کوئٹہ (کنزیومرواچ نیوز)آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھارتی فوجی قیادت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہےکہ نیوکلیئر انوائرمنٹ میں دونوں ممالک میں جنگ کیلئے گنجائش نہیں ہے۔پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف عاصم منیر نے کہا کہ آپریشن بنیان مرصوص کے دوران قوم اپنی فوج کے ساتھ فولاد کی طرح کھڑی تھی، آپریشن بنیان مرصوص سے قوم کے فوج پر اعتماد مزید مضبوط ہوا۔فیلڈ مارشل نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر بے بنیاد الزمات لگائے گئے، بھارتی جارحیت کے خلاف قوم پہلے سے زیادہ متحد اور یک زبان ہوئی اور افواج پاکستان نے قوم کی حمایت سے سرحدوں کا کامیابی سے دفاع کیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ازلی دشمن کےخلاف انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کارروائیاں کرتے ہوئے رافیل طیاروں کو مار گرایا گیا، دشمن کی متعدد بیسز بشمول ایس400 سسٹمز کو نشانہ بنایا گیا، پاکستان نے ملٹی ڈومین وارفیئر کی صلاحیتوں کا بھی بھرپور مظاہرہ کیا، اللہ کےفضل اور قومی عزم کے ساتھ ہم نےمن حیث القوم متحد ہو کر فولادی دیوار کی مانند دشمن کا مقابلہ کیا۔آرمی چیف نے مزید کہا کہ بھارت کاخود ساختہ شواہد پیش کرنا علامت ہےکہ بھارتی حکمران جماعت نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے دہشت گردی کو سیاسی رنگ دیا، پاکستان نےعددی طور پر بڑے دشمن کےخلاف اپنی واضح فتح کی بدولت عالمی برادری کا وقار اور داد حاصل کی، نوجوانوں میں یہ اعتماد بھی مضبوط ہوا کہ پاکستان کی مسلح افواج قومی طاقت کا ایک بنیادی ستون ہیں۔ان کا کہنا تھا قوم کو یقین دلاتا ہوں ان شااللہ، ہم اس مقدس سرزمین کا ایک انچ بھی دشمن کےحوالے نہیں ہونے دیں گے، خراج تحسین پیش کرتا ہوں ہر سپاہی، سیلر، فضائیہ کے جوانوں، مرد، خواتین، بچے، بزرگ کو جنہوں نےکٹھن حالات میں اپنی جانوں کا نذرانہ دیا، وطن کے دفاع میں شہید ہونے والوں کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائےگا۔آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا افواج پاکستان دنیا کی بہترین فوج ہے ،دشمن پاکستانی افواج اور عوام کے درمیان دوری پیدا کرنا چاہتا ہے، شہداء کی قربانیوں کی بدولت آج ہم آزادی کی زندگی گزار رہے ہیں، دشمن اپنے مذموم مقاصد کےلیے ہمارے عوام، مسلح افواج کے درمیان دراڑ ڈالنے پر تلے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دفاعی نظریہ کریڈیبل ڈیٹرنس اور دائمی تیاری پر مبنی ہے، جس میں تمام صلاحیتوں کا احاطہ کیا گیا ہے، یہ پیشہ ور فوج روایتی میدان میں بھی دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر اپنی صلاحیتیوں کا لوہا منوا چکی ہیں، دوبارہ جارحیت کی کوشش کی گئی تو پاکستان دشمن کی توقعات سےکہیں زیادہ سخت جواب دے گا، جنگ میں ہمارے ہتھیار زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتے ہوئے بھارت کی جغرافیائی وسعت کا من گھڑت حفاظتی تصور ختم کر دیں گے۔سید عاصم منیر کا کہنا تھا دشمن کو پہنچائے جانے والےفوجی و اقتصادی نقصانات بھارت کی توقعات سےکہیں زیادہ بڑھ کر ہوں گے، بھارتی فوجی قیادت کو خبردار کرتا ہوں نیوکلیئر انوائرمنٹ میں دونوں ممالک میں جنگ کے لیے گنجائش نہیں، پاکستان کے ساتھ بنیادی مسائل کوبین الاقوامی اصولوں کے مطابق برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر حل کریں۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا تھا ہم آپ کی بیان بازی سےکبھی خوفزدہ نہیں ہوں گے، کسی بھی قسم کی چھوٹی سی اشتعال انگیزی کا بھی فیصلہ کن جواب دیں گے، آنے والی کشیدگی کی ذمے داری بالآخر پورے خطے، اس سے باہر کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے تشدد کے استعمال جیسے محرکات کی واضح تبدیلی دیکھ رہی ہے، پاکستان خطے میں کامیابی سے نیٹ ریجنل اسٹیبلائزر کے طور پر ابھرا ہے، عالمی طاقتوں بالخصوص مسلم ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں، پاکستان نے مستقل طور پر خطے اور اس سے باہر امن کے لیے کلیدی کردار ادا کرنے کا ثبوت دیا ہے، ہماری مسلح افواج دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں بڑی تعداد میں شامل ہوتی ہیں۔ان کا کہنا تھا سعودی عرب کے ساتھ حالیہ دفاعی معاہدہ پاکستان سعودی بھائی چارے کو تقویت دیتا ہے، یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کی جانب ایک قدم ہے، عوام اور مسلح افواج کے لیے یہ منفرد اعزاز ہےکہ وہ حرمین الشریفین کے دفاع کے لیے اپنی خدمات پیش کر سکیں۔آرمی چیف کا کہنا تھا پاکستان نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے پُرامن عمل میں بھی کردار ادا کیا ہے، دیگر تمام مسلم ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چین کے ساتھ اپنی تاریخی اور اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری اور دوستی پر فخر ہے، امریکا کے ساتھ مضبوط اور بڑھتے ہوئے تعلقات کو دوبارہ متحرک کرنا حوصلہ افزا اور خوش آئند پیشرفت ہے، تنازعات کے شکار علاقوں میں قیام امن کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششیں اور اسٹریٹجک لیڈرشپ قابل تعریف ہے، ہم امن، سلامتی اور ترقی کے مفاد کے لیے اہم عالمی اور علاقائی رہنماؤں کے ساتھ ان تعلقات کو مزید پروان چڑھائیں گے۔چیف آف آرمی اسٹاف کا کہنا تھا مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا مؤقف غیر متزلزل ہے، کشمیری عوام کب تک ظلم و جبر کا شکار رہیں گے اور حق خود ارادیت سے محروم رہیں گے، پاکستان کشمیر پر اپنے اصولی مؤقف پر ثابت قدم ہے، پاکستان کشمیریوں کی جائز جدوجہد آزادی کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا غزہ میں امن کے قیام کے لیے پاکستان نے بے پناہ کوششیں کیں، پاکستان دنیا میں اپنا مقام حاصل کر رہا ہے، وطن کے دفاع کے لیے پاک افواج ہمہ وقت تیار ہیں، پاکستان کے خلاف جارحیت میں ناکامی کے بعد بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کو ترجیحی پالیسی کے طور پر جاری رکھے ہوئےہے۔ آرمی چیف کا کہنا تھا دشمن کا فتنۃ الہند، فتنہ الخوارج کو”ہائرڈ گنز” کے طور پر استعمال کرنا اس کے بزدلانہ چہرے کوبے نقاب کرتا ہے، افغانستان کے لوگوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ دائمی تشدد کے بجائے باہمی سلامتی کا انتخاب کریں۔انہوں نے کہا کہ طالبان رجیم کو ان پراکسیوں پر لگام ڈالنی چاہیے جن کی افغانستان میں پناہ گاہیں ہیں، یہ پراکسیز پاکستان کے اندر گھناؤنے حملے کرنے کے لیےافغان سرزمین استعمال کرتی ہیں۔سید عاصم منیر کا کہنا تھا دشمن کسی بھول میں نہ رہے، پاک فوج ہر محاذ پر چوکس ہے، پاکستان کا پرچم ہمیشہ سر بلند رہے گا۔آرمی چیف نے بہترین کاکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کیڈٹس کو اعزازت سے بھی نوازاقبل ازیں پی ایم اے کاکول میں 152 ویں لانگ کورس، 37 ویں ٹیکنیکل گریجویٹ کورس، 71 ویں اینٹی گریٹٹ کورس اور 26 ویں لیڈی کیڈٹ کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔پاس آؤٹ والوں میں 40 دوست ممالک کے فوجی بھی شامل تھے جن کا تعلق عراق، مالدیپ، مالی، نیپال، فلسطین، سری لنکا، یمن، نائیجیریا، قطر اور بنگلا دیش سے ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی آمد پر حاضرین نے کھڑے ہو کر ان کا شاندار استقبال کیا۔بعدازاں مہمان خصوصی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پریڈ کا معائنہ بھی کیا اور بہترین کارکردگی دکھانے والے کیڈٹس کو اعزازی شمشیر اور شیلڈ سے نوازا۔
Blog
-

ہمدرد ملت حکیم محمد سعیدؒ کا آج یوم شہادت ہے
(تحریر: عامر سعید خان)
حکیم محمد سعیدؒ ایک ایسے مردِ مومن، پرہیزگار، خدا ترس اور عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی کو خدمتِ خلق، اشاعتِ علم، فروغِ طب اور تعمیرِ ملت کے لیے وقف کر دیا۔ وہ ذاتی مفادات کو ہمیشہ اجتماعی اور قومی مفادات پر قربان کر دینے والے عظیم المرتبت انسان تھے۔ ان کا وجود سراپا ایثار، ان کی زندگی ایک مسلسل جدوجہد، اور ان کی شہادت انسان دوستی اور حق پرستی کی لازوال دلیل ہے۔
حکیم صاحب کی ذات علم و حکمت کا گنجینہ تھی۔ وہ نہ صرف ایک جید طبیب اور حاذق معالج تھے بلکہ ایک مردِ درویش، انسانیت کے محسن اور پاکستان کے مخلص ترین خادم بھی تھے۔ ان کا یہ معمول رہا کہ ہمیشہ باوضو رہتے، اکثر روزے سے مریضوں کا علاج کرتے اور شفایابی کو محض اللہ تعالیٰ کی عطا سمجھتے۔ لاکھوں مریضوں کا وہ بلا معاوضہ علاج کرتے رہے۔ پاکستان کے بڑے شہروں — کراچی، لاہور، راولپنڈی اور پشاور — میں وہ پابندی سے صبح کے اوقات میں مطب کھولتے اور دکھی انسانیت کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھاتے۔
مشرق کی طب جو صدیوں کی تاریخ رکھتی تھی مگر تحقیق اور ارتقاء کے فقدان کا شکار تھی، اس کے احیاء اور فروغ کے لیے حکیم صاحب نے انتھک محنت کی۔ انہوں نے اسے جدید سائنسی خطوط پر استوار کیا، دواسازی میں معیاری ٹیکنالوجی متعارف کرائی، حکماء کو اصول و ضوابط کا پابند بنایا اور طبِ یونانی کو ایک نیا عروج بخشا۔ ان کا خواب یہ تھا کہ طبِ مشرقی، ایلوپیتھی اور ہومیوپیتھی ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کریں تاکہ غریب اور متوسط طبقے کو ارزاں اور مؤثر علاج میسر آسکے۔
نونہالوں کی تربیت
حکیم صاحب کے دل میں بچوں کے لیے محبت کا بے پایاں جذبہ موجزن تھا۔ وہ جانتے تھے کہ یہی نونہال وطنِ عزیز کے مستقبل کے معمار ہیں۔ چنانچہ انہوں نے 1953ء میں رسالہ ہمدرد نونہال جاری کیا جو آج بھی ان کی صاحبزادی محترمہ سعدیہ راشد کی سرپرستی میں شائع ہو رہا ہے۔ 1964ء سے لے کر اپنی شہادت (1998ء) تک وہ مسلسل ’’جاگو جگاؤ‘‘ کے عنوان سے کالم لکھتے رہے، جس کے ذریعے انہوں نے بچوں اور نوجوانوں میں مطالعہ کی عادت، اخلاقی تربیت اور حب الوطنی کا جذبہ پروان چڑھایا۔
نونہال ادب کے شعبے کے تحت تقریباً ساڑھے چار سو سے زائد کتب شائع کی گئیں جن میں دلچسپ کہانیاں، سائنسی مضامین، تاریخی و دینی کتب اور معلوماتی ذخیرہ شامل ہے۔ حکیم صاحب کا یقین تھا کہ علم کے بغیر انسان بصارت کے باوجود نابینا ہے۔ اسی یقین کے تحت انہوں نے بزم ہمدرد نونہال (1985ء) قائم کی جو بعد ازاں ہمدرد نونہال اسمبلی (1995ء) کی صورت میں نئی جہتوں سے متعارف ہوئی۔ یہ ادارہ آج بھی بچوں میں قومی شعور بیدار کرنے اور ان کی فکری تربیت کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے۔
نوجوانوں کی فکری و اخلاقی تربیت
حکیم صاحب نے نوجوان نسل کی ذہنی و اخلاقی آبیاری کے لیے آوازِ اخلاق کے نام سے ایک تنظیم قائم کی اور اسی عنوان سے رسالہ بھی جاری کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ اگر نوجوانوں کی نظریاتی سمت درست کر دی جائے اور ان کی سیرت سازی اعلیٰ اقدار کی بنیاد پر ہو تو معاشرہ ہر قسم کے بگاڑ سے محفوظ ہو سکتا ہے اور ایک مثبت و صحت مند انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔
ایک ہمہ جہت شخصیت
حکیم محمد سعیدؒ بلاشبہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ ایک طرف وہ عظیم طبیب، محقق اور دواساز تھے تو دوسری جانب محبِ وطن، مفکر، مصلحِ قوم، ادیب اور نونہالانِ وطن کے مربی بھی تھے۔ ان کی شخصیت کا ہر پہلو قوم کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ تعلیم، صحت، ادب اور سماجی خدمات کے میدان میں ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔
ان کا خونِ جگر پاکستان کی مٹی میں ہمیشہ یادگار رہے گا۔ ان کی شہادت نے اس بات پر مہر ثبت کر دی کہ وہ اپنی آخری سانس تک عہدِ وفا نبھانے والے عاشقِ وطن تھے۔ بلاشبہ حکیم محمد سعیدؒ کا شمار ان ہستیوں میں ہوتا ہے جنہیں صدیوں تک یاد رکھا جائے گا۔ -

مودی حکومت کا سیاہ باب، بھارتی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں بڑی تنزلی
ممبی (کنزیومر واچ نیمودی حکومت کی سفارتی لاپروائی، ناقص خارجہ پالیسی اور ناکامیوں نے بھارت کو ذلت آمیز مقام پر پہنچا دیا۔این ڈی ٹی وی کے مطابق بھارتی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں بڑی تنزلی دیکھنے میں آئی ہے، ہینلے پاسپورٹ انڈیکس میں بھارتی پاسپورٹ 85 نمبر پر چلا گیا ہے۔مودی حکومت نے عوامی وسائل کو ہتھیاروں کی خریداری اور اپنے جنگی جنون میں دھکیل دیا۔ نااہل مودی حکومت کی ناکامی اور جنگی جنون نے بھارت میں روزگار، تعلیم اور صحت کے نظام کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کے سرکاری اسپتالوں میں70 فیصد وینٹی لیٹر خراب ہیں، اسپتالوں میں بنیادی ضروریات کی کمی اور جعلی ادویات مریضوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہی ہیں۔بھارت میں بیروزگاری کی شرح 5.1 فیصد ہوگئی جو نوجوان میں مایوسی کا باعث ہے، بھارت میں 6 سے 14 سال کے 11 لاکھ سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہیں۔مودی حکومت کی ناقص پالیسیوں اور ذاتی مفادات کی سیاست کا خمیازہ بھارتی عوام بھگت رہے ہیں، ظالم مودی کی تمام تر توجہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی نسل کشی اور ہندوتوا نظریے کو ریاستی پالیسی میں بدلنے پر مرکوز ہے۔نااہل مودی حکومت کی ناکام پالیسیوں اور دہشت گردی کی حمایت نے بھارت کو سفارتی تنہائی میں دھکیل دیا ہے۔
-

اے آئی اور روبوٹک سسٹم ، نیسلے کا 16 ہزار ملازمین فارغ کرنے کا اعلان
لندن(کنزیومرواچ نیوز) دنیا کی سب سے بڑی فوڈ کمپنی نیسلے نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے دو برسوں میں عالمی سطح پر 16 ہزار ملازمین کو فارغ کرے گی۔ کمپنی کے مطابق یہ اقدام آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اور آٹومیشن سسٹم کو اپنانے، لاگت میں کمی، اور تنظیمی ڈھانچے کو جدید بنانے کے منصوبے کا حصہ ہے۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) کے مطابق نیسلے کا کہنا ہے کہ کمپنی اپنے عالمی آپریشنز میں شیئرڈ سروسز، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور اے آئی پر مبنی خودکار نظام متعارف کروا رہی ہے تاکہ کام کے عمل کو زیادہ مؤثر اور تیز بنایا جا سکے۔ تاہم، اس تبدیلی کے نتیجے میں بڑی تعداد میں انسانی ملازمتیں ختم کر دی جائیں گی۔کمپنی کے ترجمان نے بتایا کہ برطرفیوں کا زیادہ اثر انتظامی، مالیاتی اور معاون شعبوں پر پڑے گا، جب کہ پیداوار اور لاجسٹکس کے شعبوں میں بھی عملے کی کمی کی جائے گی۔نیسلے کے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کے عہدہ سنبھالنے کے بعد کمپنی میں تنظیمی اصلاحات کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ سی ای او کے مطابق، “دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، اور ہمیں اپنے نظام کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہوگا۔”دلچسپ بات یہ ہے کہ ملازمتوں میں کمی کے اعلان کے باوجود نیسلے کی فروخت میں 4.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ کمپنی کے شیئرز میں معمولی بہتری بھی دیکھی گئی۔ماہرین کے مطابق نیسلے کا یہ فیصلہ خوراکی صنعت میں آٹومیشن کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ نیسلے کے علاوہ دیگر عالمی کمپنیوں نے بھی حالیہ برسوں میں اے آئی کے نفاذ کے بعد ہزاروں ملازمتیں ختم کر دی ہیں۔
-

ناران میں جنات ہیں، میرےکمرےکا دروازہ خود بخود بندکھل رہا تھا : اداکارہ حراکا دعویٰ
کراچی (کنزیومرواچ نیوز)پاکستانی اداکارہ حرا سومرو نے ناران میں جنات کی موجودگی کا دعویٰ کیا ہے۔حال ہی میں اداکارہ حرا سومرو ایک نجی پوڈکاسٹ میں شریک ہوئیں جس دوران اداکارہ نے مختلف اور دلچسپ موضوعات پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔دوران شو اداکارہ نے میزبان کے سوال پر قسم کھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’ناران میں جنات موجود ہیں، میرا 100 فیصد یقین ہے کہ ناران میں جنات ہوتے ہیں اور وہ علاقہ بھاری ہے’۔اداکارہ نے مداحوں کو بتاتے ہوئے کہا کہ’اگر آپ کو ناران کے کسی ہوٹل میں کبھی کہیں عجیب وغریب چیزیں محسوس ہوں تو آپ غلط نہیں ہیں‘۔دوران گفتگو حرا سومرو نے ناران میں ہوٹل کا نام لیے بتائے بغیر اپنا تجربہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’ میں جب ناران میں ایک ہوٹل میں ٹھہری ہوئی تھیں تو اس دوران وہاں کا دروازہ بار بار کھل رہا تھا اور بار بار بند ہو رہا تھا‘۔اداکارہ کے مطابق ’ناران کے ہوٹلز میں پنکھے نہیں ہوتے جس کی وجہ سے وہاں ہر آواز باآسانی سنی جا سکتی ہے، 2 مرتبہ میرے ہوٹل کے واش روم میں فلیش بھی ہوا جس کی مجھے باقاعدہ آواز سنائی دی‘۔
-

عمران خان سہیل آفریدی کو نہیں جانتے،وہ مراد سعید کا انتخاب ہیں: ذرائع
اسلام آباد:(کنزیومرواچ نیوز)عہدے سے ہٹائے گئے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اسلام آباد کی جانب ایک اور احتجاجی مارچ کے بجائے مذاکرات کے حامی تھے۔ ان کا موقف تھا کہ احتجاجی مہم کے دوران پارٹی کارکنوں کا مزید خون نہ بہے۔ تاہم، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان نے مبینہ طور پر ان کا یہ مشورہ مسترد کر دیا، اور اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے اور اپنی جیل سے رہائی کیلئے احتجاجی تحریک پر زور دیا۔ پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور گزشتہ نومبر کے احتجاجی مارچ میں ہونے والے تشدد کے بعد ایک مرتبہ پھر تصادم کی راہ اختیار کرنے کیلئے تیار نہیں تھے۔ ایک سینئر پارٹی ذریعے کا کہنا تھا کہ وہ پارٹی کے ان ارکان میں شامل تھے جو یہ سمجھتے تھے کہ احتجاجی سیاست نے کوئی نتیجہ نہیں دیا، اور مذاکرات کو ایک منصفانہ موقع دیا جانا چاہیے۔ ذریعے نے مزید کہا کہ گنڈاپور کو اس بات کا پورا یقین تھا کہ اگر انہیں مذاکرات میں آزادانہ کام کی اجازت دی جائے تو وہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی رہائی ممکن بنا سکتے ہیں۔ ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ مراد سعید نے فیملی کی ایک خاتون رکن کے ذریعے بشریٰ بی بی کی فیملی کے توسط سے عمران خان تک سہیل آفریدی کا نام پہنچایا۔ ذریعے کے مطابق، عمران خان سہیل آفریدی کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تھے، لیکن مراد سعید کی سفارش پر اعتماد کرتے ہوئے انہوں نے انہیں نیا وزیراعلیٰ نامزد کیا۔ذریعے نے مزید کہا کہ شاید عمران خان یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ سہیل آفریدی کون ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ علی امین گنڈاپور پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیموں کی جانب سے اپنے خلاف ہونے والی تنقید سے سخت دل برداشتہ تھے، اور اس مہم کا ذمہ دار وہ بنیادی طور پر علیمہ خان کو ٹھہراتے تھے۔ ذرائع کے مطابق، سابق وزیراعلیٰ نے عمران خان کو آگاہ کیا تھا کہ پارٹی کے اندر اختلافات اور سوشل میڈیا پر اپنے ہی لوگوں کی تنقید سے وہ کمزور ہوئے ہیں۔ اندرونی ذریعے نے بتایا کہ علی امین گنڈا پور نے عمران خان سے درخواست کی کہ پارٹی کو ان کے پیچھے متحد کریں، لیکن گروہ بندی اور اندرونی لڑائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ جب علی امین گنڈاپور سے ان کا موقف لینے کیلئے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے فون کالز کا جواب نہیں دیا۔
-

شمالی وزیرستان: سکیورٹی فورسز پر خودکش حملہ ناکام،4 خوارج مارے گئے
شمالی وزیرستان(کنزیومرواچ نیوز) سکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ ناکام بناتے ہوئے 4 خوارج کو ہلاک کردیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں خوارج نے سکیورٹی فورسز پر خودکش حملے کی کوشش کی جسے فورسز نے ناکام بنادیا اور 4 خوارج مارے گئے۔سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ایک خارجی نے بارود سے بھری گاڑی سکیورٹی فورسز کے کیمپ کی دیوار سے ٹکرائی جودھماکے سے پھٹ گئی جب کہ 3 مزید خوارجیوں نے کیمپ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔سکیورٹی ذرائع کا بتانا ہے کہ بروقت اور بہادرانہ کارروائی کےنتیجے میں تینوں خوارجی کیمپ کے باہر ہی ہلاک کردیے گئے جب کہ اس دوران سکیورٹی فورسز کا کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے 2 دن میں افغان طالبان کے حمایت یافتہ 88 خوارج مارے جا چکے ہیں اور آخری خوارج کے خاتمے تک افواج اورقانون نافذکرنے والے ادارے ملک کے دفاع کے لیے ڈٹے رہیں گے۔
-

افغان طالبان اور بھارتی میڈیا کا اے آئی ویڈیوز کے ذریعے پاکستان مخالف پروپیگنڈا
اسلام آباد(کنزیومرواچ نیوز)حالیہ سرحدی کشیدگی کے دوران پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران ہونے والے نقصان سے ہواس باختہ افغان طالبان اور بھارتی میڈیا جھوٹی اے آئی ویڈیوز بنا کر پاک فوج اور پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر زہر اگلنے لگے۔افغان طالبان رجیم اور بھارت کا پاکستان مخالف گٹھ جوڑ بے نقاب ہو گیا اور سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا پاکستان مخالف افغان جارحیت کے حوالے سے جھوٹی اور بے بنیاد خبریں چلا رہا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ گزشتہ روز افغان طالبان کے پاکستانی ٹینک قبضے میں لینے کا جھوٹا پراپیگنڈا افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نےکیا، فیکٹ چیک گروک نے جھوٹ سے پردہ اٹھایا کہ روسی ساختہ ٹینک افغان طالبان کے زیر استعمال ہے۔ذبیح اللہ نے ایکس اکاؤنٹ کے ذریعے دوستی گیٹ کو تباہ کرنے سے متعلق بھی بیان جاری کیا جبکہ بھارتی میڈیا نے اسے پاکستانی سمت کا بنا کر خوب پراپیگنڈا کیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان دوستی گیٹ کو افغانستان کی سائیڈ پر افغان طالبان نے آئی ای ڈی لگا کر تباہ کیا، پاکستانی سمت میں موجود گیٹ اصلی حالت میں موجود ہے جسے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ذرائع کا بتانا ہے کہ بھارتی اور افغان میڈیا نے کابل میں بم دھماکے کو بھی آئل ٹینکر پھٹنے سے منسوب کیا، کابل میں یہ دھماکا پاک فوج کی جانب سے precision strikes کے نتیجے میں ہوا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارتی میڈیا اپنے مذموم عزائم کیلئے فیک اور اے آئی کے ذریعے جعلی ویڈیوز بنانے میں مصروف ہے۔بھارتی میڈیا نے شمالی وزیرستان کے شہری عادل داوڑ کو بھی شہید پاکستانی فوجی قرار دیا، شہری عادل داوڑ نے ویڈیو پیغام میں خود تمام جھوٹے دعوؤں کو رد کیا۔
-

پابندیاں نامنظور، صحافیوں نے پینٹاگون میں دفتر خالی کردیے
واشنگٹن (کنزیومرواچ نیوز)امریکا میں 30 سے زائد نیوز اداروں نے پینٹاگون کی نئی میڈیا پالیسی پر دستخط سے انکار کردیا۔درجنوں صحافیوں نے امریکی محکمہ دفاع میں اپنے دفاتر خالی کردیے، پینٹاگون کاپریس ایریا بھی سنسان ہو گیا۔میڈیا اداروں نے نئی پالیسی کو آزادی صحافت اور آزادانہ رپورٹنگ کے لیے خطرہ قرار دیدیا۔ ایک بیان میں کہا کہ پابندیاں امریکی فوج کی رپورٹنگ کرنے سے نہیں روک سکتیں۔ پینٹاگون پریس ایسوسی ایشن نے اسے صحافتی آزادی کے لیے سیاہ دن قرار دیا ہے۔دوسری جانب پینٹا گون کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ نئی میڈیا پالیسی قومی سلامتی کے مفاد میں ہے۔یاد رہے کہ پینٹاگون نے میڈیا کو حساس مواد شائع نہ کرنے کا حلف نامہ دینے کا پابند کیا تھا ، تاہم بعد میں حلف نامے کی جگہ Acknowledge کرنے کے الفاظ ہدایت کا حصہ بنائے گئے۔گزشتہ روز بھی اے بی سی، سی بی ایس، سی این این، این بی سی اور فاکس نیوز نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جو سی این این کمیونیکیشن کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کیا گیا۔ان اداروں کا کہنا تھا کہ یہ نئے تقاضے صحافیوں کی ملک اور دنیا کو اہم قومی سلامتی کے مسائل کے بارے میں باخبر رکھنے کی صلاحیت کو محدود کر دیں گے۔
-

لندن میں گزشتہ سال اربوں روپے مالیت کے 80 ہزار فون چوری ہونے کا انکشاف
لندن (کنزیومرواچ نیوز)لندن میں گزشتہ سال اربوں روپے مالیت کے 80 ہزار فون چوری ہوئے اور چھینے گئے۔ لندن پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ سال شہر میں 80 ہزار سے زائد موبائل فون چوری ہوئے اور چھینے گئے جن میں سے زیادہ تر غیر ممالک بھیجے جا رہے تھے۔میٹروپولیٹن پولیس کی تحقیقات کے مطابق یہ جرائم اب محض گلی محلوں کی واردات نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر منظم نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔پولیس نے گزشتہ ماہ شمالی لندن میں چھاپوں کی ایک سیریز کے دوران تقریباً 2ہزار چوری شدہ فونز اور7 کروڑ 49لاکھ روپے (2لاکھ پاؤنڈز )نقدی برآمد کیے، یہ کارروائیاں ان دکانداروں اور درمیانی سطح کے خریداروں کے خلاف کی گئیں جو چوری شدہ فونز کو ہانگ کانگ، چین اور الجزائر جیسی منڈیوں میں بھیجنے والے نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔پولیس کو یہ نیٹ ورک اس وقت بے نقاب ہوا جب گزشتہ دسمبر میں ایک خاتون نے اپنے آئی فون کی لوکیشن ایپ کے ذریعے ہیتھرو ائیررپورٹ کے قریب ایک گودام تک پہنچنے کا سراغ دیا جس کے بعد وہاں سے ہانگ کانگ روانہ ہونے والے کنٹینرز میں ایک ہزار چوری شدہ آئی فونز برآمد کیے گئے۔سینئر ڈیٹیکٹو مارک گوئن کے مطابق یہ جرم کسی انفرادی چور کا کام نہیں بلکہ صنعتی پیمانے پر منظم کاروبار ہے، چوری شدہ فونز غیر ملکی منڈیوں میں 5 ہزار ڈالر تک فروخت ہوسکتے ہیں۔پولیس کے مطابق جرائم کا نیٹ ورک 3 درجوں پر مشتمل ہے، نچلی سطح پر وہ چور جو زیادہ تر ای بائیکس پر سوار ہو کر فون چھینتے ہیں، درمیانی سطح پر دکاندار اور خریدار جو یہ فون خرید کر آگے بیچتے ہیں جب کہ اعلیٰ سطح پر وہ ایکسپورٹرز جو انہیں غیر ملکی منڈیوں میں بھیجتے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں 64 ہزار فون چوری ہوئے تھے اور 2024 میں یہ تعداد بڑھ کر 80 ہزار تک پہنچ گئی جب کہ مارچ 2024سے فروری 2025کے دوران ایک لاکھ سے زائد فون چوری کے کیسز رپورٹ ہوئے تاہم صرف 495 افراد پر فردِ جرم عائد کی گئی، یعنی ہر 200 کیسز میں صرف ایک میں کارروائی ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق پچھلے مہینے کی کارروائیوں میں 40 ہزار پاؤنڈز نقدی اور 5 چوری شدہ فون موقع پر برآمد ہوئے، دسمبر سے اب تک 4 ہزار آئی فونز پولیس کے قبضے میں آچکے ہیں جو جنوب مغربی لندن کے پٹنی اسٹور روم میں رکھے گئے ہیں۔پولیس حکام کے مطابق یہ جرم انتہائی منافع بخش اور کم خطرہ ہے، ایک چور ایک فون سے اوسطاً 300 پاؤنڈز کماتا ہے جو کم از کم اجرت سے 3 گنا زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق پولیس کے لیے سب سے بڑا چیلنج پہچان اور گرفتاری ہے کیونکہ ای بائیکس پر سوار نقاب پوش چور تیزی سے حملہ کرکے فرار ہو جاتے ہیں اور مصروف سڑکوں پر ان کا پیچھا کرنا پیدل چلنے والوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر لارنس شرمین کے الفاظ میں جب ایک فون کی قیمت ہزار پاؤنڈ ہو تو سڑک پر اسے ہاتھ میں پکڑ کر چلنا ایسے ہی ہے جیسے جیب سے ہزار پاؤنڈ نکال کر ہوا میں لہرانا۔
