومی شاہراہوں پر موجود ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق کان مہترزئی، کوڑک، لکپاس، زیارت روڈ سمیت مختلف مقامات پر برف ہٹانے والی مشینری اور عملہ موجود ہے، عوام قومی شاہراہوں پر غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
پی ڈی ایم اے اور این ایچ اے کا عملہ قومی شاہراہوں سے برف اٹھانے میں مصروف ہے۔خیبر پختونخوا
پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں موسم آج ابر آلود ہونے سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا، آج پشاور سمیت خیبر پختون خوا کے میدانی علاقوں میں بارش جبکہ بالائی علاقوں میں پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے۔
چترال لوئر میں برفباری کے باعث گلیشیئر گرنے سے کئی سڑکیں چوتھے روز بھی بند ہیں۔ چترال سے گرم چشمہ تک جانے والی سڑک بند ہونے کے باعث 60 سے 70 کی آبادی پر مشتمل لوگ مشکلات کا شکار ہیں۔
گرم چشمہ روڈ چار مختلف مقامات پر گلیشیئر گرنے سے بلاک ہونے کے بعد لوگ پُرخطر راستوں سے پیدل سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ گرم چشمہ روڈ بند ہونے سے شدید سردی میں کئی مریض پھنس کر رہ گئے۔
لوئر چترال تحصیل لٹکوہ کی کئی علاقوں کی رابطہ سڑکیں بھی بند ہیں۔ لوئر چترال کی وادی ارکاری، کریم آباد اور پرسان جانے والی تمام رابطہ سڑکیں بھی بند ہیں۔ چترال میں سڑکوں کی بندش کے باعث لوگ لاشیں اٹھا کر کئی کلو میٹر پیدل سفر کرکے لے جانے پر مجبور ہیں۔ -

کشمیری آج بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منارہے ہیں
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی )کشمیر اور دنیا کے مختلف حصّوں میں موجود کشمیری آج 26 جنوری کو بھارتی یومِ جمہوریہ کے موقع پر یومِ سیاہ منارہے ہیں۔
کشمیر میں اور دنیا کے مختلف حصّوں میں موجود بہت سے کشمیری 26 جنوری کو بھارتی یومِ جمہوریہ کے موقع پر یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔
بھارتی یومِ جمہوریہ کمشیریوں کیلئے احتجاج اور سوگ کی علامت ہے کیونکہ کشمیریوں پر بھارت کی بربریت اور شب خون کی داستانیں تاریخ کا ایک سیاہ حصہ ہیں جو اب تک جاری ہے۔
بھارت یومیہ جمہوریہ منا کر کشمیریوں کے سیاسی، آئینی اور انسانی حقوق سلب کیے جانے کے اپنے ناپاک اقدام کو دنیا کی نظروں سے نہیں چھپا سکتا۔
یومِ سیاہ منانے کا مقصد بھارتی حکمرانی کے خلاف احتجاج کا اظہار ہے اور کشمیر کے تشخص کی یاد دہانی ہے۔
آج کا دن عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کشمیریوں کے حقِ آزادی کو سنجیدگی سے لے۔یہ نقطۂ نظر کشمیریوں کے ایک بڑے طبقے کی نمائندگی کرتا ہے۔
ان کے نزدیک یہ دن خوشی کے بجائے احتجاج اور سوگ کی علامت ہے، کیونکہ وہ اسے کشمیر میں جاری سیاسی، آئینی اور انسانی حقوق سے جڑے مسائل سے جوڑتے ہیں۔
یومِ سیاہ منانے کا مقصد بھارتی حکمرانی کے خلاف احتجاج کا اظہار اور کشمیر کے تشخص کی یاد دہانی ہے جبکہ آج کا دن عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کشمیریوں کے حقِ آزادی کو سنجیدگی سے لے۔ یہ نقطۂ نظر کشمیریوں کے ایک بڑے طبقے کی نمائندگی کرتا ہے۔
حریت رنما عبدالحمید لون کا بیان
اس موقع پر حریت رہنما عبدالحمید لون کا کہنا تھا کہ بھارت کے یوم جمہوریہ کو آج لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 26 جنوری کو یوم سیاہ منایا کشمیری عوام کے حق آزادی ، خودارادیت ، اور انسانی حقوق کی جدوجھد کا اظہار ہے۔ یوم سیاہ منانے کا بنیادی مقصد عالمی برادری کو پیغام دینا ہے کہ کشمیری اپنے مادر وطن پر بھارت کے جبری قبضے کو مسترد کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپنے حق کیلئے آواز بلند کرنے والے ہزاروں بیگناہ کشمیری آج بھی مختلف بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔ بین الاقوامی برادری بھارت کی ریاستی دہشت گردی کو رکوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
مشعال ملک کا بیان
مشعال ملک کا اس موقع پر کہنا تھا کہ 26 جنوری کشمیریوں کے لیے یومِ جمہوریہ نہیں، یومِ سیاہ ہے۔ جہاں انصاف ہونا چاہیے وہاں زنجیریں ہیں، یہ جمہوریت نہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیری عوام کا حقِ خود ارادیت مسلسل پامال کر رہا ہے۔ عالمی امن کی ہر کوشش میں کشمیر کو مرکزی ایجنڈا بنایا جائے اور کشمیر پر خصوصی بورڈ آف پیس کا قیام ناگزیر ہے۔
سردار عتیق احمد خان کا بیان
سردار عتیق احمد خان کا کہنا تھا کہ بھارت کا 80 سالہ ریکارڈ کسی صورت سیکولر جمہوریت کی عکاسی نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر صرف علاقائی نہیں بلکہ ایشیا کے مستقبل اور دو کروڑ انسانوں کی زندگیوں سے جڑا ہوا ہے۔ اگست 1947 کے ایگریمنٹ کو بھارت نے مسترد جبکہ پاکستان نے قبول کیا تھا۔
حریت رہنما فاروق رحمانی کا بیان
حریت رہنما فاروق رحمانی کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ کشمیر ایک بین الاقوامی تنازع ہے جس کا فیصلہ آج تک نہیں ہو سکا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کا حتمی فیصلہ صرف کشمیری عوام کو حق خودارادیت کے ذریعے کرنا ہے۔ بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے مگر کشمیر میں جمہوری اصول پامال کیے جا رہے ہیں۔فاروق رحمانی کا کہنا تھا کہ کشمیر کا تنازع اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل طلب ہے۔ -

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: بھارت میں خطرناک وائرس ، ایونٹ کا انعقاد خطرے میں
ممبی (اسپورٹس ڈیسک )بھارت میں پھیلنے والے خطرناک وائرس نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا انعقاد خطرے میں ڈال دیا۔تفصیلات کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کو بھارت میں نئے نیپا وائرس کے پھیلنے کے باعث خطرات کا سامنا ہے، جس نے اس میگا ایونٹ کے انعقاد پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔بھارت کے مغربی بنگال میں دو نرسز اور ایک ڈاکٹر سمیت پانچ افراد میں نیپا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جن کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔حکام نے کم از کم 100 افراد کو قرنطینہ میں بھیج دیا ہے اور حفاظتی تدابیر مزید سخت کردی ہیں۔یہ خطرناک وائرس 7 فروری کو شروع ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے انعقاد سے چند ہفتے پہلے ہی پھیلنا شروع ہوا ہے۔اگر وائرس کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس سے ایونٹ کی تیاریوں، لاجسٹکس اور سیکیورٹی انتظامات پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔نیپا وائرس چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا ایک مہلک زہر ہے، جس کی شرح اموات 75 فیصد تک ہو سکتی ہے جبکہ دنیا بھر میں فی الحال اس کا کوئی مؤثر علاج موجود نہیں ہے۔واضح رہے کہ ورلڈکپ پہلے ہی تنازعہ کا شکار ہوچکا ہے جب بنگلادیش نے سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر بھارت میں کھیلنے سے انکار کردیا تھا۔آئی سی سی نے بنگلادیش کے موقف کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور بنگلادیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرلیا۔پی سی بی نے بھی بنگلادیش کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ورلڈکپ میں شرکت سے متعلق حکومت پاکستان کی منظوری سے مشروط ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان ٹیم کا بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا بھی امکان ہے۔
-

سپریم کورٹ کا سرکاری ملازمین کے پروموشن سے متعلق بڑا فیصلہ
اسلام آباد:(نمائندہ خصوصی )سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کے پروموشن سے متعلق کیس میں بڑا فیصلہ سنا دیا۔عدالت عظمیٰ نے سرکاری ملازمین کی پروموشن میں تاخیر کے حوالے سے فیصلہ سناتے ہوئے اہل افسر کا پہلی محکمہ جاتی پروموشن کمیٹی کے دن سے پروموشن کا حق بحال کر دیا ہے۔ عدالت نے پنجاب سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سرکاری ملازم فخر مجید کی پروموشن 21 جنوری 2012 سے مؤثر قرار دے دی۔فیصلے کے مطابق پنجاب سروس ٹربیونل نے فخر مجید کی پروموشن سے متعلق اپیل مسترد کی تھی اور یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ملازم کو خالی عہدے کے دن سے پروموشن کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ سپریم کورٹ نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ اہل سرکاری ملازم کو پہلی محکمہ جاتی پروموشن کمیٹی کے انعقاد کے دن سے پروموشن کا حق حاصل ہے۔7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس عائشہ ملک نے جاری کیا جب کہ کیس کی سماعت جسٹس عائشہ ملک، جسٹس محمد ہاشم کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل بینچ نے کی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں بتایا کہ ملازم فخر مجید کی استدعا تھی کہ اس کی پروموشن پہلی محکمہ جاتی پروموشن کمیٹی کے دن سے بحال کی جائے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ سرکاری ملازمین کا پروموشن بنیادی حق ہے ۔ انتظامی غفلت یا تاخیر کا نتیجہ کسی بھی صورت ملازم پر نہیں آنا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ اہل سرکاری ملازم کو بروقت پروموشن کے لیے محکمہ جاتی پروموشن کمیٹی میں شامل کیا جانا لازم ہے ۔ انتظامی غفلت یا تاخیر کی سزا ملازم کو نہیں دی جا سکتی۔عدالت عظمیٰ نے مزید قرار دیا کہ پروموشن میں تاخیر یا لاپروائی ملازم کے حق کو متاثر نہیں کرے گی ۔ سپریم کورٹ نے سرکاری اداروں کو ہدایت کی کہ وہ بروقت پروموشن کے عمل کو یقینی بنائیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملازمین کو انتظامی ناکامی کی سزا نہیں دی جا سکتی۔
-

اسٹاک ایکسچینج انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر
کراچی:(کامرس ڈیسک)پاکستان اسٹاک ایکسچینج آج ریکارڈ ساز تیزی دیکھی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔بازار حصص میں کاروباری ہفتے کا آغاز آج 1288 پوائنٹس کی شان دار تیزی کے ساتھ ہوا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 90 ہزار 455 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔بعد ازاں مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور اعتماد کے نتیجے میں 1355 پوائنٹس کی مجموعی تیزی کے ساتھ پی ایس ایکس کا کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 90 ہزار 522 پوائنٹس کی بلند ترین سطح کو چھو چکا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی اسٹاک ایکسچینج میں جزوی مندی کے ساتھ ساتھ مجموعی طور پر تیزی کا رجحان رہا تھا۔
