راجستھان(کنزیومرواچ نیوز) بھارتی ریاست راجستھان میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک فیملی گوگل میپ کے دکھائے گئے راستے پر چلتے ہوئے حادثے کا شکار ہوگئی۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق فیملی مذہبی سفر سے واپس آ رہی تھی اور وین کا ڈرائیور گوگل میپ کی ہدایات پر عمل کر رہا تھا۔ دورانِ سفر ایپ نے انہیں سومی اپریڈا پل کی طرف موڑ دیا جو کئی مہینوں سے بند تھا۔پولیس کے مطابق وین پل پر پھنس گئی اور تیز بہاؤ کے باعث دریا میں بہہ گئی۔ حادثے میں 4 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 2 خواتین اور 2 بچے شامل ہیں۔ریسکیو حکام نے بتایا کہ وین میں سوار دیگر 5 افراد کو مقامی افراد اور ریسکیو اہلکاروں نے زندہ بچا لیا۔ تاہم ایک لاپتا بچے کی تلاش اب بھی جاری ہے۔
Blog
-

اقوام متحدہ کا پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے ہنگامی امداد کا اعلان
نیویارک(کنزیومرواچ نیوز)اقوام متحدہ نے پاکستان میں حالیہ مون سون بارشوں اور تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں متاثرہ افراد کی فوری مدد کے لیے ہنگامی اقدام اٹھاتے ہوئے 6 لاکھ امریکی ڈالر کی امداد جاری کر دی ہے۔یہ اعلان یو این سیکریٹری جنرل کے ترجمان نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ترجمان کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 10 روز کے دوران شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث 400 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 190 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 20 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور انہیں پناہ گاہوں، طبی امداد اور نقد معاونت کی ضرورت ہے۔متاثرہ علاقوں میں پینے کے صاف پانی، حفظانِ صحت کے سامان اور بالخصوص خواتین و بچیوں کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات نہایت ضروری ہیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ 26 جون سے جاری مون سون بارشوں اور سیلاب نے پاکستان میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے اور صورتحال سنگین ہے۔مقامی حکام کے مطابق مجموعی طور پر تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 798 افراد جاں بحق اور ایک ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ایک ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔اقوام متحدہ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرے اور سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے آگے بڑھے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ یو این ایجنسیز، مقامی حکام اور شراکت دار اداروں کے ساتھ مل کر امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ متاثرہ افراد کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
-

مریم نواز کا کشتی میں سوار ہوکر سیلابی صورتحال کا جائزہ
لاہور (کنزیومرواچ نیوز)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کشتی میں سوار کر دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں اور ندی نالوں میں شدید سیلاب کی صورتحال برقرار ہے، دریائے راوی میں سیلابی پانی کی سطح بلند ہونے کے ساتھ ساتھ پانی کی رفتار بھی تیز ہوگئی۔حکام کے مطابق آج دریائے راوی سے 2 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کا امکان ہے۔مریم نواز کشتی میں سوار ہو کر دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر سیلابی صورتحال کا جائزہ لینے پہنچیں، مریم نواز نے کشتی میں سوار ہو کر سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا جبکہ حکام کی جانب سے انہیں دریائے راوی میں سیلاب کی تازہ ترین صورتحال پر بریف کیا گیا۔
-

مشہور ٹک ٹاکر کروڑوں روپے کے فراڈ کے الزام میں گرفتار
لاہور (کنزیومرواچ نیوز) ایک اور ٹک ٹاکر کو فراڈ کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔لاہور کے ٹک ٹاکر خرم گجر کا اوورسیز پاکستانی کے ساتھ فراڈ سامنے آگیا۔اطلاعات کے مطابق ٹک ٹاکر خرم گجر پر الزام ہے کہ اس نے رانا ارسلان نامی شخص کے ساتھ دو لاکھ یورو کا فراڈ کیا ہے۔ خرم گجر نے رانا ارسلان سے کمرشل پلاٹ کی خریداری کےلیے دو لاکھ یورو لیے تھے لیکن ایک سال بعد بھی اسے دکھایا گیا کمرشل پلاٹ خرید کر نہ دیا۔رانا ارسلان کی جانب سے رقم کی واپسی کے مطالبے پر خرم گجر انکار ہوگیا اور دھمیاں بھی دیں۔رانا ارسلان کی درخواست پر تھانہ ڈیفنس سی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ جس کے بعد پولیس نے دھمکیوں اور امانت میں خیانت کے الزام پر ٹک ٹاکر خرم گجر کو گرفتار کرلیا ہے۔
-

پنجاب میں سیلاب سے تباہی، کئی بند ٹوٹ گئے، 11 افراد جاں بحق
لاہور(کنزیومرواچ نیوز)بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں اور ندی نالوں میں شدید سیلاب کی صورتحال برقرار ہے، دریائے راوی میں سیلابی پانی کی سطح بلند ہونے کے ساتھ ساتھ پانی کی رفتار بھی تیز ہوگئی۔دریائے راوی میں بھی سیلابی پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث لاہور میں شاہدرہ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، دریا کنارے شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کا بھی کہا جا رہا ہے۔راوی، چناب اور ستلج میں سیلابی ریلا گزرنے کے باعث اطراف کے دیہات زیر آب آگئے جبکہ کھڑی فصلیں بھی تباہ ہوگئیں، کئی چھوٹے بند بھی ٹوٹ گئے ہیں۔اب تک گھروں کی چھت گرنے اور سیلابی پانی میں ڈوبنے سے 11 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔
-

ملکی معیشت کو دھچکا،ہزاروں پاکستانی کمپنیاں دبئی منتقل
اسلام آباد (کنزیومر واچ نیوز) ڈان اسلام آباد کے بیورو چیف سینئر اینکر افتخار شیرازی کے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ سال 8036 کمپنیاں پاکستان چھوڑ کر دوبئی چیمبر آف کامرس میں رجسٹر ہو چکی ہیں۔ اس سال صرف جنوری سے جون کے دوران چھ ماہ میں 3968 پاکستانی کمپنیاں دبئی جاکر رجسٹرڈ ہوئی ہیں.
-

مودی سرکار کی ذلت آمیز شکست کے بعد نیا محاذ کھولنے کی تیاری
اسلام آباد(کنزیومر واچ نیوز)بھارت میں مودی سرکار آپریشن سندور میں پاکستان کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کے بعد نیا محاذ کھولنے کی تیاری کررہی ہے۔بی جے پی حکومت کا ڈرون ڈراما شروع ہوگیا۔ بھارتی عوام کو خوفزدہ کر کے پاکستان مخالف جنگی جنون بھڑکانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ بھارتی عوام کو پاکستان کے خلاف بھڑکا کر جنگی جنون کو ہوا دینا مودی سرکار کا وتیرہ بن چکا ہے۔بی جے پی اور بھارتی فوج مشترکہ طور پر پروپیگنڈا مہم چلا کر اندرونی ناکامیاں چھپانے میں مصروف ہیں۔ گودی میڈیا ایک مرتبہ پھر جعلی خبریں پھیلا کر فالس فلیگ آپریشن اور پاکستان مخالف محاذ تیار کرنے میں سرگرم ہوگیا ۔بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق پونچھ میں پاکستانی ڈرونز کی موجودگی کے بعد سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ حکام کے مطابق ڈرونز نگرانی کے لیے لانچ ہوئے اور پاکستانی حدود میں 5 منٹ میں واپس چلے گئے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان سے آنے والے نصف درجن ڈرونز جموں و کشمیر کے پونچھ سیکٹر میں سرحدی علاقوں پر منڈلاتے دیکھے گئے۔ ڈرونز کی سرگرمی مینڈھر سیکٹر میں بالاکوٹ، لنگوٹ اور گرسائی نالہ میں اتوار رات 9 بج کر 15 منٹ پر بھی دیکھی گئی۔ ڈرونز کو بہت اونچائی پر پرواز کرتے دیکھا گیا اور وہ فوراً پاکستانی علاقے کی طرف واپس لوٹ گئے۔لائن آف کنٹرول پر ڈرونز کا من گھڑت پروپیگنڈا بی جے پی سیاسی مقاصد کے تحت استعمال کر رہی ہے۔ اندرونی انتشار کی شکار بی جے پی سرکار سیاسی دباؤ سے نکلنے کے لیے جنگی ماحول پیدا کررہی ہے۔ ڈرونز کا پروپیگنڈا بھارت میں پاکستان دشمنی بڑھا کر عوام کو جنگی ایجنڈے پر آمادہ کرنے کی سازش ہے۔ مودی نے خطے کے امن کو اپنی فسطائیت اور جنگی جنون کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
-

آبی گزر گاہوں پر قبضہ کرنے والوں کو پھانسی دینے کی تجویز
اسلام آباد:(کنزیومر واچ نیوز)قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں آبی گزرگاہوں پر قبضہ کرنے والوں کو پھانسی دینے کی تجویز دی گئی ہے۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس چیئرپرسن منزہ حسن کی زیر صدارت ہوا، جس میں وزارت موسمیاتی تبدیلی کی کارکردگی اور تیاریوں پر سخت تنقید کی گئی۔چیئرپرسن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت بروقت بریفنگ پیپرز فراہم کرنے میں ناکام رہی اور ریجنل کانفرنس میں شرکت کے لیے انہیں وقت پر بریف نہیں دیا گیا۔ سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی نے بھی اپنی وزارت کی نااہلی کا اعتراف کرتے ہوئے کمیٹی سے معذرت کی۔اجلاس کے دوران رکن کمیٹی صاحب زادہ صبغت اللہ نے کہا کہ گلیشیئرز سے متعلق بنائے جانے والے فریم ورک کے بارے میں بھی اراکین کو مناسب معلومات نہیں دی گئیں۔چیئرپرسن کمیٹی نے خبردار کیا کہ آئندہ سال مون سون 22 فیصد زیادہ شدید ہوگا جبکہ این ڈی ایم اے تو فعال کردار ادا کر رہی ہے مگر پی ڈی ایم ایز کے کردار پر سوالیہ نشان ہے۔ منزہ حسن نے کہا کہ لوکل حکومت نہ ہونے کے باعث ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی موجود نہیں، جس سے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ممبر کمیٹی گستاسب خان نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں صرف چیک تقسیم اور فوٹو سیشن کیے جاتے ہیں، اصل میں انفرا اسٹرکچر پر کوئی کام نہیں ہو رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سے آنے والے پانی کے خطرے کے باوجود کوئی تیاری نہیں کی گئی۔ اس پر سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی نے وضاحت دی کہ یہ بھارت کے ڈیموں کے بھرنے کی وجہ سے پیدا ہونے والا مسئلہ ہے اور اس پر وزارت آبی ذخائر کو بریفنگ دینی چاہیے۔اجلاس میں رکن اویس جکھڑ نے اپنے ضلع لیہ میں سیلابی تباہ کاریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کے گھر اجڑ گئے ہیں، مگر این ڈی ایم اے نے لیہ کو متاثرہ اضلاع میں شامل ہی نہیں کیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ جنوبی پنجاب کو فنڈز نہیں دیے جاتے، بڑے شہروں میں ترقیاتی کام ہو رہے ہیں جب کہ کچے کے علاقے ہر سال ڈوب جاتے ہیں۔ اس پر سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی نے یقین دہانی کرائی کہ ان کے ضلع کو متاثرہ علاقوں میں شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔رکن شائستہ پرویز نے کہا کہ سیلاب سے معیشت تباہ ہو رہی ہے، مگر اصل تباہی ٹمبر مافیا کی وجہ سے ہے جس نے کے پی، گلگت بلتستان اور آزادکشمیر میں جنگلات کا صفایا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقتور مافیا حکومت کی مدد کے بغیر نہیں چل سکتا اور اس پر تحقیقات ہونی چاہییں۔ چیئرپرسن کمیٹی نے بھی اس مؤقف کی تائید کی اور کہا کہ ہمارے پہاڑ ننگے ہو رہے ہیں جبکہ بھارتی سائیڈ سرسبز ہے۔اجلاس میں سخت تجاویز بھی سامنے آئیں، رکن کمیٹی طاہرہ اورنگزیب نے کہا کہ آبی گزرگاہوں پر قبضہ کرنے والے اور ایسے این او سی جاری کرنے والوں کو پھانسی پر لٹکایا جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسا اقدام نہ کرے۔ رکن کمیٹی شازیہ صوبیہ نے نشاندہی کی کہ آج راوی میں پانی بڑھ رہا ہے مگر کوئی الرٹ جاری نہیں کیا گیا۔شائستہ پرویز نے پارلیمانی کمیٹیوں کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم صرف کمیٹیاں کھیل رہے ہیں اور میں حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی کمیٹی چھوڑنے کا سوچ رہی ہوں۔ اس پر چیئرپرسن نے کہا کہ کمیٹی تجاویز دے سکتی ہے اور ماضی میں کئی تجاویز پر عمل درآمد ہوا ہے، اب ٹمبر مافیا کے خلاف بھی ہدایات جاری کی جائیں گی۔اجلاس میں اراکین نے اتفاق کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے مسائل کے حل کے لیے صوبوں کو بھی شامل کرنا ہوگا اور کلائمٹ چینج اتھارٹی کو طلب کر کے سخت سوالات کیے جائیں گے۔
-

راوی اور چناب میں طغیانی سے اگلے 48گھنٹے انتہائی نازک
لاہور:(کنزیومر واچ نیوز)پنجاب کے مختلف اضلاع میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شدید بارشوں کے بعد دریائے راوی، چناب اور ستلج میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوگئی ہے۔حکام کے مطابق اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جبکہ تقریباً 25 ہزار افراد ریلیف کیمپس میں پناہ لے چکے ہیں۔ڈی جی پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) عرفان علی کاٹھیا نے سیلابی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہیڈ مرالہ کا ڈھانچہ محفوظ ہے اور وہاں سے گزرنے والا ریلہ اب خانکی ہیڈ ورکس سے ہوتا ہوا نیچے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق امید ہے کہ یہ ریلہ کسی بڑے نقصان کے بغیر پنجند کے مقام تک پہنچ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ دریائے راوی میں جسر کے مقام پر پانی کا بہاؤ دو لاکھ 10 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا جو آج رات 9 سے 10 بجے کے درمیان قریبی علاقوں سے گزرے گا۔ لاہور کے قریب شاہدرہ بیراج کی گنجائش ڈھائی لاکھ کیوسک ہے اور وہاں سے اندازاً ایک لاکھ 80 سے 90 ہزار کیوسک پانی گزرنے کی توقع ہے۔عرفان کاٹھیا کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کا بہاؤ دو لاکھ 45 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا، تاہم آنے والے گھنٹوں میں اس کی سطح نیچے آنا شروع ہو جائے گی۔دریائے چناب میں پانی کی سطح 9 لاکھ 2 ہزار کیوسک تک جا پہنچی ہے جس کے باعث 128 دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سات اضلاع میں پاک فوج کو طلب کیا گیا ہے۔ نالہ ڈیک اور نالہ بلستر میں بھی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، تاہم حکام کے مطابق پانی کے انخلا کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ سیلابی خطرات کے پیش نظر 900 ملین روپے متاثرہ اضلاع کے لیے جاری کر دیے گئے ہیں اور ریلیف کیمپس میں کھانے پینے کی اشیا اور ادویات دستیاب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو بروقت ہائی الرٹ جاری کیا گیا تھا اور اب تک بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔حکام کا کہنا ہے کہ اگلے 48 گھنٹے راوی اور چناب کے لیے نہایت نازک ہیں، تاہم بارشوں کا موجودہ اسپیل ختم ہو رہا ہے اور آئندہ دنوں میں نسبتاً کم بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
-

بھارتی آبی جارحیت، سیلاب کے پیش نظر پنجاب کے مختلف اضلاع میں فوج طلب
لاہور(کنزیومر واچ نیوز)بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑنے کے باعث پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔حکومت پنجاب نے انسانی جانوں کے تحفظ اور بروقت امدادی کارروائیوں کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کا فیصلہ کرتے ہوئے لاہور، قصور، سیالکوٹ، فیصل آباد، نارووال اور اوکاڑہ میں فوج طلب کرنے کی منظوری دے دی ہے۔پنجاب کے 6 اضلاع میں ضلعی انتظامیہ نے فوج کی فوری تعیناتی کی درخواست کی تھی.محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق متاثرہ اضلاع کی ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور پولیس پہلے ہی میدان میں موجود ہیں اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں۔تاہم ممکنہ خطرات کے پیش نظر سول انتظامیہ کی معاونت اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوج کی مدد حاصل کی جا رہی ہے۔ضلعی انتظامیہ کی درخواست پر محکمہ داخلہ پنجاب نے وفاقی وزارت داخلہ کو باقاعدہ مراسلہ ارسال کر دیا ہے، جس کے تحت فوج کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔فوجی دستوں کی تعداد ضلعی انتظامیہ سے مشاورت کے بعد مقرر کی جائے گی، جب کہ ضرورت پڑنے پر آرمی ایوی ایشن اور دیگر وسائل بھی متاثرہ علاقوں میں فراہم کیے جائیں گے۔سرکاری ترجمان کے مطابق، حکومت پنجاب اور تمام متعلقہ ادارے سیلابی صورتحال کو چوبیس گھنٹے (24/7) مانیٹر کر رہے ہیں، اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔حکومتی سطح پر جاری اس بروقت اور منظم ردعمل کا مقصد نہ صرف عوام کو بروقت ریلیف فراہم کرنا ہے بلکہ کسی بھی ممکنہ بڑے نقصان سے بچاؤ کو یقینی بنانا ہے۔
