Blog

  • چین- میرج مارکیٹ سے ون چائلڈ پالیسی تک ….ارم زہرا۔ چین

    چین- میرج مارکیٹ سے ون چائلڈ پالیسی تک ….ارم زہرا۔ چین

    صبح کی دھوپ پارک کی راہوں پر چھن رہی تھی اور ہوا میں خوشبو کے ساتھ امید کے لمس گھل رہے تھے۔ بیجنگ کی صبحیں اب اجنبی نہیں رہیں۔ درختوں پر لگے سرخ فانوس جیسے خوشی کے چھوٹے چھوٹے خواب ہوا میں جھولتے ہیں، اور راستوں پر چلتے لوگ اپنے دن کی تیز رفتار داستانوں میں گم۔ مگر ایک صبح میں نے ایک ایسا منظر دیکھا جس نے میری سوچ کے دھارے بدل دیے ‘‘میریج مارکیٹ’’۔
    یہ ایک عام پارک تھا، مگر اس دن وہاں انسان نہیں، جیسے ‘‘امیدیں’’ ٹہل رہی تھیں۔ درختوں کے نیچے سفید کاغذوں کی قطاریں لگی تھیں۔ ان پر نام نہیں، جیسے تعارف کے تراشے تھے۔عمر، قد، تعلیم، آمدنی، اور اپارٹمنٹ کی تفصیل۔ ہر صفحہ ایک خواہش کا اشتہار تھا۔ میں ایک گوشے میں کھڑی سب دیکھتی رہی۔
    چین کے بزرگ والدین، اپنے ہاتھوں میں رنگین فولڈر تھامے، ایک انجانی سنجیدگی کے ساتھ چل پھر رہے تھے۔ ان کی نظریں جیسے کاغذوں سے زیادہ خوابوں کو پڑھ رہی تھیں۔ کہیں ایک ماں کسی دوسرے باپ سے پوچھتی،
    ‘‘آپ کی بیٹی کا کام کہاں ہے؟’’
    اور جواب آتا،
    ‘‘بینک میں، مگر اب تک شادی نہیں ہوئی۔’’
    ان کے لہجوں میں نہ طنز تھا، نہ حسرت ، بس ایک ذمہ داری کا احساس۔ جیسے شادی صرف دو دلوں کا نہیں بلکہ دو نسلوں کی تسکین کا معاملہ ہو۔ میں نے ایک بزرگ خاتون کو دیکھا جو بار بار اپنے بیٹے کا پروفائل سیدھا کر رہی تھیں، جیسے کسی نایاب خزانے کی نمائش ہو۔ ان کی آنکھوں میں وہی چمک تھی جو ہماری ماؤں کے چہروں پر ‘‘رشتہ دیکھنے’’ کے موقع پر ہوتی ہے۔
    میں نے سوچا، رشتے تلاش کرنے کا انداز بدل جاتا ہے، مگر انسان کی تنہائی کا درد شاید ہر زبان میں ایک سا ہوتا ہے۔ بیجنگ کے اس پارک میں، جہاں ہر درخت پر ہوا بجتی تھی، میں نے محسوس کیا کہ محبت اب بھی ایک تلاش ہے۔بس طریقے بدل گئے ہیں۔
    ایک نوجوان لڑکی، شاید کسی والدین کی ‘‘پیش کش’’ بننے سے تنگ، ایک طرف بینچ پر بیٹھی موبائل پر مسکرا رہی تھی۔ شاید کسی دوست سے بات کر رہی تھی، یا کسی ایسے انسان سے جو ان فہرستوں سے آزاد ہو۔ میں نے دل میں کہا
    ‘‘محبت کاغذ پر نہیں لکھی جاتی، وہ تو نظر کے ایک لمحے میں جنم لیتی ہے۔’’
    شنگھائی یا بیجنگ ہو، لاہور یا کراچی ، دلوں کی زبان ایک ہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہاں رشتے پراپرٹی، آمدنی اور ڈگریوں کے درمیان تولے جاتے ہیں۔ میں نے دل میں سوچا
    ‘‘محبت اب بھی زندہ ہے، مگر شاید وہ بھی کسی فائل میں محفوظ ہو گئی ہے۔’’
    پارک کے درختوں کے نیچے کھڑے وہ لوگ، جن کے چہرے وقت اور خواہش کے درمیان کہیں ٹھہرے تھے، مجھے ایسے لگے جیسے کسی پرانی نظم کے مصرعے ہوں۔ ادھورے مگر خوبصورت۔
    مگر کیا ان پارکوں میں لگنے والی ‘‘میریج مارکیٹ’’ سے ہونے والی شادیاں کامیاب بھی ہوتی ہیں؟
    چینی تاریخ کے اوراق کھولیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت نئی نہیں۔ صدیوں پہلے، جب بادشاہوں کا زمانہ تھا، تب بھی رشتوں کا بندھن خاندانی وقار، دولت اور سماجی مرتبے کی بنیاد پر باندھا جاتا تھا۔ مگر جدید دور میں یہ ‘‘میریج مارکیٹ’’ تقریباً انیس سو نوّے کی دہائی میں دوبارہ اْبھر کر سامنے آئی۔جب شہروں کی زندگی تیز ہوئی، مگر تنہائی نے دلوں کو آہستہ آہستہ گھیر لیا۔
    آج بھی ہر ہفتے کے آخر میں سینکڑوں والدین اپنے بچوں کے تعارف کے پوسٹر لیے پارکوں میں آتے ہیں۔ میں نے کئی بار انہی میں بیٹھ کر دیکھا۔ کوئی ماں فخر سے بیٹی کی ماسٹرز ڈگری کا ذکر کرتی ہے، کوئی باپ بیٹے کی سالانہ آمدنی پر زور دیتا ہے۔ اور میں دل ہی دل میں سوچتی ہوں۔ محبت کب سے حساب کتاب بن گئی؟
    ایک بار میری ملاقات ایک چینی خاتون سے ہوئی۔ لی چن۔ وہ ہنستے ہوئے کہنے لگیں ‘‘میری شادی بھی اسی مارکیٹ سے طے ہوئی تھی۔ پہلے تو اجنبی تھے، مگر اب وہ میرا بہترین دوست ہے۔’’
    میں نے حیرت سے پوچھا، ‘‘کیا تمہیں یہ رشتہ پسند تھا؟’’
    وہ مسکرا کر بولی: ‘‘پسند بعد میں آتی ہے، پہلے ذمہ داری آتی ہے۔’’
    یہ جملہ میرے دل میں اتر گیا۔ شاید ان الفاظ کی کامیابی اسی فلسفے میں چھپی ہے۔ یہاں محبت کو پیدا کیا جاتا ہے، تلاش نہیں کیا جاتا۔
    چینی معاشرے میں شادی صرف دو افراد نہیں بلکہ دو خاندانوں کا معاہدہ سمجھی جاتی ہے۔ اس لیے ان رشتوں میں برداشت، صبر، اور سماجی ہم آہنگی زیادہ نظر آتی ہے۔
    لیکن پھر بھی، ہر شادی کہانی نہیں بنتی۔ کچھ جوڑے ایک دوسرے کے ‘‘پروفائل’’ کے حساب سے تو مل جاتے ہیں، مگر دل کے حساب سے نہیں۔ ایسے لوگ وقت کے ساتھ الگ راستے اختیار کر لیتے ہیں۔
    میں نے ایک چینی دوست سے پوچھا ‘‘کامیاب شادی کیا ہوتی ہے؟’’
    وہ ہنسی، ‘‘کامیاب شادی وہ ہے جو نبھ جائے، چاہے محبت بعد میں پیدا ہو۔’’
    میں سوچنے لگی۔ ہمارے ہاں بھی تو اکثر یہی ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہم خواب سے رشتہ شروع کرتے ہیں، اور وہ رشتہ بنا کر خواب تلاش کرتے ہیں۔
    چین کی ‘‘میریج مارکیٹ’’ وقت کی دھول میں ڈھلتی ایک قدیم روایت ہے، مگر اس کے پسِ منظر میں انسانی ضرورت اور تنہائی کا سچ چھپا ہے۔شاید اس پارک کے درختوں کے نیچے صرف رشتے نہیں بنتے، بلکہ کہانیاں جنم لیتی ہیں۔ کہانیاں ان لوگوں کی جو محبت کو قسمت نہیں، فرض سمجھ کر نبھاتے ہیں۔
    بیجنگ کی خزاں اس برس کچھ اور ہی رنگ لے کر آئی ہے۔ درختوں سے گرتے پتے جیسے وقت کے پرانے فیصلے ہوں، جو ہر سال بدلتے نہیں، بس نئے موسم میں دوبارہ دہرائے جاتے ہیں۔ اسی موسم میں، ایک شام، میں اپنی چینی دوست می لی سے ملی۔ اس کی آنکھوں میں اداسی تھی، مگر لبوں پر ایک ہلکی سی خود اعتمادی کی مسکراہٹ۔
    چائے کے کپ کے ساتھ اس نے کہا، ‘‘میں اب تیس برس کی ہو گئی ہوں، اور میرے والدین فکر مند ہیں۔ وہ کہتے ہیں، اگر اب شادی نہ کی تو میں ‘Sheng Nü’ بن جاؤں گی یعنی ‘بچ جانے والی عورت’ ’’
    میں نے چونک کر پوچھا، ‘‘یہ اصطلاح اتنی عام ہے؟’’
    وہ ہنس دی، مگر وہ ہنسی خالی تھی۔ بولی، ‘‘ہاں، ٹی وی، اخبارات، حتیٰ کہ دفاتر میں بھی لوگ ایسے الفاظ بول دیتے ہیں، جیسے عورت کی زندگی کا مقصد صرف شادی ہو۔’’
    اس کے الفاظ میرے دل میں اتر گئے۔ میں نے محسوس کیا کہ یہ ‘‘Leftover Women’’ صرف ایک معاشرتی اصطلاح نہیں بلکہ ایک دباؤ، ایک احساسِ جرم ہے جو ان تعلیم یافتہ، خودمختار خواتین کے کندھوں پر رکھا گیا ہے۔
    میں نے کئی چینی خواتین کو دیکھا۔اعلیٰ تعلیم یافتہ، اچھی نوکریوں والی، مگر دل میں ایک انجانا خوف چھپا ہوا۔ خوف اس بات کا کہ معاشرہ ان کے فیصلے کو قبول نہیں کرے گا۔
    یہ وہی ملک ہے جہاں چند دہائیاں پہلے ایک بچے کی پالیسی نے لڑکیوں کے وجود کو کم کر دیا تھا، اور اب وہی معاشرہ کہتا ہے کہ عورتوں کو شادی کرنی چاہیے تاکہ آبادی کا توازن بحال ہو۔ وقت کے تضاد نے عورت کو ایک سماجی علامت بنا دیا ہے۔ کبھی ضرورت، کبھی ذمہ داری۔
    میں نے ‘‘می لی’’ سے پوچھا، ‘‘کیا تم شادی نہیں کرنا چاہتیں؟’’
    اس نے آہستہ سے کہا، ‘‘شادی چاہتی ہوں، مگر اپنی شرطوں پر۔ میں کسی کے لیے اپنی پہچان نہیں کھونا چاہتی۔’’
    اس کے لہجے میں وہی عزم تھا جو ہمارے ہاں کسی شاعرہ کے مصرعے میں چھلکتا ہے۔
    میں نے سوچا، شاید یہ خواتین ‘‘بچ’’ نہیں گئیں، بلکہ رک گئیں، سوچنے کے لیے، جینے کے لیے، خود کو پہچاننے کے لیے۔
    ہم اکثر انہیں تنہا سمجھتے ہیں، مگر دراصل وہی عورتیں سب سے مضبوط ہیں۔ جنہوں نے اپنی زندگی کی باگیں خود سنبھالی ہیں۔
    اس شام پارک کی روشنیوں میں چلتی می لی کے قدموں میں ایک نرمی تھی، مگر اس کے وجود میں پختگی کا وزن۔ میں نے دل میں سوچا
    ‘‘یہ عورتیں باقی نہیں رہ گئیں، یہ آگے بڑھ گئی ہیں۔ ان کے خواب اب کسی کے نام پر نہیں، اپنے وجود پر لکھے ہیں۔’’
    بیجنگ کی رات کے آسمان پر جھلملاتے فانوسوں کے بیچ میں، میں نے محسوس کیا کہ عورت کی آزادی کا سفر کہیں بھی آسان نہیں۔ مگر چین ہو یا پاکستان جب عورت خود کو مان لیتی ہے، تب ہی وہ دنیا سے سچ مچ جیت جاتی ہے۔
    مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ محبت یہاں اب ایک نئی زبان بولتی ہے۔وہ زبان جس کے الفاظ ڈیجیٹل ہیں، اور احساسات تھوڑے خاموش۔
    ایک دن میں اپنی چینی دوست ژو یانگ کے ساتھ چائے پی رہی تھی۔ وہ انجینئر ہے، مگر باتوں میں شاعرہ لگتی ہے۔

    کہنے لگی، ‘‘محبت اب یہاں آسان نہیں رہی۔ ہم سب اپنے خوابوں میں اتنے مصروف ہیں کہ کسی کے دل کی دستک سننے کا وقت ہی نہیں۔’’
    میں نے مسکرا کر کہا، ‘‘تو کیا محبت ختم ہو گئی؟’’
    وہ بولی، ‘‘نہیں، وہ بدل گئی ہے۔ پہلے لوگ کسی کے ساتھ جینا چاہتے تھے، اب کوئی ایسا چاہتے ہیں جو ان کے ساتھ چل سکے۔’’
    میں نے محسوس کیا کہ چینی معاشرہ، جو کبھی روایتوں کی دیواروں میں بند تھا، اب رفتہ رفتہ احساس کی نئی شکلیں تراش رہا ہے۔
    یہاں کے نوجوان اب شادی کو ‘‘ضرورت’’ نہیں بلکہ ‘‘انتخاب’’ سمجھنے لگے ہیں کچھ اب بھی والدین کی مرضی کے آگے سر جھکاتے ہیں، مگر کئی ایسے ہیں جو کہتے ہیں۔ ‘‘میں اس سے شادی نہیں کر سکتا جسے میں جانتا نہیں، چاہے وہ کتنا ہی مناسب کیوں نہ ہو۔’’
    چینی مردوں میں ایک نرمی ہے، مگر ساتھ ہی ایک عجیب سی الجھن بھی۔
    وہ جانتے ہیں کہ عورتیں اب خودمختار ہو چکی ہیں، مگر ان کے دل اب بھی روایتی تربیت کے قیدی ہیں۔
    میں نے ایک نوجوان سے پوچھا، ‘‘تم شادی کیوں نہیں کرتے؟’’
    وہ مسکرا کر بولا، ‘‘کیونکہ میں اب ایسی لڑکی چاہتا ہوں جو مجھ سے نہیں، میرے جیسی ہو۔’’
    یہ جملہ میرے دل میں دیر تک گونجتا رہا۔
    یہی فرق شاید آج کے چین اور کل کے چین میں ہے۔اب یہاں محبت ‘‘مکمل ہونے’’ کے لیے نہیں، بلکہ ‘‘ایک ساتھ بہتر بننے’’ کے لیے کی جاتی ہے۔
    میں اکثر سوچتی ہوں۔ ہم پاکستانی عورتیں محبت کو خواب سمجھ کر پوجتی ہیں، اور چینی عورتیں محبت کو حقیقت مان کر پرکھتی ہیں۔
    یہاں کے لوگ کم بولتے ہیں، مگر عمل میں محبت کا انداز رکھتے ہیں۔
    کسی کے لیے بارش میں چھتری تھام لینا، یا چپ چاپ کسی کے لیے گرم چائے رکھ دینا۔ یہ ان کی خاموش محبت کے طریقے ہیں۔
    رات کے وقت، جب میں اپنے اپارٹمنٹ کی کھڑکی سے باہر دیکھتی ہوں،
    تو نیون لائٹس میں چلتے جوڑوں کو دیکھ کر محسوس کرتی ہوں کہ محبت اب بھی زندہ ہے، بس وہ پہلے جیسی شور مچانے والی نہیں رہی —
    اب وہ خاموش، سمجھدار، اور تھوڑی سی تنہا ہو گئی ہے۔
    محبت چین میں اب ایک سادہ فقرہ نہیں رہی۔ یہ اب ایک انتخاب ہے، ایک سمجھوتہ بھی، اور ایک سفر بھی۔ بالکل ویسا جیسے ہم سب کا اپنا سفر۔
    اب مجھے بیجنگ کی گلیاں اجنبی نہیں لگتیں، اور یہاں کے چہرے اب کتابوں کے کردار نہیں کہانیاں لگتے ہیں۔
    مگر ان کہانیوں میں ایک خاموشی ہے، جو میں ہر جگہ محسوس کرتی ہوں۔
    یہ وہی خاموشی ہے جو چین کی ‘‘One-Child Policy’’ نے نسلوں کے دلوں میں بو دی ہے۔
    میں نے پہلی بار اس پالیسی کے بارے میں سنا تو حیران ہوئی۔ ایک ایسا ملک جہاں ہزاروں سال سے خاندان، نسل اور وارثت کو سب سے
    بڑی نعمت سمجھا جاتا تھا، وہاں حکومت نے 1979 میں اعلان کیا کہ ہر جوڑے کو صرف ایک بچہ پیدا کرنے کی اجازت ہوگی۔
    وجہ سادہ تھی۔ بڑھتی ہوئی آبادی، وسائل کی کمی، اور مستقبل کا خوف۔
    لیکن وقت کے ساتھ یہ فیصلہ زندگی کی ساخت بدل گیا۔
    یہاںایک چینی دوست، ‘‘چن یو’’، اکثر کہتا ہے کہ ‘‘میں اکلوتا ہوں۔ بچپن میں جب بھی بیمار ہوتا، ماں روتی تھی کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو وہ اکیلی رہ جائے گی۔’’
    اس کے لہجے میں دکھ نہیں، ایک تھکن تھی۔
    ایسا دکھ جو شاید صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو والدین کی واحد امید ہو۔
    میں نے دیکھا کہ یہاں کے بیشتر نوجوانوں پر ذمہ داری کا بوجھ ان کی عمر سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ اپنے والدین، دادا دادی سب کے واحد سہارا ہیں۔ان کے چہروں پر اعتماد ہے، مگر دل کے اندر ایک خوف کہ اگر وہ ناکام ہوئے، تو پورا خاندان ٹوٹ جائے گا۔
    اسی پالیسی نے معاشرتی توازن بھی بدل دیا۔
    بہت سے خاندانوں نے بیٹے کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں آج چین میں خواتین کی کمی نمایاں ہے۔
    یہی وہ سماجی دباؤ ہے جس نے ‘‘Marriage Market’’ اور ‘‘Leftover Women’’ جیسے تصورات کو جنم دیا۔
    یوں لگتا ہے جیسے ایک فیصلے نے محبت، شادی اور خاندانی زندگی کے سارے زاویے بدل ڈالے۔
    2015 میں حکومت نے یہ پالیسی ختم کر دی، اب دو بلکہ تین بچوں کی اجازت ہے مگر سوچ بدلنے میں نسلیں لگتی ہیں۔
    میں نے کئی چینی خواتین کو کہتے سنا ‘‘ہم آزاد ہیں، مگر اب بچے پیدا کرنا ذمے داری نہیں، انتخاب ہے۔’’ یہ جملہ بتاتا ہے کہ پابندی نے سوچ کو آزاد کر دیا۔
    ایک شام میں اپنے اپارٹمنٹ کی بالکنی سے شہر کو دیکھ رہی تھی۔
    سڑکوں پر ہلکی بارش، روشنیوں میں بھیگی ہوئی ہوا، اور کہیں دور ایک بچہ قہقہہ لگا رہا تھا۔ میں نے سوچا، شاید یہی وہ نئی نسل ہے جو ماضی کے بوجھ سے ہلکی ہے، جو محبت اور زندگی کو نئی تعریفوں میں ڈھالے گی۔
    میں نے اپنے سفرنامے کے نوٹس کا اختتام کرتے ہوئے سوچ رہی ہوں کہ انسان جب اپنی خواہشات کو نظم دیتا ہے، تو کبھی کبھی اپنے احساسات کو قید کر لیتا ہے۔
    ایک بچے کی پالیسی نے چین کو منظم تو کر دیا، مگر اس کی روح میں ایک اکیلے پن کا سناٹا چھوڑ دیا ایسا سناٹا جو شاید آنے والے برسوں تک گونجتا رہے گا۔اب یہ پالیسی ختم ہو چکی ہے، حکومت نے دو اور پھر تین بچوں کی اجازت دے دی ہے، مگر اس کے اثرات ابھی تک ذہنوں میں زندہ ہیں۔
    کچھ لوگوں کے لیے آزادی آ گئی ہے، مگر ان کے دل اب بھی اس خاموش نظم کے عادی ہو چکے ہیں۔لگتا ہے جیسے پالیسی ختم ہوئی نہیں بس
    شکل بدل گئی ہے، اور زندگی کے اندر کہیں دبی ہوئی اب بھی سانس لے رہی ہے۔’’
    میں جانتی ہوں کہ میرا یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ہر نیا دن یہاں ایک نیا باب ہے۔کسی اجنبی کی مسکراہٹ، کسی دوست کی گفتگو، یا کسی پرانی عمارت کے سائے میں گزرا لمحہ۔ چین میرے لیے اب ایک ملک نہیں رہا،یہ ایک جیتی جاگتی داستان ہے جس میں میں خود ایک کردار ہوں،
    اور شاید کچھ کہانیاں ابھی لکھی جانی باقی ہیں۔

  • کنیکٹیکٹ کی خاموشی میں کراچی کی روح کا سْر، شکیل حیدر سے ایک ملاقات،حمیرا گل تشنہ

    کنیکٹیکٹ کی خاموشی میں کراچی کی روح کا سْر، شکیل حیدر سے ایک ملاقات،حمیرا گل تشنہ

    ہوا میں خنکی بڑھی ہوئی تھی جنگلی پھولوں اور گیلے پتوں کی بھیگی ہوئی خوشبو پھیلی ہوئی تھی یعنی، کنیکٹیکٹ کی وادی میں موسمِ خزاں کی صبح اپنے عروج کو تھی۔ پرانے بلوط کے درختوں کے جھنڈ تھے جن کے نیچے گھاس پر بکھرے ہوئے پیلے اور نارنجی پتے قالین کا کام دے رہے تھے۔ یہ وہ سکوت تھا جو کراچی کے رہنے والے کے لیے تھوڑی اجنبی شے ہے۔ کراچی، جو ہر لمحہ زندگی کے دھڑکنے کی آواز سے بھرپور ہوتا ہے۔ کبھی گاڑیوں کے ہارن، سائیکل پر بندھے خالی ڈبوں کی کھنک، اخبار فروشوں کی تو کبھی لوگوں کی للکارنے کی اور سمندر کی ہواؤں میں گھلے ہوئے نمکین پن کی آوازیں۔ اور یہاں … یہاں تو صرف خاموشی تھی۔ ایک گہری، بسیط، اور مقدس خاموشی۔

    میں کنیکٹ ٹی کٹ کے برج پورٹ کے سامنے گاڑی کے باہر کھڑی تھی۔ کہ سامنے سے آنے والا جہاز نیویارک سے مسافروں کو لے کر آیا تھا اور انھی مسافروں میں ہمارے مہمان “شکیل حیدر” بھی شامل تھے۔ تھوڑی دیر دیکھا مسافروں کی بھیڑ میں سے ایک شناسا چہرہ نمودار ہوا۔ گلابی رنگت، سفید بال، دراز قد پر سیاہ گرم کوٹ پہنے اردگرد کے ماحول سے لاپراہ دھیمی رفتار میں سامنے سے چلتے ہوئے آ رہے تھے۔ پھر بے فکر انداز میں جیب سے سگریٹ کا پیکٹ نکال کر سگریٹ جلائی اور ہوا میں بکھرتے دھوئیں میں کھو گئے۔ نجانے کیا سوچ رہے تھے یا شاید فضا میں کچھ کھوج رہے تھے۔ میں نے آگے بڑھ کر آواز دی تو چونک کر مڑے اور مسکراتے ہوئے بولے”ارے تشنہ، کیسی ہو؟” ہاتھوں میں سگریٹ دبائے شکیل حیدر کے چہرے پر کراچی کی دھوپ کی کہانیاں لکھی تھیں، مگر آنکھوں میں کنیکٹیکٹ کی پر سکون گہرائی سمائی ہوئی تھی۔ مسکراہٹ میں ایک عجب طرح کی نرمی تھی۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا، “چلیں؟ تو ہنس کر کہنے لگے، چلو۔۔۔ یہاں کی خاموشی پہلے دن تو بہت بھاری لگتی ہے، پھر اس کے اندر کی موسیقی سنائی دینے لگتی ہے،” انہوں نے کہا۔
    یہی وہ جملہ تھا جس نے ہماری بات چیت کا دھارا کھول دیا۔ میں نے پوچھا کہ ایک ایسا شخص جو کراچی کی ہلچل، یا کنکریٹ کے جنگل کہہ لو (جیسا کہ انہوں نے ٹیلی فونک گفتگو میں خود اسے کہا تھا) میں پلا بڑھا، وہ اس یکسانیت اور سکوت میں کیسے ڈھل جاتا اور سکون پاتا ل ہے؟
    وہ گاڑی کے شیشے کی دیوار کے پار کہر میں ڈوبے، بکھرتے مناظر دیکھتے ہوئے بولے، “یہ سوال تو میں روز اپنے آپ سے کرتا ہوں۔ دیکھیے، کراچی نے مجھے ‘ریڈیم’ سکھایا۔ وہاں ہر عمارت اپنی کہانی چلاتی ہے، ہر گلی ایک ڈرامہ ہے، ہر چہرہ ایک ناول۔ یہ سب میرے اندر کے آرٹسٹ کے لیے خام مال تھا۔ مگر جب آپ کے پاس بہت زیادہ خام مال ہو تو بعض اوقات ‘شکل’ ڈھونڈنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہاں کی فضا نے مجھے ‘خلاء ‘ دیا۔ اور خلاء کے بغیر کوئی تعمیر، کوئی شاعری مکمل نہیں ہوتی۔”
    اتنی گہری بات سن کر میں حیران رہ گئی۔ یقیناً یہ بات ایک ظاہری نہیں بلکہ باطنی طور پر مکمل شاعر ہی کہہ سکتا ہے اور شاید یہی ایک عالمی فنکار کی پہچان بھی ہوتی ہے۔ اس گفتگو میں ہم “پنیرا بریڈ” ریستوران پہنچ گئے۔ آرڈر دے کر ہم اپنی نشست پر آکر بیٹھے تو بات شاعری کی طرف مڑی تو شکیل مزید جوش میں آ گئے۔ “آرکیٹیکچر اور شاعری دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ دونوں ‘خلاء ‘ اور ‘مادے’ کے درمیان کھیلتے ہیں۔ ایک عمارت اینٹوں اور سیمنٹ سے بنتی ہے، مگر اس کی روح میں وہ ‘خلاء ‘ ہے جس میں آپ رہتے ہیں۔ بالکل اسی طرح ایک نظم الفاظ سے بنتی ہے، مگر اس کا جادو ان الفاظ کے درمیان کی خاموشی میں ہوتا ہے۔ کراچی نے مجھے الفاظ دیے، اور کنیکٹیکٹ نے مجھے وہ خاموشی سکھائی جس میں وہ الفاظ جیتے ہیں۔”
    میں نے پوچھا، “تو کیا آپ خود کو ایک مسافر سمجھتے ہیں یا پھر باشندہ؟”
    وہ مسکرائے، “میں ایک ‘پرندہ’ ہوں، جس کے دو پر ہیں۔ ایک پر کراچی کی یادیں ہیں، دوسرا پر امریکا کا نظارہ۔ ایک پر سے میں اڑ نہیں سکتا۔ دونوں کی ضرورت ہے۔ ہاں، یہ سچ ہے کہ جب بہت برف پڑتی ہے اور درخت بالکل خاموش ہو جاتے ہیں، تو کراچی کے بھرے ہوئے بس اسٹاپوں کی یادیں ایک عجیب سی گرمی فراہم کرتی ہیں۔ اور جب کراچی کی گرمی اور ہجوم دم گھٹنے لگے، تو امریکہ کی وادی کی تصویر میرے دل کو ٹھنڈک پہنچاتی ہے۔”
    شام کے آخری سورج کی کرنیں ہوٹل کی کھڑکیوں سے چھن کر ہماری نشست تک پھیل رہی تھیں، ہر شے پر سنہری رنگ ڈال رہی تھیں۔ یہ ملاقات محض دو لوگوں کی ملاقات نہیں تھی، بلکہ دو دنیاؤں، دو تخلیقی عملوں کا باہمی سنگم تھی۔ شکیل حیدر اپنے آپ میں ایک ایسی عمارت تھے جو دو مختلف ثقافتی زمینوں پر کھڑی تھی، مگر اس کی بنیادیں مضبوط تھیں۔
    رخصت ہوتے وقت، جب ہم وہیں کھڑے ایک پرانے درخت کے ساتھ تصویر لے رہے تھے میں درخت کی جڑوں کو دیکھنے لگی جو زمین کی تہوں میں اترتی چلی گئی تھیں، مجھے احساس ہوا کہ شکیل حیدر کی طاقت بھی یہی ہے۔ ان کی جڑیں کراچی کی گہرائیوں میں ہیں، مگر ان کی سوچ کی شاخیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اور ان دونوں کے درمیان ہی ان کی تخلیقی توانائی کا بہاؤ ہے۔
    ان کو واپس کنیکٹیکٹ کے برج پورٹ پر میں چھوڑنے گئی۔ وہ بس مجھ سے ملنے آئے تھے۔ یہ ہماری پہلی ملاقات تھی جس میں نہ تو اجنبیت کا کوئی احساس تھا اور نہ رسمی تعارف شامل رہا۔ شکیل حیدر کی شخصیت خود ایک شاعری تھی، ایک ایسی عمارت تھی جس میں رہنے والے خیالات پر سکون تھے، اور ایک ایسی نظم تھی جس کی لَے دل کے براعظم کی دھڑکن تھی۔ میں نے سوچا، شاید جدید دور کے صوفی ایسے ہی ہوتے ہیں جو خانقاہ میں نہیں، بلکہ اپنی بنائی ہوئی دنیا میں رہتے ہیں۔ جو اپنے اندر کی دنیا کو سنتا اور اپنے باہر کی دنیا کو سمجھتا ہے۔ اور ان دونوں کے ملن سے ایک نیا جہان تعمیر کرتا ہے۔

  • آغا سراج درانی  سرکار کے شدید دباو کے باوجود   زرداری کے خلاف وعدہ معاف گواہ نہیں بنے’…آغا خالد

    آغا سراج درانی سرکار کے شدید دباو کے باوجود زرداری کے خلاف وعدہ معاف گواہ نہیں بنے’…آغا خالد

    آصف زرداری کے دیرینہ دوست، پیپلز پارٹی کے وفادار رہنما، آخری برسوں میں سیاسی سرد مہری کا شکوہ کرتے رہے۔
    گڑھی یاسین کے بااثر درانی خاندان سے تعلق، اعلی تعلیم، شرافت اور عوام دوستی نے صوبے بھر میں مقبول بنایا۔
    امریکہ میں قیام کے دوران ماڈلنگ اور اداکاری میں شہرت پائی، وجیہہ شخصیت کے باعث مغربی میڈیا میں مقبول ہوئے۔
    بے نظیر بھٹو کے اصرار پر وطن واپس آئے، سندھ کی سیاست میں فعال کردار ادا کیا اور کئی سیاسی آزمائشیں برداشت کیں۔
    آغا سراج درانی بھی داغ مفارقت دے گئے
    اناللہ واناالیہ راجعون
    وہ سندھ کا ایک بھاری بھرکم نام تھے اور ان کے بڑوں نے قیام پاکستان میں قائد اعظم کی مدد کی تھی، گڑھی یاسین کے شاہی خانوادہ سے تعلق رکھنے والے آغا سراج سندھ کے چند کروڑ پتی خاندانوں میں سے تھے مگر سیاست میں آنے کے بعد مملکت کے طاقت ور اداروں نے ان کے ساتھ بھی ایک سے زائد بار وہی گھناؤنا سلوک کیا جس کا مقصد سیاستدانوں کی کردار کشی اور ان کی رسوائی ہوتا تھا کبھی ان کے گھر یا دفتر سے کروڑوں روپیہ برآمد کروایا جاتا کبھی گڑھی یاسین کے محل کے صحن سے خزانہ برآمد ہوتا مگر ان کے خلاف بنائے گئے بیسیوں مقدمات کے عدالتی چالان میں وہ خزانے کبھی ظاہر نہ کیے جا سکے تبھی کہتے ہیں ‘‘جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے’’
    آغا سراج درانی دوستوں کے دوست مشہور تھے جبکہ ان کی اصل وجہ شہرت صدر مملکت آصف زرداری سے ان کی بچپن کی دوستی تھی وہ ذولفقار مرزا کی طرح میٹرک سے زرداری کے کلاس فیلو بھی رہے اور بہت سے دوستوں کے بقول ان کی موت کی بڑی وجہ زرداری صاحب کا گزشتہ کئی برسوں سے ان کے ساتھ سرد رویہ بھی تھا جس کا انہیں صدمہ تھا اور وہ اپنے قریبی دوستوں سے ہلکے پھلکے انداز میں اس پر شکوہ بھی کرتے تھے کہا جاتا ہے کہ اسی رویہ کے سبب وہ گزشتہ 10 برس سے کابینہ سے باہر رہے جبکہ انہیں یہ بھی شبہ تھا کہ طاقت ور عہدوں سے محروم رکھنے کی خاطر ہی انہی پانچ سال سندھ اسمبلی کا اسپیکر رکھا گیا وہ بلا کے ذہین قابل شریف النفس اور پی پی کے وفادار رہنما تھے ان کے قریبی اعزہ کا کہنا ہے کہ وہ بچپن سے سیاست سے الرجک تھے اعلی تعلیم کے لیے امریکہ گئے تو پھر وہیں کے ہو رہے اور اپنے شوق کی تکمیل میں انہوں نے امریکہ میں ماڈلنگ بھی کی اور کچھ دیگر ڈراموں میں بھی چھوٹے موٹے رول کیے جس پر وہ گوریوں کے پسندیدہ اداکار مشہور ہوے وہ دراز قد کے ساتھ کسرتی جسم، پر کشش نقوش، گھنگریالے بال، بڑی آنکھیں، نکھری رنگت اور نوکیلی رعب دار موچھوں کے ساتھ مردانہ وجاہت کا شاندار شاہکار تھے اس لیے امریکہ کے گوروں میں تیزی سے مقبول ہورہے تھے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو 87/88 میں امریکہ گئیں تو انہوں نے اصرار کرکے انہیں واپس آنے اور سندھ کی سیاست میں کردار ادا کرنے پر آمادہ کرلیا کہا جاتا ہے کہ ایسا بھی محترمہ نے اپنے شوہر آصف زرداری کی سفارش پر کیا تھا وہ اکثر بڑے فخر سے بتاتے تھے کہ جس روز میری فلائٹ کراچی میں اتری اسی روز جنرل ضیا کا جہاز بہاول پور میں حادثہ کا شکار ہوا تھا ان کے والد آغا صدرالدین درانی سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہے جبکہ چچا آغا بدرالدین قیام پاکستان کے وقت سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر تھے اور پاکستان سے الحاق کی سائیں جی ایم سید کی قرار داد میں پیش پیش تھے ان کا خاندان 3 صدیاں قبل افغانستان سے برصغیر آیا اور پھر محلہ آوروں کے ساتھ واپس جانے کی بجائے سندھ میں ہی ٹھر گیا اور شکار پور اور جیکب آباد کے درمیان ایک چھوٹے سے مگر ترقی یافتہ قصبے گڑھی یاسین کو اپنا مسکن بنا لیا ایک قلعہ نما چہار دیواری بناکر پورا کنبہ اس میں رہائش پذیر ہوا یہ اصلی پٹھان اور لڑاکا قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے اس لیے اس مشکل علاقہ میں بھی جلد ہی ان کی دھاک بیٹھ گئی اور وہ علاقہ کے بڑے زمیندار گھرانہ کی حیثیت سے مشہور ہوگئے مشکل علاقہ اس لیے کہاکہ شکار پور سے جیکب آباد تک زیادہ تر جنگجو لڑاکا بلوچ قبائل آباد ہیں 20 ویں صدی تک سرداروں کی سطح پر ان میں رشتہ داریاں بن رہی ہوتی تھیں مگر عین اسی لمحے نچلی سطح پر خونریز جھگڑے چل رہے ہوتے تھے جس میں ہر ایک جھگڑے میں 8/10 بندوں کا مرجانا تو معمولی بات تھی ایسے علاقہ میں دھاک کے ساتھ رہنا بذات خود بڑا کارنامہ تھا پھر درانی قبیلہ جنگجو اور لڑاکا بھی مشہور ہوگئے اور غیر اعلانیہ (معاشی اور ذہنی) سلطنت بھی قائم کرلی ہوا یوں کہ پھر علاقہ کی بڑے زمینداری کے علاوہ ان کی نئی نسل اعلی تعلیم کی طرف راغب ہوگئی جبکہ اس علاقہ کے طاقت ور بلوچ قبائل کے صرف سرداروں کے سکا د حلکا بچے ہی تعلیم حاصل کرتے تھے اور قبیلہ جہالت میں ڈوبا رہتا تھا مگر درانی بحیثیت قبیلہ اعلی تعلیم حاصل کرکے حکومتوں میں اہم مناصب حاصل کرتے رہے جس سے یہ مہذب بھی ہوگئے اور علاقہ میں ان کا اثرو رسوخ بھی بڑھتا گیا اس درانی قبیلہ کی 21 ویں صدی کے فرزند آغا سراج درانی ہونہار ہونے کے ساتھ اثرو رسوخ اور صوبہ سندھ کی سیاست میں منفرد مقام حاصل کرگئے ان کی ملن سار فقیرانہ عادات نے انہیں شکار پور سے نکال کر پورے سندھ کی مقبول شخصیت بنادیا وہ جب بھی سندھ کابینہ میں وزیر بنتے ان کی کھلی کچہریاں عام اور مظلوم لوگوں کو اپنی طرف راغب کرتیں ان کے دفتر میں کبھی پروٹوکول نہیں دیکھا ہر شخص ہر وقت ان سے مل سکتا تھا پھر وہ غریبوں کے مسائل حل کرنے میں نہ صرف دل چسپی لیتے تھے بلکہ اپنی جیب سے بھی ضرورت مندوں کی مدد کرتے تھے جس سے ان کی شہرت اور عزت میں اضافہ ہوا اور وہ صوبہ کی مقبول ترین شخصیات کی صف اول میں آگئے یہی وجہ تھی کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بننے والی حکومت میں وہ سندھ کی وزارت اعلی کے لیے زرداری صاحب کے پسندیدہ امیدوار بن گئے تھے یہ بھی بڑا دل چسپ قصہ ہے چہ جائیکہ آصف زرداری پارٹی کی بظاہر کمان سنبھال چکے تھے مگر پارٹی کی سینیر قیادت انہیں قبول کرنے کو ذہنی طور پر تیار نہ تھی اور اندرون خانہ سنجیدہ چپقلش موجود تھی پھر بی بی کے سوئم میں دکھائے گئے جانشینی کے خط کی ایک جھلک پر بھی مخدوم امین فہیم اور خورشید شاہ جیسے سینیر رہنما بھی اعتبار کرنے کو تیار نہ تھے انہوں نے سوئم کے جذباتی ماحول میں اعتراض تو نہ کیا مگر ان کے چہرہ کے تاثرات اور بعد کے رویہ نے زرداری صاحب کو پریشان کردیا، جبکہ ان ہی سینیرز کو بی بی کی قربت کی وجہ سے معلوم تھا کہ محترمہ بے نظیر پرویز مشرف کے دور میں ملک بدری کے دوران اور وطن واپسی پر بھی ماضی کے تجربات کے باعث آصف زرداری کی پارٹی یا سیاست میں مداخلت کے خلاف تھیں اور اس مسلہ پر میاں بیوی کے تعلقات میں بی بی کی شہادت تک سرد مہری بھی پائی جاتی رہی جس کی وجہ سے آصف زرداری پارٹی کی کمان سنبھالنے کے باوجود اپنے آپ کو بہت کمزور محسوس کرہے تھے اور بعض سیاسی مبصرین کے بقول یہی وجہ تھی کہ ملکی طاقت ور اسٹبلشمنٹ کی ہمدردیاں سمیٹنے اور طاقت کے ایک بڑے مرکز کو اپنے ساتھ ملانے کو ذہین ترین آصف نے ترپ کا شاندار پتہ کھیلتے ہوے سوئم کے سوگ اور پاکستان مخالف غصہ سے بھرے جذباتی اجتماع میں بھی ‘‘پاکستان کھپے’’ کا نعرہ لگایا جو بعد میں ان کے بہت کام آیا، سینیر پارٹی قیادت جانتی ہے کہ سوئم کے فورن بعد آصف علی زرداری سکھر پہنچے اور انہوں نے سکھر ہائوس میں اسلام الدین شیخ کے ہاں دو روز قیام کرکے سید خورشید شاہ کو رام کیا اس کارنامے کا زیادہ سہرا اسلام الدین شیخ کو جاتا ہے جس کا ثمر پہلے وہ اور اب ان کے بیٹے سمیٹ رہے ہیں یہ معرکہ سر کرنے کے بعد زرداری صاحب نے مخدوم امین فہیم پر کام شروع کیا مگر وہ زرداری کی کمزوری سے کھیلتے ہوے وزارت عظمی سے کم پر بات کرنے کو تیار نہ تھے اور آصف انہیں نظر انداز یوں نہ کرسکتے تھے کہ ان کے ساتھ سندھ کے ارکان اسمبلی اور پارٹی کی اہم قیادت یک زبان تھی یہی وجہ تھی کہ بقول مخدوم جاوید ہاشمی کے نواز شریف کی قیادت میں محترمہ بے نظیر کی تعزیت کے لیے نوڈیرو لاڑکانہ جانے والے ن لیگ کے تین رکنی وفد سے زرداری صاحب نے درخواست کی کہ وہ مخدوم امین سے ان کی جان چھڑائیں بقول جاوید ہاشمی کے وہاں تعزیت کا سوگوار ماحول تھا ہی نہیں بلکہ اقتدار کی بندر بانٹ کے لیے توڑ جوڑ زوروں پر تھا، بعد ازاں انتخابات کے بعد ہی زرداری صاحب کی فرمائش پر خواجہ آصف نے اسلام آباد پہنچ کر یہ بیان داغ دیاکہ اگر پی پی نے مخدوم امین فہیم کو وزارت عظمی کے لیے نام زد کیا تو ن لیگ ان کی حمایت نہیں کرے گی یوں زرداری صاحب نے ترپ کا ایک پتہ اور کھیل کر وزارت عظمی کے سب سے مضبوط امیدوار کو متنازعہ کرکے مخدوم امین کو پارٹی میں بے اثر کردیا، ملکی سیاست کا انتہائی نفیس اور شریف النفس سیاستداں سب سے بڑی کرسی کی بازی ہارگیا اور باقی زندگی آصف زرداری کی ناراض گی کا نشانہ بنتے ہوے گزار کر اس دنیا سے کوچ کرگیا (انا للہ وانا الیہ راجعون) اس خطرے سے نپٹ کر زرداری صاحب نئی حکومت کی تشکیل کے لیے اسلام آباد پہنچے اور انہوں نے پارٹی کی اہم اور طاقت ور مشاورتی کمیٹی (سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی) کا اجلاس بلا لیا اب یہ نہیں معلوم کہ اجلاس کے دوران یا اس سے ہٹ کر انہوں نے آغا سراج درانی جو مشکل کی اس گھڑی میں مسلسل سائے کی طرح ان کے ساتھ تھے کو کہاکہ وہ تیاری کریں اگلے وزیر اعلی سندھ وہ ہوں گے کوئی شب کے 11 یا 12 بجے ہوں گے کہ مجھے آغا جاوید کا فون آیا کہ میں آغا سراج درانی کا پیغام لے کر آرہا ہوں آپ دفتر میں رکیں آغا جاوید (مرحوم) وہ جذباتی جیالا تھا جس نے محترمہ بے نظیر کی شہادت کے بعد ان پر تبرا کرنے والے اس وقت کے وزیر اعلی ارباب غلام رحیم کو سندھ اسمبلی کی گیلری میں جوتا مارا تھا جس پر وہ جیل بھی گیا اور پولیس تشدد کا نشانہ بھی اور پارٹی میں اسے ہیرو کا درجہ ملا وہ آغا سراج درانی کی برادری سے اور ان کا قابل اعتماد کارکن تھا اس نے آتے ہی پھولی ہوئی سانس کے ساتھ بتایا کہ زرداری صاحب نے آغا سراج کو سندھ کی وزارت اعلی کے لیے نامزد کردیا ہے اس کی خبر چلانی ہے مینے اس کی مخالفت کرتے ہوے آغا سراج سے جاوید کے نمبر سے ہی بات کی اور انہیں اس کے نقصان دہ مضمرات سے آگاہ کیا اور کہاکہ اس مرحلے پر خبر کی اشاعت نقصان دہ ہوگی سندھ میں طاقت ور سید لابی کے علاوہ سید قائم علی شاہ موجود تھے جو محترمہ بے نظیر کا بھی انتخاب رہے تھے پھر وہ حالیہ الیکشن میں پیر پاگارا کو ہرا کر بھاری اکثریت سے انتخاب جیتے تھے اس کے علاؤہ بھی کچھ دیگر خطرات میں محسوس کررہا تھا مگر آغا سراج خبر شائع کرنے پر بضد تھے وہ بہت پرجوش اور جذباتی ہورہے تھے مینے ان کے اصرار پر خبر شائع کردی جو روزنامہ آج کل میں صفحہ اول پر سنگل چھپی میں ان دنوں اس اخبار کا کراچی میں چیف رپورٹر تھا یہ اخبار نجم سیٹھی اور سلیمان تاثیر نے مل کر نکالا تھا یہ منفرد اسلوب اور خبروں کی ترسیل کے نئے انداز کی وجہ سے روز بروز مقبول ہورہا تھا دوسرے روز یہی خبر کئی چینلز میں نشر اور اخبارات میں چھپی جس پر سیاسی حلقوں میں عموما اور پی پی میں خصوصا ہلچل مچ گئی وزارت اعلی کے تین چار دیگر اْمیدواروں نے توڑ جوڑ شروع کردیا،

  • اداکارہ آمنہ ملک کا گھر میں جنات کی موجودگی کا انکشاف

    اداکارہ آمنہ ملک کا گھر میں جنات کی موجودگی کا انکشاف

    لاہور (کنزیومرواچ نیوز)پاکستانی اداکارہ آمنہ ملک نے جنات سے اپنی گم ہوئی چیزیں واپس منگوانے کا انکشاف کیا ہے۔اداکارہ آمنہ ملک حال ہی میں جیو نیوز کے پروگرام ’ ہنسنا منع ہے‘ میں شریک ہوئیں جس دوران انہوں نے میزبان تابش ہاشمی سے مختلف اور دلچسپ موضوعات پر گفتگو کی۔دوران گفتگو آمنہ ملک نے ایک انوکھا قصہ سناتے ہوئے بتایا کہ ’ایک مرتبہ میرے اپنے گھر میں ہی پیسے گم گئے تھے، اس سے قبل بھی میری روزانہ کوئی نہ کوئی چیز جیولری یا شرٹ گم رہی تھی، پہلے میرا شک اپنی کام والی ماسی پر گیا لیکن ایسا نہیں تھا‘۔

  • بھارتی کرکٹر کے 8 گیندوں پر مسلسل 8 چھکے، تیز ترین ففٹی کا ورلڈ ریکارڈ قائم

    بھارتی کرکٹر کے 8 گیندوں پر مسلسل 8 چھکے، تیز ترین ففٹی کا ورلڈ ریکارڈ قائم

    ممبئی (کنزیومرواچ نیوز)کرکٹ کے کھیل میں بیٹر کی جانب سے 6 گیندوں پر مسلسل 6 چھکے مارنا ایک حیران کن کارنامہ سمجھا جاتا ہے لیکن بھارت کے فرسٹ کلاس کرکٹر نے 6 نہیں بلکہ 8 گیندوں پر مسلسل 8 چھکے لگاکر نئی تاریخ رقم کر دی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی ریاست میگھالیہ سے کھیلنے والے آکاش کمار چوہدری نے رنجی ٹرافی کے پلیٹ گروپ میچ میں اروناچل پردیش کے خلاف بیٹنگ کرتے ہوئے مسلسل 8 چھکے لگا کر فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین نصف سنچری بنا ڈالی ۔آکاش کمار نےصرف 11 گیندوں اور 9 منٹ میں 50 رنز مکمل کیے۔ انہوں نےایک اوور میں 6 چھکے اور مجموعی طور پر 8 لگاتار چھکے لگاکر اپنی نصف سنچری مکمل کی۔رپورٹس کے مطابق آکاش نمبر 8 پر بیٹنگ کے لیے اس وقت آئے جب ٹیم کا اسکور پہلے ہی 6 وکٹوں پر 576 تھا۔آکاش نے بیٹنگ کے آغاز میں ایک ڈاٹ اور 2 سنگل رن لینے کے بعد بائیں ہاتھ کے اسپنر لیمار دابی کے ایک اوور میں مسلسل 6 چھکے جڑ دیے۔یوں وہ فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ میں ایک اوور میں 6 چھکے لگانے والے دنیا کے تیسرے کھلاڑی بن گئے۔ اس سے پہلے صرف گار فیلڈ سوبرز (1968) اور روی شاستری (1985) نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔آکاش کمار نے پھر اگلے اوور میں 2 مزید چھکے لگا کر صرف 11 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں تیز ترین ففٹی کا ورلڈ ریکارڈ توڑ دیا۔اس سے قبل فرسٹ کلاس کرکٹ میں تیز ترین ففٹی کا ورلڈ ریکارڈ سابق انگلش کرکٹر وین وائٹ کے پاس تھا جنہوں نے 2012 میں Essex کے خلاف 12 گیندوں پر نصف سنچری بنائی تھی۔آکاش نے برق رفتار اننگز کھیلتے ہوئے ٹیم کا اسکور 629 تک پہنچایا جس کے بعد میگھالیہ نے اننگز ڈکلیئر کردی۔ آکاش کمار چوہدری 14 گیندوں پر 50 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے ،ان کی اننگز میں کوئی چوکا شامل نہیں تھا، صرف 8 شاندار چھکے تھے۔یہ پہلا موقع ہے جب کسی بیٹر نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں مسلسل 8 چھکے لگائے۔

  • سونے کی قیمت ایک بار پھر بڑھ گئی، فی تولہ 7400روپے مہنگا

    سونے کی قیمت ایک بار پھر بڑھ گئی، فی تولہ 7400روپے مہنگا

    کراچی(کنزیومر واچ نیوز) سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت 7400 روپے اضافے سے4 لاکھ 29 ہزار 862 روپے ہوگئی ہے۔ ایسو سی ایشن کا بتانا ہے کہ 10 گرام سونے کا بھاؤ 6337 روپے اضافے سے 3لاکھ 68 ہزار 530 روپے ہے۔اس کے علاوہ عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 74 ڈالر اضافے سے 4075 ڈالر فی اونس ہے۔

  • لیجنڈری اداکار دھرمیندرا کی طبیعت بگڑ گئی، وینٹی لیٹرپر منتقل

    لیجنڈری اداکار دھرمیندرا کی طبیعت بگڑ گئی، وینٹی لیٹرپر منتقل

    ممبئی(کنزیومرواچ نیوز) بالی وڈ کے لیجنڈری اداکار دھرمیندر ا کو طبیعت ناساز ہونے پر اسپتال داخل کیا گیا ہے اور انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کرنے کی رپورٹس سامنے آرہی ہیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 89 سالہ بھارتی لیجنڈری اداکار دھرمیندرا کو ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں وہ اس وقت وینٹی لیٹر پر ہیں۔ متعدد رپورٹس کے مطابق دھرمیندرا کئی دنوں سے علیل ہیں اور آج صبح حالت بگڑنے پر انہیں آئی سی یو میں منتقل کیا گیا۔رپورٹس کے مطابق آج صبح سے اہلِ خانہ کی اسپتال آمد و رفت میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، تاہم فی الحال نہ خاندان کی جانب سے اور نہ ہی اسپتال کی طرف سے کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہےکہ دھرمیندرا کو گزشتہ ہفتے بھی سانس لینے میں دشواری کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا تھا جبکہ رواں سال اپریل میں ان کی آنکھ کی سرجری بھی ہوئی تھی۔

  • سینیٹ میں 27 ویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری جاری، پی ٹی آئی کے سیف ابڑو نے حق میں ووٹ دیا

    سینیٹ میں 27 ویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری جاری، پی ٹی آئی کے سیف ابڑو نے حق میں ووٹ دیا

    اسلام آباد (کنزیومرواچ نیوز)سینیٹ میں 27 ویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری جاری، پی ٹی آئی کے سیف ابڑو اور جے یو آئی کے احمد خان نے حق میں ووٹ دیاوفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ میں آئینی ترمیمی بل پیش کرنے کی تحریک پیش کردی۔وفاقی وزیر کی جانب سے تحریک پیش کرنے کے دوران پی ٹی آئی ارکان نے چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے احتجاج کیا۔پی ٹی آئی کے سیف اللہ ابڑو نشست پر بیٹھے رہے اور احتجاج میں شریک نہیں ہوئے۔ستائیسویں آئینی ترمیمی پیش کرنے کی تحریک پر ایوان میں ووٹنگ ہوئی تو سیف اللہ ابڑو آئینی ترمیم پیش کرنے کی تحریک کے حق میں کھڑے ہوئے۔اس کے علاوہ جے یو آئی کے احمد خان بھی تحریک کے حق میں کھڑے ہو ئے۔ 64 ارکان سینیٹ نے ستائسیویں آئینی ترمیم کی شق 2 کے حق میں ووٹ دیا۔ سیف اللہ ابڑو اور احمد خان نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔ سینیٹ کے ارکان نشستوں سے کھڑے ہوکر ووٹنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔

  • فیلڈ مارشل، مارشل آف ائیرفورس اور ایڈمرل آف فلیٹ رینک حاصل کرنیوالا تاحیات یونیفارم میں رہےگا: مجوزہ آئینی ترمیم

    فیلڈ مارشل، مارشل آف ائیرفورس اور ایڈمرل آف فلیٹ رینک حاصل کرنیوالا تاحیات یونیفارم میں رہےگا: مجوزہ آئینی ترمیم

    اسلام آباد: 27 ویں مجوزہ آئینی ترمیم کے اہم نکات سامنے آئے ہیں جس کے مطابق 27 ویں آئینی ترمیم میں چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ متعارف کرادیا گیا ہے اور آرمی چیف ہی چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے۔ فیلڈ مارشل، مارشل آف ائیر فورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کا رینک حاصل کرنے والا تاحیات یونیفارم میں رہےگا۔
    مجوزہ آئینی ترمیم کے مطابق آرمی چیف، نیول چیف اور ائیر چیف کا تقرر صدر وزیراعظم کی ایڈوائس پر کرےگا، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم ہوجائےگا۔
    مجوزہ آئینی ترمیم کے مطابق وزیراعظم چیف آف ڈیفنس فورسز کی تجویز پر پاک آرمی سے کمانڈر نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈکا تقرر کرےگا۔
    مجوزہ آئینی ترمیم کے مطابق فیلڈ مارشل، مارشل آف ائیر فورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کا رینک حاصل کرنے والا تاحیات یونیفارم میں رہےگا۔ فیلڈ مارشل ، مارشل آف ائیرفورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کا رینک اور مراعات بھی تاحیات رہیں گی۔ فیلڈ مارشل، مارشل آف ائیرفورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کا عہدہ پارلیمنٹ کے مواخذے سے ختم کیا جاسکےگا۔
    مجوزہ آئینی ترمیم کے مطابق فیلڈ مارشل، مارشل آف ائیرفورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کو صدر کی طرح عدالتی استثنیٰ حاصل ہوگا۔ کمانڈ مدت پوری ہونے پر وفاقی حکومت انہیں ریاست کے مفاد میں کوئی ذمہ داری سونپ سکتی ہے۔
    ملک میں وفاقی آئینی عدالت قائم کی جائے گی، مجوزہ آئینی ترمیم
    مجوزہ آئینی ترمیم کے مطابق ملک میں وفاقی آئینی عدالت قائم کی جائےگی۔وفاقی آئینی عدالت میں ہر صوبے سے برابر ججز ہوں گے۔ چیف جسٹس آئینی کورٹ اور ججز کا تقرر صدر کرےگا۔ وفاقی آئینی عدالت کے پاس اپنےکسی فیصلے پر نظرثانی کا اختیار ہوگا۔صدر قانون سے متعلق کوئی معاملہ رائے کے لیے وفاقی آئینی عدالت کو بھیجےگا۔
    ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلے کا اختیار جوڈیشل کمیشن کو دیا جائےگا۔ اگرکوئی جج ٹرانسفر ماننے سے انکار کرےگا تو وہ ریٹائر تصور کیا جائےگا۔
    از خود نوٹس سے متعلق 184 بھی حذف کر دی گئی، مجوزہ آئینی ترمیم
    مجوزہ آئینی ترمیم کے مطابق قانون سے متعلق معاملہ سپریم کورٹ کو بھیجنے کی شق ختم کر دی گئی ہے از خود نوٹس سے متعلق 184 بھی حذف کر دی گئی ہے۔ وفاقی آئینی عدالت کا جج 68 سال کی عمر تک عہدے پر رہےگا۔ آئینی عدالت کا چیف جسٹس اپنی تین سالہ مدت مکمل ہونے پر ریٹائر ہو جائےگا۔ صدر آئینی عدالت کے کسی جج کو قائم مقام چیف جسٹس مقرر کرےگا۔
    سپریم کورٹ کے فیصلےکے سوائے آئینی عدالت کے تمام عدالتیں پابند ہوں گی،مجوزہ آئینی ترمیم
    مجوزہ آئینی ترمیم کے مطابق آئینی کورٹ یا سپریم کورٹ کے پاس ہائی کورٹ سے کوئی اپیل یا کیس اپنے پاس یا کسی اور ہائی کورٹ ٹرانسفر کرنےکا اختیار ہوگا۔ وفاقی آئینی کورٹ کے فیصلےکی سپریم کورٹ سمیت پاکستان کی تمام عدالتیں پابند ہوں گی۔ سپریم کورٹ کے فیصلےکے سوائے آئینی عدالت کے تمام عدالتیں پابند ہوں گی۔
    ہائی کورٹ کا کوئی جج وفاقی آئینی عدالت یا سپریم کورٹ میں تقرری کو قبول نہیں کرے گا تو ریٹائر تصور ہوگا۔ سپریم کورٹ کا کوئی جج وفاقی آئینی عدالت کا جج بننے سے انکار کرے گا تو ریٹائر تصور ہوگا۔
    صدر سپریم کورٹ کے ججز میں سے وزیراعظم کی ایڈوائس پر وفاقی آئینی کورٹ کا پہلا چیف جسٹس تقرر کرے گا۔ وفاقی آئینی عدالت کے پہلے ججز کا تقرر صدر وزیر اعظم کی ایڈوائس پر چیف جسٹس فیڈرل آئینی کورٹ سے مشاورت سے کرےگا۔
    صدر کیخلاف عمر بھر کیلئے کوئی فوجداری کارروائی نہیں ہوسکےگی، مجوزہ آئینی ترمیم
    مجوزہ آئینی ترمیم کے مطابق صدر کے خلاف عمر بھر کے لیے کوئی فوجداری کارروائی نہیں ہوسکےگی۔ گورنر کے خلاف اس کی مدت کے لیےکوئی فوجداری کارروائی نہیں ہوگی۔ کوئی عدالت صدر اورگورنر کی گرفتاری یا جیل بھیجنےکے لیےکارروائی نہیں کرسکےگی۔

  • تیسرا ون ڈے: پاکستان نے جنوبی افریقا کو 7 وکٹوں سے ہرا کر سیریز 1-2 سے جیت لی

    تیسرا ون ڈے: پاکستان نے جنوبی افریقا کو 7 وکٹوں سے ہرا کر سیریز 1-2 سے جیت لی

    فیصل آباد(کنزیومرواچ نیوز)
    پاکستان نے تیسرے ون ڈے میں جنوبی افریقا کو 7 وکٹوں سے ہرا کر تین میچوں کی سیریز 1-2 سے جیت لی۔فیصل آباد کے اقبال اسٹیڈیم میں کھیلے گئے سیریز کے فیصلہ کن میچ میں مہمان ٹیم نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔
    جنوبی افریقا کی جانب سے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ سود مند ثابت نہ ہوا اور پوری جنوبی افریقی ٹیم 37 ویں اوور میں 143 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔جنوبی افریقا کی جانب سے کوئنٹن ڈی کوک نے 53 اور یوہان ڈی پریٹوریس نے 39 رنز بنائے۔ پیٹر اور میتھیو برٹزکی نے 16، 16رنز اسکور کیے۔پاکستان کی جانب سے ابرار احمد نے 4، شاہین آفریدی، سلمان آغا اور محمد نواز نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔پاکستان نے 144 رنز کا آسان ہدف 26 ویں اوور میں 3 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔پاکستان کی جانب سے صائم ایوب نے77 اور بابر اعظم نے 27 رنز بنائے۔ محمد رضوان 32 اور سلمان آغا پانچ رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان نے مہمان ٹیم کو 2 وکٹ سے شکست دی تھی جب کہ دوسرے ون ڈے میں جنوبی افریقا نے گرین شرٹس کے خلاف 8 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔