Blog

  • کوئٹہ-کراچی نیشنل ہائی وے پر گولیوں سے چھلنی 4 لاشیں ملیں

    کوئٹہ-کراچی نیشنل ہائی وے پر گولیوں سے چھلنی 4 لاشیں ملیں

    کوئٹہ (کنزیومرواچ نیو)ضلع قلات کے علاقے بدا رنگ اور ضلع خضدار کے علاقے زہری میں کوئٹہ—کراچی نیشنل ہائی وے پر گولیوں سے چھلنی 4 لاشیں ملی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مقامی رہائشیوں نے دو مختلف مقامات پر پھینکی گئی لاشوں کے بارے میں انتظامیہ کو اطلاع دی، پولیس ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور لاشوں کو ضلعی اسپتال منتقل کیا۔3 لاشیں سڑک کے کنارے پھینکی گئی تھیں، ان تینوں افراد کو نامعلوم حملہ آوروں نے گولیاں مار کر قتل کیا، پولیس کے مطابق تینوں افراد لہڑی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے اور آپس میں کزن تھے۔ایک اور گولیوں سے چھلنی لاش زہری تحصیل کے سموآنی علاقے سے برآمد ہوئی، پولیس نے لاش تحویل میں لے کر اسے ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔

  • برطانوی جامعات نے پاکستانی طلبہ کے داخلے معطل، محدود کر دیے

    برطانوی جامعات نے پاکستانی طلبہ کے داخلے معطل، محدود کر دیے

    لندن(کنزیورواچ نیوز)برطانیہ کی کئی یونیورسٹیوں نے ہوم آفس کی جانب سے سخت تر امیگریشن قواعد کے نفاذ اور ویزا کے غلط استعمال سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے طلبہ کے داخلوں کو معطل یا محدود کر دیا ہے۔ڈان اخبار میں شائع خبر کے مطابق برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ کم از کم 9 اعلیٰ تعلیمی اداروں نے ان دونوں ممالک کو طلبہ کے ویزوں کے لیے ’ہائی رسک‘ کیٹیگری میں رکھ کر اپنے داخلہ پالیسیوں کو سخت کر دیا ہے، تاکہ بین الاقوامی درخواست گزاروں کی اسپانسرشپ کی اہلیت برقرار رکھی جا سکے۔جمعرات کو شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی طلبہ کی جانب سے پناہ کی درخواستوں میں اضافے کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے باعث برطانوی وزرا نے خبردار کیا تھا کہ اسٹڈی روٹ کو ’آباد کاری کے لیے پچھلے دروازے‘ کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔اقدامات کرنے والی یونیورسٹیوں میں، یونیورسٹی آف چیسٹر نے ’ویزوں کے انکار میں حالیہ اور غیر متوقع اضافے‘ کا حوالہ دیتے ہوئے 2026 کی خزاں تک پاکستان سے داخلے معطل کر دیے ہیں۔یونیورسٹی آف وولورہیمپٹن پاکستان اور بنگلہ دیش، دونوں سے انڈرگریجویٹ درخواستیں قبول نہیں کر رہی، جبکہ یونیورسٹی آف ایسٹ لندن نے پاکستان سے بھرتیاں مکمل طور پر روک دی ہیں۔دیگر ادارے، جن میں سنڈر لینڈ، کوونٹری، ہرٹفورڈ شائر، آکسفورڈ بروکس، گلاسگو کیلیڈونین اور نجی ادارہ بی پی پی یونیورسٹی شامل ہیں، نے بھی انہی ’رسک میٹیگیشن‘ اقدامات کے تحت دونوں ممالک سے داخلوں کو روک دیا ہے یا کم کر دیا ہے۔یہ پابندیاں اس ریگولیٹری تبدیلی کے بعد سامنے آئی ہیں، جو ستمبر میں نافذ ہوئی، جس کے تحت بین الاقوامی طلبہ کو اسپانسر کرنے والے اداروں کے لیے ویزا انکار کی زیادہ سے زیادہ قابلِ اجازت شرح 10 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کر دی گئی ہے۔فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ پاکستانی اور بنگلہ دیشی طلبہ کی ویزا درخواستوں کی انکار کی شرح بالترتیب 18 اور 22 فیصد ہے، جو نئی حد سے کہیں زیادہ ہے۔دونوں ممالک کے درخواست گزار مجموعی طور پر 23 ہزار 36 ویزا انکار میں سے نصف کے برابر ہیں جو ہوم آفس نے ستمبر 2025 تک کے سال میں درج کیے تھے۔ان دونوں ممالک سے پناہ کی درخواستوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جن میں سے کئی ایسے طلبہ کی جانب سے تھیں، جو پہلے اسٹڈی یا ورک ویزا پر برطانیہ آئے تھے۔بین الاقوامی اعلیٰ تعلیم کے مشیر وِنچینزو رائمو نے ’فنانشل ٹائمز‘ کو بتایا کہ کریک ڈاؤن نے کم فیس لینے والی یونیورسٹیوں کے لیے ’ایک حقیقی مخمصہ‘ پیدا کر دیا ہے، جو بیرونِ ملک طلبہ پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ چند مسائل والے کیسز بھی سخت کردہ حدوں کے تحت اداروں کی کمپلائنس کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ان اقدامات نے تعلیمی ایجنٹوں میں بھی مایوسی پیدا کی ہے۔لاہور میں قائم ایڈوانس ایڈوائزرز کی بانی مریم عباس نے کہا کہ یہ فیصلے ’دل توڑ دینے والے‘ ہیں کیوں کہ حقیقی طلبہ کی درخواستیں آخری مرحلے پر مسترد کی جا رہی ہیں۔ان کا مؤقف تھا کہ بھرتی کرنے والے ایجنٹوں کی کمزور نگرانی نے اسٹڈی روٹ کے غلط استعمال میں اضافہ کیا ہے، جسے ’کمانے کا ذریعہ‘ بنا دیا گیا ہے۔یونیورسٹیز یوکے انٹرنیشنل نے کہا کہ اسپانسرشپ کے حقوق برقرار رکھنے کے لیے کچھ اداروں کو بین الاقوامی داخلوں میں تنوع لانا ہوگا، اور درخواستوں کی جانچ کو مضبوط بنانا ہوگا

  • سعودی عرب میں پاک افغان مذاکرات، دفتر خارجہ کا  اظہار لاعلمی

    سعودی عرب میں پاک افغان مذاکرات، دفتر خارجہ کا اظہار لاعلمی

    اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز)پاکستان اور افغانستان کے درمیان سعودی عرب میں مذاکرات سے متعلق دفتر خارجہ نے لاعلمی کا اظہار کر دیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سعودی عرب میں پاک افغان مذاکرات سے متعلق میڈیا رپورٹس دیکھیں، ان مذاکرات سے متعلق ہمیں کچھ علم نہیں ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ترکیہ صدر کی ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کرتا ہے، پاکستان ترکیہ کے ثالثی وفد کو خوش آمدید کہے گا اور پاکستان مذاکرات کے لیے بھی تیار ہے۔ ترکیہ وفد کے ابھی تک دورہ نہ کرنے کی وجہ پاکستان کا تعاون نہ کرنا نہیں ہے۔واضح رہے کہ خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سعودی عرب میں مذاکرات کا دعویٰ کیا تھا۔رائٹرز کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے سعودی عرب میں امن مذاکرات کا تیسرا دور ہوا جس کی میزبانی سعودی عرب، ترکیہ اور قطر نے مشترکہ طور پر کی۔رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات میں کوئی بڑی پیشرفت نہیں ہوسکی تاہم جنگ بندی کو برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ ہم نے افغانستان کے ساتھ سرحدیں موجودہ صورتحال کی وجہ سے بند کی ہیں اور افغانستان نے اب اپنی جانب سرحدیں بند کی ہیں، اس حوالے سے اب وہ ہی جواب دے سکتے ہیں۔ ہم نے فی الوقت سرحدیں امدادی کارروائی کے لیے ہی کھولی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کرغزستان کے صدر نے پاکستان کا دورہ کیا، کرغز صدر اور وزیراعظم نے وفد کی سطح پر ملاقاتیں کی، دوطرفہ تعلقات کو مذید مستحکم کرنے پر اتفاق ہوا، دونوں ممالک تجارتی حجم سال 2027-28 تک 200 ملین تک پہچانے پر اتفاق کیا۔ترجمان کے مطابق کرغز صدر کے دورے پر 15 ایم او یوز پر دستخط ہوئے، کرغز صدر نے بزنس فورم سے خطاب کیا، بزنس فورم میں 20 سے زائد کرغز کمپنیاں تھیں جبکہ 80 سے زائد پاکستانی تاجر شریک تھے۔دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اسحاق ڈار نے کرغز وزیر خارجہ اور صدر سے ملاقاتیں کیں، مصر کے وزیر خارجہ نے دورہ پاکستان کیا، اسحاق ڈار نے اسلام آباد کانکلیو کا افتتاح کیا۔

  • افغان حکومت پاکستان کے سیکیورٹی خدشات دور کرے،کرغزستان

    افغان حکومت پاکستان کے سیکیورٹی خدشات دور کرے،کرغزستان

    اسلام آباد(کنزیومرواچ نیوز)پاکستان اور کرغزستان نے کہا ہے کہ افغان حکومت عالمی برادری سے کیے وعدے پورے اور پاکستان کے سیکیورٹی خدشات دور کرے، دونوں ممالک کے درمیان توانائی، معدنیات، تجارت، تعلیم، قانون و انصاف، ثقافت اور سیاحت پر 15 ایم او یوز سائن ہوئے جب کہ تجارت کا حجم 200 ملین امریکی ڈالر تک لانے پر اتفاق کیا گیا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف اور کرغزستان کے صدر صادر ژاپاروف کی وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی۔ دو طرفہ مذاکرات میں وزیراعظم کی معاونت ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چیف آف آرمی اسٹاف، سمیت دیگر اہم وفاقی وزراء اور سینئر سرکاری حکام نے شرکت کی۔وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان جمہوریہ کرغزستان کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو نہایت اہمیت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ وزیراعظم نے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ روابط کے فروغ کے لیے پاکستان کی “ویژن سینٹرل ایشیا” پالیسی کے تحت اپنے عزم کا اعادہ کیا۔دونوں رہنماوں نے پاکستان اور کرغزستان کے تعلقات جو تاریخی روابط، مشترکہ تہذیب و اقدار اور علاقائی امن و خوشحالی کے مشترکہ وژن پر قائم ہیں انکے فروغ اور توسیع کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں رہنماوں نے ممالک کے درمیان جاری باہمی تعاون اور بالخصوص تجارت، توانائی، مواصلات اور عوامی روابط کے شعبوں میں شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

  • عوام پر ٹیکسوں کا بم!شہباز حکومت نے تمام ریکارڈ توڑ دئیے

    عوام پر ٹیکسوں کا بم!شہباز حکومت نے تمام ریکارڈ توڑ دئیے

    اسسلام آباد (کنزیومرواچ نیوز)شہباز حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔عام آدمی اب 167 روپے کا پٹرول 263 روپے میں خریدنے پر مجبور ہے۔تفصیلات کے مطابق:ایک لیٹر پٹرول پر 96 روپے 28 پیسے ٹیکس لگایا جا رہا ہے (37 فیصد ٹیکس)ایک لیٹر ڈیزل پر 94 روپے 92 پیسے ٹیکس لگایا جا رہا ہے (34 فیصد ٹیکس)ذرائع کے مطابق یہ ٹیکس کسٹم ڈیوٹی، پیٹرولیم اور کلائیمیٹ لیوی کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔

  • کھدی سڑکیں شہریوں کیلئے موت کا جال بن چکی ہیں۔ مہاجر قومی موومنٹ

    کھدی سڑکیں شہریوں کیلئے موت کا جال بن چکی ہیں۔ مہاجر قومی موومنٹ

    کراچی(پ ر) مہاجر قومی موومنٹ (پاکستان) کے مرکزی رہنما نوید نارو نے کہاہے کہ برسوں سے کھدی سڑکیں شہریوں کیلئے موت کا جال بن چکی ہیں لیکن حکومت کی جانب سے کوئی مستقل حل یا واضح اقدامات نہیں کئے جارہے جس کے باعث صورتحال اب ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ چیئرمین آفاق احمد کی رہائش گاہ پر ضلع شرقی سے آنے والے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے نوید نارو نے کہا کہ کراچی کی اہم شاہراہوں خصوصاً یونیورسٹی روڈ، سفورا،کورنگی کوریڈور اور گلشنِ اقبال کے اطراف کے مرکزی راستوں پر گزشتہ برس کی نسبت حادثات میں ناصرف 38 فیصد اضافہ ہوا ہے بلکہ مسلسل کھدائی، ٹوٹی سڑکوں اور کھلے مین ہولوں کی وجہ سے صرف رواں برس کے دوران 126 شہری زخمی اور 17 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ نوید نارو نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ پر مختلف مقامات پر موجود 42 سے زائد کھڈے اور ادھورے ترقیاتی حصے روزانہ ٹریفک جام اور حادثات کا باعث بنتے ہیں، کئی علاقوں میں مین ہولز کے کور غائب جبکہ متعدد مہینوں سے کھلے پڑے ہیں بلکہ یہ کہنا غلط نا ہوگا کہ کھلے مین ہولز، بکھرے ملبے، غیر ہموار سڑکوں اور بغیر حفاظتی نشانات کے جاری کھدائی نے پورے شہر کو ایک غیر محفوظ زون میں بدل دیا ہے جہاں روزمرہ سفر بھی شہریوں کی جان کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت شہریوں کی حالت پر رحم کھائے اور تمام کھلے مین ہولز کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت،محفوظ کورز کی تنصیب، ادھورے کھدائی شدہ حصوں کی جلد تکمیل اور سڑکوں کی لیولنگ یقینی بنائے تاکہ شہری مزید جانی نقصانات اور روزمرہ مشکلات سے محفوظ رہ سکیں۔

  • نیپاسانحے کو بی آر ٹی پراجیکٹ سے جوڑنا غیر ذمے دارانہ اقدام ہے،وضاحتی بیان

    نیپاسانحے کو بی آر ٹی پراجیکٹ سے جوڑنا غیر ذمے دارانہ اقدام ہے،وضاحتی بیان

    کراچی (کنزیومرواچ نیوز)بی آر ٹی ریڈ لائن پراجیکٹ نے چیْس اپ سپر اسٹور کے نزدیک پیش آنے والے افسوسناک واقعے سے متعلق وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 30 نومبر 2025 کی رات تین سالہ بچے ابراہیم کی کھلے مین ہول میں گر کر ہلاکت انتہائی دل خراش سانحہ ہے اور پراجیکٹ انتظامیہ غمزدہ خاندان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ریڈ لائن بی آر ٹی کے مینیجر انوائرنمینٹل اینڈ سوشل سیف گارڈ نے ایک وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ واقعہ اُس مقام پر پیش آیا جو بی آر ٹی ریڈ لائن کے تعمیراتی علاقے سے خاصے فاصلے پر واقع ہے، جہاں نہ کوئی کھدائی جاری تھی، نہ بی آر ٹی کی کوئی مشینری، سرگرمی یا رکاوٹ موجود تھی۔ بیان میں کہا گیا کہ سڑک کی حالت بھی مکمل تھی اور واقعہ جس پرانے سیوریج چینل کے مین ہول میں پیش آیا، وہ بی آر ٹی ریڈ لائن کے انتظامی یا عملی دائرہ کار میں شامل نہیں۔بی آر ٹی ریڈ لائن انتظامیہ نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا کے ایم سی کے سینئر ڈائریکٹر کا خط حقیقت کے برعکس تاثر پیدا کرتا ہے، جبکہ زمینی صورتحال اس کے بالکل خلاف ہے، کیونکہ نہ تو واقعے کے مقام پر تعمیراتی سرگرمی ہوئی اور نہ آس پاس۔بیان میں کہا گیا کہ کے بی آر ٹی کے تمام تعمیراتی کام متعلقہ اداروں سے این او سی حاصل کرنے کے بعد ہی شروع کیے جاتے ہیں اور کھدائی کی صورت میں جگہ کو فوراً بھر کر محفوظ بنایا جاتا ہے۔ پارکنگ ایریا جہاں سانحہ پیش آیا، وہ اسٹور کی ملکیت میں ہے اور بی آر ٹی کے کاموں سے کافی دور ہے، اس لیے اس سانحے کو بی آر ٹی ریڈ لائن پراجیکٹ سے جوڑنا غیر ذمے دارانہ اقدام ہے۔بی آر ٹی ریڈ لائن انتظامیہ نے مزید بتایا کہ چونکہ بی آر ٹی ریڈ لائن پراجیکٹ ایشیائی ترقیاتی بینک کی معاونت سے چل رہا ہے، اس لیے تعمیراتی مقامات پر سخت حفاظتی اصولوں (OHS) کا اطلاق کیا جاتا ہے اور ان کی مسلسل نگرانی ہوتی ہے۔ پراجیکٹ انتظامیہ نے یقین دلایا کہ وہ تمام فریقوں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی اور تعمیراتی مقامات پر تحفظ کے اعلیٰ معیار برقرار رکھے گی۔

  • پی ٹی آئی نے افغان رپورٹر کو پاکستان مخالفت کے لئے  خرید لیا

    پی ٹی آئی نے افغان رپورٹر کو پاکستان مخالفت کے لئے خرید لیا

    لندن (کنزیومرواچ نیوز)یہ سرخ دائرے میں یلدا حکیم ہے بی بی سی اور اسکائی کی ا سٹار رپورٹر ہے اور اس کیساتھ پی ٹی آئی کے اہم رہنما اور عمران خان کے دوست جہانگیر چیکو ہیں ۔ یلدا حکیم افغان ہے اور پاکستان کے سخت ترین مخالفین میں سے ایک ہیں یلدا کی بی جے پی کے ترجمان سے گہری دوست ہے ۔ چیکو جہانگیر نے لندن میں یلدا حکیم کے ساتھ لنچ کیا۔ بات ہوئی علیمہ خان کے اسکائی نیوز انٹرویو کی۔ چیکو بھائی نے نہ صرف سارا بندوبست فائنل کیا بلکہ دو لاکھ پاؤنڈ کا خرچہ بھی اپنی ذاتی جیب سے نکال کر ٹیبل پر رکھ دیا۔ نقد۔ پاؤنڈ۔ کوئی چیک، کوئی ٹرانسفر نہیں۔ اب آتے ہیں اصل ڈرامے کی طرف۔ آپریشن گولڈسمتھ کا جالندھری گروپ مکمل ایکٹیویٹ ہو چکا ہے۔ باوثوق ذرائع (یعنی وہی جو کل رات تک علیمہ کے گھر میں موجود تھے) بتاتے ہیں کہ گودی میڈیا پر زبردست دھاندلی اور ناکامی کے بعد علیمہ خان اب اسکائی نیوز کو انٹرویو دینے جا رہی ہیں۔ اینکر؟ یلدا حکیم۔ علیمہ نے گودی میڈیا پر بھی ارناب گوسوامی اور گورو ساونت جیسے کٹر پاکستان مخالف اینکرز کو چنا تھا۔ اب اسکائی پر بھی وہی پالیسی۔ اتفاق؟ شاید نہیں۔ میرے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ انٹرویو کوئی “خاندانی جذباتی اپیل” نہیں بلکہ ایک منظم چارج شیٹ ہے جو پاکستان کے خلاف بنائی جا رہی ہے۔ گولڈسمتھ اور ہندتوا کے مشترکہ ایجنڈے کے تحت۔

  • وائپر نے پاکستان کی کمرشل پی سی مارکیٹ میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا ، آئی ڈی سی رپورٹ

    وائپر نے پاکستان کی کمرشل پی سی مارکیٹ میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا ، آئی ڈی سی رپورٹ

    اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز) آئی ڈی سی کی تیسری سہ ماہی 2025 کی رپورٹ کے مطابق وائپر نے پاکستان کی کمرشل ڈیسک ٹاپ مارکیٹ میں نمایاں برتری حاصل کر لی ہے۔ آزادانہ آئی ڈی سی اِن سائیٹس کے مطابق وائپر ملک کی تجارتی کمپیوٹنگ مارکیٹ میں سرفہرست ہے، جبکہ ’میڈ اِن پاکستان‘ ہارڈ ویئر کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اس کامیابی کو مزید تقویت دے رہی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وائپر کے کمرشل ڈیسک ٹاپس کارکردگی، پائیداری اور مقامی ضروریات کے مطابق ڈیزائن کی وجہ سے صارفین میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق لوکل مینوفیکچرنگ کے فروغ اور ٹیکنالوجی سیکٹر میں سرمایہ کاری سے پاکستان کی آئی ٹی مارکیٹ میں مسابقت بڑھ رہی ہے، جس کا سب سے بڑا فائدہ مقامی برانڈز کو ہو رہا ہے۔ وائپر کی اس پیش رفت کو پاکستان میں ٹیک انڈسٹری کے لیے ایک مثبت سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

  • ملک میں تیز رفتار انٹرنیٹ  کیلیے 13 ارب روپے کے منصوبے منظور

    ملک میں تیز رفتار انٹرنیٹ کیلیے 13 ارب روپے کے منصوبے منظور

    اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز)ملک میں تیز رفتار انٹرنیٹ کے لیے 13 ارب روپے کے منصوبے منظور کرلیے گئے۔وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے ادارے یونیورسل سروس فنڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اہم اجلاس میں ملک کے 11 اضلاع کے لیے ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ، وائس کمیونیکیشن اور فائبر آپٹیکل کیبل کے 9 میگا پراجیکٹس کی منظوری دی گئی ہے۔سیکرٹری آئی ٹی اور چیئرمین بورڈ کے مطابق وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ کی ہدایت پر شہری اور دیہی ڈیجیٹل تفریق کے خاتمے کے اقدامات میں تیزی لائی جا رہی ہے۔منصوبوں کی مجموعی مالیت 13 ارب روپے سے زائد ہے اور یہ 55 لاکھ سے زائد افراد کو سہولیات فراہم کریں گے جب کہ 11 اضلاع کے 178 ٹاؤنز و یونین کونسلز اور 753 گاؤں کے مکین ڈیجیٹل دنیا سے منسلک ہو سکیں گے۔چیئرمین یو ایس ایف بورڈ نے کہا کہ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل کنکٹیویٹی سے ڈیجیٹل اکانومی کو فروغ ملے گا ۔ یو ایس ایف کے پہلے سے جاری منصوبوں سے اب تک دیہی علاقوں کے 3 کروڑ 94 لاکھ افراد کو کنکٹیویٹی سروسز تک رسائی حاصل ہو چکی ہے۔سیالکوٹ، نارووال، زیارت اور کوئٹہ کے اضلاع کے لیے 3 منصوبوں میں 1428 کلومیٹر آپٹیکل فائبر کیبل بچھائی جائے گی جب کہ عمرکوٹ، گجرانوالہ، کوہاٹ، خضدار، مظفرگڑھ، مانسہرہ اور منڈی بہاءالدین اضلاع کے لیے براڈ بینڈ سروسز کے چھ منصوبے شامل ہیں۔اجلاس میں چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل حفیظ الرحمان، ممبر ٹیلی کام جہانزیب رحیم، محمد یوسف اور عائلہ ماجد بھی شریک ہوئے۔