Blog

  • کراچی ؛ نیو سبزی منڈی میں آگ لگ گئی

    کراچی ؛ نیو سبزی منڈی میں آگ لگ گئی

    کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی میں سپر ہائی وے پر واقع نیو سبزی منڈی میں آگ لگ گئی، جس کی اطلاع ملتے ہی کے ایم سی کی فائر بریگیڈ ٹیم روانہ کردی گئی ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ شیڈز میں لگی تھی۔ فائر بریگیڈز حکام کے مطابق بعد ازاں آگ پر قابو پا لیا گیا۔ واقعے میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

  • پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجا ناصر عباس سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر

    پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجا ناصر عباس سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر

    اسلام آباد(نمائندہ خصوصی )مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سینیٹر راجہ ناصر عباس کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر کردیا گیا۔یکرٹری سینیٹ حفیظ اللہ شیخ نے قائد حزب اختلاف کا نوٹیفیکشن جاری کردیا۔چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے بتایا کہ راجہ ناصر عباس کو 32 میں سے 22 ارکان اپوزیشن سینیٹ کی حمایت حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کو ڈکلیئر کرنے کا اختیار چیئرمین سینیٹ کو ہے، سینیٹر ناصر عباس کو لیڈر آف اپوزیشن ڈکلیئر کرتا ہوں۔چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ قائد حزب اختلاف کے نوٹیفیکشن کا معاملہ سینیٹ سیکریٹریٹ میں رہا، تاخیر عدالتی پروسیجر کے باعث تھی، اب میں رولز کے مطابق عمل کروں گا۔سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ آرمی چیف آج اپنی ڈومین میں چلے جائیں تو میں ان کے ہاتھ چوموں گا۔سینیٹ میں بطور اپوزیشن لیڈر اپنی پہلی تقریر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سیاسی بحران کے خاتمہ کا واحد حل عمران خان کی رہائی ہے، اللہ نے تمام پیغمر عدل کےلئے بھیجے۔علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک میں عدل و انصاف قائم کیا جائے، ہم لاہور گئے ہماری گاڑیوں کے شیشے توڑے گئے، کیا ہم دہشتگرد تھے۔انہوں نے کہا کہ کیا ایسے لوگوں کو حراساں کرکے آپ نظام چلا لیں گے؟ لوگوں کو بولنے دیں،اس سے ملک مضبوط ہوتے ہیں، بانی پی ٹی آئی کو آزاد کیا جائے، سیاسی بحران کے خاتمہ کا واحد حل عمران خان کی رہائی ہے، بانی پی ٹی آئی کے کیسز نہیں چل رہے۔علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ہم اپنی فوج کو سیلوٹ ماریں گے، آرمی چیف آج اپنی ڈومین میں چلے جائیں تو میں ان کے ہاتھ چوموں گا، میرے خاندان نے جنگیں لڑی ہیں اور ساتھ دیا ہے۔

  • مریم اورنگزیب کا نیا انداز سوشل میڈیا پر چھا گیا

    مریم اورنگزیب کا نیا انداز سوشل میڈیا پر چھا گیا

    کراچی:(انٹر ٹینمنٹ ڈیسک )پاکستان شوبز کی سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری اور اداکارہ زارا نور عباس نے پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی ’ٹرانسفارمیشن‘ کی تعریف کردی۔حال ہی میں مریم اورنگزیب کی مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کی شادی کی تقریبات میں شرکت کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں جن میں ان کا نیا انداز صارفین کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ سادہ مگر باوقار اسٹائل اور پراعتماد شخصیت پر سوشل میڈیا پر مختلف حلقوں کی جانب سے مثبت ردِعمل سامنے آیا۔بشریٰ انصاری نے سوشل میڈیا پر اپنے تبصرے میں لکھا کہ میں مریم اورنگزیب کو قریب سے جانتی ہوں، انکا وزن کم کرنے کا سفر کمٹمنٹ اور مستقل مزاجی کا ثبوت ہے۔ مریم آپ بہت خوبصورت لگ رہی ہیں، ماشا اللہ۔دوسری جانب زارا نور عباس نے بھی مریم اورنگزیب کی پہلی اور موجودہ تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’اگر عورت اپنا خیال رکھنا شروع کردے تو کوئی بھی مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے‘‘۔تبدیلی کو خوبصورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ خود اعتمادی اور سادگی کسی بھی شخصیت کو نکھار دیتی ہے، اور مریم اورنگزیب اس کی بہترین مثال ہیں۔ اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عورت کی یہ چیز مجھے بہت خوبصورت لگتی ہے۔سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے بھی ان آراء سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ مریم اورنگزیب کا نیا انداز نہ صرف متاثر کن ہے بلکہ ایک مثبت پیغام بھی دیتا ہے کہ سیاست میں خواتین وقار اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکتی ہیں۔واضح رہے کہ مریم اورنگزیب پاکستان کی نمایاں سیاسی شخصیات میں شمار ہوتی ہیں اور وہ اکثر اپنے بیانات کے ساتھ ساتھ اپنے انداز کی وجہ سے بھی خبروں میں رہتی ہیں۔

  • ای  چالان سسٹم  کے  فیل  ہونے  پر بلاول بھٹو زرداری سے کراچی والوں کے سوال

    ای چالان سسٹم کے فیل ہونے پر بلاول بھٹو زرداری سے کراچی والوں کے سوال

    ٭اندرونِ سندھ اور دیگر شہروں کی نمبر پلیٹوں والی گاڑیوں کے ای چالان آخر کس کھاتے میں جاتے ہیں؟ کیا یہ رقم سرکاری خزانے میں جمع ہوتی ہے؟
    ٭سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کے ای چالان اگر ہوتے ہیں تو کہاں جمع ہوتے ہیں؟ یا یہ قانون سے بالاتر ہیں؟
    ٭کیا وجہ ہے کہ تنخواہ دار طبقہ اور چھوٹا کاروباری باقاعدہ ٹیکس دیتا ہے، مگر پھر بھی اسے چوکیاں، کاغذی کارروائیاں اور تذلیل جھیلنا پڑتی ہے؟
    ٭اگر حقیقت یہ ہے کہ صرف دس فیصد شہری قانون کی پاسداری کر رہے ہیں، تو باقی نوے فیصد کے خلاف ریاست کی رِٹ کہاں ہے؟
    ٭رکشے اور چنچی بغیر لائسنس، بغیر فٹنس، بغیر نمبر پلیٹ آزاد کیوں ہیں؟ کیا ان پر قانون لاگو نہیں ہوتا؟
    ٭کراچی کے شہریوں کو تھیلوں میں بھر بھر کر چالان دیے جاتے ہیں، مگر ہوٹر لگانے والے، کالے شیشوں والی گاڑیاں اور پروٹوکول کلچر کیوں آزاد ہیں؟
    ٭کیا قانون صرف عام شہری کے لیے ہے اور طاقتور کے لیے نہیں؟
    ٭اسلحے کی کھلے عام نمائش کرنے والوں کوکوئی پوچھنے والا نہیں لگتا ہے کراچی کوئی شہر نہیں بلکہ علاقہ غیر ہے
    ٭اگر شہریوں پر اتنی سختی ہے تو کیا حکومت ٹریفک، ٹرانسپورٹ اور پولیس اصلاحات کا کوئی قابلِ عمل منصوبہ رکھتی ہے؟
    ٭آخر عام آدمی کس سے سوال کرے جب قانون بھی طاقتور کے ساتھ کھڑا نظر آئے؟

    پاکستان واچ رپورٹ
    ریاست کی رِٹ یا شہریوں کی آزمائش؟
    پاکستان میں عام شہری آج خود کو ایک ایسے دائرے میں گھرا ہوا محسوس کرتا ہے جہاں قانون کی موجودگی تو ہر جگہ دکھائی دیتی ہے، مگر انصاف کی جھلک کم کم نظر آتی ہے۔ خاص طور پر شہری مراکز میں، ٹریفک قوانین، ٹیکس نظام اور انتظامی رکاوٹیں ایک عام آدمی کی روزمرہ زندگی کو مشکل بنائے ہوئے ہیں۔ ایسے میں بلاول بھٹو زرداری جیسے قومی سطح کے رہنما سے عوام کے سوالات محض شکایات نہیں بلکہ ایک اجتماعی پکار ہیں کہ ریاست اپنی ترجیحات واضح کرے۔
    تنخواہ دار اور کاروباری طبقے پر ہی بوجھ کیوں ؟
    تنخواہ دار طبقہ اور چھوٹا کاروباری طبقہ ملک کی معیشت کا وہ ستون ہے جو باقاعدگی سے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر بالواسطہ ٹیکس ادا کرتا ہے۔ مگر اس کے باوجود یہی طبقہ چوکیاں، چالان، فائلوں اور دفتری چکروں میں سب سے زیادہ رْلتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو طبقہ پہلے ہی نظام کو سہارا دے رہا ہے، اسے مزید کیوں آزمائش میں ڈالا جاتا ہے؟ کیا ٹیکس دینا جرم بن چکا ہے؟
    چوکیاں اور تذلیل: قانون کا نفاذ یا طاقت کا مظاہرہ؟
    شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر قائم چوکیاں شہریوں کے لیے سہولت کے بجائے اذیت بن چکی ہیں۔ بار بار روکا جانا، کاغذات کی جانچ کے نام پر بدتمیزی اور غیر ضروری تاخیر عام ہے۔ اگر مقصد سکیورٹی ہے تو اس کا معیار سب کے لیے یکساں کیوں نہیں؟ اور اگر مقصد محض وصولی ہے تو اس کی قانونی حیثیت کیا ہے؟
    اندرونِ سندھ و دیگر شہروں کی نمبر پلیٹیں: چالان کہاں جاتے ہیں؟
    ایک بڑا سوال یہ ہے کہ اندرونِ سندھ یا ملک کے دیگر شہروں کی نمبر پلیٹوں والی گاڑیوں کے چالان آخر کس کھاتے میں جمع ہوتے ہیں؟ شہریوں کو شفافیت نظر نہیں آتی۔ اگر یہ رقوم سرکاری خزانے میں جمع ہوتی ہیں تو اس کی عوامی رپورٹ کیوں نہیں؟ اور اگر نہیں، تو ذمہ دار کون ہے؟
    سرکاری نمبر پلیٹ: قانون سے بالاتر یا بااختیار؟
    سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑیاں اکثر قوانین کی خلاف ورزی کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان کے چالان ہوتے بھی ہیں یا نہیں؟ اگر ہوتے ہیں تو کہاں جمع ہوتے ہیں؟ اور اگر نہیں ہوتے تو کیا سرکاری عہدہ قانون سے بالاتر ہونے کا لائسنس ہے؟ ریاست کی ساکھ اسی سوال کے جواب میں مضمر ہے۔
    صرف دس فیصد قانون پر عمل کیوں؟
    عام تاثر یہ ہے کہ صرف دس فیصد شہری قانون کی پاسداری کر رہے ہیں۔ اگر یہ درست ہے تو باقی نوے فیصد کے لیے قانون کہاں ہے؟ کیا قانون پر عمل درآمد شہری کی مرضی پر چھوڑ دیا گیا ہے؟ ریاست کا بنیادی فریضہ یکساں نفاذِ قانون ہے، ورنہ معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔
    رکشے اور چنچی: مکمل آزادی، مکمل بے قاعدگی
    بغیر لائسنس، بغیر فٹنس اور بغیر نمبر پلیٹ رکشے اور چنچی سڑکوں پر آزادانہ چلتی ہیں۔ حادثات، ٹریفک جام اور آلودگی میں ان کا حصہ سب کے سامنے ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان پر قانون لاگو نہیں ہوتا؟ یا یہ طبقہ محض اس لیے نظرانداز ہے کہ اس سے باقاعدہ وصولی مشکل ہے؟
    کراچی کے شہری: تھیلوں میں بھرے چالان
    کراچی کے شہریوں کو آئے دن بھاری چالانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ معمولی غلطی پر جرمانے، گاڑیوں کی ضبطی اور طویل قانونی کارروائیاں عام ہیں۔ دوسری طرف ہوٹر لگانے والی گاڑیاں، کالے شیشے اور غیر قانونی پروٹوکول بے روک ٹوک جاری ہے۔ یہ دوہرا معیار شہریوں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔
    پروٹوکول کلچر: قانون کس کے لیے؟
    ہوٹر، اسکارٹ اور وی آئی پی رویہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ طاقتور کے لیے قانون نرم اور عام شہری کے لیے سخت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آئین سب کو برابر نہیں کہتا؟ اگر کہتا ہے تو یہ امتیاز کیوں؟

    کراچی یا علاقہ غیر
    اسلحے کی کھلے عام نمائش کرنے والوں کوکوئی پوچھنے والا نہیں لگتا ہے کراچی کوئی شہر نہیں بلکہ علاقہ غیر ہے کہیں سختی، کہیں نرمی۔ یہ صورتحال ریاستی رِٹ کے لیے خطرناک ہے۔ قانون اگر ہر جگہ یکساں نہ ہو تو شہریوں میں بغاوت نہیں تو بددلی ضرور جنم لیتی ہے۔

    اصلاحات کا سوال: محض وعدے یا عملی منصوبہ؟

    عوام جاننا چاہتے ہیں کہ کیا حکومت کے پاس ٹریفک، ٹرانسپورٹ اور پولیس اصلاحات کا کوئی واضح اور قابلِ عمل منصوبہ ہے؟ یا ہر مسئلہ کی طرح یہ بھی محض تقاریر اور وعدوں کی نذر ہو جائے گا؟ اصلاحات کے بغیر نفاذِ قانون محض دباؤ بن کر رہ جاتا ہے۔

    عام آدمی کس سے سوال کرے؟

    جب قانون طاقتور کے ساتھ کھڑا نظر آئے تو عام آدمی کے پاس سوال کرنے کے لیے کون سا دروازہ رہ جاتا ہے؟ عدالتیں مہنگی، دفاتر سست اور نمائندے خاموش یہ خلا خطرناک ہے۔ جمہوریت میں سوال کرنا حق ہے، اور اسی حق کے تحت یہ سوالات بلاول بھٹو زرداری سمیت تمام قیادت کے سامنے رکھے گئے ہیں
    یہ مضمون الزام نہیں بلکہ احتساب کا مطالبہ ہے۔ عوام قانون سے بھاگنا نہیں چاہتے، وہ صرف برابری چاہتے ہیں۔ اگربلاول بھٹو ان سوالات کا سنجیدگی سے جواب دیں اور یکساں نفاذِ قانون یقینی بنائیں تو اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر، یہ خلیج مزید گہری ہوتی جائے گی اور اس کا نقصان صرف عوام نہیں، ریاست کو بھی ہوگا۔

  • افریقی ملک کینیا کا سفر نامہ۔۔۔دلچسپ تجربات      سرور غزالی۔۔۔۔۔۔آخری قسط

    افریقی ملک کینیا کا سفر نامہ۔۔۔دلچسپ تجربات سرور غزالی۔۔۔۔۔۔آخری قسط

    نیروبی سے ممباسا کا سفر
    ممبا سا کی کہانی
    کینیا کا دوسرا بڑا شہر ممباسا ہے۔ ہم لوگ 25 دسمبر کو ممباسا کی طرف چل پڑیتھے۔ بحر ہند کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے ممباسا قدیم زمانے سے ہی ایک تجارتی مرکز رہا ہے۔ تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں سن 1300 سے 1513 تک کلوا سلطنت قائم تھی جسے ترکیوں نے 1586 میں فتح کرلیا۔ اور سن 1589 تک یہاں عثمانیہ سلطنت قائم رہی، پھر 1593 میں یہاں پرتگالی سلطنت قائم ہوئی جو 1698 تک قائم رہی 1698 میں عمانیوں نے پرتگالی افواج کو شکست دے کر ممباسا میں واقع قلعہ ء￿ عیسائی کو فتح کر لیا اور یوں ان کی یہاں حکومت قائم ہو گئی۔ جو 1698 سے 1728 تک جاری رہی مگر 1728 میں پرتگالی ایک بار پھر یہاں پر قابض ہو گئے اور انہوں نے عمانیوں کو نکال باہر کیا مگر اگلے سال ہی عمانی اس پر پھر قابض ہو گئے۔ ان کی حکومت 1729 سے 1824 تک قائم رہی بالآخر 1824 میں انگریز یہاں قابض ہو گئے اور 1826 تک ان کی حکومت قائم رہی جبکہ 1826 میں زنزیبار سلطنت نے ممبا سا کو اپنے قبضے میں لے لیا اور 1887 تک ان کی یہاں حکومت قائم رہی 1887 میں برطانوی راج دوبارہ واپس آگیا اور برطانوی مشرق افریقہ کینیا کے نام سے ان کی حکومت 1963 تک قائم رہی اور 1963 میں کینیا کو آزادی ملی۔ ممباسا میں دو حکمراں موانہ مکسی اور صحیح مویتا نے قدیم زمانے میں حکومت قائم تھی اور روایت کے مطابق یہ دونوں قدیم ممباسا کے والی ہیں۔ ان کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ بادشاہ یہاں پر 12 خاندان کے اس سلسلے سے تھے جنہیں تینشارہ طائفہ کہتے ہیں جو کے اس شہر کے اصلی باشندے ہیں۔ اور اسلامی سلطنت قائم ہونے سے پہلے انہی کی یہاں حکومت تھی۔ مشہور مراکشی سیاح ابن بطوطہ نے ممباسا کاذکر سواہلی ساحل کا ذکر کے ساتھ اپنی سفرنامے میں یوں کیا ہے کہ یہاں شافعی مسلم آباد ہیں جو قابل بھروسہ اور سیدھے سادھے لوگ ہیں۔اور یہ کہ یہاں اس نے لکڑی سے بنی ایک مسجد دیکھی ہے۔ گو کہ وہ صرف ایک رات ہی ممباسہ میں رکا تھا۔
    کینیا کے اسکولوں میں بچوں کو تاریخ کی کتابوں کے مطابق یہ بتایا جاتا ہے کہ ممباسا سن 900 سے قائم ہے۔ ممباسا میں ایک قدیم پتھر کی بنی مسجد بھی ہے۔ جس کا نام منارہ ہے۔ ممباسا کے ساحل پر قدیم زمانے میں تجارتی جہاز لنگر انداز ہوتے تھے اور یہاں سے ہاتھی دانت، ناریل اور تل برآمد کی جاتی تھی۔ ممباسا سے سلطنت چھولا، جنوبی ہندوستان کی تامل سلطنت سے بھی تجارتی روابط کے شواہد ملے ہیں۔ اس کے علاوہ ملک فارس سے بھی تجارتی تعلقات استوار تھے۔
    جب واسکو ڈی گاما ممباسا آیا اور جب اس نے واپس جاکر یہاں کی دولت اور شان وشوکت کا ذکرکیا تو پرتگالی بادشاہ نے اس کے اگلے ہی سال ممباسا پر چڑھائی کردی اور اسیاپنی سلطنت میں شامل کرلیا۔ یقینا” اس نے خوب یہاں کی دولت پر لوٹ مار بھی کی ہوگی۔
    کینیا ریلوے کی کہانی
    برطانوی یوگینڈا ریلوے کی تعمیر سن 1896 تا سن 1901 کے مابین مشہور زمانہ “لاونیٹک ایکسپریس” جو کے درحقیقت وکٹوریا نامی جھیل کو ممباسہ سے ملانے کا، زمانہ کالونیت کا ایک بڑا پروجیکٹ تھا، یہ ایک مشکل ترین معرکہ تھا جس کو سر کرنے کے لیے خودسر انگریز اپنی اس وقت
    کی دوسری برطانوی کالونی ہندوستان، سے لائے گئے مزدوروں کی مدد لی۔ ہندوستان سے لائے گئے مزدوروں کی نیروبی میں تعیناتی کا یہ ایک بہت اہم واقعہ تھا جس کے دور رس اثرات آنے والے وقتوں میں سامنے آیا۔ اور اسے اس وقت کینیا اور یوگنڈا ریلوے یا مشرقی افریقہ ریلوے اور شاید کینیا ریلوے کا نام دیا گیا جس کا مقصد تجارت اور برطانوی کالونی کی حفاظت تھا تاہم موجودہ جدید دور میں چائنا کی مدد سے سن 2017 میں ایک نئی ریلوے کی بنیاد ڈالی گئی جس سے برطانوی دور کے میٹر گیج کے برعکس سٹینڈرڈ گیج ایس جی ار کے لاحقے کے ساتھ اسے نئی ریلوے ایس جی آر کینیا ریلوے کا نام دیا گیا ہے۔
    ریلوے لائن کی بنیاد دور کالونیت میں رکھی گئی اور اسے نیروبی تک تعمیر کیا گیا یہ واقعہ سن 1899 کا تھا جب کہ ایک بڑی تعداد میں ہندوستانی افرادی قوت مزدوروں کو یہاں اس کام کے لیے استعمال میں لایا گیا۔ ریلوے لائن کی تعمیر کا کام کچھ آسان نہ تھا اور یہاں کے موسم کی شدت بیماریوں کے حملے کے ساتھ ساتھ آدم خور شیر، ساو کے حملوں میں تقریبا 25 ہزار افراد موت کے گھاٹ اتر گئے۔ یہ ایک عظیم الشان پروجیکٹ ضرور تھا مگر بے شمار انسانی جانوں
    کی قربانی کے بعد۔
    1891 میں ریل کے انتظامات چلانے کے سلسلے میں ہی ہزاروں کی تعداد میں ہندوستان سے پنجابی سکھ افراد یہاں لائے گئے جنہیں پلیٹ فارموں پر بحیثیت قلی ملازمت کرنی تھی۔ یہ تمام لوگ اپنے بال بچے ملک میں چھوڑ کر یہاں تنہا ائے تھے۔ آنے والے وقت میں یہی اقلیت گروپ بے شمار افریقی ملکوں میں پھلتا پھولتا بھی رہا اور مقامی تعصب اور نفرت کا شکار بھی ہوا۔ ملک بدری اور فسادات جیسے سنگین جرائم کا شکار ہوا۔ اور یوگانڈا میں اس وقت کے صدر ایدی امین نے اسی ہندوستانی اقلیتی گروپس کی جائیدادیں ضبط کرنے کی کوشش کی۔
    1924 تا 1948 کے دوران اسے کینیا اور یوگانڈا ریلوے کاے نام دیا گیا۔ جبکہ سن 1948 سے 1978 کے مابین اس سے ایسٹ افریقن ریلوے کا نام دیا گیا۔ برطانوی قدیم زمانے کی میٹر گیج کو خیر باد کہہ کر 2017 میں اسٹینڈر گیج ریلوے کی بنیاد ڈالی گئی جو چین کی مدد سے تیار کی گئی ایک عظیم الشان ریلوے لائن ہے۔ اس وقت ممبا سا اور نیروبی کے مابین چلنے والی مدراکار ایکسپریس 609 کلومیٹر کا فاصلہ ساڑھے پانچ گھنٹے میں طے کرتی ہے اور بیشتر اوقات اپنی انتہائی رفتار 110 کلومیٹر فی گھنٹے تک چلتی ہے اور یہ ایک خوبصورت آرام دہ ریل ہے جو دوران سفر مکمل ایئر کنڈیشن بھی ہے اور اس میں موجود ڈائننگ کار مسافروں کو خورد و نوش کی سہولیات مہیا کرتی ہے نہ صرف ڈائننگ کار کے اندر بلکہ لوگوں کی نشستوں تک عملہ تندہی سے سنیک و چائے پہنچاتا رہتا ہے۔ ممباسا سے نیروبی کے مابین یہ ٹرین صرف ایک سٹاپ پر رکتی ہے۔ تمام ریلوے اسٹیشن جن پر یہ ٹرین نہیں رکتی وہ بھی جدید سہولیات سے مرصع ہیں۔ نیروبی اور ممباسا کا اسٹیشن وسیع و عریض اور جدید سہولیات اور سیکیورٹی انتظامات سے کسی ایئرپورٹ کا نقشہ پیش کرتا نظر آتا ہے جو نہ صرف بہت جدید سہولیات سے مرصع ہے بلکہ دیکھنے میں بھی ایک عظیم الشان خوبصورت عمارت ہے سیکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں سامان کی تین دفعہ سکریننگ کی جاتی ہے ایک مقام پر کتے، سونگھنے کے لیے سامنے لائے جاتے ہیں اور بالکل ایئرپورٹ کی طرح جسمانی تلاشی بھی لی جاتی ہے۔ ٹرین مقررہ وقت سے گو
    کہ 20 منٹ بعد کھلی مگر راستے میں اس نے اپنے ہدف کو مکمل کیا اور بالکل وقت پر پانچ گھنٹے 30 منٹ میں منزل مقصود پر پہنچا دیا۔
    ڈیزل سے چلنے والا سبک رفتار انجن منزل تک پر لے آیا۔
    نیروبی سے ممباسا تک چلنے والی مدراکار ٹرین ایک نسبتا” تیز رفتار ریل تھی اور ہم لوگ اس سے پانچ گھنٹے دس منٹ میں ہی ممبا سا پہنچ گئے تھے۔ ہم نے فرسٹ کلاس کا ٹکٹ لیا تھا اور یہ سفر کافی آرامدہ تھا برلن میں ہی جب میں واپسی کا ٹکٹ بک کرنے کی کوشش کر رہا تھا تو مجھے اول تو کوئی ٹرین نہیں مل رہی تھی بعد میں جب میں نے اکنامی کلاس کی بکنگ تلاش کی تو پھر مجھے ایک ٹرین صبح آٹھ بجے والی مل گئی۔ میرے ذہن میں کچھ شکوک و شبہات تو تھے۔ اپنے پہلے سفر میں ہم نے اکنامی کلاس میں جا کر دیکھا بھی نہیں تھا کہ اکنامی کلاس کیسا ہے۔ سنا یہی تھا کہ دونوں کی سہولیات تقریبا” ایک جیسی ہیں لہذا میں بے فکر ہو کر نیرو بی کی ٹرین پکڑنے اسٹیشن پہنچ گیا۔ اسٹیشن پر پھر وہی تلاشی، کتوں کے سونگھنے کا چکر، مشین میں سکریننگ اور جامع تلاشی کے مراحل سے گزر کر ہم اوپر ویٹنگ روم میں پہنچ گئے۔ نیروبی ممبا سا کے سفر کے دوران اپنے تجربے سے مجھے یہ پتہ چلا کہ، گو کہ یہ ایک طویل و عریض اسٹیشن، بہت بڑا سا پلیٹ فارم وغیرہ بنا دیا گیا ہے لیکن ریلوے کی سہولیات کو بہت زیادہ جدید نہیں کہا جا سکتا کیونکہ موجودہ دور میں بے شمار ملکوں میں ٹرینیں 250 تا 200 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے دوڑ رہی ہیں۔ ان کے انجن برقی ہیں۔ ایسا میں نے ازبکستان، ترکی جرمنی، مشرقی یورپ جہاں نسبتا” کمزور معاشی نظام کے تحت کم ترقی ہوئی تھی وہاں بھی اس وقت برقی سہولیات سے مرصع انجن موجود ہیں اور رفتار لگ بھگ 200 کلومیٹر فی گھنٹے عام سی بات ہے۔ پولینڈ، چیک ریپبلک وغیرہ میں ایسا ہی ہے۔ اس تناظر میں کینیا کی ریلوے کو، گرچہ کہ انہوں نے بہت عظیم الشان ریلوے اسٹیشن اور پلیٹ فارم بنا لیے ہیں، اتنا زیادہ ترقی یافتہ نہیں کہا جاسکتا ہے۔  ایک سو دس کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار کچھ زیادہ متاثر کن نہیں۔ ایک اور چیز جو مجھے زیادہ کھٹکی وہ یہ کہ یہ سارا گھڑاک انسانوں کو زیادہ سے زیادہ کنٹرول کرنے کے لیے ہی پھیلایا گیا ہے۔ عظیم الشان ریلوے اسٹیشن ویٹنگ روم بنا ہے ضرور، لیکن اس سے تک پہنچنے اور اس سے نکلنے تک آپ کو جن مراحل سے گزارا جاتا ہے اسے میں صرف انسانوں کو کنٹرول کرنا، انہیں قابو کرنا ہی کہوں گا۔ جس میں چین کی مدد بھی شامل رہی ہے۔ 
     جیسا کہ میں نے اوپر لکھا باوجود کوشش کے مجھے فرسٹ کلاس کا ٹکٹ نہیں ملا تھا اور میں اکنامی کلاس میں جا کر بیٹھ گیا تھا اور شروع میں میں خوش بھی ہوا کہ وہاں پر کافی جگہ تھی لوگ بیٹھ سکتے تھے لیکن ہوا یہ کہ ٹرین چلنے سے قبل رفتہ رفتہ یہ بوگی اس طرح بھر گئی کہ تل دھرنے کو جگہ نہ تھی اور یہاں بھی وہی پاکستان کی ریلوے کیکسی زمانے میں، تھرڈ کلاس کا منظر سامنے آنے لگا۔ میرے ذہن میں پہلے سے یہ بات تھی کہ چلو ٹکٹ جو بھی مل رہا ہے وہ میں خرید لوں واپس ہونا ضروری تھا ہماری آگے کی فلائٹ تھی۔ تو میں شاید ٹرین میں ٹی ٹی سے یہ بات کروں گا کہ وہ مجھے اگر کوئی سیٹ فرسٹ کلاس میں دے دے اور اضافی قیمت لے لے۔ لیکن صورتحال یہ تھی کہ پوری ٹرین میں 14 بوگی تھی۔ ٹرین فرسٹ کلاس میں فی بوگی 72 افراد اور سیکنڈ کلاس میں شاید 144 افراد گائے بکریوں کی طرح ٹھوس دیے گئے تھے۔ خیر جب یہ اعلان ہوا کہ ڈائننگ کار فرسٹ کلاس مسافروں کے لیے کھول دیا گیا ہے تو میں نے سوچا کہ اب یہ کمپارٹمنٹ چھوڑنے کا وقت آچکا ہے۔ میں ایک ریلوے انجینئر کا بیٹا ہوں جس کی ساری زندگی ریل کے ڈبوں میں کھیلتے کودتے گزری ہے بھلا میں کیوں کر ایسے بھیڑ بھاڑ سے ڈبے میں خاموش بیٹھ جاتا۔ میں نے بیگم سے کہا کہ چلو ہم لوگ ڈائننگ کار کی طرف چلتے ہیں۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ ڈائننگ کار میں صرف فرسٹ کلاس کے مسافروں کو اجازت ہے کہ وہ وہاں بیٹھ سکتے ہیں اور سیکنڈ کلاس والوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ لیکن نزدیک ایسی پابندیاں نہ صرف غیر انسانی ہیں بلکہ استحصالی اور ایسی کسی قد غن و پابندی کو میں ماننے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔ چنانچہ میں اور بیگم ایک ڈبے سے دوسرے ڈبے تک اور دوسرے سے تیسرے یعنی بوگی نمبر 14 سے بوگی نمبر ایک تک، راستے میں حائل تمام دشواریاں جن میں وہ ٹرالیاں جو مسافروں کو کھانے پہنچا رہی تھیں، عبور کرتے، پھلانگتے آگے بڑھتے رہے،  راستے میں مجھے کیٹرنگ کے لوگوں نے روکا انہیں میں نے کہا کہ میں ٹی ٹی سے بات کرنے جا رہا ہوں پھر ایک ٹی ٹی نے روکا میں نے اس کو کہا کہ مجھے فرسٹ کلاس کا ٹکٹ نہیں ملا مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں ڈائننگ کار کے استعمال کے حق سے بھی محروم کر دیا جاؤں میں صرف ڈائننگ کار میں جانا چاہتا ہوں کھانا کھا کر واپس آجاؤں گا پہلے ٹی ٹی نے مجھ سے کہا کہ آپ میرے ساتھ ایک ڈیل کر لیں مجھے اس ڈیل کا مطلب خوب اچھی طرح پتہ ہے چونکہ ایسی ڈیلنگ پاکستان ریلوے میں بھی بہت ہوا کرتی تھی ۔

  • ای  چالان سسٹم  کے  فیل  ہونے  پر بلاول بھٹو زرداری سے کراچی والوں کے سوال…پاکستان واچ رپورٹ

    ای چالان سسٹم کے فیل ہونے پر بلاول بھٹو زرداری سے کراچی والوں کے سوال…پاکستان واچ رپورٹ

    ٭اندرونِ سندھ اور دیگر شہروں کی نمبر پلیٹوں والی گاڑیوں کے ای چالان آخر کس کھاتے میں جاتے ہیں؟ کیا یہ رقم سرکاری خزانے میں جمع ہوتی ہے؟
    ٭سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کے ای چالان اگر ہوتے ہیں تو کہاں جمع ہوتے ہیں؟ یا یہ قانون سے بالاتر ہیں؟
    ٭کیا وجہ ہے کہ تنخواہ دار طبقہ اور چھوٹا کاروباری باقاعدہ ٹیکس دیتا ہے، مگر پھر بھی اسے چوکیاں، کاغذی کارروائیاں اور تذلیل جھیلنا پڑتی ہے؟
    ٭اگر حقیقت یہ ہے کہ صرف دس فیصد شہری قانون کی پاسداری کر رہے ہیں، تو باقی نوے فیصد کے خلاف ریاست کی رِٹ کہاں ہے؟
    ٭رکشے اور چنچی بغیر لائسنس، بغیر فٹنس، بغیر نمبر پلیٹ آزاد کیوں ہیں؟ کیا ان پر قانون لاگو نہیں ہوتا؟
    ٭کراچی کے شہریوں کو تھیلوں میں بھر بھر کر چالان دیے جاتے ہیں، مگر ہوٹر لگانے والے، کالے شیشوں والی گاڑیاں اور پروٹوکول کلچر کیوں آزاد ہیں؟
    ٭کیا قانون صرف عام شہری کے لیے ہے اور طاقتور کے لیے نہیں؟
    ٭اسلحے کی کھلے عام نمائش کرنے والوں کوکوئی پوچھنے والا نہیں لگتا ہے کراچی کوئی شہر نہیں بلکہ علاقہ غیر ہے
    ٭اگر شہریوں پر اتنی سختی ہے تو کیا حکومت ٹریفک، ٹرانسپورٹ اور پولیس اصلاحات کا کوئی قابلِ عمل منصوبہ رکھتی ہے؟
    ٭آخر عام آدمی کس سے سوال کرے جب قانون بھی طاقتور کے ساتھ کھڑا نظر آئے؟

    ریاست کی رِٹ یا شہریوں کی آزمائش؟
    پاکستان میں عام شہری آج خود کو ایک ایسے دائرے میں گھرا ہوا محسوس کرتا ہے جہاں قانون کی موجودگی تو ہر جگہ دکھائی دیتی ہے، مگر انصاف کی جھلک کم کم نظر آتی ہے۔ خاص طور پر شہری مراکز میں، ٹریفک قوانین، ٹیکس نظام اور انتظامی رکاوٹیں ایک عام آدمی کی روزمرہ زندگی کو مشکل بنائے ہوئے ہیں۔ ایسے میں بلاول بھٹو زرداری جیسے قومی سطح کے رہنما سے عوام کے سوالات محض شکایات نہیں بلکہ ایک اجتماعی پکار ہیں کہ ریاست اپنی ترجیحات واضح کرے۔
    تنخواہ دار اور کاروباری طبقے پر ہی بوجھ کیوں ؟
    تنخواہ دار طبقہ اور چھوٹا کاروباری طبقہ ملک کی معیشت کا وہ ستون ہے جو باقاعدگی سے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر بالواسطہ ٹیکس ادا کرتا ہے۔ مگر اس کے باوجود یہی طبقہ چوکیاں، چالان، فائلوں اور دفتری چکروں میں سب سے زیادہ رْلتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو طبقہ پہلے ہی نظام کو سہارا دے رہا ہے، اسے مزید کیوں آزمائش میں ڈالا جاتا ہے؟ کیا ٹیکس دینا جرم بن چکا ہے؟
    چوکیاں اور تذلیل: قانون کا نفاذ یا طاقت کا مظاہرہ؟
    شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر قائم چوکیاں شہریوں کے لیے سہولت کے بجائے اذیت بن چکی ہیں۔ بار بار روکا جانا، کاغذات کی جانچ کے نام پر بدتمیزی اور غیر ضروری تاخیر عام ہے۔ اگر مقصد سکیورٹی ہے تو اس کا معیار سب کے لیے یکساں کیوں نہیں؟ اور اگر مقصد محض وصولی ہے تو اس کی قانونی حیثیت کیا ہے؟
    اندرونِ سندھ و دیگر شہروں کی نمبر پلیٹیں: چالان کہاں جاتے ہیں؟
    ایک بڑا سوال یہ ہے کہ اندرونِ سندھ یا ملک کے دیگر شہروں کی نمبر پلیٹوں والی گاڑیوں کے چالان آخر کس کھاتے میں جمع ہوتے ہیں؟ شہریوں کو شفافیت نظر نہیں آتی۔ اگر یہ رقوم سرکاری خزانے میں جمع ہوتی ہیں تو اس کی عوامی رپورٹ کیوں نہیں؟ اور اگر نہیں، تو ذمہ دار کون ہے؟
    سرکاری نمبر پلیٹ: قانون سے بالاتر یا بااختیار؟
    سرکاری نمبر پلیٹ والی گاڑیاں اکثر قوانین کی خلاف ورزی کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان کے چالان ہوتے بھی ہیں یا نہیں؟ اگر ہوتے ہیں تو کہاں جمع ہوتے ہیں؟ اور اگر نہیں ہوتے تو کیا سرکاری عہدہ قانون سے بالاتر ہونے کا لائسنس ہے؟ ریاست کی ساکھ اسی سوال کے جواب میں مضمر ہے۔
    صرف دس فیصد قانون پر عمل کیوں؟
    عام تاثر یہ ہے کہ صرف دس فیصد شہری قانون کی پاسداری کر رہے ہیں۔ اگر یہ درست ہے تو باقی نوے فیصد کے لیے قانون کہاں ہے؟ کیا قانون پر عمل درآمد شہری کی مرضی پر چھوڑ دیا گیا ہے؟ ریاست کا بنیادی فریضہ یکساں نفاذِ قانون ہے، ورنہ معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔
    رکشے اور چنچی: مکمل آزادی، مکمل بے قاعدگی
    بغیر لائسنس، بغیر فٹنس اور بغیر نمبر پلیٹ رکشے اور چنچی سڑکوں پر آزادانہ چلتی ہیں۔ حادثات، ٹریفک جام اور آلودگی میں ان کا حصہ سب کے سامنے ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان پر قانون لاگو نہیں ہوتا؟ یا یہ طبقہ محض اس لیے نظرانداز ہے کہ اس سے باقاعدہ وصولی مشکل ہے؟
    کراچی کے شہری: تھیلوں میں بھرے چالان
    کراچی کے شہریوں کو آئے دن بھاری چالانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ معمولی غلطی پر جرمانے، گاڑیوں کی ضبطی اور طویل قانونی کارروائیاں عام ہیں۔ دوسری طرف ہوٹر لگانے والی گاڑیاں، کالے شیشے اور غیر قانونی پروٹوکول بے روک ٹوک جاری ہے۔ یہ دوہرا معیار شہریوں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔
    پروٹوکول کلچر: قانون کس کے لیے؟
    ہوٹر، اسکارٹ اور وی آئی پی رویہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ طاقتور کے لیے قانون نرم اور عام شہری کے لیے سخت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آئین سب کو برابر نہیں کہتا؟ اگر کہتا ہے تو یہ امتیاز کیوں؟

    کراچی یا علاقہ غیر
    اسلحے کی کھلے عام نمائش کرنے والوں کوکوئی پوچھنے والا نہیں لگتا ہے کراچی کوئی شہر نہیں بلکہ علاقہ غیر ہے کہیں سختی، کہیں نرمی۔ یہ صورتحال ریاستی رِٹ کے لیے خطرناک ہے۔ قانون اگر ہر جگہ یکساں نہ ہو تو شہریوں میں بغاوت نہیں تو بددلی ضرور جنم لیتی ہے۔

    اصلاحات کا سوال: محض وعدے یا عملی منصوبہ؟

    عوام جاننا چاہتے ہیں کہ کیا حکومت کے پاس ٹریفک، ٹرانسپورٹ اور پولیس اصلاحات کا کوئی واضح اور قابلِ عمل منصوبہ ہے؟ یا ہر مسئلہ کی طرح یہ بھی محض تقاریر اور وعدوں کی نذر ہو جائے گا؟ اصلاحات کے بغیر نفاذِ قانون محض دباؤ بن کر رہ جاتا ہے۔

    عام آدمی کس سے سوال کرے؟

    جب قانون طاقتور کے ساتھ کھڑا نظر آئے تو عام آدمی کے پاس سوال کرنے کے لیے کون سا دروازہ رہ جاتا ہے؟ عدالتیں مہنگی، دفاتر سست اور نمائندے خاموش یہ خلا خطرناک ہے۔ جمہوریت میں سوال کرنا حق ہے، اور اسی حق کے تحت یہ سوالات بلاول بھٹو زرداری سمیت تمام قیادت کے سامنے رکھے گئے ہیں
    یہ مضمون الزام نہیں بلکہ احتساب کا مطالبہ ہے۔ عوام قانون سے بھاگنا نہیں چاہتے، وہ صرف برابری چاہتے ہیں۔ اگربلاول بھٹو ان سوالات کا سنجیدگی سے جواب دیں اور یکساں نفاذِ قانون یقینی بنائیں تو اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر، یہ خلیج مزید گہری ہوتی جائے گی اور اس کا نقصان صرف عوام نہیں، ریاست کو بھی ہوگا۔

  • لوکل باڈیز رپورٹرز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام جرنلسٹ کنونشن….رپورٹ:نشیدآفاقی

    لوکل باڈیز رپورٹرز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام جرنلسٹ کنونشن….رپورٹ:نشیدآفاقی

    وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے یوتھ افئیرز سندھ ڈاکٹر فہد شفیق ،امتیاز فاران،عارف ہاشمی،خالد آرائیں،کامران زہری مزدور رہنما عبدالمتین، مشتاق بلوچ ودیگر کا خطاب
    لبرا کے سرپرست شہزاد چغتائی، چئیرمین ندیم صدیقی ،صدر تنویر سید ، جنرل سکریڑی عمران علی شاہ ،سکریڑی اطلاعات رضوان جلالی ودیگر ممبران کنونشن کے دوران مسلسل متحرک رہے
    وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے یوتھ افئیرز سندھ ڈاکٹر فہد شفیق نے کہا ہے کہ صحافی ملک و قوم کی نظریں اور کان ہیں، ان کے مسائل کے حل کے بغیر شفاف اور ذمہ دارانہ صحافت کا فروغ ممکن نہیں۔” انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کے تحفظ اور ان کے پیشہ ورانہ معیار کو بہتر بنانے کے لیے مربوط پالیسی پر فوری عملدرآمد ضروری ہے ہم صحافیوں کو ہر ممکن سہولتیں دلوائیں گے انہوں نے کہا کہ پرائم منسٹر ڈیجیٹل یوتھ ہب ہے یہ ایپلیکیشن اے آئی بیسڈ ہے آئی او ایس اور اینڈرائڈ دونوں پر یہ ایپلیکیشن موجود ہے اس کو ڈاؤن لوڈ کریں اور اپنے لیے سہولتوں کو تلاش کریں ان خیالات کا اظہار انہوں نے لوکل باڈیز رپورٹرز ایسوسی ایشن کے جرنلسٹ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ اس ایپلیکیشن کے ذریعے آپ اپنے لیے سہولتوں کو تلاش کریں ہم لیپ ٹاپ بھی دے رہے ہیں 75 لاکھ روپے تک کا قرضہ دیا جا رہا ہے اور انٹرن شپ کی سہولت بھی فراہم کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ایمپلائمنٹ کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے جس کے ذریعے نیشنلی اور انٹرنیشنلی ایمپلائمنٹ جنریٹ ہوگی انہوں نے کہا کہ ہم یوتھ ٹریننگ بھی کراتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ اتنی ساری سہولت کی چیزیں ہیں کہ آپ وہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے انہوں نے کہا کہ میں کہتا ہوں کہ لبرا کی پوری ٹیم ہمارے پاس آئے ہم ان کو پریزنٹیشن دیں گے میں چاہتا ہوں کہ اس اچھے پروگرام کو تیزی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے قبل ازیں لبرا کے صدر تنویر سید نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لوکل باڈیز رپورٹرز ایسوسی ایشن کے تحت اب تک متعدد کامیاب پروگرام منعقد ہو چکے ہیں سب سے اہم پروگرام مزار قائد پر حاضری کا تھا جس میں 30 سے زائد ممبران نے شرکت کی انہوں نے کہا کہ ہم نے بڑی کوششوں کے بعد وہاں حاضری کی اجازت لی تھی ہمارے پلیٹ فارم پر سینیئر صحافی موجود ہیں مگر جب بڑی تعداد میں ہمارے ممبران ہو جائیں گے تو ہم ان کی اسکروٹنی بھی کریں گے ہم نے ان سب سے فارم بھی بھروائے ہیں لہذا اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ ہمارے پلیٹ فارم پر کوئی غیر صحافی موجود ہو انہوں نے کہا کہ صحافت کی آڑ میں کرائم کرنے والوں کی ہم ہمیشہ سے مذمت کرتے آئے ہیں صاف ستھری صحافت کا فروغ ہمارا عزم ہے اسی لیے جوق در جوق صحافی ہمارے ممبر بن رہے ہیں اس پلیٹ فارم کا مقصد صحافیوں کی فلاح و بہبود ہے انشاء اللہ اس حوالے سے مختلف منصوبوں پر عمل درآمد کیا جائے گا ، لبرا کے سرپرست اعلیٰ شہزاد چغتائی نے کہا کہ یہ اجتماع صرف تقریریں کرنے کے لیے نہیں بلکہ عملی اقدامات کا نقطہ آغاز ہے۔ سینئر صحافی فیصل راجپوت نے اپنے خطاب میں بتایا کہ جب میں دل کے عارضے میں مبتلا اسپتال میں داخل ہوا تو میرے دل کے آپریشن کے وقت میرے ساتھ ہمدردی اور میری ڈھارس کے لیے (LBRA) اسپتال میں موجود رہی، اس میں کوئی شک نہیں کہ لوکل باڈیز رپورٹرز ایسوسی ایشن واقعی صحافیوں کی ہمدرد اور نمائندہ جماعت ہے۔ کنونشن کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کے لیے جامع تحفظ کا قانون فوری طور پر نافذ کیا جائے، پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع بڑھائے جائیں، اور میڈیا مالکان کو صحافیوں کے معاشی حقوق دینے پر آمادہ کیا جائے۔ کراچی کے بلدیاتی مسائل پر خصوصی مکالمے میں شہر کی ٹرانسپورٹ، پانی، صفائی اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی میں میڈیا کے کردار پر تبادلہ خیال کیا گیاکنونشن میں بڑی تعداد میں صحافیوں اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ ا افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی کنونشن کا نظم و ضبط مثالی رہا اور بنیادی طور پر لبرا کے کنونشن کو کامیاب ترین کنونشن قرار دیا جا سکتا ہے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سینیئر صحافی امتیاز خان فاران نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم جہاں کراچی پر تنقید کرتے ہیں کراچی کے اداروں پر تنقید کرتے ہیں وہیں کراچی کا اچھا چہرہ بھی ہمیں دکھانا چاہیے انہوں نے کہا کہ کراچی میں ملک کی اہم ترین شخصیات رہتی ہیں جیسے ٓاپ ڈاکٹر ادیب رضوی کو ہائی لائٹ کریں آپ انڈس ہاسپٹل کو ہائی لائٹ کریں ایس آئی یو ٹی کو ہائی لائٹ کریں جاوید میاداد کو ہائی لائٹ کر یں کراچی کا اچھا چہرہ دکھائیں یہی نہیں ہے کہ کراچی میں صرف سڑکوں پر گڑھے پڑے ہوئے ہیں سڑکیں تباہ ہیں بلکہ یہاں اچھے لوگ بھی موجود ہیں جو اچھا کام کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ صحافی کا بھی احتساب ہونا چاہیے اور یہ بہت ضروری ہے انہوں نے کہا کہ صحافیوں کا فرض ہے کہ وہ ایک دوسرے کو سپورٹ کریں اور جب بھی آپ کا کوئی ساتھی صحافی مشکل کا شکار ہو تو اس کے ساتھ کھڑے ہوں اس کی بھرپور حمایت کریں اسی طریقے سے جس طرح سے ہم اسلم شاہ کے ساتھ کھڑے ہوئے اور آج اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ان کی ضمانت ہو گئی ہے اور یہ ہمارے لیے ایک ٹیسٹ کیس کی حیثیت رکھتا ہے انشاء اللہ تعالی آئندہ اس قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صحافی پوری طرح سے تیار ہیں اور جو افسران بدعنوانی میں ملوث ہیں اور وہ صحافیوں کو خبر لگانے سے روکنا چاہتے ہیں ہم ان کے خلاف گھیرا تنگ کریں گے اور مثبت صحافت کو فروغ دیں گے انہوں نے کہا کہ ہم مالکان کی حمایت میں بھی مظاہرے کرتے ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان اداروں میں ہزاروں لوگ کام کرتے ہیں اسی وجہ سے ہم صحافیوں کے روزگار کو تحفظ دینے کے لیے مالکان کا ساتھ دیتے ہیں اور ان کے لیے ا مظاہرے کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ مادر پدرآزاد صحافت کی ہرگز بھی اجازت نہیں ہونی چاہیے انہوں نے کہا کہ جب بھی مجھے موقع ملتا ہے تو میں ہر یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کرتا ہوں میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے جو بھی یوٹیوب پر کام کر رہے ہیں ان چینلز کو سبسکرائب کریں تاکہ وہ جلد از جلد مونو ٹائز ہوں اور ان کے لیے آمدنی کے ذرائع پیدا ہوں انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر حالات و واقعات کی روشنی میں اب ضرورت اس بات کی ہے کہ صحافی خود ہی اپنے لیے روزگار کے اسباب پیدا کریں اور اس کے لیے سوشل میڈیا سے بہتر اور کوئی ذریعہ نہیں ہو سکتا اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے کہ جب ہم ایک دوسرے کا ساتھ دیں ایک دوسرے کے کام کو آگے بڑھائیں جب تک ہم ایک دوسرے کو سپورٹ نہیں کریں گے اسوقت تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا ہے
    چینل 5 کے سی ای او خالد آرائیں نے کہا کہ رکاوٹیں تو ہر کام میں آتی ہیں اسی طرح صحافت کے میدان میں بھی رکاوٹیں آ رہی ہیں لیکن ہم اپنے اتحاد کے ذریعے ان رکاوٹوں کو دور کریں گے اور تمام معاملات کو حل کریں گے انہوں نے کہا کہ میٹرو ون چینل نے نرسری کا کردار ادا کیا وہاں سے صحافیوں نے بہت ساری چیزیں سیکھ کر بڑے اداروں میں کام کرنا شروع کیا اور آج وہ مشہور صحافی بن چکے ہیں انہوں نے کہا کہ ٹی وی چینل میں فرعون بیٹھے ہیں مگر اس کے باوجود لوگوں کا کام بولتا ہے جو لوگ کام اچھا کرتے ہیں ان کو کام کرنے سے کوئی روک نہیں سکتا انہوں نے کہا کہ لوکل باڈیز کی رپورٹنگ کرنے والے بنیادی کام کر رہے ہیں یہ سب سے اہم صحافت ہے انہوں نے کہا گلی محلے کی خبریں بنانا دراصل صحافت کی شہہ رگ ہے انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ وہ اپنا کام جاری رکھیں اپنا اتحاد برقرار رکھیں اور مثبت صحافت کو فروخت دیں اس موقع پر چینل فائیو کے بیورو چیف کامران زہری نے بھی خطاب کیا کنونشن میں لبرا کے صدرتنویر سید کے ساتھ ساتھ سرپرست اعلی سینیئر صحا فی شہزاد چغتائی اور سینیئر صحافی اور لبرا کے چیئرمین ندیم صدیقی جنرل سیکرٹری عمران علی شاہ بھی بھرپور انداز میں سرگم نظر آئے اسی کے ساتھ سیکرٹری اطلاعات رضوان جلالی بھی متحرک رہے۔ اس موقع پر سابق ڈی جی کے ڈی نوید انور،کے ڈی اے لیبر یونین یونٹ کے چیف سید عمران جعفری،محمد عبدالمعروف،پیپلزلیبر بیوروکے جنرل سیکریٹری محمد اشرف، سمیت دیگر مزدور رہنما عمر شاہ، عبدالمتین بھی موجود تھے، کنونشن میں سینئر صحافی و ملک کے معروف دستاویزی فلم ساز ادارے “دی امیجز پاکستان پروڈکشن” کے سی ای او شہزاد علی شاہ، چینل فائیو کے کامران زہری، سندھ اسمبلی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر عارف ہاشمی، سینئر صحافی جہانگیر سید، سانول شیخ، میٹرو نیوز چینل کے امیر حیدر چانڈیو، تحسین عباسی،عدنان غوری،اسلم خان، محمود الحسن، اسد اللہ صدیقی،تحسین کمال، اعجاز لودھی، فاضل، محمداشتیاق، عدیل احمد، محمد نعیم بیگ،ملک منور،فرحان ہاشمی، اسد ملک، محمد ناصر، فوٹو جرنلسٹ ابوالحسن،محمد جنید، وقار چوہان، جبکہ لوکل باڈیز رپورٹرز ایسوسی ایشن کے تمام اراکین و عہدیداران نے بھی کنونشن کے اجتماع میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

  • ادبی تنظیم   ’’ادب دوست  ‘‘ کے زیر اہتمام عبداللہ گرلز کالج  میں مشاعرہ  رپورٹ :بشیر سدوزئی

    ادبی تنظیم ’’ادب دوست ‘‘ کے زیر اہتمام عبداللہ گرلز کالج میں مشاعرہ رپورٹ :بشیر سدوزئی

    کراچی کو اگر محض عمارتوں کا جنگل اور آبادی کا سیلاب سمجھ لیا جائے تو یہ اس شہر کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ یہ شہر روزِ اول سے زبان و ادب، فہم و فکر اور تخلیق کا وہ زندہ استعارہ رہا ہے جہاں سیاست کی گرد کے ساتھ ساتھ لفظوں کے چراغ بھی جلتے ہیں۔ یہاں آرٹس کونسل آف پاکستان جیسے معتبر ادارے ہیں، فنونِ لطیفہ کی جامعات موجود ہیں، اور سب سے بڑھ کر وہ خاموش مگر مسلسل کوششیں ہیں جو ادب کو زندگی سے جوڑے رکھتی ہیں۔ انہی کوششوں میں ایک معتبر نام گل افشاں اور شاہ فہد کی ادبی تنظیم ‘‘ادب دوست’’ کا ہے۔
    ادب دوست برسوں سے کراچی میں ادب، شعور اور فکری تربیت کی روایت کو بغیر کسی شور شرابے کے روشن رکھے ہوئے ہے۔ بالخصوص تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کو حرف کی حرمت، شاعری کے ذوق اور اظہار کی ذمہ داری سے آشنا کرنا اس تنظیم کا نمایاں وصف ہے۔ یہ سہل گراں قدر دبستان کراچی کی ادبی فضا میں ایک منفرد مثال بن چکا ہے، جہاں ادب محض مشغلہ نہیں بلکہ تربیتِ ذہن کا وسیلہ بنتا ہے۔
    اسی سلسلے کی ایک اہم اور بامعنی کڑی عبداللہ گرلز کالج میں منعقد ہونے والا مشاعرہ تھا، جو محض ایک ادبی تقریب نہیں بلکہ نسلِ نو اور شعر کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کرنے کی کوشش تھی۔ اس مشاعرے کی صدارت پاکستان کے معروف مزاحیہ شاعر خالد عرفان اور نامور استاد و کراچی کی منفرد شاعرہ پروفیسر رضیہ سبحان نے کی، جب کہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر فیاض احمد شاہین نے نہایت سلیقے سے انجام دیے، جو خود بھی ترنم کے بہترین شاعر ہیں۔
    مشاعرے کا آغاز کالج کی سالِ اوّل کی طالبہ دعا کی پرسوز نعتِ مقبول سے ہوا، جس نے فضا کو روحانی وقار عطا کیا۔ اس کے بعد سامیہ ناز کو پہلی شاعرہ کے طور پر مدعو کیا گیا۔ پھر ہما عظمیٰ نے اپنا کلام پیش کیا۔ پروفیسر شائستہ سحر کو جب دعوتِ سخن دی گئی تو انہوں نے دھیمے لہجے میں یہ احتجاج ریکارڈ کرایا کہ شاعری کی دنیا میں ان کی پہچان میں کچھ کوتاہی ہوئی ہے، کیوں کہ وہ اس رتبے سے سینئر شاعرہ ہیں۔ تاہم اس احتجاج کے باوجود انہوں نے کلام سنایا اور بھرپور داد سمیٹی۔
    ہدایت ساحر نئے طرزِ تکلم کے ساتھ کراچی کے ادبی منچ پر نمودار ہو رہے ہیں۔ ان کے ایک شعر پر خالد معین نے برجستہ ایک جملہ کہا ہدایت
    ساحر نے پلٹ کر پیچھے دیکھا تو ‘‘اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی’’ کے مصداق، دوستوں کے طنزیہ نشتر سامنے تھے۔ خالد معین نے صورتِ حال سنبھالتے ہوئے کہا:
    ‘‘جاری رکھو، نوجوانوں کی ضرورت ہے۔’’
    ہدایت ساحر نے اپنا طرز جاری رکھا اور ترنم سے کلام پڑھا اور حاضرین سے داد وصول کی۔
    پروفیسر رضوانہ زائد صدیقی کے بعد مشاعرے کی آرگنائزر اور نسائی لب و لہجے کی منفرد شاعرہ گل افشاں نے کلام سنایا۔ گل افشاں اپنی منفرد اور عوامی شاعری کے باعث نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔ آج بھی طالبات نے انہیں توجہ سے سنا اور ایک ایک شعر پر داد
    دی۔ ڈاکٹر افتخار ملک نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔ طالبات کی جانب سے شعر کو سمجھ کر دی جانے والی داد اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ ادب دوست کی محنت رنگ لا رہی ہے۔
    مہمانِ خصوصی ڈاکٹر افتخار ملک ایڈووکیٹ نے کلام پیش کرنے سے قبل نہایت معنی خیز بات کہی کہ:
    ‘‘ہم مشاعرے کی روایت لے کر کالج کالج جا رہے ہیں، اسی باعث آج بچوں اور شاعری کے درمیان رشتہ قائم ہو چکا ہے۔’’
    مختلف کالجوں میں مشاعروں کا انعقاد اور نوجوانوں کی باخبر داد اس بات کا اعلان ہے کہ شعر اب محض اسٹیج تک محدود نہیں رہا بلکہ طالب علموں کے دلوں میں اتر رہا ہے۔
    ‘‘ہم آپ کے لیے آئے ہیں، اور آپ ہمارے لیے’’ افتخار ملک کا یہ جملہ دراصل اسی ادبی رشتے کا اعتراف تھا جو شعراء اور کراچی کے نونہالوں کے درمیان قائم ہو چکا ہے۔
    شہر کے سینئر شاعر و ادیب اور مشاعرے کے مہمان خصوصی خالد معین نے طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اچھے شعر پر داد دینا اور جوش کا اظہار آپ کا حق ہے، مگر تالیاں بجانا مشاعرے کی روایتی صورت نہیں رہی۔ تاہم آپ نئے وقت کی نمائندہ ہیں، اس لیے یہ شوق بھی پورا کریں، مگر ساتھ ساتھ مشاعرے کی روایت اور آداب کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
    خالد معین نے موقع کی مناسبت سے اپنا معروف کلام پیش کر کے بھرپور داد وصول کی۔ اس موقع پر ہمیں جوانی کے وہ دن یاد آ گئے جب 1989ء میں، ایم اے سالِ دوم ابلاغیات کے امتحانات کی تیاری کے دوران، مسلم لیگ کوارٹرز ناظم آباد میں ایس ایم شجاع عباس کے گھر قیام کے دوران، خالد معین نے پہلی بار یہ کلام سنایا تھا۔ آج جب انہوں نے وہی نظم طالبات کے سامنے پڑھی تو کہا:
    ‘‘میری بچیوں اور اساتذہ کے لیے یہ دعا ہے’’
    رات آنکھوں میں کاٹنے والو، شاد رہو آباد رہو
    بارِ ہجر اٹھانے والو، شاد رہو آباد رہو
    کچی عمر میں کل کے دکھوں سے آج الجھنا ٹھیک نہیں
    پہلا ساون بھیگنے والو، شاد رہو آباد رہو
    اب آئے ہو سارے دیے جب ایک ایک کر کے بجھ بھی گئے
    لیکن لوٹ کے آنے والو، شاد رہو آباد رہو
    خانہ بدوشی ایک ہنر ہے، رفتہ رفتہ آئے گا
    رنجِ مسافت کھینچنے والو، شاد رہو آباد رہو
    ایک دریچے سے دو آنکھیں روز صدائیں دیتی ہیں
    رات گئے گھر لوٹنے والو، شاد رہو آباد رہو
    ہجر زدوں پر خود نہیں کھلتا کس عالم میں رہتے ہیں
    حال ہمارا پوچھنے والو، شاد رہو آباد رہو
    پروفیسر رضیہ سبحان قریشی، جو اسی کالج کی سابق پرنسپل رہ چکی ہیں، کلام پیش کرنے سے قبل یادوں کے دریچوں میں کھو گئیں۔ جذبات کے بہاؤ میں طویل گفتگو کے بعد جب گل افشاں نے مسکراتے ہوئے یاد دہانی کرائی کہ
    ‘‘میڈم، کلاس نہیں، مشاعرہ چل رہا ہے’’
    تو انہوں نے کہا:
    ‘‘میں جذباتی ہو گئی تھی’’
    اور پھر یہ شعر پڑھا:
    ‘‘یہ تو وہی جگہ ہے، گزرے تھے ہم جہاں سے’’
    چند لمحے توقف کے بعد بولیں:
    ‘‘یہ میرا مہکا ہے، آدھی سے زیادہ عمر یہاں گزاری ہے۔’’
    طالبات نے تالیوں کی گونج میں اپنی سابق پرنسپل کو خوش آمدید کہا۔
    صدرِ مشاعرہ خالد عرفان نے بھی ماضی کی ایک جھلک دکھاتے ہوئے کہا کہ اس کالج کی دیواریں ان کے لیے اجنبی نہیں، گرلز کالج بننے سے پہلے یہ بوائز کالج تھا اور وہ خود یہاں طالب علم رہ چکے ہیں۔ یوں یاد، لفظ اور لمحہ ایک ہی اسٹیج پر ہم کلام ہو گئے۔ خالد عرفان کی شاعری نے ہال میں گویا طوفان برپا کر دیا۔ راہداریوں میں کھڑی طالبات بھی ہال میں امڈ آئیں اور ہر مصرع پر داد و شور کا ایسا عالم تھا کہ فضا گونج اٹھی۔ طنز و مزاح کے اس بے تاج بادشاہ نے ایسی یادیں چھوڑیں کہ سامعین مدتوں مسکراتے رہیں گے۔
    تقریب کے اختتام پر پرنسپل پروفیسر نصرت شمس ملکانی نے مہمانوں اور منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کالج اور شعراء کے درمیان یہ خوشگوار تعلق برقرار رکھنے کے لیے سالانہ مشاعرہ منعقد کیا جاتا ہے۔ طالبات کی دلچسپی اس بات کی گواہی تھی کہ اگر خلوص، تسلسل اور مقصد
    واضح ہو تو ادب آج بھی نئی نسل کے دلوں میں اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔
    کراچی کی ادبی فضا میں ایسے چراغ کم ہی ہیں، مگر جب جلتے ہیں تو دور تک روشنی دیتے ہیں۔ ادب دوست، گل افشاں، شاہ فہد اور ان کی ٹیم کی یہ کاوش اسی روشن روایت کا تسلسل ہے،خاموش، مگر دیرپا۔ شاعر خورشید احمد جو تاخیر سے پہنچے مشاعرے کا حصہ نہیں بن سکے کہ جب مجلس صدور مشاعرہ پڑھ رہی تھی تو وہ ہال میں داخل ہوئے انتظامیہ اس شیش و پنچ میں پھنس گئی کہ اب کیا کیا جائے تاہم مجلس صدور سے فیصلہ آیا کہ مشاعرے کی یہ روایت نہیں کہ اب نئے آنے والے کو مشاعرہ پڑھنے کی اجازت دی جائے۔ پروفیسر انیس زیدی، پروفیسر رخسانہ ناز عنبرین سمیت بڑی تعداد میں معززین شہر اور اساتذہ نے اس مشاعرے میں خصوصی شرکت کی۔

  • گل پلازہ آتشزدگی؛ جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہوگئی، 73 افراد تاحال لاپتا

    گل پلازہ آتشزدگی؛ جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہوگئی، 73 افراد تاحال لاپتا

    کراچی:(اسٹاف رپورٹر)ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ پر بالآخر 36 گھنٹے گزرنے کے بعد قابو پا لیا گیا ہے،آتشزدگی کے باعث عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے۔
    فائر فائٹرز کو متاثرہ عمارت سے گزشتہ رات سے اب تک مزید ایک بچے سمیت 5 افراد کے اعضاء ملے ہیں، جس کے بعد ایک فائر فائٹر سمیت ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 15 ہوگئی ہے جبکہ 54 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
    ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، آپریشن کے دوران لاشیں نکلنے کا سلسلہ بھی جاری ہے جبکہ ناقابل شناخت لاشوں کو امانتاً ایدھی سرد خانے میں رکھوا دیا گیا ہے۔
    چیف فائر آفیسر ہمایوں احمد نے میڈیا سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گل پلازہ میں مرکزی آگ کو مکمل طور پر بجھا دیا گیا ہے، اور اس وقت کولنگ کا عمل چل رہا ہے۔
    اس سے قبل آج صبح بروز پیر کے مطابق گل پلازہ میں لگنے والی اگ پر 36 گھنٹے گزرنے کے باوجود تاحال مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا تھا، عقبی حصے کی طرف سیکنڈ فلور اور گراؤنڈ فلور میں اب بھی آگ لگی ہوئی ہے۔
    گل پلازہ کی عقبی سائیڈ پر فائر بریگیڈ کی تمام گاڑیوں نے کام بند کر دیا، کیونکہ آگ بجھانے کے عمل کے دوران عمارت سے آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں۔
    فائر بریگیڈ کے مطابق عمارت مکمل طور پر خستہ حال ہو چکی ہے اور اس کے گرنے کا خدشہ ہے اسی لیے فائر فائٹنگ روک دی گئی ہے، صرف ملبے کو ہٹایا جا رہا ہے۔
    تفصیلات کے مطابق گل پلازہ کے قریب عمارت میں آتشزدگی کے باعث ملبے تلے سے رات گئے ایک شخص کی لاش کو چھیپا حکام نے نکال لیا ہے جس کی شناخت تاحال نہ ہو سکی ہے، جبکہ دوسری لاش ٹکڑوں کی صورت میں برآمد ہوئی جسے ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد سول اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
    کراچی ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں ہفتے کی رات سوا دس بجے آگ بھڑک اٹھی جو بڑھتی ہی چلی گئی، فائربریگیڈ کی گاڑیاں بڑی تعداد میں پہنچیں مگر آگ بڑھتی ہی رہی، آتشزدگی سے عمارت کے دو حصے گر گئے۔

    چیف فائر افسر ہمایوں نے بتایا تھا کہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر 80 فیصد قابو پا لیا گیا ہے اور کئی مقامات پر اگ کے شعلے تھم گئے، فائر اینڈ ریسکیو رضاکاروں کو اندر بھیجنا شروع کر دیا گیا ہے۔
    ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے حوالے سے بتایا کہ پولیس نے 59 افراد کی مسنگ پر مختلف لوگوں سے رابطہ کیا اور تمام افراد کے ان کی فیملیز سے موبائل نمبر حاصل کیے گئے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ اب تک 26 افراد کی لوکیشن گل پلازہ کے پاس ملی، مزید افراد کی لوکیشن کی اسکرونٹی کررہے ہیں اور پولیس موبائل نمبرز پر مزید کام کر رہی ہے۔
    اسپتالوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق دھوئیں سے حالت غیر ہونے والے افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا، دو فائر فائٹرز ارشاد اور بلال زخمی ہوئے جو پی این ایس شفا میں زیر علاج ہیں، مجوعی طور پر تیس افراد زخمی ہوئے جن میں سے 13 برنس سیںٹر، پندرہ اس کے ٹراما سینٹر میں اور دو جناح اسپتال لائے گئے۔
    ریسکیو حکام کی جانب سے جاں بحق اور زخمی افراد کی فہرست جاری
    ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں کاشف ولد یونس (40 سال)، فراز ولد ابرار (55 سال)، محمد عامر ولد نامعلوم (30 سال)، فرقان ولد شوکت علی (25 سال) سمیت 5 دیگر افراد شامل ہیں جن کی لاشوں کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی۔
    زخمی اور متاثرہ افراد میں حسیب ولد وسیم (25 سال)، وسیم ولد سلیم (20 سال)، دانیال ولد سراج (20 سال)، صادق ولد نامعلوم (35 سال)، حمزہ ولد محمد علی (22 سال)، رحیم ولد گل محمد (25 سال)، فہد ولد محمد ایوب (20 سال)، جواد ولد جاوید (18 سال)، ایان ولد نامعلوم (25 سال)، عبداللہ ولد ظہیر (20 سال)، عثمان ولد اصغر علی (20 سال)، فہد ولد حنیف (47 سال)، زین ولد عبداللہ (23 سال)، نادر ولد نامعلوم (50 سال) اور دیگر شامل ہیں۔
    تاحال 59 افراد لاپتا، ناموں کی فہرست سامنے آگئی
    قبل ازیں ڈپٹی کمشنر کو لوگوں نے شکایات درج کرائی تھیں کہ 56 افراد لاپتا ہیں جبکہ صدر گل پلازا تاجر ایسوسی ایشن کے مطابق 80 سے 100 افراد عمارت میں موجود ہوسکتے ہیں تاہم ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا کہ 59 افراد لاپتا ہیں جن کی تفصیلات حاصل کرلی گئی ہیں۔
    55 سے زائد افراد کیلئے لوگوں نے ہم سے رابطہ کیا ہے، فیصل ایدھی
    ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے کہا ہے کہ عمارت میں 55 سے زائد افراد لاپتا ہیں جن کے ورثاء نے ہم سے رابطہ کیا ہے، فائرفائٹر اپنی جانوں کی قربانی دیکر آگ بجھانے اور لوگوں کو بچانے کی کوشیش کررہے ہیں، عوام سے گزارش ہے پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں عمارت سے دور ہیں۔
    تاجروں کے نقصانات کا ازالہ کریں گے، وزیراعلیٰ سندھ کا دورہ
    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازا کا دورہ کیا۔ میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ لوگ یہاں خریداری کرنے آتے ہیں، آج کل شادیوں کا سیزن ہے، کل رات 10بجے کے بعد یہاں آگی لگنے کی اطلاع ملی، ہماری میونسپل اتھارٹیز نے فوری ریسپانس کیا اور مجھے اطلاع دی، 10 بج کر 27 منٹ پر یہاں پہلا فائر ٹینڈر پہنچا، آگ بجھانے کی کارروائی شروع ہوئی، تقریباً 26 فائر ٹینڈرز، چار اسنارکل اور 10 باؤزر نے حصہ لیا، کے ایم سی کے علاوہ پاکستان نیوی نے بھی اپنا ایک اسنارکل دیا؛ سول ایوی ایشن اتھارٹی سے بھی 3 آگ بجھانے کی مشینیں آئیں لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہ ابھی تک کی معلومات کے مطابق 6 لوگوں کی جانیں گئی ہیں جس میں ایک کے ایم سی کا فائرفائٹر بھی ہے۔
    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 22 لوگ زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد دی گئی، افسوس کی بات یہ ہے کہ 58 یا 60 سے بھی زائد افراد لاپتا ہیں، اللہ تعالیٰ اُن کو زندگی دے، یہ بیسمنٹ گراؤنڈ اور تین منزلہ عمارت تھی، یہاں تقریباً ایک ہزار سے زائد دکانیں تھیں، جس طریقے سے آگ لگی ہے ابھی حتمی طورپر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، کچھ کہتے ہیں کہ کسی ایک دکان میں شارٹ سرکٹ کے بعد یہ آگ لگی اور وہاں ایسا میٹریل موجود تھا کہ جس کی وجہ سے آگ فوری پھیل گئی، فائر فائٹرز کو اندر جانے کی جگہ نہیں مل رہی تھی جس کی وجہ سے نقصانات میں اضافہ ہوا۔
    ایک سوال پر انہوں ںے کہا کہ وزیراعظم صاحب نے مجھ سے ذاتی طور پر رابطہ نہیں کیا، ہوسکتا ہے حکومت سے کیا ہو، مجھے جلدی آنا چاہیے تھا مگر افسوس کہ میں یہاں موجود نہیں تھا، میں تقریباً 5 بجے کے قریب شہر آیا ہوں، میں تمام تر حالات کا جائزہ لے کر یہاں آیا ہوں، جو لوگ انتشار پھیلاتے ہیں میں اُن پر دھیان نہیں دیتا۔
    ان کا کہنا تھا کہ کوشش کریں گے کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں، تاجروں کے نقصان کا ازالہ کریں گے، ہمارے کے ایم سی اور 1122 کے فائر فائٹرز والوں کے پاس مہارت موجود ہے، اگر کسی اور کی ضرورت پڑی تو ضرور اپروچ کریں گے، کسی سے مدد طلب کرنا کوئی مضحکہ عمل نہیں ہوگا، یہ بلڈنگ بھی 80 کی دہائی میں تعمیر ہوئی ہے، اُس وقت یا اُس سے پہلے ایسا نظام لایا گیا جس کو ہم بھی نہ سنبھال سکے۔
    گل پلازا میں 1200 دکانیں موجود تھیں، ڈی آئی جی ساؤتھ
    ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا ہے کہ گل پلازا میں تیسرے درجے کی آتشزدگی کا واقعہ ہوا، پولیس، سیکیورٹی ادارے اور ریسکیو ٹیمیں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ریسکیو آپریشن میں مصروف عمل ہیں، آگ پر کافی حد تک قابو پالیا ہے، سندھ حکومت کی ہدایت پر ساؤتھ زون پولیس نے ہیلپ لائن قائم کر دی ہے۔
    انہوں ںے بتایا کہ لاپتا افراد سے متعلق معلومات جمع کی جارہی ہیں، حادثے میں رات سے اب تک 6 لاشیں نکال لی گئی ہیں جو کہ شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کردی ہیں،ریسکیو اہلکار فرقان بھی شہدا میں شامل ہے، 22 زخمی سول اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، گل پلازا میں 1200 دکانیں موجود تھیں۔
    ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق گل پلازا کے اطراف پولیس کی اضافی نفری تعینات ہے، ریسکیو ٹیموں کے لیے راستے کلیئر رکھے جا رہے ہیں، آگ لگنے کی اصل وجہ کولنگ کے بعد تحقیقات میں سامنے آئے گی۔
    فائر بریگیڈ کی 20 سے زائد گاڑیوں نے آپریشن میں حصہ لیا
    فائر بریگیڈ حکام کے مطابق عمارت میں آگ رات گئے لگی، آگ کو تیسرے درجے کی قرار دیا گیا، گل پلازا کے قریب عقبی حصہ گرنے سے ایک فائر فائٹر دب کر جاں بحق ہوا، شہر بھر سے 20 سے زائد فائر بریگیڈ کی گاڑیاں آپریشن میں مصروف ہیں، عمارت کے باہر دو اسنارکل بھی آگ پر قابو پانے میں مصروف ہیں۔
    فائر بریگیڈ حکام نے بتایا کہ عمارت کی صورتحال مخدوش ہے اس لیے عمارت کے اندر داخل نہیں ہوا جاسکتا، عمارت سے ملبہ ہٹانے کے بعد صورتحال واضح ہوسکے گی۔
    چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں اور گودام آگ کی لپیٹ میں ہیں، آگ کو تیسرے درجے کی قرار دے کر شہر بھر سے فائر ٹینڈرز طلب کرلیے گئے ہیں، پھنسے ہوئے افراد کو اسنارکل کی مدد سے نکالا جا رہا ہے۔
    حکام کے مطابق شاپنگ پلازا پر لگی آگ تیسری منزل تک پہنچ گئی جبکہ گل پلازا میں بیسمنٹ مارکیٹ بھی موجود ہے۔ آگ کے باعث عمارت خستہ حال ہو چکی اور کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔
    سی پی ایل سی ہیلپ ڈیسک قائم، لاشوں کی شناخت ڈی این اے سے ہوگی، 40 افراد نے رابطہ کرلیا
    سی پی ایل سی شناخت پروگرام کی ٹیم نے سول اسپتال ٹراما سینٹر کے باہر کیمپ لگادیا۔ انچارج عامر حسن کے مطابق متاثرین اپنے لاپتا پیاروں سے متعلق تفصیلات سی پی ایل سی ہیلپ ڈیسک پر فراہم کرسکتے ہیں، شناخت ٹیم سانحات میں جاں بحق افراد کی درست شناخت اور ورثاء کا سراغ لگانے کا کام انجام دیتی ہے
    انچارج کے مطابق ملبے اور عمارت میں اب بھی کئی افراد کی موجودگی کا خدشہ ہے، اب تک 6 لاپتا افراد کے لواحقین نے رابطہ کرکے ان کی تفصیلات جمع کرائی ہیں، سی پی ایل سی پروگرام ناقابل شناخت لاشوں کی ڈی این اے کی مدد سے شناخت کو ممکن بناتا ہے، ماضی میں پی آئی اے طیارہ حادثہ، سانحہ بیلا، نوری آباد اور دیگر میں جاں بحق افراد کی لاشوں کی شناخت اس ہی ٹیم نے ممکن بنائی تھی۔
    انچارج نے مزید بتایا کہ اب تک 40 افراد ہمارے پاس رجسٹریشن کروا چکے پیں۔
    ترجمان ریسکیو 1122 حسان الحسیب خان نے بتایا کہ گل پلازا کے قریب دکانوں میں آتشزدگی کی اطلاع ملی جس کے بعد فائر اینڈ ریسکیو ٹیم مع ایمبولینس اور فائر بریگیڈ ٹرک جائے وقوعہ پر روانہ کی گئی۔
    رپورٹ کے مطابق رات 10:15 بجے سے لگنے والی آگ پر قابو پانے کی فائر بریگیڈ کو کوششیں جاری ہیں لیکن ریسکیو حکام کی کوششوں کے باوجود آگ دوبارہ بھڑک جاتی ہے۔
    رپورٹر کے مطابق فائر فائٹرز اور ریسکیو حکام دوران آتشزدگی عمارت کے اندر داخل نہیں ہوسکے جس سے آگ کی شدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جبکہ عمارت کے ستون وغیرہ ٹوٹ کر گرگئے۔
    ترجمان واٹر بورڈ نے بیان میں بتایا کہ گل پلازا میں آتشزدگی کے واقعے پر فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 نے واٹر کارپوریشن سے فوری مدد طلب کی اور سی ای او احمد علی صدیقی کی ہدایت پر نیپا اور صفورہ ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کردی۔
    انہوں نے کہا کہ واٹر کارپوریشن کی جانب سے فوری طور پر واٹر ٹینکرز جائے وقوع پر روانہ کردیے گئے، انچارج ہائیڈرنٹس سیل محمد صدیق تنیو فائر بریگیڈ اور ریسکیو حکام سے مسلسل رابطے میں رہے۔
    ترجمان نے بتایا کہ فوکل پرسن سی ای او برائے ہائیڈرنٹس سیل شہباز بشیر آپریشن کی خود نگرانی کر رہے ہیں، آگ بجھانے کے عمل میں فائر بریگیڈ کو بلا تعطل پانی کی فراہمی یقینی بنائی گئی اور واٹر کارپوریشن فائر بریگیڈ اور ریسکیو اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون رہا۔
    میئر کراچی کی ہدایت پر کے ایم سی کی ہیوی مشینری گل پلازا پہنچیں
    میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر میونسپل کمشنر اور دیگر افسران کی سربراہی میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ہیوی مشینری جائے وقوع پر پہنچی۔
    ترجمان کے مطابق میونسپل کمشنر سید محمد افضل زیدی نے ریسکیو آپریشن کی براہِ راست نگرانی کی۔ میونسپل سروسز اور فائر بریگیڈ کی مشینری موقع پر موجود رہی ضرورت پڑنے پر مزید مشینری بھی الرٹ رہی۔
    سندھ رینجرز کے جوان بھی ریسکیو آپریشن میں شامل
    واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈی جی رینجرز سندھ کی خصوصی ہدایت پر سندھ رینجرز کے چاق و چوبند دستے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور امدادی کاموں میں حصہ لیا۔
    گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کا دورہ
    گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری گل پلازا پہنچے اور متاثرہ تاجروں سے ملاقات کی۔ انہوں نے آگ لگنے کے واقعے پر بریفنگ لی جبکہ ریسکیو و امدادی کارروائیوں کا جائزہ بھی کیا۔
    گورنر سندھ نے متاثرین کے نقصانات اور بحالی کے اقدامات پر فوری ہدایات بھی جاری کیں۔
    بلاول بھٹو کا جانی و بھاری مالی نقصان پر اظہار افسوس
    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ہولناک آگ کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور بھاری مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آتشزدگی کے واقعے میں جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
    بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ اور میئر کراچی کو ہدایت کی کہ آگ بجھانے اور ریسکیو آپریشن کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کی جائے۔
    میئر کراچی کا اظہار افسوس
    میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے گل پلازا میں آتشزدگی کے باعث جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جانی نقصان پر شدید افسوس ہے، غمزدہ لواحقین کے اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔میئر کراچی نے کہا کہ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر موجود ہیں جبکہ ریسکیو اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔میئر کراچی نے بلدیہ عظمیٰ کے تمام محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین کو ہر ممکن امداد اور فوری ریسکیو فراہم کیا جائے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
    وفاقی سطح پر سندھ حکومت کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں، مصطفیٰ کمال
    وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کراچی ایم اے جناح روڈ پر گل پلازا میں آتشزدگی کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کا شریک ہوں۔انہوں نے کہا کہ آگ کے واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہوں۔ وزیر صحت نے ہدایت کی کہ زخمیوں کو فوری اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔مصطفیٰ کمال نے پیش کش کی کہ وفاقی سطح پر سندھ حکومت کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں، ریسکیو ادارے متاثرہ عمارت میں پھنسے افراد کو بحفاظت نکالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں، آگ پر جلد از جلد قابو پانا اور مزید جانی نقصان سے بچاؤ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی و شہری حکومتیں فائر بریگیڈ اور ریسکیو آپریشن کو مزید مؤثر بنائیں۔
    اسپیکر سندھ اسمبلی کا اظہار تعزیت
    اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے گل شاپنگ پلازہ میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے اور قیمتی جانوں کے ضیاع و مالی نقصان پر افسوس کرتے ہوئے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعا اور متعلقہ اداروں کو ہر ممکن معاونت کی ہدایت بھی کی ہے۔
    اپوزیشن لیڈر کا اظہار افسوس
    اپوزیشن لیڈر سندھ علی خورشیدی نے گل پلازہ میں آتشزدگی کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کو سانحہ قرار دے دیا۔علی خورشیدی نے کہا کہ گل پلازہ سانحہ دلخراش ہے، جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں، آتشزدگی کے واقعات پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات نہ ہونا تشویشناک ہے۔اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی نے کہا کہ مزید جانی نقصان سے بچاؤ کے لیے ریسکیو اور امدادی کارروائیوں میں تیزی لائی جائے، متاثرین کو ہر ممکن امداد اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔علی خورشیدی نے جاں بحق فائر فائٹر کی نماز جنازہ میں بھی شرکت کی۔

  • گل پلازہ  آتشزدگی میں تخریب کاری کے شواہد نہیں ملے: کراچی پولیس چیف

    گل پلازہ آتشزدگی میں تخریب کاری کے شواہد نہیں ملے: کراچی پولیس چیف

    کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی پولیس چیف آزاد خان نے سانحہ گل پلازہ کی ابتدائی تحقیقات میں تخریب کاری کے امکان کو مسترد کردیا۔گل پلازہ کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے کہا کہ گل پلازہ واقعے کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق تخریب کاری کے کوئی شواہد نہیں ملے۔
    14 لاشیں نکالی جاچکیں، مزید لاشیں نکل سکتی ہیں: کراچی پولیس چیف
    انہوں نے کہا کہ ریسکیو آپریشن کے دوران اب تک 14 افراد کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں اور مزید لاشیں نکلنے کا خدشہ ہے جب کہ اسپتال میں اب کوئی زخمی زیر علاج نہیں۔
    سانحہ گل پلازہ
    ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آگ ہفتے کی رات سوا 10 بجے کے قریب لگی، گراؤنڈ فلور پر لگنے والی آگ دیکھتے ہی دیکھتے تیسری منزل تک پہنچی جس کے نتیجے میں خوفناک آتشزدگی سے عمارت کے کئی حصے گرگئے۔
    فائر فائٹرز نے 33 گھنٹے بعد آگ پر مکمل طور پر قابو پالیا جس کے بعد اب کولنگ کا عمل جاری ہے۔
    چیف فائر آفیسر کا بیان
    چیف فائر آفیسر کے مطابق گل پلازہ میں آرٹیفیشل گملوں اور پھولوں کی دکان میں ہفتے کی شب 10 بج کر14 منٹ پرآگ لگی تھی جب کہ 10 بج کر 38 منٹ پرریسکیو 1122 کو آگ کی اطلاع دی گئی۔
    ہجوم اور ٹریفک مینجمنٹ نہ ہونےسے بھی پانی کی کمی فوری دور نہ ہوسکی: حکام
    چیف فائر آفیسر نے بتایا کہ 10 بج کر 57 منٹ پر 1122 کے 2 فائر ٹینڈر موقع پر پہنچے، گل پلازہ میں تقریباً سے 14 سے 16 داخلی اور خارجی راستے ہیں مگر تنگ داخلی اور خارجی راستوں کی وجہ سے آگ بجھانے میں شکلات کا سامنا رہا۔
    چیف فائر آفیسر کے مطابق عمارت کے تمام داخلی اورخارجی راستوں میں دھواں بھر گیا تھا، آگ بجھانے کے 2 سے 3 گھنٹوں کے دوران پانی کی قلت ہوگئی تھی اور پھر پانی کے لیے آنے والے ٹینکر گرومندر کے قریب تعمیراتی کام میں پھنس گئے۔چیف فائر آفیسر کا کہنا ہے کہ ہجوم اور ٹریفک مینجمنٹ نہ ہونےسے بھی پانی کی کمی فوری دور نہ ہوسکی جب کہ آگ بجھانے کے لیے فوم کا استعمال پہلے ہی دن کیا گیا۔چیف فائر آفیسر نے مزید بتایا کہ 3 مختلف مقامات سے عمارت کے حصے گرچکے ہیں اور عمارت مخدوش ہوچکی ہے، اب بھی 12 فائر ٹینڈرز، 6 واٹرباوزر اور 2 اسنارکل موقع پر موجود ہیں، گل پلازہ کی آگ 90 فیصد بجھادی گئی ہے اور عمارت کے اندر موجود سامان میں 10 فیصد آگ لگی ہوئی ہے، رات گئے تک گراؤنڈ کی تمام دکانوں کو آگ بجھادی گئی تھی۔