کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی آگ سے متعلق حکام کی رپورٹ سامنے آگئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ گل پلازہ میں ہنگامی اخراج کی جگہ نہیں تھی، عمارت میں آگ سے نمٹنے کے لیےانتظامات بھی نہیں تھے جبکہ تنگ داخلی وخارجی راستوں کے باعث فائر فائٹنگ میں تکنیکی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 1995 میں تعمیر ہونے والی عمارت ابتدائی طور پر بیسمنٹ،گراؤنڈ اور پہلی منزل تک تھی۔رپورٹ کے مطابق 2003 تک مختلف اوقات میں 3 فلورز تعمیرکیےگئے، عمارت میں 500 دکانوں کی گنجائش تھی لیکن دکانوں کی تعداد 500 سے بڑھ کر 1200 ہوگئی تھی۔کراچی کی ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں تیسرے درجے کی آگ لگنے کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، آگ کی شدت سے عمارت کے کئی حصے گرگئے۔آگ ہفتے کی رات سوا 10 بجے کے قریب گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر لگی جو دیکھتے ہی دیکھتے تیسری منزل تک پہنچ گئی
Blog
-

سانحہ گل پلازہ سندھ حکومت کی نااہلی کھل کر سامنےآ گئی: صدر انجمن تاجران سندھ
کراچی:(نمائندہ خصوصی) انجمن تاجران سندھ کے صدر جاوید قریشی نے کہا ہےکہ حکومت کی نااہلی ہے وہ لوگوں کو ریسکیو نہیں کرسکی۔نجی ٹی وی کے پروگرام ’جیو پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے جاوید قریشی نے کہا کہ گل پلازہ کے واقعے میں مالی اور جانی نقصان تاجروں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے اور الزامات بھی ہم پر ہی لگائے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی نااہلی ہے کہ وہ لوگوں کو ریسکیو نہیں کرسکی، 34 گھنٹے میں بھی ریسکیو کا کام مکمل نہیں ہوا، حکومت کو ناکامی کا اعتراف کرنا چاہیے۔صدر انجمن تاجران سندھ کا کہنا تھاکہ دیکھ بھال ( مینٹیننس) کی رقم چوکیداری سسٹم، مینٹیننس اور جنریٹر کے ڈیزل پر خرچ ہوتی ہے، گل پلازہ کے بیسمنٹ میں پارکنگ تھی جس میں دکانیں بنا دی گئیں، وہاں بیسمنٹ سمیت گراؤنڈ پلس ون کی اجازت تھی جس میں توسیع ہوتی گئی۔جاوید قریشی نے مزید کہا کہ گل پلازہ میں تمام توسیع قانونی طریقے سے کی گئی۔
-

ٹرمپ ، خامنہ ای کو قتل کرنے کی کوشش کرینگے: سابق امریکی سفیر
نیویارک (فارن ڈیسک )اسرائیل کے لیے سابق امریکی سفیر نے دعویٰ کیا ہےکہ صدر ٹرمپ ایرانی سپریم لیڈر کو قتل کرنے کی کوشش کریں گے۔
سابق امریکی سفیر ڈان شپیرو سابق امریکی صدر بارک اوبامہ کے دور صدارت میں اسرائیل میں امریکی سفیر تعینات تھے۔
اسرائیلی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک انٹرویو میں سابق امریکی سفیر ڈان شپیرو نے کہا کہ صدر ٹرمپ آنے والے ہفتوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کرنے کی کوشش کریں گے۔
سابق امریکی سفیر کا دعویٰ اس وقت سامنے آیا ہے جب ایرانی سپریم لیڈر نے یہ الزام عائد کیا کہ ایران میں تشدد، مظاہروں اور قتل میں امریکی صدر ملوث ہیں۔
ڈان شپیرو نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے متعلق کہا کہ اب وہ 86 برس کے ہوچکے ہیں اور بیمار آدمی ہیں لہٰذا ایران کو اس وقت ایک نئی قیادت کی ضرورت ہے۔
اس کے علاوہ سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری بیان میں سابق امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ جلد امریکا کا ایک بڑا بیڑا مشرق وسطیٰ میں موجود ہوگا جو ایران پر حملے کو نہ صرف آسان بنائے گا بلکہ ایران کے جواب کی صورت میں دفاعی تیاریوں میں بھی مدد دے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ایرانی فورسز پر مزید حملے کرسکتا ہے۔ -

وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ایرانی ہم منصب سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر گفتگو
اسلام آباد: (نمائندہ خصو صی )پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اس رابطے میں دونوں رہنماؤں نے ایران اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے خطے میں امن و استحکام کے لیے عباس عراقچی سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر دوطرفہ مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
-

جنید صفدر کی مہندی کی تقریب، تصاویر جاری
لاہور:(نمائندہ خصوصی)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کی مہندی کی تقریب جاتی امرا میں ہوئی جہاں دولھا اور دلہن کے خاندانوں اور دیگر مہمانوں نے شرکت کی۔جنید صفدر نے مہندی کی تقریب میں گہرے نیوی بلیو رنگ کا روایتی کرتا زیب تن کیا، کرتے پر سنہری بٹن اور سادہ کٹ نے شاہانہ تاثر دیا اور لباس کے ساتھ سنہری، براؤن شال کو روایتی انداز میں کندھے پر ڈالا گیا۔جنید صفدر کی شال کا ریشمی تاثر مہندی کی تقریب کے رنگوں سے ہم آہنگ نظر آیا، نیوی بلیو اور سنہری امتزاج نے کلاسک ویڈنگ پیلیٹ کو اجاگر کیا۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے نواسے اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر اور شانزے علی روحیل کی مہندی کی تقریب جاتی عمرہ میں جاری ہیں، یامہندی کی تقریب میں شریف فیملی اور شیخ روحیل اصغر فیملی کے افراد و عزیز و اقارب شریک ہیں۔جنید صفدر کی مہندی کی تقریب میں 350مہمانوں کی ضیافت کا اہتمام کیا گیا، شریف فیملی کی جانب سے روایتی و دیسی پکوان بھی تیار کیے گئے، مہمانوں کی تواضع سوپ، چکن ڈمپورہ، دال گوشت، آلو گوشت، وائٹ رائس، باربی کیو، گاجر کا حلوہ اور دال کا حلوہ سمیت مختلف ڈشز سے کی گئی۔جنید صفدر کی بارات آج 17 جنوری کو دوپہر ایک بجے لیک سٹی جائے گی، بارات میں شریف فیملی و عزیز و اقارب کو مدعو کیا گیا ہے اور بارات کے لیے 400 مہمانوں کی ضیافت کا اہتمام کیاگیا۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کے ولیمے کی تقریب 18 جنوری کو جاتی امرا فارمز میں منعقد ہوگی، ولیمہ کی تقریب میں 800 مہمانوں کو مدعو کیا گیا ہے۔
-

ایران پر حملہ نہ کرنے کیلئے میں نے اپنے آپ کو قائل کیا: ٹرمپ
واشنگٹن (فارن ڈیسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملہ نہ کرنے کے فیصلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی نے انہیں ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے قائل نہیں کیا۔وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک صحافی نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا عرب اور اسرائیلی حکام نے آپ کو ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے قائل کیا؟اس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ کسی نے مجھے قائل نہیں کیا، میں نے خود اپنے آپ کو قائل کیا۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ گزشتہ روز ایران میں 800 افراد کو پھانسی دی جانی تھی لیکن کسی کو پھانسی نہیں دی گئی، اس کا بہت بڑا اثر پڑا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کی قدر کرتے ہیں کہ کل جن افراد کو پھانسیاں دی جانی تھیں اب ایرانی قیادت انہیں پھانسی نہیں دے گی۔گزشتہ روز امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا تھا اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پر ممکنہ امریکی فوجی حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے بدھ کے روز صدر ٹرمپ سے بات کی، اسی روز امریکی صدر نے یہ بیان دیا کہ انہیں ’دوسری جانب سے انتہائی اہم ذرائع‘ سے معلومات ملی ہیں جن کے مطابق ایران میں مظاہرین کی ہلاکتیں رک گئی ہیں اور مظاہرین کی سزائے موت پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔ اس سے قبل برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ آخری لمحوں میں تبدیل کیا۔دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلی خلیجی ملکوں کی سفارتی کوششوں کے باعث عمل میں آئی۔ سعودی عرب، قطر اور عمان نے واشنگٹن سے ہنگامی مذاکرات کیے اور ٹرمپ کو فوجی کارروائی مؤخر کرنے پر یہ کہہ کر آمادہ کیا کہ تہران کو اپنے ‘اچھے عمل’ کا مظاہرہ کرنےکا موقع دینا چاہیے۔
-

شدید دھند کے باعث ٹرک نہر میں گرگیا، 14 افراد جاں بحق، کئی زخمی
سرگودھا (نمائندہ خصوسی )سرگودھا میں شدید دھند کے باعث ٹرک کو حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 14 افراد جاں بحق جبکہ کئی زخمی ہوگئے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق سرگودھا کی تحصیل کوٹ مومن کے علاقہ گلہ پور بنگلہ کے قریب 23 افراد منی ٹرک میں سوار ہوکر جا رہے تھے تاہم شدید دھند کے باعث حد نگاہ کم ہونے پر منی ٹرک سڑک سے اتر کر خشک نہر میں جاگرا۔ٹرک کے نیچے دب کر 7 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، ریسکیو اہلکاروں نے لاشوں اور دیگر شدید زخمی ہونے والے افرد کو ٹی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا جہاں دوران علاج مزید 7 افراد دم توڑ گئے۔جاں بحق ہونے والوں میں 6 بچے، 5 خواتین اور 3 مرد شامل ہیں۔ حادثے کا شکار افراد جنازے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔
-

کراچی پولیس کا 100 سے زائد بچوں سے زیادتی کے ملزمان گرفتار کرنے کا دعویٰ
کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی پولیس نے رواں سال کی سب سے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 100 سے زائد بچوں سے زیادتی میں ملوث ملزم کو ساتھی سمیت گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ایس پی انویسٹی گیشن عثمان سدوزئی نے دعویٰ کیا ہےکہ ہماری ٹیم نے متاثرہ بچےکی نشاندہی پر ٹیپوسلطان میں کارروائی کی، گرفتار ملزمان میں مرکزی ملزم عمران اور وقاص خان شامل ہیں، ملزمان 100 سے زائد بچوں سے زیادتی میں ملوث رہے جب کہ پولیس کو 2020 سے 2025 تک 7 شکایات رپورٹ ہوئی تھی۔انہوں نے بتایا کہ مختلف اضلاع کے کیسز میں ڈی این اے ایک ہی شخص کا ملا تھا اور ہمیں 6 سال سے الگ کیسز میں ایک ہی ڈی این اے ملنے پر تفتیش ہوئی، ان تمام کیسز میں 12 سے 13 سال کے لڑکوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور ایک کیس میں بچے سے 2 سے زائد افراد نے زیادتی کی، درج شدہ تمام 7 مقدمات میں ملزم کا ڈی این اے میچ کر گیا ہے۔عثمان سدوزئی کا کہنا تھاکہ ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے 6 جنوری کو ٹیم تشکیل دی تھی اور یہ ٹیم ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر کی سربراہی میں بنائی گئی تھی، اس ٹیم نے 11 روز کے اندر مطلوب ترین ملزمان کو گرفتار کیا، ملزم عمران منظورکالونی کا رہائشی ہے اور پنکچر کا ٹھیا لگاتا ہے، اس کیس میں گرفتار مرکزی ملزم عمران نے 6 سال میں درجنوں بچوں سے زیادتی کا اعتراف کیا ہے، عمران نے تمام بچوں کو ملیرندی کے قریب لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا، وہ موٹرسائیکل کا بچوں کو لالچ دے کر ساتھ لے جاتا تھا۔ایس پی کے مطابق تین کیسز میں بچوں نے ملزم عمران کو شناخت کرلیا ہے جب کہ ایک کیس میں بچے نے عمران اور ساتھی وقاص خان کو بھی پہچانا ہے، ملزم ایک بچے کو وقاص کے ساتھ سرجانی بھی لے گیا تھا جہاں بچے نے شور مچایا تو دونوں ملزمان موقع سے فرار ہوگئے۔دوسری جانب آئی جی سندھ کا کہنا ہےکہ تفتیشی ٹیم نے ملزمان کو گرفتار کیا، کیس کی سائٹیفک بنیادوں پر تفتیش کی گئی، متعدد کیسز میں ایک ہی ڈی این اے آنے پر ٹیم بنائی گئی ، کیس کی تفتیشی ٹیم کو ایوارڈ بھی دیا جائے گا۔علاوہ ازیں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ ملزم کے خلاف مضبوط شواہد کی بنیاد پر کیس عدالت میں لے جایا جائے جب کہ ایڈیشنل آئی جی کراچی کو روزانہ کی بنیاد پر کیس کی پیش رفت سے آگاہ کیا جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بچوں سے زیادتی ناقابل قبول ہے، پولیس ملزمان کو سزا دلوانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے۔
-

ہمدرد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس میں شہید حکیم محمد سعید کی یاد میں “یادیں، باتیں” کے عنوان سے تقریب
اسلام آباد:(نمائندہ خصوصی)ہمدرد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس کے زیرِ اہتمام بانیٔ ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان، شہید حکیم محمد سعید کی زندگی، وژن اور گراں قدر خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک یادگاری تقریب بعنوان “یادیں، باتیں” منعقد کی گئی۔ اس تقریب میں عوامی صحت کے اہم موضوعات جن میں خون کا عطیہ، ذیابیطس سے بچاؤ، غذائیت اور بچوں کی صحت شامل تھے، کو اجاگر کیا گیا اور معاشرتی فلاح و بہبود کے لیے ہمدرد کے دیرینہ عزم کی تجدید کی گئی۔ تقریب میں ممتاز شخصیات، ماہرینِ صحت، ماہرینِ تعلیم، طلبہ اور قومی و بین الاقوامی اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔
سینیٹر مشاہد حسین سید، مہمانِ خصوصی، نے شہید حکیم محمد سعید کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں پاکستان کی اصل شناخت اور علم، کردار اور خدمت کا حسین امتزاج قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکیم سعید وہ واحد شخصیت تھے جن کی پہلی اردو کتاب سابق سوویت یونین میں شائع ہوئی، جبکہ ان کا مشہور سفرنامہ “سفرنامۂ روس” روس میں نمایاں اعزاز کا حامل رہا۔ سینیٹر مشاہد حسین نے اس بات پر زور دیا کہ شہید حکیم محمد سعید نوجوانوں کو امتِ مسلمہ کا مستقبل سمجھتے تھے اور صحت کے شعبے میں متوازن اور ہمہ گیر نظام کے قائل تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمدرد اُن چند اداروں میں سے ہے جو وقت گزرنے کے باوجود اپنے مشن اور اثر کو کامیابی سے برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ہمدرد یونیورسٹی کی چانسلر اور ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر، محترمہ سعدیہ راشد نے کہا کہ ہمدرد کی بنیاد شہید حکیم محمد سعید کے وژن اور عمر بھر کی خدمات پر رکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمدرد یونیورسٹی محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ تعلیم، صحت، تحقیق اور قومی خدمت پر مبنی ایک مشن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمدرد نہ صرف ایک جامع ادارہ ہے بلکہ طب کے میدان میں ایک ممتاز اور نمایاں مقام رکھتا ہے، اور شہید حکیم محمد سعید کی طبی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکیم سعید کی کاوشوں کو سراہنا اور آگے بڑھانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق حکیم سعید کی محنت کی بدولت آج پاکستانی طلبہ طب کے میدان میں عالمی سطح پر پہچان حاصل کر رہے ہیں، اور ہمدرد یونیورسٹی ان کے مشن کی عملی تصویر ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر، سابق گورنر سندھ، نے شہید حکیم محمد سعید کو ایک غیر متنازعہ قومی ہیرو قرار دیا۔ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر قومی ادویات کے فروغ میں حکیم سعید کے کلیدی کردار اور عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے ساتھ ان کی ذاتی وابستگی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہادت کے بعد بھی ہمدرد نے ترقی کا سفر جاری رکھا اور آج پاکستان کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش اور بھارت میں بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستان ایسوسی ایشن آف ایسٹرن میڈیسن (PAEM) کے صدر، حکیم عبدالحنان نے شہید حکیم محمد سعید کو صحت اور تعلیم کے لیے ایک روشن مینار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکیم محمد سعید کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خدمت، علم اور اخلاق انسانیت کے لیے سب سے بڑی میراث ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ علم اور خدمت ہی انسانیت کو زندہ رکھتے ہیں اور ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ اپنی زندگی میں علم، کردار اور خدمت کو ترجیح دے۔ ان کے مطابق حکیم محمد سعید نہ صرف اپنے ادارے بلکہ پوری قوم کے لیے مشعلِ راہ تھے، اور ان کا وژن آج بھی نوجوانوں کی رہنمائی کر رہا ہے۔ ایسی عظیم شخصیات کی خدمات کو یاد رکھنا اور آگے بڑھانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے نمائندے، جناب شہزاد عالم نے صحت کے شعبے میں ہمدرد کی خدمات کو سراہتے ہوئے محترمہ سعدیہ راشد کی جانب سے پاکستان میں WHO پروگرامز، بشمول عالمی یومِ صحت، کے فروغ میں تعاون کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
ہمدرد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس کے ڈائریکٹر جنرل، جناب امتیاز حیدر نے کہا کہ شہید حکیم محمد سعید کا یقین تھا کہ قومیں محض نعروں سے نہیں بلکہ کردار اور خدمت سے بنتی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہمدرد یونیورسٹی تعلیم کو اخلاقیات، تحقیق اور سماجی ذمہ داری کے ساتھ جوڑنے کے لیے پرعزم ہے۔ تمام معزز مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسی تقریبات صرف یادگاری نہیں ہوتیں بلکہ علم، اخلاقی اقدار اور انسانیت کی خدمت کے عہد کی تجدید کا ذریعہ بنتی ہیں۔
تقریب کا اختتام اتحاد، غور و فکر اور عزم کے پُراثر پیغام کے ساتھ ہوا، جس میں شہید حکیم محمد سعید کی دائمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے پاکستان کے مستقبل کے لیے اہم صحت کے مسائل پر آگاہی کو فروغ دیا گیا۔ -

کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، ایران
نیویارک:(فارن ڈیسک )اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے مندوب نے امریکا اور اسرائیل پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی یا سیاسی جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جبکہ پابندیوں اور نام نہاد انسانی حقوق کے نعروں کو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے مستقل مندوب غلام حسین درزی نے کہا ہے کہ امریکا کا ایران کی داخلی صورتحال پر اجلاس بلانا شرمناک اور سیاسی منافقت کا عکاس ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں درحقیقت اسرائیلی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہیں اور برسوں سے ایران پر عائد پابندیاں براہِ راست عام شہریوں کو متاثر کر رہی ہیں۔ایرانی مندوب کا کہنا تھا کہ ایران میں مظاہرین پر داعش کے طرز پر حملے کیے گئے، جن سے نمٹنے کے لیے ایرانی سیکیورٹی گارڈز نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر شہریوں کی حفاظت یقینی بنائی۔انہوں نے واضح کیا کہ امریکی حکومت مظاہرین کو بغاوت پر اکسا رہی ہے، جو ایران کی خودمختاری میں مداخلت کے مترادف ہے۔خطاب میں ایرانی مندوب نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران پر کسی بھی قسم کی جارحیت عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہوگی، اور ایران کے خلاف کسی فوجی آپریشن کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ نہ صرف ایران بلکہ اقوام متحدہ کی ساکھ اور عالمی نظام کے لیے بھی ایک کڑا امتحان ہے۔ایرانی مندوب غلام حسین درزی نے زور دے کر کہا کہ ایران کی حکومت پرامن مظاہرین کے حقوق کا احترام کرتی ہے، تاہم کسی بھی بیرونی جارحیت یا سازش کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
