کراچی:(اسٹاف رپورٹر)ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی آگ کو صرف شارٹ سرکٹ کا کہہ کر نہیں چھوڑ سکتے، واقعے کی مکمل تحقیقات ہوں گی۔گل پلازہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی سی ساؤتھ کا کہنا تھا کہ فوری طور پر واقعے کو صرف الیکٹرک شارٹ سرکٹ نہیں کہا جا سکتا، آگ شارٹ سرکٹ سے لگی یا نہیں اس حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ضرور ہوگی۔ بڑا سانحہ ہے چاہتے شفاف تحقیقات کریں۔انہوں نے بتایا کہ دروازے بند کیوں تھے اس حوالے سے گواہوں سے بیان لیے گئے ہیں جبکہ دروازے بند کیے جانے سے متعلق مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ہم ہر پہلوں پر تفتیش بھی کر رہے ہیں، کسی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا ہے۔جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ کون سے دروازے بند تھے اور کونسے کھلے تھے، اس کی بھی تحقیقات کی جارہی ہے، جس کی بھی غفلت سامنے آئی، اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ عوام سوشل میڈیا کی خبروں پر بھروسہ نہیں کریں، جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھے گی آگاہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ 55 سے 60 لاشیں ممکنہ طور پر نکالی جا چکی ہیں، کچھ انسانی اعضاء کے علاوہ تمام کے ڈی این اے لیے جا سکتے ہیں۔ بہت کم تعداد ہے جن کے ڈی این اے حاصل کرنے میں مشکلات ہیں۔جاوید کھوسو نے بتایا کہ جہاں سالم حصہ ہے وہاں سرچ ہو چکا جبکہ زمین بوس ہونے والے حصے میں سرچنگ جاری ہے، مشینری کو بھی اس لیے رور رہے کہ ریسکیو ورکرز کو اندر جانا ہے۔ عمارت کی حالت بہت خراب ہے اور کسی بھی وقت گر سکتی ہے، عمارت کا 40 فیصد حصّہ گرا ہوا ہے اس کو چھوڑ کر باقی کو سرچ کر لیا گیا ہے۔ڈی سی ساؤتھ کا کہنا تھا کہ سب سے درخواست کروں گا کہ سوشل میڈیا کی افواہوں پر کان نہ دھریں، معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہے، تقریباً 80 افراد کی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔
Blog
-

ایم کیو ایم نے کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے کا مطالبہ کردیا
کراچی (اسٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے کا مطالبہ کردیا۔کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز بہادر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں میری نسل کشی ہو رہی ہے، یہ جمہوری دہشت گردی ہے، کراچی کو پاکستان کا معاشی دارالخلافہ بنایا جائے، اس کو وفاق کا حصہ بنایا جائے۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 18 سال حکومت کرنے کے بعد جب پیپلز پارٹی سے آگ کے حوالے سے سوال کیا جاتا ہے تو جواب آتا ہے کہ ایم کیو ایم نے بلدیہ فیکٹری میں آگ لگائی تھی، آج کی ایم کیو ایم یہ کام نہیں کر رہی، یہ وہ ہوا تو آپ کے صدر اس وقت ایم کیو ایم کے مرکز پر گھٹنے ٹیکتے تھے۔انہوں نے کہا کہ یہ شہر کن لوگوں کے حوالے کر دیا ہے، ایک دن میں 100 سو لوگ مرتے تھے، یہ کھلی کھلی جمہوری دہشتگردی ہے، کتنے اور لوگ جل کر مریں، کتنے مزید بچےگٹر میں گرکرمریں، ہماری داد رسی کب ہوگی ؟ لوگوں کو کیا تسلی دیں؟ان کا کہنا تھا کہ یہ شہر ایسا نہیں تھا، سندھ حکومت سےجب شکایت کریں تو جواب آتا ہے بلدیہ فیکٹری کی آگ کا جواب دو،بھتا خوری کا جواب دو، کیا اس کا جواز یہ ہے؟ سندھ میں کوٹا سسٹم ایم کیوایم نے لگا کر نسل کشی کی۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 18 سال سے آپ لوگوں کی حکمرانی ہے، آپ اس طرح کے سانحات کا انتظار کرتے ہیں، ایم کیوایم کے میئر کے زمانے میں بھی آگ لگی ہے، بولٹن مارکیٹ میں لگی آگ کس کو یاد نہیں، وفاق اور ریاست کے اداروں سے کہتاہوں، یہ شہر اور کتنی قربانی دے، وزیراعظم چاہتے ہوئے بھی شہر کیلیے کچھ نہیں کرسکتے، کیونکہ پیپلزپارٹی ناراض ہوجاتی ہے۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اس حکومت کو چلانے میں پیپلزپارٹی کی ضرورت ہےاور مر ہم رہے ہیں، ہمیں کوئی ٹائم بتا دیں ، بتا دیں کہ آپ کے شہر میں اتنے لوگ مزید مریں گے، ہمیں صبرآجائے، دنیا چاند پر جارہےہیں، کراچی میں بچے گٹر میں گرکر مرجاتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آج میں ریاست اور اس کے اداروں کو اور وزیراعظم کو آواز لگا کر کہنا چاہتا ہوں، میں جانتا ہوں کہ وزیراعظم بہت ساری چیزیں چاہتے ہوئے بھی شہر کے لیے نہیں کرنا چاہتے کیونکہ پیپلز پارٹی ناراض ہوجاتی ہے اور ہم مجبور ہیں تو میں ریاست اور ان کے چلانے والوں کو کہنا چاہتا ہوں، بہت ہی عاجزی سے یہ پوچھنا اور آواز لگانا چاہتا ہوں کہ ریاست اس حکومت کو چلانے کے لیے اور کتنی قربانی دے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت چلانے کے لیے پیپلزپارٹی کی ضرورت تھی، تحریک عدم اعتماد کے لیے اس کی ضرورت تھی، اب اس حکومت چلانے کے لیے بھی اس کی ضرورت ہے تو قربانی کا بکرا ہم بن رہے ہیں، مر ہم رہے ہیں، یہ شہر مر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ جس شاخ پر بیٹھے ہیں، اسے ہی کاٹ رہے ہیں، کراچی کا خون بہہ رہا ہے تو پورا پاکستان رس رہا ہے، لوگ مر رہے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، یہ جمہوری دہشت گردی بند کریں،۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ میں ریاست چلانے والوں کو دو باتیں کہنا چاہتا ہوں کہ بس بہت ہوگیا، یہ نہیں سدھریں گے، میں ریاست سے مطالبہ اور اپیل کرتا ہوں کہ کراچی کو آرٹیکل 148 اور آرٹیکل 149 کے تحت فیڈرل ٹیریٹری کا حصہ بنایا جائے، اس کو ذوالفقار بھٹو کے آئین کے تحت پاکستان کا معاشی دارالخلافہ بنایا جائے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ صوبے جب بنائیں گے، بنائیں، آج یہ کام اسی آئین میں رہتے ہوئے کیا جا سکتا ہے، پاکستان کو چلانے والے کراچی کو ملک کا معاشی حب قرار دیں اور اس کو وفاق کے کنٹرول میں لیں۔ -

مریم نواز نے پاکستان کی پہلی پیٹرولنگ الیکٹرک کار کا افتتاح کردیا
لاہور:(نمائندہ خصوصی )وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پاکستان کی تاریخ کے پہلی گرین پولیسنگ یونٹ کا افتتاح کر دیا، جس کے تحت پیٹرولنگ کے لیے پہلی مرتبہ الیکٹرک گاڑی متعارف کرائی گئی ہے اور یہ اعزاز پنجاب کو حاصل ہوا ہے۔افتتاح کے موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے گرین پولیسنگ یونٹ کی الیکٹرک پیٹرولنگ گاڑی کا معائنہ کیا اور خود الیکٹرک وہیکل ڈرائیو بھی کی۔ اس موقع پر مریم نواز کو گرین پولیسنگ یونٹ اور الیکٹرک وہیکل کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ لاہور میں جدید ترین بی وائی ڈی الیکٹرک گاڑی کے ذریعے ٹریفک اور پیٹرولنگ کے فرائض انجام دیے جائیں گے۔ یہ ماحول دوست الیکٹرک گاڑی فی چارج 410 کلومیٹر تک کی رینج رکھتی ہے۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ الیکٹرک گاڑی 30 سے 80 فیصد تک تقریباً 30 منٹ میں تیزی سے چارج ہو جاتی ہے جب کہ الیکٹرک وہیکل میں سرویلنس کے لیے جدید پی اے سسٹم، پولیس لائٹس، 360 ڈگری کیمرہ اور اسپیڈ ڈیٹیکشن آلات نصب ہیں۔ پیٹرولنگ پر مامور 103 گاڑیاں ماہانہ 28 ہزار لیٹر ایندھن استعمال کرتی ہیں جس پر 7.42 ملین روپے خرچ ہوتے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب کو بتایا گیا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے سالانہ فی گاڑی تقریباً 4 ہزار 500 لیٹر ایندھن کی بچت ممکن ہوگی، آپریشنل لاگت میں نمایاں کمی آئے گی اور زیرو کاربن اخراج کو یقینی بنایا جا سکے گا۔اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے گرین پولیسنگ یونٹ کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد بتدریج بڑھانے کی ہدایت کی اور گرین پولیسنگ یونٹ کو مرحلہ وار دیگر اضلاع میں شروع کرنے کے لیے اقدامات کا حکم دیا۔انہوں نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال ایندھن کے اخراجات میں کمی اور زیرو کاربن اخراج کا باعث بنے گا جب کہ گرین پولیسنگ صاف ستھری فضا اور گڈ گورننس کے وژن کا عکاس ہے۔
-

امراض قلب کے مفت علاج میں رکاوٹ برداشت نہیں کی جائیگی۔وزیراعلیٰ سندھ
کراچی: (اسٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہےکہ این آئی سی وی ڈی میں امراض قلب کے مفت علاج میں رکاوٹ برداشت نہیں کی جائیگی۔وزیراعلیٰ سندھ کی زیرصدارت این آئی سی وی ڈی کی84 ویں گورننگ باڈی کا اجلاس ہوا جس دوران بریفنگ میں بتایاگیا کہ این آئی سی وی ڈی کو مجموعی طور پر4.6 ارب روپےخسارےکا سامنا ہےترجمان کے مطابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر این آئی سی وی ڈی پروفیسرطاہرصغیر نے اجلاس کوبریفنگ دی جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے قومی ادارہ امراض قلب کی قانونی حیثیت بحال کرنےکافیصلہ کیا جب کہ اجلاس میں اسپتال کےمستقبل کے تحفظ اور خدمات کے تسلسل کےلیےاہم فیصلے کیےگئے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ امراض قلب کے مفت علاج میں رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔وزیراعلیٰ نے اسپتال کےآپریشنل امورکےلیے15.5 ارب روپے گرانٹ اِن ایڈ کی منظوری دی جب کہ اسپتال میں چیف آپریٹنگ آفیسر اور چیف فنانشل آفیسر کی فوری تقرری کی منظوری بھی دی گئی۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ این آئی سی وی ڈی کو مالی سال 26-2025 میں 3.5 ارب روپے اضافی گرانٹ کی ضرورت ہے، قانونی ابہام دور کرکے ادارے کو بلا رکاوٹ عوامی خدمت کے قابل بنایاجائےگا۔
-

غزہ بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کا متبادل بنانے کا ارادہ نہیں، ٹرمپ
واشنگٹن (فارن ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کا متبادل بنانے کا کوئی ارادہ نہیں اور اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرتے رہنا چاہیے۔امریکی صدر ٹرمپ نے عہدہ صدارت کو ایک سال مکمل ہونے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کہ نیٹو فوجی اتحاد میری بدولت قائم ہوا اور میں نے جتنا کام نیٹو کے لیے کیا ہے کسی نے نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ گرین لینڈ کے حوالے سے کچھ ایسا کریں گے کہ نیٹو اور ہم دونوں خوش ہوں۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ برطانیہ اور فرانس کے رہنماؤں کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں اور قیادت کے حوالے سے ہم آہنگی بھی ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ پیرس میں ہونے والے جی سیون اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو سے جیل میں ملاقات کرنے کی کوئی دلچسپی نہیں ہے جبکہ امریکا وینزویلا سے 50 ملین بیرل تیل حاصل کر چکا ہے۔صدر ٹرمپ پھر پاک بھارت جنگ کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران آٹھ طیارے گرائے گئے تھے اور اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے ان سے کہا کہ آپ نے کروڑوں جانیں بچائیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر پاک بھارت جنگ نہ روکی جاتی تو لاکھوں افراد مارے جا سکتے تھے، ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ جاری رہتی تو 10 سے 20 ملین جانوں کا نقصان ہو سکتا تھا۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں نے آٹھ جنگیں رکوائیں یہ میں نے نوبل انعام کے لیے نہیں رکوائیں اب بھی روس یوکریں جنگ کے خاتمے کے لیے کوشش کر رہا ہوں۔
-

سونے کی قیمت میں ہوش ربا اضافہ؛ پانچ لاکھ فی تولہ سےتجاوز کر گئی
کراچی(کامرس ڈیسک ) عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتیں تاریخ کی نئی بلندیوں پر پہنچ گئیں۔بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت یکدم 127ڈالر کے بڑے اضافے سے 4ہزار 840ڈالر کی نئی بلند سطح پر آگئی۔ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت بھی 12ہزار 700روپے کے بڑے اضافے سے 5لاکھ 6ہزار 362روپے کی نئی بلند سطح پر آگئی۔اس کے علاوہ فی دس گرام سونے کی قیمت 10ہزار 888روپے بڑھ کر 4لاکھ 34ہزار 123روپے کی سطح پر آگئی۔اسی طرح فی تولہ چاندی کی قیمت 64 روپے کے اضافے سے 9ہزار 933 روپے کی نئی بلند سطح پر آگئی، فی دس گرام چاندی کی قیمت 54روپے کے اضافے سے 8ہزار 515روپے کی سطح پر آگئی۔
-

سانحہ گل پلازہ، اموات کی تعداد 61 ہوگئی
کراچی:(اسٹاف رپورٹر)ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں ہفتے کو لگنے والی آگ کے سبب دم گھٹنے اور جھلسنے اب تک61افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ 80 سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں، ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کا کہنا ہے کہ جب تک ایک بھی لاپتا فرد موجود ہوا اس وقت تک ملبہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ریسکیو 1122 کے مطابق ملبے سے مزید ایک لاش ملی ہے، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 61 تک پہنچ گئی جبکہ سرچ آپریشن کے دوران کچھ انسانی باقیات ملیں، جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔مزید ایک لاپتا شہری کے اہل خانہ نے مسنگ پرسنز ڈیسک سے رابطہ کر لیا، 65 سالہ جہانگیر شاہ کے اہل خانہ نے مسنگ پرسنز ڈیسک پر اندراج کروا دیا جس کے بعد لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی۔گزشتہ روز، 21 ناقابل شناخت میتوں میں سے مزید تین کی شناخت کی گئی تھی، جن میں ایک میت لڑکی 15 سالہ مریم جبکہ دو مردوں 33 سالہ شہروز اور 26 سالہ رضوان کی تھیں۔ریسکیو حکام کے مطابق سی پی ایل سی نے ڈی این اے کے ذریعے شناخت کی جس کے بعد لواحقین میتیں لینے سرد خانے پہنچ گئے ہیں۔ اس سے قبل دن میں 7 افراد کی لاشوں کو شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کیا گیا تھا جس کے بعد سرد خانے میں 21 ناقابل شناخت لاشیں موجود تھیں اور ان میں سے مزید تین کی شناخت ہوگئی۔واضح رہے کہ ریسکیو اہلکار 40 گھنٹوں بعد گل پلازہ کی عمارت میں داخل ہوئے اور لاپتا افراد کی تلاش میں آپریشن شروع کیا تاہم کام کے دوران بھی عمارت کے مختلف حصوں سے آگ بھڑک اٹھتی تھی جس سے ریسکیو کا کام متاثر ہوا۔
ڈی سی ساؤتھ کی گفتگو
گل پلازہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ پلازہ کا سالم حصہ بھی سرچ کیا جا رہا ہے لیکن فی الحال عمارت کے گرے ہوئے حصے کی طرف توجہ ہے، عمارت کے درمیان میں جانے کا راستہ بنایا جا رہا ہے، جب سب مکمل ہو جائے گا تب پوری عمارت کو گرا کر ملبہ اٹھا لیا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ پہلے دن سے انفرمیشن ڈیسک قائم کر دی تھی اور تمام سہولیات دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ گرے ہوئے حصے میں مشکل پیش آرہی ہے، اندر ابھی بھی دھواں اور گرمائش ہے تاہم کولنگ بھی کی جا رہی ہے، جہاں تک پہنچ سکتے ہیں وہاں سرچ کیا گیا ہے۔ بلڈنگ پر موجود بھاری سامان اتار لیا گیا ہے، اس وقت مشین سے اور مینولی بھی کام کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 28 لاشیں نکالی گئی ہیں جن میں سے 11 شناخت ہو چکی ہیں جبکہ 85 شہری لاپتا افراد کی فہرست میں ہیں، کچھ نام ڈبل ہوگئے ہیں جن کی جانچ کی جا رہی ہے۔ کوشش ہے جلد از جلد لاشوں کی شناخت بھی ممکن ہو۔جاوید نبی کھوسو کا کہنا تھا کہ عارضی طور پر ساتھ والے رمپا پلازہ کو سیل کیا گیا ہے، ایس بی سی اے کی رپورٹ کے بعد کہا جا سکے گا کہ رمپا پلازہ خطرناک ہے یا نہیں۔ کسی قسم کی جلد بازی نہیں کی جا رہی ہے کیونکہ انسانی زندگیوں کا مسئلہ ہے۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس تکنیکی ٹیم موجود ہے جو اس حوالے سے مکمل جانچ کر رہی ہے اور تکنیکی معاملات کو مدنظر رکھے ہوئے ریسکیو اینڈ سرچ آپریشن جاری ہے۔ایک سوال کے جوان میں ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ غائب ہونے والے دو ڈمپر کے حوالے سے پولیس تفتیش کر رہی ہے۔لاپتا افراد کے لواحقین کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ اتوار کے دن سے ملبہ اٹھایا جانا شروع کیا گیا، ملبے میں کہیں انسانی باقیات تو نہیں جا رہی، ہمیں شک ہے کہیں ایسا نہ ہو۔ -

اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ تیزی؛ انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر
کراچی:(کامرس ڈیسک )پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج ریکارڈ تیزی دیکھی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔کاروباری ہفتے کے تیسرے روز بازار حصص میں 726 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ مارکیٹ کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 89 ہزار 347 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔بعد ازاں پی ایس ایکس میں تیزی کا رجحان غالب رہا اور مجموعی طور پر 802 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ انڈیکس ایک لاکھ 89 ہزار 423 پوائنٹس کی بلند ترین سطح کو چھو گیا۔بعد ازاں اسٹاک ایکسچینج میں 220 پوائنٹس کی مندی کے ساتھ 100 انڈیکس گھٹ کر ایک لاکھ 88 ہزار 401 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتوں سے اسٹاک مارکیٹ میں مجموعی طور پر تیزی کا رجحان غالب ہے اور اس دوران انڈیکس کی بلندی کے کئی نئے ریکارڈز بھی قائم ہوئے ہیں۔
-

مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے، فیلڈ مارشل
راولپنڈی (نمائندہ خصوصی )فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس داخلی سلامتی اور قانون کی حکمرانی کے لیے ناگزیر ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ کیا، فیلڈ مارشل نے پولیس سروس آف پاکستان کے افسران سے ملاقات اور تبادلۂ خیال کیا، اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ اور وزیرِ مملکت برائے داخلہ بھی موجود تھے۔بیان کے مطابق نیشنل پولیس اکیڈمی پہنچنے پر فیلڈ مارشل کا کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی نے پرتپاک استقبال کیا جبکہ ایک چاق و چوبند پولیس دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ فیلڈ مارشل نے پولیس شہداء کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی اور امن و امان کے قیام، قانون کی بالادستی اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔فیلڈ مارشل نے دہشت گردی، جرائم اور داخلی سلامتی کے چیلنجز کے مقابلے میں پولیس اہلکاروں کی عظیم قربانیوں کو سراہا۔دورے کے دوران فیلڈ مارشل کو اسکول فار ہائی امپیکٹ ایلیٹ لا انفورسمنٹ ڈیولپمنٹ (SHIELD) سمیت پولیس کی تربیتی سرگرمیوں، استعداد کار میں اضافے اور جدیدیت سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔فیلڈ مارشل نے کیڈٹ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (ASPs) سے بھی ملاقات کی۔فیلڈ مارشل نے کہا کہ پولیس شہریوں کی جان، مال اور عزت کے تحفظ میں پہلی دفاعی لائن کی حیثیت رکھتی ہے، فیلڈ مارشل نے ادارہ جاتی تعاون، جدید پولیسنگ طریقۂ کار اور عوامی اعتماد کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔فیلڈ مارشل نے کہا کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس فورس داخلی سلامتی اور قانون کی حکمرانی کے لیے ناگزیر ہے، امن و امان کا قیام ایک مقدس ذمہ داری ہے اور مسلح افواج پاکستان کے بہادر پولیس اہلکاروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔بیان کے مطابق سینئر پولیس قیادت نے پولیسنگ کے معیار کو مزید بہتر بنانے، پیشہ ورانہ صلاحیت میں اضافے اور موجودہ سلامتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری ادارہ جاتی اصلاحات کے عزم کا اعادہ کیا۔
-

سانحہ گل پلازہ؛ انتظامی ناکامیوں پر مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب نے سوالات اٹھا دیے
کراچی:(اسٹاف رپورٹر)سانحہ گل پلازہ پر سنگین انتظامی ناکامیاں سامنے آنے پر مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن نے سوالات اٹھا دیے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق گل پلازہ میں پیش آنے والے آتشزدگی کے سانحے پر ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں آگ پر قابو پانے میں ناکامی افسوسناک اور شرمناک ہے۔مفتی تقی عثمانی نے اپنے بیان میں سوال اٹھایا کہ گل پلازہ میں آگ لگنے کے بعد بروقت امدادی کارروائیاں کیوں نہ ہو سکیں اور مدد تاخیر سے کیوں پہنچی۔ انہوں نے کہا کہ چند ہی گھنٹوں میں قیمتی انسانی جانیں بے بسی کے عالم میں ضائع ہو گئیں ، متعدد متوسط درجے کے تاجر اربوں روپے کے نقصان سے قلاش ہو گئے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس سانحے کی غیر جانبدار اور بے لاگ تحقیق ناگزیر ہے تاکہ اصل وجوہات سامنے آ سکیں۔ مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ حفاظتی انتظامات کو مضبوط اور مؤثر بنانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، البتہ جن افراد نے مشکل حالات میں انسانی جانیں بچانے کی کوشش کی وہ قابلِ تحسین ہیں۔انہوں نے واقعے میں جاں بحق ہونے والے افراد اور ان کے لواحقین کے لیے دعا بھی کی۔دریں اثنا ممتاز عالم دین مفتی منیب الرحمان نے بھی گل پلازہ سانحے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو نے ایوان صدر میں سندھ حکومت کی کارکردگی بیان کی، مگر گل پلازہ کی آگ نے ان کے تمام دعووں پر پانی پھیر دیا۔مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ تاجر تنظیموں کے مطابق گل پلازہ سانحے میں کم از کم 3 ارب روپے کا نقصان ہوا، جو ایک بہت بڑا معاشی دھچکا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ 3 کروڑ آبادی کے شہر میں آگ بجھانے کا مؤثر نظام کیوں موجود نہیں ؟
اپنے بیان میں مفتی منیب الرحمان نے جاں بحق افراد کی مغفرت، لواحقین کے لیے صبر جمیل اور متاثرین کے لیے بہتر نعم البدل کی دعا کی۔
